Header Ads

Scheme novel 8th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 8th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں
____

آٹھویں قسط۔۔۔
گاڑی اونچی نیچی پتھریلھی راہ گزر سے گزر رہی تھی جبکہ دائم خان کسی گہری سوچ میں غرق اونچی نیچی پتھریلی راہوں سے بڑی مہارت سے گاڑی چلا رہا تھا۔۔۔ ناجانے کیا تھا اس لڑکی میں جو اتنے بڑے دھوکے کے بعد بھی وہ اسے بھلا نہیں پا رہا تھا۔۔۔۔  
اسکی معصومیت چھلکاتی بڑی بڑی آنکھیں ذہن کے پردوں پر لہراتی تو سارا سکون غارت کر دیتی۔۔۔۔
وہ اسی کی سوچوں میں گم تھا جب توجہ میسج ٹیون نے اپنی جانب مبذول کروائی۔۔۔
اسنے گاڑی چلاتے بے دھیانی میں میسج کھولا۔۔۔
میسج دیکھ کر وہ الجھ گیا۔۔۔ اسکے جیز کیش اکاونٹ میں دو ہزار روپے آئے تھے۔۔۔ لیکن اسنے تو کوئی رقم دیپوزٹ نہیں کروائی تھی۔۔۔
پھر۔۔۔۔۔
الجھا سا وہ ابھی گاڑی چلا ہی رہا تھا کے اسکے موبائل پر رنگ ہونے لگی۔۔۔
نمبر انجان تھا۔۔۔ لیکن اسکا کام ہی ایسا تھا اسے دن میں سینکڑوں ان نون نمبرز سے فون آتے۔۔۔
الجھتے ہوئے اسنے فون اٹھایا۔۔۔
ہیلو۔۔۔ ہیلو انکل ۔۔۔ آپکے جیز کیش اکاونٹ میں غلطی سے میرے دو ہزار روپے ٹرانسفر ہوگئے ہیں۔۔۔ پلیز۔۔۔ پلیز۔۔۔
انکل میرے پیسے واپس بھیج دیں۔۔۔ انکل پلیز۔۔۔ انکل میرے ابو کو پتہ چلا تو بہت ماریں گے مجھے انکل۔۔۔ یہ دوکان والے انکل کی غلطی ہے۔۔۔ ان سے غلطی سے پیسے آپکے اکاونٹ میں ٹرانسفر ہوگے۔۔۔ انکل پلیز۔۔۔۔
وہ کوئی کم عمر بچہ تھا۔۔۔ جو اسکے ہیلو کہتے ہی حواس باختگی سے روتے ہوئے بولنا شروع ہوا تو منتوں پر اتر آیا۔۔۔
میسج تو وہ پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔۔۔ اسکا دل پسیجا۔۔۔
دو ہزار ہی تو تھے۔۔۔ وہ باآسانی واپس بھیج دیتا۔۔۔ غالباً وہ بچہ اپنے باپ سے کچھ زیادہ ہی خوفزدہ تھا۔۔۔ یا شاید اسکا باپ کچھ زیادہ ہی سخت گیر تھا۔۔۔
وہ بچہ مسلسل منتیں کر رہا تھا۔۔۔
اچھا ۔۔۔ اچھا حوصلہ تو رکھو۔۔۔ میں بھیج دیتا ہوں پیسے واپس۔۔۔ دائم خان اسے بامشکل ٹوکتے بولا۔۔۔
اچھا انکل آپکا بہت بہت شکریہ۔۔۔ یہ لیں یہ دکان والے سے بات کر لیں۔۔
وہ بچہ جیسے روتے روتےخوش ہوتا آنسو صاف کر کے موبائل دوکان والے کو دے گیا۔۔۔
بھائی صاحب غلطی سے اس بچے کے پیسے آپکے نمبر پر ٹرانسفر ہوگئے۔۔۔ صرف ایک ہندسے کی غلطی ہوگئ۔۔  لیکن اس بچے نے تو دو ہزار کے پیچھے رو رو کر دوکان سر پر اٹھا لی ہے۔۔  آپکی بڑی مہربانی آپ مجھے وہ میسج سینڈ کر دیں جو آپکو آیا ہے۔۔۔ وہ دوکان والا بڑی عاجزی سے گویا ہوا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ دائم خان نے مسکرا کر سر جھٹکا اور اسی وقت وہ میسج واپس اسی نمبر پر سینڈ کر دیا۔۔۔
