Scheme novel 10th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 10th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔
______
دسویں قسط۔۔۔
کنول کی جان لبوں پر آئی۔۔۔ جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر اسکی جانب پلٹا۔۔۔ سرخ انگارہ وحشت بھری آنکھیں۔۔۔ بھینچے جھبڑے اور ابھری نسیں۔۔۔ کنول کو اس شخص سے خوف محسوس ہوا۔۔۔
بے تحاشہ خوف۔۔۔۔
کیوں کیا تم نے ایسا کنول۔۔۔ کیوں۔۔۔ وہ سختی سے اسکا منہ جھکڑتا غرایا۔۔۔ دبی دبی سی سسکی کنول کے منہ سے برآمد ہوئی۔۔۔
آن اس وقت ہوش میں نا لگ رہا تھا۔۔۔ وہ بہت لونگ اور کیرنگ تھا ۔۔۔ مگر غصے کے وقت اسے کچھ سجھائی نا دیتا ۔۔۔ اور آج تو غصہ بھی حد سے سوا تھا۔۔۔
میری اپنی شریک حیات میرے کاموں میں روڑے اٹکائے گی۔۔ ہاں۔۔۔
اسنے غصے سے اسکا منہ جھٹکا اور بے دردی سے اسکی بازو جھکڑ کر اسے اپنے مزید قریب کیا۔۔۔
اب میں اپنے ہی گھر میں تم سے چھپ کر کام کروں۔۔ اپنے ہی گھر میں پراویسی سسٹم آن کروں۔۔۔ اس سے پہلے میں تمہری جان نا لے لوں ۔۔۔ وہ حلق کے بل غرایا۔۔۔ محنت غرق ہونے کا قلق الگ تھا۔۔۔
پورا ہفتہ لگا تھا اسے موبائل دیٹا ہیک کرنے کا لنک بناتے بناتے ۔۔۔۔ پھر کہیں جا کر وہ کامیاب ہو پایا تھا کے کوئی ایک دفعہ اسکے بھیجے گئے لنک پر کلک کرتا تو اسکا پورا موبائل دیٹا ہیک ہو جاتا۔۔۔ اور یہ بندی لمحوں میں اسکی دن رات کی محنت کو ضائع کر چکی تھی۔۔۔
ہاں مار دیں مجھے۔۔۔ مار ہی دیں آن۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ جھٹکتی دو قدم پیچھے ہٹ کر ہذیانی انداز میں چلائی۔۔۔
نہیں سنی گئ مجھ سے کل رات اس لڑکی کی فریادیں۔۔۔
ناجانے پرائیویسی کے نام پر کیا تھا اسکے موبائل میں جو وہ لڑکی اسقدر حواس باختہ تھی۔۔۔ آپ سب کرتے رہے۔۔۔ مختلف طریقوں سے لوگوں کے ساتھ سکیم کیا۔۔۔ انہیں دھوکہ دیا فریب کیا چھل رچایا۔۔۔ انہیں لوٹا۔۔۔۔میں چپ رہی۔۔۔ رو کر اپنا غم مٹا لیا۔۔۔
مگر یہ۔۔۔ آپ کسی لڑکی کی عزت کیساتھ کیسے کھیل سکتے ہی آن۔۔۔ کیا آپکو اپنی بیوی دکھائی نہیں دیتی۔۔۔ اپنی بہن نظر نہیں آتی۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی گھٹیا لڑکی۔۔۔ وہ بلبلا اٹھا تھا۔۔۔
کیوں۔۔۔ اب کیوں تکلیف ہوئی۔۔ وہ سسکی۔۔۔ کیا آپکو مقافات عمل پر اعتبار نہیں۔۔۔
پر مجھے ہے۔۔۔ بے بسی کے آنسو ٹپ ٹپ آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔۔
میں آپکو یہ نہیں کرنے دے سکتی آن۔۔۔ خدا کے قہر سے ڈریں۔۔۔
