Header Ads

Scheme novel 19th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 19th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں 

______

انیسویں قسط۔۔۔

یہاں یہ اہمیت نہیں رکھتا کے آپکے کیس کی کسٹڈی کتنے ایماندار آفیسر کے پاس ہے۔۔۔
یہاں یہ اہمیت رکھتا ہے کہ آپکی اپروچ کتنی اوپر تک ہے۔۔۔۔ وہ پراسرار سا مسکرایا۔۔۔
تم اچھی لڑکی ہو اس لئے تمہیں ایک مفت کی نصیحت کر رہا ہوں وہ اسے گہری نگاہوں سے دیکھتا سنجیدہ ہوا۔۔۔
دوبارہ یہاں مت آنا۔۔۔ تمہاری سنوائی نہیں ہوگئ۔۔۔۔ تمہارے کیس کا کچھ نہیں بنے گا۔۔۔ رقم تو خاک ملے گی عزت کی سفید بے داغ چادر پر بھی دھبے لگنے لگیں گے۔۔۔۔
ایمن نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے تاسف سے دیکھا۔۔۔ وہ اتنا سفاک بھی ہو سکتا تھا اسنے تصور نا کیا تھا۔۔۔
کل صبح کا سورج طلوع ہونے سے پہلے اس ایماندار آفیسر اسنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔۔۔ کا تبادلہ ہو چکا ہوگا۔۔۔
اور اس ایک شخص کے بعد تھانے کا ماحول کیسا ہے یہ تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں مجھے۔۔۔
نئے آنے والے آفیسر کی موجودگی میں ۔۔۔ میں یوں چٹکیوں میں یہاں سے رہا ہو جاوں گا۔۔۔ وہ چٹکی بجاتے زرا توقف کو رکا۔۔۔۔ اس لئے۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ سنجیدگی سے اپنی بات مکمل کرتا ایمن اپنا غصہ ضبط کرتی واپس پلٹی اور بنا پلٹے وہاں سے نکلتی چلی گئ جبکہ ریان اسے دیکھتا محض کندھے اچکا کر رہ گیا۔۔۔ اسکا کام تھا صرف وارن کرنا ۔۔۔ وہ سمجھتی یا نا سمجھتی یہ قطعاً اسکا ذاتی معاملہ تھا۔۔۔
انسپیکٹر ضامن وہاں پہنچ چکا تھا اس لئے اسنے فورا ہی ایمن کی سبھی کاغذی کاروائی مکمل کروائی۔۔۔ بس اب اسے فون کے لاک کھلنے کا انتظار تھا۔۔۔ جیسے ہی موبائل اسکے ہاتھ میں آتا وہ ایمن کی طرف سے پرچہ کاٹ لیتا۔۔۔
ایمن کی کاغذی کاروئی مکمل ہوتے ہی اسنے ایمن کو وہاں سے جانے کی اجازت دے دی تھی۔۔۔ اب اسے کل صبح وہاں اپنی رقم کلیم کرنے کے لئے آنا تھا۔۔۔
انسپیکٹر ضامن کے باعث وہ وہاں سے جلد فارغ ہوتی  اسکا شکریہ ادا کر کے نکل آئی۔۔۔
وہاں سے سیدھا ہسپتال ماں کے پاس جانے کے لئے اسنے ٹیکسی کروائی جبکہ دماغ وہیں کہیں حوالات میں ریان کے پاس ہی اٹک گیا تھا۔۔۔
جو ابھی چند لمحوں میں اس پر انکشاف ہوا تھا دماغ اسے ماننے سے انکاری تھا۔۔۔
وہاں تو جیسے بھی کر کے خود کو کمپوز کئے رہی لیکن دل حقیقتاً اپنے بے وقوف بنائے جانے پر کرلا رہا تھا
افف۔۔۔ تجھے ابھی تک انسان پرکھنے کی سمجھ نہیں آئی ایمن۔۔۔ یہ دنیا تمہاری سوچ سے بہت آگے ہے۔۔۔ بہت آگے۔۔۔ اسنے گہرا سانس خارج کرتے خود کو کوسا۔۔۔۔
