Scheme novel 11th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 11th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔
_____
گیارہویں قسط
وہ ساری رات وہیں ایک پوزیشن میں سکڑی سمٹی بیٹھی سوئی رہی تھی۔۔۔ سوئی رہی تھی یا خرابی طبیعت کے باعث نیم غنودگی میں چلے گئ تھی۔۔۔۔ آن کے اسقدر غصے میں آپے سے باہر ہونے کے باعث وہ دوبارہ باہر نکلنے کی ہمت ہی نا کر پائی تھی۔۔ فلحال خود کو اسکے غصے سے بچانے کا اسکے پاس یہ ہی ایک حل تھا۔۔۔ وہ ویسے بھی کافی کمزور دل واقع ہوئی تھی۔۔۔
دفعتا دروازہ کھٹکنے کی آواز پر وہ نیند سے ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔۔۔ کچھ پل لگے اسے حواس بحال کرنے میں۔۔۔
کنول باہر آ کر ناشتہ کرو رات بھی تم نے کھانا نہیں کھایا۔۔۔ فوراً باہر آو۔۔۔
باہر سے آن کی سنجیدہ آواز گھونجی۔۔۔ یقیناً اسکا غصہ کم ہو چکا تھا۔۔۔یا ساری رات اسکے سردی میں ٹھٹھرنے اور بھوکے ہونے کا احساس ہوا تھا۔۔۔ کنول کی آنکھیں پھر سے بھر آئیں۔۔۔ یہ شخص اسکی آتی جاتی سانسوں کی وجہ تھا۔۔۔ اسے بہت عزیز تھا۔۔۔ اسے ناراض کر کے جینے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ بس کیوں وہ شخص راہ راست پر نہیں آ جاتا تھا۔۔۔ آنسو صاف کرتے اسنے سیدھا ہونا چاہا۔۔۔ ٹھنڈے یخ بستہ فرش پر ساری رات ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے رہنے سے اسکا جسم اکڑ گیا تھا۔۔۔
وہ بامشکل اپنا نیم جان ہوتا وجود لئے اٹھی۔۔۔ آہستہ سے دروازہ کھولا اور باہر نکلی۔۔۔
لاوئنج میں حسن صوفے کے پاس بیٹھا اپنے کھلونوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔۔۔ جبکہ آن کہیں جانے کو نک سک سے تیار موبائل پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔۔۔ کنول کی جانب اسکی پشت تھی۔۔۔وہ اسے باہر نکلتا نہیں دیکھ سکا تھا۔۔۔ یقیناً اسکا غصہ اتر گیا تھا مگر ناراضگی ہنوز قائم تھی۔۔۔
کنول لب بھیچتی اسکی جانب بڑھی اس سے پہلے کے وہ آہٹ پا کر پلٹا وہ اسے پیچھے سے حصار میں لیتی اسکے شانے پر سر ٹکا گئ۔۔۔
ایم سوری آن۔۔۔ ریئلی ریئلی سوری۔۔۔ پلیز۔۔۔ معاف کر دیں۔۔۔۔ سسکتی کرب زدہ آواز اسکی ساری ناراضگی بھگا لے گئ۔۔۔ اسنے گہری سانس خارج کی۔۔۔ یہ لڑکی ایسے ہی اسے بے بس کرتی تھی۔۔۔ ورنہ کوئی تھا جو آن کے غصے کے عتاب سے بچ جاتا۔۔۔
