Header Ads

Scheme novel 20th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 20th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں 

______

بیسویں قسط۔۔۔۔

  ایمن گرتی پڑتی گھر تک پہنچی تھی۔۔۔ گھر میں پہنچتے ہی عورتوں کا ہجوم اور ان ہجوم کے وسط میں پڑا ماں کا ساکت وجود دیکھ کر وہ پتھرا گئ تھی۔۔۔ آج کا دن بھی دیکھنا لکھا تھا قسمت میں۔۔۔۔۔
ہجوم سے عورتیں اٹھ اٹھ کر اسکے گلے لگتیں اسے حوصلہ دے رہی تھیں۔۔۔ اسے اپنے حواس قائم رکھنا محال ہوا۔۔۔۔ اسنے خشک پڑتی ویران نگاہوں سے اس بھیڑ میں حماد کو ڈھونڈنا چاہا۔۔۔
وہ اسے وہیں کونے میں کھڑا نظر آیا تو وہ اس ہجوم کو چیڑتی اس تک پہنچی۔۔۔۔ وہ گم صم سا پتھر بنا کھڑا تھا۔۔
دو منٹ پہلے مجھ سے بات کر رہی تھیں وہ ایما۔۔۔۔ لمحوں میں سانس اکھڑنے لگا۔۔۔ ڈاکٹر نے آ کر چیک آپ شروع ہی کیا کے میری ماں میری آنکھوں کے سامنے ہی دم توڑ گئ ایما۔۔۔ اور میں ۔۔۔ میں کچھ نا کر سکا۔۔۔ وہ اسکے قریب آنے پر یک ٹک ماں کو دیکھا بے بسی سے کہنے لگا۔۔۔۔
شدت ضبط سے سرخ پڑتی نگاہیں اور بکھرا بکھرا سا وہ شخص ایمن کی ہمت مزید ٹوٹنے لگی۔۔۔
اسنے سرعت سے اندرونی کیفیت پر قابو پایا۔۔۔
حماد کچھ پیسوں کا بندوبست کرنا ہوگا۔۔۔ ماں کے آخری سفر کی تیاری کرنی ہے۔۔۔
میں پہلے ہی ہنگامی صورت میں آفس سے لان لے چکی ہوں مزید نہیں ملے گا۔۔۔۔
تم کچھ کر سکتے ہو کیا۔۔۔ بے تاثر لہجے میں وہ جیسے آگے کا سوچ رہی تھی۔۔۔ ماں کے جانے کے غم میں رونے کا وقت نہیں تھا ابھی۔۔۔ ابھی انکے آخری سفر کی تیاری ضروری تھی۔۔۔
لحماد بھی گم صم سا اسے دیکھنے لگا۔۔۔
ایڈوانس پکڑا تھا میں نے باس سے جو اب تک ماں کے علاج پر لگ گیا۔۔۔ مزید پوچھ کر دیکھتا ہوں شاید کچھ مل جائے۔۔۔ اسنے پلکیں جھپکتے آنسووں کو چھلکنے سے روکا۔۔۔ یہ وقت نہیں تھا رونے کا۔۔۔ 
دیکھو تم کچھ بنتا ہے کیا۔۔۔ میں محلے کی عورتوں سے پوچھ کر دیکھتی ہوں۔۔۔
اس محلے سے انکی بہت سے یادیں وابستہ تھیں۔۔۔ وہاں کے سبھی لوگ انہی کی طرح تھے مگر بہت ملنسار اور ضرورت میں کام آنے والے۔۔۔ وہ بہت سی جگہوں پر انکے کام آئے تھے۔۔۔
تبھی داخلی دروازے سے اسے نتاشہ اندر داخل ہوتی دکھائی دی۔۔۔ پاس آتے ہی وہ اس سے لپٹ گئ۔۔۔
مجھے ابھی پتہ چلا آنٹی کا ایمن مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔۔۔ اس سے لپٹی وہ گلو گیر ہوئی۔۔۔
تمہارے پاس کچھ رقم ہو گئ نتاشہ۔۔۔ وہ نتاشہ کے پیچھے ہٹنے ہر گویا ہوئی تو اسنے حیرت سے ایمن کو دیکھا۔۔۔
امی کے آخری سفر کی تیاری کرنی ہے۔۔۔ ابھی گھر کے حالات کچھ ٹھیک نہیں۔۔۔ وہ بے تاثر لہجے میں بول رہی تھی۔۔۔  وقت اور ضرورت نے کیا سے کیا بنا ڈالا تھا۔۔۔
