Header Ads

Scheme novel 12th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 12th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔

_____
بارہویں قسط

درمیانی راستہ حماد نے جیسے طے کیا تھا یہ وہی جانتا تھا یا اسکا رب۔۔۔ گھر پہنچتے ہی وہ ہاتھ پاوں چھوڑ گیا تھا۔۔۔
ماں آج ختم کر دیا آپ نے مجھے۔۔۔ آپکا لالچ لے ڈوبا مجھے۔۔۔ میں کیا کروں ماں۔۔۔ اب کیا کروں۔۔  کل دانی کو رقم واپس کرنی ہے۔۔۔ اسنے مجھے تمبیہہ کی تھی کی کل کا مطلب کل ہو ۔۔۔ رقم لیٹ نا ہو۔۔ اسکا بدن کپکپا رہا تھا۔۔۔ کانپتے ہاتھ۔۔  پیلی پڑتی رنگت۔۔۔ پھڑپھڑاتے لب۔۔۔ وہ جوانی کی دہلیز کو چھوٹا مرد اپنی اسقدر بے بسی پر رو دیا تھا۔۔۔
،oo
جوان بیٹے کی ایسی خستہ حالت ماں کا دل ٹکروں میں کاٹ گئ۔۔۔ وہ تو خود اپنے ساتھ ہوئے اس دھوکے پر حق دق پتھرائی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔
لیکن اپنی حالت پر اب بیٹے کا پاگل پن کی حد کو چھوتا جنون حاوی ہونے لگا تھا۔۔۔
مار ڈالا آپ نے مجھے ماں۔۔۔ مار ڈالا۔۔۔۔ اب کیا کروں میں ۔۔ وہ خالی ہاتھ خالی خالی نگاہوں سے ماں کو دیکھتا حواس المخلوط لگ رہا تھا۔۔۔
کہاں سے لوٹاوں گا اسے رقم۔۔ کک۔۔۔ کہاں سے لوٹاوں۔۔۔گھر کے حالات آپکے سامنے ہیں۔۔۔ وہ متوحش نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔۔۔۔ اسکی حالت دیکھ ماں کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔۔
میرا دل چاہ رہا ہے ماں ۔۔۔۔خود کشی کرلوں۔۔۔ پر اسرار لہجہ ماں کو جھنجھوڑ گیا۔۔۔۔
ختم کر ڈالوں خود کو۔۔۔ اتنی ذلت۔۔ اتنی رسوائی۔۔۔
میں یہ برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ وہ آپے سے باہر ہوتا دیوار کی جانب بڑھا۔۔۔ ماں کے دیکھتے ہی دیکھتے اسنے بے بسی و غصے سے سر دیوار میں دے مارا۔۔۔ ٹھاہہہہہہ
ایک بار۔۔  دو بار۔۔۔ پھر بار بار ۔۔ دیوار سے سر ٹکرانے کی آواز پر ماں کا کلیجہ پھٹ گیا۔۔۔
بے بسی و اذیت کی وہ انتہا تھی جب اسے حالات سے فرار محض یہ ہی لگا۔۔۔
حماد۔۔۔ حماد پاگل مت بنو۔۔۔ ماں ٹرپ کر اپنے بے جان ہوتے وجود کو گھسیٹی اس تک گی اور پوری جان لگا کر اسے روکنے کی کوشیش کرنے لگی۔۔۔
پاگل ہی تو ہو گیا ہوں میں ماں۔۔ آپ نے کر دیا مجھے پاگل۔۔۔ آپکے لالچ نے مار دیا مجھے۔۔۔ وہ حلق کے بل چیخا۔۔۔۔ وہ کسی صورت ماں کے قابو نا آ رہا تھا۔۔۔  ماتھے سے خون کی لکیر پھوٹتی چہرے سے ہوتی گردن تک جا رہی تھی۔۔۔
