Scheme novel 9th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 9th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔
______
نویں قسط۔۔۔
عفیفہ کی شادی کی تاریخ رکھی جا چکی تھی۔۔ گھر کی یہ پہلی شادی تھی اس لئے چند دن پہلے ہی دھولک رکھ دی گئ تھی۔۔۔
عائزل کے میٹرک کے پیپرز بہت اچھے ہوئے تھے اور اب وہ کالج میں ایڈمیشن لے چکی۔۔۔
عفیفہ کی شادی کے حوالے سے جہاں وہ بہت خوش تھی وہیں اسکے اس گھر سے چلے جانے کے خیال سے اداس بھی تھی۔۔
عفیفہ کئ کاموں میں الجھی ہوئی تھی۔۔۔ شادی کی تیاریوں میں بازاروں کے چکر بھی خوب خوب لگ رہے تھے اور گھر کے بھی سو کام تھے۔۔۔
عائزل نے جلدی سے اپنے کالج کا کام مکمل کیا اور کتابیں سمیٹ کر ایک تنقیدی نگاہ خود پر ڈالی۔۔۔
سیاہ اور سرخ امتزاج کی سادہ سی شلوار قمیض پر سیاہ ہی آنچل میں اسکی رنگت مزید دمک رہی تھی۔۔۔ آج کل اسے ویسے ہی اپنی دمکتی رنگت سے بڑی خار تھی۔۔۔ سارا سارا دن منہ نا بھی دھوتی تو بھی رنگت مانند نا پڑتی۔۔۔
جیسے جیسے شادی کے دن قریب آ رہے تھے وہ اپنا خیال رکھنا چھوڑتی جا رہی تھی۔۔۔ اسے اب اپنی رنگت سے ڈر لگنے لگا تھا۔۔۔ وہ بھرپور کوشیش میں تھی کے کسی طرح سے اس خوشی کے موقع پر مامی کو ناراض نا کرے۔۔۔
صبح سے بنائے الجھے بالوں کو اسنے ہاتھوں سے ہی سیٹ کیا اور آنچل سر پر اوڑھا۔۔ سیاہ آنچل کے ہالے میں چہرا مزید چمک اٹھا۔۔۔
مصیبت۔۔۔۔ وہ جھنجھلا اٹھی۔۔۔ چہرے پر بے زاری کے تاثرات مزید شدت سے ابھرے۔۔۔
کاش میری رنگت زرا سی سانولی ہوتی تو۔۔۔۔ خود پر تاسف کرتی وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی باہر آئی۔۔۔
باہر کوئی نا تھا۔۔۔ صد شکر کے مامی سے سامنا نہیں ہوا تھا۔۔۔
وہ بلی کی سی چال چلتی کچن میں گئ۔۔۔
بھوک زوروں کی لگ رہی تھی اور وہ فلحال مامی کے فتوات سننے کے موڈ میں نا تھی۔۔
چولہے پر چاول دم پر رکھے تِھے۔۔۔ اسکی بھوک مزید چمکی۔۔۔ لبوں پر زبان پھیرتے اسنے ایک چور نگاہ باہر ڈالی۔۔۔
مامی کو سخت چڑ تھی اسکے اس ندیدے پن سے۔۔۔ دم کھلنے سے پہلے جب وہ دھکن اٹھا کر چاول نکال لیتی تو اگلے پورے دو گھنٹے چاولوں کے ساتھ ساتھ مامی کی سخت سست سننا پڑتیں۔۔
اسنے ایک منٹ رک کر سوچا۔۔۔
بجو اور ماموں بازار گئے تھے۔۔۔ مہمان ابھی کوئی آیا نہیں تھا۔۔
مامی کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔۔ وہ جلدی سے چاول نکال کر کمرے میں جا کر چھپ کر سکون سے چاول کھا سکتی تھی۔۔
ہاں یہ ٹھیک تھا۔۔ اسنے چٹکی بجاتے ایک نظر پھر سے باہر ڈالی اور بعجلت پتیلے کا دھکن اٹھایا۔۔۔