ہر دفعہ انکا رشتہ ایک نازک موڑ پر پہنچتا کے وہ جھک کر اسے بھی اپنے سنگ جھکا جاتی۔۔۔ نا خود کسی انتہائی فیصلے پر پہنچتی نا اسے پہنچنے دیتی۔۔۔حالات زیادہ نازک مراحل میں پہنچ جاتے تو اسکے پتھر دل کو بھی اپنے آنسووں سے پھگلا جاتی۔۔۔ وہ کبھی اپنے گھر کی بات گھر کی چار دیواری سے باہر نا جانے دیتی۔۔۔ حتکہ کے اپنے بیچ جھگڑوں کے باعث کشیدہ حالات کی بھنک بھی وہ اسکی سگی بہن تک کو نا لگنے دیتی۔۔ ہمیشہ اسکے وعظ سن کر وہ آگ بھگولہ ہو کر ناراض ہو جاتا۔۔ زیادہ بات ہوتی تو گھر سے ہی نکل جاتا۔۔۔ دو دو دن گھر نا لوٹتا اور وہ پاگل ہوتی اسکی راہ تکتی رہتی ۔۔۔ وہ فون بند کرتا تو سینکڑوں میلز کر کر کے اسے واسطے دے دے کر منا کر ہی دم لیتی۔۔۔
آگر یہ رشتہ پچھلے تین سالوں سے کامیابی کے سے چل رہا تھا تو اسکا سہرا بھی کنول کے سر ہی تھا۔۔۔
کنول کے آنسو اسکا کندھا بھگو رہے تھے۔۔۔ وہ گہرا سانس خارخ کرتا پلٹا۔۔۔
مائے گاڈ کنول یہ کیا حال بنا لیا ہے تم نے لڑکی۔۔۔
سوجھی متورم آنکھیں ۔۔۔ کپکپاتے لب ۔۔ بخار کی حدت سے دہکتا سرخ چہرا۔۔۔ وہ تو اسکی حالت دیکھتا گھبرا اٹھا تھا۔۔۔
آ۔۔۔ آپ ناراض نہیں ہے نا۔۔۔ اسنے شدت سے آن کے ہاتھ تھامے۔۔۔
نہیں ہوں۔۔ نہیں ہوں ناراض۔۔۔ تم چلو اندر۔۔۔ وہ اسکے آنسو صاف کر کے اسے زبردستی اندر کمرے میں لایا۔۔۔
بیڈ پر بیٹھا کر لحاف اوڑھایا اور انہی قدموں پر واپس کچن میں آیا۔۔۔
لو سب سے پہلے ناشتہ کرو پھر دوائی کھانا۔۔۔
وہ ٹرے بیڈ پر اسکے سامنے رکھتا خود بھی پاس ہی بیٹھا۔۔۔ فکر مندانہ لہجے میں رات کے واقعہ کا شائبہ تک نا تھا۔۔۔ کنول نے خفیف سا اسے دیکھا اور خاموشی سے کھانا کھانے لگی۔۔۔ اس کے بعد آن نے گولیاں اسکے ہاتھ پر رکھی تو وہ اسی خاموشی سے اسے نگل گئ۔۔۔
آرام کرو کنول۔۔۔ وہ ٹرے اٹھا کر اٹھنے لگا تو کنول خاموشی سے اسکا ہاتھ تھام گئ۔۔۔
اسنے ٹرے وہیں سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور سنجیدگی سے اسے دیکھتا واپس بیٹھ گیا۔۔۔
آپکو میری قسم آن۔۔۔ یہ کام چھوڑ دیں۔۔ وہ اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے اسکا ہاتھ تھام کر اپنے سر پر رکھ گئ۔۔۔
Stop this Non sence kanwal...