ماں کا جسم خزان رسید پتے کی مانند لرزنے لگا۔۔۔ بیٹے کی جنونی حالت دیکھ کر وہ خوفزدہ ہو گئ تھیں۔۔۔ آنسو کہیں آنکھوں میں ہی ٹھٹھرنے لگے۔۔۔ ۔
حماد حوصلہ تو رکھو بیٹا۔۔۔ وہ بھاگتی ہوئی کچن سے پانی کا جگ اٹھا کر لائی۔۔ اسے کھینچ کر چارپائی پر بیٹھایا اور جگ کا پانی اسکے سر پر انڈیلنے کے ساتھ اپنا آنچل اسکے زخم پر رکھ کر دبایا۔۔۔۔
میری ایما کو فون کر کے بلاو۔۔۔ وہ کچھ نا کچھ کرے گی ۔۔۔ کوئی حل نکالے گی اس مسلے کا۔۔۔  
ماں کے پاس آخری سہارا اب وہی تھی اس لئے انکی تان وہیں جا کر ٹوٹی۔۔۔
حماد نے بھرائی نگاہیں اٹھا کر ماں کو دیکھا۔۔۔
وہ کیا کرے گی ماں۔۔۔ کیا کرے گی وہ۔۔۔ شکستہ لہجہ توٹتی ہمت ماں کو بے موت مار رہی تھی۔۔۔
انکے پہلو سے درد کی شدید لہر اٹھی ۔۔۔ لب بھینچتی وہ وہیں اسکے پاس ہی بیٹھ گئ۔۔۔ ابھی وقت نہیں تھا اپنی تکلیف بیان کرنے کا۔۔۔
میرا کل سرمایا ہو تم حماد۔۔۔ خود کو تکلیف نا دو۔۔۔ تمہارا غم نہیں برداشت کر سکتی تمہاری ماں۔۔۔ انہوں نے بیٹے کا چہرا اپنے نحیف کپکپاتے ہاتھوں میں تھاما۔۔۔ آنسو لکیروں کی مانند جھریوں زدہ چہرے سے بہہ رہے تھے۔۔۔
میرا حوصلہ ہو تم۔۔۔ کوئی نا کوئی سدباب ہو جائے گا۔۔  ابھی کل تک کا وقت ہے نا دانی کو پیسے لوٹانے کے لئے۔۔۔ ہم کچھ کر لیں گے۔۔۔
ماں کے بے بسی کے آگے وہ بامشکل لب بھینچتے سر جھکا گیا۔۔۔
وہ اب بھی اسے اپنا کل سرمایہ اور حوصلہ کہہ رہی تھی اور وہ یہاں سیدھے الفاظ میں انکی ہمت توڑ نا پایا کے اتنے عرصے سے وہ ماں کی کڈنی ٹرانسپلانٹ کروانے کو پیسے تو اکھٹے کر نا پائے۔۔۔ راتوں رات ڈیرھ لاکھ کون سے قارون کے خزانے سے آجاتا۔۔۔
وہ وہاں سے آہستگی سے اٹھا اور کمرے میں آگیا۔۔۔
بچے صبح سے بھوکے ہو کھانا تو کھا لو۔۔۔ ماں کی بے بسی بھری آواز پھر سے ابھری۔۔۔
زہر ہی دے دیں ماں۔۔۔ کھانے کی اب طلب نہیں۔۔۔۔ اندر جاتا وہ بستر پر ڈھے گیا۔۔۔
******
اسے یونیورسٹی میں ہی حماد کا میسج موصول ہو گیا تھا کے آج یونیورسٹی کے بعد جاب پر مت جانا ماں تمہیں گھر بلا رہی ہیں۔۔۔۔ وہیں پر اسکے دل کو ایک ڈھرکا سا لگ گیا کے ناجانے اب کیا مسلہ ہے جو ماں اسے بلا رہی ہیں۔۔ پہلے تو کبھی ایسا نا ہوا تھا۔۔۔
اسنے کئ میسجز کر کے حماد سے بات جاننی چاہی مگر جواب ندارد۔۔۔ پھر اسنے کال بھی کی مگر کوئی کال اٹھائی نا گی۔۔۔