دھکن اٹھتے ہی ڈھیر ساری بھاپ نے اسکا استقبال کیا۔۔
چکن پلاو کی خوشبو نتھنوں سے ٹکرائی تو اسنے گہرا سانس بھرتے اسکی خوشبو اندر اتاری۔۔۔
بعجلت پلیٹ بھر کر چاول نکالے اور پتیلے میں چاول برابر کرتے واپس دھکن سیٹ کیا۔۔۔
چمچ اٹھا کر پلیٹ میں رکھا اور خوشی سے پلٹی۔۔۔
مگر پلٹتے ہی گرتے گرتے بچی۔۔۔ حلق سے برآمد ہونے والی خطرناک چیخ کا گلہ وہ بشکل گھوٹ پائی۔۔
پیچھے کسی بوتل کے جن کی مانند چاچی کھڑی تھی۔۔۔
اسنے بے ساختی تھوک نگلا۔۔۔
پکا۔۔۔ دو گھنٹے کی بےعزتی پکی تھی۔۔۔ اسنے دل ہی دل حساب لگایا۔۔۔
سونے پر سہاگا بجو اور ماموں بھی گھر پر نہیں تھے تو ایک دو ہاتھ بھی لگ سکتے تھے۔۔۔
اسنے شرمندگی سے سر جھکا کر خود کو پلاو سے پہلے اگلے حالات کے لئے تیار کیا۔۔۔
بیٹھ جاو عائزل۔۔ بیٹھ کر کھا لو۔۔۔
اسقدر غیر متوقع اور نرم آواز پر عائزل گرتے گرتے بچی۔۔۔ اس نے حیرت سے سر اٹھاتے مامی کو دیکھا۔۔۔
مامی آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔ وہ صدمے کے تحت مامی کو دیکھتی گویا ہوئی جو اسے کافی الجھی الجھی سی لگی تھیں۔۔۔
ہاں وہ چونکی۔۔۔ تم بیٹھو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔ وہ کہیں اور ہی پہنچی ہوئی تھیں اس لئے اسکی بات کا مفہموم نا سمجھتے اسے ہاتھ سے پکڑ کر کچن میں موجود چھوٹی گول میز کے گرد بیٹھایا اور خود بھی وہیں بیٹھ گئیں۔۔۔
عائزل نے الجھ کر انہیں دیکھا۔۔۔
مامی سب خیریت ہے نا۔۔۔
مامی کے انداز اسے ٹھٹھکا رہے تھے۔۔۔
عفیفہ سے کتنی محبت کرتی ہو عائزل۔۔۔
مامی سنجیدگی سے گویا ہوئیں۔۔۔
بجو میں میری جان ہے مامی۔۔ پوچھنے کا تو سوال ہی نہیں۔۔۔ وہ لاپرواہی سے کندھے اچکا گئ۔۔۔
اسکی خوشی کے لئے کیا کر سکتی ہو۔۔۔ انداز سنجیدہ اور دو ٹوک تھا۔۔
بجو کے لئے کچھ بھی۔۔۔ حتکہ میں انکے لئے بنا سوچے سمجھے اپنی جان تک دے سکتی ہوں۔۔۔ وہ لاابالی پن سے صدق دل سے گویا ہوئی۔۔۔
کیا تم چاہتی ہو کے اسکی شادی خیر خیریت سے ہو جائے اور وہ بنا کسی ذہنی اذیت سے گزرے اپنے گھر کی ہو جائے۔۔۔
مامی کے کہنے ہر عائزل ٹھٹھکی۔۔۔
بات کیا ہے مامی ۔۔۔ آپ ایسے کیوں کہہ رہی ہیں۔۔۔ ظاہر سی بات ہے کے میں چاہتی ہوں کہ بجو کی زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں ہوں۔۔۔ عائزل کا دل زور زور سے ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔ ناجانے یہ کس بات کی تمہید تھی جو مامی باندھ رہی تھیں۔۔۔
