Scheme novel 13th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 13th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔
_____
تیرھویں قسط۔۔۔۔
شام تک ایمن وہیں ماوف ہوتے ذہن کیساتھ بیٹھی رہی۔۔۔ سر شام ہی ماں کی طبیعت خراب ہوگئ۔۔۔ پہلو میں شدید درد ہونے لگی۔۔۔ اس صورتحال نے ایمن اور حماد دونوں کے ہاتھ پاوں پھلا دیئے۔۔۔
جیسے تیسے کر کے ماں کو سرکاری ہسپتال لیجایا گیا۔۔۔ مگر سرکاری ہستالوں کی صورتحال۔۔۔ وہ سر تھام کر رہ گئے۔۔۔
اللہ اللہ کر کے انہیں وہاں ایڈمٹ کیا گیا تو کہیں جا کر انکا ٹریٹمنٹ شروع ہوا۔۔۔
صبح سے شام کسی کے حلق سے کھانے کا ایک نوالہ تو دور پانی کا گھونٹ تک نا اترا تھا۔۔۔
ماں دوائیوں کے زیر اثر غنودگی میں چلی گئ تو ایمن وارڈ سے باہر نکل آئی۔۔۔ لیڈیز وارڈ تھی لحاظہ حماد باہر ہی منتظر کھڑا تھا۔۔۔ دیوار سے ٹیک لگائے دور خلاوں میں کچھ تلاشتا ہوا ۔۔ ایمن کو وہ بہت خاموش خاموش سا اور ٹوٹا ہوا محسوس ہوا۔۔۔
ایمن خاموشی سے آکر اسکے ساتھ کھڑی ہوگئ۔۔۔
تمہیں پتہ ہے ایما۔۔۔ غریب بندے کی کوئی زندگی نہیں۔۔۔ نا کوئی عزت ہے نا مقام۔۔۔۔ غریب کا وجود کسی حقیر چیز سے زیادہ نہیں جسے جیسے مرضی مسل ڈالو۔۔۔ وہ بھرائی آنکھوں کو جھپکتا کرب زدہ سا بول رہا تھا۔۔۔ اسکے لہجے میں ہلکورے لیتا دکھ ایمن کا بھی دل کرلا گیا تھا۔۔۔تلخ تھی مگر حقیقت تھی۔۔۔۔ اور پھر ہسپتال آنے کے بعد کے جو یہ گھنٹے ٹرپتی ماں کو پکڑے انتظار میں گزارے تھے وہ مزید حوصلے پست کر گئے تھے۔۔۔۔۔ آج انکی جیب بھی بھری ہوتی تو پڑائیویٹ ہسپتال میں بڑی آسانی سے ماں کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا۔۔۔
پیسہ انسان کی زندگی میں سب کچھ ہے ایما۔۔ عزت بھی ۔۔۔ مقام بھی۔۔۔ پیسہ ہی آپکی ویلیو ڈیفائن کرتا ہے۔۔۔ اور تمہیں پتہ ہے۔۔۔ بات کرتا وہ رک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
ایمن غور سے اسے ہی سن رہی تھی۔۔ حلال طریقے سے کی جانے والی کمائی کو بہت مشکل بنا دیا ہے دنیا نے۔۔۔ اس لئے سوچ رہا ہوں۔۔۔ میں بھی سکمیر ہی بن جاوں۔۔۔
ایمن کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ اسنے ٹرپ کر بھائی کے شکستہ وجود کو دیکھتے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
کوئی عزت تو ہوگئ معاشرے میں۔۔ کوئی مقام تو ہو گا نا۔۔۔
ایمن نے سختی سے لب بھینچے۔۔۔ ایسی سوچ دوبارہ ذہن میں لانا بھی مت حماد۔۔۔ دوبارہ سوچنا بھی مت ایسا۔۔۔
اللہ سے ہمیشہ ہدایت کا راستہ طلب کرو۔۔۔ یہ خوش قسمتوں کے حصے میں آتا ہے۔۔۔ یہ آزمائشیں ہی ہوتی ہیں جو انسان کے کھڑے یا کھوٹے ہونے کا پتا بتلاتیں ہیں۔۔۔ اللہ دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی۔۔۔ اس کی حکمت وہی جانے۔۔۔ بس پر یقین رہو کے وہ غافل نہیں ہے ہم سے۔۔۔ ہمارے ساتھ ہے وہ۔۔۔
