Header Ads

Scheme novel 14th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 


Scheme novel 14th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔

_____

چودہویں قسط۔۔۔۔
ایمن اپنے بستر میں دبکی موبائل ہاتھ میں تھامے مسلسل اسکی سکرین دیکھ رہی تھی جہاں کل سے اب تک ریان کی کئ کالز اور میسجز آئے ہوئے تھے۔۔۔۔
پولیس اسٹیشن سے آتے ہی وہ کل رات کی شدید تھکاوٹ کے باعث سو گئ تھی۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے وہ اٹھی تھی ماں بھی پاس ہی چارپائی پر چت لیٹی چھٹ کو گھور رہی تھیں۔۔۔
کیا اسے ریان کو ریپلائے کرنا چاہیے۔۔۔ کیا ان حالات میں وہ کوئی نیا رشتہ بنا سکتی تھی۔۔۔ دماغ بری طرح الحھ چکا تھا۔۔۔
جبکہ وہ بار بار اس سے خیریت دریافت کر رہا تھا کے وہ کل بھی یونیورسٹی سے واپس جلدی چلی گئ جبکہ آج بھی وہ وہاں نہیں آئی۔۔۔ وہ اسکے لئے پریشان تھا۔۔۔
جبکہ ایمن خود کو عجیب طرح کی شش و پنج میں مبتلا پا رہی تھی۔۔۔ ایک طرف دل ایک الگ راستے کا راہی بن رہا تھا۔۔۔ جبکہ دماغ اسے بری طرح جھنجھوڑتے راہ راست پر لا رہا تھا۔۔۔۔
اپنی اندر چھڑی اس جنگ سے تنگ آ کر اسنے ایک گہری سانس خارج کی اور موبائل تکیے کے پاس ہی رکھتی کروٹ کے بل لیتی تو نگاہ سیدھا ماں سے ٹکرائی۔۔۔
کیا بات ہے ماں۔۔۔ کیا سوچ رہی ہیں۔۔۔ کیا ابھی تک اسی واقعہ کو سوچے جا رہی ہیں۔۔۔
وہ ماں کی آنکھوں کی ساکت پتلیاں چھٹ پر ٹکی دیکھ بے بسی سے گویا ہوئی۔۔۔
ایما مجھے اپنے ہاتِوں میں تھامی نوٹوں کی وہ گڈیاں نہیں بھول رہیں بچے۔۔۔ کیسے میری اتنی مت ماری گئ کے خود ہی جا کر اپنے ہاتِوں سے اتنے پیسے میں اس فراڈیے کو بھیج آئی۔۔۔
انہوں نے کھوئے سے اندز میں ایک سرد آہ خارج کی۔۔۔۔ جیسے وہ ابھی بھی انہی لمحات میں جی رہی ہوں۔۔۔ جیسے بس کسی طرح سے وقت کا پہیہ موڑ کر خود کو ایسی خطا کرنے سے روک لینا چاہتی ہوں۔۔۔
ہمارے کتنے کام ہو سکتے تھے ان پیسوں سے ایما۔۔۔ ہم تو خود پیسے پیسے کو ترسے لوگ ہیں۔۔۔ کیا اس فراڈیے کو احساس ہو گا اس چیز کا کہ وہ کسی کی دنیا اجاڑ چکا ہے۔۔۔
ماں کا انداز ابھی بھی کھویا کھویا سا تھا۔۔۔
پتہ نہیں ماں۔۔۔ ابھی تک تو وہ ناجانے اور کتنوں کو بھی ایسے شکار کر چکا ہوگا ۔۔ اتنا ان میں احساس ہو تو یہ ہی کام کریں۔۔۔ پر پتہ ہے کیا۔۔  آپ نا اسکا سب سے آسان ہدف رہی ہونگی۔۔۔