اسکی بے چینی حد سے سوا ہوئی تو وہ اپنی آخری کلاس بھی چھوڑتی گھر کی لئے نکلی۔۔۔ جانے کیوں دل تو صبح سے ہی گھبرا رہا تھا۔۔  اور گھر پہنچ کر ماں اور حماد کی حالت دیکھتے صحیح معنوں میں اسکے قدموں تلے سے زمین کھسکی۔۔۔
ماں نے آنچل سے آنسو پونچتے اسے خود پر بیتی داستان سنائی تو وہ سر تھام کر رہ گئ۔۔۔
ایک پل کو سبھی صلاحیتیں مفلوج ہو گئیں۔۔۔
ماں وہ نزاکت تھا تو اسکا یوں بچ نکلنا اتنا آسان بھی نہیں۔۔۔ ہم اسکی فیملی سے رابطہ کریں گے۔۔۔ وہ کیسے ہمارے ساتھ یوں دھوکہ کر سکتا ہے۔۔۔ ہم سفید پوش لوگ کیسے اتنا بڑا خسارہ اٹھائیں  گئے۔۔۔ حواس زرا بحال ہوئے تو اسنے نیا نکتا اٹھایا۔۔۔ دل کو زرا امید بندھی تھی
سکیم انکے ساتھ تبھی ہوا نا جب قابل اعتبار شخص نے پیٹھ پر چھڑا گھونپا۔۔۔
وہ نزاکت نہیں تھا۔۔۔ ایمن کی بات پر حماد حلق کے بل چیختا کمرے سے نکلا۔۔۔
ایمن نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔ وہ نزاکت نہیں تھا۔۔  اسنے ایک بار بھی اپنا نام نہیں بتایا۔۔۔ تب میری بھی مت ماری گئ تھی۔۔  میں نے بھی اتنا خیال نہیں کیا۔۔۔
اسنے ہاتھ کی مٹھی بناتے ماتھے پر ماری۔۔۔
ماں اسنے جب نام بتایا ہی نہیں پھر آپکو کیسے پتا چلا ایمن نے بے چینی سے تھوک نگلا۔۔۔
ماں حواس باختہ سی بیٹھی تھیں۔۔۔
ماں نے پوچھا کون بات کر رہا ہے۔۔  تو اسنے کہا۔۔۔ باجی اب آپ ہمیں پہچاننے سے بھی رہیں۔۔۔  اور ماں نے فوراً سے کہا نزاکت بات کر رہے ہو۔۔۔
اور وہ اسی نام پر پکا ہو گیا۔۔۔
حماد کی وضاحت پر اسنے کرب سے آنکھیں موندیں۔۔۔  اس شخص نے انکی سیدھی سادھی ماں کو بہت برے طریقے سے ٹریپ کیا تھا۔۔۔۔
مجھے نزاکت کی آواز لگی تھی۔۔۔ ماں پشیمانی سے گویا ہوئیں۔۔۔
ماں جب تک لالچ زندہ ہے نا سکیمرز بھوکے نہیں مر سکتے۔۔۔ آپ نے کیوں کیا لالچ۔۔۔۔
وہ بے بسی سے لب چباتی گویا ہوئی۔۔۔
بیٹا میں نے لاچ نہیں کیا۔۔ میں تھوڑی نا اسکی امانت میں خیانت کے خیال سے رقم منگوا رہی تھی۔۔۔
پھر اسکی چیخیں۔۔۔ اسکی اذیت۔۔۔ میں نے تو کسی کا بھلا کرنا چاہا تھا۔۔۔ انکی آواز پھر سے بھرا گئ 
اور کسی کا بھلے  کرنے کے چکر میں آپنے اپنی سگی اولاد کو زندہ درگو کر دیا۔۔۔ حماد نے پاس پڑا گلاس اٹھا کر پوری قوت سے دیوار میں دے مارا۔۔۔
ماں چہرے پر آنچل رکھتیں سسک اٹھیں۔۔۔
Behave your self Hamad.. 
