Header Ads

Scheme novel 27th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 27th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں 

______

ستائسویں قسط۔۔۔
یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں پھوپھو۔۔۔ آپکو کچھ اندازہ بھی ہے۔۔۔۔ عائزل کی رنگت فق ہونے لگی تھی جبکہ اسے اپنا پورا بدن کپکپاتا محسوس ہوا۔۔۔۔
وہ ابھی ابھی حور کو سلا کر اس پر بلینکٹ دے کر سیدھی ہوئی تھی جب پھوپھو مسکرا کر اسکے کمرے میں داخل ہوئیں اور اسکے پاس ہی بیٹھ گئیں۔۔۔
لیکن پھوپھو کی بات سن کر ہی اسے اپنے جواس ساتھ چھوڑتے محسوس ہوئے۔۔۔
کیا غلط ہے اس میں بیٹا۔۔۔ حور کے لئے اب داود کو کہیں نا کہیں تو شادی کرنی ہی ہوگی نا۔۔۔ تو پھر وہ تم ہی کیوں نہیں۔۔۔۔ انہوں نے عائزل کا ہاتھ تھامتے اسے پیار سے سمجھایا۔۔۔
چپ کر جائیں آپ پھوپھو۔۔۔ 
پلیز چپ کر جائیں۔۔۔ آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں۔۔۔ وہ میری بجو کے شوہر ہیں ۔۔۔ عائزل نے اپنا ہاتھ انکی گرفت سے چھڑوایا اور گھٹنے سینے سے لگاتے دونوں ہاتھوں سے انہیں جھکڑگئ۔۔۔ جیسے جسم کی لغزش پر قابو پانے کی شعوری کوشیش ہو۔۔۔۔
آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر پھسلنے لگے تھے۔۔۔ وہ اس وقت خود ہی اپنی کیفت سے نابلد تھی۔۔۔
بیٹا تمہاری بہن کا شوہر تھا۔۔۔ اب تمہاری بہن اس دنیا میں نہیں رہی۔۔  پھوپھو رسان سے گویا ہوئی۔۔۔
تو اسکا کیا مطلب ہے کہ میں ہی داود بھائی سے شادی ۔۔۔۔ پھوپھو بھائی ہیں وہ میرے۔۔۔
ایسا سوچنا بھی میرے لئے گناہ ہے۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کے وہ پھوپھو کو کن الفاظ میں اپنی بات سمجھائے۔۔۔
نا تو وہ تمہارا بھائی ہے عائزل اور نا ہی تم دونوں کے اس رشتے میں کوئی قباحت ہے۔۔۔  بیٹا میں تو تمہارے بھلے کے لئے ہی کہہ رہی ہوں۔۔۔
کیونکہ تم اب کوئی چھوٹی بچی تو ہو نہیں جو زمانے کی اونچ نیچ نا سمجھ سکو۔۔۔
نکاح کے بنا تم یہاں اس گھر میں کس حیثیت سے رہنا چاہتی ہو ۔۔۔۔ ایک نامحرم کے ساتھ تم اس گھر میں تنہا کیسے رہ سکتی ہو کیا تمہاری عقل کام نہیں کرتی۔۔۔ وہ پھر سے رسانیت سے گویا ہوئیں
وہ عائزل کی جانب سے اتنے شدید ردعمل کی توقع نہیں رکھتی تھیں۔۔۔۔
دیکھو عائزل تم اچھی لڑکی ہو اور مجھے بھی عزیز ہو۔۔۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ مجھے داود بھی بہت عزیز ہے۔۔۔ زندگی یوں نہیں کٹتی بیٹا بنا کسی ساتھی کے۔۔۔ اور میں جانے سے پہلے اسکا نکاح کروانا چاہتی ہوں ۔۔۔ تم راضی نہیں تو پھر کسی نا کسی سے تو مجھے اسکا نکاح کروانا ہی ہے نا کیونکہ میں اسے یوں تنہا زندگی سے بیزار نہیں دیکھ سکتی۔۔۔