اتنا بھی کسی کو بھولا نہیں ہونا چاہیے ماں کہ دنیا سالم نگل جائے۔۔۔
میں جہاں تک انکی نفسیات کو سمجھ پائی ہوں نا ماں ۔۔۔ وہ بھی ماں کے انداز میں ہی لیٹے اب چھٹ کو گھورتی کہیں اور ہی پہنچی ہوئی تھی۔۔۔
کے وہ شکاری کی طرح شکار پھانسنے کو جال بنتے ہیں۔۔۔ لوگوں کے لئے دانہ بچھاتے ہیں۔۔۔ جیسے شکاری شکار کے لئے دانا پھینکتا ہے نا۔۔۔ وہ ایک پل کے توقف کو رکی۔۔۔۔۔اور اوپر اڑنے والے پرندوں کو نیچے محض دانہ دکھائی دیتا ہے جال نہیں۔۔۔ اور وہ خوش ہو کر دانہ چگنے نیچے آتا ہے مگر ان دیکھے جال میں جھکڑا جاتا ہے۔۔۔ اسے اس جال میں پھسنے کے بعد احساس ہوتا ہے کے یہ اسکے ساتھ کیا ہوا۔۔۔
بالکل اسی طرح یہ سکیمرز جال بچھاتے ہیں۔۔۔
اسنے رخ ماں کی جانب کیا جو پہلے ہی اسکی طرف دیکھ رہی تھیں۔۔۔
ماں یہ لوگوں کو لالچ دیتے ہیں۔۔۔ انکا فائدہ بڑھا چڑھا کر دکھاتے ہیں۔۔۔ جیسے آپکو اگر وہ پیسے بھیجنے کا ڈرامہ نا کرتا تو آپ کبھی اتنا بڑا رسک نا لیتیں۔۔۔
اسی طرح وہ مختلف طریقوں سے لوگوں کو لالچ دیتے ہیں۔۔۔ اور مفلسی میں جھولتے لوگوں کو اس وقت محض دانہ دکھائی دیتا ہے جال نہیں۔۔۔
جال انہیں جال میں پھس کر بے بس ہونے کے بعد ہی دکھائی دیتا ہے۔۔۔
میں پتہ ہے ماں کس نتیجے پر پہنچی ہوں۔۔۔ اسنے گیلی سانس اندر کھینچی اور اٹھ کر بیٹھ گی۔۔۔
کہ دنیا بہت ظالم ہے۔۔۔ اس میں کوئی آپکا خیر خواہ نہیں۔۔۔ ایسے میں اگر کوئی شخص یہ ظاہر کرے کے وہ آپکے مسلے حل کر سکتا ہے یا وہ آپکا خیر خواہ ہے تو الرٹ ہو جاو۔۔۔ وہ آپکا خیر خواہ نہیں۔۔ وہ اپنے مفاد کی غرض سے آپکا خیر خواہ بننے کا ڈرامہ کر رہا ہے۔۔۔ ایسے شخص سے کوسوں دور ہو جاو۔۔
کوئی کسی بھی قسم کے سبز باغ دکھائے یا کوئی بھی لالچ دینے کی کوشیش کرے۔۔۔ کہ یہ ایک رسک ہے اس سے آپ کے فلان فلان کام ہو سکتے ہیں۔۔ تو کبھی کسی کی باتوں میں نا آو۔۔۔ کوئی آپکا سگا نہیں۔۔۔
صرف آپ خود ہی اپنے خیر خواہ ہیں۔۔۔ کسی چیز سے ناواقفیت ہی آپکو مرواتی ہے۔۔۔
نفسا نفسی کے اس دور میں سب کو اپنی پڑی ہے۔۔۔ ایسے میں کسی سے یہ توقع رکھنا کے وہ آپکی مدد کرے گا وہ بھی بنا کسی مقصد کے بنا کسی مفاد کے۔۔۔۔ یہ عبث ہے۔۔۔ ہاں ہوتے ہیں کوئی ایسے ایک فیصد لوگ بھی لیکن وہ لوگ بہت نایاب ہے ننانوے فیصد لوگ آپکی ہمدردی کی آڑ میں اپنے مفاد پورے کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔
گھر بیٹھے کماو۔۔۔ بنا محنت کے کماو۔۔۔ یہ طریقہ اپناو وہ کرو۔۔۔ وہ تلخی سے مسکرائی
پاگل ہیں ہم ماں۔۔۔ ہمیں کسی چیز کے بارے میں پتہ ہی نہیں۔۔۔ بس میں تو اسی نتیجے پر پہنچی ہوں کے کوئی بھی بات ہو کوئی بھی کام ہو۔۔۔ کتنا بھی ضروری کیوں نا ہو۔۔۔ کوئی کتنا بھی مجبور کیوں نا کرے لیکن فوری فیصلہ نا کرو۔۔۔
کچھ وقت دو خود کو۔۔۔ اس پر تحقیق کرو۔۔۔ چار پانچ لوگوں سے مشورہ کرو۔۔۔ انکے سب کے موازے اور حقائق سنو۔۔۔ خود اس چیز پر نیٹ سے تحقیق کرو اور پھر کسی نتیجے پر پہنچو۔۔۔
پھر کوئی سٹیپ لو۔۔۔
جذبات میں اکر فورا کوئی کام نا کرو۔۔۔ کیونکہ جذباتیت انسان کو مروا دیتی ہے۔۔۔ جب ہم فیصلہ کرنے کے لئے اس بات پر سوچنے کے لئے خود کو کچھ وقت دیتے ہیں نا تو جذباتیت خود باخود کہیں جا سوتی یے۔۔۔ یہ وقتی جذبہ ہے جو کسی کے لہجے سے اسکی باتوں سے یکدم ابھرتا ہے۔۔۔ وقت لینے سے دماغ جزباتیت کے چادر سے نکل کر عقل سمجھ سے کام لینے کے قابل ہوجاتا ہے۔۔۔
یہ ہی تو غلطی ہوگئ بچے۔۔۔ کے کچھ سوجا ہی نہیں۔۔۔ ماں کی آواز بھرا گئ۔۔۔
لیکن اب یہ غلطی مت دہرائیں ماں۔۔۔ آپ کو تب کچھ سوجا اس لئے نہیں کیونکہ اس سکیمر نے آپکو کچھ سوجنے دیا ہی نہیں ۔۔۔ 
>
لیکن آپ اب اس واقعہ کو بار بار ذہن میں مت دہرائیں۔۔۔ اس سے آپکی صحت پر برا اثر پڑے گا۔۔۔ اسے بھولنے کی کوشیش کریں۔۔۔ کیونکہ جس صورتحال میں ہم پھس چکے ہیں نا اس میں ہم مزید کوئی نقصان نہیں اٹھا سکتے۔۔۔ ایمن اپنی جگہ سے اٹھ کر ماں کی چارپائی پر آ کر بیٹھی۔۔۔
ابھی تک جو بھی ہوا ہمارے ساتھ وہ ہم برداشت کر گے لیکن آپکا دکھ نہیں برداشت کر پائیں گے ماں۔۔۔ آپ ہمارے لئے قیمتی ہو بہت زیادہ قیمتی اور انمول۔۔۔ برا وقت ہے لیکن کٹ جائے گا۔۔۔ ماں کے دونوں ہاتھ تھامے وہ انہیں حوصلہ دے رہی تھی یا شاید خود کو۔۔۔
لیکن آپ اس چیز کو بار بار سر پر سوار مت کریں ۔۔۔ انشااللہ  اللہ بہتریاں کرے گا۔۔۔ ماں کی آنکھوں کی نمی صات کرتی وہ انکی آغوش میں ہی سما گئ کے اس وقت وہ خود سکون کی خواہاں تھیں۔۔۔ اور اس وقت اسکے پاس سب سے مخلص رشتہ یہ ہی تھا جسکی آغوش میں سما کر وہ کچھ دیر پر سکون ہو سکتی۔۔۔
******
ارے عفیفہ بیٹا داود نہیں آیا۔۔۔ عفیفہ عائزل کیساتھ لاوینج میں آ کر بیٹھی جب ماں اس سے ملتی مستفسر ہوئیں۔۔۔
ماں وہی چھوڑ کر گئے ہیں یہاں۔۔  مگر اندر نہیں آئے کیونکہ انہیں کچھ جلدی تھی۔۔۔ 
