Header Ads

Scheme novel 23rd Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 23rd Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں 

______

تیئسویں قسط۔۔۔۔
ایمن غائب دماغی کیساتھ گھر واپس آ رہی تھی۔۔۔ دماغ میں سوچوں کا ایک ہجوم تھا جب راستے میں ہی اسے سدرہ خالہ اپنی جانب آتی دکھائی دیں۔۔۔ انہیں دیکھتے ایمن نے بے طرح اپنا ماتھا مسلہ۔۔اسے شدت سے یاد آ گیا کے اسنے پچھلے دو مہینوں سے مکان کا کرایہ بھی نہیں دیا۔۔۔۔ اس وقت وہ ذہنی اور جسمانی طور پر اتنا تھک چکی تھی کے صرف آرام کی متمنی تھی ۔۔۔ اسنے شدت سے دعا کی کے وہ اس وقت وہاں سے غائب ہو جائے۔۔۔
ارے ایمن بیٹا کیسی ہو۔۔۔ وہ اسکے قریب آتی گویا ہوئیں۔۔۔ جی خالہ۔۔ شکر الحمدللہ۔۔۔
وہ خالہ۔۔۔۔ میں جلد ہی مکان کا کرایہ آپ کو دے دوں گی ۔۔۔  انکے دریافت کرنے سے پہلے ہی وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔۔ 
ارے نہیں بیٹا۔۔۔ کرائے کا مسلہ نہیں۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرائیں مصلحتی مسکراہٹ۔۔۔۔  دراصل میرے بیٹے کو دکان کے لئے پیسوں کی ضرورت تھی۔۔۔ تووووو اسنے مکان بیچ دیا ہے۔۔۔ یکم کو انہیں قبضہ دینا ہے تو تم اپنی رہائش کا کہیں اور بندوبست کر لو۔۔۔
یکم کو قبضہ دینا ہے۔۔۔ وہ حق دق سی رہ گئ۔۔۔ تھکن کئ گنا بڑھ گئ تھی۔۔   پہلے سے درد کرتا سر مزید پھٹنے لگا تھا۔۔۔ 
ہاں بیٹا ایمرجنسی تھی اسی لئے سب بہت جلدی میں ہوا۔۔۔ ویسے تو ابھی یکم آنے میں بھی ایک ہفتہ باقی ہے۔۔۔ وہ کہہ رہی تھیں جبکہ ایمن کو اپنا دماغ سائیں سائیں کرتا محسوس ہوا۔۔۔
جی خالہ ٹھیک ہے۔۔۔ وہ بمشکل انہیں کہہ کر آگے بڑھی۔۔ لیکن ہر اٹھتے قدم کے ساتھ اسے درد سر سے گردن اور گردن سے کندھوں میں منتقل ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
گھر کا دروازہ دھکیکتی اندر بڑھی تو اسے حماد برآمدے میں بیٹھا ہی دکھائی دے گیا۔۔۔
ماں کے تخت پر بیٹھا گود میں لیپ ٹاپ رکھے وہ ناجانے کیا کر رہا تھا۔۔۔
اسنے اندر آتے اپنا ہیند بیگ چارپائی پر رکھا اور خود بھی ندھال سی وہیں بیٹھ گئ۔۔۔
کیسا گزرا تمہارا آفس کا پہلا دن۔۔۔ حماد نے لیپ ٹاپ پیچھے کرتے آنکھیں مسلیں اور پشت دیوار سے ٹکا گیا۔۔۔
ہممم۔۔۔۔ ایمن کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔ ابھی میں گھر آ رہی تھی تو راستے میں سدرہ خالہ ملیں مجھے۔۔۔ وہ دانستہ بات نظر انداز کرتی گویا ہوئی۔۔۔
کہہ رہی تھیں کے یہ مکان بک گیا ہے۔۔۔ یکم تک مکان خالی کرنا ہے اسنے ہاتھ کر پوروں سے کنپٹیاں دباتے گردن پیچھے پھینکی۔۔۔۔
کیا۔۔۔ لیکن اتنی جلدی کیسے۔۔۔ حماد بھی پریشان ہو اٹھا تھا۔۔۔۔