میں اسکی تصویروں اور ویڈیوز کا کچھ نہیں کرنے والا تھا۔۔۔ اسے سوشل میڈیا پر ڈالنے کی بھی محض دھمکی دی تھی میں نے اسے۔۔۔ شام تک وہ مجھے پیسے بھیج دیتی اور بات ختم۔۔۔ وہ خطرناک حد تک سنجیدہ تھا۔۔۔
کیسے بات ختم آن۔۔ کہاں سے دیتی وہ آپکو پیسے۔۔۔ میں نے سنی ہی اس لڑکی کی سسکیاں۔۔۔ وہ ایک غریب گھرانے کی لڑکی تھی۔۔۔ پیسے تو وہ نا دے پاتی ہاں عزت کے نام پر جان ضرور دے دیتی۔۔۔
یہ میرا مسلہ نہیں۔۔ وہ درشتی سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
میرا مسلہ تم ہو ۔۔ تمہیں عزت راس نہیں آتی۔۔۔ تمہیں میں نے جتنی عزت اور مان دینا چاہا تم اتنا ہی میرے سر چڑھ کر ناچ رہی ہو۔۔۔ اسکی آواز میں غیر معمولی پن تھا۔۔۔ جیسے کنول کی یہ حرکت اسکی برداشت سے باہر تھی۔۔۔
اگر آپ دوبارہ کسی لڑکی کو ٹارگٹ کریں گے تو میں ایسا ہی کروں گی۔۔۔ میں کسی صورت آپکو کسی لڑکی کی عزت خراب کرنے نہیں دوں گی۔۔۔ وہ اسکے تیور دیکھتی خوف سے کپکپا رہی تھی۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ سب دیکھتے جانتے بوجھتے اسے یہ کرتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔
اور میں تمہیں یہ کرونے دوں گا ہاں۔۔۔ وہ استہزائیہ ہسا۔۔۔
تم جیسی لڑکی کی کوئی ضرورت نہیں میری زندگی میں۔۔۔ دفعہ ہو جاو میرے گھر سے اور میری زندگی سے۔۔۔ وہ ایک ہی جست میں اسکے پاس پہنچا اور بازو سے دبوچے اسے گھسیٹتا ہوا کمرے سے باہر لایا۔۔۔
کنول کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔
یہ تو وہ آن تھا ہی نہیں جو اسکا محبوب شوہر تھا۔۔ یہ تو کوئی اور ہی شخص تھا جسکی آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔۔۔
نن۔۔ نہیں آن۔۔۔ نہیں۔۔۔ کنول نے اپنا آپ اس سے چھڑوانے کو جی جان لگا دی۔۔۔ مگر اس مضبوط ڈیل ڈول کے مالک شخص کے سامنے بھلا اسکی کہاں چلتی۔۔۔
مم۔۔۔ میں کہاں جاوں گی آن۔۔۔ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔ اسکے ساتھ گھسیٹتی جاتی وہ فریادیں کر رہی تھی لیکن مقابل شاید بہرا ہونے کے ساتھ ساتھ بے حس بھی ہو گیا تھا۔۔۔
کنول نے لبوں پر زبان پھیرتے یہاں وہاں دیکھتے کوئی تدبیر سوچنی چاہی ۔۔
آن کو وہ اسقدر غصے میں قابو نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ اتنے غصے میں وہ کسی کی نا سنتا۔۔۔۔۔ ہاں اسکا غصہ ٹھنڈا ہوتا تو تحمل سے اسکی بات بھی سنتا اور اسے سکی حرکت پر معاف بھی کر دیتا۔۔۔
اکثر غصے میں وہ انتہائی قدم بھی اٹھا جاتا تھا۔۔۔ اس لئے کنول ہر اس چیز کو نظر انداز کرتی جو آن کے غصے کا باعث بنتی۔۔۔ یہ ہی اسکی تین سالہ کامیاب ازواجی زندگی کا راز تھا۔۔۔ مگر آج تو اسنے خود مقابل کو غصے کی بھٹی میں جھونکا تھا۔۔۔