لیکن کل کو یہاں داود کے نام پر آنے والی اسکی بیٹی کے حق میں بہتریں ماں بھی ثابت ہوگئ اس چیز کی گارنٹی نہیں۔۔۔ اور اسکے علاوہ وہ اس گھر میں تمہارا وجود بھی برداشت کرے گی اس بات کی بھی گارنٹی نہیں۔۔۔ اس لئے جذباتیت کو چھور کر زرا حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرو۔۔۔
اور ہر لحاظ سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا کے اگر 
خدانخواستہ تمہیں اس گھر سے جانا بھی پڑے تو کیا تمہارے پاس آگے کوئی ٹھکانہ ہے۔۔۔
پھوپھو تحمل سے ایک کے بعد ایک  سبھی خدشات اسکے سامنے پیش کرتیں وہاں سے چلی گئ جبکہ عائزل اسے لگا شاید وہ پتھر کی بن گئ ہو۔۔۔
وحشت بھری نگاہوں سے وہ یک ٹک فضا میں کسی نادیدہ چیز کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ داود سے شادی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ کسی صورت نہیں۔۔۔ اور اگر اس سے شادی نا کرتی تو کہاں جاتی۔۔۔
سوچ سوچ کر سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔۔۔ زندگی کبھی اسے اس مقام پر بھی لائے گی یہ اسنے سوچا نا تھا۔۔۔۔
وہ وہیں سر گھٹنوں میں دیتی سسک اٹھی۔۔۔۔
*******
وہ سر گھٹنوں میں دیئے ہنوز سسک رہی تھی۔۔۔ دل کو کسی صورت چین نا تھا۔۔۔ بے چینی گویا چٹکیاں کاٹ رہی تھی۔۔۔۔
ناجانے اسے اسی پوزیشن میں بیٹھے کتنی دیر ہو گئ تھی جب دروازے پر دستک کی آواز پر پر اسنے جلتی سرخ آنکھیں اٹھا کر دیکھا اور سامنے ہی داود کو ایستادہ دیکھ بے ساختہ اسکے آنکھیں جھک گئیں۔۔۔
پھوپھو کی باتیں یاد آئیں تو دل بھر آیا۔۔۔۔
عائزل مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔ سفید کرتا شلوار میں بازو کہنیوں تک فولڈ کئے بکھرے بالوں سمیٹ وہ خود بھی اسے کافی بکھرا بکھرا سا لگا۔۔۔
مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی داود بھائی پلیز۔۔۔ اسے کرسی گھسیٹ کر اپنے پاس ہی بیٹھتے دیکھ وہ ایک ہی سانس میں بولتی چہرا ہاتھوں میں چھپاتی سسک اٹھی۔۔۔۔
اس بات کے بعد وہ داود سے نگاہیں ملانے کی ہمت بھی خود میں مفقود پاتی تھی۔۔۔
ایک اداس مسکراہٹ داود کے لبوں پر رینگ گئ۔۔۔
دیکھو عائزل تم میری عفیفہ کی گڑیا تھی۔۔۔ بہت چاہتی تھی وہ تمہیں۔۔۔ آخری وقت تک اسے تمہاری ہی فکر ستاتی رہی۔۔۔ کہیں دور خلاوں میں دیکھتا وہ مسکرایا۔۔۔۔
اور اسی لحاظ سے تم مجھے بھی بہت عزیز ہو۔۔۔ مجھ پر اعتماد رکھنا میں تمہارے ساتھ زرا سی بھی زیادتی نہیں ہونے دوں گا۔۔۔
تمہارے دل میں جو بھی ہے تم مجھے کہہ سکتی ہو۔۔۔ کسی قیمت پر تمہیں کسی دباو میں آنے کی ضرورت نہیں۔۔۔
تم اس شادی پر راضی نہیں تو میں تمہارے ہر فیصلہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔ رہ گیا سوال رہائش کا ۔۔۔ تو تم میری ذمہ داری ہو۔۔۔ کم از کم تب تک جب تک میں تمہاری شادی کسی اچھی جگہ نہیں کروا دیتا۔۔۔
