Header Ads

Scheme novel 29th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 29th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Scheme novel by Umme Hania Complete PDF download

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں 

______
انتیسویں قسط۔۔۔

لیکن دائم پرواہ کئے بنا آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔  گڑیا۔۔۔ میری گڑیا۔۔۔ پیچھے داود نے اسے اٹھاتے سینے میں بھینچ لیا۔۔۔۔
وہ اسے لئے باہر نکل آیا اور اندر کا منظر آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔۔۔
مجھے نہیں جانا آپکے ساتھ کہیں بھی۔۔۔ آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے۔۔۔ دائم اسے لئے گاڑی کے قریب پہنچا تو عائزل نے چیختے ہوئے اپنی بازو اسکی گرفت سے نکالی۔۔۔
دائم کے ماتھے کی نسیں تک ابھرنے لگیں۔۔۔
اس دن کے لئے کتنے خواب سجائے تھے اسنے۔۔۔ کتنا چاہا تھا اس معصوم مگر دھوکے باز چہرے کو۔۔۔۔
اسنے غصے سے پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھولتے اسے اندر پٹخا۔۔۔
عائزل اسکے جارحانہ انداز پر تلملائی مگر وہاں پرواہ کسے تھی۔۔۔
دائم نے درائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھتے ہی گاڑی ہواوں سے باتیں کرنے لگیں۔۔۔
دیکھیں آپکو غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔ میں آپکو نہیں جانتی۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔ کسی جانب سے راہ فرار نا پاتے وہ اسی سے ملتجی ہوئی۔۔۔ مگر مقابل پر تو جیسے کوئی اثر ہی نا ہو رہا تھا۔۔۔
وہ اسے بھرپور نظر انداز کئے بھینچے جبرے اور تنے نقوش کے ساتھ سامنے دیکھتا ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔
اسکی کوئی آہ و بکار اثر کہاں رکھتی تھی۔۔۔
تھک ہار کر وہ پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
رونا بند کرو لڑکی ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔
اسکا رونا دائم کے غصے میں اضافہ کر رہا تھا۔۔۔ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری ۔۔۔ وہ طیش سے گویا ہوا۔۔۔
اس سے تو بہتر تھا وہ لڑکی اپنی غلطی مان کر معافی مانگ لیتی۔۔۔ وہ سب کچھ یہیں ختم کر ڈالتا۔۔۔ آخر محبت کی تھی اسنے۔۔۔
آپ سے برا کوئی اور ہے بھی نہیں۔۔۔ وہ چٹخی۔۔۔
دنیا میں سب سے برے انسان آپ ہیں۔۔۔ کیا دشمنی ہے آپکی میرے ساتھ۔۔۔ مجھے نہیں پتہ آپ نے میری تصویریں کہاں سے۔۔۔
آہہہہہ۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ غصے سے مزید کچھ کہتی دائم نے بے طرح اسکا پھول سا چہرا اپنی جارحانہ گرفت میں جھکڑا کہ بے ساختہ اسکے منہ سے آہ نکل گئ۔۔۔
