Scheme novel 22nd Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 22nd Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں
______
بائیسویں قسط۔۔۔
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تو عائزل ہڑبڑا کر اٹھی۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی اسنے سیٹ کی پشت سے کمر ٹکائی تھی اور زرا پرسکون ہوتے ہی اس پر غنودگی چھا گئ تھی۔۔۔
اسنے سرعت سے حواس بحال کرتے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔۔
دائم اسے ایک نظر دیکھ کر گاڑی سے نکلا تو وہ بھی گاڑی سے اتر آئی۔۔۔ سامنے نظر آتی اپارٹمنٹ بلدنگ وہی تھی جہاں وہ دائم کے سنگ پہلی مرتبہ آئی تھی۔۔۔ اور اسکا یہاں آنے کا پہلا تجربہ اس قابل قطعاً نہیں تھا کے اسے دوبارہ یاد کیا جاتا۔۔۔۔دائم آگے آگے چل رہا تھا جبکہ وہ اسکے پیچھے پیچھے خاموشی سے اسکی پیروی کر رہی تھی۔۔۔
وہ اپارٹمنٹ کا دروازہ وا کر کے اندر بڑھا تو وہ بھی خاموشی سے آ کر لاوئنج کے صوبے پر بیٹھ گئ۔۔۔
کچھ دیر بعد دائم بھی اسے اپنے پاس ہی بیٹھتا محسوس ۔۔۔ لیکن وہ تب بھی بنا اسکی جانب دیکھے سر جھکائے بیٹھی رہی۔۔۔
عائزل میں یہ سب ختم کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ تھک گیا ہوں میں خود سے لڑتے لڑتے۔۔۔ میں سب بھلا کر زندگی میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔۔۔
تم بس ایک مرتبہ بول دو کے وہ سب تم نے کسی مجبوری میں کیا ۔۔۔ تم مجھے دھوکہ نہیں دینا چاہتی تھی۔۔ تم بھی محبت کرتی ہو مجھ سے۔۔۔ میں سب یہیں ختم کردوں گا۔۔۔
ہر چیز پر مٹی ڈال کر تمہارے سنگ ایک نئ زندگی کی شروعات کروں گا۔۔ پلیز
وہ نرمی سے اسکا ہاتھ تھامے اسے دیکھتا محبت سے سے بول رہا تھا۔۔۔
آنکھوں میں کئ جذبات ہلکورے لے رہے تھے۔۔۔ جیسے اس مسافت نے اسے اندر سے بے طرح توڑ دیا ہو۔۔۔ وہ آج ایک مرتبہ پھر سے محبت میں جھکنے آیا تھا۔۔۔
جبکہ عائزل وہ اسکی اس کایا پلٹ پر اسے یک ٹک دیکھ رہی تھی۔۔۔
گزرے سبھی مناظر اسکی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی مانند چلنے لگے تھے۔۔۔
تمہیں یہی سب کرنا تھا عائزل تو ایک بار کہہ کر تو دیکھتی۔۔۔ یہاں کوئی تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کر رہا تھا۔۔۔ مگر یوں رسوا تو نا کرتی
ہوا کے دوش پر ایک آواز اسکی سماعت سےٹکرائی تو بے ساختہ اسکی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا۔۔۔
اس کے ساتھ نکاح کرو اور دفعہ ہو جاو یہاں سے۔۔۔
اسکی آنکھ چھلکی تھی اور ایک آنسو اسکی آنکھ سے پھسلتا چلا گیا۔۔
نہیں کرتی میں آپ سے محبت۔۔۔ جھوٹ ہے یہ سب۔۔ آپکے اپنے قائم کردہ مفروضے۔۔۔
