Scheme novel 18th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 18th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔
_____
اٹھارویں قسط۔۔۔۔
دائم نے گاڑی سے باہر نکلتے ہی سن گلاسز اتارے اور ایک ناقدانہ نگاہ اس حویلی پر ڈالی۔۔۔
آج موسم قدرے اچھا تھا۔۔۔ ہلکی ہلکی سنہری دھوپ اپنی چھب دکھلا رہی تھی۔۔۔ وہ مضبوط بھاری قدم اٹھاتا اندر کی جانب بڑھا۔۔۔
تاحد نگاہ اسے کوئی نظر نا آیا۔۔۔ بے چین نگاہیں شدت سے اسی کی متلاشی تھیں۔۔۔
کچھ آگے جا کر اسے بوا برآمدے میں اپنی مخصوص چارپائی پر بیٹھیں نظر آئیں۔۔۔
ارے واہ۔۔۔ میرا شہزادہ آیا ہے۔۔۔ ماں صدقے جاوں۔۔۔ اسکے سلام کے جواب میں بوا اسے والہانہ نگاہوں سے دیکھتیں گرم جوشی سے اَٹھ کر ملیں۔۔۔
وہ انکے پاس ہی موجود دوسری چارپائی پر بیٹھ گیا۔۔۔ ان سے باتیں کرتے ہوئے بھی اسکی نظریں چاروں طرف کا جائزہ لیتیں اسی ستم گر کو دھونڈ رہی تھیں۔۔۔
عائزل۔۔۔۔ او عائزل۔۔۔ بچے دو کپ چائے لاو۔۔۔
بوا نے وہیں سے ہانک لگائی تھی۔۔۔ انکی آواز پر وہ مستند ہوا۔۔۔ گویا اسکے دل کی بات وہ زبان پر لے آئیں تھیں۔۔۔
باقی سب لڑکیاں چھٹی پر ہیں کیا بوا۔۔۔ وہ وہاں کسی بھی لڑکی کی موجودگی نا پا کر حیرت سے مستفسر ہوا۔۔۔
کیونکہ بوا لڑکوں کو کام پر نا رکھتی تھیں۔۔۔ اور جو لڑکیاں کام کرتیں انہیں بھی چھٹی دینے کے حق میں نا تھیّ۔۔۔ کیونکہ بقول انکے لڑکیوں کی چھٹی سے انکا کام رک جاتا تھا۔۔۔
اور آج کسی بھی لڑکی کو وہاں نا دیکھ اسکی حیرت فطری تھی۔۔۔
ارے بیٹا بڑی کام چور لڑکیاں ہیں یہ۔۔۔ ٹک کر کام ہی نہیں کر سکتیں۔۔۔
رفتہ رفتہ سبھی کام چھوڑ کر جا چکی ہیں۔۔۔
ایک دو دن تک مزید لڑکیاں آ جائیں گی کام کے لئے لیکن ابھی کے لئے تو بھلا ہو عائزل کا۔۔۔
بچی نے ہر چیز بڑے ماہرانہ انداز میں سمبھال رکھی ہے۔۔۔ تبھی تو ان جانے والی لڑکیوں کی کمی محسوس نا ہوئی۔۔۔ ورنہ تم تو جانتے ہی ہو کہ لڑکیوں کے بنا بھلا میرا کام کہاں چلتا ہے۔۔۔
بوا اپنی ہی دھن میں اسے سبھی تفصیلات سے آگاہ کر رہی تھیں۔۔۔ جبکہ ایک گلٹی سی دائم کی گردن میں ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔
یک لخت ہی پہلے روز کا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے ابھرا۔۔۔ دا۔۔۔دائم پلیز ۔۔۔ پلیز مجھے اپنے ساتھ لے جائیں۔۔۔۔
مم۔۔۔ میں یہاں نہیں رہ سکتی۔۔۔ پلیز۔۔۔ پلیز دائم۔۔۔
اسکی بازو تھامے وہ کیسے متوحش سی گویا ہو رہی تھی۔۔۔۔
دائم کے وجود میں جیسے بے چینیاں سی پنپنے لگی تھیں۔۔۔