آنکھیں خوف سے پھٹ گئیں۔۔۔
وہ کپکپا کر رہ گئ۔۔  گرفت اتنی شدید تھی کے اسے اپنا جبرا چٹخنے کاخدشہ ہوا۔۔۔
اور پہلی بار اسے خوف کا احساس شدت سے ہوا۔۔ وہ اس بے رحم انسان کے ساتھ تنہا تھی۔۔۔ وہ اس سنسان راستے پر اگر اسکا بے دردی سے قتل کر کے بھی پھینک دیتا تو بھی اسے کوئی پوچھنے والا نا تھا۔۔۔۔
خوف اسکے پورے جسم میں سرائیت کرنے لگا تھا۔۔۔
ایک اور لفظ منہ سے نکالا نا تم نے لڑکی تو یہیں چلتی گاڑی سے نیچے دھکا دے دوں گا۔۔۔ 
چار لاکھ۔۔۔ چار لاکھ روپے اوقات ہے تمہارے ایمان کی تمہارے کردار کی۔۔۔ اسنے حقارت سے کہتے عائزل کا چہرا جھٹکا کہ اس کا سر بے طرح درواَزے سے جا لگا۔۔۔
لب بھینچتے اسے سسکی روکی۔۔۔ مگر آنکھوں سے پھر سے چشمہ پھوٹ پڑا تھا۔۔۔
یہ شخص ظالم تھا۔۔ بے انتہا ظالم۔۔۔ جو ہاتھوں سے زیادہ لفظوں سے زخمی کرنا جانتا تھا۔۔۔
یہ پہلی رائے تھی جو عائزل کے دل میں دائم خان کے لئے پیدا ہوئی تھی۔۔۔
لیکن دائم کی سختی کا اثر یہ ہوا تھا کے عائزل کو چپ لگ گئ تھی۔۔۔
منہ سے لفظ تو کیا سسکی تک نکلنا بند ہو گئ تھی۔۔۔
وہ اس شخص کے سامنے ایریاں رگڑ رگڑ کر مر بھی جاتی نا تب بھی اسے یقین نا آتا کے وہ بے قصور ہے۔۔۔ یا شاید وہ شخص سمجھنا ہی نا چاہتا تھا۔۔۔ وہ یہ سب جان بوجھ کر کر رہا تھا۔۔۔ اس سے کوئی دشمنی نکالنے کے لئے۔۔۔ لیکن میری اس سے کیا دشمنی ہے۔۔۔ وہ جتنا سوچتی آنسو مزید آنکھوں سے بہتے چلے جاتے۔۔۔
اسے آنے والا وقت ڈرا رہا تھا۔۔۔ 
دھند کے مرغولوں کے سنگ منظر کہیں غائب ہو گیا اور وہ واپس وہیں لاوئنج میں زمین پر بیٹھی گھٹنوں میں سر دیئے سسک رہی تھی۔۔۔
وہ کل بھی ظالم تھا اور وہ آج بھی ظالم ہی تھا۔۔۔ حالانکہ آج اسکا جو روپ عائزل نے دیکھا تھا وہ اندر تک کپکپا کر رہ گئ۔۔۔ 
کیا ضرورت تھی مجھے اتنی بکواس کرنے کی جب پتہ ہے کے میری ذات تو تنکے سے بھی ہلکی ہے۔۔۔ اور میں تو ہوں بھی اسی کے آسرے۔۔۔ اب اسے اپنی حماقت کا شدت سے احساس ہو رہا تھا۔۔۔ اسے ایک مرد کی انا کو للکارنا نہیں چاہیے تھا۔۔۔ ناجانے کس کیفیت میں وہ اتنا بکواس کر گئ تھی۔۔۔ 
لیکن وہ کرتی بھی تو کیا۔۔۔۔ وہ شخص اسے اسقدر ذلیل کرنے کے بعد کس بنا پر ایک نئ زندگی کی شروعات کرنے کو بول رہا تھا۔۔۔
بہتر تو یہ ہی تھا کے وہ ڈھیٹ بنتی اسکا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیتی۔۔۔ کم از کم اس پر اذیت زندگی سے چھٹکارا تو ملتا۔۔۔
لیکن کیا وہ کبھی اسکا اعتبار کرتا۔۔۔ کیا سب کے سامنے اسکی پارسائی ثابت ہوتی۔۔۔
لیکن ابھی بھی تھوڑی نا ایسا کچھ ہو رہا تھا۔۔۔
مزید اب وہ شخص غصے اور انا مین ناجانے اسکا کیا حشر کرتا۔۔۔