مجھے اریب سر کی گرینی کی کیئر ٹیکر کی جاب ملی ہے حماد۔۔۔ وہ لوگ رہائش آفر کر رہے ہیں ۔۔۔ اگر تم کہو تو ہم وہاں شفٹ ہو سکتے ہیں۔۔۔ ایک طرح سے ہر ماہ دیئے جانے والے کرائے کی طرف سے زرا بے فکری ہو گئ۔   وہ سیدھی ہوتی حماد کا پرسوچ چہرا دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔
اور پھر ابا کی پینش سے ہم۔۔۔۔
ابا کی ینش نہیں آئے گی ایما۔۔۔ وہ ابھی کچھ بول رہی تھی جب حماد اسکی بات کاٹتا تیزی سے گویا کوا۔۔۔۔
مطلب۔۔  وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
مطلب صاف ہے ایما۔۔۔ ابا کے بعد پینش امی کو ملتی تھی۔۔۔ اب امی کے بعد کم سن بیٹے یا غیر شادی شدھ بیٹی کو وہی پینش ملنے کے لئے ابھی ایک لمبا پراسس ہے۔۔  ہر ماہ کی طرح باآسانی اس ماہ پینش نہیں آئے گی۔۔۔ وہ واپس اپنے سامنے لیپ ٹاپ کھینچتا اسکی جانب متوجہ ہو گیا۔۔۔۔
ایمن ہونٹ چباتی کچھ سوچنے لگی۔۔۔ چھوٹے بڑے کئ خرچے منہ کھولے کھڑے تھے اور آمدنی کی کوئی صورت نکل کر نا دے رہی تھی۔۔۔۔
اور تمہاری سیلری۔۔۔ کافی دیر تک کچھ سوچنے کے بعد وہ مستفسر ہوئی۔۔۔
میری سیلری آدھی میں پہلے ہی ایڈوانس لے چکا تھا آدھی آج مل گی ہے لیکن میں وہ تمہیں دے نہیں سکتا۔۔۔ مجھے کیمرا خریدنا ہے چوبیس ہزار کا ۔۔۔ چودہ  ہزار مجھے مزید چاہیے۔۔۔۔ اور سمجھ نہیں آ رہی وہ کہاں سے لوں۔۔ اب تو سیونگ کے نام پر  گھر میں بھی کچھ نہیں جو بیچ ڈالوں۔۔۔ وہ پرسوچ سا بول رہا تھا جبکہ ایمن حیرت سے اسے دیکھے گئ۔۔۔
حماد ہمیں پائی پائی کی ضرورت ہے اور تم چوبیس ہزار کا خرچہ نکال رہے ہو۔۔۔ اندر کہیں غصے کی شوریدہ سر لہریں سر اٹھانے لگی تھیں۔۔۔
مجبوری ہے ایما۔۔۔
کیا مطلب مجبوری ہے حماد۔۔۔ ہمارا بال بال قرضے میں ڈوبا ہوا ہے۔۔۔ ہم ایک ایک روہے کے لئے محتاج ہیں اور تم کیمرا لے کر کرو گے کیا ہاں۔۔۔۔ یہ تم آج کل کرتے کیا پھر رہے ہو۔۔۔ سارا سارا دن لیپ ٹاپ پر سر کھپائی۔۔۔
ٹاپ ارنینگ سکیلز۔۔۔ کیا ہے یہ سب۔۔۔ یہ سب صرف سننے میں اچھا لگتا ہے۔۔۔ ابھی تم پہلے اتنی انویسٹمنٹ کر کے کیمرا خریدو گے۔۔۔ پھر بقول تمہارے کوئی سی بھی سکلیل سیکھو گئے۔۔۔ اور اسے سیکھنے میں کتنا وقت لگے گا کوئی پتہ نہیں۔۔۔ اور اسکے بعد تم کمانا شروع کرو گے وہ بھی ہوائی روزی۔۔۔ تم کوئی بھی سکیل سیکھ لو اس سکیل کے جانے مانے اور اپنے فیلڈ کے منجھے کھلاڑی تمہیں ہر جگہ ملیں گے۔۔۔ انکے مقابلے میں تم ایسا کیا ایکسٹرااورڈنری کر لو گے جو اس میدان میں جھنڈے گاڑنے کے مترادف ہو گا ہاں۔۔۔
یہ سب کتابی باتیں ہیں حماد اور بس۔۔۔ تمہیں خدا کا واسطہ ہے یہ سب باتیں دماغ سے نکال دو اور پارٹ ٹائم جاب چھوڑ کر کوئی نائن ٹو فائیو جاب کرنے لگو۔۔۔
یہ سب محض میری ذمہ داری نہیں ہے۔۔۔ میں ان ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ابھی سے تھکنے لگی ہوں۔۔۔ 