ایک گہرا سانس خارج کر کے اسنے توجہ سامنے سڑک پر مبذول کی جب کچھ ہی دیر میں اسے پھر سے ایک میسج موصول ہوا۔۔۔
اسنے گاڑی چلاتے میسج کھولا لیکن میسج پڑھتے ہی وہ حیرت و صدمے سے یکدم ہی بیچ راستے میں گاڑی کو بریک لگاتا گاڑی روک گیا۔۔۔
اسکے جیز کیش اکاونٹ سے پینتالیس ہزار کر ٹرانزکیشن ہوئی تھی۔۔۔
کیسے۔۔۔۔
اسکا دماغ بھک سے اڑا۔۔۔۔
سکیم۔۔۔۔
وہ میسج۔۔۔ پھر بچے کی کال۔۔۔۔ اس دکان والے کا میسج مانگنا۔۔۔۔ اور دائم خان کا بنا سوچے سمجھے میسج واہس بھیجنا۔۔۔
شٹ۔۔۔شٹ۔۔۔شٹ۔۔۔
لمحوں میں ساری کڑیاں ملی تھیں۔۔۔ وہ غصے سے سٹرینگ پر ہاتھ مار کر رہ گیا۔۔۔
مطلب بہت خوبصورت انداز میں اسے ٹریپ کیا گیا تھا۔۔۔
اسنے گہری سانس بھرتے اپنی کنپٹیاں سہلائیں۔۔ اور پھر سے پہلا میسج کھولا۔۔
عقل نے پہلے کام نا کیا ورنہ وہ تفصیل سے پورا میسج پڑھتا۔۔۔ اس میسج میں اسکا اکاونٹ ہیک کرنے کا کوڈ تھا۔۔۔
رقم ڈیپوزٹ کا میسج آیا تھا لیکن اسنے اکاونٹ کھول چیک نہیں کیا کہ رقم اکاونٹ میں ائی بھی ہے یا نہیں۔۔۔
مزید بچے کا سسکنا اسکی منتیں کرنا۔۔۔ سب پری پلین تھا۔۔۔ اسکے دماغ کو قابو کر کے اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو جذبات کے ذریعے سے قابو کیا گیا تھا۔۔۔ اور وہ پاگل بنا سوچے سمجھے میسج واپس سینڈ کر گیا۔۔۔
خود پر غصہ حد سے سوا تھا۔۔۔
غصے سے کھولتے دماغ کیستھ اسنے واپس وہی نمبر ملایا جس سے اسے کال آئی تھی مگر نمبر بند تھا۔۔۔ یا بند تھا یا سیکیوریٹی لگائی گئ تھی۔۔۔ ایسے نمبر سے صرف کال موصول ہو سکتی ہے ان نمبرز پر کال کی نہیں جا سکتی۔۔۔
دائم خان۔۔۔ ایک کامیاب بزنس مین۔۔۔ جو لوگوں کو انکی باڈی لینگویج سے پہچان جاتا کے سامنے والا کتنے پانی میں ہے۔۔ وہ ٹریپ ہو گیا تھا۔۔۔ ایک سکیمر کے ہاتھوں۔۔۔ وہ تلخی سے خود پر ہسا۔۔۔
کیا وہ کسی سے خود کو بے وقوف بنائے جانے کا یہ واقعہ شیئر کر سکتا تھا۔۔۔
کیا یہ اسکی توہین نا تھی کے وہ کسی سے یہ شیئر کرتا کہ وہ کتنی آسانی سے ٹریپ ہو گیا۔۔۔
اور وہ سکیمر۔۔۔ کتنی خوبصورتی سے اسنے جال بنا تھا۔۔۔
اگر وہ سیدھے طریقے سے اس سے کوڈ مانگتے تو دائم خان اسے وہاں پٹختا جہاں اسکی روح بھی بلبلا اٹھتی۔۔ مگر یہ ہی تو۔۔۔ اسنے ایک خوبصورت جال بن کر اسکی حسیات مفلوج کر کے اسے ٹارگٹ کیا۔۔۔
اسکے جیز کیش اکاونٹ میں اتنی ہی رقم موجود ہوتی تھی۔۔۔ باقی رقم وہ بینک اکاونٹس میں سیو رکھتا۔۔۔