دھواں دار محبت نا سہی لیکن وہ اس شخص کو سوچنے لگی تھی۔۔۔ اسکی میٹھی کانوں میں رس گھولتی باتوں میں کھونے لگی تھی۔۔۔ تِبھی تو اب تکلیف سے دوچار ہو رہی تھی۔۔۔
وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتے نا تھکتی  جسنے اسے پہلے مرحلے میں ہی گرنے سے بچا لیا تھا۔۔ورنہ پتہ نہیں وہ شخص کس نیت سے اسکی زندگی میں داخل ہوتا وہ انتہائی سوچ آتے ہی جھرجھری لے کر رہ گئ۔۔۔
*****

بجو کیا کہا ہے آپکو ڈاکٹر نے کیوں آپکی طبیعت دن با دن گرتی جا رہی ہے۔۔ آپ مجھے کچھ بتاتی کیوں نہیں۔۔۔ اب کیا میں آپ کے لئے قابل اعتبار بھی نہیں رہی۔۔۔
عفیفہ مضحمل سی بیڈ کراوں سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔ بالوں کی ڈھیلی سی پونی بنا رکھی تھی دوپٹہ سینے پر پھیلا  تھا جبکہ ٹانگوں پر لحاف تھا وہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے عائزل کے شکوے سن رہی تھی جو ہلکے گلابی رنگ کے سادہ سے سوٹ میں ملبوس دوپٹہ سر پر اوڑھے خفا خفا سی سوپ کا باول لئے اسکے پاس ہی آ کر بیٹھی تھی۔۔۔
گڑیا کچھ خاص نہیں کہا۔۔۔ ایسی حالت میں طبیعت خراب ہو جانا نارمل ہے۔۔۔ بس ڈاکٹر نے بیڈ ریسٹ بتایا ہے۔۔۔ عفیفہ مسکرا کر اسے دیکھتی اسکے ہاتھ سے باول پکڑ کر اس میں چمچ چلانے لگی۔۔۔
آپکو میں ابھی تک بچی لگتی ہوں گی بجو۔۔ لیکن مجھے سب سمجھ آتا ہے۔۔۔ اگر ایسی بات ہے تو آپ اپنی رپورٹس کیوں نہیں دکھاتیں مجھے۔۔۔ کیوں چھپا کر رکھیں ہیں مجھ سے آپ نے اپنی رپورٹس۔۔۔ 
اتنے دنوں سے اسکی گرتی صحت اور اسکے بستر سے لگ کر رہ جانے کے باعث بلآخر وہ آج جرح پر اتر آئی تھی۔۔۔ آخر وہ اسے کچھ بتاتی بھی تو نا تھیں۔۔۔
گڑیا خوامخواہ میں وہم پال رہی ہو تم۔۔ رپورٹس اس لئے تمہیں نہیں دکھائیں کیونکہ وہ تو داود کے پاس ہیں آج وہ آئیں گے تو ان سے لے کر دکھا دوں گی ۔۔۔ تم خوامخواہ فکر کر رہی ہو۔۔۔
اب گھر کی ساری ذمہ داری بھی تو تم پر آگی ہے نا گڑیا۔۔۔ جانتی ہوں تمہارے لئے مشکل ہو رہا ہے۔۔۔ عفیفہ لب چباتی گلوگیر ہوئی جب عائزل تیزی سے اسکی بات کاٹ گئ۔۔۔
کوئی مشکل نہیں ہو رہا مجھے۔۔۔ اور پھر ایسی کونسی ذمہ داری آگئ مجھ پر بھلا۔۔۔ صبح سے شام میڈ ہوتی ہے گھر کے ہر کام کرنے کے لئے۔۔۔
داود بھیا اپنا ناشتہ تک خود بناتے ہیں۔۔۔ اتنی دفعہ کہا بھی بھیا میں بنا دیتی ہوں مگر نہیں ہمیشہ ہس کر ٹال جاتے ہیں۔۔۔ درحقیقت انہوں نے مجھے اس گھر کا فرد سمجھا ہی نہیں جو میرے ہاتھ کا ناشتہ ہی کر لیں۔۔۔
رہ گئ آپ۔۔۔ تو آپکے لئے کھانا ہی بناتی ہوں۔۔۔ یا آپکے کوئی کام کر دیئے۔۔۔
بچپن سے اب تک آپ نے ہی میرے سبھی کام کئے ہیں۔۔ اب میں آپکے کردوں گی تو ہاتھ ٹوٹ نہیں جائیں گے میرے۔۔۔
ویسے بھی اب آپ بھی مجھے اپنا نہیں سمجھتیں نا۔۔۔ اسی لئے ایسا بول رہی ہیں۔۔۔