وہ پریشان نگاہوں سے یک ٹک انہیں دیکھنے لگی۔۔۔ جیسے انکا رویہ سمجھنے کی کوشیش کر رہی ہو۔۔۔
تو پھر اسکی شادی پر مت آنا۔۔۔
بلآخر بلی تھیلے سے باہر نکل آئی تھی۔۔۔ اور عائزل کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
کیا کہہ رہی تھیں وہ اسے۔۔۔ کہ بجو کی شادی میں نا آنا۔۔۔ ہاں یہ ہی کہا تھا۔۔۔
مگر کیا یہ ممکن تھا۔۔۔ وہ تو دن رات اسکی شادی کی تیارہوں میں مگن تھی۔۔۔ ہاں پہلے بھی ایک بار مامی نے غصے سے کہا تھا مگر اسنے پرواہ نا کی کے بھلا ماموں اور بجو کے ہوتے یہ ممکن تھا کیا۔۔۔ مگر اب تو بازی ہی اور تھیں ۔۔۔ وہ برملا حکم نہیں دے رہی تھیں ۔۔۔ہلکہ وہ التجائیہ اسے بجو کی خوشیوں کا واسطہ دے رہی تھیں۔۔۔ کیا اسے اپنی بہن کی خوشیاں عزیز نا تھیں۔۔۔۔اندر دل سکڑ کر پھیلا۔۔۔ حلق میں نمکین پانیوں کا گولہ سا اٹھکا مگر وہ ڈھیٹ بنی بت کی مانند بیٹھی تھی۔۔۔
یہ دیکھ لو عائزل میرے جڑے ہوئے ہاتھ۔۔۔ ان ہاتھوں کی لاج رکھ لینا۔۔۔ اس نے تمہیں ماں کی طرح پیار کیا ہے۔۔۔ ہر جگہ تمہیں فوقیت دی ہے۔۔۔ آج تم اسکی خوشیوں کا احساس کر لینا۔۔۔ شادی میں آ کر کوئی بدمزگی مت پیدا کرنا۔۔۔ اسکے سسرال والے سرے سے ہی تمہارے وجود سے نا آشنا ہیں۔۔۔ خیر خیریت سے میری بچی کو اسکے گھر کا ہو لینے دو۔۔۔ خوشیوں پر اسکا بھی تو حق ہے۔۔۔ مامی نے بے بسی سے کہتے اپنے آنسو رگڑ کی صاف کئے۔۔۔
اور عائزل اسے لگ رہا تھا گویا وہ پتھر کی ہو گئ ہو۔۔۔ اندر جیسے دل کٹنے لگا تھا۔۔۔
اسنے بدقت ایک سانس خارج کی۔۔۔
میں نہیں آوں گی باہر۔۔ اسے اپنی ہی گھٹی گھٹی سی آواز سنائی دی۔۔۔
مجھے پتہ تھا تم میری بات سمجھو گئ۔۔۔ بس عفیفہ اور اپنے ماموں کو سمبھال لینا۔۔۔ اگر وہ دونوں ہمارے بیچ ہوئی اس گفتگو سے نابلد ہی رہیں تو اچھا ہوگا۔۔۔ ورنہ خوامخواہ ہی شادی کے دنوں میں گھر کا ماحول خراب ہو گا۔۔۔ اور مجھے بہت امید ہے کے تم عفیفہ کے شادی کے فنگشنز برباد نہیں کرنا چاہو گئ۔۔۔
مامی اپنی بات مکمل کر کے کب کی کچن سے جا چکی تھی۔۔۔ جبکہ عائزل کتنی ہی دیر وہاں بیٹھی کسی غیر مری نقطے کو دیکھتی رہی۔۔۔ یہ روز روز کے موازنے اسکی شخصیت پر منفی چھاپ چھوڑ رہے تھے۔۔۔ اسے اپنا رنگ و روپ زہر لگنے لگا جو اسے اسکے ہر رشتے سے کٹواتا جا رہا تھا۔۔۔
بھوک یکدم ہی مر گئ تھی۔۔۔ وہ تھکے تھکے قدم اٹھاتی کچن سے نکل گئ۔۔۔
پلاو کی بھاپ اڑاتی پلیٹ وہیں پڑی پڑی ٹھنڈی ہو کر رہ گئ۔۔۔