وہ بھائی کا ہاتھ تھپکتی اسے حوصلہ دے رہی تھی کیونکہ اس وقت وہ یہ ہی کر سکتی تھی۔۔۔
******
ساری رات وہ دونوں بہن بھائی ماں کے پاس ہی ہسپتال میں رہے تھے۔۔۔ صبح ہوتے ہی ایمن حماد کو وہیں ماں کے پاس چھوڑے گھر چلی آئی۔۔۔ فریش ہو کر اسنے ناشتہ بنا کر خود ناشتہ کیا اور ماں اور حماد کا ناشتہ پیک کر کے ہسپتال چلی آئی۔۔۔
ماں اب پہلے سے کافی بہتر تھیں۔۔۔ رات ڈائیلسز ہو گئے تھے تبھی وہ ابھی قدرے بہتر حالت میں بیٹھی تھیں۔۔۔۔
میں ابھی آفس کے لئے نکلوں گی حماد تم ماں کے پاس ہی رہنا۔۔۔ اگر انہیں ڈسچارج مل گیا تو گھر لے جانا اور مجھے مطلع کر دینا۔۔۔ اور دعا کرنا کے آفس سے کوئی پازیٹو رسپانس مل جائے۔۔۔ ماں کو کھانا کھلانے کے بعد وہ برتن سمیٹ کر باہر حماد کے پاس آئی تو وہ محض سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔۔
اور اس وقت وہ آفس کی پر شکوہ عمارت کے باہر کھڑی اس عمارت کے اندر جانے کے لئے ہمت مجتمع کر رہی تھی۔۔۔
وہ لوگ روکھی سوکھی کھا کر سو جانے والوں میں سے تھے۔۔۔ پاس ہوتا تو شکر اللہ نا ہوتا تو عزت کے سوا ہر چیز پر سمجھوتا کر لینے والے۔۔۔
لیکن آج وہ زندگی میں پہلی بار کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے جا رہی تھی ناجانے مراد بھر آتی بھی یا نہیں۔۔۔۔
اندر دم توڑتی عزت نفس کرلا اٹھی تھی۔۔۔ آہیں بھرتی آخری سانس لیتی عزت نفس اسکے پاوں کی زنجیر بن ریی تھی۔۔۔
اسنے گہرا سانس فضا کے سپرد کرتے خود کو ہمت دی اور من من بھاری ہوتے قدم اٹھا کر اندر ریسپشن پر گئ۔۔۔
اریب سر ہیں آفس میں۔۔۔ مجھے کچھ کام ہے ان سے۔۔۔
ریسپشنسٹ نے اسے مسکرا کر دیکھا اور ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔۔ ہاں آفس تو آگے ہیں لیکن ابھی کچھ مصروف ہیں۔۔ تم بیٹھو جیسے ہی فری ہوتے ہیں میں بتاتی ہوں تمہیں۔۔۔
وہ سر ہاں میں ہلاتی سامنے ویٹینگ ایریا میں آگئ۔۔۔ ابھی اسے بیٹھے کچھ دیر ہی ہوئی تھی جب ریسیپشنسٹ نے اسے آفس میں جانے کی اجازت دے دی۔۔۔
آفس دوسرے فلور پر تھا وہ چکنی راہداری سے گزرتی لفٹ کی طرف بڑھی۔۔۔ غائب دماغی کیساتھ وہ دماغ میں بات کرنے کو تانے بانے بنتی لفٹ سے اتر کر اسکے آفس کے سامنے آئی۔۔۔
دروازہ ہلکا سا ناک کر کے اجازت ملنے پر وہ دروازہ دھکیل کر اندر بڑھی۔۔۔
سامنے ریوالونگ چیئر پر تیس بتیس سالہ ایک خوبرو مرد بیٹھا تھا۔۔۔ بازوں کے کف موڑے ویسکوٹ میں ملبوس ۔۔۔ البتہ کوٹ کرسی کی پشت پر تھا۔۔۔ وہ خاصی روبدار شخصیت کا حامل شخص تھا۔۔۔ فائل سے سر اٹھا کر اسنے ایمن کو دیکھا اور ہاتھ سے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ ہاتھ مسلتی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئ۔۔۔