عائزل تو اسے دیکھ کھل اٹھی تھی۔۔  فوراً سے اپنا ناشتہ وہیں پر اٹھا لائی۔۔  ۔
سارا دن وہ عفیفہ کے ساتھ ہی جڑی رہی تھی۔۔۔ شام میں ماموں آ گئے تو جیسے وہاں کی رونق اور دوبالا ہو گئ ۔۔۔
عفیفہ داود کیسا ہے بیٹے۔۔۔ کیسی نیچر کا ہے۔۔  رات میں وہ عائزل کے ساتھ اسی کے کمرے میں تھی جب مامی اسکے پاس ہی بیٹھتیں مستفسر ہوئی۔۔۔
ماں داود بہت چھے ہیں۔۔۔ بہت ۔۔ بہت اچھَے۔۔۔ میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔۔۔ میں حیران ہوتی ہوں کے کوئی اتنا اچھا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔
بہت سوفٹ اور پیاری نیچر کے ہیں۔۔۔ غصہ تو انہیں آتا ہی نہیں۔۔۔۔۔ اسکے لہجے میں شوہر کے لئے محبت ہی محبت تھی۔۔۔ اسکی باتیں سن کر مامی پرسکون ہوئیں۔۔۔
انہیں اتنا پیارا اور سوفٹ نیچر ہونا ہی تھا بجو۔۔۔ کیونکہ۔۔۔  ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی اپنے بال بناتی عائزل گویا کوئی اور بالوں کا گول مول سا جوڑا بنا کر دھپ سے اسکے قریب آ کر بیٹھی۔۔۔
عفیفہ پوری توجہ سے اسکی جانب متوجہ ہوئی ناجانے وہ کیا کہنے والی تھی۔۔۔
کیونکہ وہ دنیا کی سب سے پیاری اور سوفٹ نیچر بندی کے شوہر ہیں۔۔۔۔
اتنی پیاری بیوی کو دیکھ کر بھلا تیز لہجہ کس کا ہو سکتا ہے۔۔۔ وہ لاڈ سے عفیفہ کے گال کھینچتی کھلکھلائی۔۔۔ جبکہ مامی اسکی بات سن کر مسکراتی ہوئی باہر نکل گئ۔۔۔
عفیفہ مسکرا کر رہ گئ۔۔۔ داود کے زندگی میں آنے کے بعد زندگی یکدم ہی خوبصورت لگنے لگی تھی۔۔۔
ویسے بجو۔۔۔ آپ ٹھیک کہی رہی تھیں۔۔۔ عائزل حسب سابق اسکی گود میں سر رکھ چکی تھی۔۔۔
کیا۔۔۔ وہ محبت سے اسکے بال سہلانے لگی۔۔۔
یہ ہی کے میری جلادی مامی آپ کے چلے جانے کے بعد ٹھیک ہو جائیں گی۔۔ 
وہ رازدرانہ انداز میں گویا ہوئی۔۔
آپکو پتہ ہے بجو آج تو لمجھے ناشتہ بھی انہوں نے خود بنا کر دیا۔۔۔ کہتی ہیں میری عفیفہ جاتی جاتی کہہ کر گئ ہے کے امی میری گڑیا کا خیال رکھنا وہ کھلکھلا کر کہتی سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
سچ بتاوں بجو۔۔ وہ اسکے قریب ہوتی ایک چور نگاہ دروازے کی جانب دیکھتی سرگوشانہ گویا ہوئی۔۔۔
مجھے تو یقین ہی نہیں آیا ان پر۔۔۔ بھلا عفیفہ وہی ہے نا جسکے سامنے مجھے اتنا ڈانٹی تھیں اب اسکے جانے کے بعد اس کرم جلی پر اتنی محبت جاگ اٹھی۔۔ وہ اپنے ازلی بے فکرے اندراز میں گویا ہوئی
