Scheme novel 16th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 16th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔
_____
سولہویں قسط۔۔۔
کنول اپنے بدن کی لغزش پر قابو پاتی وہاں سے گرتی پڑتی بامشکل روڈ تک پہنچی۔۔ دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔۔۔ بامشکل حسن کو خود میں بھینچے اسنے اپنی کپکپاہٹ پر قابو پانا چاہا۔۔۔ بھرائی نگاہوں کو جھپکتے اسنے ایک ٹیکسی روکی اور اس میں سوار ہو گئ۔۔۔
بس اسی دن سے ڈرتی تھی وہ۔۔۔ اسنے آنکھیں بند کرتے کئ ایک گہرے گہرے سانس بھرے۔۔۔
کیا کبھی برائی کا نتیجہ بھی اچھا ہوا ہے بھلا۔۔۔۔ صبح سے دل پریشان تھا ۔۔۔اور اب اسکے بدترین خدشات کس صورت اسکے سامنے آ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔
ٹیکسی والے نے اسے گھر کے سامنے اتارا تو وہ اسے پیسے پکڑاتی اندر بڑھی۔۔۔
تب سے ضبط کئے آنسو پلکوں کی بار پھیلانگ نکلے تھے۔۔۔
حسن کو وہیں لاوئنج کے صوفے پر بیٹھاتے وہ آن کی کمپیوٹر لیب کی جانب بڑھی۔۔۔ ایک دل چاہا کے اسکی غیر موجودگی میں اس لیب کی ہر چیز کو آگ لگا دے۔۔۔
اندر ابھرتے غم و غصے کے جذبات کو اندر ہی دابتی اسنے آن کی ڈائری دھونڈنی چاہی۔۔۔
ڈائری ڈھوندنے کے لئے اسے زیادہ تردد نہیں کرنا پڑا تھا وہ اسے سامنے ہی لیپ ٹاپ کے پاس پڑی مل گئ۔۔
ڈائری کھولتے پہلے ہی صفحے پر موجود پہلا نمبر اسنے ڈائل کیا۔۔۔
ہیلو۔۔۔ آن اریسٹ ہو گئے ہیں۔۔۔ انہوں نے ہی مجھے آپ سے رابطہ کر کے آپکو بتانے کا کہا ہے۔۔۔ پلیز انہیں بچا لیں۔۔۔ وہ رابطہ استوار ہوتے ہی سسکتی ہوئی گویا ہوئی۔۔۔
نوارد نے اسے موٹی سی گالی سے نوازتے فون بند کر دیا تھا۔۔۔
وہ کرب سے آنکھیں میچتی وہیں اس اونچی کرسی کے پاس بیٹھتی چلی گئ۔۔۔
******
یو آر انڈر اریسٹ مسٹر۔۔۔۔
انسپیکٹر ضامن ریوالور اس پر سے ہٹاتا کانسٹیبل سے ہتھکڑی پکڑ کر اسکی جانب قدم بڑھاتا گویا ہوا۔۔۔
اریسٹ ۔۔ مگر کیوں ۔۔۔ کیا آپ مجھے میرا جرم بتا سکتے ہیں۔۔۔
رفتہ رفتہ اسکا کانفیڈینس بحال ہونے لگا تھا۔۔۔
ضامن کی نظر نیچے گرے موبائل پر پڑی۔۔۔ اسنے کانسٹیبل کو موبائل اٹھانے کا اشارہ کیا۔۔۔
کرنل صاحب کا اکاونٹ ہیک کرنے کے جرم میں۔۔۔ سنجیدگی سے کہتے ضامن نے اسکے بازو میں ہتھکڑی پہنانا چاہی۔۔۔
ایک۔۔ ایک منٹ انسپیکٹر۔۔۔ وہ بدک کر پیچھے ہٹتا گویا ہوا۔۔۔
ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔ میں ایک شریف شہری ہوں۔۔۔ میرا اپنا گاڑیوں کا شو روم ہے۔۔۔
میں آپکی غلط فہمی دور کرنے کو اس شہر کے معتبر بندوں کی ضمانت بھی دلوا سکتا ہوں۔۔۔