ہاں ہے ایمن ۔۔۔ شیراز بھی آیا ہے۔۔  باہر ہی ہے وہ۔۔۔ میں کہتی ہوں کے وہ انتظامات دیکھے۔۔۔
اور پھر واقعی ان دونوں نے دوستی کا حق ادا کیا تھا۔۔۔ لمحوں میں سبھی انتظامات ہونے لگے تھے۔۔۔ ماں کے کفن دفن کے انتظامات کیساتھ ساتھ کھانا بھی آ گیا تھا۔۔۔
سبھی انتظامات ہو گئے تھے اور تب سے پہلی مرتبہ ماں کے کفن میں لپٹے پرنور چہرے کو دیکھتے ایک آنسو ایمن کی آنکھ سے ٹوٹا تھا۔۔۔۔ فی امان اللہ ماں۔۔۔ خدا آپکا حامی و ناصر۔۔۔ اسنے جھک کر ماں کے بے جان چہرے کا بوسہ لیا۔۔۔
اسنے بہت ہمت و حوصلے سے ماں کو انکے آخری سفر کے لئے روانہ کیا تھا۔۔۔ بالکل ویسے جیسے وہ انہیں سکول و کالج جاتے ہوئے گھر سے رخصت کرتی تھیں۔۔۔
ماں کے جانے کے بعد رفتہ رفتہ سارا گھر خالی ہونے لگا تھا۔۔۔ مغرب کی اذانیں ہونے لگیں تھیں اور وہ صحن کے بیچ و بیچ تنہا نیم تاریکی میں کھڑی بے خیالی میں داخلی دروازہ دیکھ رہی تھی۔۔۔ لائٹ تک آن کرنے کا خیال نا رہا تھا۔۔۔ 
انکے گھر کی رونق چلی گئ تھی۔۔۔ گھر ویران ہو گیا تھا۔۔ اسے گھر کاٹنے کو ڈور رہا تھا۔۔  حماد پتہ نہیں کہاں تھا وہ وہیں ایک کونے میں فرش پر بیٹھتی سر گھٹنوں میں چھپا گئ۔۔۔ اب وہاں کوئی نا تھا۔۔۔ نا کھانے کا پوچھنے والا۔۔۔ نا ٹھنڈ میں بیٹھنے پر خفا ہو کر ڈانٹنے والا۔۔۔ اور ناہی پرواہ کرنے والا۔۔۔۔
********

آن ایک مرتبہ پھر سے تفتیشی سیل میں تھا۔۔۔ فرق صرف یہ تھا کے آج سربراہی کرسی پر انسپیکٹر ضامن کی جگہ کوئی اور انسپیکٹر تھا اور اسکے ساتھ ایک خوبرو سا نوجوان بھی۔۔۔
آن نے جانچتی نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھا اور سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
تو تم ہو وہ سکیمر جس نے کرنل کا اکاونٹ ہیک کیا۔۔۔
وہ انسپیکٹر بھدے پن سے مسکراتا گویا ہوا۔۔۔۔۔
نہیں یہ بات ثابت نہیں ہوئی۔۔۔ آن اعتماد سے گویا ہوا۔۔۔
چلوووو۔۔۔ ہم نے ثابت کر کے کرنا بھی کیا ہے۔۔۔۔
یہ بتاو کے یہ سب سیکھا کہاں سے ہے اور مہینے کا کتنا کما لیتے ہو۔۔۔ وہ انسپیکٹر آگے کو ہوتا رازدرانہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
آن کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔
باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے میں نے اسکی۔۔۔ کئ کئ کورس کئے ہیں۔۔۔ اور کما اتنا لیتا ہوں کے الحمدللہ گزارا اچھا ہو جاتا ہے۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے اس انداز میں گویا ہوا کے اگر انکی باتیں ریکارڈ بھی ہو رہی ہوں تو کوئی اس پر فرد جرم ثابت نا کر پائے۔۔۔
وہ انسپیکٹر قہقہ لگاتا پیچھے کو ہو کر بیٹھا۔۔۔
