Scheme novel 21st Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 21st Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں
______
اکیسویں قسط۔۔۔۔
دائم کو گاڑی میں بیٹھے عائزل کا انتظار کرتے کافی وقت گزر گیا تھا جب وہ اسے سامنے سے آتی دکھائی دی۔۔۔۔ سادہ قمیض شلوار پر سیاہ شال سر پر اوڑھے ہاتھ میں چھوٹا سا سفری بیگ تھامے سر جھکائے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی گاڑی کی جانب آ رہی تھی ۔۔۔
آج اسے بوا کے ہاں سے واہس آتے تکلیف ہوئی تھی۔۔۔ وہ وہاں دل لگا چکی تھی۔۔۔ وہاں کی عادی ہو گئ تھی۔۔۔ وہ وہاں سے جانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ بوا کے سنگ دوسراہٹ کا احساس تو تھا۔۔۔ لیکن یہ شخص اسے تنہا کر کے مارنا چاہتا تھا شاید۔۔۔۔
اسکا سکون وہ نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔ ناجانے اب کس نیت سے واپس ساتھ لیجا رہا تھا۔۔۔ آگے پتہ نہیں کونسی آزمائشیں اسکی منتظر تھیں۔۔۔ کیونکہ عائزل کو دائم نامی شخص سے کسی قسم کی بھلائی کی امید نا تھی۔۔۔
گاڑی رکنے کی آواز پر وہ چونک کر خیالوں کی دنیا سے باہر آئی جہاں دائم اپنی سیٹ سے اترے اسکی سائیڈ کا دروازہ کھولے کھڑا تھا۔۔۔۔
اترو۔۔۔۔
اسکی سنجیدہ آواز کے نتیجے میں عائزل ناسمجھی سے ارد گرد دیکھتی نیچے اتری۔۔۔
ناجانے اب وہ شخص اسے کہاں چھوڑنے جا رہا تھا۔۔۔ دل سے ہوک سی نکلی تھی۔۔۔۔ ظالم انسان۔۔۔۔۔
وہ بس خاموشی سے اسکے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔۔۔
کچھ آگے چل کر باہر لگا بورڈ دیکھ کر عائزل نے بے ساختہ سکون کا سانس خارج کیا۔۔۔ جیسے دل و دماغ پر چڑھا کچھ غلط ہونے کا بوجھ رفتہ رفتہ سرکنے لگا تھا۔۔۔ اب اسے سانس لینے میں زرا آسانی ہو رہی تھی۔۔۔ ورنہ سارے راستے تو وہ سانس تک روکے بہت غیر آرام دہ انداز میں بیٹھی رہی تھی کے ناجانے اب وہ شخص بدلے کی آڑ میں اسکا کیا حشر کرنے والا تھا۔۔۔ اور ستم تو یہ تھا کہ وہ شخص سیاہ کرتا یا سفید اسے کوئی پوچھنے والا تک نا تھا۔۔۔ اپنی بے مائیکی ہی تو اسکا دل کرلاتی تھی۔۔۔
وہ اسے کسی کلینک پر لایا تھا۔۔۔ اپنے ہمراہ اسنے عائزل کا چیک آپ کروانے کے بعد اسے نا صرف دوائی لے کر دی بلکہ وہیں اپنے زیر نگرانی دوائی کھلوائی بھی۔۔۔ جبکہ عائزل اسکی اس قدر کرم نوازی پر اسے دیکھتی ہی رہ گئ۔۔۔
پل میں تولہ پل میں ماشہ۔۔۔ کیا تھا یہ شخص۔۔۔ کیا واقعی اس پتھر دل انسان کے دل میں کوئی نرم گوشہ موجود تھا۔۔۔۔ وہ گم صم سی محض سوچ کر رہ گئ۔۔۔
******
آہ۔۔۔۔