بدمعاش۔۔۔  انکے خلوص پر بھی شک کر رہی ہو۔۔۔ عفیفہ نے اسکا کان پکڑ کر مڑوڑا۔
ارے بجو خلوص پر شک نہیں کر رہی بس یقین نہیں آ رہا نا۔۔۔ وہ اس سے کان چھڑواتی کھلکھلائی۔۔۔
پر انکا یہ کیئرنگ روپ بہت اچھا لگا مجھے بجو۔۔۔ 
اللہ میری گڑیا کو یونہی خوش رکھے۔۔  عفیفہ نے محبت سے عائزل کے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
******
دائم خان صبح ہی صبح تیار سا دادا جان کے کمرے میں ان سے ملنے آیا۔۔۔ ان سے مل کر وہ کار پورچ میں موجود کار میں بیٹھتا یمنہ کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
آج اسکا یونیورسٹی میں پہلا دن تھا اور وہ اسے ڈراپ کرنے جا رہا تھا۔۔۔ پچھلے دنوں اسی نے ہی یمنہ کے ایڈمیشن کی سبھی کاروائیاں مکمل کی تھیں۔۔
نیلی جینز پر سیاہ لیڈر کی جیکٹ زیب تن کئے بال سلیقے سے بنائے تیکھے نقوش کا حامل وہ شخص ہر کسی کی توجہ کھینچنے کا فن رکھتا تھا۔۔۔۔دفعتا اسے سامنے سے سیاہ عبایہ میں ملبوس یمنہ شیرین کے ساتھ آتی دکھائی دی۔۔۔
اس سے بات کرتی یمنہ پیچھے بیٹھنے لگی تھی جب شیرین فرنٹ دوڑ کھولتے گویا ہوئی۔۔۔
آپی میں تو آپکے ساتھ جا نہیں رہی پھر آپ پیچھے کیوں بیٹھ رہی ہیں آگے ہی بیٹھ جائے۔۔۔
یمنہ نے ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد ایک نگاہ دائم کو دیکھا ۔۔۔ وہ اسے ہی دیکِھ رہا تھا۔۔۔ یمنہ کے دیکھنے پر اسنے مسکرا کر آنکھ سے فرنٹ سیٹ کی طرف اشارہ کرتے گویا شیرین کی کہی بات کی تصدیق کی۔۔۔
یمنہ کے دل میں طلاطم بھرپا کرتیں ڈھرکنوں نے شور مچایا تو یمنہ نے گھبرا کر آنکھیں جھکا دیں۔۔۔
اسکا دل کہیں مقابل کی مسکراہٹ میں ہی الجھ الجھ گیا تھا۔۔۔
آگے بیٹھتے ہی اسنے دروازہ بند کیا تو دائم گاڑی سٹارٹ کرتا گاڑی بڑھا لے گیا۔۔۔
یمنہ آنکھیں مونڈتی سر سیٹ کی پشت سے ٹکا گئ۔۔۔ پتہ نہیں کبھی وہ اس شخص کے سحر کی قید سے نکل بھی پائے گی یا نہیں۔۔۔
کیا تھا جو یہ ایک شخص اسکا ہو جاتا تو۔۔۔۔
اسنے گہری سانس خارج کی۔۔۔
یہ رکھ لو یمنہ۔۔۔ میں نے اپنا نمبر اس میں فیڈ کر دیا ہے ۔ بند آنکھوں سے اسے دائم کی آواز سنائی دی تو اسنے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔۔
وہ اسکی طرف ایک موبائل فون بڑھا رہا تھا۔۔۔
یمنہ نے اسے حیرت سے دیکھا۔۔۔
کسی بھی طرح کی پریشانی ہو یا کوئی بھی ضرورت ہو تو بلاجھجھک مجھ سے رابطہ کرنا۔۔۔  اسکی اپنائیت پر یمنہ کی آنکھیں گیلی ہونے لگی تھیں۔۔۔