اگر آپ مجھے تھانے لے کر جانا چاہیں تو بھی کوئی مسلہ نہیں۔۔۔ ہم وہاں چل کر بھی غلط فہمی دور کر سکتے ہیں۔۔ لیکن پلیز اس شہر میں میرا ایک نام ہے ایک مقام ہے۔۔۔ آپ یہ ہتھکڑی واپس رکھ لیں میں آپکے ساتھ خود چلتا ہوں۔۔۔ وہ مسکرا کر قائل کرتے اندا میں گویا ہوا۔۔۔
آخر اتنے سالوں کا تجربہ تھا وہ کب کام آنا تھا۔۔۔ ضامن اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھتا رہا۔۔۔ لوگوں پر یقین کرنے کے معاملے میں وہ تھوڑا کانشیس تھا۔۔۔ اتنی جلدی کسی کی بات پر یقین نا کرتا۔۔۔ اور پھر اسکا پروفیشن اسے اس چیز کی اجازت دیتا بھی نا تھا۔۔۔
وہ رضا مندی دیتا سر ہاں میں ہلا کر اسے ہاتھ کے اشارے سے چلنے کا بول چکا تھا۔۔۔
نہایت خاموشی کے ساتھ وہ ان سب اہلکاروں کے نرغے میں سر اٹھاتا چہرے پر ایک مبہم مسکراہٹ سجائے سیڑھیاں اتر رہا تھا۔۔۔
وہ ایک سکیمر تھا۔۔۔ لوگوں کو انکی نفسیات کے مطابق ڈیل کر لینے والا ۔۔۔ وہ سب فکس کر لے گا۔۔ وہ پرامید تھا۔۔۔
*****
وہ ایک تفتیشی سیل تھا جہاں اس وقت میز کے اس پار آن کرسی پر بیٹھا تھا جبکہ دوسری جانب ضامن کیساتھ ساتھ چند ایک اور اہلکار۔۔۔
سامنے میز پر ایک پیکٹ میں اسکا موبائل پڑا تھا۔۔۔
محترم اس موبائل کا لاک کھولیں۔۔۔ انسپیکٹر ضامن ٹانگ پر ٹانگ جمائے آر پار ہوتی نگاہیں اس پر گاڑے بیٹھا تھا۔۔۔
یہ اسکا موبائل تھا جس میں اسکا تقریباً سبھی ریکارڈ تھا۔۔۔ اسکی کال ہستری سے وہ لوگ باآسانی اسکی ساری گینگ کو پکڑ سکتے تھے۔۔۔
یہ ایک موبائل فون اسے قبر کی مٹی تک پہنچا سکتا تھا۔۔۔ اس سے غلطی یہ ہوئی کے اسے موبائل سے ساری ہسٹری کلیئر کرنے کا موقع نا ملا تھا۔۔۔
اسنے چند پل کا توقف لیتے اپنا دماغ گھمایا۔۔۔ پھر گہرا سانس خارج کرتا ضامن کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
سر یہ میرا موبائل نہیں ہے۔۔۔ وہ سرے سے ہی مکر گیا۔۔۔
جبکہ ضامن اسکی اس بات پر ٹیک چھوڑتا سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔ ماتھے پر بل پڑنے لگے تھے۔۔۔
یہ تمہارا موبائل نہیں ہے۔۔ وہ کاٹ دار لہجے میں سوالیہ مستفسر تھا۔۔۔
نہیں۔۔ آن کے اعتماد میں رتی برابر فرق نا آیا۔۔۔
دو منٹوں میں اسکا لاک کھلوا لیا جائے گا مسٹر اور اسکے بعد اس موبائل کے تمہارا ثابت ہو جانے کے بعد تم اندازہ لگا سکتے ہو کے تمہارا کیا حال ہوگا۔۔۔
ضامن کے چہرے پر خطرناک حد تک سنجیدگی پھیلی۔۔۔
سر میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کے یہ میرا موبائل نہیں ۔۔۔ اب پھر سے یہ ہی کہوں گا۔۔۔
میں آپکے آنے سے محض چند پل پہلے اس کیبن میں گیا تھا اور میرے وہاں آنے سے پہلے یہ موبائل وہاں موجود تھا۔۔۔ وہ اسے اطمینان سے کمر کرسی کی پشت سے ٹکاتا بول رہا تھا۔۔۔