میں صبح ہی تمہیں گرلز ہاسٹل شفٹ کروا دیتا ہوں۔۔۔ تمہیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تم بلا جھجھک مجھے کہہ سکتی ہو۔۔
 اور جیسے ہی تمہارے لئے کوئی اچھا رشتہ ملا میں وہاں تمہاری شادی کروا دوں گا۔۔۔ یا اگر تمہیں کوئی پسند ہو تو بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔
لیکن پلیز تم یوں خود کو ہلکان مت کرو۔۔۔
پرسکون ہو کر سو جاو تمہاری مرضی کے خلاف کچھ نہیں ہوگا۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اپنا بات مکمل کرتا ایک نظر اسے دیکھتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔ جبکہ ایک آنسو عائزل کی آنکھ سے ٹوٹا اور وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگا گئ۔۔۔۔
مطلب ابھی وہ اتنی بھی بے بس نہیں ہوئی تھی۔۔۔
*****

تمہارے خیال میں محبت کیا ہے حماد۔۔۔
دائم خان اپنے آفس میں ریوالونگ چیئر پر بیٹھا پیپر واٹ گھماتا رہا تھا۔۔۔
آفس کے بلائنڈز اس وقت ہٹے تھے جہاں سے قدرتی روشنی براہراست اندر آ رہی تھی۔۔۔ میز کے پار حماد لیپ ٹاپ پر جھکا فوٹوز کو ایڈیٹ کر رہا تھا۔۔۔۔ پاس ہی اسکا کیمرا پڑا تھا اور کچھ ہی فاصلے پر ایک سٹینڈ تھا جہاں پر کچھ سٹائلش جیکٹس لٹک رہی تھیں۔۔۔ جبکہ ایسی ہی کچھ مضنوعات قریبی صوفے پر بھی پڑی تھیں۔۔۔۔
حماد نے ایک نظر لیپ ٹاپ کی سکرین سے اٹھا کر دائم کو دیکھا اور تلخی سے مسکرایا۔۔۔
آپکی جیب گرم ہے تو آپکی محبت آپکے پاس ہے۔۔۔ آپکے چاروں طرف محبت ہی محبت ہے۔۔۔ اور اگر جیب خالی ہے تو محبت چار چار میل دور سرچ لائٹ لے کر تلاشنے پر بھی نہیں ملتی۔۔۔
دائم محظوظ ہوتا مسکرا اٹھا۔۔۔۔وہ کم از کم حماد سے اس جواب کی توقع نہیں رکھتا تھا۔۔۔  کافی سمجھ ہے تمہیں تو محبت کی۔۔۔
باس آپکو محبت کا سوال پوچھنے سے پہلے اسے کیٹیگرائز کرنا چاہیے تھا نا ۔۔۔ کے آپ کس کی محبت کی بات کر رہے ہیں۔۔۔
غریب کی محبت اور امیر کی محبت میں فرق ہے نا۔۔۔ اب میں تو آپکو غریب کی محبت کے بارے میں ہی بتا سکتا ہوں نا۔۔۔
جو محبتیں میں نے دیکھی ہیں۔۔۔ محبت کے نام پر لڑکی کا باپ بھائیوں کے سروں میں خاک ڈال کر گھر سے بھاگ جانا۔۔۔
دو وقت کی روٹی نا ملنے پر لڑکی کی محبت کا کونوں کھدروں میں چھپ جانا۔۔۔
بیٹا نا ہونے اور بیٹیوں کی پیدائش پر لڑکے محبت کا میم بھی نا ملنا۔۔۔
یہ آنکھوں دیکھی محبتیں ہیں میری۔۔۔ پتہ نہیں وہ کونسی محبتیں ہیں جن کی لوگ باتیں کرتے ہیں۔۔۔ مجھے تو ان سب میں کھلا تضاد ہی لگتا ہے۔۔۔ 
وہ ہنوز اپنا کام جاری رکھے بول رہا تھا۔۔۔
یار تم نے تو ٹاپک ہی ختم کر دیا۔۔۔ محبت کی ایسی ایسی مثالیں دیں ہے کے مجھے تو چپ لگ گئ۔۔۔ وہ پیپر واٹ گھما کر چھوڑتا کرسی سے پشٹ ٹکا گیا۔۔۔