وہ بے چینی سے بالوں میں ہاتھ چلا کر رہ گیا۔۔۔۔
*****
برتن دھونے کے بعد برتنوں کا ٹوکرا کچن میں رکھتے اسکی نظر برآمدے میں بیٹھی بوا کے پاس جاتے اس ستم گر پر پڑی تھی۔۔۔ اسے دیکھتے ہی وہ جہاں کی تہاں رہ گئ۔۔۔
بالکل ساکت۔۔۔ دل سے ایک ہوک سی اٹھی تھی اور جلتی آنکھیں نم سی ہونے لگی تھیں۔۔۔
یہ دنیا میں وہ واحد شخص تھا جس سے وہ رحم کی توقع نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
ہاں اگر عائزل مر بھی جاتی نا تب بھی اس شخص کا دل عائزل کے لئے نرم نا پڑتا۔۔۔ جانے کیسا پتھر دل انسان تھا۔۔۔ ایک تلخ مسکراہٹ عائزل کے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔
وہ عائزل کو تکلیف پہنچا کر اپنی انا کو تسکین فراہم کرتا تھا اور اب بھی یقیناً وہ یہاں اسکی سزا میں اضافہ ہی کرنے آیا تھا۔۔۔ ہاں وہ اتنا ہی بدزن تھی اس سے کے اس کے حوالے سے کوئی اچھی سوچ بھی اسکی ذہن میں نا ابھر رہی تھی۔۔۔
بوا کی آواز آنے پر عائزل بے دلی کیساتھ اسکے لئے چائے بنانے لگی ۔۔۔
کاش یہاں کوئی اور لڑکی ہوتی تو وہ اسکے ہاتھ چائے بھیج دیتی۔۔۔ وہ اس شخص سے سامنا بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ کہنے کو وہ اسکا محافظ تھا مگر سب سے زیادہ غیر آرام دہ اور غیر محفوظ وہ اسی کے ساتھ محسوس کرتی۔۔۔
چائے بنا کر وہ دو کپ ٹرے میں رکھتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی باہر آئی۔۔۔
دائم بوا سے باتیں کر رہا تھا جب انکے پاس آتے عائزل نے مدہم آواز میں بنا اسکی جانب دیکھے سلام کیا۔۔۔
بوا نے اسے دیکھ کر پاس پڑا چھوٹا سا میز اپنے قریب کھینچا۔۔۔
عائزل نے اسی خاموشی سے ٹرے میز پر رکھی۔۔۔
جبکہ دائم وہ تو گم صم سا سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
سرخ جلتی آنکھیں اور سرخ ہی چہرا۔۔۔ اسے کسی غیر معمولی پن کا احساس ہوا۔۔۔۔
بچے تم نے دوائی لی۔۔۔ وہ پلٹ کر واپس جا رہی تھی جب بوا اس سے مستفسر ہوئی۔۔۔
دائم نے ایک بات شدت سے نوٹ کی تھی کے بوا اسے بہت نرم لہجے میں مخاطب کرتیں حلانکہ یہ انکی طبیعت کا خاصہ نا تھا۔۔۔
جی بوا لی تھی۔۔۔ بات کرتے ہی وہ وہاں سے چلے گئ۔۔۔
موا بخار پرسوں سے بچی کی جان کو چمٹا ہوا ہے۔۔۔ جان چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔۔۔ لگاتار دوائی کھا رہی ہے لیکن مجال ہے جو بخار اتر جائے۔۔۔ اب سوچ رہی تھی شہر سے دوائی منگوا کر دوں اسے۔۔۔۔
وہ چائے کا کپ اٹھاتا چھوٹی چھوٹی چسکیاں لینے لگا تھا جب بوا خود ہی اسے تفصیل سے آگاہ کرنے لگیں۔۔۔۔
