Header Ads

Scheme novel 15th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 


Scheme novel 15th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔

_____

پندرہویں قسط۔۔۔۔
اس آفیسر کی باتیں سن کر دائم کے دماغ میں جھکڑ سے چلنے لگے ۔۔۔ وہ غائب دماغی کی حالت میں آفس سے نکل کر اپنی گاڑی تک آیا۔۔۔
دل ابھی تک ماننے سے انکاری تھا کہ  عائزل اسے دھوکہ دے سکتی ہے۔۔۔ ضرور کہیں کچھ گڑبڑ تھی۔۔
عین ممکن تھا کے خود عائزل کے ساتھ سکیم ہو گیا ہو۔۔ اس سے جیولری لے کر اسے اپنے جال میں پھانسا گیا ہو۔۔
اب دل کو عائزل کی فکر لگ گئ تھی۔۔۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اسنے عائزل کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔ مگر غیر یقینی طور پر نمبر بند تھا۔۔۔ 
آج تک ایسا تو نا ہوا تھا کے اسکا نمبر بند ہوتا۔۔۔ ایک بار دو بار اور پھر بار بار۔۔۔ وہ بار بار اسکا نمبر ملا رہا تھا مگر۔۔۔ ہر بار نمبر بند ہی تھا۔۔۔
اسی شش و پنج میں مبتلا وہ آفس جانے کے بجائے اپنے فلیٹ میں آگیا۔۔۔
سکیم ایک طرف ۔۔۔ لیکن عائزل سے رابطہ نا ہو پانا اسے زیادہ پریشان کر رہا تھا۔۔۔
اسنے ٹویٹر اکاونٹ سے اس سے رابطہ کرنے کی کوشیش کی جہاں سے  پہلی مرتبہ اس کا عائزل سے رابطہ استور ہوا تھا۔۔۔
لیکن اسکا دماغ بھک سے اڑا کیونکہ عائزل نام سے اب وہاں کوئی اکاونٹ نہیں تھا۔۔۔ 
وہ اکاونٹ سرے سے ہی ختم کر دیا گیا تھا ۔۔۔
دماغ میں غصے کا ایک طوفان امڈا۔۔۔ اسنے بامشکل خود کو کمپوز کرتے ٹھنڈا رکھنا چاہا۔۔۔
دماغ اسے جو سگنل دے رہا تھا دل اسے ماننے سے انکاری تھا۔۔۔ وہ عائزل پر شک نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
مگر اس سے ملنے کا اس تک جانے کا بھی ہر راستہ اب بند ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
کچھ سوچتے ہوئے اسنے اپنے دوست ضامن کا نمبر ملایا۔۔۔ شاید وہ اسکی مدد کر پاتا۔۔۔
تیسری ہی بیل پر دوسری طرف سے رابطہ استوار ہو گیا تھا۔۔۔
رسمی دعا سلام کے بعد دائم نے ساری بات اسکے گوش گزاری۔۔۔
ضامن نے انتہائی تحمل سے اسکی بات سنی پھر سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
بات دراصل یہ ہے دائم کے میں جس پیشے سے وابسطہ ہوں وہاں پر جذبات کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔
مطلب۔۔ صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے ماتھا مسلتا دائم سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔ پہلے سے پریشان چہرے کے ماتھے پر بل ابھرے۔۔۔
