Scheme novel 17th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 17th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔
_____
سترہویں قسط۔۔۔۔
دائم غائب دماغی سے فیکٹری کے مینوفیکچرنگ ایریا کا وزٹ کر رہا تھا جب اسکا موبائل بجنے لگا۔۔۔
اسنے موبائل جیب سے نکال کر سامنے کیا۔۔۔ فون ضامن کا تھا۔۔۔ اسنے گہری سانس خارج کرتے فون اٹھا کر کان سے لگایا اور مشینوں کی آوازوں سے پڑے ہوتا قدرے پرسکون کونے کی جانب آیا۔۔۔
ضامن کے کہے کے مطابق وہ اب خود کو ہر چیز کے لئے تیار کر چکا تھا۔۔۔
پچھلے ایک ہفتے کے دوران اسنے عائزل سے رابطہ استوار کرنے کی ہر ممکن کوشیش کی تھی مگر اسکا نمبر آن ہو کر نا دے رہا تھا۔۔۔
اب تو اسکے دل میں پنپتے شک کے ناگ بھی بڑے ہونے لگے تھے۔۔۔
دائم میری بات زرا تحمل سے سننا۔۔۔
اسے فون سے ضامن کی سنجیدہ آواز ابھرتی سنائی دی۔۔۔ دل میں یکدم ہی ایک ہلچل سی مچ گئ تھی۔۔۔ یہ تمہید بلاوجہ تو نا تھی۔۔۔ وہ اسکی بات شروع کرنے سے پہلے ہی لب سختی سے بھینچ گیا۔۔۔
جو نمبر تم نے مجھے سینڈ کیا ہے وہ ایک پڑائیویٹ نمبر ہے جسکا ریکارڈ شو نہیں ہو رہا۔۔
ج
اور جو اکاونٹ تم بتا رہے ہو وہ سرے سے ہی ڈیلیٹ کر دیا گیا۔۔۔۔۔
یہ سب باتیں یہ ہی ثابت کرتی ہیں کے بدقسمتی سے تمہارے ساتھ سکیم ہو گیا ہے۔۔۔ وہ لڑکی تمہارے ساتھ مخلص نا تھی بلکہ وہ ایک عادی مجرم تھی یا یہ کہنا بہتر ہو گا کے عادی سکیمر۔۔۔
کیا اس لڑکی تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں۔۔۔ دائم نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچتے خود کو کمپوز کرنا چاہا۔۔۔
وہ لڑکی اسکے مخلص جذبات کا مذاق بنا کر اسے ڈاج دے گئ تھی۔۔۔ یہ اسکی انا پر قاری ضرب تھی۔۔۔ وہ دائم خان جو کسی کو گھاس تک نہیں ڈالتا۔۔۔ جسکے ساتھ کی لڑکیاں متمنی تھی۔۔۔ جسے مغرور شہزادے کا لقب حاصل تھا۔۔۔ اس شخص کو محبت میں دھوکہ ملا تھا۔۔۔
اندر ایک آگ لگی پڑی تھی۔۔۔ جسے کسی طور سکون میسر نا تھا۔۔۔۔
دائم اس لڑکی تک پہنچنا نا ممکن تو نہیں۔۔۔ جس کمپنی کے ذریعے تم نے رقم بھیجی ہے وہاں کی اتھوریٹیز سے بات کر کے ہم انکی دوسری برانچ سے رقم ریسیو کرنے والے شخص تک پہنچ سکتے ہیں۔۔۔
یہ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔۔۔ لیکن بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔وہ تحمل سے بات کرتا رکا۔۔۔
کہ تمہارے ساتھ سکیم ہوا ہے چار لاکھ کا۔۔۔ لیکن اس لڑکی کی کھوج میں تمہارے اس سے ڈبل پیسے لگ سکتے ہیں۔۔ خواری اور وقت کا ضیائع الگ ہے۔۔۔
میرا تو تمہیں مخلصانہ مشورہ یہ ہی ہے کہ تم بھول جاو سب اور موو آن کر جاو۔۔۔ ضامن کی آواز میں ٹھہراو تھا۔۔۔ جیسے سارے سود و زیاں کا حساب کر کے ناپ تول کر بول رہا ہو۔۔۔
ایک تلخ مسکراہٹ دائم کے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔
بات اگر محض چار لاکھ کی ہوتی نا ضامن ۔۔۔ وہ تلخی سے ہستا رکا۔۔۔ تو چھوڑ دیتا۔۔۔
لیکن۔۔ اسنے آنکھیں میچتے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔۔۔ لیکن بات اب انا کی ہے۔۔۔ آٹھ لاکھ تو کیا سولہ بھی لگ جائیں تو بھی اب وہ بے وفا لڑکی میری ضد ہے۔۔۔۔
جب تک اسے اسکے دھوکے کی سزا نہیں دے دیتا تب تک سکون سے نہیں بیٹھ سکتا۔۔۔ اسکی آواز میں سختی تھی۔۔۔ اور آنکھوں میں جلا کر بھسم کر دینے کا تاثر۔۔۔
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تو وہ بھی ہڑبڑا کر ماضی کی خار دار جھاڑیوں سے باہر نکلا۔۔۔
سامنے حویلی کا گیٹ نظر آ رہا تھا۔۔۔ وہ گہرا سانس خارج کرتا گاڑی سے باہر نکلا۔۔۔
جانے وہ کونسا جذبہ تھا جو اسے کھینچ کر واپس اس دھوکے باز کے پاس لے آیا تھا۔۔۔
****
انسپیکٹر ضامن اپنے آفس میں بیٹھا جھک کر ٹیبل کے دراز سے کوئی فائل ڈھونڈ رہا تھا فائل نکال کر میز پر رکھتے اندر سے کوئی کاغذ نیچے گرا۔۔۔
ضامن نے جھک کر کاغذ اٹھایا اور اسے کھول کر سامنے کیا۔۔۔
ایمن علی۔۔۔ ساتھ ہی اسکا نمبر درج تھا۔۔۔
ایک جھماکے سے اسکے سامنے اس لڑکی کا سراپا لہرایا جو یہاں اپنے ساتھ ہوئے سکیم کی رپورٹ درج کروانے آئی تھی۔۔۔
اسکے دماغ میں کچھ کلک ہوا۔۔۔ اسنے ریکارڈ کنگالتے چند دن پہلے کی ایمن کی طرف سے دی جانے والی درخواست نکالی۔۔۔
درخواست پڑھتے اسکے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی۔۔
ہاں یہ لڑکی اس سکیمر کے کیس میں کچھ پیش رفت لا سکتی تھی۔۔۔ بنا توقف کے اسنے ایمن کا نمبر ملایا۔۔۔ دوسری جانب بیل جا رہی تھی مگر کوئی فون نہیں اٹھا رہا تھا۔۔۔
بلآخر فون بج بج کر بند ہو گیا۔۔۔
اسنے دوسری دفعہ پھر سے نمبر ملایا۔۔۔ ابکی بار دوسری ہی بیل پر ربطہ ستوار ہو گیا تھا۔۔
This is inspecter Zamin here...
آپ یہاں چند دن پہلے اپنے ساتھ ہوئے سکیم کی رپورٹ درج کروانے آئی تھیں۔۔۔ تو آپ کے لئے ایک خوشخبری ہے ۔۔۔ بائے چانس ایک سکیمر پکڑا گیا ہے۔۔۔ تو آپ تھانے آ کر پرچہ کٹوانے کیساتھ ساتھ اپنی رقم کلیم کریں۔۔ وہ تحمل سے ساری بات اسکے گوش گزار رہا تھا۔۔
جبکہ ہستپال کے بینچ پر بیٹھی فون کان سے لگائے ایمن کے لئے اپنی زندگی میں یہ ایک کال ان ایکسپیکٹڈ تھی۔۔۔ اسے اپنی سماعت پر دھوکے کا گمان ہوا۔۔۔
ایک پل کو دل خوش فہم ہوا۔۔۔ شاید رقم کی واپسی کی کوئی سبیل بن جائے۔۔۔
ایسا ہو جاتا تو انکے کتنے مسلے حل ہو جاتے۔۔۔۔
جی میں آ رہی ہوں۔۔ اندرونی جذبات پر قابو پاتی وہ ہموار لہجے میں گویا ہوئی
*****
اپنے ہی خیالوں میں کھوئی عفیفہ نے فریج کھول کر پانی کی بوتل نکالی اور کچن کاونٹر سے گلاس اٹھا کر پانی اس میں انڈیلتی گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگی۔۔۔