وہ صبح سے اپنے اندر موجود تلخی کو مزید دبا نہیں سکی تھی۔۔۔ اریب پر تو اسے رہ رہ کر غصہ آ ہی رہا تھا جو اسکی مجبوری کے باعث اسے بے بس کر رہا تھا۔۔۔ رہتی کسر اب حماد نے پوری کر دی تھی۔۔۔۔
حماد خاموشی سے سرخ نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔
تو تمہیں یہ لگتا ہے کے مجھے میری ذمہ داریوں کا احساس نہیں۔۔۔ اسکی تمام تر تلخی کے باوجود وہ جذباتی سا  شخص نہایت ٹھنڈے انداز میں گویا ہوا کہ ایک پل کو تو ایمن بھی اسے دیکھتی رہ گئ۔۔۔ اتنا ٹھہراو اسکی ذات میں کہاں سے آیا تھا بھلا۔۔۔۔
وہ تخت سے اترتا اسکے مقابل آیا۔۔۔ سرخ آنکھیں اور سنجیدہ انداز۔۔۔ میں کوشیش کروں گا ایمن کے تمہاری اس سوچ کو جلد از جلد غلط ثابت کر سکوں۔۔۔
تخت سے موبائل اٹھا کر وہ بنا اسکی جانب دیکھتا گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔۔ نا کوئی بحث۔۔۔۔ نا وضاحت نا دلیل ۔۔۔۔ 
******
بجو دیکھیں نا یہ کتنی پیاری ہے۔۔۔ کتنے چھوٹے چھوٹے سے ہاتھ ہیں اسکے۔۔۔ عفیفہ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے نیم دراز تھی ۔۔ ٹانگوں پر لحاف اوڑھ رکھا تھا جبکہ عائزل اسکے پاس ہی آلتی پالتی مارے بیٹھی اپنے سامنے موجود ننھے سے وجود کیساتھ کھیل رہی تھی۔۔۔ کبھی وہ اسکے ننھے سے ہاتھ میں اپنی انگلی پکڑانے کی کوشیش کرتی تو کبھی اسکے روئی کے گالے کی مانند گال پر بوسہ لیتی۔۔۔ بجو حور نام بالکل میری گڑیا کی پرسنیلٹی سے میل کھاتا ہے نا۔۔۔ وہ چہکتی ہوئی عفیفہ کی جانب متوجہ ہوئی تو وہ مسکرا دی۔۔۔ 
واو بجو دیکھیں نا میں آپکی گڑیا اور یہ میری گڑیا۔۔۔ امیزنگ نا۔۔۔ 
عفیفہ یک ٹک اسکے مسکراتے چہرے کو دیکھتی خود بھی مسکرا رہی تھی۔۔۔ وہ دل سے اپنی گڑیا کی دائمی خوشیوں کے لئے دعا گو تھی۔۔۔
جب سے عفیفہ ہسپتال سے ڈسچارج ہو کر گھر واپس آئی تھی عفیفہ اور حور کی ساری ذمہ داری عائزل نے ہی سمبھالی ہوئی تھی۔۔۔  عفیفہ کے آگے پیچھے تو وہ پہلے بھی لگی رہتی تھی مگر اب تو اسکی ذمہ داریوں میں مزید بہت اضافہ ہو گیا تھا۔۔۔ لیکن وہ ہسی خوشی سب کر رہی تھی۔۔ عفیفہ کیساتھ ساتھ حور کا بھی خیال رکھ رہی تھی۔۔۔ بلکہ حور تو دن رات اسی کے پاس ہوتی تھی۔۔۔ عفیفہ کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔۔۔ بیٹھے بیٹھے یکدم ہی اسے درد شروع ہو جاتا۔۔۔ بار بار اسے ہسپتال لے کر جایا جاتا۔۔۔ ڈاکٹر نے دو ہفتے بعد کا آپریشن کا وقت دیا تھا۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی حور ماں کے پاس کم اور عائزل کے پاس زیادہ پائی جاتی۔۔۔
بس بجو اس چھوٹی سی گڑیا کا اور سب کچھ تو ٹھیک ہے ۔۔۔ لیکن اللہ تعالی اگر اسے زبان دے دے نا تو کام ہی بن جائے۔۔۔ حور کھیلتے کھیلتے رونے لگی تو وہ اسے گود میں اٹھاتی چپ کرواتی گویا ہوئی۔۔۔