دفعتاً اسے لاوئنج میں حسن روتا دکھائی دیا۔۔۔
آن آپکو حسن کا واسطہ۔۔۔ وہ دیکھیں وہ رو رہا ہے۔۔ مجھے چھوڑیں۔۔۔۔ وہ آخری حربے کے طور پر اسے بیٹے کا واسطہ دینے لگی۔۔۔ مگر مقابل غصے میں خود کا نا رہتا تھا اسکی خاک سنتا۔۔۔
اسنے اسے دروازے کے پاس جا کر جھٹکے سے چھوڑا۔۔۔
توازن بگرا اور وہ سیدھا زمین بوس ہوئی۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ اسے باہر کرتا دروازہ بند کرتا۔۔۔ وہ پھرتی سے ہتھیلی پر وزن ڈالتی اٹھی اور تیزی سے اسے ایک طرف دھکیلتی اس کے پاس سے آندھی کی مانند بھاگی۔۔۔
ہے یو۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ اسے کچھ سخت کہتا واپس اس کو دبوچتا وہ ڈھرکتے دل کے ساتھ سٹور روم میں داخل ہوتی اندر سے دروازہ لاک کر گی۔۔۔
کنول دروازہ کھولو ورنہ میں یہ توڑ دوں۔۔۔ وہ دروازے پر ٹانگیں رسید کرتا بپھرا۔۔۔
وہ اپنے کپکپاتے وجود کے ساتھ دروازے سے ٹیک لگاتی وہیں نیچے بیٹھ گئ۔۔۔
گھٹنے سینے سے لگائے وہ کپکپاتے ہاتھوں سے انکے گرد حصار کھینچ گئ۔۔۔ باہر سے اسکے چیخنے کی اور دروازہ ٹورنے کی آوازیں آ رہی تھیں تو اندر سے اسکے اونچا اونچا رونے کی۔۔۔
سٹور روم کے یخ بستہ فرش پر بیٹھی وہ اپنی قسمت پر رو رہی تھی۔۔۔ نا اس شخص کو چھوڑ سکتی تھی نا اسکے ساتھ رہ سکتی تھی۔۔۔ عجیب دوراہے پر لے آئی تھی اسے زندگی۔۔۔۔
حسن کے رونے کی آواز مزید بڑھی تو اسے باہر سے اسکے دور جاتے قدموں کی آواز سنائی دی۔۔۔ وہ تھک کر سر دروازے کے ساتھ ٹکا گئ۔۔۔
دنیا کی ہر نعمت وہاں اس گھر میں موجود تھی۔۔۔ ضرورت کی ہر چیز ہر آسائش۔۔۔ کپڑے جوتے۔۔ کھانا گاڑی پیسہ۔۔۔ ایک شاہانہ لائف سٹائل۔۔۔ لیکن اس سب کے باوجود سکون کہاں تھا۔۔۔
وہ کہتا کے اسکے معاملات میں دخل اندازی مت کرو۔ اور وہ سب دیکھ کر بھی نظر انداز نہیں کر پاتی تھی۔۔۔
وہ کہتا جو چاہیے وہ بتاو۔۔۔ بس زندگی سکون سے گزارو۔۔۔ پر اسے تو اپنے مخمل کے بستر پر کانٹے اگے محسوس ہوتے۔۔۔
کھانا کھانے بیٹھتی تو اس کھانے کے گرد لوگوں کی بے بسی اور آہیں گردش کرتی دکھائی دیتیں۔۔۔
حرام سے کمائی دنیا کی ہر نعمت ہیج لگتی۔۔۔
برانڈد کپڑے جسم پر کسی ازدھے کی مانند ڈنگ مارتے محسوس ہوتے۔۔۔
حسن کا فیڈر بناتی تو کئ بچوں کی بھوک آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی۔۔۔
وہ کیسے دوسروں کا حق چھین کر اپنے بیٹے کو آسائشوں بھری زندگی دے سکتا تھا۔۔۔