اسنے طیش سے کنول کا ہاتھ جھٹکتے اپنا ہاتھ کھینچا۔۔۔
مجھے رات کا واقعہ یاد مت کرواو کے میں کچھ نہایت غلط کر جاوں۔۔۔ مجھے وہ سب بھول جانے دو کے میری بیوی نے مجھے ڈاج دی ہے۔۔۔ وہ انگلی اٹھاتا درشتی سے اسے وارن کر رہا تھا۔۔۔
تم گواہ تھی میری محنت کی۔۔۔ رات رات بھر میں سویا نہیں وہ لنک بنانے کی خاطر۔۔۔ کتنا پیسہ لگایا میں نے ہیکنگ ٹولز خریدنے میں۔۔۔ کتنے تجربات کئے۔۔۔ وقت لگایا دماغ کھپایا۔۔۔ تب کہیں جا کر میں وہ لنک بنا پایا۔۔۔ میری محنت کی یہ قدر ہے تمہاری نظروں میں۔۔۔
تم آخر چاہتی کیا ہو کنول۔۔۔
اس لڑکی کا ڈیٹا ڈیلیٹ کر کے تم نے اسے اختیاطی میسج بھیجا۔۔۔ اور اسنے وہ میسج وائرل کر دیا۔۔
اوہ۔۔۔ تو آصل غصہ ہی اس بات کا تھا۔۔۔ کنول گہری سانس خارج کرتی کچھ ڈھیلی پڑی۔۔۔ یقیناً وہ اسکا موبائل چیک کر چکا تھا۔۔۔
لنک وائرل ہونے سے پہلے تم نے اختیاطی میسج وائرل کر دیا۔۔۔ سب کو آگاہ کر دیا تم نے کے واٹس ایپ پر کسی بھی قسم کے کسی بھی لنک کو اوپن نا کیا جائے خواہ وہ لنک آپکے کتنے بھی اپنے اور خاص نے نا بھیجا ہو ۔۔۔۔
اس سے آپکا ڈیٹا ہیک ہو سکتا ہے جسکے بعد آپکی سبھی کانٹیکٹ لسٹ اور پورے موبائل کا ڈیٹا ہیکر کے پاس چلے جاتا ہے۔۔ اور ہو سکتا ہے کے جس اپنے کے نمبر سے آپکو کوئی لنک موصول ہوا ہو بالخصوص اونلائن ارنینگ کے حوالے سے کوئی لنک موصول ہوا ہو۔۔۔اس اپنے کا موبائل بھی ہیک ہو چکا ہو اور وہ ہیکر آپکو میسج سینڈ کر رہا ہو۔۔۔
پہلے مکمل تسلی کرو پھر ہی کوئی لنک اوپن کرو۔۔۔ کمال کر دیا تم نے کنول کمال ہی کر دیا۔۔۔ وہ تاسف سے اپنا غصہ ضبط کرتا بول رہا تھا جو کسی صورت کم ہو کر ہی نہیں دے رہا تھا۔۔ جبکہ کنول ہونٹ چباتی بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی خاموشی سے اسکی لعن طعن سن رہی تھی خواہ اندر ایک اطمینان سرائیت کر رہا تھا کہ چلو کہیں تو ٹھوری سی کامیابی حاصل کر پائی۔۔۔
اختیاطی پوسٹ وائرل ہونے سے لوگ چوکنا ہو گئے۔۔۔ کہیں پر کوئی لنک کلک نہیں کر رہا لیکن کنول ڈیئر ایک بیڈ نیوز ہے۔۔۔ یہ اختیاطی میسج آخر کتنوں نے پڑھ کر عمل کر لیا ہو گا۔۔۔ وہ پراسرار سا مسکرایا۔۔۔ جبکہ وہ ٹھٹھک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
ابھی بہتتتتت لڑکیاں ہیں جو بے وقوفی میں ایسے ہر لنک کو کلک کریں گی۔۔۔ چچ۔۔چچ۔۔۔۔ کیونکہ اس نفسا نفسی کے دور میں سب کو فری میں اونلائن ارنینگ کرنی ہے۔۔۔ بنا ہاتھ پیر چلائے گھر بیٹھے ہوئے۔۔۔ اسکے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی۔۔۔ اور حقیقی معائنوں میں ارنینگ تو ہوگی۔۔۔ مگر انکی نہیں بلکہ میری۔۔