*******
باہر سے دھولک کی تھاپ کی آواز اسے اندر تک آتی سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔ باہر ہر جانب گہماگہمی تھی۔۔۔ جبکہ وہ اندر اندھیر کمرے میں بستر پر چٹ لیٹی خلاوں میں گھور رہی تھی۔۔۔ اس وقت ذہن میں کوئی سوچ بھی ابھر نا رہی تھی نا اچھی نا بری۔۔۔ بس ایک خالی پن سا تھا۔۔۔
عفیفہ اور ماموں گھر واپس آ گئے تھے۔۔۔۔ عفیفہ نے آتے ہی اسے دھونڈا تھا۔۔۔ اور گھر آنے کے کچھ ہی دیر بعد وہ اسکے سر پر کھڑی تھی۔۔۔
اسکی اسقدر محبت پر عائزل کا دل بھر آیا۔۔۔ وہ جان بوجھ کر سوتی بن گئ۔۔۔ پر آگے بھی عفیفہ تھی۔۔۔ اسے اٹھا کر ہی دم لیا۔۔۔
بجو میرا سر بہت درد کر رہا ہے۔۔۔ طبیعت ٹھیک نہیں اور باہر بہت شور شرابہ ہے مجھے یہیں آرام کرنے دیں پلیز۔۔ وہ عفیفہ کے استفسار پر سہولت سے منع کر گئ۔۔۔ رہتی کسر اسکی سر آنکھوں نے پوری کر دی تھی۔۔۔
گڑیا پھر تم نے دوائی لی۔۔۔ وہ لمحوں میں پریشان ہوتی باہر ہوتا فنگش بھلائے فکر مندی سے اسکے پاس ہی بیٹھ گی۔۔
عائزل کا دل چاہا اسکے سینے میں چہرا چھپا کر رو دے۔۔۔
نہیں بجو آپ جاو باہر میں بس ریسٹ کروں گی۔۔۔ وہ لب کچلتی منمنانی۔۔۔ عفیفہ اسے وہیں چھوڑتی نفی میں سر ہلاتی باہر گئ ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں اسکی واپسی کھانے کی ٹرے کے ساتھ ہوئی۔۔
اسے زبردستی کھانا کھلا کر وہ اسے پین کلر دے کر اس پر لحاف اوڑھا کر اسکے ماتھے کا بوسہ لے کر اسے آرام کرنی کی تلقین کرتی لائٹ آف کر کے بہر نکل گئ تھی۔۔۔
ایک بھولی بھٹکی مسکراہٹ عائزل کے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔ اللہ آپکو بہت سی خوشیاں نصیب کرے آپو۔۔۔ آپکی خوشیوں پر کہیں میرا سایہ نا پڑے۔۔ وہ صدق دل اسے دعائیں دیتی کروٹ بدل گئ۔۔۔
******
وہ اپنے آفس میں ریوالونگ چیئر پر بیٹھا تھا۔۔۔ آفس کے بلائنڈز ہٹے تھے جہاں سے روشنی اندر داخل ہو رہی تھی۔۔۔ دائم خان ریوالونگ چیئر کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں مونڈے ماضی کے جھڑونکوں میں کہیں کھویا تھا۔۔۔
وہ اپنے اپارٹمنٹ کے کمرے میں صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ کی کھلی سکرین پر اسے دیکھ رہا تھا
دائممم۔۔۔۔ وہ اٹھلا کر بولی۔۔۔
ہمم۔۔۔ دائم خان تو اسکی معصومیت میں ہی کہیں کھویا تھا جو حسب سابق کچن میں کام کرتی اس سے بات کر رہی تھی۔۔۔
ہم ہنی مون پر کہاں جائیں گے۔۔۔ وہ شوخ ہوئی۔۔۔ دائم خان کے لبوں کی تراش میں دلکش تبسم بکھرا۔۔۔۔
جہاں میری پرنسس کہے۔۔۔ لہجے میں محبت ہی محبت تھی۔۔
اچھا چلیں چھوڑیں۔۔ یہ بتائیں منہ دکھائی میں کیا دیں گے۔۔۔