آپی۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ کیا زیادہ درد ہو رہا ہے۔۔۔ عفیفہ درد سے دہری ہو رہی تھی جبکہ اسکی بگرتی حالت دیکھ عائزل بھاگ کر اسکے پاس کمرے میں آئی۔۔۔۔
گڑیا داود کو فون کرو ۔۔۔۔ انہیں جلدی بلاو ۔۔۔ وہ پہلو میں ہاتھ رکھے درد سے تڑپ رہی تھی۔۔۔
بہن کی ایسی حالت دیکھ عائزل کی اپنی آنکھیں نم ہونے لگیں۔۔۔ وہ بھاگ کر موبائل کی جانب لپکی۔۔۔
کپکپاتے ہاتھوں سے موبائل تھامتے اسنے داود کا نمبر ملایا۔۔۔
ہیلو داود بھائی۔۔۔ آپ پلیز جلدی گھر آ جائیں۔۔۔ آپی کی طبیعت بہت خراب ہے۔۔۔ رابطہ استوار ہوتے ہی وہ بے چینی سے گویا ہوئی۔ ۔۔
جب سے اسے داود کی زبانی بجو کی حالت کا پتہ چلا تھا وہ مزید مستعد ہو گئ تھی۔۔۔ ہر دم انکی فکر میں ہلکان انکے پاس پاس ہی رہتی۔۔۔ بیٹھے بیٹھے اچانک انکی طبیعت بگڑ جاتی تھی۔۔۔ آج بھی وہ انکا کھانا تیار کرتی انہیں دیکھنے آئی تھی جب انہیں درد سے ٹرپتے پایا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں داود وہاں موجود تھا
بعجلت عفیفہ کو ہسپتال لیجایا گیا۔۔۔ عائزل بھی اسکے ساتھ ہی تھی۔۔۔ مختلف آیات پڑھ کر اس پر دم کرتی وہ سب سے زیادہ بے چین تھی۔۔۔
۔
ہسپتال جاتے ہی اسکے مختلف ٹیسٹ ہوئے۔۔۔ فوری ٹریٹمنٹ دیا گیا۔۔۔ کئ انجیکشن اور ڈرپس لگیں۔۔۔ پھر کہیں جا کر اسکے درد میں کمی واقع ہوئی تو وہ کچھ پرسکون ہو کر سوئی۔۔۔۔۔ اسکے پرسکون ہونے پر عائزل نے زرا سکھ کا سانس لیا۔۔۔
اسکی ڈیلیوری میں ابھی دو ہفتے باقی تھے اور یہ دو ہفتے ہی سب سے بھاری ہو گئے تھے۔۔۔
****
فجر کی پہلی اذان کیساتھ ہی ایمن نے بستر چھوڑ دیا تھا۔۔۔ ماں نہیں تھی تو ذمہ داریاں کئ گنا بڑھ گئ تھی۔۔۔ پہلے باہر کی جنگ لڑتے لڑتے گھر کی کوئی فکر نا تھی۔۔۔ ماں تھی نا گھر سمبھالنے کو۔۔۔ مگر اب یہ ہی تو بات تھی کے ماں نہیں تھی۔۔۔
اسنے ایک گہری سانس خارج کی اور جوتا پاوں میں اڑس کر شال اپنے گرد لپیٹتی کمرے سے نکلی۔۔۔
لیکن کمرے سے نکلتے ہی وہ حماد کے کمرے کی جلتی لائٹ دیکھ کر ٹھٹھکی۔۔۔
قدم خودبخود اسکے کمرے کی جانب بڑھے۔۔۔ اسنے آہستگی سے اسکے کمرے کا دروازہ دھکیلا۔۔۔
وہ بستر پر آلتی پالتی مارے لیٹا تھا۔۔۔ سامنے تکیے پر ایمن کا ہی لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا۔۔ جبکہ وہ خود وہاں سے دیکھ کر کچھ جرنل پر نوٹ کر رہا تھا۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ اسنے زرا کی زرا سر اٹھا کر ایمن کو دیکھا اور پھر سے کام میں مشغول ہو گیا۔۔۔
بکھرے بال اور نیند سے بھری آنکھیں اسکی ساری رات جاگتے رہنے کی چغلی کھا رہی تھیں۔۔۔
کیا کر رہے ہو حماد۔۔۔ سوئے نہیں ابھی تک۔۔۔۔ وہ الجھی سی قدم قدم اسکی جانب بڑھی۔۔۔