جبکہ دائم بنا کوئی تبصرہ کئے چائے پیتا رہا۔۔۔ وہ خرابی طبیعت کے باعث وہاں کی سخت سردی میں معمول کے سبھی کام نبٹا رہی تھی یا یہ کہا جاتا کے اوور لوڈ کام کر رہی تھی ایسے میں اسے آرام خاک آنا تھا وہ یہ بات محض سوچ ہی سکا۔۔۔ البتہ کہنے سے اسنے پرہیز ہی کیا۔۔۔
بوا میں عائزل کو لینے آیا ہوں۔۔۔ آپ پلیز اسے کہیں کے اپنا سامان لے کر باہر آ جائے میں گاڑی میں اسکا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔ وہ چائے کا خالی کپ میز پر رکھ کر اٹھ کھڑا ہوتا بوا پر حیرتوں کے پہاڑ توڑ کر خود باہر نکل گیا۔۔۔
ناجانے اسنے ٹھیک کیا تھا یا نہیں۔۔۔ وہ خود سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔
*****
ایکسکیوز می۔۔۔ وہ مدہم آواز میں گویا ہوئی جب اسکی آواز سن کر وہ شخص پلٹا۔۔۔
جبکہ سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھ کر ایمن کو اپنی نگاہوں کے سامنے زمین و آسمان گھومتے دکھائی دیئے۔۔۔
وہ کسی بھی چیز کی توقع کر سکتی تھی۔۔۔ مگر یہ ایک واحد چیز تھی جسکی وہ کبھی توقع نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
تم۔۔۔۔ ایمن کے منہ سے سرگوشانہ لفظ نکلا۔۔۔
جبکہ نوارد کی حالت بھی اس سے مختلف نا تھی۔۔۔
تو وہ تم تھے ریاں۔۔۔ اسکے ہونٹ کپکپا اٹھے تھے جبکہ دل میں جیسے کرچیاں سی چھبنے لگی تھیں۔۔۔ ٹوٹے مان کی کرچیاں۔۔۔
محبت کی نوخیز کلی کے کھلنے سے پہلے بے دردی سے نوچے جانے کی تکلیف۔۔۔ اسنے سختی سے لب بھینچتے موم کی طرح پگھلتے دل کی نمی کو آنکھوں تک آنے سے روکا۔۔۔ البتہ اس تگ و دود میں آنکھوں کے کنارے سرخ ہونے لگے تھے۔۔۔
تت۔۔۔ تم یہاں کیا رہی ہو ایمن۔۔۔
وہ بدقت خود کو کمپوز کرتا گویا ہوا۔۔۔ اسنے برے سے برے حالات کی توقع کی تھی یہاں۔۔ لیکن یہاں ایسا کچھ ہو جائے گا یہ اسکی توقع سے پڑے تھا۔۔۔ اسنے بے طرح اپنا ماتھا مسلا۔۔
ایمن مسکرائی۔۔۔ طنزیہ مسکراہٹ۔۔۔ اپنا ہی مذاق اڑاتی مسکراہٹ۔۔۔
کئ راتیں۔۔۔ کئ راتیں لگیں مجھے انہیں بھول بھلیوں سے نکلتے نکلتے کہ میرے ساتھ سکیم ہوا کیسے ۔۔ وہ لب بھینچے دور خلاوں میں دیکھنے لگی تھی۔۔۔
میں نے کسی کو کوڈ سینڈ نہیں کیا تھا۔۔۔ اور سکیمرز ۔۔ ہیکرز ۔۔۔ یا سائنس ابھی اتنی ایڈوانس نہیں ہوئی کے بنا کسی بھی معلومات کے آپکا اکاونٹ ہیک کر جائے۔۔۔
اکاونٹ ہیک کرنے کے لئے آپکی ابتدائی معلومات چاہیے ہوتی ہیں۔۔۔ چاہیے تو آپکے نمبر پر آنے والا کود یا چاہیے آپکا شناختی کارڈ نمبر اور ڈیٹ آف برتھ وغیرہ۔۔۔ تاکہ اکاونٹ کا پاسورڈ بدلنے کے لئے بھی بنیادی شناختی کاروائی مکمل ہو سکے۔۔۔