تلخ ہے مگر حقیقت ہے۔۔۔ سچ پوچھیں تو محبت پر یقین نہیں ہے اب۔۔۔ محبت کے بنا زندگی کٹ سکتی ہے۔۔۔ ازواجی زندگی کے کامیاب ہونے کے لئے وفا اور قدردانی شرط ہے۔۔۔ میری زندگی میں محبت کہیں بہت بعد میں آتی ہے وہ تو اللہ نکاح کے بعد ایک دوسرے کے لئے دلوں میں ڈال ہی دیتا ہے۔۔۔۔
آخری ایڈٹ بنا کر وہ بھی مسکراتا ہوا زرا ریلیکس ہو کر بیٹھا۔۔۔
فرض کرو کے اگر تمہیں کسی سے زبردست قسم کی دھواں دھار محبت ہوگئ تو۔۔۔۔ دائم کی آنکھوں میں شرارت تھی۔۔۔
ناممکن امر ہے باس۔۔۔ میں حقیقت پسند بندہ ہوں۔۔ خوابوں سے زیادہ حقیقت میں رہنا پسند کرتا ہوں۔۔۔۔
دفعتا دائم کے موبائل کی بپ بجی تو وہ اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
اوہ۔۔۔ یہ تو مشکل ہوگئ۔۔۔۔ میسج پڑھتے ہی وہ پریشان ہو اٹھا۔۔۔
کیا ہوا باس۔۔ 
ارے یار ڈرائیور چھٹی پر ہے اور سسٹرز کو شہر مارکیٹ جانا تھا۔۔۔۔ اسی کی یاددہانی کا میسج تھا۔۔۔
اب مسلہ یہ ہے کہ میری بھی میٹنگ ہے۔۔۔
اگر تم انہیں شہر لے جاو تو۔۔۔  دائم جھجھکتے ہوئے گویا ہوا کیونکہ یہ اسکی جاب کا حصہ نا تھا۔۔۔
مطلب میں بہنوں کے معاملے میں ہر کسی پر یقین نہیں کرتا نا اس لئے اگر تمہیں کوئی پریشانی نا ہو تو۔۔۔
کوئی مسلہ نہیں باس۔   میرے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ آپ نے مجھ پر اس معاملے میں یقین کیا۔۔۔
میں لے جاوں گا۔۔۔ وہ مسکرا کر اٹھ کھڑا ہوا تو دائم بھی مسکر دیا۔۔۔ ایسے ہی نہیں وہ دن با دن اس لڑکے کی خوبیوں کا معترف ہوتا جا رہا تھا۔۔
یہ لڑکا واقعی محنتی تھا۔۔۔ 
*******
داود اپنے کمرے میں بے چینی سے ٹہلتا ماتھا مسل رہا تھا۔۔۔ اسکے ہر ہر انداز میں نے چینی تھی اور چہرا شدت ضبط سے سرخ پر رہا تھا۔۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ وقت کی سوئیوں کے سنگ پلٹتے ہوئے کہیں پیچھے جانے لگا۔۔۔ دھند کے مرغولوں میں یہ منظر کہیں تحلیل ہونے لگا اور ایک نیا منظر ابھر آیا۔۔۔
ایم سوری عفیفہ۔۔۔ میں اپنے ہر عمل ہر بات کی تم سے معافی مانگتا ہوں لیکن پلیز تم پرسکون ہو جاو۔۔۔
ہسپتال کے بستر پر لیٹی عفیفہ شدت سے اسکا ہاتھ تھامے ہوئے تھی۔۔۔
چہرے پر تکلیف کے اثرات تھے جبکہ اشک آنکھوں سے بہتے جا رہے تھے۔۔۔
بازو پر خون کی ڈرپ لگی تھی جسکا ارینج ابھی ابھی داود نے کیا تھا۔۔۔۔
داود آپ تو میری سبھی باتیں مانتے ہیں نا۔۔۔ مجھے نہیں یاد پڑتا داود کے آج تک میں نے آپ سے کوئی فرمائش کی ہو اور آپ نے ہوری نا کی ہو۔۔۔ پلیز یہ بھی پوری کر دیں نا۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سے ملتجی تھی جبکہ داود اسے بے بسی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس مقام پر وہ اسکی نفی نہیں کر سکتا تھا مگر اسکے لئے ہامی بھی نہیں بھر سکتا تھا۔۔۔