آج وہ پورے دس دن بعد اپنے گھر آئی تھی جبکہ دھیاں کے پردے ہنوز عائزل کی جانب لگے تھے۔۔۔ وہ اسے تنہا گھر میں چھوڑ کر آئی تھی۔۔۔ ناجانے وہ اس وقت وہاں کیا کر رہی ہوتی۔۔
اسکی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں تھی مزید عائزل کی پریشانی سے سر درد کرنے لگا تھا۔۔۔
وہ امید سے تھی لیکن اس اچانک لگنے والے دھچکے نے اسے دنوں میں نچوڑ دیا تھا۔۔۔
وہ ابھی وہاں مزید رکنا چاہتی تھی مگر داود نے اسے حتمی انداز میں کہتے واپس گھر آنے کا بولا تھا۔۔۔ بقول اسکے اب وہاں ایسا کیا تھا جو وہ اپنی صحت کو نظر انداز کرتی وہاں رہتی۔۔۔
بات اسکی بھی ٹھیک تھی کیونکہ عفیفہ خود ان چند دنوں میں اپنی طبیعت خاصی گری گری سی محسوس کر رہی تھی۔۔۔ ایسے میں وہ کسی ناقابل تلافی نقصان کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔
اب بھی وہ لاوئنج کے صوفے کی پشت سے کمر ٹکائے آنکھیں مونڈے بیٹھی تھی البتہ دماغ عائزل کی جانب ہی لگا تھا جب داود لاوئنج کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔
شکر خدا کا ۔۔۔جو تم نے گھر کی شکل دیکھی ورنہ تمہیں کہاں بیچارے تنہا شوہر کا خیال آتا ہے۔۔۔
وہ حسب سابق آفس سے آ کر اپنے پاس موجود چابی سے دروازہ کھول کر اندر آیا تھا جبکہ عفیفہ کو لاونج میں موجود دیکھ اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔۔۔
اپنی فطرت کے برعکس اسنے صبح خاصے غصے سے عفیفہ کو واپس گھر آنے کا بولا تھا کیونکہ وہ وہاں خود سے بہت لاپرواہ ہو گئ تھی۔۔۔
جبکہ وہ اب آفس سے واپسی پر اس سے رابطہ کر کے اسے واپس لانے کا سوچ رہا تھا لیکن سے یوں اپنے گھر میں دیکھ اسے خوشی ہوئی تھی۔۔۔۔
جی آپ نے بلایا تھا تو آنا تو تھا ہی نا۔۔۔
وہ اداسی سے مسکراتے اٹھ کر کچن میں گئ اور پانی کا گلاس لے کر داود کے پیچھے ہی کمرے میں آئی۔۔۔
مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے داود۔۔۔ وہ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا کوٹ اتار رہا تھا جب عفیفہ نے اس سے کوٹ پکڑتے اسے پانی کا گلاس تھمایا۔۔۔
ہمم کہو۔۔ وہ صوفے پر بیٹھتا پانی پینے لگا جبکہ االجھی الجھی سی عفیفہ اسکا کوٹ ہینگ کر رہی تھی۔۔۔
وہ داود میں دراصل عائزل کو یہاں اپنے پاس لیکر آنا چاہتی تھی۔۔۔ امی ابو کے بعد وہ وہاں اکیلی کیسے رہے گی بھلا۔۔۔ وہ ہاتھ مسلتی شش و پنچ میں مبتلا گویا ہوئی۔۔۔
عائزل۔۔۔ کون عائزل۔۔۔ گلاس واپس میز پر رکھتے داود نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔۔
عائزل میری چھوٹی بہن۔۔۔ عفیفہ نے نم آنکھیں اٹھائی۔۔۔۔۔۔
پھوپھو زاد بہن۔۔۔ اسکے بچپن میں پھوپھو اور پھوپھا کی ایکسیڈینٹ میں ڈیٹھ ہوگئ تھی تو تب سے وہ ہمارے ساتھ ہی رہ رہی تھی مگر اب۔۔۔ انگلیاں چٹخاتے وہ بات ادھوری چھوڑ گئ۔۔۔۔