لیکن اس سے غلطی کہاں پر ہوئی۔۔۔ کیسے اسکی تصویریں اس شخص تک گئ۔۔۔ کہاں سے حاصل کی اسنے۔۔۔ وہ اس گرداب سے کیسے نکلے جو کسی اکٹوپس کی مانند اسے جھکڑتا ہی جا رہا تھا۔۔۔
وہ رفتہ رفتہ اپنی زندگی میں وقوع پزیر سبھی حالات و واقعات پر نظر ثانی کر رہی تھی۔۔۔ کہاں وہ لڑکھڑائی تھی۔۔ کہاں وہ غلطی کی مرتکب ٹھہری۔۔۔
ہر طرف نظر دوڑا کر بھی وہ مایوس ہی ٹھہری تھی۔۔۔
اسکی زندگی محض حور گھر اور کالج کے گرد گھومتی تھی۔۔۔ پھرررر۔۔۔ پھر یہ سب کیا ہوا کب ہوا کیسے ہوا۔۔۔ جتنا سوچتی دماغ پھٹتا جاتا۔۔۔
وہ کیسے ٹریپ ہوئی۔۔۔ یہ دنیا واقعی بہت ظالم تھی ۔۔ بہت ظالم۔۔۔ اور وہ ضرورت سے زیادہ بھولی ۔۔ کم عقل.  یا شاید بے وقوف تھی۔۔۔
دائم کی نظروں میں اس کے انکار کی کوئی ویلیو ہی نا تھی۔۔۔ وہ جتنا کہتی کے وہ بے قصور ہے وہ اتنا ہی بھرکتا۔۔۔ کاٹ کھانے کو ڈورتا۔۔۔
کاش۔۔۔ کاش کہیں سے اسکے پاس چار لاکھ آ جائیں۔۔۔ مسلہ تو چار لاکھ کا ہی تھا نا۔۔۔ کسی نے دائم سے اسکے نام پر چار لاکھ کا فراڈ کیا تھا۔۔۔ وہ اگر اسے چار لاکھ دے دیتی تو۔۔۔
لیکن دیتی بھی کہاں سے۔۔۔ اسکے پاس تو چار روپے تک نا تھے۔۔۔

وہ کیوں نہیں یقین کر لیتا میری باتوں کا اللہ۔۔۔ نہیں ہوں میں جھوٹی۔۔۔ نہیں ہوں سکیمر۔۔۔ میں اچھی لڑکی ہوں۔۔ صاف کردار کی۔۔ مخلص اور با وفا۔۔۔ تو تو جانتا ہے نا اللہ۔۔۔ تجھے تو میری بےگناہی کا یقین ہے نا۔۔۔ اس ظالم شخص کو بھی کروا دے۔۔۔ اسنے ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسو رگڑے۔۔۔
وہ کبھی زندگی میں اتنا نہیں روئی تھی جتنا اس ظالم شخص نے اسے ان دو مہینوں میں رلایا تھا۔۔۔
کہنے کو تو یہ دو مہینے تھے لیکن یہ کوئی عائزل سے پوچھتا کہ ایک مہینے میں کتنے دن اور ایک دن میں کتنے گھنٹے اور ایک گِھنٹے میں کتنے منٹ ہوتے ہیں۔۔۔ کہ پر اذیت وقت تو کٹتے نہیں کٹتا۔۔۔۔
وہ تو خود کو ایک اندھیری کوٹھری میں قید پا رہی تھی یہاں پر رہائی کے لئے کوئی روزن نہیں تھا۔۔۔
رو رو کر وہ نڈھال ہوئی تو وہیں دیوار سے سر ٹکا کر آنکھیں موند گئ۔۔۔کیونکہ وہاں تھا ہی کون اسکی پرواہ کرنے والا۔۔۔
***** 
یمنہ اور شیریں مال میں لیڈیز کپڑوں کے سیکشن میں کپڑے منتخب کر رہی تھی جبکہ حماد ان سے کچھ فاصلے پر ہنوز اپنے موبائل پر اپنے کام میں ہی مصروف تھا۔۔۔
دفعتا اسکی نظر ایک لباس پر پڑی تو لبوں پر بڑی دلکش مسکراہٹ ابھر آئی۔۔۔
اپنی پہلی کمائی سے کسی اپنے کے لئے تحفہ خریدنے کا احساس بھی بڑا ہی خوبصورت تھا۔۔۔
کچھ سوچتا ہوا وہ لیڈیز سیکشن کی جانب بڑھا۔۔ وہ میرون اور گولڈن کلر کی بہت ہی دیدہ ذیب فراک تھی۔۔۔ حماد نے سیل گرل کو بلاتے اسے پیک کرنے کو کہا۔۔۔