اسنے موبائل تھامتے گود میں رکھا۔۔۔
دادا جان تمہیں ہوسٹل میں رہنے کی اجازت نہیں دیں گے اس لئے کسی قابل بھورسہ ڈرائیور کا انتظام کر رہا ہوں جو تمہیں یونیورسٹی کے لئے پک اینڈ ڈراپ کر سکے۔۔۔
وہ مزید بول رہا تھا۔۔۔ جبکہ یمنہ نے بامشکل گہرا سانس خارج کیا۔۔ وہ ہر فیملی ممبر کی چھٰوٹی سے چھوٹی بات کا خیال کرنے والا احساس کرنے والا اسکے دل کے راز کو کیوں نہیں پا سکا تھا۔۔
اسے یونیورسٹی ڈراپ کرنے کے بعد دائم نے دل کے ہاتھوں نہایت مجبور ہوتے گاڑی جانے پہچانے راستوں پر ڈالی۔۔۔
وہ وہاں جانا نہیں چاہتا تھا لیکن ناجانے کیوں آج دل کوئی تاویل مان کر نہیں دے رہا تھا۔۔۔
اسے عائزل کو بوا کے پاس چھوڑے مہینے سے زیادہ ہو گیا تھا۔۔۔ لیکن اب وہ خود اسے ایک نظر دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
ناجانے کیسی محبت تھی اسکی جو اتنا بڑا دھوکہ کھانے کے بعد بھی دل اسی کی جانب ہمکتا تھا۔۔۔
اسکے دھوکے کا سوچتے ہی دائم کی آنکھوں میں سرخی چھانے لگتی۔۔۔
وہ سرخ آنکھوں سے سامنے پتھریلے راستے پر نظریں جمائے وقت کی سوئیوں کے سنگ کہیں پیچھے جانے لگا تھا۔۔۔
وہ اپنے آفس میں سربراہی کرسی پر موجود تھا۔۔ آج کل وہ ویسے بھی بہت خوش رہنے لگا تھا۔۔۔
ایک دو روز تک عائزل اسکے پاس ہوتی۔۔۔ وہ اسکے آتے ہی نکاح کا فریضہ سر انجام دے کر دادا جان سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔۔
سیدھے سادھے طریقے سے انکے گھر رشتہ لیجانے کی بات ہوتی تو وہ اب تک دادا جان کے گوش سب گزار چکا ہوتا۔۔۔
لیکن اب صورتحال تھوڑی الگ تھی۔۔۔ ایک لڑکی جو اپنے گھر سے اسکے لئے آ جاتی وہ بنا کسی مضبوط رشتے کے اسے اپنے سنگ لیجا کر دادا جان یا ماں باپ سے نہیں ملوا  سکتا تھا۔۔۔
اس لڑکی کی اپنی زندگی میں شمولیت کا سوچ کر ہی اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی۔۔۔
کل رات ہی وہ اسے اپنے ماں کے ان زیورات کی تصویریں سینڈ کر چکی تھی جو اسے اسکی بتائی گئ کمپنی سے رسیو کرنی تھیں۔۔۔
وہ مقدار میں کافی زیادہ۔۔۔ بھاری اور پرانے زیورات تھے۔۔۔ طلائی کنگن۔۔۔ بھاری سیٹ کئ چوڑیاں جھمکے ۔۔۔ انگھوٹھیاں۔۔۔ وہ سونے کا چھوٹا سا ایک ڈھیر تھا۔۔۔
دائم اس جیولری کو دیکھ کر سراہے بنا نا رہ سکا۔۔۔ وہ واقعی انٹیک لگ رہی تھی۔۔۔
