Scheme novel 24th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 24th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں
______
چوبیسویں قسط
دیکھیں گرینی آپکو خدا کا واسطہ ہے کہ اب ناشتہ کر لیجیئے گا۔۔۔ آپ کے لئے بالخصوص میں یہ ناشتہ بنا کر لائی ہوں ۔۔۔ اور یہ بالکل بھی پھیکا اور بدمزا نہیں۔۔۔ مجھے بہت امید ہے کے یہ آپکو پسند آئے گا۔۔۔۔ لیکن اسکے باوجود اگر آپ اسے ناپسند کرتی ہیں تو اللہ آپ سے ناراض ہو سکتا ہے۔۔۔ کیونکہ میری امی کہتی تھیں کے رزق کی ناقدری کرنا اور کھانے میں عیب نکالا ناشکرا پن ہوتا ہے اور اسے سے اللہ ناراض ہو جاتا ہے۔۔۔
پورے پینتالیس منٹ کی محنت کے بعد وہ سٹیم چکن لے کر گرینی کے کمرے میں داخل ہوئی تو انہیں کچھ بھی کہنے کا موقع دیئے بنا وہ شروع ہو چکی تھی۔۔۔ جبکہ گرینی اسے یوں ٹر ٹر بولتے دیکھ کچھ کہنے کو منہ کھولتیں کھولتیں رک گئ۔۔۔
بالآخر اسکی جذباتی تقریر نے کام دکھایا تھا وہ خاموشی سے اٹھ بیٹھیں۔۔۔
گرینی اور خاموشی۔۔۔ معجزہ ہی تھا کوئی۔۔۔ ایمن نے سکھ کا سانس لیتے بعجلت ٹرے انکے سامنے رکھی تو وہ اسکا جائزہ لیتیں ناشتہ شروع کر چکی تھیں۔۔۔
یہ ایمن کے لئے آج کی بڑی کامیابی تھی۔۔۔ انہی ناشتہ کرتے دیکھ اسکی سانس میں سانس آئی۔۔۔ اگر انہوں نے ناشتے کی تعریف نہیں کی تھی تو بُرا بھی نا کہا تھا۔۔۔
******
اب کیسی طبیعت ہے آپکی بجو۔۔۔۔ عفیفہ نے نیم غنودگی میں آنکھیں کھولیں ۔۔۔ وہ ہسپتال کے پڑائیویٹ روم میں تھی۔۔۔ عائزل اسکے سرہانے کھڑی اس پر جھکی مستفسر تھی۔۔۔ آپریشن ٹھیٹھر سے آنے کے بعد اب اسے باقاعدہ طور پر ہوش آیا تھا۔۔۔ اس سے پہلے وہ وقفے وقفے سے زرا کی زرا آنکھیں کھولتی تو پھر سے غنودگی میں چلی جاتی۔۔۔۔
منظر بدلا تھا بیڈ سائیڈ سے اونچا کئے عفیفہ نیم دراز تھی اور عائزل اسکے پاس بیٹھی اسے سوپ پلا رہی تھی جبکہ حور پاس ہی پڑی بے بی باسکٹ میں سو رہی تھی۔۔۔
پھر منظر بدلا اور عائزل اسے اپنے ساتھ سہارا دیئے ہسپتال کے پرائیویٹ رومز کی راہداری میں واک کروا رہی تھی جبکہ کمرے کے دروازے میں حور کو گود میں لئے کھڑا داود انہیں واک کرتا دیکھ رہا تھا۔۔۔
منظر پھر سے بدلا تھا اور عائزل داود کیساتِھ عفیفہ کو گھر میں لا کر اسکے بیڈ روم میں بستر پر بیٹھا رہی تھی۔۔۔
عفیفہ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی چہرا پزمردہ تھا جیسے کسی نے چہرے کا سارا خون نچوڑ لیا ہو جبکہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لئے وہ حور کو سلاتی عائزل کو دیکھ رہی تھی جو کچھ ہی عرصے میں اسے کافی سمجھدار اور ذمہ دار لگنے لگی تھی۔۔۔۔