چلو ٹھیک ہے۔۔ بھانجا ہے یہ اپنا۔۔۔ انسپیکٹر نے اپنے ساتھ بیٹھے نوجوان کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ آئی ٹی کا سٹودینٹ ہے۔۔۔ تم اگر اسے یہ کام سیکھا دو تو تمہیں بے گناہ ثابت کر کے باہر نکالا جاسکتا ہے۔۔۔
اس انسپیکٹر کی بات سن کر آن پورے دل سے مسکرا دیا۔۔۔
جناب میں پہلے ہی بے گناہ ہو۔۔۔ اور ایک شریف شہری ہوں لحاظہ آپ مجھ سے کوئی بھی ڈیل فائنل کر لیں۔۔ مجھے رقم بتا دیں تاکے مجھے اس بے بنیاد الزام سے رہائی مل سکے۔۔۔
وہ بھی اس انسپیکٹر کی نفسیات سمجھتا اب ڈیلنگ پر اتر آیا تھا۔۔۔
ارے نہیں۔۔۔ ہمیں تم سے مال نے مستقل مال بنانے کا فارمولا سیکھنا ہے۔۔۔ اس ڈیل کے سوا کوئی ڈیل نہیں۔۔۔ اسے یہ کام سیکھا دو۔۔۔ انسپیکٹر اپنی مونچھوں کو تاو دیتا مسکرایا۔۔۔
ٹھیک ہے پھر یہ لیپ ٹاپ منگوا لیں اسنے وہیں پاس پڑے رائیٹنگ پیڈ پر لیپ ٹاپ کا نام لکھتے انکی جانب بڑھایا۔۔۔
ہیکنگ کا کام محض اسی لیپ ٹاپ پر ہو سکتا ہے۔۔۔ آپ یہ لیپ ٹاپ منگوا لیں پھر میں سیکھا دوں گا۔۔۔ اسنے بے فکری سے کندھے اچکائے۔۔۔ جبکہ انسپیکٹر نے نوٹ پیڈ سے وہ نوٹ پھاڑتے اس لڑکے کی جانب بڑھایا۔۔۔
********
وہ صحن کے بیچ و بیچ ایک ٹانگ کھڑی کئے ایک ٹانگ فولڈ کئے بیٹھی تھی۔۔۔ اسکے ساتھ ہی نتاشہ اسی کے انداز میں بیٹھی تھی۔۔۔ وہ صبح ہی صبح اسکے پاس آگئ تھی۔۔۔ سامنے سفید چادر پر گھٹلیاں پڑی تھیں اور قطار میں بیٹھی بہت سی عورتیں گھٹلیاں پڑھ رہی تھیں۔۔۔ یا باتیں کرتیں گٹلیاں پھینک رہی تھیں۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے وسط میں پڑی گھٹلیوں کا پہاڑ چھوٹا ہونے لگا اور عورتوں کے سامنے ویسے ہی چھوٹے چھوٹے گھٹلیوں کے پہاڑ بننے لگے۔۔۔۔
کھانا کھلنے کی آواز آئی تو سبھی گھٹلیاں سمیٹ کر وہیں پر کھانا لگایا جانے لگا۔۔۔ پھر ایمن نے وہیں بیٹھے بیٹھے انہیں سفید چادروں پر بہت سے شوربے کے دھبے اور روٹیوں کے ٹکرے گرتے دیکھے۔۔۔ عورتیں کھانا کھا کر اٹھنے لگیں تو وہیں انہیں چادروں پر اسنے کئ بچوں کو بھاگتے دیکھا۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے صحن پھر سے ویران ہونے لگا۔۔۔
آج کا سارا انتظام بھی شیراز نے حماد کیساتھ مل کر سمبھالا تھا۔۔۔
میں تم دونوں کی بہت شکر گزار ہوں نتاشہ۔۔۔ تم لوگ میرے اس مشکل وقت میں میرے کام آئے۔۔۔ میں جلد تم لوگوں کا قرض لوٹا دوں گی۔۔۔
ایسی باتیں مت کرو ایمن۔۔۔ تم دوست ہو ہماری۔۔۔  تم یوں ایسی باتیں کر کے ہمیں لمحے میں پرایا مت کرو۔۔۔۔ اور اب سب باتیں چھوڑو پہلے کھانا کھاو تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔ وہ اسے وہاں سے لئے اندر آ گئ ۔۔۔
جتنی جلدی ہو سکے ایمن  تم یونیورسٹی جوائن کر لو۔۔۔ وہاں آو گی تو تمہارا دل بہلے گا۔۔۔ ورنہ یہاں تو تم اس فیز سے نہیں نکل پاو گئ۔۔۔