مطلب یہ کہ۔۔۔ وہ کچھ توقف کو رکا۔۔۔ 
کہ آسان الفاظ میں وہ لڑکی ٹھگ تھی۔۔ اور بہت خوبصورتی سے جال بن کر تمہیں ٹھگ گئ ۔۔
دائم نے سختی سے جبڑے بھینچے یوں کے ماتھے کی نسیں تک ابھرنے لگیں۔۔۔
وہ ایسی نہیں ہے ضامن۔۔ وہ بہت معصوم ہے۔۔۔ اسنے بامشکل اندر پلتے لاوے پر قابو پایا تھا۔۔۔۔
معصوم تھی۔۔۔۔ وہ پھر رکا ۔ 
اسی لئے بہت خوبصورتی سے تمہیں ڈاج دے گئ۔۔۔ ورنہ شاطر چہروں کے دام میں کوئی نہیں پھنستا۔۔۔
دوسری طرف سے ابھی بھی سنجیدہ جذبات سے عاری آواز ابھری۔۔۔
بکواس نہیں ضامن۔۔  مجھے یہ بتاو کے کیا تم میری کوئی مدد کر سکتے ہو یا نہیں۔۔۔ شرارے اگلتی آنکھوں کو میچتے وہ چبا چبا کر گویا یوا۔۔۔
ضامن نے ایک گہری سانس خارج کی۔۔۔
دوبارہ  اس لڑکی کا نمبر آن نہیں ہو گا ۔۔۔ اور اکاونٹ وہ پہلے ہی ڈیلیٹ کر چکی یے۔۔ یہ آج کل بہت عام ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ لیکن خیر تم مجھے اس لڑکی کا نمبر سینڈ کر دو۔۔۔
معلومات نکلوا کر دیکھتا ہوں۔   دیکھو کیا نکلتا ہے۔۔۔
خیر تم خود کو ہر چیز کے لئے تیار رکھو۔۔۔۔
دائم نے گہری گہری سانس بھرتے اندر لگی آگ کو ٹھنڈا کرنا چاہا۔۔۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ ضامن کو نمبر سینڈ کر چکا تھا۔۔۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ عائزل کا نمبر بھی ڈائل کرتا جا رہا تھا۔۔۔
اللہ کرے کے ضامن کی کہی ہر بات غلط ثابت ہو۔۔۔ ورنہ وہ ناجانے کیا کر گزرتا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔
****
حسن کافی دیر سے رو رہا تھا۔۔۔۔ اور کنول اسے چپ کروا کروا کر ہلکان ہو گئ تھی۔۔۔
جہازی سائز بیڈ پر اسے لیٹائے وہ خود بھی اسکے ساتھ ہی نیم دراز تھی۔۔۔ کمرے کے بلائنڈز گرے تھے اور کمرا نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔
روتے روتے اب حسن نیم غنودگی میں جانے لگا تھا جبکہ کنول ہنوز اضطراری کیفیت میں اسے تھپک رہی تھی۔۔۔
چہرے سے پریشانی ہوادیدہ تھی اور انداز میں ایک بے چینی تھی۔۔۔
ایسی بے چینی جو کسی کروٹ سکون نا لینے دے رہی ہو۔۔۔ دل گھبرا رہا تھا۔۔۔ جیسے کچھ غلط ہونے والا ہو۔۔۔۔
حسن سو گیا تھا وہ اس پر لحاف درست کرتی بستر سے اتر آئی۔۔۔
کھلی سی قمیض اور کپری پہنے کمرے سے نکلتے ہوئے اسنے پشت پر بکھرے بالوں کو فولڈ کر کے رف سا جوڑا بنایا۔۔۔
گھڑی صبح کے گیارہ بجا رہی تھی اور اب بھوک سے بھی پیٹ میں بل پڑنے لگے تھے۔۔۔