اور یہ ہی چیز میرے دماغ کو ایک جگہ پر سٹک کرتی تھی۔۔۔ کے میں نے ایسی کوئی معلومات کسی کو نہیں دی۔۔۔ پھر کیسے ممکن تھا کے میرا اکاونٹ ہیک ہو جاتا۔۔۔۔
لیکن اب تمہیں دیکھ کر وہ آخری پھانس بھی دل سے نکل گئ کے مجھ سے غلطی کہاں ہوئی۔۔۔
اسنے ایک پر تاسف نگاہ ریان پر ڈالی جو ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے دائیں بازو سے حوالات کی سلاخوں سے ٹیک لگائے پاوں قینچی کی صورت بنائے کھڑا تھا۔۔۔۔ وہ بڑی سرعت سے پہلے دھچکے سے سمبھلا تھا۔۔
مجھ سے غلطی یہ ہوئ مسٹر ریان کے میں نے۔۔۔ وہ چبھتے ہوئے لہجے میں کہتی زرا توقف کو رکی۔۔۔
کہ میں نے پبلک پلیس پر اپنی پرائیویسی کا خیال نہیں رکھا۔۔۔۔
سینے پر ہاتھ باندھے وہ اسکے قدرے جھکے سر کو دیکھ رہی تھی جسکے چہرے پر ایک محظوظ کن مسکراہٹ تھی۔۔۔ جیسے ایمن کی وضاحت اسے محظوظ کر رہی ہو۔۔۔
مجال تھی جو وہاں شرمندگی کا زرا سا شائبہ بھی ہوتا۔۔۔ اسکا یہ ہی انداز ایمن کو طیش دلا رہا تھا جسے وہ بامشکل اندر دابے ہوئے تھی۔۔۔
تم میرے پیچھے بیٹھے تھے ۔۔۔تم جان چکے تھے کے ابھی ابھی میرے اکاونٹ میں رقم ٹرانسفر ہوئی ہے۔۔۔ اسی وقت تم نے میرا اکاونٹ ہیک کرنے کی کوشیش کی۔۔۔ اور جب میں نے کوڈ والا میسج کھولا ۔۔۔۔۔۔
تب ہی تم کوڈ دیکھ چکے تھے۔۔۔ اسی لئے میرے کلاس سے نکلتے ہی تم نے میرا اکاونٹ ہیک کر لیا۔۔۔ واہ ریان۔۔ ونڈر فل۔۔۔۔ کیا دماغ ہے تمہارا۔۔۔
کسی کی عزت نفس کو کچلتے زرا احساس نا آیا تمہیں۔۔۔ بامشکل اپنی بھرائی آواز پر قابو پاتی وہ گویا ہوئی۔۔۔
اب یہاں تم زیادتی کر رہی ہو یار۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا جھکا سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔
احساس تھا تو تمہیں وہاں کونے میں الگ تھلگ بیٹھے روتے دیکھا تو تمہاری مدد کرنے چلے آیا۔۔۔ ورنہ میں اور کسی کی مدد کر جاوں۔۔۔اسنے بات ادھوری چھوڑی۔۔۔۔
مگر یہ دل کے معاملے ہیں نا۔۔۔ اسنے ہاتھ کی مٹھی دل کے مقام پر ماری۔۔۔
قسم سے ان غزال سی آنکھوں میں آنسو بالکل اچھے نہیں لگے تھے مجھے۔۔۔ اسی لئے زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے اصولوں کے برخلاف تمہارے پاس چلا آیا تھا مدد کرنے۔۔۔
بہت خوب۔۔۔ بہت خوب ریان۔۔۔
میرے ہی پیسے مجھے لوٹا کر تم نے مجھے اپنے احسان کے بوجھ تلے داب دیا۔۔۔ وہ شکوہ کناں ہوئی جبکہ وہ کندھے اچکا گیا۔۔۔
یار تم پہنچ سے باہر تھی۔۔۔ چڑ دلاتی تھی مجھے۔۔۔ ہر کوئی ریان کا دیوانہ تھا۔۔۔ ہر لڑکی میرے آگے پیچھے پھرتی تھی۔۔۔ اور تم تھی کے بات کرنا تک گوارا نا کرتی تھی۔۔۔ پھر احسان تلے تو دابنا تھا نا۔۔۔