بس یہ بتا دیا کرے نا کے یہ رو کیوں رہی ہے تو سب ٹھیک ہے۔۔۔ میں کنفوز ہو جاتی ہوں کہ اسے بھوک لگی ہے یا اسکا ڈائپر چینج کرنا ہے یا اسے کہیں درد ہو رہا ہے۔۔۔ حور کو گود میں ہلاتے وہ ساتھ میں اسکا فارمولہ دودھ بنا رہی تھی۔۔۔
عفیفہ اسے دیکھتی مسلسل مسکرا رہی تھی۔۔۔
انشااللہ بولنے بھی لگ جائے گی یہ جلد۔۔۔ بچوں کی موج ہوتی ہے نا بجو۔۔۔ انہیں کچھ بھی چاہیے ہو انہوں نے بس رونا ہی ہے۔۔۔ وہ اب حور کو دودھ پلا کر اسکا منہ صاف کر رہی تھی۔۔۔ دودھ پیتے ہی حور پھر سے سو گئ ۔۔   عائزل نے جھک کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
*****
صبح ہی صبح ایمن اپنے کام پر موجود تھی۔۔۔ آتے ہی وہ کچن میں مصروف ہو گئ۔۔۔ گرینی کے ڈائٹ چارٹ کے مطابق وہ شوگر اور ہارٹ پیشنٹ تھیں۔۔۔ نا انہیں زیادہ آئلی اور سپائسی کھانے دینے تھے اور نا ہی میٹھے۔۔۔ اور پھیکے پرہیزی کھانے انکے ناک کے نیچے نہیں آتے تھے۔۔۔۔۔
ناشتہ بنا کر وہ ڈھرکتے دل کیساتھ انکے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
گرینی صاحبہ ہیں دل کی مریض لیکن آواز کا دبدبہ ایسا ہے جیسے آرمی آفیسر ہوں۔۔۔ اسنے سر جھٹکتے انکے کمرے کا دروازہ ناک کر کے کھولا۔۔۔ گرینی سینے تک لحاف اوڑھے کروٹ کے بل لیٹیں تھیں۔۔۔ اسے دیکھتے ہی انکے ماتھے پر بل پڑَے۔۔۔
اے لڑکی کیوں آئئ ہو یہاں۔۔۔ حسب سابق وہ کرخت لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔۔
آپکے لئے ناشتہ لائی ہوں۔۔۔ ناشتہ کر لیں پھر آپ نے دوائی بھی لینی یے ۔۔ اسنے آہستگی سے کہتے ناشتے کی ٹرے بیڈ پر رکھی۔۔۔۔ 
نہیں کھانا مجھے یہ پھیکا بدمزہ کھانا۔۔۔ اٹھاو اسے اور نکلو میرے کمرے سے۔۔۔
اسنے گرینی کے ایک دفعہ کہنے پر ہی ناشتے کی ٹرے اٹھا لی۔۔۔
بیٹھے بیٹھے محترمہ کا دماغ گھوم جاتا تھا کل کی طرح کہیں پھر سے ناشتہ نیچے ہی نا دے ماریں۔۔
آپ مریضہ ہیں تو آپکی صحت کے مد نظر اس قسم کا ناشتہ آپکی صحت کے لئے بہتر ہے۔۔۔ وہ رسان سے گویا ہوئی۔۔۔
اب تم مجھے بتاو گی کے میرے لئے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔۔ تم۔۔۔ ٹرے اٹھاو اور نکلو میرے کمرے سے۔۔۔ جاہل لڑکی۔۔۔ وہ لمحے میں آگ بگولہ ہوئی تھیں پتہ نہیں بی پی شوٹ کر گیا تھا انکا ۔۔۔ ایمن نے بے بسی سے تھوک نگلا۔۔۔۔
دیکھیں آپ پلیز ناشتہ کر لیں پھر آپ نے اپنی دوائی بھی کھانی ہے۔۔۔
نہایت ڈھیت انسان ہو تم۔۔۔ تمہیں سمجھ نہیں آتی کے نہیں کھانا مجھے یہ پھیکا بدمزا کھانا۔۔۔ نکلو یہ اپنے جیسا پھیکا بدمزا کھانا لے کر۔۔۔ سنائی نہیں دیا کیا تمہیں۔۔۔ وہ غضبناک ہو کر ڈھاری تو ناچاہتے ہوئے بھی ایمن کو ٹرے لئے کمرے سے باہر آنا پڑا۔۔۔