داود بھائی کے ساتھ رہ رہ کر نا آپ بھی میرے ساتھ غیریت برتنے لگی ہیں۔۔۔ عائزل کے پاس شکووں کی پوری لسٹ تھی۔۔۔ جو سنانے بیٹھی تو آواز تک بھرا گئ۔۔۔ 
عفیفہ نے سوپ کا باول سائیڈ ٹیبل پر رکھتے اسے خود میں بھینچا۔۔۔
میری گڑیا اپنی بجو سے اتنی بدگمان ہو گئ۔۔۔ میں بھلا اپنی گڑیا سے غیریت برت سکتی ہوں۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ عائزل کے بال سہلانے لگی تھی۔۔۔
جبکہ بے ساختہ عائزل کی آنکھیں گیلی ہونے لگیں۔۔۔
اور داود۔۔۔ وہ بھلا کیسے نہیں تمہیں اس گھر کا فرد مانیں گے گڑیا۔۔۔ وہ صرف تمہارا احساس کرتے اپنا کام خود کرتے ہیں۔۔۔ صبح صبح تمہیں کالج بھی جانا ہوتا ہے اور کالج جانے سے پہلے اپنی تیاری کے ساتھ ساتھ تم میرے بھی سو کام کرتی ہو۔۔۔ ایسے میں وہ تم پر اپنا بھی بوجھ ڈالنا نہیں چاہتے اس لئے اپنا کام خود کرنے لگتے ہیں۔۔۔
یوں بدگمان نہیں ہوتے گڑیا۔۔۔۔
اوکے ایم سوری۔۔۔ میں نے آپکو بھی پریشان کر دیا ۔۔۔ آپ اب دوائی کھائیں اور سو جائیں۔۔۔۔ وہ سوں سوں کرتی عفیفہ سے الگ ہو کر مسکرائی اور سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر اسے دوائی کھلانے لگی۔۔۔
لیکن وہ دل ہی دل ٹھان چکی تھی۔۔۔ اب اسے جو بات کرنی تھی جو بھی پوچھنا تھا وہ بجو سے نہیں بلکہ داود بھیا سے ہی پوچھنا تھا۔۔۔۔
*****

سر جس موبائل کا آپ نے لاک کھلوانے کے لئے دیا تھا وہ آ گیا ہے۔۔۔
ریان سلاخوں کے ساتھ پشت ٹکائے ٹانگ موڑ کر پاوں سلاخ پر رکھے بازو سینے پر باندھے کھڑا  تھا۔۔۔ آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر پراسرار سی مسکراہٹ تھی۔۔۔
وہ دور سے آتی اس کانسٹیبل اور انسپیکٹر کی آوازیں باخوبی سن سکتا تھا۔۔۔ 
پھر کیا بنا ۔۔۔ کھل گیا لاک۔۔۔ انسیکٹر کی آواز پر ریاں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔۔۔ جیسے باخوبی آگاہ ہو کے وہ کانسٹیبل آگے کیا کہنے والا ہے۔۔۔
وہ دراصل سر جی۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ۔۔۔
کیا۔۔ وہ وہ لگا رکھی ہے۔۔۔ لاک کھلا یا نہیں ۔۔۔ انسپیکٹر ضامن کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔۔۔
سر وہ دراصل اس موبائل پر ایک کے بعد دوسری دفعہ پاسورڈ ڈائل کرنے پر اسکا سارا ڈیٹا ضائع ہو گیا ہے اور وہ اب ریکور نہیں ہو سکتا۔۔۔ اگر وہ سکیمر خود چاہیے تب بھی نہیں۔۔۔
سر دراصل یہ ایک سکیمر کا موبائل ہے اور اسنے اپنے موبائل پر سیکیورٹی سسٹم بہت سخت لگا رکھا تھا۔۔۔
وہ شخص خود ہی اس موبائل ک لاک کھولتا تو ٹھیک ورنہ کوئی اور اسکے موبائل کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے کی کوشیش کرتا تو موبائل کا ڈیٹا آٹومیٹک ہی ختم ہو جاتا۔۔۔۔
کانسٹیبل کی بات سنتے ہی ضامن کے چہرے ہر پریشانی کے تاثرات نمودار ہونا شروع ہوئے۔۔۔
