Scheme novel 25th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 25th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں
______
پچیسویں قسط
عفیفہ پلیز یہ تھوڑا سا سوپ پی لو تم بہتر محسوس کرو گئ۔۔۔ عفیفہ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے پزمردہ سی بیٹھی تھی۔۔۔ الجھے بال چوٹی سے نکل رہے تھے جبکہ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کیساتھ ساتھ چہرے کی رنگت بھی نچھڑ گئی تھی۔۔۔
بالکل دل نہیں چاہ رہا داود۔۔۔ پلیز زبردستی مت کریں۔۔۔ مجھ سے نہیں پیا جائے گا۔۔۔ اسنے بے زاری سے داود کا چمچ بڑھاتا ہاتھ پیچھے ہٹایا۔۔۔
داود اسے تاسف سے دیکھ کر رہ گیا۔۔ وہ خود رتجگے کا غمازی لگتا تھا بکھرے بال اور سرخ انکھیں۔۔۔
عفیفہ سوپ نہیں پیو گئ تو دوائی کیسے لو گئ۔۔ وہ جیسے بے بس ہوا۔۔
فائدہ اس دوائی کا داود۔۔۔ افاقہ تو ہو نہیں رہا۔۔ وہ عاجز آئی۔۔۔ اور میں تھک چکی ہوں دوائیوں پر دوائیاں پھانک پھانک کر۔۔۔۔ وہ جیسے خود سے بھی بیزار تھی۔۔
یوں مت کہو عفیفہ تم بہت جلد ٹھیک ہو جاو گی۔۔۔ داود کو اپنی آواز بھی کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔۔۔
پتہ نہیں داود ۔۔۔ لیکن دل اب ان تسلیوں کو نہیں مانتا۔۔۔ وہ آہستگی سے لیٹی تو داود نے سرعت سے اس پر لحاف اوڑھا۔۔۔
داود۔۔۔ یکدم ہی وہ اسکا ہاتھ تھامتی لجاہت سے گویا ہوئی۔۔۔
کیا ہوا عفیفہ۔۔۔ وہ اٹھتا اٹھتا ٹھٹھک کر واپس اسکے پاس بیٹھا۔۔
داود میری گڑیا بہت معصوم ہے۔۔۔ بہت معصوم۔۔۔ وہ زمانے کی اونچ نیچ سے بالکل نابلد ہے۔۔۔ داود آپ میری گڑیا کا خیال رکھیں گے نا۔۔ وہ پرامید بھرائی نگاہوں سے اسے تک رہی تھی۔۔۔
کیسی باتیں کرتی ہو عفیفہ۔۔۔ داود کا دل سکڑ کر پھیلا۔۔۔
ناجانے کون کونسے فضول خیالات آتے رہتے ہیں تمہارے دل میں۔۔۔ بات کی ہے میں نے کچھ لوگوں سے۔۔۔ انشااللہ صبح تک بلڈ کا ارینج ہو جائے گا۔۔ تمہیں صرف خون کی کمی ہو رہی ہے۔۔۔ بلڈ لگے گا تو بالکل ٹھیک ہو جاو گی۔۔۔ کیا پہلی دفعہ یہ صورتحال پیش آئی ہے جو تم یوں ناامید ہو رہی ہو۔۔۔ مختل ہوتے حواس بحال کرتا وہ گویا ہوا۔۔
یہ ہی تو بات ہے داود کہ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا ۔۔۔ اور آپکے خیال میں ایسا کب تک چلے گا۔۔۔ کب تک مجھے خون سپلائی کیا جائے گا۔۔۔ کتنی سالوں تک میں مضنوعی خون پر جیوں گی۔۔ اور وہ کونسے لوگ ہیں جو باقاعدگی سے مجھے خون دیں گے۔۔۔ وہ جیسے آج دل میں کوئی خوش کن خیال رکھنا ہی نہیں چاہتی تھی۔۔
پلیز خاموش ہو جاو عفیفہ۔۔۔ جس اللہ نے ابھی تک وسیلہ بنایا ہے وہ آگے بھی بنا دے گا۔۔۔ داود نے بے چینی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔
کبھی کبھار مجھے آپ پر بہت ترس آتا ہے داود۔۔۔ آپ نے کیا دیکھا زندگی میں۔۔۔ پوری زندگی محنت کی۔۔ ماں باپ کے بعد بہنوں کو پالا انکی تربیت کی۔۔۔ انکی شادیاں کی۔۔۔ پھر کہیں جا کر اپنے بارے میں سوچا اور آپکو پھر کیا ملا۔۔۔ بیمار بیوی۔۔۔
ازواجی زندگی کی آسودگی تو آپ نے دیکھی ہی نہیں۔۔ صرف بیوی کا علاج ہی کروایا۔۔۔ اسکی آواز بھرائی تھی۔۔۔
مجھے تکلیف دے رہی ہو اب تم عفیفہ۔۔۔ اسنے کرب سے آنکھیں میچتے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔۔
میں خوش قسمت ہوں داود جو مجھے آپ جیسا مخلص باوفا اور باکردار شخص ملا۔۔۔ آپ ناجانے میری کونسی نیکی کا صلہ ہیں۔۔۔ آپ نے میری زندگی کو جنت بنا ڈالا۔۔۔ اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے داود کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا تو داود کی اپنی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔
کہتے ہیں بیوی کی وفا ہے کے وہ شوہر کی تنگ دستی کے دنوں میں معاملہ فہمی اور صبر و شکر سے اسکے ساتھ وقت کاٹے اور مرد کی وفا ہے کے وہ بیمار بیوی سے حسن سلوک کرتے اسکی کیئر کرے۔۔۔
اور میرا داود کس قدر باوفا ہے یہ کوئی مجھ سے پوچھے۔۔۔ وہ عقیدت سے اسے دیکھتی مسکرائی جبکہ داود ۔۔۔ وہ کہنی ٹانک پر رکھے ہاتھ ہونٹوں پر رکھے ضبط سے سرخ پرتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
لیکن اگر میں زندگی کے سود و زیاں کا حساب لگانے بیٹھوں نا تو میرا پلرا ہر صورت بھاری ہی ہے لیکن اس سود و زیاں کے حساب میں آپکے حصے میں محض خسارے ہی آئے ہیں۔۔۔ عفیفہ نے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔
بس عفیفہ۔۔۔ اس سے زیادہ میں اپنی شریک حیات کی ناقدری برداشت نہیں کروں گا۔۔۔ اب سوچ سمجھ کر بولنا۔۔ اسنے نرمی سے اسے تمبیہہ کرتے اسکے بال سہلائے۔۔۔ ایک خوبصورت مسکراہٹ عفیفہ کے چہرے پر امڈی۔۔
داود شادی کر لیں آپ۔۔۔ وہ داود کا چہرا دیکھتی سرگوشانہ گویا ہوئی جبکہ اسکے بالوں میں حرکت کرتا داود کا ہاتھ ساکت رہ گیا۔۔۔ جبرے بھینچے وہ خود پر ضبط کھونے لگا تھا۔۔۔
عفیفہ یہ اب زیادہ ہو رہا ہے۔۔ اور سے زیادہ مجھ سے مروت میں بھی برداشت نا ہو گا۔۔۔ اسکی طبیعت کے زیر اثر وہ بامشکل اپنے غصے پر قابو پائے ہوئے تھا۔۔۔ اسی لئے نرم مگر بے لچک انداز میں کہتا وہاں سے اٹھنے لگا جب وہ شدت سے اسکا ہاتھ تھام گی۔۔۔
ایک خواہش کا اظہار کروں داود۔۔۔ وہ مسکرائی۔۔۔ وہ اٹھنے کا ارادہ ترک کرتے اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
ہمم۔۔۔