تم ماں کے ساتھ یہ رویہ روا نہیں رکھ سکتے۔۔۔ وہ خود تکلیف میں ہیں۔۔۔ ماں کی حالت دیکھ ایمن چٹخی۔۔۔
تمہیں میری تکلیف کا ندازہ ہے ایمن۔۔۔ تم میری زندگی کے ان لمحات میں مجھے اخلاقیات سیکھا رہی ہو۔۔۔ متوحش آنکھوں سے اسے دیکھ کر پھولی رگوں سمیٹ چیختا چلاتا وہ اسے کہیں سے اپنے آپ میں نا لگا۔۔۔
وہ بے ساختہ اٹھی اور جا کر اسے گلے سے لگا لیا۔۔۔
میں جانتی ہوں میرے بھائی کہ یہ وقت ہم پر بہت کھٹن آ پڑا ہے۔۔۔ لیکن ایسے کام نہیں چلے گا۔۔۔ حوصلے سے کام لینا ہوگا۔۔۔ ورنہ یوں تو ہم ماں بھی کھو دیں گے۔۔  جس رب نے یہ آزمائش ڈالی ہے نا وہ اس سے نکلنے کا بھی کوئی راستہ نکال دے گا۔۔۔ 
اور اسے شاید اس وقت جذباتی سہارا ہی چاہیے تھا۔۔
ایمن میں برباد ہو گیا۔۔۔ اور کچھ نا سہی لیکن باہر عزت ہے ہماری۔۔۔ سب خاک ہو جائے گی۔۔۔  مجھے رسوائی کے ناگ ڈس رہیں ہیں۔۔۔ 
بہن کے کندھے سے لگا وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا۔۔۔  ایمن کو لگا اسکا دل پھٹ جائے گا۔۔۔ 
ابھی تو اسنے اپنے ساتھ ہوئے حادثے کا کسی کو نہیں بتایا تھا کجا کہ یہ ایک اور مصیبت آن پڑی تھی۔۔۔
خدا غارت کرے اس شخص کو۔۔۔ اسے ہمارے یہ پیسے کھانا کبھی نصیب نا ہو۔۔۔ رل کر مرے گا دیکھنا۔۔۔۔
ماں آنچل سے آنکھیں پونچھتی دل کی بھراس نکال رہی تھی۔۔۔
ایمن بچے تم اپنے باس سے بات کرو نا کہ وہ ادھار دے دے۔۔۔ تنخواہ سے کٹوا دینا۔۔۔
ماں بڑی آس سے بیٹی کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔
ایمن کو بے ساختہ اپنی ماں کی ذہنی کیفیت پر شبہ ہوا۔۔۔ ماں ڈیرھ لاکھ کی بات کر رہی ہیں آپ۔۔۔ ڈیرھ سو کی نہیں جو وہ اپنے آفس میں پارٹ ٹائم کرنے والی ایک ورکر کو اسکے مانگنے پر دے دیں گے۔۔۔
پندرہ ہزار کی میری نوکری سے دانتوں سے گھسیٹ کر بھی ہمارے خرچے پورے نہیں ہوتے۔۔۔ اس میں سے کٹوٹی کروانے لگوں تو۔۔۔ وہ بات ادھوری چھوڑتی سر جھکا گئ۔۔۔
بچے بات تو کر کے دیکھو۔۔۔ شاید کوئی بات بن جائے۔۔۔ اسکے علاوہ کوئی راستہ بھی تو نہیں دکھائی دے رہا۔۔
تمہیں تو وہاں کام کرتے سال ہو گیا ہے شاید وہ دے دیں۔۔ حماد کو تو یہاں جاب کرتے دو مہینے بھی نہیں ہوئے۔۔۔ نئے ورکر کو اتنی بڑی رقم ادھار کون دیتا ہے بھلا۔۔۔۔۔۔ پرانے ورکر کے لئے تو پھر بھی کوئی کچھ سوچ سکتا ہے۔۔۔