کمال ہے یار۔۔تمہاری ایک چھوٹی بہن ہے اور میری کبھی اس سے ملاقات ہی نہیں ہوئی۔۔۔ بلکہ شادی میں بھی وہ کہیں نہیں دکھی۔۔۔ وہ الماری سے اپنا آرام دم سوٹ نکالتا پلٹا۔۔۔
جی دراصل ہماری شادی کے دنوں میں اسکے پیپرز تھے اس لئے بہت کم وقت کے لئے اسنے شادی کے فنگشنز اٹینڈ کئے تھے۔۔۔عفیفہ سے بات بنانا محال ہوا۔۔۔ اب اسے حقیقی بات سے تو آگاہ کرنے سے رہی تھی۔۔۔۔
ٹھیک ہے عفیفہ تم اسے یہاں لانا چاہتی ہو تو لا سکتی ہو۔۔۔ تمہارا اپنا گھر ہے۔۔۔ بھلا مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے اس بات پر۔۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔
واقعی۔۔۔ آپ سچ کہہ رہے ہیں داود۔۔۔ تھینک یو سو مچ داود۔۔۔ وہ خوشی سے چہکتی اسکے پاس جا کر فرط جذبات سے اسکے دونوں ہاتھ تھام گئ۔۔۔۔۔
بس خوش رہا کرو عفیفہ۔۔۔ اس حال میں تمہارا خوش اور مطمیئں رہنا بہت ضروری ہے اور شاید اسی بہانے تم اپنا خیال بھی رکھنے لگو۔۔۔۔
داود نے اسکا خوشی سے دمکتا چہرا تھپتھپایا۔۔۔۔
میں ابھی گڑیا کو کال کر کے اسے سامان پیک کرنے کو کہتی ہوں۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی اپنا موبائل دھونڈتی کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔۔
******
ارے بجو آپکا گھر تو ماشااللہ بہت پیارا ہے۔۔۔ لاوئنج میں داخل ہوتے ہی عائزل نے اپنا بیگ صوفے پر رکھا اور اشتیاق سے چاروں جانب نگاہیں ڈوراتی گھر دیکھنے لگی۔۔۔
عفیفہ مسکراتے ہوئے وہیں صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔ اتنی سی دیر کی تگ و دود میں ہی وہ ہانپ گئ تھی۔۔۔
آج کل ایسے ہی وہ تھوڑا سا کام کر کے ہانپ جاتی۔۔۔
داود بھائی کہاں ہیں۔۔ گھر کا مسکراتی نگاہوں سے جائزہ لینے کے بعد اسکے پاس ہی بیٹھتی مستفسر ہوئی۔۔۔
وہ میرے ساتھ ہی آنے والے تھے تمہیں لینے گڑیا مگر انہیں کوئی کال آگئ۔۔۔
انہیں ارجینٹلی کہیں جانا پڑ گیا ۔۔۔ اس لئے انہوں نے ڈرائیور بھیج دیا۔۔۔۔
تم بیٹھو میں تمہارے لئے چائے لاتی ہوں۔۔۔۔
انہیں کافی دیر ہوگئ تھی وہیں بیٹھے باتیں کرتے کرتے جب عفیفہ یاد آنے پر کہتی وہاں سے اٹھی۔۔۔
ارے نہیں بجو۔۔۔ آپکی طبیعت تو پہلے ہی ٹھیک نہیں آپ رہنے دیں۔۔۔ آپ کمرے میں چل کر آرام کریں میں ہم دونوں کے لئے چائے بنا کر لاتی ہوں۔۔۔
آفٹر آل میری بجو کا گھر ہے۔۔۔
کیوں نہیں گڑیا۔۔۔ چلو پھر تم چائے بناو اور کیبنز میں جار ہے کوکیز کا وہ بھی لے آنا۔۔۔
عفیفہ اسے کچن کا بتا کر خود اپنے کمرے میں چلے گئ۔۔۔
عائزل نے کچن میں آتے ہی چائے کی چیزیں دھونڈی اور چائے بننے کے لئے رکھی۔۔
تبھی باہر لاوئنج کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔۔۔
عفیفہ تم یہاں۔۔ داود بات کرتا کچن میں ہی آیا تھا۔۔۔ جبکہ عائزل یوں اسکی اچانک آمد پر بوکھلا کر پلٹی۔۔۔۔