اسکی بات سن کر ایمن تلخی سے مسکرائی۔۔۔ فکر مت کرو۔۔۔ ہم جیسے مڈل کلاس لوگوں کو ذہن بٹانے کو ایکٹیویٹی دھونڈنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔ ہمارے اوپر ذمہ داریوں کا ہی اتنا انبار ہوتا ہے کے کسی چیز کا ہوش ہی نہیں رہتا۔۔۔۔
مطلب۔۔۔ نتاشہ نا سمجھی سے گویا ہوئی۔۔۔
میں یونیورسٹی ڈراپ کر رہی ہوں۔۔۔ فل ٹائم جاب شروع کر رہی ہوں۔۔۔ بہت قرض ہے سر پر جسے اتارنا ہے۔۔۔ وہ آنکھیں مسلتی گہرا سانس خارج کر کے سر دیوار کی پشت سے ٹکا گئ۔۔۔ جبکہ نتاشہ اسے دیکھتی ہی رہ گئ
******
اگلے دن وہ پھر سے انہی دو لوگوں کے ساتھ اسی تفتیشی سیل میں موجود تھا۔۔۔
یہ جو تم نے لیپ ٹاپ لکھ کر دیا ہے یہ لاہور تو کیا کراچی الغرض پورے پاکستان میں کہیں نہیں مل رہا۔۔۔ کیا تم ہمیں چکر دینے کے چکروں میں ہو۔۔۔ انسپیکٹر نے غصے سے وہ نوٹ آن کی جانب پھینکا۔۔۔
جناب یہ پاکستان سے نہیں ملے گا۔۔۔ یہ لیپ ٹاپ دبئ سے ملتا ہے۔۔۔ پاکستان سے یہ لیپ ٹاپ ملنے لگے تو پھر تو ہر دوسرا شخص ہی سکیمر ہو۔۔۔
انسپیکٹر نے اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھا۔۔۔
کتنے کا آتا ہے یہ لیپ ٹاپ دبئ سے۔۔
پانچ لاکھ کا۔۔۔ 
ایک پل کو پانچ لاکھ سن کر وہ انسپیکٹر بھی چپ ہو گیا۔۔۔ لیکن خیر یہ تو ایک انویسٹمنٹ تھی۔۔۔ جسکے بعد پوری عمر کی روزی تھی وہ انسپیکٹر خباست سے مسکرایا۔۔۔
ہنگامی طور پر دبئ سے لیپ ٹاپ منگوایا گیا۔۔۔ لیپ ٹاپ آتے آتے بھی دو دن لگے۔۔۔ اور وہ دو دن آن کو با امر مجبوری  وہیں کاٹنے پڑے۔۔
لیپ ٹاپ آتے ہی اب تفتیشی سیل میں وہ اس نوجوان کو ہیکنگ کی کلاسز دینے لگا تھا۔۔۔ وہ نوجوان بہت شارپ مائنڈڈ تھا اسی لئے وہ بہت جلد سب سیکھتا جا رہا تھا۔۔۔
******
 کافی دیر سے ڈور بیل بج رہی تھی لیکن مجال ہے جو کوئی دروازہ کھول کر دے دے۔۔۔
کنول کمرے میں حسن کو سلا رہی تھی۔۔۔ وہ خود بخار میں پھنک رہی تھی۔۔ آن کی گرفتاری نے اس پر گہرا اثر ڈالا تھا۔۔ وہ تو اپنا آپ تک بھول بیٹھی تھی۔۔۔ بس ہر دم اپنے اللہ کے حضور بیٹھی معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کے صحیح سلامت گھر آنے کی دعائیں کرتی رہتی۔۔۔۔
اس دن سے آن کی بہن ہاسٹل سے آکر اسکے ساتھ ہی رہ رہی تھی۔۔۔ حسن بھی زیادہ تر اسی کے ساتھ پایا جاتا۔۔۔
اب بھی وہ دوڑ بیل کی آواز سن کر جانتے بوجھتے اسے نظر انداز کئے بستر میں دبکی رہی۔۔۔ جب دل کو جسکی آس تھی اسکے گھر لوٹنے کی ہی کوئی سبیل نا تھی تو پھر وہ کیوں بھلا ہر بیل پر بھاگ بھاگ کر جاتی۔۔۔
نقاہت تو پہلے ہی اسے اٹھنے کی اجازت نا دیتی تھی۔۔۔
اسکی نند نے غالباً دروازہ وا کر دیا تھا اسے باہر سے باتوں کی آوازیں سنائی دیں۔۔۔ جانی پہچانی آوازیں سن کر اسکے کان کھڑے ہوئے۔۔۔ دل یک لخت ہی ڈھرک اٹھا۔۔۔۔