وہ اسکے جواب کا منتظر تھا جب وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی چٹخی۔۔ بے ساختہ اسکے ہاتھ پر دائم کی گرفت مضبوط ہونے لگی تھی حتی کے عائزل کو لگا اسکے ہاتھ کی ہڈیاں چٹخ جائے گئیں۔۔۔
تمہیں میرے جذبات جھوٹےلگتے ہیں۔۔۔ اسکی آواز میں سنجیدگی در آئی تھی جبکہ آنکھیں شدت ضبط سے کوئی اور ہی نظارا پیش کر رہی تھیں۔۔۔
اسکی آنکھوں میں دیکھتے عائزل نے تلخی سے سر جھٹکتے چہرا موڑا۔۔۔
میں نے محبت کی تم سے لڑکی۔۔۔ مگر تم اس قابل تھی ہی نہیں۔۔۔ میں سب کچھ بھلا کر پھر سے تمہارے آگے جھکا مگر تم ہر بار۔۔۔
وہ اسکے بال مٹھی میں جھکڑتا اسکا چہرا اپنے قریب کرتا غرایا۔۔۔
عائزل کے الفاظ نے گویا پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کا کام کیا تھا۔۔۔ وہ بھڑ بھڑ جلنے لگا تھا۔۔۔ اور اسی آگ میں اسے بھی جلا کر بھسم کر دینے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔
جو آپ نے کی ۔۔۔ اگر وہ محبت ہے نا دائم خان تو میں دعا گو ہوں کے ایسی محبت کوئی کسی دشمن سے نا کرے۔۔۔۔ ناجانے آج اتنی ہمت اس میں کہاں سے آئی تھی۔۔۔ یا مسلسل خاموش رہ کر اندر پلتا یہ لاوا تھا جو آج غیر متوقع طور پر باہر نکل رہا تھا۔۔۔
اگر دوسرے کو ذلیل و خوار اور رسوا کرنا محبت ہے نا تو۔۔۔۔
چٹاخ۔۔۔ اسکے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے تھے جب دائم خان کا بھاری ہاتھ اسکے چہرے پر اپنا نشان چھوڑ گیا تھا۔۔۔
یہ غیر متوقع تھا۔۔۔ ابھی تک انکے درمیان جو بھی تلخ ہوا لیکن نوبت یہاں تک نا پہنچی تھی۔۔۔ آنسو عائزل کی آنکھوں سے بھل بھل بہنے لگے تھے وہ دونوں ہاتھوں سے اسکے سینے پر دباو ڈال کر اسے جھٹکتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
اور آتا کیا ہے آپکو کمزور پر اپنی طاقت دکھانے کے سوا۔۔۔ سوائے مجھے مارنے کے یا دبانے کے آپ اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔۔ بس یہی ہے آپکی مردانگی۔۔۔
وہ بے طرح بپھری۔۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی ورنہ میرے ہاتھوں سے ضائع ہو جاو گئ۔۔۔ وہ ڈھارتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھا۔۔۔ آنکھوں سے خون چھلکنے لگا تھا جبکہ کنپتی کی رگیں پھول چکی تھیں۔۔۔
اپنے اوپر نظر ثانی کی ہے تم نے۔۔۔ خود کتنے پانی میں ہو۔۔۔ میری محبت کا مذاق اڑانے والی بے وفا بدکراد لڑکی میں نے تو تمہاری ہر خطا معاف کرنے کا سوچا تھا خود کیا کر رہی تھی تم۔۔۔ میرے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا کر سیج کسی اور کی سجانے جا رہی تھی۔۔۔ تم تو اس قابل بھی نہیں کے دائم خان تمہاری جانب دیکھے بھی اور میں۔۔۔
ہاں سجانے جا رہی تھی کسی اور کی سیج۔۔۔۔۔ کر رہی تھی کسی اور سے نکاح۔۔۔ ہاں ہوں میں بدکردار۔۔۔ غصے سے عائزل کا جسم کپکپانے لگا تھا ۔۔۔