غصے و بے بسی کے ملے جلے احساس کے تحت اسنے کچن میں آکر ٹرے زور سے کچن کاونٹر پر پٹخی اور سر تھام کر وہیں گول میز کے گرد بیٹھ گئ۔۔۔
اب کیا کرتی ان کے ناشتے کے لئے۔۔۔ کچھ سوچتے ہوئے اسنے جھنجھلا کر یوٹیوب سے سرچ کر کے لو فیٹس ہیلڈی ریسیپیز سرچ کیں ۔۔ ایک ریسپی پر مطمیئن ہو کر وہ اٹھ کر فریج کی جانب بڑھی۔۔۔ فریز سے چکن نکال کر اسے گرم پانی میں رکھا۔۔۔ اور اسکی کوٹنگ تیار کرنے لگی۔۔۔ ٹھاٹ ہیں بھئ انکے۔۔۔ بیٹھے بیٹھے حکم چلانے کو مل رہا ہے۔۔۔ باقی سب جائیں بھاڑ میں۔۔۔ دو دو دفعہ ناشتہ بنوا رہی ہیں باقی کاموں کے لئے ناجانے کتنا خوار کریں گی۔۔۔
پتہ نہیں کب جان چھوٹے گی یہاں سے وہ اندر ہی اندر کڑھتی تیزی سے ہاتھ چلا رہی تھی۔۔۔۔
ایمن یہ اریب صاحب کا فون ہے تم سے بات کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ وہ چولہے کی جانب متوجہ تھی جب فرزانہ آپا نے کچن میں آتے اسکی جانب فون بڑھایا۔۔۔ وہ وہاں پر سپروائزر کا کام سرانجام دیتی تھیں۔۔۔
اسنے ہچکچاتے ہوئے فون تھام  لیا۔۔۔۔
مس ایمن گرینی ابھی تک بھوکی ہیں آپ نے انہیں ابھی تک ناشتہ نہیں کروایا۔۔ ٹآئم دیکھ رہی ہیں آپ۔۔۔ فون کان سے لگاتے ہی اسکی غصیلی آواز ایمن کے کان سے ٹکرائی تو وہ ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئ۔۔۔
میں نے ناشتہ بنایا تھا اور لے کر انکے پاس بھی گئ لیکن۔۔۔ تحمل سے بات کرتے اسنے خود کو گرینی کی شان میں کچھ بھی الٹا بولنے سے بدقت روکا۔۔۔
لیکن آپکی گرینی کو ناشتہ پسند نہیں آیا ۔۔۔ اب میں۔۔۔
دیکھیں مس ایمن مجھے اس ساری تفصیل سے کوئی غرض نہیں۔۔۔  مجھے بس یہ پتہ ہے کے میری گرینی بھوکی ہیں انہوں نے ناشتہ نہیں کیا۔۔۔ اور انکے کام کاج آپکی ذمہ داری ہے۔۔۔ اسی چیز کی آپکو تنخواہ ملتی ہے۔۔۔ تو آپکے لئے بہتر یہ ہی ہے کے آپ اپنے کام پر توجہ دیں۔۔۔ 
ایمن نے مٹھیاں سختی سے بھینچتے خود کو کچھ سخت سست کہنے سے روکا۔۔۔
ناشتہ بنانا اسکی ذمہ داری تھی اب کیا وہ نوالے توڑ توڑ کر انکے منہ میں ڈالتی۔۔۔ دو سال کی بچی تھیں اسکی گرینی۔۔۔ باوجود خواہش کے بھی وہ یہ سب اسے کہہ نا سکی۔۔۔
دوبارہ بنا رہی ہوں ناشتہ ۔۔۔ ابھی لے کر جاتی ہوں۔۔۔ اور آپ فکر مت کریں۔۔۔ اگر مجھے اسی چیز کی تنخواہ ملتی ہے تو اپنے کام سے انصاف کر کے اپنی تنخواہ حلال کر کے ہی لوں گی۔۔۔۔خود کو کمپوز کرتے وہ بامشکل متوازن آواز میں کہتی بھی خود کو یہ بات کہنے سے روک نا پائی۔۔۔
*****
گڑیا تم حور کیساتھ مینج کر لو گئ نا۔۔۔ عائزل حور کیساتھ ڈیرھ گھنٹہ کھپنے کے بعد بلآخر اسے سلانے میں کامیاب ہو گئ تھی۔۔۔ کبھی کبھی حور اسے تگنی کا ناچ نچوا دیتی۔۔۔ ضد میں رونا شروع کرتی تو اسے کانوں کو ہاتھ لگوا دیتی مگر چپ ہونے کا نام نا لیتی۔۔۔ سارا دن سوتی رہتی۔۔۔ رات میں یا تو سوتی ہی نا اور اگر سوتی تو ہر آدھے گھنٹے بعد کسی الارم کی طرح بج اٹھتی۔۔۔  عائزل کی اسے سمبھالتے سمبھالتے جان ہلکان ہو جاتی۔۔۔ اب بھی وہ باہر لاوئنج میں ٹہلتے ہوئے اسے سلا رہی تھی۔۔۔