ماں کی باتیں اسکی مشکلوں میں اضافہ کر رہی تھیں۔۔۔ وہ جانتی تھی کے اس جگہ سے مدد ملنا مشکل نہیں ناممکن تھا بھلا نفسا نفسی کے اس دور میں بنا فائدے کے کون کسی کی مدد کرتا ہے۔۔۔ لیکن بھائی کا چہرا دیکھتے اسے ایک کوشیش تو کرنی ہی تھی۔۔۔ 
عزت بچانے کو اسے شاید عزت نفس کا سودا کرنا ہی تھا۔۔۔
اور بلاشبہ یہ مجبوری ہی ہوتی ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کو مجبور کر دیتی ہے۔۔ لیکن اس بار وہ اس سکیم کو ایسے ہی نہیں جانے دے سکتی تھی۔۔۔ اسے اس بار کچھ نا کچھ تو کرنا ہی تھا۔۔۔
******
گھر میں شادی کی رسمیں شروع ہو گئ تھیں۔۔ کل مہندی تھی اور گھر میں مہمان آنا شروع ہو گئے تھے۔۔  عائزل نے عفیفہ کی اس دوران بہت مدد کی تھی۔۔۔ اپنی کام چوری کی عادت کو وہ ان دنوں تقریباً ختم کئے ہوئے تھی۔۔۔ ابھی بھی اسکے جہیز کے کپڑے ٹانکنے کے بعد وہ سلیقے سے بریف کیس میں سارا سامان رکھ کر کمرے سے باہر نکلی جب لاوئںج میں بیٹھے ماموں نے اسے آواز لگائی۔۔۔
جی ماموں جان آپ نے بلایا وہ مسکراتے ہوئے انکے پاس ہی بیٹھ گئ۔۔ 
عفیفہ کچن میں تھی جبکہ مامی پاس ہی بیٹھیں کوئی حساب کتاب کر رہی تھیں۔۔۔
ہاں عائزل بیٹا۔۔۔ شادی سر پر ہے اور آپ نے ابھی تک شادی کی کوئی تیاری ہی نہیں کی۔۔۔ 
یہ کچھ پیسے ہیں رکھ لو اپنی مامی کے ساتھ جا کر آج اپنی خریداری کر لینا۔۔۔۔ ماموں نے جیب سے ہزار ہزار کے کئ نوٹ نکال کر اسکی جانب بڑھائے۔۔۔
اسنے کن اکھیوں سے مامی کی جانب دیکھا وہ ہنوز گود میں ڈھرے رجسٹر پر حساب کتاب کرتیں دانستہ اسے نظر انداز کر رہی تھیں۔۔۔
آہمم۔۔۔ وہ دراصل ماموں میرے پاس کپڑے جوتے ہیں ۔۔۔ گلہ کنگار کر وہ زرا سا مسکرائی۔۔۔ 
اسی لئے تو آپکو تنگ نہیں کیا شاپنگ کے لئے۔۔۔۔ آپ ان پیسوں سے نا مجھے آپی کے لئے کوئی اچھا سا گفٹ لا دیں۔۔  باقی سب میرے پاس ہے۔۔۔ کسی چیز کی ضرورت نہیں۔۔۔
آواز کی لغزش پر بامشکل قابو پاتے وہ اپنی بات مکمل کر کے اندر چلے گئ جبکہ پیچھے ماموں کے ساتھ ساتھ کچن کے دروازے میں کھڑی عفیفہ بھی ہکا بکا رہ گئ۔۔۔
کہاں وہ کپڑوں جوتوں اور شاپنگ کی دلدادہ لڑکی اور کہاں اسکا یہ متضاد قول۔۔۔
کسے یقین آنا تھا بھلا ۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں عفیفہ کمرے میں اسکے سر پر سوار تھی۔۔
باہر جو سب ابا سے بول کر آئی ہو گڑیا اس سب کا مطلب۔۔۔ وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اسے نا فہم انداز میں دیکھ رہی تھی۔۔۔
