Scheme novel 26th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 26th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں
_____
چھبیسویں قسط۔۔۔۔
حماد ایک پرسکون گوشے میں بیٹھا سکون سے اپنی کھینچی تصویروں کی ایڈیٹس تیار کر رہا تھا۔۔۔
جب اسے پیچھے سے کسی نے پکارا۔۔۔
ایکسکیوز می۔۔۔
انجانی آواز پر وہ چونک کر پلٹا۔۔۔ اور حیران سا نوارد کو دیکھنے لگا۔۔۔ جو اچھی خاصی روبدار پرسنیلٹی کا مالک تھا۔۔۔
جی کیا ہم پہلے مل چکے ہیں۔۔۔ نوارد کے خوشدلی سے مصافحہ کرنے پر حماد الجھتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔
نہیں یہ ہماری پہلی ملاقات ہے۔۔۔ وہ شخص کرسی گھسیٹ کر بیٹھا تو حماد بھی الجھتا ہوا بیٹھ گیا۔۔۔
میرا نام دائم خان ہے۔۔۔۔ میں کافی دیر سے وہاں بیٹھا تمہیں فوٹوگرافی کرتا دیکھ رہا تھا۔۔۔ دائم خوشدلی سے ایک جانب اشارہ کرتے گویا ہوا۔۔۔
میں نے تمہارے اور مینجیر کے درمیان ہوئی سبھی باتیں سنی ہیں۔۔۔ جس سے مجھے پتہ چلا کے تم فوٹوگرافی کی فیلڈ میں نئے ہو۔۔۔ انہی باتوں سے تمہارے آفیشل پیج کا پتہ چلا تو میں نے تمہارا کام چیک کیا۔۔۔
کافی اچھی فوٹوگرافی کرتے ہو تم۔۔۔۔ اپنے کام سے پیشینیٹ ہو اور میں ٹیلنٹ کا قدردان ہوں۔۔۔
ہماری لیڈر کی فیکٹریاں ہیں۔۔۔ جہاں لیدر کی مضنوعات تیار ہوتی ہیں۔۔۔
میرے بابا اور دادا فیکٹری کا کام سمبھالتے ہیں ۔۔۔ لیکن میں اسی کام کو اونلائن لا رہا ہوں تو میرے خیال سے تم میرے اس کام میں میرے لئے مددگار ثابت ہو سکتے ہو۔۔۔
تو میں تمہیں اپنے ساتھ ایز آ فوٹوگرافر کی جاب آفر کرتا ہوں۔۔۔ دائم کی اس آفر پر حماد شاک سے حق دق سا اسے دیکھتا تھا۔۔۔
اسے یہاں ایسی کوئی آفر بھی مل سکتی تھی یہ تو اسنے گمان بھی نا کیا تھا۔۔۔
بے یقینی کے بعد اب اس کے چہرے پر خوشی کے تاثرات نمودار ہو رہے تھے۔۔۔ اسے ابھی کچھ دن پہلے پڑھی بات پوری جزئیات سے یاد آئی کے اگر آپکے پاس کوئی اپرچیونیٹی نہیں ہے تو خود پر کام کرتے خود کو اس اپرچیونٹی کے لئے تیار کرو تا کے جب بھی آپکو وہ اپرچیونٹی ملے تو آپ بنا دیر کئے اس اپرچیونٹی سے مستفید ہو سکو۔۔۔
دائم مسکراتا ہوا اسکے چہرے کا ایک ایک تاثر نوٹ کر رہا تھا۔۔۔
تھینک یو بھیا۔۔۔ تھینک یو سو مچ۔۔۔ وہ بے پناہ خوشی سے اٹھتا فرط جذبات سے اس کے گلے لگا دائم نے بھی گرم جوشی سے اسے گلے لگایا ۔۔۔۔
وہ ایک ہی نظر میں سمجھ چکا تھا کہ یہ شخص کورے کاغذ کی مانند شفاف ہے۔۔۔ زمانے کے دھوکے دہی اور غلط کاموں سے دور اپنے کام سے کام رکھنے والا۔۔۔
یقیناً اس کے ساتھ دائم کی اچھی بننے والی تھی۔۔۔
لیکن برو ایک پرابلم ہے۔۔۔ دائم اس سے الگ ہوتے گویا ہوا۔۔۔
کیا۔۔
دائم کے بتانے پر وہ ایک پل کو سوچ میں پر گیا۔۔۔