لیکن اسکی بات سنتے ہی کب سے ضبط کیا غصہ لاوا بن کر پھٹا تھا۔۔۔ وہ بنا اسکی طبیعت و حالت کی پرواہ کئے بے طرح اسکا ہاتھ جھٹکتا آندھی طوفان کی مانند اٹھا۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی عفیفہ۔۔۔۔ سنا تم۔۔۔ وہ اتنی زور سے ڈھارا کے ایک پل کو تو عفیفہ کو بھی اپنی ڈھرکنیں سست پڑتی محسوس ہوئی۔۔۔ آنسو آپو آپ ہی پلکوں کی بھاڑ پھیلانگتے بہتے چلے گئے۔۔۔
لیکن اب داود کو پرواہ کہاں تھی۔۔۔ غصہ ہر سوچ پر حاوی ہو گیا تھا۔۔۔ آنکھوں میں گویا خون اترنے لگا تھا۔۔۔۔
تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔۔۔ اس بیماری نے تمہیں پاگل کر دیا ہے عفیفہ۔۔۔ اسنے غصے سے کھولتے سائیڈ ٹیبل پر پڑی سبھی چیزیں ایک ہی بار میں ہاتھ مارتے نیچے گرائیں۔۔۔ کئ طرح کا نا پسندیدہ شور ایک ہی بار میں اٹھا تھا۔۔۔ اسکا یہ شدت پسند روپ دیکھتے عفیفہ اونچی آواز میں رونے لگی تھی۔۔۔ لیکن داود کا غصہ کسی صورت کم ہونے کا نام نا لے رہا تھا۔۔۔
زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے آئیڈیل کپل کے کمرے سے اس قسم کا شور سن کر حور کو سلاتی عائزل ڈھرکتے دل کے ساتھ ننگے پاوں بھاگتی ہوئی انکے کمرے میں آئی۔۔۔ اور سامنے کامنظر دیکھ جہاں کی تہاں رہ گئ۔۔۔
کیا ہوا بجو۔۔۔ اس قسم کی صورتحال دیکھ عائزل کے اپنے ہاتھ پاوں پھولنے لگے تھے۔۔۔
کیوں آئی ہو تم یہاں۔۔۔ مسلہ کیا ہے تمہارا۔۔ کیا تم میاں بیوی کے آپسی معاملے میں دخل اندازی کرنا بند نہیں کر سکتی۔۔۔ عائزل کی وہاں بے وقتی موجودگی نے مزید آگ پر ہٹرول چھڑکنے کا کام کیا تھا۔۔۔ داود کی توپوں کا رخ اسکی جانب ہوا۔۔۔ جبکہ وہ تو داود کا یہ روپ دیکھ حق دق سی رہ گئ تھی۔۔
داود آپ اسکے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتے۔۔۔ عفیفہ کو اپنی ڈھرکنیں تھمتی محسوس ہوئیں۔۔۔ وہ فق پڑتی رنگت سے بامشکل اس امڈتے طوفان کے آگے بندھ باندھنے کی کوشش کرتی گویا ہوئی جو اس وقت سب کچھ اپنے ساتھ بہا لیجانے کو تیار تھا۔۔۔
شٹ آپ۔۔۔ وہ اسکی جانب انگلی اٹھاتا۔۔ ڈھارا۔۔
اور تم۔۔۔ دفع ہو جاو میرے کمرے سے ۔۔۔
اتنا تضحیک آمیز سلوک۔۔۔ عائزل کے آنسو بھل بھل بہنے لگے۔۔۔۔
آپکو یہ سب کرنا زیب نہیں دیتا داود۔۔۔ عفیفہ بنا اپنی طبیعت کی پرواہ کئے چیخی۔۔۔
اور تمہیں منہ کھولنا ہی زیب نہیں دیتا مسز داود۔۔۔ میری نرمی کا بہت ناجائز فائدہ اٹھانے لگی ہو تم۔۔ وہ اس پر برسا۔۔۔
عائزل اپنی بے عزتی کو بھول بہن کی بگرتی طبیعت دیکھ تڑپ کر اسکی جانب بڑھی۔۔۔