*****
جاتی سردیوں کے دن تھے اب موسم میں وہ پہلی والی خنکی نا رہی تھی۔۔۔ البتہ دن کی نسبت راتیں ہنوز سرد تھیں ایسے میں ایمن اپنے کوارٹر سے ملحقہ چھوٹے سے صحن میں بے صبری سے ٹہلتی حماد کی منتظر تھی جو صبح سے گھر سے نکلا تھا اور اب سورج غروب ہوئے بھی کافی وقت ہو چکا تھا لیکن حماد کا کوئی اتا پتہ نا تھا۔۔۔ وہ دو کمروں کچن اور چھوٹے سے صحن پر مشتمل ایک سرونٹ کوارٹر تھا ۔۔۔ انکی رہائش کو وہ جگہ بہت تھی لیکن اب اسے حماد کی غیر موجودگی کے باعث وہاں گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔۔ آج اسکی وہاں پہلی رات تھی اور حماد کی غیر موجودگی لمحہ با لمحہ اسکا خون خشک کر رہی تھی۔۔۔۔ صبح وہ اسکے ساتھ انکا مختصر سا سامان شفٹ کروانے کے بعد سے نکل گیا تھا اور ابھی تک اسکی واپسی نا ہوئی تھی۔۔۔
وہ حماد سے اس قدر غیر ذمہ داری کی توقع نہیں رکھتی تھی۔۔۔ اسنے لب چباتے حماد کا نمبر ملایا جو مسلسل بند جا رہا تھا۔۔۔
اسکی پریشانی حد سے سوا ہونے لگی۔۔۔ جلے پیر کی بلی کی مانند چکر کاٹتے اسکے پاوں شل ہونے لگے تھے۔۔۔ دفعتاً اسے بیرونی دروازے کے باہر کھٹکے کا احساس ہوا۔۔۔ ایمن کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔
بڑھتے اندھیرے کیساتھ تنہائی کا احساس اسکے رگ و پے میں خوف کی لہریں سرایت کر گیا۔۔۔
وہ سانس روکے وہیں کھڑی تھی جب بیرونی دروازہ وا ہوا اور تھکا تھکا سا حماد اندر داخل ہوا۔۔۔
اسے دیکھتے ہی ایمن نے کب کا اٹکتا سانس بحال کیا۔۔۔
کہاں تھے تم حماد۔۔۔ یہ کوئی وقت ہے گھر آنے کا۔۔۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کے میں کس قدر ڈر گئ تھی۔۔۔ تم جانتے ہو کے میں یہاں بالکل تنہا ہوں پھر بھی تم اتنے لیٹ آئے ہو ۔۔۔ اوپر سے تمہارا فون بھی بند جا رہا ہے۔۔۔ تم تھے کہاں۔۔۔
اسکے اندر داخل ہوتے ہی وہ اسکے سر پر سوار ہوتی روہانسی آواز میں شروع ہو چکی تھی۔۔۔ اسکی واپسی سے دل کو تقویت ملی تھی۔۔ تحفظ کا احساس جاگا تھا۔۔۔
کام تھا کچھ ایما۔۔۔ وہ سنجیدہ آواز میں کہتا سیدھا کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔ وہی پوچھ رہی ہوں کیا کام تھا۔۔ وہ بھی اسکے پیچھے ہی ہولی۔۔۔
دفعتاً اسے دیکھ کر وہ ٹھٹھکی ۔۔۔ حماد پروفیشنل فوٹوگرافک کیمرا بیڈ پر رکھ کر خود اسکے پاس ہی بیٹھتا جھک کر اپنے جوتے کھول رہا تھا۔۔۔
یہ کیا ہے حماد ۔۔۔ کہاں سے آیا یہ۔۔۔ تمہارے پاس پیسے کہاں سے آئے وہ حیرت زدہ آواز میں کہتی قدم قدم اسکی جانب بڑھی اور کیمرا ہاتھ میں اٹھا کر الٹ پلٹ کرتی دیکھنے لگی لیکن کیمرے کے وزن نے اسے جلد ہی کیمرا واپس رکھنے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔
موبائل بیچ دیا میں نے ایما۔۔۔