*****
آج آفس میں زیادہ کام نا ہونے کے باعث وہ وہاں سے جلد واپس آ گیا تھا شام میں اسکی ایک میٹنگ تھی جسکے لئے وہ شام میں دوبارہ سے جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔
اسی لئے اب وہ فریش ہو کر نیچے آیا تو ایمن اسے کچن میں کام کرتی دکھائی دی۔۔۔
آہمم۔۔۔ ویسے مجھے نہیں پتہ تھا کے میرے پیٹھ پیچھے لوگوں کی میرے بارے میں ایسی رائے ہے۔۔
ایمن گرینی کے لئے کھیر تیار کر رہی تھی۔۔۔ جب اسے اپنے پیچھے سے اریب کی آواز سنائی دی۔۔۔
ایک پل کو اسکا کھیر میں چمچ ہلاتا ہاتھ رکا۔۔۔
لوگوں کی آپکے سامنے بھی وہی رائے ہے۔۔۔۔ وہ سنجیدگی سے گویا ہوتی پھر سے چمچ چلانے لگی
سیریسلی۔۔۔ اریب فریج سے پانی کی بوتل نکال کر اسکا دھکن کھولتا کھولتا رکا۔۔۔
میں نے آپکو ایک جاب ہی آفر کی تھی مگر بھلائی کا تو کوئی زمانا ہی نہیں۔۔۔
وہ جو وہاں اسکی طرف سے کسی قسم کی صفائی دینے کی توقع رکھتا تھا اسکے اس قدر صفا چٹ جواب پر حیران ہوئے بغیر نا رہا۔۔۔
کسی کی بے بسی پر اسے مجبور کر کے جاب آفر کرنا میری نظر میں بھلائی نہیں مجبوری کا فائدہ اٹھانا کہلاتا ہے۔۔
بادام اور پستہ کرش کرتے اسکے ہاتھ تیزی سے چلنے لگے تھے۔۔۔۔۔ اسے آپ ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا بھی کہہ سکتی ہیں۔۔۔ آپ بھی ضرورت مند تھی اور میں بھی ۔۔۔۔ میں نے تو صرف ایک چین لنک سے ہم دونوں کی ضرورت حل کرنے کی کوشیش کی۔۔۔ اریب نے بوتل منہ سے لگائے پانی پیتے کندھے اچکائے۔۔۔۔
لیکن وقت نے ثابت کر دیا کے میرا فیصلہ اتنا بھی غلط نا تھا۔۔ گرینی آپ کے ساتھ کافی گھل مل گئ ہیں۔۔۔
جی اور اب دعا ہی کرتی ہوں کے یہ ایک سال خیر خیریت سے کٹ ہی جائے۔۔۔ وہ اسکی باتوں پر بنا کوئی تبصرہ کئے سنجیدگی سے گویا ہوئی اور کرش کئے بادام اور پستہ کھیر میں ڈال کر چولہا بند کرتی کچن سے نکل گئ جبکہ پیچھے اریب سنجیدگی سے اسکی بات ہی سوچتا رہ گیا۔۔۔
ایک سال۔۔۔ ایک سال میں وہ اپنا قرض لوٹا کر چلی جائے گی تو پھر۔۔۔۔
پھر گرینی کا کیا ہوگا۔۔۔ اسکے دماغ میں کئ طرح کی سوچیں بیک وقت چلنے لگی تھیں۔۔۔
*******
بھووووو۔۔۔۔۔۔
آہہہہہہہ۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں اپنا بیڈ سیٹ کر رہی تھی جب حماد نے پیچھے سے آکر اسے ڈرایا۔۔۔ وہ چیخ مارتی پلٹی اور سامنے حماد کو دیکھ کر دل تھام کر رہ گئ۔۔۔
حماد کیا ہے یہ۔۔۔۔ دل ہنوز دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔ جبکہ حماد کے چہرے سے مسکراہٹ جدا ہونے کا نام تک نا لے رہی تھی۔۔۔
چھوڑو یہ سب ایما۔۔ تم یہاں بیٹھو اسنے ایمن کا ہاتھ تھام کر اسے بستر پر بیٹھایا اور اسکے سامنے ایک ڈبہ رکھ کر انہی قدموں سے کمرے سے باہر بھاگا۔۔۔
ایمن حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جب وہ انہی قدموں پر واپس کمرے میں داخل ہوا اسکے ہاتھ میں ایک چھری تھی۔۔۔وہ اسکے پاس ہی زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔
یہ کیا ہے حماد۔۔۔ آج نا تو میری سالگرہ ہے اور نا ہی تمہاری۔۔۔ حماد نے ڈبہ کھولا تو اندر ایک خوبصورت سا کیک دیکھ کر وہ خوشگوار حیرت سے گویا ہوئی۔۔۔
ارے ایما تمہارا منہ میٹھا کروانا تھا نا اس لئے میٹھائی کی جگہ کیک لے آیا۔۔۔ میٹھائی تمہیں کچھ خاص پسند نہیں نا اس لئے۔۔۔
اسنے ہاتھ میں تھامی چھڑی سے کیک کا پیس کاٹا اور ایمن کے منہ میں ڈالتا گویا ہوا۔۔۔
لیکن منہ میٹھا کیوں۔۔۔
اسنے وہی باقی پیس حماد کے ہاتھ سے پکڑتے اسکے منہ میں ڈالا۔۔۔
حماد نے چمکتی آنکھوں سے جیب سے ہزار ہزار کے نوٹ نکال کر ایمن کے ہاتھ پر رکھے۔۔۔
ایمن نا سمجھی سے اسے گننے لگی۔۔۔ وہ پندرہ ہزار تھے۔۔۔
میری پہلی سیلری ایما۔۔۔ مجھے جاب مل گی۔۔۔ بلکہ سیلری نہیں ایڈوانس ہے یہ۔۔۔ اسنے اداسی سے مسکراتے تصیح کی۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو تمہیں حماد۔۔۔ ہاتھ میں تھامے پیسوں کو دیکھ اور حماد کی جانب سے ملنے والے اس مان پر اسکی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔
ایما مجھے فوٹوگرافر کی جاب آفر ہوئی ہے۔۔۔ سیلری پیکج کافی اچھا ہے۔۔۔ لیکن ایک پرابلم ہے کے آنر اسلام آباد کا ہے تو مجھے انکے ساتھ اسلام آباد جانا ہوگا۔۔۔۔
وہ چھری کی مدد سے کیک کا پیس کاٹتا کیک کِھانے لگا۔۔۔ جبکہ ایمن گم صم سی رہ گئ۔۔۔
میں تمہیں یہاں اکیلا چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا ایما۔۔۔۔
لیکن میں اس موقع کو بھی گنوانا نہیں چاہتا۔۔۔ ویسے تو یہاں ایک ماہ رہ کر میں ہر طرح سے تسلی کر ہی چکا ہوں۔۔۔ یہاں کا سیکیورٹی سسٹم بہت اچھا ہے مزید میں اریب سر سے بھی مل چکا ہوں۔۔۔ کافی اچھے لگے وہ بھی مجھے۔۔۔ لیکن اس کے باوجود اگر تم یہاں کمفرٹیبل نہیں تو میں تمہارے لئے گرلز ہاسٹل کا انتظام کر دیتا ہوں۔۔۔
یا پھر ۔۔۔۔ وہ ایک بڑے بھائی کی طرح ایک ایک چیز پر نظر ثانی کر رہا تھا۔۔۔
یا پھر ۔۔ اسکے رکنے پر ایمن بے چینی سے گویا ہوئی۔۔۔
یا پھر تم بھی میرے ساتھ چلو۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے گویا ہوا۔۔۔
یہ کیسے ممکن ہے حماد۔۔۔ ۔ وہ پزمردہ آواز میں گویا ہوئی
میں جلد سارا قرض لوٹا دوں گا ایما۔۔۔ پھر تمہیں یہ کام کرنے کے ضرورت نہیں رہے گی۔۔۔
لیکن تب تک تو مجھے یہ کام کرنا ہو گا حماد۔۔ ایسے اریب سر نہیں مانیں گے۔۔۔ ایمن نے گہرا سانس خارج کیا۔۔۔
پھر تم کیا کہتی ہو ایما۔۔۔ وہ ایک ٹانگ کھڑی کئے ایک فولڈ کئے کہنی بیڈ پر رکھے زمین پر ہی بیٹھا تھا۔۔۔
تم جاو حماد۔۔۔ اللہ تمہارے لئے آسانیاں پیدا کرے اور تمہیں کامیاب کرے۔۔ میں رہ لوں گی یہاں۔۔۔ وہ مسکرا کر گویا ہوئی۔۔۔۔