اسی لئے تو کہہ رہی ہوں۔۔ کہاں گئ آپکی مردانگی ۔۔۔ آپ نے۔۔۔ آپ نے ابھی تک ایک بدکردر لڑکی کو اپنے ساتھ رکھا کیسے ہوا ہے۔۔۔ کیسے آپکی مردانگی آپکو ایک بدکردار لڑکی کو اپنے نکاح میں رکھنے کی اجازت دے رہی ہے۔۔۔
وہ حواسوں میں نا لگ رہی تھی۔۔۔ چیخ چیخ کر کہتے اسکی رگیں پھولنے لگیں تھیں۔۔۔ یہ ہے آپکی مردانکی کے ایک بد کردار۔۔۔
عائزللللللل۔۔۔ اسکی آواز میں ایسی دھار تھی کے اپارٹمنٹ کے درو دیوار تک لرز اٹھے تھے۔۔۔
اس لڑکی کی باتیں اسکا فشار خون بلند کر گئ تھیں۔۔۔ وہ غصے میں اپنا آپا کھونے لگا تھا۔۔ ایک ہی جست میں اسکی جانب بڑھتا وہ اسے زوردار دھکے سے اپنے سامنے سے ہٹاتا سامنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔
دھکا غیر متوقع تھا وہ سبھلتے سمبھلتے بھی لڑکھڑائی اور بچتے بچتے بھی سامنی دیوار میں سر زوردار طریقے سے جا لگا۔۔
درد کی ایک شدید لہر پورے جسم میں سرائیت کر گئ۔۔۔ خون کی ننھی سی لکیر کنپتی سے بہتی اسکا چہرا رنگتی چلی گئ۔۔۔
وہ آتش فشان بنا انہیں قدموں پر واپس لوٹا تھا۔۔۔
تمہیں اس نکاح سے آزادی تو نہیں ملے گئ ہاں البتہ تمہیں اس زندگی سے آزادی ضرور دلوا سکتا ہوں۔۔۔ اسکے مقابل آتے دائم نے ہاتھ میں تھاما پسٹل لوڈ کر کے عائزل کے سامنے تانا۔۔۔
وہ جو دیوار کا سہارا لئے کھڑی درد کی شدت کو برداشت کر رہی تھی ایک جھٹکے سے سیدھی ہوئی۔۔۔
ایسی ذلت بھری زندگی سے موت ہی اچھی۔۔۔ خالی خولی باتیں نہیں دائم خان۔۔۔ مرد بنیں اور چلائیں گولی۔۔۔ اسکی چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ تھی۔۔۔
چلائیں گولی دائم خان آپکی بیوی ایک بدکردار لڑکی ہے۔۔۔ مارئیے مجھے اور خود کو مرد ثابت کرئیے کے آج آپ نے ایک بہادی کا کام کیا ہے ۔۔۔ گولی چلائیں دائم خان۔۔۔ میں بھی دیکھوں آپ میں کس قدر مردانگی باقی ہے۔۔۔ وہ مسلسل چیختی اسے گولی چلانے پر اکسا رہی تھی۔۔۔۔
دائم کے چہرے پر اذیت کے تاثرات تھے۔۔۔ پسٹل تھاما ہاتھ کپکپا رہا تھا۔۔۔
غصے کی شدت سے اسنے ٹریگر دبایا ۔۔ ٹھاہ کی آوازہ کے ساتھ ہی عائزل کی چیخ بھی اپارٹمنٹ کے درودیوار لرزا گئ تھی۔۔۔ دائم نے اسی پسٹل کو ہاتھ میں تھامے پوری شدت سے اپنے ماتھے میں مارا اور ایک نظر دہری ہوئی دیوار کے سہارے زمیں پر بیٹھی عائزل کو دیکھ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپارٹمنٹ سے نکل گیا۔۔۔۔
گولی چلانے کے لئے کہنا اور گولی کو چلتے دیکھنا دونوں الگ الگ عمل تھے۔۔ گولی کی آواز نے ہی عائزل کے حواس مختل کر دیئے تھے۔۔۔
وہ خوف سے کپکپا کر رہ گئ۔۔۔
دائم کے اپارٹمنت سے نکلتے ہی اسنے کپکپاتے ہاتھ کانوں سے ہٹائے اور خوفزدہ نگاہوں سے اپنے پیچھے دیکھا۔۔ جہاں فانوس کرچیوں میں بٹا جابجا بکھرا پڑا تھا۔۔۔