حور کے سونے کے بعد اسنے حور کو وہیں صوفے پر لٹا کر اختیاطاً اسکے آگے تکیہ رکھ دیا۔۔۔ ویسے تو وہ اتنی چھوٹی تھی کے کروٹ لینے کا تو سوال ہی نا اٹھتا لیکن وہ پھر بھی اختیاط کرتی تھی۔۔ خود وہ بکھرے بالوں اور ملگجھے حلیے کے ساتھ ابھی وہیں بیٹھی تھی جب داود اپنے پاس موجود چابی کیساتھ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور اسکی غیر ہوتی حالت دیکھ مستفسر ہوا۔۔۔
جی بھیا۔۔۔ یہ کوئی ایسا مسلہ نہیں ۔۔۔ اور اب تو مجھے کافی حد تک اسکی عادت بھی ہو گئ ہے۔۔۔ بس کبھی کبھار حور ضد میں پڑ جاتی ہے تو مجھے مشکل ہو جاتی ہے۔۔۔ آپ بتائیں کے بجو ٹھیک ہیں نا۔۔۔ ڈاکٹر نے کیا کہا۔۔۔ اور آپ انہیں اکیلا کیوں چھوڑ کر آ گئے
وہ دوپٹہ سر پر اوڑھتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ لہجے میں بہن کے لئے فکر مندی تھی۔۔۔
ہمم عفیفہ ٹھیک ہے اسے آپریشن ٹھیٹھر میں لیجایا جا چکا ہے۔۔۔ اسکی کچھ رپورٹس گھر میں رہ گئ تھیں وہی لینے آیا ہوں۔۔۔  
اس وقت میں ویسے تمہیں ہونا تو اسکے ساتھ ہی چاہیے تھا لیکن پھر حور کو بھی سمبھالنے والا کوئی نا تھا۔۔۔ تم فکر مت کرو میں ہوں وہاں اسکی دیکھ بھال کے لئے۔۔۔
وہ عائزل کے لہجے کی بے چینی و فکر مندی محسوس کرتا گویا ہوا۔۔۔۔۔
عائزل پرسوچ انداز میں وہیں کھڑی تھی جب داود کمرے سے فائل لے کر بعجلت باہر نکلا۔۔۔
بھیا بجو کے لئے سوپ بنا لوں۔۔۔
نہیں گڑیا ابھی صرف اپنا اور حور کا خیال رکھو اور عفیفہ کے لئے دعا کرو۔۔۔ آپریشن کے بعد ویسے بھی اسے فلحال کچھ کھانے پینے نہیں دیا جائے گا۔۔۔ مزید ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دیکھ لیں گے۔۔۔ ابھی حور سو رہی ہے تو تم بھی کچھ دیر کے لئے سو جاو ۔۔۔ ورنہ وہ اٹھ گی تو پھر سے تمہارے لئے مشکل ہو گئ۔۔۔ وہ عائزل کی نیند سے بھری آنکھیں دیکھ کر متفکرانہ انداز میں گویا ہوا تو عائزل سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
وہ صدق دل سے بہن کے لئے دعا گو تھی۔۔۔ جسکی طبیعت بہتر ہونے کی بجائے دن با دن گرتی جا رہی تھی۔۔۔ اور اسکی ایسی حالت عائزل کو بے چین کر جاتی۔۔۔ گو کے وہ اس پر ظاہر نا ہونے دیتی لیکن وہ دل ہی دل اسکے لئے بہت پریشان تھی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے وہ اپنی جان سے اسے سہولت فراہم کرنے کے لئے رفتہ رفتہ اسکی سبھی ذمہ داریاں خود پر لیتی جا رہی تھی۔۔۔۔
*****
 

No comments

Powered by Blogger.
4