کے کسی بہانے تو تمہاری اکٹر ٹوٹتی اور تم بات کرنے لگتی۔۔۔ اسکی سفاکیت پر باوجود ضبط کے ایک آنسو ایمن کی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔
یہ دنیا اور اسکے لوگ۔۔۔ اسنے گہرا سانس لیتے آواز کی لغزش پر قابو پایا۔۔۔
میری سوچ سے زیادہ سفاک ہیں ریاں۔۔۔ وہ مسکرائی۔۔۔ ان کا بس چلے نا ۔۔۔ وہ رکی آنکھیں میچتے اندر اٹھتے طوفان کو دابا۔۔۔ تو مجھ جیسیوں کو تو زندہ نگل جائیں۔۔۔
لیکن نہیں۔۔۔ کہتے ہیں نا ہر برا واقعہ آپکو ایک سیکھ دے جاتا ہے۔۔۔ اور تم نے مسٹر ریان مجھے یہ سیکھایا ہے کے دنیا کا ہر نا محرم انسان نا قابل اعتبار ہے سفاک ہے۔۔۔ لٹیرا ہے وحشی ہے بےحس ہے۔۔۔ وہ کبھی آپکا خیر خواہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔ کسی بھی غیر مرد پر کبھی اعتبار مت کرنا۔۔۔ خواہ وہ دیکھنے میں کتنا ہی خوبرو اور زبان کا کتنا ہی میٹھا کیوں نا ہو۔۔۔ وہ کبھی بھی آپکے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتا۔۔۔
اچھا۔۔۔ کیا واقعی۔۔۔ لیکن میں نے تو یہ سب خصوصیات آج کل محرموں میں بھی دیکھی ہیں تو پھر نا محرم ہی کیوں بدنام ہیں۔۔۔۔۔
وہ ریان تھا جسے کسی بات پر شرمندہ کر جانا تقریباً ناممکن تھا اسی لئے وہ ایک بھنور اچکاتا خوبصورتی سے بات ہی پلٹ گیا۔۔۔
ایمن تلخی سے مسکرائی۔۔۔ ہاں ہوتے ہیں تم جیسے کچھ ضمیر فروش ایسے بھی۔۔۔
لیکن کیا میرے ساتھ سکیم کر کے دل نہیں بھرا تھا۔۔۔ دنیا میں بہت سے لوگ ہیں۔۔۔ پھر تم نے میرے ہی گھر کا راستہ کیوں دیکھ لیا۔۔
میری ماں کو ٹارگٹ کیوں کیا۔۔۔ انکے ساتھ سکیم کر کے کیا ملا تمہیں ریاں۔۔۔
تمہارا سکیم میری ماں کو ہسپتال کے بستر تک لے گیا۔۔۔ اسکی آواز میں ملال تھا وہ کافی حد تک خود کو کمپوز کر چکی تھی۔۔۔ اب وہ اس شخص کے سامنے خود کو مزہد بے بس ظاہر نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
تمہاری ماں کے ساتھ سکیم۔۔۔ وہ الجھا سا دماغ پر زور ڈالنے لگا۔۔۔
مجھے یاد نہیں۔۔۔ ہوسکتا ہے انکے ساتھ سکیم میں نے کیا ہو۔۔۔ یا کسی اور نے کمفرم نہیں۔۔۔ کیونکہ دن میں کئ ایسے کیسز ہوتے ہیں ۔۔۔ اب ہر ایک تو یاد نہیں رہ سکتا نا۔۔۔
خیر اگر ہوا بھی تو وہ روٹین کی ایک کاروائی ہوگی جیسے ایک سیریل کے نمبر جب ڈائل کرنا شروع کئے جاتے ہیں تو ایک بعد اگلے ڈیجیٹ والا نمبر دائل کیا جاتا ہے۔۔۔ شاید ایسا ہی کوئی وہ نمبر ہو۔۔۔