کتنوں کو بچاو گی۔۔۔ انداز پر تاسف تھا۔۔۔ چیلنج کرتا۔۔۔ جیسے اسکی کل کی حرکت کو سر پر سوار کر چکا ہوا۔۔۔
لمحوں میں کنول کی آنکھیں بھرائیں۔۔
ابھی تو میرا اگلا لنک بھی تقریباً تیار ہوا پڑا ہے۔۔۔ جو یو ٹیوبرز اور انفولینسرز کے لئے ہے۔۔۔ پچھلے لنک کے لئے بھی لوگوں نے کچھ تدبیریں نکال لیں تھیں اب میرا لنک بھی موڈیفائی ہو گیا ہے۔۔۔
پچھلے مہینوں میں نے کتنے یوٹیوبرز اور انفولینسرز کے چینل ہیک کئے۔۔ اب مزید کے کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔۔۔ ان کے لئے کیا کرو گی تم ۔۔۔ وہ چیلنجنگ انداز میں پوچھ رہا تھا۔۔۔
یوٹیوبرز اور انفولینسرز سے وہ کولیبریٹ کر کے اپنی ویب سائٹس اور ایپس پروموشن کی ڈیل فائنل کرتا اور ایڈوانس کیساتھ پرموشن لنک سینڈ کرتا۔۔۔ جیسے ہی وہ لوگ لنک پر کلک کرتے انکا چینل ہیک ہو جاتا۔۔۔ چینل کی سبھی اتھوریٹیز اسکے پاس آجاتی۔۔۔ لمحوں کا کھیل ہوتا اور پاسورڈ اور سیکیورٹی تبدیل کرنے کے بعد آنر کا چینل سے کوئی تعلق نا رہتا۔۔۔
مونیٹائز بھرپور ٹریفک والے چینل کا وہ لمحوں میں نقشہ بدل کر آگے مہنگے داموں بیچ دیتا یہ سب ہوتا وہ کافی عرصے سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اسکے ہر سکیم کا کنول کو پتہ نا لگ پاتا بس کبھی کبھار آتے جاتے کچھ اسکے کانوں میں پڑ جاتا تو وہ آگاہ ہو جاتی جیسے اسکے سسٹم میں فنگشنز موجود تھے کے وہ کسی کی بھی آواز کاپی کر لیتا۔۔۔ وائس چینجرز کی مدد سے آواز بدل لیتا۔۔۔۔ کبھی بچے کی آواز کبھی کسی بزرگ کی تو کبھی کسی آفیسر کی آواز نکال لیتا۔۔۔
عموماً اسکی آوازیں اس کمرے سے باہر نا نکلتی۔۔۔ لیکن کبھی کبھار آتے جاتے کچھ آوازیں اسکے کانوں میں پڑ جاتیں تو اسکے قدموں تلے سے زمین کھسک جاتی۔۔۔ وہ کیسے لمحوں میں لوگوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج کر کے انہیں گھما ڈالتا تھا کے انسان کو اپنے خسارے کے بعد پتہ چلتا وہ کیا کر چکا تھا۔۔۔ لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی۔۔۔
یہ ہی وجہ تِھی کے وہ اسکے سکیمز بارے میں بہت کم جانتی تھی۔۔۔ اسکے ہر سکیم کے بارے میں جانتی تو شاید ابھی تک زندہ بھی نا ہوتی۔۔۔
ہر گزرتا واقعہ آن کو مزید کلیریٹی دیتا۔۔۔ جیسے جیسے وہ لوگوں کے ساتھ سکیم کرنے میں کامیاب ہوتا ویسے ویسے اسکا کانفیڈینس بڑھتا۔۔۔ مزید جوش کے ساتھ وہ اپنے کام کو امپروو کرتا۔۔۔