اضغر۔۔۔ ضامن نے اسی پر نظریں ٹکائے کانسٹیبل کو آواز دی۔۔۔
یس سر۔۔۔
یہ موبائل کمپنی کے ہیکر کو دو تاکے اسکا لاک کھول سکے۔۔۔ باقی سب بعد میں۔۔۔ اسکے کہتے ہی کانسٹیبل وہ موبائل کا پیکٹ اٹھاتا وہاں سے نکل گیا۔۔۔
سر ۔۔ تبھی ایک دوسرا اہلکار اسے سلوٹ کرتا وہاں آیا۔۔۔
سر کرنل صاحب کا اکاونٹ ریکور ہو گیا ہے۔۔۔ فلائنگ کمپنی کے سینیئر ہیکر آزر نے اکاونٹ ریکور کر لیا ہے ۔۔۔ انکی رقم واپس اکاونٹ میں موصول ہو گئ ہے۔۔۔۔
اسکی بات پر ایک پل کو آن سر تا پاوں ہل گیا۔۔۔ مگر چہرے کے تاثرات ہنوز نارمل تھے۔۔۔
یہ کیسے ممکن تھا بھلا ۔۔ اسکا ہیک کیا گیا اکاونٹ ریکور کر پانا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔۔۔
وہ بھی تب جب وہ رقم دوسرے اکاونٹ میں ٹرانسفر کر چکا تھا۔۔۔
یہ ایک انہونی تھی۔۔ یا شاید اسے ٹریپ کیا جا رہا تھا۔۔۔
یکدم ہی دماغ میں جھکڑ سے چلنے لگے۔۔۔
دماغ نینو سیکنڈ کے حساب سے سب جمع تفریق کرنے لگا تھا جب یکدم دماغ میں چلتی سبھی سوچوں کو بریک لگا تھا۔۔۔وہ تھم گیا جیسے ہر چیز اپنی جگہ پر سوکت ہو گئ ہو۔۔۔
جیسے سوچ کو ایک واضح سرا مل گیا تھا۔۔۔
اکاونٹ ریکور نہیں کیا گیا تھا۔۔۔ بلکہ۔۔۔۔۔
بلکہ اسکے پچھلوں نے کرنل کی اپروچ دیکھتے رقم واپس اسکے اکاونٹ میں ٹرانسفر کر دی تھی تاکہ کرنل کچھ ٹھنڈا ہو کر ہاتھ ہولا رکھے۔۔
آن نے ایک گہری سانس خارج کی۔۔۔ وہ سکیمرز تھے۔۔۔ اور سکیمرز نے بروقت چال چل دی تھی۔۔۔
سر اب تو آپکا مسلہ بھی حل ہو گیا ہے تو کیا اب میں جا سکتا ہوں۔۔۔ آن مودب سا گویا ہوا۔۔۔
ضامن ہنوز اسے جانچتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔ یک لفظی جواب دیتے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
جب تک موبائل کا لاک نہیں کھل جاتا اور تفتیش مکمل نہیں ہو جاتی تم کہیں نہیں جا سکتے۔۔۔۔
البتہ وہ اسکے خلاف ابھی پرچہ نہیں کاٹ سکتا تھا وہ موبائل کا لاک کھلنے کے بعد پکے ثبوت ہاتھ لگنے کی صورت ہی کٹنا تھا۔۔۔۔
لیکن وہ اتنی مشکل سے ہاتھ لگے سکیمر کو اتنی جلدی جانے نہیں دے سکتا تھا ۔۔۔
اسے ابھی اسکے خلاف کیس مضبوط کرنا تھا تاکہ اسکی واپسی کے دروازے بند ہو سکیں۔۔۔
وہ وہاں سے اٹھتا باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ آن اسکی پشت کو گھورتا رہا۔۔ ایک شاطر مسکراہٹ آن کے چہرے پر ابھری۔۔۔
*******
عائزل صحن کے بیچ و بیچ حق دق سی کھڑی تھی۔۔۔ یہ لمحوں میں کیا سے کیا ہو گیا تھا بھلا۔۔۔۔
اسنے ایسا تو کچھ نا سوچا تھا۔۔۔ اسکی آنکھوں کی پتلیاں ساکت تھیں اور نگاہیں صحن کے وسط میں موجود دو چارپائیوں پر مرکوز تھی۔۔۔