مائے گاڈ حماد۔۔۔ کیا بے وقوفی ہے یہ۔۔۔ تو اسی لئے تمہارا نمبر بند جا رہا تھا۔۔۔ اسکی سنجیدہ آواز کے نتیجے میں وہ گنگ رہ گئ۔۔۔۔
اور کچھ تھا نہیں میرے پاس بیچنے کے لئے صرف موبائل ہی تھا۔۔
وہ جوتا اتار کر بستر پر بیٹھتا اپنے کندھے دبانے لگا۔۔۔ تھکن اسکے چہرے سے ہی ہوادیدہ تھی۔۔۔
حماد موبائل بھی ایک اشد ضرورت ہے ۔۔۔ تمہیں اندازا ہے آج تم سے رابطہ استوار نا ہونے کی صورت میں کتنا پریشان ہوئی ہوں میں۔۔۔۔ اب تم ہی بتاو میں تمہارے ساتھ رابطہ کیسے رکھوں گی۔۔۔ کیا موبائل کے بنا کام چل سکتا ہے ۔۔ اسکا ملال کم ہونے کا نام ہی نا لے رہا تھا۔۔۔۔۔
ایما صبح کوئ ہزار پندرہ سو تک موبائل لے لوں گا گزارے لائق۔۔۔ پھر رابطہ بحال ہو جائے گا۔۔۔ پلیز ابھی کچھ کھانے کو ہے تو لا دو۔۔۔ وہ تکیے درست کرتا ان سے ٹیک لگا گیا۔۔۔
اسے دیکھ کر ایمن کو اس پر جی بھر کر ترس آیا۔۔۔ اسکی تھکن اور سنجیدہ انداز کے ساتھ ساتھ اسکے بھوکے پیٹ ہونے کے احساس سے اسکا دل بھر آیا۔۔۔
ہمم۔۔۔ لاتی ہوں کھانا۔۔۔ وہ نم آنکھیں جھپکتی سر ہاں میں ہلاتی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
اللہ تمہیں تمارے ہر مقصد میں کامیاب کرے حماد۔۔ ماں نہیں ہے ہماری مگر بڑی بہن کی دعائیںّ تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔ کچن میں آتے اسنے رگڑ کر اپنی آنکھیں صاف کیں۔۔۔
******
ساری رات حماد لیپ ٹاپ پر سر کھپائی کرتا رہا تھا۔۔۔ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے گود میں لیپ ٹاپ رکھے کانوں میں ہیند فری لگائے ایک کے بعد ایک وہ فوٹوگرافی کی کلاسز لے رہا تھا۔۔۔ سینز کیپچر کرنے کے مختلف انداز اور اوقات۔۔۔ ڈائریکشنز۔۔۔ چھوٹی سے چھوٹی باریکی سے لے کر بڑی سے بڑی ٹیکنیک کے لئے وہ مسلسل ایک کے بعد دوسرا ٹٹوریل دیکھ رہا تھا۔۔۔ دفعتا جسم نے مزید ساتھ دینے سے انکار کیا اور آنکھیں مزید کھلنے سے انکاری ہوئی تو پلکوں پر بوجھ مزید بڑھنے لگا۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے پلکیں بھاری ہوتی ہوتی بند ہو گئں ۔۔۔ وہ بند آنکھوں کے ساتھ ہنوز غیر آرام دہ حالت میں نیم دراز تھا ۔۔۔ لیپ ٹاپ سامنے کھلا پڑا تھا اور اس پر ویڈیو ہنوز جاری تھی۔۔۔
چند گھنٹوں کی نیند کے بعد گردن میں کھنچاو کے باعث اسکی آنکھ کھلی تو وہ ہڑبڑا کر اٹھا۔۔۔
کچھ دیر تک سر ہاتھوں میں تھام کر اسنے حواس بحال کئے اور لیپ ٹاپ بند کر کے چارجنگ پر لگایا۔۔۔ جسم سکون کا متمنی تھا مگر جنون سر چڑھ کر بول رہا تھا۔۔۔ جوتا اڑس کر وہ واش روم میں گیا۔۔۔ دور کہیں سے فجر کی اذانوں کی آواز سنائی دینے لگی تھی۔۔۔ وضو کر کے وہ باہر نکلا ۔۔۔ اپنے کمرے میں ہی فجر کی نماز ادا کر کے اسنے ایمن کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔
کیا ہوا حماد خیریت۔۔۔ اسے یوں اپنے کمرے کے دروزے میں کھڑا دیکھ وہ معتجب ہوئی۔۔۔
میں جا رہا ہوں ایما دروازہ بند کر لو۔۔۔ کیمرا گلے میں لٹکائے وہ سنجیدہ سا کھڑا تھا۔۔۔
حماد اتنی صبح۔۔۔
ہمم کام ہے مجھے۔۔۔ وہ پلٹا۔۔
اچھا رکو ۔۔۔ سنو تو۔۔۔ وہ بعجلت اسکے سامنے آئی۔۔۔
ناشتہ تو کرتے جاو۔۔۔
نہیں ابھی بھوک نہیں۔۔۔
پلیز حماد۔۔ میں ابھی بنا کر لاتی ہوں۔۔۔ امی کہتی تھیں بھوکے پیٹ گھر سے نہیں نکلتے ۔۔۔ وہ آگے بڑھتا کے ایمن اسکا بازو تھامتی ملتجی ہوئی۔۔۔ اسکی ملتجی صورت دیکھ وہ تھم گیا۔۔۔ آہستگی سے سر ہاں میں ہلایا تو وہ چھپاک سے کچن میں گم ہوگئ۔۔۔
لمحوں میں چائے کیساتھ پڑاتھا بنا کر اسکے سامنے رکھا کہ فلحال وہاں یہ ہی میسر تھا۔۔۔ وہ بھی اسی پر شکر ادا کرتا ناشتہ کرنے لگا۔۔۔
ناشتہ کر کے وہ باہر نکلا تو ایمن نے کئ سورتیں پڑھ کر اس پر پھونکی اور خود گہرا سانس خارج کرتی وضو کرنے چل دی۔۔۔
*****
میرے کپڑے استری کر دو لڑکی مجھے باہر لان میں جانا ہے۔۔۔ ایمن گرینی کے ناشتہ کرنے کے بعد انکے برتن سمیٹ رہی تھی جب وہ اسے دیکھتیں گویا ہوئیں۔۔۔
ایمن نے سر ہاں میں ہلایا اور برتن وہیں میز پر رکھتی الماری کی جانب بڑھی۔۔۔
کونسا لباس استری کروں گرینی۔۔۔ وہ الماری کے پٹ وا کئے ایک کے بعد ایک سوٹ گرینی کو دیکھاتی انکا اپروول لے رہی تھی ۔۔ بلآخر تیسرا نیلا سوٹ انکا منظور نظر ٹھہرا تو وہ نیلا لباس لئے استری کرنے کی غرض سے کمرے سے نکلی۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ انکا لباس استری کر کے ہینگ کئے واپس کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔
گرینی آپکے کپڑے استری ہو گئے ہیں چینج کر لیں۔۔۔ اسنے ہینگر لا کر الماری کیساتھ لٹکایا تو گرینی لباس کو آنکھیں چندہی کر کے غور سے دیکھتیں اٹھ بیٹھیں۔۔۔
مجھے یہ لباس نہیں گرے کلر والا لباس پہننا ہے وہ استری کر کے لاو۔۔۔
وہ سکون سے کہتیں بیڈ کراون سے ٹیک لگا گئ۔۔۔
جبکہ ایمن ضبط سے مٹھیاں بھینچتی انکی جانب پلٹی۔۔۔ گرینی آگر آپکو یاد ہو تو آپ نے یہ ہی لباس استری کرنے کے لئے کہا تھا۔۔۔ وہ غصہ ضبط کرتی عاجزانہ گویا ہوئی۔۔
اور اب میں ہی منع کر رہی ہوں کے مجھے یہ نہیں پہننا ۔۔ تو تکلیف کیا کے تمہیں۔۔ یہاں میرے کام کرنے آئی ہو تو بہتر ہے کے کام ہی کرو ۔۔فضول کی بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔
گرینی کی یہ ہی عادت بری تھی کے وہ لمحوں میں سامنے والے کی ذات کو دو کوڑی کا کر کے رکھ دیتی تھیں۔۔۔ وہ گلے میں پھستا نمکیں پانیوں کا گولہ حلق سے اتارتی خاموشی سے دوسرا لباس لئے کمرے سے نکل آئی۔۔۔