پہلے پہل لوگوں کے ساتھ سکیم کرنا آسان تھا۔۔۔ بہت کم وقت میں اسنے بہت کامیابیاں سمیٹی۔۔۔ محض ایک سے ڈیرھ سال میں وہ اپنا سٹیٹس بدلنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔ کبھی آیف آئی اے والا بن کر کسی سے معلومات لینا تو کبھی بینک کے ہیڈ کوارٹر سے کال کر کے لوگوں کی اکاونٹس ڈیٹیل حاصل کر کے انہیں لمحوں میں خالی کر دینا۔۔۔ سب سے آسان کام تو اسے جیز کیش اور ایزی پیسہ اکاونٹ ہیک کرنا لگتے تھے۔۔۔ محض ایک کوڈ ہی تو چاہیے ہوتا تھا ۔۔۔
لوگ لمحوں میں اسکی باتوں میں ا کر اسے کوڈ سینڈ کر دیتے۔۔۔
لیکن جیسے جیسے لوگوں میں آگاہی بڑھنے لگی۔۔۔ سکیم کے بڑھتے واقعات کیساتھ شعور بڑھنے لگا اسکا کام کم ہونا شروع ہو گیا۔۔۔
لوگ بینک میں کمپلینز کروانے جاتے تو وہ واضح الفاظ میں بتا دیتے کے بینک والے کبھی آپکو براہ راست فون کر کے انفارمیشن نہیں مانگتے۔۔۔ لحاظہ ایسی کوئی بھی کال آئے سرے سے نظر انداز کر دیں۔۔۔ شعور بڑھنے کے ساتھ لوگ چوکنے ہوگئے۔۔۔ اسکا کام مشکل ہو گیا۔۔۔
پھر اسنے سکیم کی الگ الگ سٹریٹیجیز نکالنا شروع کر دی۔۔۔ انسانی نفسیات کے کیساتھ کھیلنا۔۔۔ اپنی باتوں اور جذبات کے ذریعے انسانی دماغ کو یوں قابو کرنا کے لوگ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ہی کھو بیٹھتے ۔۔۔
لیکن اس کام میں بھی وہ پچاس فیصد کامیاب ہو پاتا۔۔ پچاس فیصد رسک ہی ہوتا۔۔۔
کئ باشعور انسان اسکی کال سنتے بیچ میں ہی کاٹ کر نمبر بلاک کر جاتے۔۔۔
جبکہ کچھ لوگ فون اٹھاتے ہی نا بلکہ انون نمبر دیکھ کر بنا اٹھائے ہی نمبر بلاک کر دیتے۔۔۔
جبکہ کچھ لوگ فون اٹھا کر بنا بولے مقابل کی آواز سن کی شناخت کرنا چاہتے ایسے میں وہ خود کو بہت باتہذیب بنا کر خود کو کسی نا کسی ادارے سے منسلک کر کے بات شروع کرتا۔۔۔ اس میں بھی کچھ لوگ تعارف جانتے ہی فون کاٹ دیتے جبکہ کچھ لوگ پوری بات سننے بیٹھ جاتے۔۔۔ اور اسکے لئے سب سے آسان کام ہی یہ تھا کہ کوئی تسلی سے اسکی بات سنتا تو وہ بہت آسانی سے اسے ٹریپ کر لیتا۔۔۔
انسان کی باتوں سے اسکی آواز سے وہ بات کرتا کرتا اسے ٹریپ کرنے کی کہانی گھڑ لیتا۔۔۔
اس سے بات کر کے لوگوں کو گھمانا اس کے لئے مشکل نا تھا۔۔۔
اس میں بھی کچھ اس کے لئے مشکل اہداف ہوتے جنہیں مختلف نمبروں سے مختلف لہجے اور آوازین بدل کر قائل کرنا پڑتا کے وہ ہیڈ کوارٹر سے بات کر کے معلومات لے رہا ہے جبکہ کچھ سیدھے سادھے اور بھولے لوگ بڑی آسانی سے ٹریپ ہو جاتے۔۔۔ جیسے کل ہی وہ ایک فیملی سے محض چند گھنٹوں میں اچھی خاصی رقم بٹور چکا تھا۔۔۔
اگر کنول یہ سب جان جاتی تو بلاشبہ حرام ہونے کے باوجود خود کشی کر کے مر جاتی۔۔۔۔
کنول کی آنکھیں چھلک پڑیں تھیں اسنے کپکپاتے ہاتھ آن کے سامنے جوڑ دیئے۔۔۔
آپکو آپکے بیٹے کا واسطہ آن۔۔۔ میرے ان جڑے ہاتھوں کی لاج رکھ لیں۔۔۔ مکمل طور پر اس کام کو نہیں چھوڑ سکتے تو لڑکیوں کے ساتھ سکیم کو اس فہرست سے نکال دیّں۔۔۔ پلیز۔۔۔