وقت حالات زندگی اور عفیفہ مل کر اسے اس مقام پر لے آئیں گے وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ اسکی آنکھیں ضبط سے سرخ پر رہی تھیں۔۔۔
داود میری گڑیا بہت معصوم ہے۔۔۔ بہت زیادہ۔۔۔  وہ اس زمانے کے رنگ دھنگ نہیں جانتی پلیز میری بات مان جائیں۔۔۔
اس سے نکاح کر لیں داود پلیز۔۔۔ مجھے سکون مل جائے گا۔۔۔ وہ داود کے احساسات و جذبات کی پرواہ کئے بنا بہتی آنکھوں سمیٹ اسکے سامنے ملتجی تھی۔۔۔
داود نے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔۔
میرے بعد اسکا کیا ہو گا داود۔۔۔ پلیز میرے بات مان جائیں۔۔
فضول باتیں مت کرو عفیفہ تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ تم بالکل ٹھیک ہو جاو گئ۔۔۔ ہم مل کر اسکی شادی کسی اچھی جگہ کریں گے۔۔۔ تم کیوں کر رہی ہو ایسا کیا تمہیں مجھ پر ترس نہیں آتا۔۔۔ وہ اس کی ضد کے سامنے بے بس ہو رہا تھا۔۔۔
آپ کو مجھ پر ترس نہیں آتا داود۔۔۔ ایک مرتے ہوئے انسان کی خواہش کو تو کوئی رد نہیں کرتا۔۔۔
مت کرو ایسی فضول باتیں عفیفہ۔۔۔ وہ ٹرپا تھا۔۔۔
لیکن عفیفہ کا اکھڑتا سانس دیکھ اسکے ہاتھ پاوں پھولنے لگے تھے۔۔۔ وہ اندھا دھند ڈاکٹر کو آوازیں دیتا باہر بھاگا۔۔ 
منظر تحلیل ہوا تو وہ ماتھا مسلتا آ کر بیڈ پر بیٹھا۔۔
ایم سوری عفیفہ ۔۔۔ میں چاہ کر بھی یہ نہیں کرسکتا۔۔۔ لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کے اسکی ذمہ داری اٹھاوں گا تب تک جب تک اسے کسی محفوظ ہاتھوں میں نہیں تھما دیتا۔۔۔  وہ گہری سانس خارج کرتا نیم دراز ہو گیا لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔
*****
صبح عائزل کی آنکھ حسب معمول کھلی تھی۔۔۔ اٹھتے ہی وہ معمول کے مطابق حور کے کاموں میں مشغول ہو گئ ۔۔۔ داود کی رات کی باتوں کے بعد وہ کچھ پرسکون ہو گئ تھی۔۔۔ لیکن اب وہ دانستہ بوا سے نظریں چرا رہی تھی کے کہیں وہ اس سے پھر سے رات والے موضوع پر بات نا کرنے لگیں۔۔۔
جب داود نے کہہ دیا تھا تو وہ یقیناً سب سمبھال لیتا۔۔۔
وہ ناشتہ کر کے واپس کمرے میں آئی تو کچھ ہی دیر بعد داود بھی کمرے کا دروازہ ناک کرتا اسکے کمرے میں آ گیا۔۔۔
جی بھیا۔۔۔ وہ بیڈ سے اٹھتی اسکے مقابل آئی۔۔۔
عائزل میں نے تمہارے لئے گرلز ہاسٹل کا انتظام کر لیا ہے ساری فارمیلیٹیز مکمل ہو گئ ہیں۔۔۔ تم شام تک تیار رہنا پھر میں تمہیں وہاں چھوڑ دوں گا۔۔۔ سنجیدگی سے ساری بات اسکے گوش گزار کر وہ واپس پلٹا جب عائزل دوڑ کر اسکے سامنے آئی۔۔۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بھیا۔۔۔ میں ہاسٹل کیسے چلی جاوں۔۔۔ پھر حور کا کیا ہوگا۔۔۔ وہ حواس باختہ لگتی تھی۔۔۔ چہرے سے پریشانی چھلک رہی تھی۔۔۔