وہ کبھی کبھار شدید حیران ہوتی۔۔۔ اتنے لوگوں کو رلا کر انکی آہیں سمیٹ کر وہ کیسے رہتا تھا اتنا مطمیئں۔۔۔ اتنا پرسکون۔۔۔ اس سے تو نا رہا جاتا۔۔۔
اسے تو اس گلیمر کے پیچھے قبر کا اندھیرا ابھی سے ڈستا۔۔۔
کیسے وہ ہر نئ سٹریٹیجی کے ذریعے دوسروں کو اپنے داو میں پھانس کر اس سے رقم حاصل کر کے قہقے لگاتا۔۔۔ اسے تو اپنا سانس تک بند ہوتا محسوس ہوتا۔۔۔
کسی کے گھر قہرام مچا کر کسی کے گھر اندھیر کر کے وہ کیسے جیت کی خوشی مناتا۔۔۔
اور فوراً ہی اگلے شکار کی طرف چل پڑتا۔۔۔
وہ حلال رشتے میں بندھے روز حرام کھاتی حرام پہنتی اپنے بچے کو حرام کھلاتی۔۔۔ اسے لگتا یہ حرام اسکے حلال رشتے کی بھی لذت کھا جائے گا۔۔۔
وہ روز خود پر اس حرام کا بوجھ بڑھتا محسوس کرتی۔۔۔ وہ روز خود کو لوگوں کی آہوں اور بددعاوں کی دلدل میں مزید دھنستا ہوا محسوس کرتی۔۔۔
سکون نہیں تھا اسکی زندگی میں۔۔۔ وہ کہتا کس چیز کی کمی ہے اسے۔۔ وہ کیسے بتاتی کہ آنکھیں بند کرتے ہی اسے ان لوگوں کے ہاتھ اپنی گردن کی طرف بڑھتے محسوس ہوتے جنکی حق تلفی کی بنیاد پر انکی خوشیوں کا یہ محل کھڑا تھا۔۔۔
اسے یہ آسائشیں نہیں چاہیے تھی۔۔۔ اسے سکون چاہیے تھا۔۔۔ سکون قلب۔۔۔
اسے اپنے رب کے حضور کھڑے ہوتے شرمندگی محسوس ہوتی۔۔۔
وہ اسکی باتوں سے چڑتا تھا۔۔۔ اسکے وعظ سن کر آگ بگولہ ہوتا اور اسکے غصے میں آنے سے پہلے وہ موقف سے ہٹ جاتی۔۔۔ وہ اسے پیار سے راہ راست پر لانا چاہتی تھی۔۔۔ اور پچھلے تین سالوں میں یہ آج تک ممکن نا ہو سکا تھا۔۔۔
وہ اسکی ہر بات سنتا۔۔۔ ہر بات مانتا۔۔۔ اسے شہزادیوں کی طرح ٹریٹ کرتا۔۔۔ اسکی کیئر کرتا۔۔۔ دنیا جہاں کی آسائشات دیتا مگر اس معاملے میں وہ اسکی بات سننے کا روادار نا تھا۔۔۔
وہ بہت بے بسی اور التجائیہ انداز میں روزانہ کی بنیاد پر اسے روکنے کی کوشیش کرتی کے قطرہ قطرہ کر کے پانی پتھر پر برسایا جائے تو وہاں پر بھی سوراخ ہو جاتا ہے۔۔۔ مگر آج اسکا شوہر جسقدر غصے میں پاگل ہو رہا تھا اسنے ایسا رویہ کبھی نا رکھا تھا۔۔۔
ناجانے اسکا غصہ کم ہوا تھا یا نہیں۔۔۔ لیکن باہر سے اب اسے کسی کی بھی آواز نا آ رہی تھی۔۔۔
******
آج موسم قدرے بہتر تھا۔۔۔ حماد کا آج آخری پیپر بھی بہت اچھے سے ہو گیا تھا۔۔۔ اسی لئے وہ اب خاصا ریلیکس تھا۔۔۔
وہ اندر اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹا موبائل پر مصروف تھا جبکہ ماں باہر برآمدے میں اپنا کام کر رہی تھی۔۔۔ جب ماں کے موبائل کی بیل بجی۔۔۔
دروۃ کھلا ہونے کے باعث وہ باہر ہوتی ساری کاروائی دیکھ رہا تھا۔۔۔ ماں نے موبائل اٹھایا اور وہیں چارپائی پر بیٹھ گئ۔۔۔