یہ تو ٹھیک نہیں ہوا ۔۔۔۔۔ 
جبکہ ان سے کچھ فاصلے پر حوالات میں موجود آن نے پرسکون سانس خارج کی۔۔۔
اسی لئے تو اسنے موبائل کو پہچاننے سے انکار کیا تھا کے جانتا تھا اسکے بنا وہ لوگ کبھی بھی اسکے موبائل کا ڈیٹا حاصل نہیں کر سکتے تھے۔۔۔
****
عائزل جلے پیر کی بلی کی طرح لاوئنج میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔ بجو رات کا کھانا کھا کر سو چکی تھیں جبکہ داود بھیا سٹڈی روم میں اپنا کوئی کام کر رہے تھے۔۔۔۔
وہ اتنی ہی ریزرو نیچر کے حامل تھے۔۔۔ زیادہ کسی کے ساتھ فرینک نا ہوتے لیکن عفیفہ میں انکی جان بستی تھی۔۔۔ اسکے ساتھ وہ فرینک بھی ہوتے ہستے بھی اور اسکا خیال بھی رکھتے۔۔۔۔
وہ اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔۔۔ عائزل وہاں مسلسل چکر کاٹتی اندر جا کر داود بھائی سے بات کرنے کی ہمت خود میں مجتمع کر رہی تھی۔۔۔
صبح ہی صبح وہ پھر سے آفس کے لئے نکل جاتے اور انکی واپسی پھر شام میں ہوتی
۔۔ اسے پھر سے سارا دن ان سے بات کرنے کا موقع نا ملتا۔۔۔
بلآخر ایک گہرا سانس خارج کرتی وہ خود میں ہمت مجتمع کر کے سٹڈی روم کی جانب بڑھی۔۔۔
دروازہ ناک کر کے وہ آہستگی سے دروازہ وا کرتی اندر کی جانب بڑھی۔۔۔
سٹڈی ٹیبل پر بیٹھے کسی فائل میں بری طرح منہمک داود نے چونک کر اسے دیکھا اور فائل بند کرتا سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔
کیا بات ہے گڑیا۔۔۔ کوئی کام ہے کیا۔۔۔ وہ اسے بری طرح انگلیاں چٹخاتے کنفوز سا دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاتا مستفسر ہوا۔۔۔ عفیفہ کی دیکھا دیکھی وہ بھی عائزل کو گڑیا ہی کہتا۔۔۔۔
جی بھیا وہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔۔۔ داود کے دوستانہ رویہ سے اسے کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔۔
ہمم پوچھو کیا بات ہے۔۔۔ اسنے صوفے کی جانب اشارہ کرتے اسے بیٹھنے کا کہا۔۔۔
مجھے بجو کے بارے میں پوچھنا ہے بھیا۔۔۔ ڈاکٹر نے انکے بارے میں کیا کہا ہے۔۔۔ وہ کیوں بستر کی ہو کر رہ گئ ہیں۔۔۔ وہ صوفے پر غیر آرام دہ سی بیٹھی گویا ہوئی۔۔۔
دیکھیں بھیا مجھ سے کچھ چھپانے کی یا جھوٹ بولنے کی کوشیش مت کریئے گا۔۔۔ پہلے ہی میں بہت پریشان ہوں۔۔۔ اوپر سے بجو بھی مجھے کچھ نہیں بتا رہیں۔۔۔ پلیز آپ بتا دیں نا۔۔۔ وہ داود کے کچھ بھی بولنے سے پہلے انگلی اٹھاتی حفظ ماتقدم کے طور پر گویا ہوئی جبکہ کچھ کہتا کہتا رکا اور اسکے اس انداز پر بے ساختہ مسکرا دیا۔۔۔
کیا کرو گی تم جان کر گڑیا۔۔۔ تمہاری بجو اگر تمہیں کچھ نہیں بتا رہی تو کچھ سوچ کر ہی ایسا کر رہی ہو گئ ۔۔ پھر تم کیوں ضد کر رہی ہو۔۔۔
وہ نشست کی پشت سے سر ٹکاتا فین سیلنگ پر کسی نادیدہ چیز کو دیکھتا سنجیدہ سا گویا ہوا۔۔۔