اسلام علیکم داود بھائی۔۔۔ وہ بجو کمرے میں آرام کر رہی ہیں۔۔۔ دراصل انکی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لئے میں چائے بنانے آگئ۔۔۔۔وہ ہاتھ مسلتی گھبراہٹ میں وضاحت دینے لگی۔۔۔
ناجانے وہ پہلے ہی ان اسکی اپنے کچن میں اتنے حق سے موجودگی کو کس انداز میں لیتا۔۔۔
عائزل کو جی بھر کر شرمندگی ہوئی۔۔۔
اور داود وہ تو ایک لمحے کو اسکی معصومیت میں ہی کھو گیا تھا۔۔۔ اتنا معصوم حسن۔۔۔
لیکن جلد ہی وہ سر جھٹکتا سمبھلا۔۔
کیوں نہیں گڑیا۔۔۔ تمہارا اپنا ہی گھر ہے۔۔ سو بی ریلیکس۔۔
وہ اسکی اضطراری کیفت دیکھ اسکے سر پر ہاتھ رکھتا مسکرا کر کہتا اندر چلا گیا۔۔۔
جبکہ اسکے جاتے ہی عائزل نے اپنا کب کا رکا سانس خارج کیا۔۔۔
داود اس پر اپنا پہلا ہی تاثر اچھا چھوڑ چکا تھا۔۔۔
****
ایمن نے تھانے میں داخل ہوتے ہی جانچتی نگاہوں سے چاروں جانب دیکھا۔۔۔ وہاں بھانت بھانت کے لوگ تھے۔۔۔
مجھے انسپیکٹر ضامن سے ملنا ہے اسنے پاس سے گزرتے ایک کانسٹیبل سے کہا۔۔۔
اس کانسٹیبل نے اسے سر تا پاوں دیکھا۔۔۔
ایمن اسکی نگاہوں سے خاصا بے آرام ہوئی۔۔۔
وہ دراصل انہوں نے مجھے بلایا تھا۔۔۔ کہ کوئی سکیمر پکڑا گیا ہے اسکے خلاف پرچہ کٹوانا ہے۔۔۔ اسنے وضاحت دینا ضروری سمجھا۔۔۔
اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔ چلو آپ بیٹھ کر کچھ دیر انتظار کرو۔۔۔ صاحب ابھی کسی کام سے گئے ہیں۔۔۔ بس آتے ہی ہونگے۔۔۔۔
وہ اسے ایک جانب بیٹھنے کو اشارہ کرتا آگے بڑھا جب ایمن کچھ سوچ کر اچانک گویا ہوئی۔۔
اچھا سنیں۔۔۔ ایمن کی آواز پر وہ رک کر پلٹا۔۔۔۔
کیا میں اس سکیمر سے مل سکتی ہوں۔۔۔ میرا مطلب میں ایک دفعہ اس شخص کو دیکھنا چاہتی ہوں جسنے اتنے گھروں میں تباہی لائی۔۔۔ اسنے سرعت سے وضاحت دی۔۔۔
کانسٹیبل نے کچھ پل اسے دیکھا۔۔۔
چلو ٹھیک ہے لیکن ملاقات مختصر کرنا صاحب آتے ہی ہونگے۔۔۔
وہ شخص اسے رضا مندی دیتا آگے آگے چلنے لگا۔۔۔
ایمن نے بھی اسکی تقلید کی۔۔۔ اندر طرح طرح کے جذبات سر ابھار رہے تھے۔۔۔۔
ناجانے اس شخص کو دیکھ کر وہ کیسا رد عمل دیتی۔۔۔
دل تو چاہ رہا تھا اس شخص کا ایک دفعہ منہ توڑ کر رکھ دیتی تاکے وہ دوبارہ کسی کی زندگیوں کو یوں ابتر کرنے کی ہمت نا کر پاتا۔۔۔
وہ سامنے ہے وہ شخص۔۔۔
کانسٹیبل کے کہنے پر وہ قدم قدم بڑھاتی اس جانب گئ۔۔۔
سامنے ایک شخص حوالات میں اسکی جانب پشت کئے کھڑا تھا۔۔۔
غم و غصے کا ایک طوفان اسکے اندر امڈا۔۔۔۔
ایکسکیوز می۔۔۔ وہ مدہم آواز میں گویا ہوئی جب اسکی آواز سن کر وہ شخص پلٹا۔۔۔
جبکہ سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھ کر ایمن کو اپنی نگاہوں کے سامنے زمین و آسمان گھومتے دکھائی دیئے۔۔۔
وہ کسی بھی چیز کی توقع کر سکتی تھی۔۔۔ مگر یہ ایک واحد چیز تھی جسکی وہ کبھی توقع نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
******

No comments