داود بھائی آپکو دکھائی دے رہا ہے کے بجو کی طبیعت بگڑ رہی ہے۔۔۔ آپ انکے ساتھ ایسا رویہ نہیں رکھ سکتے۔۔۔ وہ بہن کے ہچکولے کھاتے جسم کو اپنے حصار میں لیتی بہتی شکوہ کناں نگاہوں سے داود کو دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔ حالانک اسکا اپنا جسم کپکپا رہا تھا۔۔۔
پھر سے کہہ رہا ہوں لڑکی۔۔ میرے معاملات سے دور رہو۔۔۔ وہ انگلی اٹھاتا چبا چبا کر کہتا غصے سے کمرے سے ہی نکل گیا۔۔
جبکہ عائزل اتنے ڈیسنت شخص کا ایسا روپ دیکھ کر ہنوز شاک کی کیفیت میں تھی۔۔۔
بجو ایسا کیا ہوا جو داود بھیا جیسا کول مائنڈد شخص اتنا ہائپر ہو گیا۔۔۔ وہ حیرت سے بہن سے مستفسر تھی جبکہ وہ عائزل کے سینے میں چہرا چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
******
سامنے کاونٹر پر ویٹر تندہی سے لوگوں کی آرڈر کی گئ ڈشز رکھ رہا تھا جبکے دوسرے ویٹر کے آرڈر اٹھا کر کسٹمرز تک لیجانے تک حماد پھرتی سے ایک کے بعد ایک بھاپ اڑاتی اشتہاانگز ڈشز کی تصویریں کلک کر رہا تھا۔۔۔
کیمرے کی کلک کلک اور فلیش لائٹس بیک وقت ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔۔۔ کبھی دائیں اور کبھی بائیں وہ کیمرا آنکھ سے لگائے سیکنڈز کے حساب سے پوز بدل رہا تھا۔۔۔ کلک کلک کی آواز کیساتھ ہی ویٹر ڈششز اٹھا کر لے جاتا اور اس ڈش کی جگہ کاونٹر پر دوسری ڈش لے لیتی۔۔۔
بلآخر کافی تصاویر کلک کر لینے کے بعد وہ گہرا سانس خارج کرتا سیدھا ہوا۔۔۔
ہوٹل کا مینیجر پاس ہی کھڑا اسکی کاروائی دیکھ رہا تھا۔۔۔آپکے تعاون کا بہت بہت شکریہ سر۔۔۔ مجھے بس آدھا گھنٹہ دے دیں میں آدھے گھنٹے کے اندر اندر سبھی تصویریں آپکو میل کرتا ہوں پھر آپ اسے اپنے سوشل اکاونٹس میں پوسٹ کر سکتے ہیں۔۔۔
وہ مینجر کے پاس آکر ہلکا سا مسکراتا اس سے مصافحہ کر کے گویا ہوا اور مینجر کے سر ہاں میں ہلانے پر وہ وہاں سے تھوڑی دور ہی موجود ایک کرسی گھسیٹ کر بیٹھتا اپنا کام کرنے لگا۔۔۔
تقریباً ایک مہینہ ہو گیا تھا اسے مسلسل اس چیز پر کام کرتے کرتے۔۔۔ دن رات کا فرق بلائے وہ اس کام کے پیچھے جنونی ہو گیا تھا۔۔۔
اور اسی چیز کا نتیجہ تھا کے اب اسکے کام میں کافی نکھار آ گیا تھا۔۔۔
دن رات ایک ہی چیز پر کام کرتے کرتے اسے فری شاٹ آوٹ لینے کا ایک ہی طریقہ سوجھا تھا۔۔۔ اپنے کام میں وہ کافی حد تک مشتاق ہو چکا تھا۔۔۔ لیکن ابھی اس فیلڈ میں اس نئے چہرے اور نام کو کوئی نا جانتا تھا۔۔۔ اب اسے اپنی تھوڑی سی پہچان بنانی تھی۔۔۔ اس لئے اسنے شہر کی سبھی مشہور جگہوں پر وزٹ کرنا شروع کیا تھا۔۔۔
ابتدا اسنے شاپنگ مالز سے کی تھی۔۔۔ وہاں جا کر اسنے برینڈز کے آنر سے بات کر کے انکے پروڈکٹس کی فری فوٹوگرافی کرنے کی اجازت مانگی تھی۔۔۔