وہ نا چاہتے ہوئے بھی بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر کچن کی جانب ناشتہ بنانے کی غرض سے بڑھی۔۔۔
صبح سے وہ کمرے میں ہی تھی۔۔۔ نا کپڑے بدلے نا بال بنائے۔۔۔ بس عجیب سے بے چینی تھی ہر سو۔۔۔
اسنے ایک چور نگاہ آن کی کمپیوٹر لیب پر ڈالی جسکا دروازہ مقفل تھا۔۔ 
دل پر بوجھ مزید بڑھنے لگا تھا۔۔۔
رات سے وہ اسی لیب میں خود کو بند کئے ہوئے تھا۔۔۔ اور ایسا تب تب ہوتا جب وہ کچھ الگ اور کچھ بہت بڑا پلان کر رہا ہوتا۔۔۔
اسکا ٹارگٹ کچھ بڑا ہوتا۔۔۔ تب وہ کئ کئ گھنٹے لگاتار اپنے ہدف کو ٹارگٹ کرنے میں لگا دیتا حتی کے فتح یاب ٹھہرتا۔۔۔
کنول نے ایک کپ چائے بنائی اور بریڈ کا سلائس اس کے ساتھ زہر مار کرنے لگی۔۔۔
اپنی بے بسی پر اسے رہ رہ کر طیش آتا۔۔۔
کیا روز محشر اس سے سوال نا ہوتا کے کیسے اسنے اپنی نگاہوں کے سامنے بے قصور لوگوں کو لٹتے دیکھا۔۔۔
کیسے وہ سب جانتے بوجھتے ان پر ظلم ہوتا دیکھتی رہی۔۔۔
قوم لوط پر سب سے پہلے کن لوگوں پر عذاب آیا تھا۔۔۔ 
ان پر جو سب غلط ہوتا اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے رہے مگر خاموش رہے۔۔۔ انہوں نے ظلم کے خلاف اپنی آواز نا اٹھائی۔۔۔۔تو کیا وہ پتھروں کے قابل نا تھی۔۔۔
اپنی ہی سوچوں سے گھبرا کر وہ بے چینی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
اپنا آپ یکدم ہی گناہوں میں لٹھرا محسوس ہونے لگا۔۔۔۔
اسنے ایک نگاہ پورے ہال میں دوڑائی۔۔۔
بہتریں انٹریئر۔۔۔ مہنگے شوپیس۔۔۔ ہر چیز رہنے والے کے ذوق کا پتہ دیتی تھی۔۔۔
اسکے شوہر نے اپنے گھر کو بہت خوبصورتی سے سجایا تھا۔۔۔ پر اسکی سوچیں تو کہیں اور ہی تانے بانے بن رہی تھیں۔۔۔
یہ گھر تو فانی تھا۔۔۔ اپنے ابدی گھر کے لئے اسنے کیا سوچا تھا۔۔۔
اسے تو ہر وقت قبر کا اندھیرا ہی ڈراتا۔۔۔ اسنے اس گھر کو روشن کرنے کے لئے کیا کیا تھا۔۔۔
وہاں تو اسے گھٹا ٹوپ اندھیرا ہی دکھائی دیتا۔۔۔ جہاں روشنی کا کوئی روزن تک نا تھا۔۔۔ وہ جو ابدی گھر تھ انکا۔۔۔
آن اسکے ایسے نادر خیالات سن کر ہستا تو ہستا ہی چلا جاتا۔۔۔ 
تم نا بہت ناشکری ہو کنول۔۔۔ کبھی جا کر دیکھو پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں۔۔  تمہیں پتہ چلے اس بے رحم دنیا میں سروائیو کرنا کتنا مشکل ہے۔۔۔ اور یہاں سروائیو کرنا ہی اصل آرٹ ہے۔۔۔ اور اسی مقصد کے لئے انسان کا وجود دنیا میں آیا۔۔۔
جو لائف سٹائل تم جی رہی ہو نا۔۔۔ دنیا اسکی خواہش کرتی ہے۔۔ تمہیں بنا مانگے مل گیا نا اس لئے تمہیں باتیں آتیں ہیں۔۔۔