اگلی فرمائش پر وہ زور سے ہسا۔۔۔ کیوں یار ان لمحات کے تصورات میں لے کر جا رہی ہو جنکا وجود ابھی بہت دور ہے۔۔۔ منہ دکھائی کا وقت تو آنے دو۔۔ دائم خان اپنا دل نکال کر تمہارے قدموں میں رکھ دے گا۔۔۔
وہ ایک جذب سے گویا ہوا۔۔۔
بس بس۔۔۔ لفاظی نہیں۔۔۔ وہ کھلکھلائی۔۔۔
پھر بتاو کب آوں تمہیں اپنانے۔۔۔۔ وہ پھر سے واپس ٹریک پر آیا۔۔۔
دوسری جانب خاموشی تھی۔۔۔
یہ اتنا آسان نہیں دائم۔۔۔۔
کیوں۔۔۔ کیوں نہیں آسان عائزل۔۔۔ کیا کمی ہے مجھ میں جو کوئی مجھے ریجیکٹ کردے۔۔۔ وہ بے چین ہوا۔۔۔
یہ ہی تو بات ہے دائم کہ آپ میں کوئی کمی نہیں۔۔ اور ایک مکمل اور بھرپور شخص عائزل کا نصیب ٹھہرے ایسا یہ لوگ دیکھ نہیں سکتے۔۔۔
وہ اداس ہوئی۔۔۔ دائم نے جبڑے بھینچے۔۔۔
یہ کیا بات ہوئی بھلا۔۔۔ کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے۔۔
میرا ساتھ ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔۔۔ مکمل خوشیاں مجھے راس ہی نہیں۔۔۔
یہاں کوئی میری شادی آپ سے نہیں ہونے دے گا۔۔۔
میں تمہیں ڈھنکے کی چوٹ پر اپنانے کا حوصلہ رکھتا ہوں عائزل تم یقین تو کرو۔۔۔ وہ اپنے اندر اٹھتے اشتعال کو بامشکل دابے ہوئے تھا۔۔۔ وہ لڑکی کس قدر اذیت میں تھی۔۔۔
میں کوئی بدمزگی نہیں چاہتی دائم۔۔۔ اور آپ پر یقین کرنے کی تو بات ہی رہنے دیں آپ۔۔۔
آپ پر یقین ہے تو ہی اس وقت آپ سے بات کر رہی ہوں۔۔۔
وہ گلوگیر ہوئی۔۔
تو پھر اس سب کا کیا حل ہے تمہارے پاس۔۔۔ وہ جیسے تھک گیا تھا ۔۔۔
یہاں پر میرے پاس میری امی کے کچھ زیورات ہیں دائم۔۔۔ میں انہیں کھو نہیں سکتی۔۔۔ وہ میرے لئے بہت اہم ہیں ۔۔۔ میری ماں کی نشانی ہے وہ۔۔۔
میں پہلے ان زیورات کو آپکے ایڈریس پر بھیجوں گی۔۔۔ کیونکہ میں انہیں ساتھ لے کر آنے کا رسک نہیں لے سکتی۔۔۔ آپ مجھے اپنا ایڈریس سینڈ کر دیں۔۔۔ میں آپکو اس کمپنی کا بتا دوں گی جہاں سے آپ نے وہ زیورات رسیو کرنے ہیں۔۔۔ جیسے ہی وہ زیورات آپکو ملیں گئے آپ مجھے بتانا میں یہاں سے رات کے اندھیرے میں نکل آوں گی اور آپ سے ملتے ہی ہم سب سے پہلے نکاح کریں گے ۔۔۔۔۔ وہ بہت الجھے الجھے انداز میں بول رہی تھی۔۔۔
اتنے میس کی کیا ضرورت ہے عائزل۔۔۔ میں تمہیں لینے آ جاتا ہوں تم میرے ساتھ ہی آ جانا اور زیورات بھی لے آنا۔۔۔ پنجاب سے سندھ اب اتنی دور بھی نہیں۔۔۔
دائم کو اسکی یہ منطق سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔
نہیں دائم میں یہاں پر کسی کو کانوں کان بھنک نہیں پڑنے دینا چاہتی۔۔۔
اور کسی کو ان زیورات کا علم نہیں ۔۔۔ وہ میری ماں کی نشانی ہے ان لوگوں کو پتہ چلتا تو میرے پاس کچھ رہنے نا دیتے۔۔۔ اور وہ کافی زیادہ زیورات ہیں۔۔۔ میں آپکو اسکی تصویریں بھیجتی ہوں۔۔