واعلیکم اسلام۔۔۔ اچھا نزاکت بات کر رہے ہو۔۔۔
کیسے ہو نزاکت۔۔۔۔ اسے باہر سے ماں کی آواز سنائی دی اور وہ پرسکون ہو گیا۔۔۔ نزاکت انکے دور پار کا رشتے دار تھا۔۔۔ کبھی کبھار اس سے بات بھی ہو جاتی تھی۔۔۔
ماں فون ہمیشہ سپیکر آن کر کے ہی سنتی اس لئے اسے باخوبی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔
وہ اب انسٹاگرام ریلز چیک کرنے لگا تھا ۔۔۔ اتنی دیر بعد تو فراغت ملی تھی۔۔ چار بجے اسکی شفٹ شروع ہونی تھی ابھی تو کافی وقت تھا اس کے پاس۔۔۔
تم پاکستان آگے ہو کیا۔۔۔ نمبر تو پاکستان کا ہے۔۔۔ ماں کی آواز ابھری ۔۔۔ نہیں باجی میں باہر ہی ہوں ۔۔۔ نیٹ سے کال کر رہا ہوں اس لئے نمبر ایسے شو ہو رہا ہے۔۔
اچھا۔۔۔
باجی مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔۔۔ دوسری طرف سے آواز ابھری۔۔
ہاں ہاں بولو۔۔۔ سن رہی ہوں۔۔۔
باجی میں دراصل آپکو کچھ رقم بھیجنا چاہتا ہوں۔۔۔ اپنی بیوی کو میں جتنے بھی پیسے بھیجتا ہوں وہ سارے استعمال کر لیتی ہے کچھ بچاتی نہیں۔۔۔ آپ خاندان بھر میں ایماندار مشہور ہیں۔۔۔ میں آپکو رقم بھیجنا چاہتا ہوں تاکہ آپ اسے اپنے پاس سمبھال کر رکھیں اور جب میں پاکستان واپس آوں تو اپنا کوئی سیٹ آپ شروع کر سکوں۔۔۔
اسنے التجائیہ اپنا مدعا بیان کیا۔۔۔
مجھے پیسے بھیجنے ہیں۔۔۔ وہ الجھی۔۔۔ چلو ٹھیک ہے بھیج دو۔۔۔
وہ کچھ دیر گومگو کی کیفیت میں رہنے کے بعد گویا ہوئیں۔۔
باجی آپ مجھے اپنا شناختی کارڈ نمبر دے دیں۔۔ میں شناختی کارڈ پر پیسے بھیجوں گا۔۔۔ میسج آپکو مل جائے گا پیسے آپ چوبیس گھنٹے بعد نکلوا سکتے ہیں ۔۔ وہ مزید گویا ہوا۔۔۔
اسکی بات سن کر اند لیٹا حماد بھی موبائل چھوڑ اٹھ بیٹھا۔۔۔
اچھا چلو دیکھتی ہوں شناختی کارڈ تو دھونڈنا پڑے گا ناجانے کہاں رکھا ہے۔۔ تم کچھ دیر انتظار کرو میں دھونڈ لوں۔۔۔ ماں کہتی فون کاٹ کر اٹھی۔۔۔
ماں یہ آپ کن چکروں میں پڑی ہیں۔۔ ہم نے نہیں منگوانی کوئی رقم وقم۔۔۔ پہلے ہی مسلے بہت ہیں۔۔ مزید کسی مسلے میں نہیں پڑنا ہمیں۔۔۔
حماد بیزاری سے گویا ہوتا اٹھ کر ماں کے پاس آیا۔۔
ہا۔۔۔۔ حماد بچے پیسے بھیج رہا ہے وہ مانگ نہیں رہا۔۔۔
اور پھر پیسے بھیج کر وہ تھوڑی نا ابھی پاکستان آ جائے گا۔۔۔ پاس پیسے اچھے ہوتے ہیں۔۔۔ کتنے مسلے ہیں ہمارے جو پیسوں کی وجہ سے اٹکے پڑے ہیں۔۔۔
اور کچھ نہیں تو میرا آپریش ہو سکتا ہے۔۔۔ ہم تھوڑی نا اسکے پیسے لے کر بھاگ جائیں گے۔۔۔ جب وہ پاکستان لوٹے گا تو لوٹا دیں گے۔۔۔