دو دو دن تک بھوک سے بے حال رہنا پڑے نا تو سارے وعظ نکل جاتے ہیں۔۔۔ وہ ہستے ہوئے اسکی ہر دلیل ہر جواز کو چٹکیوں میں اڑا جاتا۔۔۔
یہ دنیا ایک سیراب ہے آن جسے حقیقت مانتے ہوئے سب اسکی خواہش میں اندھا دھند بھاگ رہے ہیں۔۔۔ 
یہ سب یونہی آنکھوں کے سامنے سے غآیب ہو جائے گا جیسے یہاں کچھ ہو ہی نا۔۔۔ ہر چیز کو موت ہے حتی کے انسانوں کی جان قبض کرنے والے فرشتے کو بھی موت ہے۔۔۔ سب فنا ہے باقی صرف اللہ کی ذات ہے۔۔۔
جانا تو پھر اسی اندھیری کوٹھری میں ہے نا جسکے بارے میں جانتے بوجھتے سمجھتے بھی ہم کچھ سمجھنا نہیں چاہتے۔۔۔ آن کے قہقوں اور ہسی کی جھنکار میں اسکی خدشات سے لرزتی پر نم آواز کہیں دبنے لگتی۔۔۔
اگر یہ دنیا ایک سیراب ہے نا کنول تو یہ  ایک بہت خوبصورت سیراب ہے۔۔۔ میں اس میں کھونا چاہوں گا۔۔۔ کیونکہ اللہ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے اور میں خوبصورتی کا قدردان ہوں۔۔  جیسے ایک خوبصورت چہرا ابھی میرے سامنے ہے۔۔۔ وہ اسکی صورت دیکھ شریر ہوتا اسے چڑاتا۔۔۔
تھک ہار کر وہ اپنے سبھی خدشات سبھی وہم سبھی ڈر اور خوف دل میں ہی چھپا کر اندر ہی اندر کڑھتی رہتی۔۔۔
اسے صوفے پر بیٹھے انہی سوچوں میں گم ناجانے کتنا وقت ہو گیا تھا جب کلک کی آواز کیساتھ آن کی کمپیوٹر لیب کا دروازہ کھلا۔۔۔
اندر سے وہ باہر نکلا۔۔۔ سرمئ ٹراوزر پر چیک شرٹ زیب تن کئے۔۔۔ بکھرے بال۔۔۔
تھکن زدہ چہرا مگر۔۔۔۔ مگر چہرے پر موجود الوہی چمک اور مسکراہٹ۔۔۔۔
کنول اسے دیکھتی ٹھٹھکی۔۔۔ یہ مسکراہٹ تو ایک فاتح کی تھی۔۔۔
یقیناً آج پھر سے وہ فاتح ٹھہرا تھا۔۔۔
تبھی تو یوں اسکی چال میں فتح کا نشہ بول رہا تھا۔۔۔
صبح سے بے چین دل میں مزید بے چیبیاں پنپنے لگی تھیں۔۔لنچ میں کیا ہے۔۔۔ وہ آنکھیں مسلتا اسکے پاس ہی ڈھنے کے انداز میں بیٹھا۔۔۔
میں نے لنچ نہیں بنایا آن۔۔۔ وہ شرمندہ ہوئی۔۔ اپنی ہی الجھنوں میں اسے لنچ تیار کرنا یاد ہی نہیں رہا تھا۔۔۔
تبھی حسن روتا ہوا کمرے سے باہر آیا۔۔۔ وہ نیند سے بیدار ہوا تھا۔۔۔
الے میلا پالا بےبی۔۔۔ آن نے محبت سے بیٹے کے ماتھے کا بوسا لیتے اسے گود میں اٹھایا۔۔۔۔ٹھیک ہے تم دو منٹ میں تیار ہو جاو کنول میں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔۔ پھر باہر لنچ کرنے چلتے ہیں۔۔۔ وی حسن کو کنول کو تھماتا خود فریش ہونے اندر چلا گیا۔۔۔
*****
تھانے میں اس وقت تھرتھری سی مچی تھی۔۔۔ ہر کوئی اپنے اپنے کام میں مصروف تھا۔۔۔
انسپیکٹر ضامن اپنے جونیرز سے بریفینگ لیتا تیز تیز قدم اٹھاتا پولیس موبائل کی جانب بڑھا۔۔۔