بھائی۔۔۔ اور تھینک گاڈ آپ آگئے۔۔۔ آپکو پتہ ہے ہم کتنے پریشان تھے۔۔۔ مجھے آج نہیں تو کل واپس آ ہی جانا تھا پرنسس۔۔۔
کنول کی ڈھرکنیں معمول سے تیز ہوئیں۔۔۔ نقاہت زدہ جسم میں خوشی کی ایک لہر ڈور گئ۔۔۔ وہ بیماری کو پس پشت ڈالے جھٹکے سے اٹھی اور بنا جوتے بنا آنچل بھاگتی ہوئی کمرے سے نکلی۔۔۔
باہر مین دروازے کے پاس وہ بہن کو بازو کے حلقے میں لئے کھڑا مسکرا کر کچھ کہہ رہا تھا۔۔۔
کنول کی آنکھیں بے ساختہ برسیں۔۔۔ کتنا ترسی تھی وہ ان دنوں اس چہرے کو دیکھتے کے لئے۔۔۔
آن ۔۔۔ وہ بھاگتے ہوئے بنا اسکی پرنسس کا لحاظ کئے جا کر اسے لپٹی۔۔۔
وہ اس معاملے میں بہت محتاط رہتی تھی لیکن آج اچانک ملنے والے خوشی ہی اتنی تھی کے وہ سارے لحاظ بالائے طاق رکھ چکی تھی۔۔۔۔
وہ کپکپاتے ہاتھوں میں آن کا خوبرو چہرا تھامے برستی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
جبکہ آن۔۔۔ وہ حیرت سے اس دیوانی کا یہ روپ دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسکی پرنسس ان دونوں کو یوں ایک دوسرے میں مگن دیکھ مسکراتی ہوئی وہاں سے چلی گئ۔۔۔
کہاں چلے گئے تھے آن۔۔۔ آپکو پتہ ہے مجھے لگ رہا تھا آپکے بنا میری ڈھرکنیں تھم جائیں گی۔۔۔ ایک ایک پل ایک ایک لمحہ مجھ پر بھاری تھا جسکا وزن میرا دل کچل رہا تھا۔۔۔
وہ اسکا چہرا ہنوز تھامے اپنے گزرے شب و روز کی بے چینوں کی داستاں سنا رہی تھی۔۔۔
پاگل لڑکی کیا حالت بنا لی ہے اپنی۔۔۔ بول کر بھی گیا تھا کہ میں جلد واپس آ جاوں گا۔۔۔ اپنا بالکل خیال نہیں رکھا تم نے دیکھو کیسے کملا گئ ہو۔۔۔ وہ محنت سے اسکے آنسو صاف کرتا اسے بازو کے حلقے میں لئے صوفے پر آ کر بیٹھا۔۔۔
میرا شیر میرا شہزادہ کہاں ہے۔۔۔ وہ بیٹے کی غیر موجودگی محسوس کر کے اسے یہاں وہاں تلاشتا گویا ہوا۔۔۔۔
سو رہا ہے وہ شیطان۔۔۔ آپکی غیر موجودگی میں بہت چڑچڑا ہو گیا ہے۔۔۔ اٹیج بھی تو بہت ہے آپ سے۔۔۔ مجھ سے زیادہ آپکے ساتھ وقت گزارتا ہے۔۔۔ ایسے میں اسے آپ نہیں ملے تو بہت ضدی اور چڑچڑا ہو گیا ہے۔۔۔
وہ اسکی بازو مضبوطی سے تھامے اسکے کندھے پر سر رکھے بیٹھی تھی۔۔ جیسے اگر وہ آن سے الگ ہوئی تو وہ واپس چلا جائے گا۔۔۔
یہ لیں بھائی چائے پیئں اور بھابھی کو بھی پلائیں ۔۔۔ انہوں نے صبح سے ناشتہ بھی نہیں کیا۔۔۔ دفعتاً اسکی بہن نے پاس آتے چائے کی ٹرے میز کے وسط میں رکھی ساتھ کچھ کوکیز تھے۔۔۔ کچھ کھلا دیں انہیں پھر انہوں نے دوائی بھی لینی ہے۔۔۔ اگر دوائی نہیں لیں گی تو طبیعت ٹھیک کیسے ہوگئ۔۔۔
وہ بھی اپنا کپ اٹھاتی پاس ہی سنگل صوفے پر براجمان ہوئی۔۔۔۔
آن نے تاسف سے اسے دیکھا۔۔۔ اور ٹرے سے کپ اٹھا کر اسکے سامنے رکھا۔۔۔