میں کوئی رسک نہیں لے سکتی۔۔۔
میں نے اس گولڈ لیبارٹری کی ساری انفارمیشن لے لی ہے۔۔۔ وہ کچھ رقم چارج کرے گی اور میرے زیورات بحفاظت آپکے علاقے کی قریب ترین اپنی برانچ میں بھیج دے گی وہاں سے آپ نے وہ زیورات رسیو کرنے ہیں۔۔ اور میری فکر مت کریں میں یہاں سے پہلی فلائٹ لے کر اسلام آباد پہنچ جاوں گی۔۔۔
وہ جیسے کافی دنوں سے اس چیز پر کام کر رہی تھی اس لئے ساری انفارمیشن فر فر اسکے گوش گزارتی چلی گئ۔۔۔
دائم کو اسکا قائل ہونا پڑا۔۔۔۔
یکدم ہی دروازہ ناک ہونے کی آواز پر وہ ماضی کے جھرونکوں سے نکلتا سیدھا ہوا۔۔۔
اسکا سیکریڑی اسے کافی دینے آیا تھا۔۔۔ دائم خان نے ایک گہرا سانس خارج کرتے سر ہاتھوں میں تھاما۔۔
اتنا ماسٹر مائینڈ بھی کوئی ہو سکتا ہے کیا کے آخری لمحے تک کسی کو اسکے ساتھ ہوئے دھوکے کی کانوں کان خبر نا ہونے دے۔۔۔
ایک مرتبہ پھر سے عائزل کا معصوم چہرا اسکی آنکھوں کے پردے پر لہرایا تو اسنے کرب سے آنکھیں بند کیں۔۔۔
ان آنکھوں میں کیا کیا نا تھا۔۔۔
غصہ۔۔۔ نفرت۔۔۔ بے بسی۔۔۔ یا شاید محبت۔۔۔
وہ خود ہی کچھ سمجھ نا پا رہا تھا۔۔۔
******
آن ابھی ابھی حسن کو لے کر گھر سے باہر گیا تھا۔۔۔ یہ کنول کے پاس ایک بہترین موقع تھا۔۔۔ وہ ڈھرکتے دل کے ساتھ تیز تیز قدم اٹھاتی آن کے کمپیوٹر روم کی طرف بڑھی۔۔۔
اندر جا کر اسنے لائٹ آن کی تو سارا کمرہ روشن ہو گیا۔۔۔۔ دل زور زور سے ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔۔
اسے اس سسٹم میں موجود اس لڑکی کا وہ سبھی ڈیٹا ڈیلیٹ کرنا تھا جسکی بنیاد پر کل رات اسکا شوہر اسے بلیک میل کر رہا تھا۔۔۔ نا جانے کیسے آن نے اس لڑکی کا موبائل ہیک کر کے اسکی پرسنل چیزیں حاصل کی تھیں جسکی بنیاد پر اب وہ اس لڑکی کو بلیک میل کر کے اس سے ایک لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کر رہا تھا۔۔۔ کل رات اسے اس کمپوٹر روم سے اس لڑکی کی سسک کر منتیں کرنے کی آوازیں سنائی دیں تو اسکا دل پھٹ گیا تھا۔۔۔
وہ تہیا کر چکی تھی کہ جو ہو گا وہ دیکھا جائے گا بس ایک دفعہ وہ اس لڑکی کا ریکارڈ آن کے سسٹم سے ڈیلیٹ کرنے میں کامیاب ہو جائے۔۔۔
صبح سے ہی اسکا دل بری طرح ڈھرک رہا تھا کیونکہ یہ ایک آسان کام نا تھا۔۔ ایک ہیکر کی ناک کے نیچے کچھ کر جانا۔۔۔ مزید وہ آن کے غصے سے بھی باخوبی واقف تھی۔۔۔ ناجانے وہ اسکا کیا حشر کرتا۔۔