ویسے بھی یہ میری دعاوں کا صلہ ہے۔۔ رات رات بھر جاگ کر میں اپنے رب سے غیبی مدد کی دعائیں کرتی تھی دیکھو اللہ نے کس طرف سے غیبی مدد کا وسیلہ بنایا ہے۔۔۔ ماں کی آواز بھر آئی تھی۔۔۔ انہوں نے رب کا شکر ادا کرتے نم آنکھوں کے کنارے صاف کئے۔۔۔
حماد نیم رضا ہوا۔۔۔ ماں کی باتیں اسے خاموش کروا گئ تھیں۔۔۔
ٹھیک ہے ماں جیسی آپکی مرضی۔۔۔ وہ الجھا سا گویا ہوا۔۔۔
تب تک ماں کمرے میں سبھی دراز کنگالتی شناختی کارڈ دھونڈ چکی تھی۔۔۔
ماں آپ اسے کہو کے میرے اکاونٹ میں رقم بھیج دے۔۔۔ شناختی کارڈ نمبر کی کیا ضرورت ہے۔۔۔
کال دوبارہ سے آ رہی تھی ماں کے فون اٹھانے سے پہلے وہ گویا ہوا۔۔۔
پوچھتی ہوں۔۔ ماں نے فون اٹھاتے پھر سے سپیکر آن کیا۔۔۔
ہاں نزاکت شناختی کارڈ تو مل گیا ہے پر اگر تم اکاونٹ میں ہی پیسے بھیج دو تو۔۔۔
باجی میرے پاس یہاں اکاونٹ کا انتظام نہیں ہے۔۔۔ میں دکان پر کھڑا ہوں آپ شناختی کارڈ نمبر دیں گی تو میں ابھی یہاں سے پیسے آپکو ٹرانسفر کروا دوں گا۔۔۔ رقم ملتے ہی آپکو میسج موصول ہو جائے گا اور ساتھ ہی کنفرمیشن کے لئے ہیڈ کوارٹر سے آپکو ایک کال آئے گی۔۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے۔۔۔ ماں اسے نمبر لکھوانے لگی۔۔۔ وہ وہیں ماں کے پاس بیٹھا موبائل پر مصروف ہو گیا۔۔۔ دھیاں انکی گفتگو پر بھی تھا۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں ماں کو میسج موصول ہو گیا۔۔۔ حماد نے خود میسج چیک کیا وہ آٹھ لاکھ روہے تھے۔۔۔
ماں کی تو خوشی کی انتہا نا رہی۔۔۔
حماد نے وہیں بیٹھے اپنے ایک دوست سے شناختی کارڈ پر موصول ہوئی رقم کے بارے میں تصدیق چاہی۔۔۔ اسنے بھی اسی بات پر مہر ثبت کی کے اس طرح موصول ہوئی رقم آپکو چوبیس گھنٹوں بعد ہی ملتی ہے۔۔۔
دفعتا پھر سے ماں کا فون آیا۔۔۔ وہ ہیڈ کوارٹر سے فون تھا۔۔۔ جو ماں سے سب کنفرم کر رہا تھا۔۔۔ یکدم اتنی بڑی رقم آنے کا ماخذ۔۔۔ بھیجنے والے کا حدود اربعہ اور اسکا کام وغیرہ۔۔۔ ماں کو جو پتہ تھا بتاتی چلی گئ۔۔۔ وہاں سے بھی کنفرم ہو گیا کے رقم کل آپکو مل جائے گی۔۔۔
کال بند ہوتے ہی ماں تو شکرانے کے نوافل ادا کرنے کو اٹھی۔۔۔ انکی تو خوشی کی انتہا نا رہی تھی۔۔۔ بیٹھے بیٹھائے رقم اکاونٹ میں آگئ تھی۔۔۔
دفعتاً پھر سے نزاکت کا فون آنے لگا۔۔۔
ماں نے مسکراتے ہوئے فون اٹھایا۔۔۔
ہاں نزاکت پیسے۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھیں جب ٹھٹک کر رکی۔۔ اور ٹھٹھک تو حماد بھی گیا تھا دوسری طرف سے آتی آوازیں سن کر۔۔۔