کام تھا کچھ ایما۔۔۔ اب فجر پڑھ کر سووں گا۔۔۔ اسنے اپنی آنکھیں مسلیں۔۔۔
اسکے قریب پہنچنے پر ایمن کو اسکے سامنے کھلا جرنل دکھائی دینے لگا۔۔۔
وہ لیپ ٹاپ ہر مختلف ویب سائٹس سرچ کرتا ٹاپ سکیلز سرچ کر رہا تھا۔۔۔
ایمن ایک نظر لیپ ٹاپ کی سکرین کو دیکھتی اسکے پاس ہی بیٹھی۔۔۔
میں صبح نو بجے آفس کے لئے نکل جاوں گی حماد۔۔۔۔ میں یونی ڈراپ کر کے فل ٹائم جاب کر رہی ہوں۔۔۔ اسی شرط پر مجھے قرض ملا تھا۔۔۔
تمہار آج کا کیا پلان ہے۔۔۔
حماد گہری سانس خارج کرتا بیڈ کراون سے ٹیک لگا گیا۔۔۔ ابھی میں کچھ دیر سووں گا۔۔۔ اسکے بعد دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے۔۔۔ اسکا انداز سنجیدہ تھا۔۔۔ بہت گہرا۔۔۔۔
ایمن کو یکدم ہی وہ اپنی عمر سے بہت بڑا لگا۔۔۔
زندگی جبر مسلسل ہے یا جہد مسلسل۔۔۔ یہ آپکے نظرے پر منحصر کرتا ہے۔۔۔ ایمن نے اسکی سنجیدہ آواز ابھرتی سنتی۔۔
اسے جبر مسلسل کے طور پر دیکھ لیا۔۔۔ اب جہد مسلسل کے روپ میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔ سنجیدگی صرف اس کے انداز میں نہیں آئی تھی بلکہ اسکی باتیں بھی سنجیدہ ہوگئ تھیں۔۔۔
کیسی جہد مسلسل۔۔۔ ایمن نے اسے مزید کریدا۔۔۔
پتہ نہیں۔۔۔ اسنے کندھے اچکائے۔۔ کوئی سی بھی۔۔۔ جو آپکو ریٹرن دے۔۔ جو آپکا سٹیٹس بدل دے۔۔۔ وہ ہنوز سنجیدہ تھا۔۔۔ ایمن کھٹکی۔۔۔
سٹیٹس بدلنے کو کوئی غلط راہ مت منتخب کر بیٹھنا حماد۔۔۔ اس راستے پر جانا آسان ہے مگر اس راستے سے واپسی بہت مشکل ہے۔۔۔ وہ نظریں فرش پر گاڑے آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
فکر مت کرو ایما۔۔۔ میرے پاس اب میری مری ہوئی ماں کی تربیت ہی ہے۔۔۔ اس پر حرف نہیں آنے دوں گا۔۔۔
وہ تلخی سے مسکراتا جوتا اڑس کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ ایمن کمرے کے ہلتے دروازے کو دیکھتی رہ گئ۔۔۔
******
عائزل کچن میں عفیفہ کے لئے سوپ بنا رہی تھی۔۔۔ اسکے دم سے عفیفہ کو بہت سہولت ہوگئ تھی۔۔۔ عائزل نے عفیفہ کی طبیعت کے پیش نظر اپنے کالج سے بھی چھٹیاں لے لی تھیں۔۔۔ اسی غرض سے اب وہ ہر وقت اسکے ساتھ ہی ہوتی
عفیفہ عائزل اور داود کے سنگ ایک مرتبہ پھر سے ہسپتال میں موجود تھی۔۔۔ چہرے پر تکلیف کے تاثرات کے ساتھ ساتھ اس مرتبہ ڈر اور خوف کے تاثرات بھی نمایاں تھے۔۔۔
اسے سٹریچر پر ڈالے آپریشن ٹھیٹھر میں لیجایا جا رہا تھا۔۔۔ عائزل اور داود اسکے سٹریچر کے دائیں بائیں چل رہے تھے۔۔۔ اسنے مضبوطی سے عائزل کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔۔۔
ہاتھ چھوٹنے سے پہلے ایمن نے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا اور کئ دعائیں پڑھ کر اس پر پھونک ماری۔۔۔۔