اتنی رقم اسکے لئے بہت زیادہ نا تھی۔۔۔ اور نا ہی بات رقم جانے کی تھی۔۔۔ بات اس طریقے کی تھی جسکے باعث اسے ٹریپ کیا گیا۔۔۔ اور عائزل کے دھوکے کے بعد یہ پہلا سیکم تھا جو اسے ہلا گیا۔۔۔
حسیات کے دوبارہ کام کرنے پر وہ گاڑی سٹارٹ کرتا واپس ٹریک پر آیا۔۔ لیکن وہ اس معاملے میں ضامن سے بات کرنے کی ٹھان چکا تھا۔۔۔ شاید وہ اسکی کوئی مدد کر سکتا۔۔۔۔
******
سنک کا نل کھلا تھا جس سے پانی کسی دھار کی صورت بہہ رہا تھا۔۔۔ سنک کی شلف کو دونوں مٹھیوں سے زور سے جھکڑے وہ سر جھکائے  کھڑی تھی۔۔۔ اسکے چہرے پر اذیت کی واضح داستان رقم تھی جبکہ آنکھیں شدت ضبط سے سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔ شیلف کو گرفت میں لئے ہاتھ کپکپا رہے تھے پس منظر میں کسی بچے کی منتیں کرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد بچے کی آواز کے بعد آواز بدلی اور اب کسی آدمی کی آواز تھی۔۔۔ اسکے کچھ دیر بعد اسے اپنے شوہر کے قہقے کی آواز آئی جسکا مطلب واضح تھا کے وہ فتح یاب ٹھہرا۔۔۔
دفعتاً اسے اپنے بیٹے کے رونے کی آواز آئی تو وہ سرعت سے سیدھی ہوئی۔۔۔
پانی کی بہتی دھار سے پانی لے کر آنکھوں میں چھپاکے مارے اور نل بند کر کے بیٹے کے لئے فیڈر تیار کرنے لگی۔۔۔
اللے میلا پالا بیٹا۔۔۔
اسے باہر سے اپنے شوہر کی آواز سنائی دی جو غالباً اب بیٹے کو اٹھائے اندر لے گیا تھا۔۔ 
کنول کے دل سے ایک ہوک نکلی۔۔۔
وہ فیڈر تیار کر کے کچن سے نکلی۔۔۔ اب اسکا رخ اسی کمرے کی جانب تھا جہاں سے اسے اپنے شوہر اور بیٹے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔
اندر داخل ہوتے ہی اسنے جھکے سر سمیٹ اپنے شوہر کی گود سے بیٹا لیا جسکے چہرے پر ایک فاتح کی سی چمک تھی۔۔۔ اور کنول اسی چمک سے نظریں چرا رہی تھی۔۔۔
اسکے شوہر کے عین پیچھے دیوار گیر سکرین تھی جسکے ساتھ بے شمار وائرز جوڑی گئ تھی۔۔۔ اسی سکرین کے ساتھ کمپوٹر سسٹم اور ہیوی ڈیوائسز جوڑی گئ تھیں۔۔۔ جبکہ اس پورے سیٹ آپ سے کچھ فاصلے پر ایک اونچے صوفے کیساتھ شیشے کی گول میز تھی جس پر ایک لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا۔۔۔
عام طور پر اسے اپنے شوہر کے اس مخصوص کمرے میں آنے کی اجازت نا تھی۔۔ وہ خود بھی اس جگہ آنے سے کتراتی تھی آج بھی وہ محض حسن کے لئے وہاں آئی تھی۔۔۔
اپنے شوہر سے حسن کو لے کر وہ بھاری دل کیساتھ اسے لئے اپنے کمرے میں ائی۔۔۔