فری کی چیز کسے بری لگتی ہے۔۔۔ وہ بہت جانفشانی سے انکے پروڈکٹس کی فوٹوگرافی کرتا اور انکی ایڈیٹس بناتا۔۔۔ ہر ایڈیٹ کے آخر میں وہ اپنا نام اور اپنے آفیشل پیج کا نام ضرور لکھتا۔۔۔
پھر وہ ایڈیٹس ان آنرز کو میل کرتا جسکے بعد وہ اپنے پڑاڈکٹس کی وہ ایڈیٹس اپنے ہزاروں لاکھوں فالونگ والے سوشل اکاونٹس پر شیئر کرتے تو حماد کو ان ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں تھوڑا سا بوسٹ مل جاتا۔۔۔
اسکے کام سے خوش ہو کر کچھ برینڈ آنرز اسے اپنی خوشی سے تھوڑا بہت دے بھی دیتے۔۔۔
اپنے کیرئر کی شروعات میں حماد کے لئے یہ ہی بہت تھا۔۔۔
مالز کے بعد آج وہ یہاں شہر کے سب سے بڑے فاسٹ فوڈ سپاٹ پر آیا تھا۔۔۔
اور اب ایک پرسکون گوشے میں بیٹھا سکون سے اپنی کھینچی تصویروں کی ایڈیٹس تیار کر رہا تھا۔۔۔
جب اسے پیچھے سے کسی نے پکارا۔۔۔
ایکسکیوز می۔۔۔
انجانی آواز پر وہ چونک کر پلٹا۔۔۔ اور حیران سا نوارد کو دیکھنے لگا۔۔۔
********
داود بھائی۔۔۔ داود بھائی رک جائیں پلیز۔۔۔ آپ کہاں جا رہے ہیں۔۔۔
اس سے پہلے کے داود غصے میں گھر کی دہلیز عبور کر جاتا۔۔۔ عائزل گرتی پڑتی دوڑ کر اس تک پہنچتی اسکے سامنے آئی۔۔۔ یوں کے ناچاہنے کے باوجود بھی داود کو اس سے ٹکرا جانے کے خدشے کے تحت رکنا پڑا۔۔۔
کیا تکلیف ہے۔۔۔ وہ غرایا۔۔۔
بھیا ۔۔۔ اسنے ایک ساتھ کئ آنسو حلق سے اتارے۔۔۔ اسکا رویہ ناقابل براداشت تھا۔۔۔مجھے نہیں پتہ کہ آپکے اور بجو کے درمیاں کیا بات ہوئی ہے یا کیا معاملات ہیں۔۔۔ لل۔۔۔ لیکن آپ ایسے نہیں جا سکتے۔۔۔ انکی طبیعت بہت بگڑ رہی ہے۔۔۔ اسنے ہچکی بھری۔۔۔
شٹ۔۔۔ وہ ہاتھ کی مٹھی ماتھے پر مارتا انہی قدموں پر واپس پلٹا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے میں پہنچا۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ غصے کا غلبہ اترا تو اپنی حماقت کا شدت سے احساس ہوا۔۔۔
عف۔۔۔ عفیفہ۔۔ میری جان کیا ہوا۔۔۔ وہ درد سے تڑپ رہی تھی جب اسنے کرب سے لب چباتے اسکا کملایا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔۔۔
وہ بہتی شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
ایم سوری یار۔۔۔ پلیز ریلیکس۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ ہم ابھی ہسپتال پہنچ جائیں گے۔۔۔ اسنے عفیفہ کے آنسو صاف کرتے اسے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
دروازے پر ایستادہ عائزل شش و پنج سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ انکا معاملہ سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔ ابھی داود اتنے غصے میں تھا کے سب کچھ تہس نہس کر دینا چاہتا تھا اور ابھی اتنا پشیمان تھا کے حد نہیں۔۔۔