گھڑی کی سوئیاں سست روی سے چل رہی تھیں جبکہ عائزل آپریشن ٹھیٹھر کے باہر جلے پیر کی بلی کی مانند چکر کاٹتی مسلسل کئ دعائیں پڑھ رہی تھی۔۔۔
آپریشن ٹھیٹھر کا دروازہ کھلا تھا اور اس سے نکلنے والی سسٹر نے گلابی کمبل میں لپٹا روئی کا ایک گالہ تھام رکھا تھا۔۔۔
عائزل اور داود دونوں اسکی جانب بڑھے۔۔۔ عائزل نے کپکپاتے ہاتھوں سے اس روئی کے گالے کو تھامتے اسے سینے میں بھینچا۔۔۔
مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے۔۔۔ پیشینٹ ابھی غنودگی میں ہے۔۔۔ کچھ دیر تک انہیں بھی کمرے میں شفٹ کر دیا جائے گا۔۔۔ داود کے پوچھنے پر وہ سسٹر انہیں بتاتی آگے بڑھ گئ۔۔۔
عائزل نے بے ساختہ وہ ننھی سی گڑیا داود کی جانب بڑھائی جسکی آنکھیں اس وقت چمک رہی تھیں۔۔
*****
ایمن آفس کے پہلے دن کے لئے تیار اس وقت ویٹنگ ایریا میں بیٹھی اپنے بلاوے کی منتظر تھی۔۔۔
نیلے گرم سوٹ میں ملبوس جس پر دھاگے کڑھائی کی گئ تھی۔۔۔ بالوں کی ٹیل پونی بنائے سر پر آنچل اچھے سے اوڑھے وہ مستند سی بیٹھی تھی۔۔۔۔
دفعتاً اسکا بلاوا آیا تو اٹھ کر اریب کے آفس کی جانب بڑھی۔۔۔ دروازے پر ناک کر کے وہ اندر بڑھی۔۔۔ اریب اپنی مخصوص کرسی پر ٹیک لگائے ٹانگ پر ٹانگ رکھے کرسی کے دونوں ہتھوں پر کہنیاں رکھے ہاتھوں کی انگلیاں باہم پھنسائے وہ جیسے فرصت سے اسی کا منتظر تھا۔۔۔
ایمن نے اندر آتے اسے سلام کیا تو اسنے سر کے اشارے سے جواب دیتے اسے بیٹھنے کو کہا۔۔۔
ایمن کرسی کھینچ کر بیٹھی۔۔ لیکن وہ خود کو بہت غیر آرام دہ محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔ اریب کے یوں دیکھنے پر اب اسے الجھن سی ہونے لگی تھی۔۔۔
جی سر مجھے فل ٹائم جاب میں کیا کرنا ہوگا۔۔۔ اسنے غیر آرام دہ انداز میں پہلو بدلہ۔۔۔
آپ کیا کیا کر سکتی ہیں مس ایمن۔۔۔ وہ ہنوز ویسے ہی بیٹھا تھا۔۔۔۔
جی سر۔۔۔ وہ ناسمجھی سے گویا ہوئی۔۔۔
مطلب کیا کیا سروسز آفر کر سکتی ہیں۔۔۔
وہ سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔
سر میں ایز آ ڈیٹا آپریٹر یا اکاونٹینٹ کام کر سکتی ہوں۔۔ اسکے علاوہ آپ آفس کا کچھ بھی کام بتائیں اگر مجھے نا بھی آتا ہوا تو بھی میں محض چند دنوں میں سب سیکھ لوں گی سر۔۔۔ ایمن کا انداز پروفیشنل تھا۔۔۔
اور اگر مجھے آپ سے آفس کا کوئی کام نا لینا ہو تو ۔۔۔۔ وہ اسے گہری نگاہوں سے دیکھتا پیپر واٹ گھمانے لگا۔۔۔
آپ کہنا کیا چاہتے ہیں سر۔۔۔ ایمن کے ماتھے پر ہلکے سے بل نمودار ہوئے۔۔۔
میں آپ سے آفس کے حوالے سے نہیں بلکہ اپنے گھر کے حوالے سے سروسز لینا چاہتا ہوں۔۔۔