ارد گرد کئ ایک لوگ تھے۔۔۔ وہاں بین تھے۔۔۔ سسکیاں تھیں۔۔ آہیں تھیں۔۔۔ لیکن اسکا دماغ تو مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔
یہ اسکے ارد گرد ہو کیا رہا تھا۔۔۔ دفعتاً اسنے گیٹ سے عفیفہ کو اندر داخل ہوتے دیکھا۔۔۔
سرخ سوجھی آنکھیں۔۔ متورم چہرا اور بکھری حالت۔۔۔ وہ اندر داخل ہوتے ہی عورتوں کے جھرمت سے گزرتی ان چارپائیوں تک آئی اور ان چارپائیوں سے لپٹتی ڈھاریں مار مار کر رو دی۔۔۔
کئ عورتیں اسے سمبھالتیں صبر کی تلقین کرتی قابو کر رہی تھیں۔۔۔ مگر وہ ان کے ہاتھوں سے پھسل پھسل جاتی۔۔۔
عائزل کی ساکت پتلیوں نے زرا سی حرکت کی۔۔۔ ساتھ اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔ ارد گرد سب گول گول گھومنے لگا تھا۔۔۔ ہر چیز چکراتی محسوس ہوئی۔۔۔ ساتھ ہی وہ پورے قد سے لہراکر زمین بوس ہوئی۔۔۔
*****
اسکی آنکھ کئ مختلف آوازوں کے شور سے کھلی تھی۔۔۔ آنکھ کھلتے ہی اسکی نگاہ فین سیلنگ سے ٹکرائی۔۔۔ وہاں سے نظر سفر کرتی بائیں جانب آئی اور اپنے ہاتھ کی پشت پر لگی ڈرپ کو دیکھ کر وہ ٹھٹھکی۔۔۔ کمرا روشن تھا۔۔۔ باہر سے روشنی اندر آ رہی تھی۔۔۔
کمرے میں چند خواتیں بیٹھیں تھیں۔۔۔۔ اسے ہوش میں آتا دیکھ وہ ایک دوسرے سے گویا ہوئیں۔۔۔
ارے عائزل کو ہوش آ گیا ہے۔۔۔ عفیفہ کو بلاو۔۔۔
رفتہ رفتہ اسکے سوئے حواس بحال ہونے لگے اور ذہن شعور کی منازل طے کرنے لگا۔۔۔
کل کے واقعات یاد آتے ہی ایک چیخ اسکے حلق سے برآمد ہوئی اور وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔
تبھی ملگجے کپڑوں اور الجھے بالوں کیساتھ عفیفہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔
گڑیا میری جان۔۔۔ اسے چیختے دیکھ عفیفہ نے سرعت سے اسے خود میں بھینچا۔۔۔
شکر ہے گڑیا تمہیں ہوش تو آیا۔۔۔ تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔۔۔
کل پوری رات تمہیں ہوش نہیں آیا۔۔۔ میری تو جان ہی سولی پر اٹکی ہوئی تھی۔۔۔
عفیفہ اسے خود میں بھینچے آنکھیں سختی سے بند کئے خاموش آنسو بہا رہی تھی۔۔۔
جبکہ اسکی بات سن کر عائزل تھم گئ۔۔۔ مطلب یہ اگلا سورج طلوع ہو چکا تھا۔۔ اور ماموں اور مامی۔۔۔
اس سے آگے اس سے سوچا ہی نا گیا۔۔۔
بجو ۔۔۔ ماموں۔۔۔ مامی۔۔۔۔ وہ پھر سے سسک اٹھی۔۔۔ جبکہ عفیفہ نے اسے اور سختی سے خود میں بھینچا۔۔۔۔
یہ تو ایک ناگہانی آفت ٹوٹی تھی ان پر۔۔۔
بجو ابھی تو مامی اچھی والی مامی بنی تھی۔۔۔ ابھی تو مجھ سے پیار کرنے لگی تھی پھر وہ۔۔۔ الفاظ ٹوٹ رہے تھے اور دل پھٹ رہا تھا۔۔۔
بے ساختہ اسے کل صبح کا وقت یاد آیا۔۔۔۔