جی مس ایمن کہیے۔۔۔ کیسے آنا ہوا۔۔۔ آپکی شفٹ تو غالبا دو بجے شروع ہوتی ہے نا۔۔۔۔
وہ فائل بند کر کے مکمل طور پر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
جج۔۔۔جی سر۔۔۔ دراصل ایک کام تھا آپ سے۔۔۔ اسے اس وقت اپنی ہمت مجتمع کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام لگا۔۔۔
جی کہیے۔۔۔ وہ میز پر رکھے ہاتھوں کی انگلیاں باہم پھنساتا آگے کو ہوا۔۔۔
وہ دراصل سر مجھے کمپنی سے کچھ لون چاہیے تھا۔۔ ایمن نے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔
مقابل جیسے اسکے ایک ایک انداز کو نوٹ کر رہا تھا۔۔۔
کتنا لون۔۔۔ وہ جانچتی نگاہوں سے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
ڈیرھ لاکھ۔۔۔ وہ جھکا سر مزید جھکا گئ۔۔۔
اریب گہری سانس بھرتا پیچھے کو ہو کر بیٹھا۔۔۔
ایسا ہے مس ایمن۔۔ اسنے اپنی کان کی لو مسلی۔۔۔ کے آپ لون کی درخواست جمع کروا دیں۔۔۔ پھر دیکھتے ہیں اسکے اپروول کا کیا بنتا ہے۔۔۔
انداز صاف ٹالنے والا تھا۔۔۔ گویا وہ براہ راست اسے انکار نا کر سکا ہو۔۔۔۔
ایمن کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ اسنے سرعت سے جھکا سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
نگاہوں کے سامنے سے حماد کا بے بس اور مایوس چہرا گھوم گیا۔۔۔
سر اتنا وقت نہیں ہے میرے پاس۔۔۔ مجھے رقم آج ہی چاہیے۔۔۔ اسنے اندر بچی کچھی عزت نفس کو بے دردی سے قدموں تلے کچلا۔۔۔۔
مس ایمن کمپنی کے کچھ اصول ہیں۔۔۔ اور ان اصول و ضوابط کے بنا۔۔۔۔
سر پلیز۔۔۔ پلیز۔۔۔ مجھے رقم کی اشد ضرورت ہے۔۔۔ مجھے آپ کمپنی کے اصول و ضوابط مت بتائیں میں وہ سب جانتی ہوں۔۔۔ وہ بار بار لب بھینچتی آواز کی لغزش پر قابو پا رہی تھی۔۔۔۔
آنکھیں سرعت سے گیلی ہونے لگی تھیں۔۔۔
بہت مجبور ہو کر آپکے پاس آئی ہوں سر۔۔۔ آپ مجھے اپنے زاتی رسک پر لون دے دیں۔۔۔ میں آپکے سبھی پیسے لوٹا دوں گی۔۔۔
وہ تھک ہار کر اسکے سامنے ہاتھ جوڑ گی۔۔۔۔ آج اسے کیسے بھی کر کے رقم لے کر جانی تھی۔۔۔ پھر کیا فرق پڑتا کے رقم کے لئے کسی کی کتنی منتیں کرنی پڑتی۔۔۔ جب عزت نفس کا سودا کر ہی دیا تو پیچھے کیا بچتا تھا بھلا۔۔۔
ذاتی رسک کا مطلب سمجھتی ہیں آپ مس ایمن۔۔۔ وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ ہنوز اسے دیکھ ریا تھا۔۔۔
اور کیسے لوٹائیں گی آپ رقم ۔۔۔ اپنی پندرہ ہزار کی سیلری سے کٹوٹی کروا کر۔۔۔ کتنے سالوں میں ختم ہو گا یہ لون۔۔۔ بزنس میں شاید جذباتیت سے کام نہیں چلتا تھا اسی لئے وہ شخص بنا اسکے آنسووں سے پگھلے جذباتیت سائید پر رکھے ایک ایک نکتہ اٹھاتا مستفسر ہو رہا تھا۔۔۔۔ایمن نے اسے حق پر گردانا۔۔۔ اب ہر کوئی ان جیسا بے وقوف تھوڑی تھا جو اتنی بڑی رقم یونہی منہ اٹھا کر کسی کو بھی دے دیتا۔۔۔۔