یہ تمہارا مسلہ نہیں ہے عائزل۔۔۔ حور کے لئے بھی کوئی نا کوئی بندوبست ہو ہی جائے گا۔۔۔ داود نے اپنا ماتھا مسلہ۔۔۔ آج کل جو حالات چل رہے تھے وہ خود مینٹلی بہت ڈسٹرب تھا۔۔۔
لیکن میں حور کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاوں گی بھیا۔۔۔ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے بنا نہیں رہ سکتے۔۔۔ وہ ٹرپ ہی تو اٹھی تھی۔۔۔
یہ کیا بچپنا ہے عائزل۔۔۔اب اس بات کا میں تمہیں کیا جواب دوں۔۔۔ وہ جیسے عاجز آیا۔۔۔
مجھے نہیں پتہ بھیا میں حور کو تنہا نہیں چھوڑوں گی۔۔۔ وہ میری گڑیا ہے۔۔۔ وہ بے چین ہو اٹھی تھی۔۔۔ بے چینی سے واپس آ کر بیڈ پر بیٹھی۔۔۔
ایسے کام نہیں چلے گا حور۔۔۔
آپکا بجو سے جھگڑا کیوں ہوا تھا بھیا۔۔۔ دفعتاً کچھ یاد آنے پر وہ چونک کر اٹھتی واپس اسکے مقابل آئی۔۔۔ اس بات کو وہ اتنا سوچ چکی تھی کے اب مزید سوچتی تو سر درد ہونا شروع ہو جاتا۔۔ل
اس بات کا یہاں کیا ذکر۔۔۔ وہ حیران ہوا۔۔۔
ذکر ہے بھیا۔۔۔ زندگی میں پہلی مرتبہ آپ دونوں کا جھگڑا ہوا تھا اور اسی جھگڑے کی بجو نے اتنی ٹینش لی کے انکی حالت دوبارہ سٹیبل نا ہو پائی۔۔۔ بتائیں مجھے ایسی کیا بات تھی۔۔۔ 
اس بات کا کوئی مطلب نہیں عائزل جو گزر گیا سو گزر گیا۔۔۔ تم اپنی تیاری کرو۔۔۔
وہ گہری سانس خارج کرتا پلٹا۔۔۔۔ جب عائزل نے اسکی بازو جھپٹ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔
داود نے حیران ہوتے پہلے اپنی بازو پر موجود اسکے ہاتھ کو دیکھا اور پھر اسے جو بھرپور غصے سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
جانتے تھے نا آپ کے بجو کی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔ پھر کیوں بگڑے آپ ان پر۔۔۔ وہ آپ سے اتنی محبت کرتی تھیں کے آپکا مس بیہو برداشت ہی نا کر پائی۔۔۔ آنسو پھر سے اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔۔۔
کل رات بوا کی زبانی ہمارے رشتے کی بات سن کر کیسا محسوس کیا تھا تم نے۔۔۔ وہ سوالیہ اسکی نگاہوں میں دیکھتا مستفسر ہوا۔۔۔
وہ چونک اٹھی۔۔۔ آپ بات مت بدلیں۔۔ وہ کچھ دھیمی پڑی۔۔۔
بات نہیں بدل رہا۔۔۔ اس رات تمہاری بہن بھی مجھ سے یہ ہی بات بول رہی تھی۔۔۔ شاید وہ اپنے آنے والے وقت سے آگاہ ہو گئ تھی۔۔۔ وہ میری شادی تم سے کروانا چاہتی تھی۔۔۔ اور اسی بات نے مجھے آگ بگولہ کر دیا۔۔۔۔دماغ ایک دم ہی گھوم گیا۔۔۔ وہ میری زندگی میں ہوتے ہوئے ایسا کیسے بول سکتی تھی۔۔۔
اس وقت غصہ اسقدر میرے سر پر سوار ہوا کے پھر مجھے کسی چیز کا ہوش ہی نا رہا۔۔۔
بالوں میں ہاتھ چلاتا خود کو کمپوز کرتا وہ وہاں سے نکل گیا جبکہ عائزل کسی بے جان بت کی مانند ڈھ گئ۔۔۔
یہ کیا بول کر گیا تھا وہ۔۔۔
اسکی بجو ایسا کیسے کہہ سکتی تھی بھلا۔۔۔
اس دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4