باجی۔۔۔ باجی مجھ سے ایک غلطی ہو گئ۔۔۔ میں ساری رقم آپکو بھیج بیٹھا۔۔ میں نے یہاں ایک آدمی کے ڈیرھ لاکھ روپے دینے تھے۔۔۔ وہ بھی آپکو بھیج دیئے۔۔ وہ شخص مجھے اٹھائے اپنے ٹارچر سیل میں لے آیا ہے باجی یہ میری کوئی بات نہیں سن رہے۔۔۔ مجھ پر تشدد کر رہے ہیں۔۔۔ آہ۔۔۔
بڑی مشکل سے ایک کال کرنے کی اجازت ملی ہے ۔۔۔ آپ خدارا مجھے ڈیرھ لاکھ واپس اسی نمبر پر بھیج دیں۔۔۔
وہ اونچا لمبا مرد رو رہا تھا سسک رہا تھا۔۔۔ خوف اسکے لہجے سے عیاں تھا۔۔ جیسے بہت مشکل میں ہو بہت اذیت میں ہو
ماں کے ہاتھوں کے طوطے اڑے۔۔۔ اور طوطے تو حماد کے بھی اڑ چکے تھے۔۔۔ دونوں نے گھبرا کر ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔
ڈیرھ لاکھ۔۔۔ میں کہاں سے تمہیں ڈیرھ لاکھ بھیجوں نزاکت۔۔۔ میرے پس پیسے نہیں۔۔۔
وہ بے بس ہوئیں۔۔۔
باجی صرف ایک دن کی بات ہے۔۔۔ کل آپکو رقم مل جائے گی۔۔۔ خدارا مجھے بچا لیں۔۔۔ اگر ابھی انکو رقم نا دی تو یہ مجھے مار ڈالیں گے۔۔۔ اسکے بین دل میں ڈراریں ڈال رہے تھے۔۔۔ آہ۔۔۔ آہہہ۔۔
اسے ٹارچر کیا جا رہا تھا۔۔۔ ماں کے ہاتھ پاوں پھولنے لگے۔۔۔
حماد کچھ کرو بچے۔۔۔ وہ مصیبت میں ہے۔۔۔ ماں کے آنسو بہہ نکلے۔۔۔
میں کیا کروں ماں۔۔۔ میں کیسے۔۔ وہ خود بوکھلا اٹھا۔۔۔
کسی سے پوچھو حماد۔۔۔ ایک دن کی تو بات ہے۔۔ کل ہم اسے پیسے لوٹا دیں گے۔۔۔ صرف ایک دن کے لئے کوئی پیسے دے دے۔۔۔
ماں کی اپنی طبیعت بگڑنے لگی تھی۔۔۔ کال ہنوز جاری تھی اسکی چیخیں ہاتھ پاوں پھولا رہی تھیں۔۔۔
تم۔۔ ان کو روکو نزاکت میں کچھ کرتی ہوں۔۔۔ ماں نے کہتے فون بند کر دیا۔۔۔
ماں میں کیسے۔۔ حماد کی صرف بال نوچنے کی کسر رہ گئ تھی۔۔۔
تم اپنے دوست داںی سے بات کرو۔۔۔ دانیال ایک بزنس میں کا بیٹا اور اسکا بہت اچھا دوست تھا۔۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ ماں۔۔ دوستی اپنی جگہ مگر میں اس سے اتنے پیسے نہیں مانگوں گا۔۔۔ اور ویسے بھی آج کل ہماری ان بن چل رہی ہے۔۔۔
وہ بدکا۔۔۔
تم میری بات کروا۔۔۔ بڑا لحاظ مروت والا بچہ ہے۔۔۔ میرا مان رکھے گا۔۔ اور پھر کل تک کی تو بات ہے۔۔۔
تبھی دوبارہ فون آنے لگا۔۔۔ ماں نے بے بسی سے اسے پھر سے دیکھا۔۔
میرا پیارا بچہ نہیں۔۔ کسی کے کام آنے سے اللہ خوش ہوتا ہے۔۔۔
ماں کے ہاتھوں وہ مجبور ہو اٹھا۔۔۔
اسنے نمبر ملا کر ماں کو دیا۔۔۔ اور ماں کو پھر کون ٹالتا ہے۔۔۔ اسنے واقعی ماں کا مان رکھا اور اسے گھر آ کر پیسے لے جانے کو کہا۔۔۔
ماں نے مسکر اکر اسکا شکریہ ادا کرتے فون حماد کو پکڑایا۔۔۔