یہ میں برداشت نہیں کر پاوّں گی آن میرا دل پھٹ جائے گا۔۔۔
وہ اسکا چہرا اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں تھامے بے بسی سے رو دی۔۔۔
مجھے کیوں بے بس کرتی ہو کنول۔۔۔ میرا بہت وقت تم فضول کی باتوں میں ضائع کرنے لگی ہو۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے پاکستان میں محض ایک میں ہی سکیمر ہوں۔۔۔ میں یہ کام چھوڑ دوں گا تو ہر جانب سکون ہی سکون ہو جائے گا۔۔۔
وہ تاسف سے گویا ہوا۔۔۔
مجھے کسی اور سے کوئی غرض نہیں آن۔۔۔ مجھے صرف آپ سے غرض ہے۔۔۔ اس نے بھی نا ہارنے کی ٹھانی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے اس بات کا میں تم سے وعدہ کرتا ہوں اب سے سکیم کی لسٹ سے میں لڑکیوں کو نکالتا ہوں۔۔۔ لیکن پھر تمہیں بھی مجھ ایک وعدہ کرنا ہوگا۔۔۔۔وہ سنجیدہ سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
کنول کا ماتھا ٹھنکا۔۔۔
کیسا وعدہ۔۔۔ آواز سرگوشی کے متبادل تھی۔۔۔
تم دوبارہ میری کمپیوٹر لیب میں نہیں آو گی۔۔۔ اسکی آنکھوں میں ایک سخت سا تاثر تھا۔۔۔ اس سے زیادہ وہ کنول کی مداخلت اپنے کام میں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ وہ ایک آزاد پنچھی تھا اعر ابھی اسے آسمان کی وستعوں میں اپنی پرواز بہت بلند کرنی تھی۔۔
تم اس گھر کی ملکہ ہو۔۔۔ اس گھر کی ایک ایک چیز پر بشمول میرے تم ہر طرح کا حق رکھتی ہو۔۔۔ یہاں ہر چیز پر تمہاری حکمرانی ہے پر وہ جگہ تمہارے لئے شجر ممنوعہ ہے۔۔۔
تم وہاں نہیں جاو گی۔۔۔ اور جس روز تم وہاں گئ۔۔ یا دوبارہ تم نے کل رات والی حرکت کرنے کی کوشیش کی کنول ۔۔۔ سنجیدگی سے کہتا وہ رکا۔۔۔
کنول سانس تک روکے اسے سن رہی تھی۔۔ تو میں سب کچھ فراموش کر دوں گا کنول۔۔۔ پھر آگے کی ذمہ دار تم خود ہو گی۔۔۔
اور مجھے پورا یقین ہے کے ایسی نوبت ہماری زندگی میں کبھی نہیں آئے گی۔۔۔
اچانک اسکا لہجہ بدلا تھا۔۔۔ اسنے مسکرا کر کنول کے گال تھپتھپائے۔۔۔
آئی لو یو کنول۔۔۔ تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔۔ وہ اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکرائے یکسر بدلے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
کچھ لمحے پہلے والی سنجیدگی اور سختی لہجے سے غائب تھی۔۔۔
بس مجھے کبھی کسی آزمائش میں مت ڈالنا یار۔۔۔ بہت گنہگار بندہ ہوں آزمائشوں پر پورا نہیں اتر سکتا۔۔۔
گہری سانس خارج کرتا وہ اسے دھکے چھپے اور معنی خیز انداز میں بہت کچھ باور کروا چکا تھا۔۔۔
تم آرام کرو مجھے کچھ کام ہے حسن کو ساتھ لے جاوں گا۔۔۔ وہ اسکے گال تھپتھپا کر کمرے سے نکل گیا۔۔۔