کھانا کیوں نہیں کھایا صبح سے کنول یہ کیسا بچپنا ہے بھلا۔۔۔ اسنے کنول کو ابھی تک ہنوز ویسے ہی بیٹھا دیکھ کوکیز اٹھا کر چائے میں دبوتے اسے کھلایا۔۔۔
آپ گھر نہیں تھے۔۔  لاک آپ میں تھے۔۔۔ پتہ نہیں کس حال میں تھے ۔۔۔ کیا ایسے میں بھلا کھانا میرے حلق سے اترنا تھا۔۔۔ کنول کی آنکھیں پھر سے بھر آئیں۔۔۔ آن نے ایک گہرا سانس بھرا۔۔۔
تمہاری دعائیں تھیں نا میرے ساتھ۔۔۔۔ آن کے کہنے پر اسکی آنکھیں پھر سے بھر آئیں۔۔۔ 
اچھا اب چائے پینے کے بعد تم دونوں اپنی پیکنگ کر لینا ہم یہاں سے شفٹ ہو رہے ہیں۔۔۔ وہ چائے کی چسکی لیتا دونوں سے گویا ہوا۔۔۔۔
وہ کیوں بھائی۔۔۔ اسکی بہن نے چونک کر چائے کا کپ میز پر رکھتے اچھنبے سے پوچھا۔۔۔۔
پرنسس ضروری ہے۔۔۔ میں اپنی فیملی کے لئے کوئی رسک نہیں لے سکتا۔۔۔ ہم ایک نئے شہر میں اپنی پہچان بنائیں گے۔۔۔ اسنے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔۔۔
کنول کے دل سے ہوک سی اٹھی۔۔۔ اس ٹھوکر کے بعد بھی وہ سمبھلا نہیں تھا۔۔۔ اسنے کام چھوڑنے کا نہیں سوچا تھا بلکہ وہ جگہ بدل رہا تھا ۔۔۔ لیکن فلحال وہ کوئی بھی ایسی بات کر کے ماحول خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ تو پہلے ہی اتنے دنوں بعد گھر لوٹا تھا۔۔۔ 
بھائی میری یونیورسٹی کا کیا ہوگا۔۔۔ 
پرنسس مائیگریشن ہو جائے گی نا۔۔۔
آپ ایسا کریں بھائی کہ بھابھی اور حسن کو لے جائیں۔۔۔ میں تو پہلے ہی ہاسٹل میں رہ رہی ہوں۔۔۔ میں ویکیشنز میں وہیں آ جایا کروں گی۔۔ البتہ میرا نہیں خیال کے مائیگریشن کی ضرورت ہے۔۔  ویسے بھی میری ڈگری مکمل ہونے والی ہی ہے۔۔۔۔
پھر آ جاوں گی میں۔۔۔ اسنے خالی کپ ٹرے میں واپس رکھتے جیسے مسلے کا حل نکالا۔۔۔
چلو ٹھیک ہے پرنسس۔۔۔ پھر تم کنول کی مدد کردو اسکی پیکنگ میں۔۔۔ اسکی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں۔۔۔ اور میرے پیچھے سے تم نے میری مسز کا بالکل خیال نہیں رکھا۔۔۔
وہ کنول کے پزمردہ چہرے کو دیکھتا اسے حصار میں لے گیا۔۔۔
افف بھائی اب آپ آ گئے نا تو خود ہی سمبھالیں اپنی لیلہ کو۔۔۔ وہ ٹرے اٹھائے کچن میں چلی گئ۔۔۔ تو وہ واپس کنول کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
دوائی لی تم نے۔۔۔ نہیں اب لیتی ہوں۔۔۔  وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔
چلو اٹھو پھر شاباش پہلے دوائی لو اور اگر بہتر محسوس کرو تو پیکنگ کر لینا نہیں تو آرام کرو پیکنگ میں دیکھ لاوں گا۔۔۔۔
اسنے محبت سے کنول کا گال تھپتھپایا تو وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتی سر ہاں میں ہلا کر وہاں سے اٹھ گئ۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4