عائزل۔۔۔ بیٹا ناشتہ تیار کر دیا ہے یاد سے کھا لینا۔۔۔ اور ہاں دروازہ اچھے سے بند کر لینا ہمیں آنے میں شاید دوپہر ہو جائے۔۔۔ وہ ابھی ابھی سو کر اٹھی تھی جب مامی کہیں جانے کو تیار اسکے کمرے میں آئی۔۔۔
انکے کسی عزیز کی طبیعت اچانک خراب ہو گئ تھی۔۔
اس لئے وہ ہنگامی صورت میں ماموں کے ساتھ ہسپتال جا رہی تھی۔۔۔
وہ مسکرا کر انہیں مطمیئں کرتی انکے ساتھ ہی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
انکے جانے کے بعد واپس آ کر اسنے ناشتہ کیا اور گھر کے چھوٹے موٹے کام کرنے لگی۔۔۔
آج اتوار ہونے کے باعث وہ گھر پر تھی۔۔۔ تقریباً گیارہ بجے کے قریب اسے اپنے گھر کے باہر ایمبولینس کے رکنے کی آواز آئی۔۔۔
ساتھ ہی گیٹ زور زور سے پیٹا جانے لگا۔۔۔
یکدم ہی اسکا دل بیٹھنے لگا تھا۔۔۔ قدموں تلے سے زمین گویا کھسکنے لگی تھی۔۔۔ دل کسی انہونی کے ڈر سے لرزنے لگا تھا۔۔۔
اسنے بامشکل خود کو گھسیٹتے گیٹ وا کیا۔۔۔
اور سامنے کا منظر اسے پورے قد سے زمین بوس کر گیا تھا۔۔۔
*****
کل امی ابو کا گھر سے نکلتے ہی روڈ کراس کرتے ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا گڑیا۔۔۔
عفیفہ زرا سمبھل کر سیدھی ہوتی گویا ہوئی۔۔۔ ارد گرد کے لوگوں نے ریسکیو سے رابطہ کر کے انہیں ہسپتال پہنچایا۔۔۔
انکے موبائل سے نمبر لے کر انہوں نے داود سے رابطہ کیا۔۔۔ لیکن ایکسیڈینٹ شدید تھا انکے ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ دونوں دم توڑ گئے تھے۔۔۔
عفیفہ بولتے بولتے ہچکی بھرتی رکی۔۔۔
رت بھر جاگنے اور رونے کے باعث اسکی آنکھیں سوج گئ تھیں۔۔۔
عائزل اسکی گود میں سر رکھتی لیٹ گئ۔۔۔ وہ آج دوسری دفعہ یتیم ہو گئ تھی۔۔۔
ناجانے زندگی اتنی بے رحم کیوں تھی۔۔۔۔ وہ کرب سے سوچ کر رہ گئ۔۔۔
*****
رات کے کسی پہر یکدم ہی ماں کی طبیعت خراب ہو گئ تھی۔۔۔ انکے پاس ہی لیٹے ہونے کی باعث انکی پہلی کراہ پر ہی ایمن کی آنکھ کھل گئ تھی۔۔۔
ماں آپ ٹھیک ہیں۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھتی لحاف پھینک کر ماں کے پاس پہنچی۔۔۔۔
ماں کی حالت یکدم ہی بگڑنے لگی تھی۔۔۔ پہلو سے درد کی شدید لہریں اٹھنے لگیں۔۔۔ وہ درد سے دہری ہوتیں کراہ رہیں تھیں۔۔۔
ماں کی یوں بگڑتی حالت دیکھ ایمن کے ہاتھ پاوں پھولنے لگے۔۔۔ اسنے بھاگ کر جا کر حماد کا دروازہ ڈھرڈھرایا۔۔۔
لمحوں میں وہ بھی موندی آنکھیں ملتا باہر آیا۔۔۔ لیکن ماں کی بگڑتی حالت دیکھ ایک پل کو رو وہ بھی چکرا گیا۔۔۔
رات کے اس پہر ماں کو ہسپتال لے کر جانے کے لئے کوئی سواری ملنا بھی مشکل تھا۔۔۔
جیسے تیسے وہ انہیں لے کر ہسپتال پہنچے۔۔ انکی حالت کے پیش نظر انہیں فوراً ایمرجنسی میں داخل کر لیا گیا۔۔۔