*****
آئیے گرینی۔۔۔ ایمن نے لاوئنج کا دروازہ وا کرتے گرینی کے باہر نکلنے کا راستہ بنایا۔۔۔ وہ اپنی سٹک کی مدد سے چلتیں باہر آ رہی تھیں۔۔۔
لائٹ کلر کے گرم سوٹ میں ملبوس سلیقے سے سر پر شال اوڑھے خاصی روبدار لگ رہی تھیں۔۔۔
انکے لاوئنج سے نکلتے ہی ایمن بھی انکے پیچھے ہو لیں۔۔۔ وہ لان میں دھوپ والے حصے میں پہنچیں تو ایمن نے وہاں موجود کین کی کرسیوں میں سے ایک کرسی انکے لئے سیدھی کی اور خود بھی انکے ساتھ بیٹھ گی۔۔۔
گرینی اسے خاصا ٹف ٹائم دیتیں تھیں تبھی وہ جب انکے پاس ہوتی خاصی چوکس رہتی۔۔۔
گرینی کے کہنے پر وہ انہیں آج کا اخبار پڑھ کر سنانے لگی تھی۔۔۔ لیکن گرینی کے انداز سے اسے صاف لگ رہا تھا کے انکی کسی بھی خبر میں کوئی دلچسپی نہیں۔۔۔ خیر دلچسپی تو ایمن کو بھی اس میں کوئی نا تھی لیکن مجبوری یہ تھی کے یہ اسے پڑھ کر سنانے کا حکم ملا تھا۔۔۔
آڈھ پونے گھنٹے بعد کہیں جا کر اخبار مکمل ہوا تو اسنے فولڈ کر اسے ٹیبل پر رکھا اور خود کرسی کی پشت سے کمر ٹکا گی۔۔۔
میرے لئے فریش اورنج جوس بنا کر لاو۔۔۔ اسے پرسکون ہوئے دو منٹ بھی نا ہوئے تھے جب اگلا حکم آیا۔۔
جی لاتی ہوں۔۔۔ وہ سرعت سے اٹھی اور اندر بڑھ گئ۔۔۔ یہ اسکی ڈیوٹی تھی تو اسے مکمل ایمانداری سے نبھانی تھی۔۔۔ گرینی سے جو ابتدائی چڑ تھی اسے وہ بھی رفتہ رفتہ جانے لگی تھی۔۔۔
اسکی اپنی ماں اس عمر کو ہوتی تو کیا وہ انکے نخرے نا اٹھاتی ۔۔۔ صرف یہ ہی سوچ تھی جسکے باعث وہ کافی دھیمی پڑ چکی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ انکے لئے جوس بنا کر واپس آئی ٹرے سامنے میز پر رکھی اور جگ سے جوس نکال کر گلاس میں انڈیلا اور گلاس اٹھا کر گرینی کو تھمایا۔۔۔۔
دوپہر کے کھانے میں آپ کیا کھائیں گی گرینی۔۔۔ وہ واپس آ کر کرسی پر بیٹھی۔۔۔
کھیر۔۔۔۔
انکے یک لفظی جواب پر وہ انہیں دیکھ کر رہ گی۔۔۔
آپکو شوگر ہے گرینی۔۔۔ وہ اپنی مسکراہٹ چھپاتی سر جھکا گئ۔۔۔
پچھلے دس سالوں سے ہے ۔۔۔کوئی نئ بات تو نہیں۔۔۔ اور اب تو یہ بیماری مجھے حفظ ہو چکی ہے تم نا بھی بتاو تو بھی میں جانتی ہوں۔۔ انہوں نے منہ بناتے خالی گلاس میز پر رکھا۔۔۔
ایمن گہرا سانس بھر کر رہ گئ۔۔۔
چلیں پھر سکرال استعمال کر کے بنا لوں گی۔۔۔ لیکن پلیز گرینی اس کے بعد آپ جلدی کسی میٹھی ڈش کی فرمائش نہیں کریں گی۔۔۔ ورنہ میرے لئے آپکا ڈائٹ چارٹ ہینڈل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔
اور پھر اریب سر۔۔۔ آپکی طبیعت خراب ہو جائے تو وہ یہ تو کہتے ہی نہیں کے کہ یہ گرینی کی فرمائش پر بنا تھا۔۔ بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ تم کس لئے ہو۔۔۔ یہ تمہاری ڈیوٹی ہے تمہارا فرض۔۔۔