وہ خوف سے گھٹنے سینے سے لگائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
غصے سے گاڑی کا دروازہ کھول کر اس میں بیٹھتے دائم نے شدت سے سر سٹرینگ میں مارا۔۔۔
غصہ کسی طور کم نا ہو رہا تھا۔۔۔ آنکھھیں جلنے لگیں تھیں۔۔۔ یہ لڑکی اسے بے بسی کی انتہاوں کو لے آئی تھی۔۔۔ شدید غصے میں بھی وہ اس پر گولی نا چلا پایا تھا۔۔۔
اسنے بالوں میں ہاتھ چلاتے خود کو کمپوز کرنا چاہا اور ڈیش بورڈ پر پڑی پانی کی بوتل اٹھا کر منہ سے لگاتے اسے غٹا غٹ پینے لگا۔۔۔
ایک ہی سانس میں بوتل خالی کر کے اسنے بوتل گاڑی سے باہر پھینکی لیکن اندر لگی آگ کسی طور بجھنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔
اسنے اس لڑکی کو معاف کر کے زندگی کی نئ شروعات کرنا چاہی تھی مگر وہ لڑکی۔۔۔ اسنے بے بسی سے مکہ سٹیرنگ میں مارا۔۔۔
اب اسے عائزل کو بوا کے پاس سے واپس لانا اپنی زندگی کی سب سے بڑی حماقت لگ رہا تھا۔۔۔ وہ لڑکی تھی ہی نہیں اسکی محبت کے قابل۔۔۔ اسے وہیں پر مرنے کے لئے چھوڑ دینا چاہیے تھا۔۔
*****
ڈرائیور نے ڈرائیوے پر آ کر گاڑی روکی تو ایمن گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔۔۔
عمارت آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔۔۔ اسنے ناقدانہ نگاہوں سے ارد گرد کا جائزہ لیا۔۔۔ گھر کی عمارت ویسی ہی تھی جیسی کسی بھی کمپنی اونر کی ہوتی کشادہ لان کے بعد گھر کا داخلی منقش دروازہ آتا تھا۔۔۔ وہ خاموشی سے ارد گرد کا جائزہ لیتی داخلی دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔
سیاہ چمکتے ماربل لگے دو زینے چڑھ کر اسنے لکڑی کا منقش دروازہ وا کیا۔۔۔ تو سامنے سفید چمکتے ماربل کی راہداری تھی۔۔۔ راہداری سے آگے دائیں جانب لاوئنج تھا جہاں جگہ جگہ قیمتی آئینے دیواروں پر آویزاں تھے۔۔۔
ایک طرف اسے کچن سے ایک فربہہ مائل خوتون نکلتی دکھائی دی تو وہ انکی جانب بڑھی۔۔۔ وہ عورت بھی اسے دیکھ چکی تھی۔۔۔
تم ایمن ہو۔۔۔ ایمن کے سلام کرنے پر وہ عورت اس سے مستفسر ہوئی۔۔۔ جی مجھے فرزانہ آپا سے ملنا ہے۔۔۔
ہمم میں ہی فرزانہ ہوں۔۔۔ یہاں کی کیئر ٹیکر۔۔۔ وہ اسے لئے لاوئنج میں موجود صوفوں کی جانب آئی۔۔۔
جی مجھے یہاں کیا کام کرنا ہوگا۔۔۔
اریب سر کی گرینی ہیں تمہیں انکی کیئر ٹیکر کا کام کرنا ہے ۔۔۔ ویسے تو یہاں ملازموں کی کمی نہیں لیکن۔۔۔ وہ بات کرتے کرتے رکی۔۔۔
لیکن۔۔۔ ایمن متجسس ہوئی۔۔۔
لیکن کچھ نہیں۔۔۔ تم انکے پاس کام کرو گئ تو سمجھ جاو گی۔۔۔ خیر انکا کھانا پینا دوائی دینا انکے کپڑے جوتے غرض انکے سبھی کام تمہارے ذمہ ہیں۔۔۔ وہ اریب سر کو بہت عزیز ہیں اس لئے انکے کسی کام میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ انہیں شکایت کا کوئی موقع نہیں ملنا چاہیے۔۔۔ تمہیں بہت پیار اور نرمی سے انہیں ڈیل کرنا ہوگا۔۔۔ یہاں سے سیدھا جا کر الٹے ہاتِھ انکا کمرا ہے۔۔۔ تم انکے لئے لنچ میں سوپ بنا لوں انکے لنچ کا ٹائم ہونے والا ہے۔۔۔