تھینک یو ایما۔۔۔ میں آتا جاتا رہوں گا۔۔۔ اور جلد چکر لگانے کی کوشیش کروں گا۔۔۔ اور کوشیش کروں گا کے جتنی جلدی ممکن ہو اریب سر کا قرض اتر جائے پھر میں تمہیں اپنے ساتھ ہی لے جاوں گا۔۔۔
اسکی باتیں سنتی وہ مسکرا کر سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔ حالات نے اسکے بھائی کو بہت سمجھدار اور بڑا بنا دیا تھا۔۔۔
******
ایم سوری عفیفہ۔۔۔ میں اپنے ہر عمل ہر بات کی تم سے معافی مانگتا ہوں لیکن پلیز تم پرسکون ہو جاو۔۔۔
ہسپتال کے بستر پر لیٹی عفیفہ شدت سے اسکا ہاتھ تھامے ہوئے تھی۔۔۔
چہرے پر تکلیف کے اثرات تھے جبکہ اشک آنکھوں سے بہتے جا رہے تھے۔۔۔
بازو پر خون کی ڈرپ لگی تھی جسکا ارینج ابھی ابھی داود نے کیا تھا۔۔۔۔
تم بالکل ٹھیک ہو جاو گئ عفیفہ۔۔۔ بس حوصلہ رکھو میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں۔۔۔ وہ اسکی بگڑتی حالت دیکھ کمرے سے باہر نکلا۔۔۔۔
اسکی حاکت بگڑنے لگی تھی جسے دیکھ باہر کوریڈور میں حور کو ٹہلاتی عائزل تڑپ کر اندر اسکے پاس آئی۔۔۔
بہن کی حالت اسے خون کے آنسو رلا رہی تھی۔۔۔
داود کے شور مچانے پر وہاں ایمرجنسی نافذ ہو گئ تھی۔۔۔ ڈاکٹر اور نرسوں کی ٹیم ہنگامی حالات میں بعجلت عفیفہ کے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔
روتی بلکتی عائزل اور حور کو کمرے سے نکال دیا گیا تھا۔۔۔
کمرے سے باہر وہ دونوں بے چین سے اندر سے آنی والی خبر کے منتظر تھے۔۔۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر کمرے سے باہر نکلا لیکن انکے ادا کئے جانے والے الفاظ نے جیسے عائزل کی دنیا اندھیر کر دی تھی۔۔۔
ڈاکٹر کے منہ سے ادا ہوتے لفظ سوری نے اسے اس لفظ سے ہی نفرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔
اندر اسکی بہن کا بے جان وجود پڑا تھا جبکہ وہ پتھرائی نگاہوں سے وہیں کھڑی بس یک ٹک اسکے کمرے کے دروازے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
اسکی بہن تین سال تک اپنی بیماری سے لڑتے لڑتے بلآخر آج زندگی کی جنگ ہار گئ تھی۔۔۔
کیا زندگی اتنی ہی غیر متوقع چیز تھی۔۔۔ ماموں اور مامی کی موت کے بعد یہ جوان موت اسکے لئے ایک گہرا صدمہ تھی۔۔۔
اسکی بجو۔۔۔ اسکی بہن کم ماں بھری جوانی میں اسے چھوڑ گئ تھی۔۔۔ کیا یہ ممکن تھا۔۔۔
ہاں ممکن تھا تو آج وہ ان حالوں میں وہاں کھڑی تھی۔۔۔ اسکے پاس حور رو رہی تھی لیکن اسے کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔
اسے اپنی حسیات تک منجمد ہوتی محسوس ہوئیں۔۔۔
وہ اس ظالم دنیا میں ایک مرتبہ پھر سے اکیلی رہ گئ تھی۔۔۔ آج اسکی سب سے بڑی ڈھال ہی اسے تن تنہا چھوڑ گئ تھی۔۔۔
داود نے سارے انتظامات کیسے کئے تھے۔۔۔ کیسے وہ اسے اور عفیفہ کے بے جان وجود کو واپس گھر لایا تھا۔۔ میت پر کون کون آیا۔۔۔ کس کس نے تعزیت کی کس نے عفیفہ کی آخری رسومات ادا کیں وہ کچھ نا جانتی تھی۔۔۔