اب اسے عائزل کی ان زیورات سے جذباتی وابستگی سمجھ آنے لگی۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے اسے عائزل کی کال آئی تھی۔۔۔ کافی دیر تک وہ اس کے ساتھ باتیں کرتی رہی تھی۔۔۔ مستقبل کے سہانے خواب اور نا جانے کیا کیا۔۔۔
وہ ابھی اسکے بارے میں ہی سوچ رہا تھا جب اسے عائزل کا میسج موصول ہوا۔۔۔
وہ ایک سلپ تھی جسے اس کمپنی کو دیکھا کر اسنے عائزل کے زیورات حاصل کرنے تھے۔۔۔
اس سلپ پر وہ ایڈریس وغیرہ تحریر تھا جہاں سے وہ زیورات بھیجے گئے تھے اور بھی ناجانے کیا کیا۔۔۔ دائم نے اتنا خیال نا کیا۔۔۔
سلپ ملتے ہی وہ فوراً وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ وہ جلد سے جلد زیورات حاصل کر کے عائزل کو بتانا چاہتا تھا تا کے اسے آج رات کے ہی بائے ایئر اسلام آباد کے ٹکٹ بھیج سکے۔۔۔ 
تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ مطلوبہ کمپنی کے سامنے کھڑا تھا...
اند جا کر اسنے مطلوبہ جگہ پر سلپ دکھائی ۔۔۔
ٹھیک ہے آپ اٹھارہ سو ڈالرز وہاں کیشیئر کو جمع کروا دیں۔۔۔
اس شخص نے سلپ دیکھ کر سامنے ایک کیبن کی طرف اشارہ کرتے کہا تو دائم نے اسے نا سمجھی سے دیکھتے دماغ میں حساب کتاب لگایا۔۔۔
اٹھارہ سو ڈالرز پاکستانی تقریباً چار لاکھ چند ہزار بنتے تھے۔۔۔
اسنے ایک گہری سانس خارج کی۔۔۔ اور کیشیئر کے کیبن کی جانب بڑھا۔۔۔ عائزل کے سامنے چار لاکھ تو کیا چار کڑور بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے۔۔۔
اگلے کچھ منٹوں میں وہ وہاں کریڈٹ کارڈ کے ذریعے پیمنٹ کر چکا تھا ۔۔۔
پیمنٹ کے بعد وہ چند منٹ کے انتظار کے بعد واپس پھر سے اسی کیبن میں گیا۔۔۔ جیولری کب تک مل جائے گی سر۔۔۔ 
جیولری کونسی جیولری۔۔۔ دائم کے کہنے پر اس شخص نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔ 
وہی جیولری جسکی کلیئرنیس کے لئے میں نے ابھی پیمنٹ کی ہے۔۔۔ دائم نے الجھ کر اس آفیسر کو دیکھا۔۔۔
اسکی بات سن کر وہ شخص سیدھا ہو بیٹھا۔۔
محترم یہ سلپ کسی جیولری کلیئرنیس کی نہیں بلکہ اس ایڈریس پر رقم ٹرانسفر کی ہے۔۔۔ جسکے مطابق ہم نے آپکی رقم مطلوبہ ایڈریس پر پہنچا دی۔۔۔ 
کیا آپ نے اس کمپنی کا نام نہیں پڑھا ۔۔ یہ منی ایکسچینج اور ٹرانسپورٹ کی کمپنی ہے کسی جیولری ٹرانسپورٹ کی نہیں۔۔۔
اس آفیسر کی بات پر دائم کا دماغ بھک سے اڑا۔۔۔ کچھ پل لگے تھے اسے اس آفیسر کی بات کا مفہوم سمجھتے۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4