جبکہ وہ بھاری دل کیساتھ لحاف کندھوں تک کھینچتی لیٹ گئ۔۔۔ نگاہیں فین سیلنگ کے نقش و نگار پر مرکوز تھی اور دھیان۔۔۔ دھیان کی پرواز ناجانے کہاں تھی۔۔۔ اسے تو سب خالی خالی سا محسوس ہو رہا تھا۔۔
ناجانے کتنے خاندانوں کو وہ دکھ کی نظر کر چکا تھا اور کتنوں کو کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔
وہ غافل تھا لیکن کنول غافل نا تھی۔۔۔ وہ ایک غائبانہ ہستی پر یقین بھی رکھتی تھی اور اسکے قہر سے بھی واقف تھی۔۔۔۔
وہ غافل تھا اسی لئے آسمان کی بلند وستعتوں میں یرواز بہت اونچی رکھنا چاہتا تھا۔۔۔
لیکن وہ آگاہ تھی کے جب اسکی ذات ظالم کی رسی کو کھینچتی ہے تو اسقدر بلندی سے منہ کے بل نیچے پٹخے جانے کے بعد انسان کے پاس کچھ نہیں بچتا۔۔۔
اور پھر کیا اللہ بھی کبھی کچھ بھولتا ہے۔۔۔ نہیں وہ نہیں بھولتا۔۔۔ کسی کی آنکھ سے نکلا ایک آنسو۔۔۔ کسی کے دل سے نکلی ایک آہ۔۔۔ کسی کی درد اور اذیت کی نظر ہوئی ایک سسکی۔۔۔
یہ سب زمین والوں کے لئے بے مول ہوسکتے ہیں لیکن عرش والے کے لئے نہیں۔۔۔
وہ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے۔۔۔ بہت محبت۔۔۔ اتنی کے کسی کی ایک ایک آہ ایک ایک سسکی ایک ایک آنسو اسکے پاس محفوظ ہے اور بہت اچھے سے محفوظ ہے۔۔۔ اتنے اچھے سے کے آنسو بہانے والی آنکھ اور آہ نکالنے والا دل بھول سکتا ہے مگر وہ نہیں بھولتا۔۔۔ وہ کبھی نہیں بھولتا۔۔۔
اور پھر وہ خود کہتا ہے کہ حقوق اللہ میرے اختیار میں ہیں جبکہ حقوق العباد میرے اختیار میں نہیں۔۔۔ اسکی معافی میرے بندے ہی دیں گے۔۔۔ پھر وہ کس زعم میں تھا۔۔ وہ سوچتی تو کرلا اٹھتی۔۔۔ ناجانے وہاں اسکے لئے کتنے آنسووں اور کتنی آہیں اکھٹی ہو چکی تھیں۔۔ اور اسکے لئے ہی کیوں۔۔۔ وہ تو خود کو بھی برابر کا شریک سمجھتی جو سب دیکھتے بوجھتے خاموش تھی۔۔۔
دل بہت بھرا جاتا تو وہ رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر سجدے بھگو کر ہلکا کرنے کی کوشیش کرتی۔۔۔
وہ جانتی تھی کے اللہ سب کچھ بن مانگے عطا کر سکتا ہے سوائے ایک ہدایت کے۔۔۔ اور ہدایت وہ واحد چیز ہے جو وہ تب تک عطا نہیں کرتا جب تک انسان خود اسکی تمنا نہیں کرتا۔۔۔ وہ بہت بار آن سے کہتی کہ آن اللہ سے اپنے لئے ہدایت مانگا کریں۔۔۔ وہ عطا کرے گا۔۔۔ اور وہ ہر بار ہس کر ٹال جاتا۔۔۔
اسکی ساکت نگاہیں یک ٹک فین سیلنگ پر ٹکی تھیں اور آنکھوں سے آنسو کسی لکیر کی مانند کنپٹیوں کی جانب بہہ رہے تھے۔۔۔ کاش اسکی چھوٹی سے چھوٹی بات کا احساس کرنے والا وہ شخص کبھی اسکی ذہنی اذیت کے بارے میں بھی جان پاتا۔۔۔
******

No comments