اسکا انداز عائزل کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر رہا تھا۔۔۔
مطلب کے میرا شک درست ہے بھیا۔۔۔ بجو کو کوئی سیریس  اشو ہے جو آپ دونوں مجھ سے چھپا رہے ہو۔۔۔ عائزل دکھ سے گویا ہوئی۔۔۔ لیکن داود نے تو جیسے اسکی بات سنی ہی نا تھی۔۔۔
اپنی بہن کا بہت خیال رکھو گڑیا۔۔۔ اور اسکے لئے دعا کرو کے اللہ اسکے لئے آسانیاں پیدا کرے۔۔۔ وہ ہنوز چھت کو دیکھتا سنجیدہ سا بول رہا تھا۔۔۔
جبکہ اسکی بات سن کر عائزل ٹھٹکی۔۔۔
مطلب۔۔۔۔
مطلب یہ کہ عائزل کا لیور بلڈ جنریٹ نہیں کر رہا۔۔۔ آسان الفاظ میں جگر خون نہیں بنا رہا۔۔۔اسے ہر تین ماہ بعد بلڈ کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔ نیز اسے گال سٹون ہے جسکی تکلیف بعض دفعہ عفیفہ کے لئے ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔۔۔ اسکی رپورٹس ٹھیک نہیں آ رہیں۔۔۔
بقول ڈاکٹر یہ وراثتی بیماری ہے۔۔۔ پہلے یہ بہت کم تھیں۔۔  سٹونز بھی بہت چھوٹے سائز کے تھے۔۔۔ نا ہونے کے برابر۔۔۔ لیکن پریگنینسی  کے دوران بہت تیزی سے اسکی ہر بیماری بڑھی ہے۔۔۔
وہ بول رہا تھا جبکہ اسکے ہر نئے انکشاف کیساتھ عائزل کو اپنے قدموں تلے سے زمین کھسکتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
وہ ہونق بنی بنا پلکیں جھپکے داود کو دیکھ رہی تھی جسکے چہرے پر اذیت رقم تھی۔۔۔ 
اسے پتہ ہی نا چلا کب آنسو آپو آپ اسکی پلکوں کی بار پھیلانگتے بہتے چلے گئے۔۔۔۔
اسے  یاد آیا واقعی مامی کو یہ مسائل تھے اور انکے گال سٹون کا آپریٹ بھی ہو چکا تھا۔۔ اسنے بے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔۔
بب۔۔۔بھیا۔۔۔ ڈاکٹر اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔۔
ڈاکٹر کا کہنا ہے کے ڈیلیوری سے پہلے کسی چیز کا علاج نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ ابھی وہ صرف پین کلرز دے رہے ہیں۔۔۔ عفیفہ کا پراپر علاج ڈیلیوری کے بعد ہی شروع ہوگا۔۔۔
اسی لئے عفیفہ کی کنڈیشن دیکھتے ڈاکٹر نے ڈیلیوری ڈیٹ جلد دے دی ہے۔۔۔
عفیفہ نہیں چاہتی تھی کے تمہیں کچھ بھی پتہ چلے۔۔۔ اور تم کوئی ٹینشن لو۔۔۔ بہت محبت کرتی ہے وہ تم سے گڑیا۔۔۔  
لیکن تمہیں بتانے کا مقصد صرف یہ ہی ہے کے تم عفیفہ کا اچھے سے خیال رکھو۔۔۔ اور پلیز اگر ہو سکے تو عفیفہ کو یہ بات پتہ نا چلے کے میں تمہیں حقیقت سے آگاہ کر چکا ہوں۔۔۔ ورنہ وہ ہرٹ ہوگئ۔۔۔ 
داود ایک گہری سانس بھرتا خود کو کمپوز کر چکا تھا اور اب پھر سے اپنی فائل کھول کر اس پر جھکا اپنا کام کرنے لگا تھا۔۔۔ یہ عائزل کے لئے واضح اشارہ تھا کے وہ اب وہاں سے جاسکتی ہے۔۔۔ شاید وہ شخص اپنے اندر ہوتی توڑ پھوڑ کو اس سے چھپا رہا تھا۔۔۔ وہ بھاری دل کے ساتھ وہاں سے نکل آئی۔۔۔۔