خاص کر کے تمہارے گھر کے کسی ممبر کو سپیشلی میں نے ٹارگٹ نہیں کیا۔۔۔ وہ شاید زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کو صفائی دے رہا تھا۔۔
ایمن شاک سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ اس شخص کے دھوکے سے اسکی ماں ہسپتال کے بستر سے لگ گئ تھی اور اسکے لئے وہ روٹیں کی ایک کاروائی تھی۔۔۔
ویسے تم یہاں کیا کر رہی ہو ایمن۔۔۔ جہاں تک میری معلومات ہیں اسکے مطابق شریف گھر کی لڑکیاں ایسی جگہوں پر نہیں آتیں اور تمہیں بھی میں شریف گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی سمجھتا تھا پھر تم یہاں کیسے۔۔۔
اسنے جیب سے چیونگم نکالتے اسکا ریپر اتار کر اسے اچھالتے ہوئے منہ میں ڈالا۔۔۔
اپنے ساتھ ہوئے سکیم کی رپورٹ درج کروائی تھی میں نے۔۔۔ اب ایک سکیمر پکڑا گیا تو مجھے پرچہ کٹوانے کے لئے بلوایا گیا ہے۔۔۔
اور یقین مانو جہاں تک ہو سکا میں انہیں تمہارے بارے میں معلومات فراہم کروں گی اور اس بات کو یقینی بناوں گی کے تمہیں سخت سے سخت سزا ملے۔۔۔
تم جیسے بے حس لوگ یہ ہی ڈیزرو کرتے ہو جنہیں اس چیز کا اندازہ تک نہیں کے کیسے انکا گھٹیا پن گھروں کی بنیادیں ہلا جاتا ہے۔۔۔ اسکا تب سے دابا غصہ آن کی بےحسی دیکھ امڈنے لگا تھا۔۔
جبکہ آن اسکی بات سن کر ہسا تو پھر ہستا ہی چلا گیا۔۔۔۔
یارررر۔۔ میں تو ڈر گیا۔۔۔ تم تو بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔ تم تو مجھے بہت برا پھسا سکتی ہو۔۔۔ پلیز یار ایسا کچھ مت کرنا ۔۔۔
ورنہ تو میں پوری زندگی جیل میں ہی سرتا رہ جاوں گا۔۔۔ وہ اوور ایکٹنگ کرتا سیدھا سیدھا اسکا مذاق اڑا رہا تھا۔۔۔
ایمن نے دانت پیستے اسے دیکھا۔۔۔
واقعی یار۔۔۔ تمہیں واقعی لگتا ہے کہ ایسا کچھ ہوگا۔۔۔ وہ بے طرح ہستے اپنی ہسی کنٹرول کرنے کی ناکام کوشیش کر رہا تھا۔۔۔
ہو سکتا تھا۔۔۔ بالکل ایسا ہو سکتا تھا جیسا تم کہہ رہی ہو بشرطیکہ تم امریکہ میں ہوتی۔۔۔
لیکن بدقسمتی سے تم پاکستان میں ہو۔۔۔
اب میں تمہیں بتاوں اچھی لڑکی کے یہاں کیا ہوتا ہے۔۔۔ یا میرے کیس میں کیا ہوگا۔۔۔
لٹ می ٹیل یو۔۔۔ وہ انگلی اٹھاتا پر سوچ انداز میں گویا ہوا
یہاں یہ اہمیت نہیں رکھتا کے آپکے کیس کی کسٹڈی کتنے ایماندار آفیسر کے پاس ہے۔۔۔
یہاں یہ اہمیت رکھتا ہے کہ۔۔۔۔
اسکی باتیں سن کر ایمن کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا لیکن وہ بنا اس پر ظاہر کئے اسے سن رہی تھی جو کے اب اسے باریکی سے سب بتاتا ایک اہم نصیحت کر رہا تھا۔۔۔ جبکہ ایمن کی آنکھوں میں مرچیں سی بھرنیں لگیں۔۔۔
******

No comments