وہ بس اسکی چارپائی کی پٹی کیساتھ لگی ویران آنکھوں سے اسکا پرسکون چہرا ہی تکے جا رہی تھی۔۔۔
آنسو بھی جیسے اسکے احساسات کے ساتھ منجمد ہی ہو چکے تھے۔۔۔
دفعتاً اسے لیجانے کے لئے لوگ اندر داخل ہوئے اور اسکے چہرے پر کپڑا گرایا گیا تو عائزل جیسے چونک کر ہوش میں آئی۔۔۔
دل میں درد کی ایک لہر سی اٹھی تھی۔۔۔ اسکی بہن کو ہمیشہ کے لئے اس سے دور لیجایا جا رہا تھا۔۔۔ وہ یہ ہستا مسکراتا چہرا تا عمر دوبارہ کبھی نا دیکھ پائے گی۔۔۔
اندر سے دل جیسے گہرائیوں میں ڈوب کر ابھرا تھا۔۔۔ یہ احساس ہر احساس پر بھاری تھا۔۔۔ پھر جو اسکے ضبط کے بندھن ٹوٹے تو وہ ہر آنکھ اشکبار کرتی اسے سمبھالتی عورتوں کے ہاتھوں سے پھسل پھسل گئ۔۔۔۔
*****
یہ رات اس پر بھاری تھی۔۔۔ بے حد بھاری۔۔۔ اسے اپنا دل کسی بھاری سل تلے دبا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ رفتہ رفتہ سبھی مہمان جانے لگے تھے۔۔۔ داود کی بہنیں باہر سے نہیں آ سکی تھیں۔۔۔ داود کی دور پار کی پھوپھو انکے پاس ہی تھی جسنے ابھی تک حور کو سمبھالا ہوا تھا۔۔۔ یہ وہی پھوپھو تھیں جسنے داود کا رشتہ عفیفہ سے کروایا تھا۔۔۔۔زرا ہوش بحال ہوتے ہی وہ حور کو اپنے پاس لے آئی۔۔۔ اس ننھی جان کا نقصان سب سے زیادہ تھا۔۔۔ گو کے وہ پہلے بھی عائزل سے ہی زیادہ مانوس تھی لیکن ماں تو ماں ہی تھی نا۔۔۔
وہ بجو کی اس آخری نشانی کو خود میں بھینچے جیسے اس میں بجو کی خوشبو محسوس کرتی رہی تھی۔۔۔
زندگی جیسے جمود کا شکار ہو گئ تھی۔۔۔ دن سست روی سے چلنے لگے تھے۔۔۔ اسکی ایک ہی روٹین تھی صبح سے شام صرف حور کے ساتھ ہی مصروف رہتی۔۔۔
رات کو حور کو اپنے ساتھ ہی سلاتی۔۔۔
داود سے اسکی ابھی تک کوئی تفصیلی بات چیت نا ہوئی تھی۔۔۔ ایک گھر میں رہتے آمنا سامنا ضرور ہو جاتا۔۔۔ لیکن وہ شدت سے محسوس کر رہی تھی کے داود بھائی اب وہ نہیں رہے جو آپی کی موجودگی میں تھے۔۔۔ کیئرنگ اور ہر کسی کا خیال رکھنے والے۔۔
اب تو وہ اسے دیکھتے ہی راستہ بدل لیتے۔۔۔ حال چال پوچھنا تو دور کی بات تھی۔۔
گھر کا نظام ابھی تک پھوپھو نے ہی سمبھال رکھا تھا۔۔۔ پھوپھو کی موجودگی سے اسے بھی دوسراہٹ کا احساس تھا ۔۔ وہ ایک نیک اور سلجھی ہوئی خاتون تھیں جو عائزل کا مکمل خیال رکھ رہی تھیں۔۔۔۔زندگی آگے ناجانے کیا کروٹ لینے والی تھے۔۔۔۔
*****
داود اپنے سٹڈی روم میں بیٹھا کوئی کام کر رہا تھا جب پھوپھو چائے کا کپ تھامے وہیں داخل ہوئیں۔۔۔
ارے آئیں پھوپھو کیسی ہیں آپ۔۔۔۔ وہ انہیں دیکھ اپنی سامنے کھلی فائل بند کر کے سائیڈ پر کرتا فرصت سے انکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
پھوپھو نے مسکرا کر اسکے سامنے چائے کا کپ رکھا اور خود بھی اسکے پاس ہی بیٹھ گئیں۔۔۔