*****
رات حماد کی واپسی پھر سے دیر سے ہوئی تھی۔۔ سارا دن وہ بھاری کیمرا اٹھائے یہاں سے وہاں جاتا مختلف مناظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرتا رہا تھا۔۔ کبھی طلوع آفتاب اور صبح کے حسین مناظر تو کبھی غروب آفتاب۔۔۔ کبھی کسی جانور کے بیٹھے ہوئے تو کبھی مختلف جانوروں کے جھرمت کی۔۔۔ حتی کے وہ تو راہ چلتے بچوں کو روک روک انکی بھی تصویریں بناتا رہا تھا۔۔۔
اسنے ایک ہی چیز جانی تھی کے پریکٹس سے ہی ہاتھ میں صفائی آئے گی۔۔۔ اور وہ خوب خوب پڑیکٹس کر رہا تھا۔۔۔ آج اسنے انتظار کے بارے میں جانا تھا۔۔ کسی جانور کا پوز لینے کے لئے اسے کئ کئ منٹ انتظار کرنا پڑتا پھر ایک خوبصورت تصویر کھینچی جاتی۔۔۔
صبح سے شام اور شام سے رات وہ شہر کی ایک ایک گلی ایک ایک نکر کی خاک چھانتا مختلف مناظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرتا رہا تھا ۔۔۔
سارے دن کی مشقت کے بعد وہ رات دس بجے گھر میں داخل ہوا تھا۔۔۔ حسب سابق ایمن اسکی منتظر صحن میں ہی تھی۔۔۔
کیسا گزرا آج کا دن۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ اسکا کھانا لئے کمرے میں آئی تو اس سے مستفسر ہوئی۔۔۔
ناٹ بیڈ۔۔۔ بیڈ پر چوکری لگا کر بیٹھے وہ لیپ ٹاپ کی سکرین پر دیکھتا مسکرا کر گویا ہوا۔۔۔
وہ لیپ ٹاپ پر اپنے آج کے سارے دن کی محنت کو دیکھتا پروفیشنل فوٹوگرافی سے اپنی فوٹوگرافی کا موازنہ کر رہا تھا۔۔۔
ناٹ بیڈ۔۔۔ بلآخر وہ مطمیئں ہو کر لیپ ٹاپ ایک سائیڈ پر کرتا کھانے کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ یقیناً چند دنوں کی مشقت کے بعد اسکے ہاتھ میں مکمل صفائی آ جاتی۔۔۔
تھک گئے ہو۔۔۔ ایمن اسکے چہرے کی جانب دیکھتی اداسی سے مستفسر ہوئی۔۔۔
نہیں کہہ سکتی ہو کے جسم میں دردیں ہیں لیکن تھکاوٹ نہیں۔۔۔ وہ مسکرا رہا تھا۔۔۔ جب جنون سر چڑھ کر بولے نا تو پھر تھکاوٹ نہیں ہوتی۔۔۔ تب صرف جنون ہوتا ہے ۔۔۔ اپنے کام کو بہتر سے بہتریں کرنے کا۔۔۔ اسکے چہرے پر اپنے آج کے کام سے مطمیئن ہونے کی الوہی چمک تھی۔۔۔ ایک اطمینان تھا
اللہ تمہیں ڈھیروں کامیابیوں سے نوازے۔۔۔ ایمن اسے مطمیں دیکھ دل سے دعا گو ہوئی۔۔۔
******
آلے لے لےےےےےے۔۔۔۔ میلا پالا بے بی ۔۔۔ کیوں رو را اے۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ فرائز کھانے ہیں۔۔۔ آنی ابھی بنا دے گی۔۔۔۔
دو سالہ حور نے لاوئنج میں فرائز نا ملنے پر ادھم مچا رکھا تھا۔۔۔ لاوئنج کے بیچوں بیچ وہ اپنے کھلونے بکھرائے ان کے درمیان خود بھی بیٹھے ایریاں رگڑتے گلہ پھاڑ کر رو رہی تھی۔۔۔ اسکے پاس ہی اسکا فیڈر اور چند ایک فروٹ پڑے تھے۔۔۔ جبکہ اس سے کچھ فاصلے پر عفیفہ کندھوں پر شال اوڑھے ندھال سی صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے سر ہاتھ میں تھامے پکڑے بیٹھی تھی۔۔۔ جیسے حور کی ضد سے عاجز آ چکی ہو۔۔۔