ارے آپی وہ دیکھو فوٹوگرافر بھیا بھی کسی کے لئے گفٹ خرید رہا ہے۔۔۔
شیرین نے دور سے حماد کو دیکھتے یمنہ کو کہنی مار کر اسکی جانب متوجہ کیا۔۔۔
تم پاگل ہو گئ ہو کیا شیریں۔۔  آج کیسی الٹی سیدھی حرکتیں کر رہی ہو۔۔۔ وہ کسی کے لئے کچھ بھی لے تمہیں کیا تکلیف ہے۔۔۔ یمنہ جو تب سے اسے برداشت کر رہی تھی اسکے ایک مرتبہ پھر سے حماد کا ذکر کرنے پر چڑ اٹھی۔۔۔
ارے آپی اتنا حفا کیوں ہو رہی ہیں۔۔۔ اتنا ہینڈسم فوگرافر ہے وہ اور پھر۔۔۔
اور اس ہندسم فوٹوگرافر نے اگر دائم کو شکایت لگا دی نا کے اسکی بہنیں اتنی چھچھوڑی ہیں تو۔۔۔
یمنہ جیولری دیکھتی اسکی بات کاٹ کر گویا ہوئی۔۔۔
ارے ارے کیسے شکایت لگا دی۔۔۔ اور یہ کیا کہا آپ نے چھچھوڑی۔۔۔ اس میں چھچھوڑی والی کیا بات ہوئی بھلا۔۔۔
ہونگی انکی کوئی گرل فرینڈ جسکے لئے شاہنگ کر رہے ہیں۔۔۔ وہ منہ بناتی دفاعی انداز میں گویا ہوئی۔۔۔ البتہ نگاہیں ہنوز حماد پر ہی مرکوز تھیں جو اب جیولری کاونٹر پر کھڑا کچھ پسند کر رہا تھا۔۔۔
یمنہ نے تاسف  سے سر نفی میں ہلایا اور آگے بڑھی۔۔
ہاں نا آپی سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔ اتنی دلچسپی سے انسان کسی بہت خاص کے لئے ہی شاپنگ کرتا ہے۔۔۔ ورنہ کیا آپ نے کبھی دائم بھائی کو اتنے پیار سے کسی کے لئے لیڈیز شاپنگ کرتے دیکھا ہے۔۔۔ ہاں وہ مجھے اور آپکو شاپنگ کے لئے اپنا کریڈٹ کارڈ دے دیتے ہیں۔۔ ساتھ لے بھی آتے ہیں لیکن کیا انہوں نے کبھی خود کسی لیڈیز شاپنگ میں دلچسپی دکھائی۔۔۔ نہیں نا
وہ اپنی بات میں وزن قائم کرنے کو مثال دیتی گویا ہوئی۔۔ جبکہ یمنہ بس اسے دیکھ کر ہی رہ گئ۔۔۔
*****
فوٹوگرافر بھیااا۔۔۔ آگر آپ برا نا مانیں تو کیا میں آپ سے ایک بات پوچھوں۔۔۔
واپسی پر گاڑی میں بیٹھے شیریں تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوتی گویا ہوئی تو یمنہ نے اسے مزید کسی بھی فضول گوئی سے باز رہنے کے لئے اسکے پاوں پر پاوں مارا۔۔۔ جسے وہ کمال مہارت سے نظر انداز کر گئ۔۔۔
جی کہیے۔۔۔ وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
آپ نے یہ ساری لیڈیز شاپنگ اپنی لور کے لئے کی ہے کیا۔۔۔ شیرین کی بکواس پر یمنہ سر تھام کر رہ گئ۔۔۔ بس طے ہوا کے یہ اسکا شیرین کے ساتھ آخری سفر تھا۔۔۔
حماد ٹھٹھکا۔۔۔ پھر سمبھلا۔۔۔
لور سے کیا مراد آپکی۔۔
لورررر۔۔۔ مطلب۔۔۔ آپکی کوئی گرل فرینڈ۔۔۔۔ نہیں مطلب بحثیت مسلمان گرل فرینڈ نہیں تو منگیتر۔۔۔۔ وہ سرعت سے اپنی تصیح کرتی گویا ہوئی۔۔۔ منکوحہ یا پھر شاید بیوی۔۔۔۔ 
وہ بیوی کو لمبا کھینچتی رکی۔۔۔۔
To be very honest...