اچھی بات نہیں ہے حماد ۔۔۔ تم بھیچ میں ماں کو لے آئے۔۔۔ لیکن یاد رکھنا کل کا مطلب کل ہی ہو۔۔۔ وہ مزاقیہ انداز میں کہتا حماد کو باور کروا گیا کے پیسے لیٹ نا ہوں۔۔۔
حماد نے اسے تسلی دیتے فون بند کیا اور ماں کو ساتھ لئے ہی گھر سے نکلا۔۔۔
فون بار بار آ رہے تھے۔۔ ماں نے اسے تسلی دی کے وہ پیسے بھیجنے ہی دکان پر جا رہے ہیں۔۔۔ حماد کے گھر سے پیسے لے کر دکان تک جاتے کئ فون آ چکے تھے۔۔۔ ماں نے پیسے دونوں ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے۔۔ اتنے نوٹ ایک ساتھ وہ عرصے بعد دیکھ رہی تھی۔۔۔ پانچ پانچ سو کی کاپیاں۔۔۔پورا ڈیرھ لاکھ
دوکان پر جا کر پیسے ایزی پیسہ کروا کر وہ شکر ادا کرتی کر رہی تھیں کے کسی کو مصیبت سے نکال لیا۔۔۔ پیسے ان لوگوں کے کسی عزیز کو پاکستان میں ہی بھیجنے تھے تو سہولت رہی۔۔۔
دفعتاً حماد کو کچھ کلک ہوا۔۔۔ ایک منٹ ماں۔۔۔ اسی بینک سے کل ہم نے پیسے نکلوانے ہیں زرا ایک دفعہ کنفرم کروا لیں۔۔۔ بینک کے سامنے سے گزرتا وہ وہیں بائیک روکتا ماں کو ساتھ لئے اندر بینک میں گیا۔۔۔
کیشیئر کے پاس ایک لمبی قطار تھی۔۔۔ باری آنے پر کیشیئر کو میسج دکھا کر تصدیق چاہی۔۔۔ جبکہ وہ اسے ایسے دیکھنے لگا جیسے کسی پاگل کو دیکھ لیا ہو۔۔۔
کل ہمیں کتنے بجے پیسے مل جائیں گے۔۔۔ ماں مستفسر ہوئی۔۔
محترمہ کوئی پیسے نہیں آئے۔۔۔ کہیں ان پیسوں کے چکر میں آپ نے کسی کو پیسے تو نہیں بھیجے ۔۔۔ وہ شخص کرخت لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
ماں کے ساتھ ساتھ حماد کی رنگت بھی نچھڑ گی۔۔۔
ماں نے ویران ہوتی نگاہوں سمیٹ سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
چچ۔۔۔ وہ شخص تاسف سے سر ہلا کر رہ گیا۔۔ بس دھوکا ہوا ہے آپکے ساتھ۔۔۔
کسی نے آپکو لوٹ لیا۔۔۔ وہ شخس ہمدردی سے کہتا موبائل ایک سائیڈ پر کر کے پیچھے سے دوسروں سے سلپ لینے لگا۔۔۔ جبکہ ان دونوں کو اپنی زندگی اندھیر ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔
نزاکت۔۔۔ رقم۔۔۔ دنی۔۔۔ ادھار۔۔۔ سیکم سب گڈ مڈ ہونے لگا۔۔۔ یکدم ہی آنکھوں کے آگے تارے گردش کر گئے۔۔۔
کپکپاتے جسم کی لغزش پر قابو پاتے حماد ناجانے کیسے ماں کو لے کر بینک سے نکلا تھا ورنہ اسکا دل چاہا وہیں بھیج رشتے میں بیٹھتا ڈھاریں مار مار کر رو دے۔۔۔ اسکی ماں کا لالچ اسے لے ڈوبا تھا۔۔۔۔
لالچ یا حد سے زیادہ بھولا پن۔۔۔۔
وہ کچھ سمجھنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
اسے تو اسے اسکی ماں ہی لے ڈوبی۔۔۔
ماں غلط تھی۔۔۔ وہ ماں کے لئے اللہ کی طرف سے کوئی غیبی مدد نہیں تھی۔۔۔ شاید وہ آزمائش تھی۔۔۔
*******

No comments