فوری ملنے والے ٹریٹمنٹ سے انہیں کچھ افاقہ ہوا تھا۔۔۔
ہوش میں آتے ہی وہ حماد کے سامنے ہاتھ جوڑ گئیں۔۔۔
مجھے معاف کردو حماد۔۔۔ میرے بچے۔۔۔ تمہاری ماّں بہت بے وقوف نکلی۔۔۔ میں اپنے ہاتھوں سے ہی اپنے دونوں بچوں کو سالوں کے قرضے نیچے دبا گئ۔۔۔
ماں کی باتوں سے وہ دونوں پورے قد سے ڈھے گئے تھے۔۔۔ تو ابھی تک یہ ہی بات ماں کے حواسوں پر سوار تھی۔۔ جو انہیں کسی کروٹ سکون لینے نا دے رہی تھی۔۔
ایمن نے ٹرپ کر ماں کے جڑے ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگائے۔۔۔
نہیں ماں آپ مجھے معاف کر دیں۔۔ اس روز میں صدمے کے باعث حواسوں میں نا تھا اس لئے جو منہ میں آیا بولتا چلا گیا۔۔۔
پتہ نہیں میں نے کیا کیا بکواس کی۔۔۔ حماد کے دل پر ہاتھ پڑا تھا۔۔۔ وہ ماں کے پاوں اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں تھامتا سسک اٹھا تھا۔۔
اسکے آنسو ماں کے نحیف اور کمزور پاوں پر گر رہے تھے۔۔۔
مجھے معاف کر دیں ماں۔۔۔ اپنی اس نافرمان اولاد کو معاف کر دیں۔۔۔ غلطی آپ سے نہیں مجھ سے ہوگئ۔۔۔ میں اپنی ماں ور بہن کو تحفظ نا دے سکا۔۔۔
ماں نے ایمن کو ساتھ لگانے کیساتھ ہاتھ بڑھا کو اسے بھی پاس بلایا ۔۔
بہن کا بہت خیال رکھنا حماد بہت زیادہ۔۔۔ بیٹیاں بہت حساس ہوتیں ہیں۔۔۔ میری بیٹی کو مائیکے کی کمی محسوس نا ہونے دینا۔۔۔ وہ دونوں بچوں کو اپنے حصار میں لئے گویا ہوئیں تو دونوں نے تڑپ کر انہیں دیکھا۔۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہیں ماں۔۔۔ اللہ ہمارے گھر کی رونق کو صدا قائم و دائم رکھے۔۔۔ ایمن نے ماں کے ہاتھ چومتے انکے آنسو صاف کئے۔۔۔
ماں دوائیوں کے باعث پھر سے غنودگی میں جانے لگی تھی۔۔۔
حماد نے ماں کو سیدھا کر کے لیٹاتے ان پر لحاف دیا۔۔۔
وہ ساری رات ان دونوں بہن بھائی نے ماں کے پاس جاگ کر گزاری تھی۔۔۔
صبح حماد وہیں ناشتہ لے آیا۔۔ دونوں نے خاموشی سے ناشتہ کیا۔۔ ماں کے اٹھنے پر ایمن نے انہیں سیب کاٹ کر کھلایا۔۔۔
صبح نو بجے کا وقت تھا جب ایمن کے فون پر غیر شناسا نمبر سے فون آیا۔۔۔ وہ کتنی ہی دیر موبائل ہاتھ میں تھامے گم صم سی بیٹھی رہی۔۔۔
کیا اسے فون اٹھانا چاہیے۔۔۔
انکے ساتھ جسقدر سکیم ہو چکا تھا اب تو وہ پاس سے گزرنے والی ہوا سے بھی ڈر جاتی۔۔۔۔
فون بج بج کر بند ہو چکا تھا۔۔۔۔
اسنے گہری سانس خارج کی لیکن تبھی فون دوبارہ سے بجنے لگا۔۔۔
اسنے محتاط سے انداز میں فون اٹھا کر کان سے لگایا ۔۔۔
لیکن دوسری طرف سے ابھرنے والی آواز اور پیغام سن کر وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
اسے ہنوز اپنی سماعت پر دھوکے کا گمان ہو رہا تھا۔۔۔
********

No comments