اسکا پرسکون انداز ایمن کو آگ ہی لگا گیا۔۔۔ اندر ایک آتش فشان ابلا تھا جو پھٹنے کو تیار کھڑا تھا ۔۔ وہ ہونٹ کھولتی کھولتی واپس لب بھینچ گئ۔۔۔
ایک گہری سانس بھر کر خارج کرتے اسنے خود کو کمپوز کیا۔۔۔
اور آپکو اتنی خوش فہمی کیوں ہے سر کہ میں آپکی یہ آفر قبول کروں گی۔۔۔ اسنے پھر سے پہلو بدلہ۔۔۔ بے چینی اسکے اندر سرائیت کرتی جا رہی تھی۔۔۔
کیونکہ آپکے پاس کوئی اور چوائس نہیں ہے۔۔ دوسری جانب ہنوز سکون کا عالم تھا۔۔۔
فضا میں تلخی سی رچنے لگی تھی۔۔۔
اور اگر میں انکار کر دوں تو۔۔۔
تو آپکو آفس سے لیا لون فوری واپس کرنا ہوگا۔۔ ورنہ بصورت دیگر ادارہ آپ پر قانونی کاروائی کا حق رکھتا ہے۔۔۔ اسنے پیپر واٹ کو گھما کر چھوڑتے نشست کی پشت سے ٹیک لگائی ور جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
پیپر واٹ میز کے وسط میں ہنوز گول چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔
ایمن کئ لمحے وہاں بالکل گم صم سی بیٹھی رہ گئ۔۔۔ آج پھر سے اسکی بے بسی نے اسے ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا۔۔۔
کانٹریکٹ کے پیپرز میں ایسی کوئی شق نہیں تھی سر۔۔۔ وہ ڈھیلی پڑتی اپنا ماتھا مسلنے لگی۔۔۔ بے بسی آپ سے آپکا بہت کچھ لیجاتی ہے۔۔۔ یہ بات ایک مرتبہ پھر سے اسے پوری جزئیات سے اپنا آپ یاد دلوا گئ تھی۔۔۔
ان پیپرز میں ایسی بھی کوئی شق نا تھی جس سے یہ بات واضح ہوتی کے آپ نے آفس میں ہی فل ٹائم جاب کرنی ہے۔۔۔۔
آپکے گھر میں مجھے اپنی کیا سروسز دینا ہونگی سر۔۔۔ وہ جیسے اس محاز پر لڑتے لڑتے تھکنے لگی تھی۔۔۔ تبھی ہار مانتے بے بسی سے گویا ہوئی۔۔۔
نیچے ڈرائیور آپکا منتظر ہے آپ اسکے ہمراہ گھر چلی جائیں وہاں خالدہ آپا ہونگی وہ آپکو آپکا کام سمجھا دیں گی۔۔۔
اسکی بات سن کر ایمن دو پل کو خاموش ہوگئ جیسے سمجھ نا آرہی ہو کے آگے کیا کہے۔۔۔
آپکے گھر میں اور کون کون رہتا ہے سر۔۔۔ اندر سر ابھارتے خدشات کا سر کچلتے وہ گویا ہوئی۔۔ کیونکہ اتنا تو وہ باخوبی جانتی تھی کے اسکے یہ سر ابھی تک شادی شدہ نہیں۔۔۔
یہ آپکا مسلہ نہیں مس ایمن۔۔۔
آپکو چوبیس گھنٹے وہیں رہنا ہوگا۔۔۔ آپکی رہائش اور کھانے پینے کا انتظام بھی وہیں سے ہوگا۔۔ تاکہ جب آپکی ضرورت ہو آپکو بلوایا جا سکے ورنہ بصورت دیگر ہمیں پریشانی ہو سکتی ہے۔۔۔
رہائش کے بارے میں میں ابھی کچھ حتمی نہیں کہہ سکتی سر۔۔۔ یہ میں اپنے بھائی سے بات کرنے کے بعد ہی کنفرم بتا سکوں گی۔۔۔ اٹھتے اٹھتے وہ اسے آگاہ کرنا نہیں بھولی تھی۔۔۔
بھاری دل کے ساتھ وہ آفس سے نکلی اور من من بھاری قدم اٹھاتی باہر جانے لگی۔۔۔ ناجانے وہ وہاں جا کر ٹھیک کر بھی رہی تھی یا نہیں۔۔۔ البتہ دل بہت بری طرح ڈھرک رہا تھا۔۔۔
*****

No comments