بیٹا مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔۔۔
جی پھوپھو بولیں۔۔۔ میں سن رہا ہوں۔۔۔ اسنے چائے کا کپ اٹھا کر چسکی لی۔۔۔
بیٹا اب آگے کے بارے میں تم نے کیا سوچا ہے۔۔۔
بوا کچھ سوچتیں ہوئیں مستفسر ہوئیں۔۔۔
کیا مطلب بوا میں کچھ سمجھا نہیں۔۔۔ وہ الجھا۔۔۔
دیکھو بیٹا عفیفہ ایک اچھی لڑکی تھی مگر وہ شاید اتنی ہی عمر لکھوا کر آئی تھی۔۔ اب دیکھو کل اسکا چہلم بھی ہو گیا ہے تو اب میں مزید یہاں پر رک بھی نہیں سکتی۔۔۔ پیچھے مجھے بھی بہت سے کام ہیں۔۔۔
تم نے تو خود بہنوں کے فرض سے سبکدوش ہونے کی خاطر اتنی لیٹ شادی کی تھی لیکن یہ سب قسمت کے کھیل ہیں۔۔۔ اس لئے میں چاہتی ہوں کے تم دوسری شادی کر لو۔۔۔
زندگی یوں نہیں کٹتی۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر کے تمہاری ایک چھوٹی سی بیٹی ہے جسے ماں کی ضرورت ہے۔۔۔
بوا بول رہی تھی جبکہ وہ گم صم سا کہنی کرسی کی ہتھی پر ٹکائے ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر رکھے محض انہیں سن رہا تھا۔۔۔
بوا اسے تو عائزل سمبھال رہی ہے نا۔۔۔ اور عفیفہ کی موجودگی میں بھی وہی سمبھال رہی تھی ۔۔۔ بوا کے خاموش ہونے پر وہ آہستگی سے گویا ہوا۔۔۔
وہ تو بات ٹھیک ہے بیٹا لیکن عفیفہ کی موجودگی میں بات اور تھی۔۔۔ اب میرے جانے کے بعد تم ایک جوان پرائی لڑکی کے ساتھ ایک چھت تلے کس حیثیت سے کس رشتے کے تحت رہو گئے۔۔۔ دنیا والے کیا کہیں گے۔۔۔ بوا کی بات پر وہ سرعت سے سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
یہ تو اسنے سوچا ہی نا تھا۔۔۔
بیٹا تم تو مرد ہو لیکن یہ دنیا اس بچی کا جینا حرام کر دے گی۔۔۔۔
حور عائزل سے بہت مانوس ہے اور عائزل بھی اس گھر کو اپنا مانتی ہے ہر چیز سے آگاہ ہے میری مانو تو اسے ہی اپنے نکاح میں لے لو۔۔۔
پھوپھو کی باتوں پر اسنے پریشانی سے اپنی پیشانی ملی۔۔۔ وہ خاصا بے چین دکھائی دیتا تھا۔۔۔
یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں پھوپھو۔۔ وہ مجھے چھوٹی بہنوں کی طرح عزیز ہے اور خود وہ بھی مجھے اپنا بھائی مانتی ہے۔۔۔ اسنے ہونٹوں کو تر کرتے بے بسی سے کہا۔۔۔
بیٹا ماننے اور ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے۔۔۔ تم دونوں کے اس رشتے کی شریعت میں کوئی وقعت نہیں وہ تمہارے لئے اور تم اس کے لئے نا محرم ہی ہو۔۔۔
میں جانے سے پہلے تم دونوں کا نکاح کروانا چاہتی ہوں تا کے میں بے فکر ہو سکوں۔۔۔
کیا عائزل آگاہ ہے اس چیز سے۔۔۔ بوا وہاں سے اٹھی تو وہ کسی خدشے کے تحت بول اٹھا۔
نہیں۔۔۔ ابھی میں نے اس سے بات کرنی ہے اور مجھے یقین ہے کے وہ بجی سبھی حالت کو دیکھتے ہوئے میری بات سمجھے گئ۔۔۔
بوا اپنی بات کہہ کر چلی گئ جبکہ اسنے پوری قوت سے ایک مکہ میز ہر مارا۔۔۔
******

No comments