 محبت کی تشریح جو لوگ کرتے ہیں میں اس سے ایگری نہیں کرتا۔۔۔ اور اس محبت کی تشریح میں بہت ثانوی رشتے بتائے آپنے حالانکہ بہت خاص اور اہم  رشتے آپ مس کر گئ۔۔۔ جیسا کے ماں یا بہن۔۔ حالانکہ ایک مشرقی مرد کے نزدیک درحقیقت غیر شادی شدہ  مشرقی مرد کے دل کے زیادہ قریب یہ ہی رشتے ہوتے ہیں ۔۔۔ تو کسی بھی مرد کو شاپنگ کرتا دیکھ یہ ہی کیوں سمجھ لیا جاتا ہے کے یہ کسی روایتی محبوبہ کے لئے ہی شاپنگ کر رہا ہو گا۔۔۔
اور ویسے بھی میں شادی سے پہلے کی محبتوں پر یقین نہیں رکھتا۔۔۔
وہ اپنے مخصوص سنجیدہ انداز میں کہتا خاموش ہو گیا جبکہ شیریں اسکی باتوں کا مطلب سمجھتی سر ہاں میں ہلاتی خاموش ہو گئ۔۔۔
اور یمنہ وہ تو اسکی محبت پر سیر حاصل گفتگو سن کر گم صم سی ہی بیٹھی رہ گئ۔۔۔
*****
پھوپھو کو ہاں کرنے سے اگلے ہی روز عائزل داود کے روبرو تھی۔۔۔
وہ سٹڈی روم میں تھا جب عائزل دروازہ ناک کرتی اندر داخل ہوئی۔۔۔
آو گڑیا خیریت۔۔۔ وہ سٹڈی ٹیبل کے سامنے کھڑا جھک کر اسکے درازوں میں کوئی فائل تلاش کر رہا تھا جب عائزل کو ایک سرسری نگاہ دیکھ کر واپس اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔۔۔
جی بھیا درصل میں آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔۔۔ وہ سر جھکائے ہاتھ مسلتی گویا ہوئی۔۔۔
شادی کے لئے ہاں کہنے کے بعد اسکا سامنا کرنا تو مشکل تھا ہی مگر اس حوالے سے بات کرنا اور بھی مشکل تھا۔۔۔ مزید لفظ بھیا تو شاید زبان سے جاتے جاتے ہی جاتا۔۔۔
ہمم۔۔۔ کہو سن رہا ہوں۔۔۔
وہ بھی شاید اسکی کیفیت سمجھ رہا تھا۔۔۔ تبھی اسے دیکھنے سے گریز کرتا ہنوز کام میں مصروف رہا۔۔۔۔
وہ آپکو یقیناً پتہ ہوگا کے میں نے بوا کو اس رشتے کے لئے ہاں کر دی ہے۔۔۔ وہ خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی رکی۔۔۔ جھکا سر مزید جھک گیا۔۔۔
داود کے فائلز اوپر نیچے کرتے ہاتھ رکے۔۔۔ اسنے ایک نظر اسکے جھکے سر کو دیکھا اور گہرا سانس خارج کرتا کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔۔۔
گڑیا بیٹھ جاو۔۔۔ اور ریلیکس ہو جاو۔۔۔۔۔  
وہ اپنا ماتھا مسلتی وہیں صوفے کے کنارے پر ٹک گئ۔۔۔ اسکی حرکات و سکنات اسکی اندرونی بے چینی کی غماز تھیں۔۔۔
اب کھل کر کہو جو بھی کہنا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔ وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتا سنجیدگی سےق گویا ہوا۔۔