بھئ خیر ہے آج تھانے میں اتنی تھرتھری کیوں مچی ہے۔۔۔ ایک ملاقاتی تھانے میں اتنی ہلچل دیکھ حیرت سے حولدار سے مستفسر ہوا۔۔۔
ارے ایک کرنل صاحب کا اکاونٹ ہیک کیا ہے کسی ہیکر نے۔۔۔ بہت بڑا ہاتھ مارا ہے۔۔۔ صرف یہاں ہی نہیں پورے ملک کی پولیس فورس حرکت میں آگئ ہے۔۔۔
کرنل کا غصے سے برا حال ہے۔۔۔ اسکے اکاونٹ سے پانچ کڑور کا گھپلا ہوا ہے۔۔۔
وہ حولدار مونچھوں کو تاو دیتا ساری بات اسکے گوش گزارنے لگا۔۔۔
آگے پیچھے کئ پولیس موبائلز وہاں سے نکلی تھیں۔۔  کرنل کے ساتھ سکیم کرنا کوئی چھوٹی بات نا تھی۔۔۔ ملک کے بیشتر ادارے اس وقت حرکت میں تھی۔۔۔ کئ وائٹ ہیٹ ہیکرز اس گھپلے کے پیچھے کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو پکڑے بال کی کھال نکالتے اس سکیمر کی تہہ تک پہنچنے کی کوشیش کر رہے تھے۔۔۔
جیسے جس سسٹم سے اکاونٹ ہیک کیا گیا اسکا وائی فائی کہاں سے رجسٹر تھا۔۔ کس کے نام پر تھا۔۔۔ اس شخص کی ریزیڈینسی۔۔۔ 
بڑے پیمانے پر اس سکیمر کی پیروی ہونے لگی تھی۔۔۔
دفعتاً ضامن کے دیوائس پر رابطہ استوار ہوا۔۔۔
انسپیکٹر ضامن وہ ہیکر اس وقت لاہور میں موجود ہے۔۔ اسکی لوکیشن آپکو بھیجی جا رہی ہے۔۔۔ اسے ٹریس کر کے اریسٹ کریں۔۔ 
یس سر۔۔۔
اور پھر لوکیشن کے آتے ہی انکی سپیڈ اور بڑھ گئ تھی۔۔۔
****
وہ مسرور سا کنول اور حسن کے ساتھ ڈنر کرنے جا رہا تھا۔۔۔ کیبن وہ پہلے ہی ریزرو کروا چکا تھا ۔۔۔ اسکے انگ انگ سے سرشاری پھوٹ رہی تھی۔۔۔ آخر آج کامیابی بھی تو اتنی بڑی ملی تھی۔۔۔
دفعتاً اسکا فون رنگ ہوا۔۔۔ 
ریسٹورینٹ کی پارکنگ میں گاڑی روکتے اسنے فون اٹھا کر کان سے لگایا اور دروازہ کھول کر باہر نکلا۔۔۔
الو کے پٹھے میں نے بولا بھی تھا کے سکیم کرتے وقت کلاس کا زرا خیال رکھنا۔۔۔ مڈل کلاس کے لوگوں کے ساتھ سکیم کرو گئے تو رو دھو کر تمہیں دو چار بددعائیں دے کر بیٹھ جائیں گے۔۔۔
اور تم نے کیا کیا۔۔۔ کرنل کا اکاونٹ ہیک کر لیا۔۔۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کے کرنل کس بلا کا نام ہے۔۔۔
پورے ملک کی فورس اس وقت حرکت میں ہے۔۔۔ شکاری کتوں کی طرح سب تمہاری بو سونگھتے پھر رہے ہیں۔۔۔ فون اٹھاتے ہی وہ شخص آپے سے باہر ہوتا چیخ اٹھا تھا۔۔۔ 
ریسٹورینٹ کی لابی سے گزرتے آن کے قدم اسکی باتوں پر ٹھٹھکے تھے۔۔۔ مگر جلد ہی وہ خود کو کمپوز کرتا آگے بڑھا۔۔  کنول کو وہ اپنے چہرے کے تاثرات سے پریشان نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔
ہمم۔۔ پھر اب۔۔۔ وہ ایک اچیٹتی نگاہ کنول پر ڈال کر گول مول سا گویا ہوا۔۔۔