وہ اچھے سے جانتی تھی کے جیسے ہی وہ آن کا سسٹم آن کرتی اسے پتہ چل جانا تھا۔۔۔ وہ حسن کے ساتھ کسی دوست سے ملنے گیا تھا۔۔۔ اسے واپس گھر آتے آتے بھی کچھ وقت لگتا۔۔۔ اور جب تک وہ گھر پہنچتا تب تک اگر اللہ نے چاہا تو انشااللہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ٹھہرتی۔۔۔۔اسنے سامنے لگے بڑے سسٹم کی طرف دیکھا۔۔۔۔مگر نہیں آن اس لیپ ٹاپ کی مدد سے اسے ہینڈل کرتا تھا۔۔۔
وہ اس اونچے صوفے کے طرف بڑھی۔۔۔
ہاتھ میں موجود موبائل کو ان لاک کیا۔۔۔ جس میں ایک لمبا سا اختیاطی میسج وہ پہلے ہی لکھ کر رکھ چکی تھی۔۔
کپکپاتے ہاتھوں سے اسنے لیپ ٹاپ کھول کر اسے آن کیا۔۔۔
صد شکر کے پاسورڈ ان لاک تھا۔۔۔ وہ کام کرتا کرتا یکدم ہی کچھ یاد آنے پر وہاں سے گیا تھا اور جاتے جاتے لیپ ٹاپ بند کرنا بھول گیا تھا۔۔۔
اسنے سب سے پہلے اس لڑکی کا نمبر حاصل کرتے اسے اپنے موبائل سے میسج سینڈ کیا اور موبائل گود میں رکھ کر لیپ ٹاپ کے ساتھ سسٹم کو کنیکٹ کیا۔۔۔
یکدم ہی کمرے میں ایک روزدار بپ کی آواز گھونجی۔۔۔ اسکا دل کپکپا کر رہ گیا۔۔
یقیناً ایسی ہی ایک بپ کی آواز اسکے شوہر کے پاس اسکے موبائل پر بھی جا چکی تھی۔۔۔
اسکے ہاتھوں کی کپکپاہٹ مزید بڑھی۔۔۔
اسنے حواس باختگی میں فولڈر تلاش کرنا شروع کیا۔۔۔ فولڈر تلاش کرنے میں اسے چند منٹ لگے۔۔۔
دل اسقدر خوف کے زیر اثر ڈھرک رہا تھا کہ جلدی جلدی کرنے کی کوشیش میں ہر کام غلط ہو رہا تھا۔۔ بٹن کوئی دبا رہی تھی دب کوئی رہا تھا۔۔۔ اسنے تھوک نگلتے ماتھے سے پسینہ صاف کیا۔۔
اسے باہر اپنے شوہر کی ہیوی بائیک رکنے کی آواز سنائی دی اورساتھ ہی حسن کے رونے کی۔۔۔
اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔
باہر سے دھپ دھپ تیز تیز قدم اٹھانے کی آواز ابھر رہی تھی۔۔۔
جلدی جلدی ساری فائلز سلیکٹ کرتے اسنے ڈیلکٹ کا بٹن پریس کیا۔۔۔ ساتھ ہی کسی نے پوری قوت سے اسکے ہاتھ سے لیپ ٹاپ جھپٹ کر سامنے دیوار پر مارا۔۔۔وہ جہاں کی تہاں رہ گئ۔۔۔ سانس تک روک گئ۔۔۔
ناجانے ڈیلیٹ کا بٹن پریس ہوا تھا بھی یا نہیں۔۔ اس اچانک آفتاد پر وہ سمجھ نا پائی۔۔۔
سامنے سسٹم پر تیزی سے کئ لائینیں ابھر اور مٹ رہی تھی ۔۔ وہ ایک ہی جست میں وہاں تک پہنچا اور انتہائی غصے سے ساری وائرز کھینچتا وہ سسٹم کو ڈی ایکٹیویٹ کر رہا تھا۔۔۔
کنول کی جان لبوں ہر آئی۔۔۔ جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر اسکی جانب پلٹا۔۔۔ سرخ انگارہ وحشت بھری آنکھیں۔۔۔ بھینچے جھبڑے اور ابھری نسیں۔۔۔ کنول کو اس شخص سے خوف محسوس ہوا۔۔۔
بے تحاشہ خوف۔۔۔۔
*****

No comments