دفعتا عائزل کالج سے گھر واپس آئی تو گھر میں پہلا قدم رکھتے ہی حور کا ریڈیو سنتے اور وہاں کے حالات دیکھتے ہی وہ پہلی نظر میں ہی سارا معاملہ سمجھ چکی تھی۔۔۔
حور کو بھوک لگی تھی اور فرائز اسکے فیورٹ تھے۔۔ اکثر عائزل اسے وہی بنا کر دیتی تھی۔۔۔ اب وہ ماں سے وہی کھانے کی ضد کر رہی تھی جبکہ عفیفہ اتنی دیر تک کچن میں کھڑی نہیں رہ سکتی تھی۔۔۔
فائز تھانے اے آنی۔۔۔ عائزل بھاگ کر اسکے پاس پہنچی تو وہ لمحے کی تاخیر کئے بنا اسکی گود میں چڑھ کر روتے ہوئے اپنا فرمائشی پروگرام شروع کر چکی تھی۔۔۔
عفیفہ نے عائزل کو دیکھ سکھ کا سانس لیا۔۔۔
ابھی بناتی ہوں پرنسس۔۔ عائزل نے بیگ وہیں رکھا اور حور کے آنسو صاف کرتے اسکے پھولے پھولے گالوں پر پیار کرتے اسے خود میں بھینچا۔۔۔
خوب سر چڑھا رکھا ہے تم نے اسے گڑیا۔۔۔ مجال ہے جو کوئی بات مان جائے۔۔۔ ابھی عمر ہی کیا ہے اسکی محض دو سال۔۔۔ اور ضد دیکھو اسکی کے ناک میں دم کر چھوڑا ہے اسنے۔۔۔ ایک تم کم ہو جو رہتی کسر آ کر داود پوری کر دیتے ہیں۔۔۔ مجھے تو یہ ماں سمجھتی ہی نہیں۔۔۔ ہر دم بس آنی ہی چاہیے۔۔۔ کل کو تمہاری شادی کے بعد تو یہ مجھے تگنی کا ناچ نچوا دے گی۔۔۔
عفیفہ دکھتے سر کو دباتے خوب دل کراس نکال رہی تھی۔۔ عاجز آ چکی تھی ان کے پیار سے جو مجال تھی کے اسے کسی چیز سے منع کر دیتے۔۔۔ اور جو عفیفہ حور کو زرا سا ڈانٹ دیتی تو پھر جو وہ رونا شروع کرتی تو باوجود کوشیش کے بھی وہ اس سے نا سمبھلتی۔۔۔
جبکہ عائزل اسے گود میں اٹھائے اپنے ساتھ کچن میں لے آئی۔۔۔ بنا کالج یونیفارم چینج کئے وہ ایسے ہی آستینیں اوپر چڑھائے حور کو اپنے پاس ہی کاونٹر ٹاپ پر بیٹھائے تندہی سے آلو چھیلتی مسکرا کر عفیفہ کی سخت سست سن رہی تھی۔۔۔
اب آپ یوں تو نا بولیں بجو میری پرنسس ہے۔۔۔ اسنے شدت سے حور کو خود میں بھینچا۔۔۔ اور آپ میری شادی کی فکر مت کریں۔۔۔ تب تک انشااللہ آپ مکمل تور پر صحتیاب ہو جائیں گی اور میری گڑیا کے نخرے آپ خود ہسی خوشی اٹھائیں گی۔۔۔ آلو کاٹ کر اسنے پین چولہے پر رکھا اور اس میں آئل ڈالتی وثوق سے گویا ہوئی۔۔۔
پتہ نہیں کب صحتیاب ہونگی گڑیا۔۔۔ یہ بیماری تو لٹکتی ہی جا رہی ہے۔۔۔ وہ مایوس کن لہجے میں اداسی سے گویا ہوئی تو فرائز بناتے اسکے ہاتھ ٹھٹھکے۔۔۔
مایوسی گناہ ہے بجو۔۔۔ انشااللہ آپ جلد شفایاب ہو جائیں گی۔۔۔ آنکھوں کی نمی پیچھے دھکیلتی وہ بامشکل آواز کی لغزش پر قابو پاتی گویا ہوئی۔۔ جبکہ دل سے ایک ہوک سی نکلی تھی۔۔۔ عفیفہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کمرے میں چلی گئ جبکہ عائزل کی توجہ بٹ چکی تھی۔۔۔
******

No comments