****
مقررہ وقت کے مطابق ایمن اگلے دن تھانے میں اپنی رقم کلیم کروانے کے لئے موجود تھی۔۔۔ باری آنے پر وہ اٹھ کر  انسپیکٹر کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔ لیکن اندر داخل ہوتے ہی اسکی نگاہوں کے سامنے زمین و آسمان کے کلاپے گھوم گئے۔۔۔ سامنے انسپیکٹر ضامن کی جگہ ایک موٹی توند والا انسپیکٹر بیٹھا اسے خباست سے سر تا پاوں دیکھ رہا تھا۔۔۔
ارے آئیے آئیے تشریف رکھیے۔۔۔ بتائیے ہم آپکی کیا خدمت کر سکتے ہیں۔۔۔ اسکے لہجے اور بات کرنے کے انداز سے ایمن کو اپنے جسم پر چیونٹاں سی رینگتی محسوس ہوئیں۔۔۔
بے ساختہ اسے کل ریان کی کہی باتیں یاد آنے لگیں۔۔۔۔ 
کل صبح کا سورج طلوع ہونے سے پہلے اس ایماندار آفیسر کا تبادلہ ہو چکا ہوگا۔۔۔
اسنے پریشانی سے بے طرح اپنا ماتھا مسلہ۔۔۔
بیٹھو نا ابھی تک کھڑی کیوں ہو۔۔۔ وہ خباست سے مسکرایا۔۔۔ ایمن کا دل چاہا بنا دیر کئے وہاں سے بھاگ نکلے۔۔۔
ان انسپیکٹر ضامن سے ملنا ہے مجھے۔۔۔ وہ خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی اپنا شک دور کرنے کو گویا ہوئی۔۔۔
سوہنیو۔۔۔ ایسا کیا ہے اس انسپیکٹر میں جو ہم میں نے۔۔۔ ایمن نے بے ساختہ ضبط سے اپنی مٹھی میچی۔۔۔۔
خیر کل رات انسپیکٹر ضامن کا تبادلہ ہو گیا ہے اور آج صبح سے ہی میں نے چارج سمبھالا ہے اب بولو کیا کام ہے تمہیں۔۔۔ وہ انسپیکٹر اسکے لئے دیئے انداز پر زرا سختی سے گویا ہوا۔۔۔

دوبارہ یہاں مت آنا۔۔۔ تمہاری سنوائی نہیں ہوگئ۔۔۔۔
ہوا کے دوش پر ایک اور آواز اسکے کانوں کے پردوں سے ٹکرائی۔۔۔۔
تبھی ایک کانسٹیبل تیزی سے اندر داخل ہوتا اس سے ٹکرایا۔۔۔ وہ لڑکھراتے ہوئے بامشکل سمبھلی۔۔۔
اس ایماندار آفیسر کے چلے جانے کے بعد تھانے کا ماحول کیسا ہے یہ مجھے تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں۔۔۔
تبھی اسے اپنی بازو پر لمس محسوس ہوا۔۔۔ وہ تڑپ کر اس جانب مڑی گویا بچھو نے ڈنگ مار ڈالا ہو۔۔۔
بی بی زرا جلدی کریں باہر اور بھی لوگ ہیں۔۔  وہ کوئی کانسٹیبل تھا جو اسے بازو سے تھامے اپنی جانب متوجہ کر رہا تھا۔۔۔
اسنے بے دردی سے اسکا ہاتھ جھٹکا۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتا وہ کسی کی بھی بات سنے بنا وہاں سے تیز تیز قدم اٹھاتی نکلتی چلی گئ۔۔۔
غائب دماغ سی وہ تیز تیز قدم اٹھاتی روڈ کنارے چل رہی تھی۔۔۔ دماغ میں جھکڑ سے چلنے لگے تھے۔۔۔ ہر بار ہی کیسے طاقتوار جیت سکتا تھا۔۔۔ ناجانے کب ان ظالموں کی رسی کھینچی جانی تھی۔
دفعتا اسکے موبائل کی بیل بجی۔۔۔
فون حماد کا تھا۔۔۔ اسنے فون اٹھا کر کان سے لگایا لیکن آگے سے حماد کی بات سن کر اسے لگا اسکے جسم سے روح پرواز کر گئ ہو۔۔  ۔ وہ خود کو فضا میں معلق محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4