افوہ بجو۔۔۔ آپ بھی نا بات کی کھال نکال لیتی ہیں۔۔ اب کیا مطلب بتاوں ۔۔۔ کپڑے ہیں میرے پاس۔۔۔ وہ اس سے نظریں چڑاتی بیڈ سیٹ کر کے اپنی کتابیں اٹھا کر میز پر رکھنے کو پلٹی۔۔۔ 
عفیفہ نے ماتھے پر بل لیے اسے بازو سے کھینچ کر اپنے سامنے کیا۔۔۔
چھوٹی ہو گڑیا چھوٹی رہو۔۔۔ اماں بننے کی کوشیش مت کرو۔۔۔اب سیدھے طریقے سے وہ بتاو جو کھچڑی اس چھوٹے سے دماغ میں پک رہی ہے۔۔۔ عفیفہ نے اسے نظریں چراتے دیکھ اسکے سر پر انگلی مارتے خفگی سے کہا۔۔۔ تو وہ بے ساختہ اسکے گلے لگ گئ۔۔۔
آئی لو یو بجو۔۔۔ وہ بھرائی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
جانتی ہوں لیکن یہ میرے سوال کا جواب نہیں۔۔ عفیفہ نے اسے خود سے الگ کیا۔۔۔
آپکو میری قسم بجو آپ مجھے کسی چیز کے لئے فورس نہیں کریں گی۔۔۔ اسنے عفیفہ کا ہاتھ اٹھا کر اپنے سر پر رکھا تو وہ ٹھٹھکی۔۔
مطلب۔۔ 
مطلب یہ کہ میں چاہتی ہوں کے آپکی شادی بہت اچھے طریقے سے ہو جائے۔۔۔ بنا کسی بد مزگی کے۔۔۔
اس لئے میں ہمہ وقت آپ کے ساتھ رہوں گی۔۔ حتی کے پارلر بھی آپ کے ساتھ جاوں گی لیکن وہاں سے ہال نہیں جاوں گی واپس گھر آ جاوں گی۔۔۔ اور پلیز۔۔ اب اس بارے میں کوئی بحث نہیں۔۔۔ وہ عفیفہ کا ہاتھ زور سے تھامے سر جھکائے ہونٹ کچلتی ضبط سے گویا ہوئی ۔۔
عائزل تم۔۔۔ 
بجو پلیز۔۔۔ پلیز ناا۔۔۔ اس بارے میں اب کوئی بات نہیں۔۔۔ وہ شدت سے اسکے گلے لگی آواز کی کپکپاہٹ پر قابو پانے لگی جبکہ عفیفہ کی اپنی آنکھیں بھرا گی۔۔۔۔
*******
آج صبح سے ہی اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ آج عفیفہ کی بارات تھی۔۔۔ اسکی مایوں اور مہندی کا فنگشن بہت اچھا ہو گیا تھا۔۔۔ عفیفہ کے اس گھر سے چلے جانے کے خیال سے ہی عائزل بہت اداس تھی۔۔۔ چپکے چپکے کئ بار وہ اسکے اچھے نصیب کی دعائیں کرتی اپنے آنسو صاف کر چکی تھی۔۔۔ 
رات مہندی کے فنگشن میں وہ باہر نہیں گی تھی۔۔۔ ماموں باہر کے کاموں میں اتنا مصروف تھے کے انہیں اس بات کا زرا پتہ نا لگا اور عفیفہ۔۔۔ اسے تو وہ پہلے ہی اپنا واسطہ دے کر خاموش کروا چکی تھی۔۔۔
اب بھی وہ صبح سے اسکے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔۔۔
کچھ دیر میں اسے عفیفہ کےساتھ پارلر جانا تھا۔۔۔ وہیں سے عفیفہ ہال میں چلے جاتی اور وہ واپس گھر آ جاتی۔۔۔
بہن کو دلہن بنے وہ ایک مرتبہ دیکھنا چاہتی تھی اسی لئے اسکے ساتھ پارلر جا رہی تھی۔۔۔