بھیا میں حور سے الگ نہیں رہ سکتی۔۔۔۔ وہ مجھے بہت عزیز ہے۔۔۔ اور حور کے لئے میں اس شادی کے لئے تیار ہوں۔۔۔
لل۔۔۔لیکن۔۔ لیکن یہ سب میرے لئے بہت اچانک ہے۔۔۔ میں اسے قبول نہیں کر پارہی۔۔۔ بات کرتے اسکی آواز کپکپائی۔۔۔
یہ سب مجھے مینٹلی ڈسٹرب کر رہا ہے بھیا۔۔۔ مم۔۔۔میں ۔۔۔ میں کسی بھی چیز پر فوکس نہیں کر پارہی۔۔۔
دو ماہ بعد میرے پیپرز ہیں۔۔۔ میری پڑھائی اس دوران بہت متاثر ہو رہی۔۔۔
میں ابھی یہاں پر آپکے پاس ایک درخواست لے کر آئی ہوں۔۔۔ بے طرح اپنے ہاتھ مسلتے اسنے اپنا مدعا بیان کیا۔۔۔
کیسی درخواست۔۔۔ داود سیدھا ہو بیٹھا۔۔ ماتھے پر سوچ کی لکیریں واضح ہوئی تھیں۔۔۔
دراصل بھیا۔۔۔ میں چاہتی ہوں کے ہمارا نکاح۔۔۔ زبان لڑکھڑائی۔۔۔ ہمارا نکاح میرے پیپرز کے بعد ہو۔۔۔ پلیز۔۔۔
لیکن میں اس دوران ہاسٹل میں حور سے دور بھی نہیں رہ سکتی۔۔۔
پلیز آپ کچھ کریں نا بھیا۔۔۔ اس مسلے کا کوئی حل نکال دیں۔۔۔ پلیز۔۔۔
میں آپکے پاس بہت آس لے کر آئی ہوں بھیا۔۔۔
اسنے سرخ نم نگاہیں اٹھا کر داود کو دیکھا جو پہلے سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
دو مہینے۔۔۔ وہ منہ ہی منہ بڑبڑایا۔۔۔
عائزل نے زورو شور سے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
چلو ٹھیک ہے کرتا ہوں بات پھوپھو سے ۔۔۔ پھر دیکھتے ہیں کچھ ۔۔۔ وہ پرسوچ انداز میں گویا ہوا تو عائزل کے چہرے پر سکون پھیل کیا۔۔۔
تھینکیو بھیا۔۔
وہ ہلکی پھلکی ہوتی اٹھ کر دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔
عائزل۔۔ وہ دروازے کے پاس پہنچی تھی جب پیچھے سے داود کی آواز سنائی دی۔۔۔
جی بھیا۔۔۔ وہ پلٹی۔۔
داود ہنوز اپنے کام میں مشغول تھا۔۔۔
ایک ریکویسٹ تم نے مجھ سے کی۔۔۔ اب کیا ایک ریکویسٹ میں بھی تم سے کروں۔۔۔  وہ اسکی جانب متوجہ نہیں تھا ہنوز اپنی فائل ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔
جی کہیے۔۔۔ وہ الجھی۔۔۔
آگے چل کر جو ایک رشتہ ہمارے درمیان استوار ہونے  جا رہا ہے نا اسکا تقاضا یہ ہے کے تم اب مجھے بھیا کہہ کر مخاطب نا کرو۔۔۔
عائزل کو واضح اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا۔۔۔
رنگت میں سرخیاں گھل گئ تھی۔۔۔ وہ تھوک نگلتی بنا اسکی بات کا جواب دیئے سرپٹ کمرے سے بھاگی۔۔۔
باہر آکر اسنے اپنی سانس ہموار کرتے اپنی ٹھنڈی ہتھیلیوں کو اپنے تپتے چہرے پر رکھتے خود کو نارمل کرنا چاہا۔۔۔
یہ مشکل تھا۔۔۔ بلکہ یہ سب اسکے لئے بہت مشکل تھا۔۔۔۔
******


No comments

Powered by Blogger.
4