تم اس میں کوتاہی کیسے کر سکتی ہو۔۔۔ تنخواہ میں تمہیں تمہاری من مانیوں کی دیتا ہوں۔۔۔
مجھے تمہارے فلسفوں سے کوئی لینا دینا نہیں مجھے میری گرینی کی صحت سے مطلب ہے۔۔۔۔
اب بندہ گرینی اور پوتے کے درمیان پس کر رہ جاتا ہے۔۔۔ ادھر کی مانو تو برا اُدھر کی مانو تو برا۔۔۔
وہ منہ بناتے انہیں ہی انکے پوتے کی شکایت لگا رہی تھی۔۔۔ تنہائی کا شکار تو وہ آج کل خود بھی ہو گئ تھی۔۔۔
بات کرنے کو کوئی اور تو تھا نہیں تو اب وہ کچھ حد تک گرینی سے ہی باتیں کرنے لگی تھی۔۔۔ جیسے اب بنا سوچے سمجھے انکے سامنے دل کی بھراس نکال چکی تھی۔۔۔۔
اور گرینی وہ تو اسے یوں بے ساختہ بولتے دیکھ مسکرا دی تھیں اور انکی مسکراہٹ کی ایک بڑی وجہ ایمن کے پیچھے کھڑا اسکے منہ سے اپنے بارے میں نادر خیالات سنتا انکا پوتا تھا جو ابھی ابھی آفس سے آیا تھا۔۔۔
کوٹ بازو پر ڈالے ۔۔۔ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کئے وہ دلچسپی سے اسکی باتیں سن رہا تھا۔۔۔۔
ایسا ہی ہے وہ ایک نمبر کا بدتمیز سڑیل اور کھڑوس ۔۔۔ گرینی نے پوتے کو دیکھتے ایمن کی ہاں میں ہاں ملائی جیسے مزید اسکی اریب کے بارے میں رائے جاننا چاہتی ہو۔۔۔
بدتمیز سڑیل اور کھروس کا تو پتہ نہیں گرینی مگر ایک نمبر کے مطلب پرست خود غرض اور موقعے کا فائدہ اٹھانے والے انسان ہیں وہ۔۔۔
حوصلہ پاتے وہ مزید دل کی بھراس نکالنے لگی تھی جبکہ اریب تو اسکے منہ سے ایسے انکشافات سن کر شاک سے منہ کھولے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
اور آپکو پتہ ہے گرینی کے ۔۔۔
آہمممم۔۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ اریب کی ذات کے بارے میں مزید قصیدے پڑھتی اسنے گلہ کنگار کر اسے اپنی موجودگی سے آگاہ کرنا چاہا۔۔۔
اور ایمن وہ تو اپنے پیچھے اسے موجود دیکھ کر بوکھلا کر ہوں اچھلی جیسے نیچے سپرنگ نکل آئے ہوئے۔۔۔
گرینی کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔
اریب کی گھورتی نگاہیں خود پر مرکوز دیکھ اسنے سرعت سے نگاہوں کا زاویہ بدلا۔۔۔
گگ۔۔گرینی۔۔۔ میں آپکے لئے لنچ کا انتظام کرتی ہوں۔۔۔
وہ تھوک نگلتی سرپٹ بھاگی۔۔۔ جبکہ گرینی ہنوز ہس رہی تھیں۔۔۔
واہ بیٹا ۔۔ کیا کریڈیبیلٹی ہے تمہاری۔۔۔ تمہارے پیچھے لوگ تمہیں کن لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔۔۔ اچھا لگا یہ سب سن کر ۔۔۔ گرینی کو عرصہ بعد یوں کھل کر مسکراتے اور باتیں کرتا دیکھ وہ سر کھجھاتا انکے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔۔
*****

No comments