سر یہ ایک مہینہ ہے۔۔ اسکے بعد میں سمیسٹر ڈراپ کر دوں گی اور فل ٹائم جاب کروں گی۔۔۔ تب تک جب تک میرا قرض کلیئر نہیں ہو جاتا۔۔۔ انشااللہ میں بہت جلد آپکا سارا قرض اتار دوں گی۔۔۔
ابتدائی جھٹکے کے بعد اب آہستہ آہستہ اسکا اعتماد بحال ہو رہا تھا۔۔۔۔اریب نے اسے جانچتی نگاہوں سے سر تا پاوں دیکھا۔۔۔ اور دیکھتا ہی رہا۔۔۔
سر ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے مجھے یہاں کام کرتے۔۔۔ اور اب تک آپ جان چکے ہونگے کے میں اپنے کام کے ساتھ بالکل مخلص ہوں۔۔۔ وہ اسکی جانچتی نگاہیں دیکھ صفائی دیتی گویا ہوئی۔۔۔
ٹھیک ہے کچھ فارمیلٹیز ہیں آپ وہ پوری کر لیں پھر آپکو رقم مل جائے گی۔۔۔۔
اسکی بات سنتے ہی ایمن کے چہرے پر حقیقی خوشی کے رنگ نمودار ہوئے۔۔۔۔سر سے ایک بوجھ ہٹتا محسوس ہوا۔۔۔۔
تھینک یو سر۔۔۔ تھینک یو سو مچ۔۔۔۔
لیکن اپنی بات پر قائم رہیے گا۔۔۔ اگلے مہینے سے آپ فل ٹائم جاب کر رہی ہیں ۔۔
جی سر شور۔۔۔ وہ خوشی سے سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ یہ جانے بنا کہ جاب ہے کیا۔۔۔۔۔ ۔
جبکہ اریب ناقدانہ نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا تب تک جب تک وہ اسکے آفس سے نکل نہیں گی۔۔۔
یہ لڑکی اسکی پرابلم سالو کر سکتی تھی۔۔۔ اور شاید یہ ہی کر سکتی تھی۔۔۔ ورنہ کسی عام لڑکی کے بس کا کام تھا بھی نہیں وہ۔۔۔ بلاشبہ وہ کام محض ایک بے بس لڑکی ہی کر سکتی تھی۔۔۔
اسے اپنے سر سے ایک بوجھ ہٹتا محسوس ہوا۔۔۔
خیر ایک ماہ کی بات تھی۔۔ جیسے تیسے نکل ہی جاتا وہ بھی۔۔۔
*****
آفس میں ہی اسنے حماد کو کال کر کے خوشخبری سناتے وہاں بلا لیا تھا۔۔۔ اور تلقین یہ ہی کی تھی کے اپنے اس دوست کو بھی ساتھ ہی لے آئے جیسے رقم دینی تھی تاکے ہاتھ کے ہاتھ رقم اسے دے دی جاتی۔۔۔ ورنہ جتنے دھوکے اسکے ساتھ ہو چکے تھے۔۔۔ دل اب ویسے ہی بہت ڈرنے لگا تھا۔۔۔ خدانخواستہ رقم لے کر جاتے اگر انکے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جاتا تو۔۔۔۔
دنیا بہت ظالم تھی۔۔ اور حماد نے ایسا ہی کیا۔۔۔ رقم کے انتظام ہونے پر اسے بھی گویا زندگی کی نوید مل گئ تھی۔۔۔۔
رقم انہیں دے کر اب اسکا رخ پولیس اسٹیشن کی جانب تھا۔۔۔ اسنے حماد کو پولیس اسٹیشن رپورٹ درج کروانے کو کہا مگر وہ رتی برابر راضی نا ہوا۔۔ ۔
ایمن کو اپنے ساتھ ہوا پہلا سکیم یاد آیا۔۔۔ وہ بھی ایسے ہی راضی نہیں ہوئی تھی لیکن اس سکیم کے بعد وہ وہاں ضرور جانا چاہتی تھی۔۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے حماد کے پیسے لیجانے کے بعد وہ وہاں سے سیدھا پولیس اسٹیشن ہی گئ۔۔۔۔
پہلی دفعہ پولیس اسٹیشن آئی تھی اس لئے خود اسے بہت عجیب محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
کانسٹیبل سے لے کر اے ایس آئی تک سبھی اسے سر سے پاوں تک ایکسرے کرتی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔
آج معاشرے کی ایک اور تلخ حقیقت اسکے سامنے آئی تھی۔۔۔ یہاں تک آنے کی ہمت تو مجتمع کر لی تھی لیکن اب اسے اپنی ہمت ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔
جی بی بی کس سے ملنا ہے آپکو۔۔۔ موٹی توند والے کانسٹیبل نے اسے سر تا پاوں گھورتے استفسار کیا تو اسنے تھوک نگلتے اپنے گرد لپٹی چادر کو مزید سختی سے لپیٹا۔۔۔
رپورٹ درج کروانی ہے۔۔۔
ٹھیک ہے ادھر بیٹھ کر انتظار کرو۔۔۔ صاحب راونڈ پر گئے ہیں آئیں گے تو رپورٹ لکھیں گے۔۔۔۔
کانسٹیبل نے اسے ایک طرف پڑی کرسیوں پر بیٹھنے کو کہا۔۔۔
اب اسے یہاں آنا اپنی سب سے بڑی غلطی لگ رہی تھی۔۔۔ ہر آتا جاتا اسے عجیب سی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔ بھانت بھانت کے لوگ تھے وہاں۔۔۔۔ اسکی ہمت جواب دینے لگی تھی۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتے وہاں سے اٹھ کر بھاگ جاتی اچانک تھانے میں کلبلی سی مچ گئ۔۔۔
صاحب کے تھانے میں آتے ہی سب الڑت ہوگئے۔۔۔ وہ ایک کڑیل جوان شخص تھا آفیسر کے یونیفارم میں ملبوس۔۔۔۔ جسکے پیچھے پیچھے کانسٹیبل اور اے ایس آئی آ رہے تھے۔۔۔۔
لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ آفیسر اپنے آفس کی جانب بڑھ رہا تھا جب ایک کونے میں تنہا لڑکی بیٹھی دیکھ ٹھٹھک کر زرا کی زرا رکا۔۔۔۔
کون ہے یہ۔۔۔ پھر سے کمرے کی جانب بڑھتے اسنے پیچھے آتے اے ایس آئی سے پوچھا۔۔۔
جناب رپورٹ لکھوانے آئی ہے۔۔۔
بھیجو پہلے اسے ہی۔۔۔۔
اسکے اپنے آفس میں جاتے ہی ایمن کا بلاوا آ گیا تھا۔۔۔
وہ شکر کا سانس خارج کرتی جھجھکتی ہوئی اندر بڑھی جہاں وہ سربراہی کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے بغور اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
ایمن کے سلام کا سر کے اشارے سے جواب دیتا وہ اسے بیٹھنے کا کہہ چکا تھا۔۔۔
جی فرمائیے کیسے آنا ہوا۔۔۔۔
سر میرے ساتھ سکیم ہوا ہے اسکی رپورٹ درج کروانی ہے۔۔۔ پھر وہ اسے اپنے پچاس ہزار والے سکیم سے لے کر ماں کے ساتھ ہوئے سکیم تک سب بتاتی چلی گئ۔۔۔
وہ بہت غور سے اسے سن رہا تھا۔۔۔ اسکے چپ کرنے پر گلہ کنگار کر گویا ہوا۔۔۔
دیکھیں مس۔۔۔ آپ اچھے گھر سے لگتی ہیں۔۔۔ اس لئے میں آپکو ایک مشورہ دوں گا۔۔۔ ایسے سکیم کے کیسز کا ننانوے فیصد ہمارے ملک میں کچھ نہیں بنتا۔۔۔ اور عزت دار گھرانے کی لڑکیوں کا پولیس اسٹیشن آنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔۔۔
آپکی رپورٹ میں لکھ رہا ہوں۔۔۔ آپ ایک اونلائن رپورٹ سائبر کرائم والوں کو بھی درج کروا دیں۔۔۔ یہ ایک اختیاطی تدبیر ہے کے الگ اللہ نے چاہا اور کوئی سکیمر ہاتھ لگا تو ان لوگوں سے رابطہ کیا جاسکتا ہے جنہوں نے رپورٹ کروائی ہو۔۔۔