ایمن خاموشی سے انکی سبھی باتیں سن رہی تھیں جب وہ اسے مکمل بریف کر کے وہاں سے اٹھنے لگی جب کچھ یاد آنے پر واپس بیٹھی۔۔۔
اور ہاں پیچھے سرونٹ کوارٹر ہیں تم وہیں پر رہو گئ۔۔۔
نہیں رہائش کے بارے میں میں سر کو بتا چکی ہوں۔۔۔ میں اپنے بھائی سے بات کرنے سے پہلے کچھ نہیں کہہ سکتی۔۔۔
تم اپنی فیملی کو بھی اپنے ساتھ لا سکتی ہو۔۔۔ لیکن انکی گرینی کو رات کے کسی بھی پل تمہاری ضرورت پر سکتی ہے رہائش تمہیں یہیں پر اختیار کرنی ہوگئ۔۔۔ وہ حتمی انداز میں کہتی اٹھ کھڑی ہوئی جبکہ وہ گم صم سی وہیں بیٹھی رہ گئ۔۔۔
*****
وہ اٹیلین سٹائل کچن میں کاونٹر ٹاپ کے سامنے کھڑی گم صم سی سوپ بنا رہی تھی۔۔ کسی کی کیئر ٹیکر کے طور پر یہ اسکی پہلی جاب تھی۔۔۔ پتہ نہیں وہ اس جاب کے ساتھ انصاف کر بھی پاتی کے نا۔۔۔
سوپ کو باول میں انڈیل کر وہ باول ٹرے میں رکھے کچن سے نکلی۔۔۔
اب اسکا رخ گرینی کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔ گھر کی ایک ایک چیز وہاں رہنے والے کی امارت کا پتہ دے رہی تھی۔۔۔
وہ چمکتی ٹائلز سے مزین فرش پر پاوں رکھتی گرینی کے کمرے تک گئ۔۔۔
دروازہ ناک کر کے آہستگی سے دروازہ دھکیل کر وہ اندر داخل ہوئی۔۔۔
بیڈ کراون سے ٹیک لگائے نیم دراز سی وہ ایک ضعیف مگر کرخت عورت تھیں۔۔۔ آنکھوں پر سنہری گول فریم والی عینک لگائے جو کھسک کر ناک تک آئی ہوئی تھی کسی کتاب کا مطالعہ کر رہی تھیں۔۔۔
ایمن انکی شخصیت سے خاصا مرغوب ہوئی۔۔
کون ہو تم لڑکی اور منہ اٹھائے یہاں کہاں گھسی چلی آ رہی ہو۔۔۔
انکی صحت کی نسبت آواز میں خاصآ روب و دبدبا تھا۔۔۔ ایک پل کو انکی کرخت آواز سن کر ایمن کا دل لرزا۔۔۔
میں آپکی نئ کیئر ٹیکر ہوں اور آپکا لنچ لے کر آئی ہوں۔۔۔
ایمن انکی جانب بڑھی اور ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر زرا پیچھے ہٹی۔۔۔
گرینی کے ماتھے پر بل پڑے ایک نظر انہوں نے پاس پڑے باول پر ڈالی اور پوری قوت سے ہاتھ مارتے باول نیچے پھینکا۔۔۔
اتنا پھیکا بدمزا کھانا تم میرے لئے لنچ لائی ہو ۔۔ آہ ۔۔۔ ایمن چیخ مارتی پیچھے ہٹی۔۔۔ باول سے گرم گرم سوپ کے چند قطرے اچھل کر اسے پاوں پر پڑے تھے ۔۔۔ وہ بلبلا کر رہ گئ۔۔۔
اسنے بھرائی نگاہوں سے اس خطبی عورت کو دیکھا جو بنا ٹیسٹ کئے اسکی اتنی محنت سے بنائے سوپ کو پھیکا اور بدمزا کہہ چکی تھی۔۔۔
کیسی جاہل لڑکی رکھی یے رایب نے میرے لئے۔۔۔ آنے دو زرا اسے۔۔ دماغ درست کرتی ہوں ابھی اسکا۔۔۔ وہ عورت آپے سے باہر ہوتی چیخ رہی تھی جبکہ ایمن متوحش نگاہوں سے گہرے گہرے سانس بھرتی اسے دیکھتی بھاگ کر کمرے سے نکلی۔۔۔