دو سالہ حسن کو دودھ پلا کر اسے سلانے کے بعد وہ وہیں بیڈ کراون سے سر ٹکآئے مضحمل سی بیٹھ گئ۔۔۔۔دفعتاً اسکا شوہر سیٹی کے لے پر کوئی دھن گنگناتا اندر داخل ہوا۔۔۔
کنول نے اسے نگاہ بھر کر دیکھا۔۔  بلاشبہ وہ کسی بھی لڑکی کا آئیڈل ہو سکتا تھا۔۔۔ لیکن کاش وہ یہ کام چھوڑ دے۔۔۔
ارے سویٹ ہارٹ شام میں تیار رہنا ہم پہلے شاہنگ پر جائیں کے پھر وہاں سے ڈنر اور پھر لانگ ڈرائیو۔۔۔
وہ دھپ سے اسکے پاس بیٹھتا اسکی گود میں سر رکھتا نیم دراز ہو گیا۔۔۔
ضبط کے باوجود ایک آنسو کنول کی آنکھ سے ٹوٹ کر پھسلا اور آنکھیں بند کر کے اسکی گود میں سر رکھے آن کے ماتھے پر گرا۔۔
آن نے تعجب سے آنکھیں کھولی اور کنول کو روتا دیکھ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔۔۔
پلیز کنول اب کوئی وعظ شروع کر کے موڈ خراب مت کرنا۔۔۔ میرا موڈ بہت اچھا ہے اور۔۔
آن کا لہجہ اسکے رد عمل سے لمحوں میں بدلا تھا۔۔۔ وہ بھرپور غصے سے اس پر برسا جب وہ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
آن کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا۔۔۔ یہ لڑکی ایسے ہی اسے بے بس کر دیتی تھی۔۔۔۔
اوہ کم آن کنول۔۔۔ کیا کرتی ہو یار۔۔۔
وہ سر ہاتھوں میں تھامتا بے بسی سے گویا ہوا۔۔۔
کتنے حسین مرد ہیں آپ آن۔۔۔ کتنی ذہانت ہے آپکے پاس۔۔۔ کتنا ٹیلنٹ عطا کیا ہے اللہ نے آپکو۔۔۔
کیوں اپنی صلاحیتوں کو گرہن لگا رہے ہیں آپ آن۔۔۔ 
آپ وائٹ ہیٹ ہیکر کیوں نہیں بن جاتے۔۔۔ پلیز۔۔۔
صحیح اور غلط کا انتخاب تو ہر انسان کا اپنا ہوتا ہے نا۔۔۔ پھر ہم غلط راہ کا انتخاب ہی کیوں کریں۔۔۔
وہ بے بسی سے بہتی آنکھوں سمیٹ اسکا خوبصورت چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتی سسکی۔۔۔
کیا کروں میں وائٹ ہیٹ ہیکر بن کر سویٹ ہارٹ۔۔ کیا کروں۔۔۔
وہ اسکے مومی ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتا مستفسر ہوا۔۔۔
کسی کمپنی کے ساتھ منسلک ہو جاوں۔۔۔ انکی سیکیورٹیز اور پرائیویسیز پر کام کروں۔۔۔ چند ہزار روہے کی نوکری کے پیچھے کولہو کا بیل بن جاوں۔۔۔
اتنے میں یہاں ایک دن میں کما لیتا ہوں جتنے ایک وائٹ ہیٹ ہیکر بن کر میں کسی بڑی کمپنی سے منسوب ہو کر ایک مہینے میں کماتا۔۔۔
میں بلیک ہیٹ ہیکر ہی ٹھیک ہوں تم اس چیز سے کمپرومائز کیوں نہیں کر لتی کنول۔۔۔ 
عاجزی سے کہتا وہ آخر میں عاجز آتا گویا ہوا۔۔۔
نہیں کر سکتی میں کمپرومائز آن۔۔۔۔ ان لوگوں کی سسکیاں مجھے سونے نہیں دیتی جن کے ساتھ آپ سکیم کرتے ہو۔۔۔
دل کرلاتا ہے میرا یہ سوچ کر کے ہم ایک دن میں کتنے لوگوں کی بدعائیں سمیٹتے ہیں۔۔۔