ایک فیصد ایسے معجزے ہو بھی جاتے ہیں۔۔۔
لیکن اس سے زیادہ کسی جگہ پر اس مقصد کے لئے خوار مت ہوں۔۔۔
اپنا ایک نمبر مجھے دے جائیں کہ اگر مستقبل میں کوئی سکیمر ہمارے ہاتھ لگے تو آپ سے رابطہ کیا جا سکے۔۔۔ اور اسکے بعد یہاں آنا بھول جائیں۔۔۔
انسپکٹر ضامن میرا نام ہے۔۔۔ اگر کال کر کے میں آپکو اپنا تعارف دے کر تھانے بلاوں تو آپ یہاں تشریف لے آئیں۔۔۔ ورنہ یہاں کا ماحول آپ کے لئے بہتر نہیں۔۔۔
وہ نہایت سنجیدگی سے ساری بات اسکے گوش گزار گیا تھا۔۔۔ اور یہ بات تو ان چند گھڑیوں میں وہاں رہ کر وہ بھی جان چکی تھی۔۔۔
نہایت بھاری دل کے ساتھ وہ رپورٹ لکھوا کر پولیس اسٹیشن سے نکلی۔۔۔۔
*****
عائزل کیا کر رہی ہو بیٹا ۔۔۔ ابھی تک اٹھی نہیں طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔۔
آج عفیفہ کی شادی کو پورا ایک ہفتہ ہو گیا تھا۔۔۔ ولیمے کے بعد وہ داود کے سنگ سیدھا ہنی مون پر چلی گئ تھی۔۔۔ اسکا کہا سو فیصد سچ ثابت ہوا تھا کے وہ جب اس گھر میں نہیں رہے گی تو مامی کا رویہ خودبخود اس سے ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
اب جب موازنہ ہی نہیں رہا تھا تو پھر عائزل سے کیسا بیڑ۔۔۔۔وہ بھی عائزل کا خیال رکھنے لگی تھیں۔۔۔
اب بھی دن کے گیارہ بجے تک اسے سوتے دیکھا تو اس کے کمرے میں آگئ۔۔۔
مامی سر درد کر رہا ہے۔۔۔ اس لئے کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہوں۔۔۔
ارے بیٹا پہلے ناشتہ کر لو پھر آرام کرنا۔۔۔ جانتی ہو نا عفیفہ کی جان بستی ہے تم میں۔۔۔ وقت رخصت بھی بار بار میرے گلے لگتی یہ ہی کہتی رہی کے ماں میری گڑیا کا خیال رکھنا۔۔۔ اسے تنہا نا ہونے دینا۔۔۔ پگلی۔۔۔
مامی اسکے پاس بیڈ پر آتی عفیفہ کی باتیں یاد کرکے مسکراتی ہوئی نم آنکھ کا کونا صاف کر گی۔۔۔
عفیفہ کے ذکر پر وہ بھی اداسی سے مسکراتی اٹھ کر بیٹھ گی۔۔۔۔
منہ ہاتھ دھو لو میں ناشتہ لاتی ہوں۔۔۔۔ ورنہ اسے پتہ چلا نا کہ اسکی گڑیا اتنی دیر تک بھوکی رہی ہے تو مجھ سے تو نہیں البتہ تم سے ناراض ضرور ہو جائے گی۔۔۔
مامی باتیں کرتیں کمرے سے نکل گئ۔۔۔ جبکہ وہ بھی بستر سے نکل کر جلدی جلدی پانی کے چھپاکے منہ پر مارتی مامی کے پیچھے ہی باہر آئی۔۔۔
مامی بجو واپس کب آ رہی ہیں۔۔۔ وہ کچن میں ہی انکے پیچھے آتی کرسی کھینچ کر بیٹھی۔۔۔
بس آج کل میں آنے والی یے۔۔۔ اللہ خیر کرے۔۔۔ مامی نے چائے کے ساتھ پڑاتھا اور آملیٹ اسکے سامنے رکھا۔۔۔
ابھی وہ پہلا نوالہ توڑنے ہی والی تھی کے ڈور بیل کی آواز سنائی دی۔۔۔ وہ سب وہیں چھوڑ چھاڑ باہر کی جانب لپکی۔۔۔
ارے عفیفہ بجو۔۔۔ اپنے سامنے نئ نویلی دلہن کے روپ میں کھڑی نکھری نکھری سی عفیفہ کو دیکھ وہ خوشی سے چیختی شدت سے اس سے لپٹ گی۔۔۔ جبکہ اسکی چیخ سن کر مامی بھی بعجلت اسکے پیچھے ہی آئیں۔۔۔
*******

No comments