اس عورت کے ساتھ اسکا گزارا مشکل تھا وہ یہاں کام نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
******
سر ایم سوری میں یہاں کام نہیں کر سکتی ۔۔۔ آپ مجھے آفس میں کوئی سا بھی کام دے دیں۔۔۔
اریب ابھی ابھی آفس سے آیا تھا جب فرزانہ سے پوچھ کر وہ اسکے کمرے میں آئی۔۔۔ آئینے کے سامنے کھڑا وہ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کر رہا تھا جب اسکی بھرائی آواز پر اسکی جانب پلٹا۔۔۔
فرزانہ کی زبانی وہ پہلے ہی سارے معاملے سے آگاہ ہو چکا تھا۔۔۔
مس ایمن میرے خیال سے اس بارے میں ہمارے بیچ صبح تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔۔ آپکے پاس یہاں کام کرنے کے سوا اور کوئی آپشن نہیں۔۔۔ اور میں اسی ایک موضوع پر بار بار ڈسکشن نہیں کرنا چاہتا۔۔۔
وہ دو قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا کہ مجھے یہاں یہ کام کرنا ہو گا یا آپکی گرینی اتنی سخت گیر ہونگی۔۔۔ ایمن نے شکوہ کناں نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا جو پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھرا بے تاثر نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
آپکو پہلے پتہ ہوتا تو بھی آپکے پاس اور کوئی چوائس نہیں تھی۔۔۔ ایمن کو وہ شخص حد سے زیادہ سفاک لگا۔۔۔
سر میرا یہاں کام کرنا بہت مشکل ہیں۔۔ آپکی گرہنی مجھے دو پل کے لئے برداشت نہیں کر سکتیں۔۔۔ انہوں نے میرے پاوں تک جلا دیئے۔۔۔ وہ روہانسی ہوئی۔۔۔
دیکھیں مس ایمن وہ شروع شروع میں کسی بھی نئے شخص کے ساتھ ایسا ہی کرتی ہیں۔۔۔ آپکو کچھ دن صبر و تحمل سے گزارنے ہونگے کچھ دن بعد وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔ وہ اتنے مطمیئں انداز میں بول رہا تھا جیسے اسکے لئے یہ مسلہ کوئی مسلہ ہی نا ہو۔۔۔ ایمن کو جی بھر کر اس پر تاو آیا۔۔۔ دل چاہا کے سامنے پڑا فلاس اٹھا کر اسکے سر پر دے مارے۔۔۔ مٹھیاں میچے وہ بے بسی سے بنا اسکی بات سنے وہاں سے پلٹی اور کمرے سے نکلتے اتنی زور سے دروازہ بند کیا کہ ایک پل کو اریب بھی دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
وہ یہ ہی حرکت آفس میں کرتی تو وہ ایک پل نا لگاتا اسے جاب سے نکالنے میں لیکن یہ ہی تو بات تھی کے اس جاب کے لئے اسے ایسی ہی کوئی بے بس و مجبور لڑکی چاہیے تھی جو کسی بھی صورت جاب چھوڑ کر نا جاتی۔۔۔ ورنہ اپنی گرینی کی عادت سے تو وہ بھی آگاہ تھا۔۔۔ کوئی بھی لڑکی انکے پاس دو دن سے زیادہ نا تکتی۔۔۔ پرکشیش سے پرکشیش سیلری پیکج بھی انہیں یہاں نا روک پاتا۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے اب وہ کچھ مطمئن تھا۔۔۔
****

No comments