حرام کھلا کر ہم اپنے بیٹے کی اچھی پرورش کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔ حرام کھانے کے بعد ہمارے بچے محمود غزنوی تو کبھی نہیں بن سکتے۔۔۔
خدارا بند کر دو اپنی یہ بکواس آن۔۔۔ محنت کرتا ہوں میں۔۔ یہ میری محنت کی کمائی ہے۔۔۔  اسکے وعظ سن جر وہ اکتاتا ہوا وہاں سے اٹھا۔۔۔
اسے دھوکہ دینا کہتے ہیں۔۔ فریب۔۔۔ چھل۔۔۔ سکیم۔۔۔
یہ محنت کی کمائی نہیں ہے۔۔  وہ چٹخی۔۔۔
اسی کمائی کے بل پر تم اور تمہارا بیٹا یہاں عیش کی زندگی گزار رہے ہو۔۔۔
اسی کمائی کے بل پر میں تمہیں ایک عقوبت کھانے سے نکال کر اچھی زندگی دے پایا ہوں۔۔۔ اسی کمائی کے بل پر میں نے اپنا سٹیٹس بدلا ہے۔۔ وہ بھی آپے سے باہر ہوتا چٹخ کر کہتا دروازے کو ایک زور دار ٹانگ رسید کر کے باہر نکل گیا۔۔۔
جبکہ کنول وہیں سر ہاتھوں میں تھامتی سسک اٹھی۔۔۔ میں نے ایسی زندگی کی خواہش کبھی نہیں کی آن۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔ خدارا راہ راست پر آجائیں ورنہ اگر وقت اور حالات آپکو راہ راست پر لائے تو بہت مشکل ہو جائے گی۔۔۔
اللہ کی پکڑ سے ڈریں۔۔۔۔ مظلوموں کی آہوں سے ڈریں۔۔۔ یہ آہیں اور بددعائیں اللہ کے ہاں اکھٹی ہوتی رہتی ہیں اور پھر۔۔۔ پھر ایک دن قہر کی مانند ٹوٹی ہیں اور سب بہا لے جاتی ہیں۔۔۔۔
اسنے آنسو صاف کرتے سوئے ہوئے اپنے معصوم بیٹے کی جانب دیکھا۔۔۔
اللہ میرے بچے کی حفاظت کرنا میرے مالک۔۔۔ اسکے باپ کا کیا کبھی میرے بچے کے سامنے نا آئے ۔۔۔ وہ مختلف دعائیں پڑھ کر اپنے بیٹے کے گرد حفاظتی حصار کھینچتی خود بھی کپکپاتے ہاتھوں سے اسے خود میں بھینچ گئ۔۔۔
*****
ایمن اپنے کمرے میں بیڈ کراوں سے ٹیک لگائے مسلسل ریان سے ہوئی ملاقات کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔۔۔ وہ تو گنگ رہ گئ تھی ریان کے منہ سے ایسا کوئی اعتراف سن کر۔۔۔
زندگی کی ان تلخیوں میں اسنے زندگی کے اس پہلو کے بارے میں تو سوچا ہی نا تھا۔۔۔
وہ بادصبا کے جھونکے کی مانند اسکی زندگی میں آیا تھا اور دل کو الگ ہی چیزوں کی نوعید سنا گیا تھا۔۔۔
دیکھو ایمن میں بہت فیئر قسم کا بندہ ہوں۔۔۔ یہ افیئر ویئر اور عشق و معاشقی میرے بس سے باہر ہے۔۔۔
میں سیدھے سادھے طریقے سے نکاح کر  ذریعے سے اپنی محبت کو پاکیزہ بنانا چاہت ہوں۔۔۔
ماں باپ میرے ہیں نہیں۔۔۔ دو بہنیں ہیں جو شادی کے بعد ملک سے باہر سیٹل ہیں۔۔۔
تو اپنا بڑا بھی میں ہی ہوں اور سب مجھے ہی کرنا ہے۔۔۔
ڈگری ابھی میری مکمل نہیں لیکن بابا کی کمپنی اتنا پرافٹ ضرور دیتی ہے کے میں پوری زندگی تمہیں ایک پر آسائش زندگی دے سکتا ہوں۔۔۔