پھر یہ کے جلد کوئی نا کوئی سدباب کرنا پڑے گا۔۔۔ ورنہ تو انکے ہتھے چڑھ جائے گا ۔۔۔ کیونکہ وہ لوگ ایسے ہی بیٹھنے والے نہیں۔۔۔ اور تو اور اگر تو انکے ہاتھ لگ گیا تو ہمارا سارا گینگ ایکسپوز ہو جائے گا۔۔۔اور اگر ایسا ہو گیا نا سالے تو پولیس والوں کا تو پتہ نہیں مگر میری بندوق کی ساری گولیاں تیرے سینے میں ہونگی۔۔۔
ہمم۔۔۔ ایسا نہیں ہو گا۔۔۔ فکر نا کرو۔۔۔ اسنے سنجیدگی سے لب چبائے۔۔۔
فلحال تو زر اختیاط سے کام لے میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔ وہ شخص اپنی ساری بھراس نکال کر فون بند کر چکا تھا جبکہ آن نے ماتھے پر ابھرا پسینہ صاف کر کے کیبن کا دروازہ کھولا۔۔۔
اندر سے حالت چاہیے جیسی بھی تھی۔۔۔ مگر وہ یہ بات ظاہر نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ 
وہ ایک بہت خوبصورت اور کشادہ کیبن تھا جسکا ایک دروازہ پچھلی راہداری کو کھلتا تھا۔۔۔ کیبن کی بیرونی دیوار گلاس کی تھی۔۔ جس پر سے بلائنڈز ہٹے تھے۔,۔
آن نے بیٹھے ہی کھانا آرڈر کیا۔۔۔ وہ بہت چوکنے انداز میں بیٹھا تھا جیسے چھٹی حس اسے پہلے ہی الڑت کر رہی ہو۔۔۔
******
ہاں ہاں یہاں سے لفٹ۔۔۔۔ انسپیکٹر ضامن نے ہاتھ میں تھامی ٹیب سے لوکیشن کی نشاندہی کرتے ڈرائیور سے کہا جو پچھلے پندرہ منٹوں سے ضامن کے بتائے ایڈریس کی پیروی کر رہا تھا ۔۔۔
ہاں بس بس۔۔۔  لوکیشن اسی ریسٹوران کی ہے۔۔۔ یہاں کے دوسرے فلور کے ایک پڑائیویٹ کیبن کی۔۔۔ ضامن نے گاڑی سے نکلتے چاروں اور ایک ناقدانہ نگاہ ڈال کر کہا۔۔
اٹیک۔۔۔۔ اسکے کہتے ہی سبھی پولیس اہلکار چیونٹیوں کی طرح ریسٹورینٹ کے اندر بڑھے تھے۔۔۔
سب لوگ حق دق سے سب دیکھ رہے تھے۔۔۔۔  مینجر بھاگ کر ن تک آیا جب ایک پولیس اہلکار نے اسے معاملہ بتاتے سائیڈ پر ہٹھایا۔۔
بھاری باتوں کی دھمک دل دہلا رہی تھی۔۔۔
وہ لوگ ایک ایک بار میں کئ کئ سیڑھیاں پھیلانگتے اوپر کی جانب بڑھے۔۔۔
****
انکا کھانا سرو ہو چکا تھا۔۔۔ انہوں نے خاموشی سے کھانا کھانا شروع کیا۔۔۔
آن نے بھی پہلا نوالہ ہی لیا تھا جب اسے وہاں کسی غیر معمولی پن کا احساس ہوا۔۔۔
وہ چمچ وہیں چھوڑ کر گلاس وال تک گیا۔۔۔ باہر کئ پولیس موبائلز آ کر رکی تھیں۔۔۔
اس کرنل کی اپروچ اسکی سوچ سے زیادہ نکلی تھی۔۔۔۔ اسنے سیکنڈز کے حساب سے دماغ میں جوڑ توڑ کی۔۔۔ وہ یہاں سے بھاگ نہیں سکتا تھا۔۔۔ اور کنول کے ساتھ ایکسپوز بھی نہیں ہو سکتا تھا۔۔
اس وقت اسکی پہلی ترجیح اسکی فیملی تھی۔۔۔ اسنے بعجلت بلائنڈز گرائے اور واپس کنول تک آیا۔۔۔