اب بھی عفیفہ کہیں باہر ہی تھی۔۔۔ وہ رات دیر سے سوئی تھی اس لئے اب آنکھ بھی دیر سے ہی کھلی۔۔۔
اٹھتے ہی اسے سر بھاری بھاری سا محسوس ہوا۔۔۔
گھر میں ابھی بھی مہمان موجود تھے۔۔۔ وہ کسی کی نظروں میں نہیں آنا چاہتی تھی ورنہ خوامخواہ باتیں بنتیں۔۔۔ اسی لئے خاموشی سے سب کا جائزہ لے کر کچن کی طرف بڑھی۔۔۔
کچن میں جا کر اسنے چائے بننے کے لئے رکھی۔۔۔ چائے کے ساتھ وہ کچھ بھی کھا کر ناشتہ کر لیتی۔۔۔ چائے بنا کر وہ جلد از جلد واپس اپنے کمرے میں مقید ہو جانا چاہتی تھی۔۔۔
ارے بہن اللہ نے تو عفیفہ کی قسمت ہی کھول دی۔۔۔ دیکھو تو کتنا اچھا رشتہ ملا ہے اسے۔۔۔ وہ کوئی دور پار کی رشتہ دار تھی جو مامی کے کمرے میں بیٹھی ان سے محو گفتگو تھی۔۔۔ کچن کی کھلی کھڑکی سے وہ انکی آوازیں باآسانی سن سکتی تھی۔۔۔
اسکے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ ابھری۔۔۔  بلاشبہ اللہ نے اسکی دعائیں سن لی تھی۔۔۔ اسکی بہن کو واقعی ایک شہزادہ ہی ملا تھا۔۔۔ جسے پتہ چلا وہ حیران ہوئے بنا نہیں رہا۔۔۔
بس اللہ نے سن لی عاصفہ۔۔۔ داود بڑا ہی نیک اور شریف بچہ ہے۔۔۔ دو بہنیں ہیں اور دونوں ہی شادی شدہ ملک سے باہر ہوتی ہیں۔۔  ابھی شادی پر آئی ہوئی ہیں۔۔۔ ماں باپ ہے نہیں ۔۔۔ بہنیں چھوٹی تھیں اس لئے انکی شادی کے بعد داود نے اپنی شادی کا سوچا۔۔۔ بینک میں ملازم ہے۔۔۔ اچھا کھاتا پیتا خوش شکل لڑکا ہے۔۔۔ گھر بار بھی اپنا ہے۔۔۔ اور کیا چاہیے بھلا ایک ماں کو۔۔۔
میں تو اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔۔۔
اسے مامی کی گلوگیر آواز سنائی دی تو وہ اداسی سے چائے کپ میں چھانتی چائے کا کپ اور کیبن سے بسکت نکال کر کمرے میں آ گئ۔۔۔
ناشتے کے بعد کچھ ہی دیر میں وہ عفیفہ کے ساتھ پارلر میں موجود تھی۔۔۔
ہمیشہ سادا سی رہنے والی عفیفہ پر دلہناپے کا ٹوٹ کر روپ آیا تھا۔۔۔  وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کے عائزل سے اس سے نگاہ ہٹانا محال ہوا۔۔۔ بے ساختہ اسنے ماشااللہ کہتے بہن کے ماتھے پر پیار کیا۔۔۔ 
آپی آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔۔۔ داود بھائی سے پہلے میں اپروول دے رہی ہوں۔۔۔ وہ شرارت سے کھلکھلائی جبکہ عفیفہ اسے گھور کر رہ گئ۔۔۔
بہت بھاری دل کیساتھ وہ جان سے پیاری بہن کو وہیں سے رخصت کر آئی تھی۔۔۔ 
******

No comments

Powered by Blogger.
4