پلیز تم میرے بارے میں سنجیدگی سے سوچ لو۔۔۔ اب کوئی بڑا تو ہے نہیں لحاظہ یہ ہی کہہ سکتا ہوں کے میں تمہارے گھر تمہارے پیرنٹس سے ملنے آنا چاہتا ہوں۔۔۔
وہ مسلسل ان لفظوں کا حصار اپنے گرد بنتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔
ان سب باتوں کو حواسوں سے جھٹکنے کی خاطر وہ جی توڑ محنت کر رہی تھی لیکن پھر بھی یہ خوش کن باتیں اسے اپنے حصار میں جھکڑ رہی تھیں۔۔۔
ماں کی بیماری گھر کے اخراجات اور انکی سٹرگل۔۔۔
وہ کس کس چیز سے رخ موڑتی۔۔۔
بھائی ابھی اس قابل نہیں تھا کے سب سمبھال پاتا۔۔۔ ایسے میں وہ اپنوں کو بیج منجدھار میں چھوڑ کر خود ایک خوبصورت زندگی گزارنے کے خواب کیسے دیکھ سکتی تھی۔۔۔
دل و دماغ میں بری طرح سے جنگ چھری ہوئی تھی۔۔۔ 
کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کے کیا کرے۔۔۔
دفعتا باہر بائیک رکنے کی آواز آئی اور پھر اسکے سیل پر حماد کی کال آنے پر اسنے بےساختہ وال کلاک کی جانب دیکھا۔۔  رات کے بارہ بج رہے تھے۔۔۔
حماد اپنی شفٹ پوری کر کے گھر آگیا تھا۔۔۔
وہ شال اپنے گرد اچھے سے لپیٹتی کمرے سے نکلی۔۔۔
باہر دھند نے حد بصارت دھندلا دی تھی۔۔۔ یخ بستہ ہوا کے جھونکے نے اسے کپکپانے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔
دل سے ایک ہوک سی نکلی۔۔۔ اس ہڈیوں کو جماتی  ٹھنڈ میں وہ اس گھر کی کفالت کے لئے اب گھر لوٹ رہا تھا۔۔۔
بوجھل دل کیساتھ اسنے جا کر دروازہ کھولا تو وہ ٹھنڈ میں ٹھٹھرتا بائیک کھڑی کر کے اندر بڑھا۔۔۔
کھانا لاوں حماد۔۔۔ اسے کمرے کی جانب بڑھتا دیکھ وہ گویا ہوئی۔۔۔
نہیں ۔۔۔ کھانا نہیں۔۔  ہاں ایک کپ چائے بنا دو۔۔ 
اسکے کہنے کی دیر تھی کہ ایمن نے جھٹ سے کچن کا رخ کیا۔۔۔
چائے بنا کر وہ اسکے کمرے میں آئی تو وہ لحاف میں دبکا ہاتھ میں کتاب تھامے پڑھ رہا تھا۔۔۔
ایمن نے چائے کا کپ اسکے پاس ہی رکھے چھوٹے سے میز پر رکھا۔۔۔
پیپر کی تیاری کیسی ہے تمہاری۔۔۔
ہمم ٹھیک ہے۔۔۔ بس ایک دو ٹاپکس رہتے ہیں بس وہ کور کر لوں پھر سووں گا۔۔۔ تم بس دعا کرنا پیپرز اچھے سے ہو جائیں میرے۔۔۔
پھر فل ٹائم قدرے بہتر جاب ڈھونڈوں گا۔۔۔ اس ذلالت سے تو جان چھوٹے گی۔۔۔
اسنے چائے کا گھونٹ بھرتے کہا تو وہ دل ہی دل آمین کہتی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
وہ زندگی کے اس کھٹن موڑ پر کیا محض اپنی خوشیوں کے لئے کوئی فیصلہ لے سکتی تھی۔۔۔ وہ بھاری دل کیساتھ کمرے میں آ کر لیٹ گئ۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4