کنول اٹھو۔۔۔ جلدی کرو وقت بہت کم ہے۔۔۔ وقت کی قلت کا احساس اسے بوکھلا رہا تھا۔۔۔
اکیلا ہوتا تو مشکل نا ہوتی۔۔۔ وہ کیسے بھی ہینڈل کر لیتا۔۔۔ پر اصل مسلہ بھی تو یہ ہی تھی کہ اس وقت وہ دونوں اسکے ساتھ تھے۔۔۔
میرے ساتھ ایک مسلہ ہو گیا ہے۔۔۔ تم یہ میرا موبائل اور والٹ پکڑو اور حسن کے ساتھ اس پچھلے دروازے سے نکلو۔۔۔ ٹیکسی کروا کر گھر پہنچ جانا۔۔۔ اور جاتے ہی موبائل پر موجود لاسٹ کالنگ نمبر پر رابطہ کر کے میرے بارے میں بتانا کے میں اریسٹ ہو گیا ہوں۔۔۔ باقی سب وہ ہینڈل کریں۔۔۔
وہ باعجلت اسکا ہینڈ بیگ اور حس کو اٹھاتا اسے بھی کھینچ کر اٹھا چکا تھا۔۔۔
جبکہ اسکے انکشاف پر کنول نے منہ پر ہاتھ رکھتے بامشکل اپنی چیخ ضبط کی۔۔۔ اسکی آنکھیں ابل پڑیں تھی۔۔۔
آ۔۔۔آ۔۔۔آن۔۔۔ یہ سب کیا۔۔۔ کنول پر تو کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔
مزید بات نہیں کنول وقت نہیں ہے وہ لوگ کسی بھی وقت یہاں پہنچ سکتے ہیں تم نکلو۔۔۔
اسنے اپنا موبائل اور والٹ کنول کے بیگ میں ٹھونستے اسے ہاتھ سے پکڑ کر دروازے کی جانب دھکیلا۔۔۔
اسکے انداز میں عجلت تھی اور نگاہوں میں بے چینی۔۔۔
ایسی صورتحال زندگی میں پہلی مرتبہ پیش آئی تھی اسکا بوکھلا جانا فطری تھا۔۔۔
مم۔۔ میں کیسے۔۔  آن۔۔ آپ۔۔۔ کنول اسکے دونوں ہاتھ تھامتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ اسکا تو دماغ ہی کام کرنا بند کر گیا تھا۔۔۔
کنول میری جان میری بات سمجھو۔۔۔ اسنے کنول کا چہرا اپنے ہاتھوّں میں تھاما۔۔۔
مجھے کچھ نہیں ہو گا۔۔  میں ایک دو دن تک گھر آ جاوں گا۔۔۔ لیکن میری کوئی کمزوری انکے ہاتھ نہیں لگنی چاہیے۔۔ سمجھ رہی ہو نا۔۔ میری کمزوری تم ہو۔۔۔ حسن ہے۔۔۔ تم دونوں سیو ہو تو مجھے کوئی توڑ نہیں سکتا پلیز سمجھو۔۔۔ سیڑھیاں چڑھتے قدموں کی دھمک اسے یہاں تک سنائی دینے لگی تھی۔۔۔ نکلو ۔۔
اسنے کنول کو بازو سے تھامے پچھلا دروازہ کھولا۔۔۔
شٹ۔۔ تبھی اسکے دماغ میں کچھ کلک ہوا۔۔۔
موبائل نکال کر پھینک دو کنول۔۔۔ موبائل لوکیشن سے وہ مجھے ٹریس رہے ہیں۔۔۔
وہ چیخا۔۔۔ کنول نے صورتحال سمجھتے بعجلت کانپتے ہاتھوں سے موبائل نکال کر اسکے قدموں میں پھینکا اور باہر بھاگی۔۔۔
کمپیوٹر لیب میں میری ڈائری ہے وہاں سے پہلے نمبر پر کال کرنا۔۔۔
دروازہ بند ہونے سے پہلے وہ بولا اور عین اسی وقت سامنا دروازہ کھلا۔۔۔
کئ اہلکاروں نے ایک ساتھ اس پر ریوالور تانے۔۔۔ وہ گہری سانس خارج کر کے ہاتھ اوپر اٹھا کر خود کو سرینڈر کروا گیا۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4