Header Ads

Scheme novel 7th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 7th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں
_____
ساتویں قسط۔۔۔۔
اس دن کے بعد سے دائم خان کی زندگی کی مصروفیات میں عائزل نامی ایک خوبصورت اضافہ ہو گیا تھا۔۔۔۔ وہ دن رات آپس میں باتیں کرتے۔۔۔ ویڈیو کال پر باتیں ہوتیں۔۔۔
ہر گزرتے دن کیساتھ وہ لڑکی اسکے لئے ناگزیر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ وہ اس کے لئے لازم و ملزم بنتی جا رہی تھی۔۔۔ اسکی معصومیت اسے اپنا دیوانہ بناتی تھی۔۔۔۔
وہ زیادہ تر کچن میں ہی کام کرتی پائی جاتی۔۔۔ ہمیشہ ہی وہ چیز سے بنی کوئی نا کوئی چیز بنا رہی ہوتی۔۔۔  جس سے دائم خان کو پتہ چلا کے وہ چیز کی دیوانی ہے پزا ہوتا سینڈویچ حتکہ آملیٹ تک میں وہ چیز بھر بھر کر استعمال کرتی۔۔۔
اسی سے باتیں کر کے ہی اسے پتہ چلا تھا کے  عائزل کے ماں باپ نہیں اور وہ اپنے رشتہ داروں کے گھر رہتی ہے۔۔۔ جسکی وجہ سے وہ بہت حساس تھی۔۔۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لے لینے والی۔۔۔
اسی غرض سے دائم خان اسے ان تمام جھمیلوں سے نکال کر اپنی زندگی میں شامل کر لینا چاہتا تھا۔۔۔ وہ اسکی زندگی سے کانٹوں کو نکال کر پھول ہی پھول بکھیر دینا چاہتا تھا۔۔
اس سے پہلے کے وہ اپنی اس سوچ کو حقیقی روپ دیتا اسکے سامنے اس معصوم لڑکی کی اصلیت آگئ تھی۔۔۔ وہ لڑکی اپنی معصومیت سے اسے اپنا اسیر بناتی اسے ڈاج دے گئ تھی۔۔۔
وقت کی سوئیاں دھند کے مرغولوں کے سنگ اسے واپس وہیں اسکے کمرے میں لے آئی تھیں۔۔۔ اسکی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔
عائزل میرا سب کچھ لے لیتی یار کہہ کر ہی دیکھ لیتی۔۔۔ اپنا سب کچھ تم پر سے وار  نا دیتا تو عشق میں منکر کہتی۔۔۔ مگر یوں میرے جذبات کی تذلیل کر کے مجھے دھوکہ نا دیتی۔۔۔ 
اذیت ہی اذیت اسکے جسم میں سرائیت کرنے لگی تھی۔۔۔
اسے محبت میں ناکامی ڈستی تھی۔۔۔ اب بھی اس لڑکی کی معصومیت آنکھوں کے سامنے آتی تو راتوں کو اسے بے چین کر جاتی۔۔۔ مگر اسے بوا کے پاس چھوڑ کر وہ اسکی ہر سوچ ہر یاد کو دماغ سے جھٹک دینا چاہتا تھا ۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے وہ پچھلے ایک ہفتے سے بن بلائی یادوں سے فرار کی ہر ممکن راہ اختیار کر رہا تھا۔۔۔
کیونکہ اب وہ اپنے دل میں اس دھوکے باز کے لئے زرا سی گنجائش بھی نہیں رکھنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ یادوں کی پٹاری کو دل کے ایک کونے میں دفن کرتا اس پر اپنا ازلی خول چڑھائے ڈائری واپس اسی دراز میں رکھ کر گاڑی کی چابی اٹھاتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔
*****
حسب معمول وہاں صبح صادق سے ہی کام شروع ہو گیا تھا۔۔۔ بوا کے پاس بہت سی لڑکیاں کام چھوڑ کر جا چکی تھیں لیکن مزید کوئی نئ لڑکی نہیں رکھی گئ تھی۔۔۔ اس کی ایک بڑی وجہ عائزل تھی۔۔۔ 
پچھکے ایک ہفتے میں اسنے اپنی اس زندگی کے بارے میں بہت سوچا تھا اور جتنا سوچتی اتنا ہی تکلیف سے دوچار ہوتی۔۔
اس لئے اب وہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ وہ خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دے گی۔۔۔ مزید اس بارے میں کچھ بھی سوچ کر خود کو اس اذیت سے دوچار نہیں کرے گی۔۔۔۔
یہ ایک ہفتہ اسکے اندر سے سارا دم خم نکال کر لے گیا تھا۔۔۔ زبان تو گویا تالو سے چپک کر رہ گئ تھی۔۔۔ اور ہاتھوں میں مزید تیزی آ گئ تھی۔۔۔
دائم خان سے اسے کسی قسم کے رحم کی توقع نہیں تھی۔۔۔ جو اسے وہاں ایسا چھوڑ کر گیا تھا کے مر کر دیکھا تک نہیں تھا۔۔۔
ہاں وہ اسے یہ ہی سزا دے کر گیا تھا۔۔۔ وہ خاصی کام چور بندی تھی اور وہ اسکی اسی کمزوری پر وار کر رہا تھا۔۔۔ وہ اسے کاموں کی دلدل میں چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔ 
لیکن کیا ہوتا اگر وہ اپنی اس عادت کو ہی بدل ڈالتی۔۔۔۔ ہاں مشکل تھا مگر نا ممکن نہیں۔۔۔ اس لئے اب وہ بے حس ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ سب جھوٹے تھے۔۔ اس لئے اسنے ان کاموں سے ہی دوستی گانٹھ لی تھی۔۔۔ صبح سے شام وہ صرف اپنے کام سے کام رکھتی۔۔۔ فارغ ہوتی تو جو کام بچا ہوتا وہ بھی کر ڈالتی۔۔۔ ہر وقت کسی نا کسی کام میں خود کو غرق رکھتی کے یہ اسکے خود کے لئے بہت اچھا تھا۔۔۔ یادوں کے ناگ فراغت میں ڈسنے آتے۔۔۔
نا فارغ ہوتی نا وہ ناگ اس تک پہنچ پاتے۔۔۔ رات میں اتنا تھک کر گرتی کے آنکھ صبح ہی کھلتی۔۔۔
جس طرح سے دائم خان اس سے لاپروہ بنا تھا۔۔۔ وہ سمجھ گئ تھی کے وہ اسے مر کر نہیں دیکھے گا۔۔۔ وہ یہیں رہتے اس شدت کی ٹھنڈ میں سروائیو کرتی یا تو اسکی عادی ہو جاتی یا یہیں مر کھپ جاتی۔۔۔
اور اسکے مرنے کیساتھ ہی سکون ہو جاتا۔۔۔ کہانی ہر لحاظ سے ختم ہو جاتی۔۔۔
دائم خان کے دل کو بھی سکون مل جاتا کے چلو ایک دھوکے باز اس دنیا سے گئ۔۔۔ جب اب آخری جائے پناہ ہی یہ تھی تو بہتر تھا کے وہاں کی مکین یعنی کے بوا سے بنا لی جاتی۔۔۔ اور بوا سے صرف کام کے ذریعے ہی بنائی جا سکتی تھی۔۔۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے جو لڑکیاں کام چھوڑ کر جا رہی تھی عائزل باخوبی انکا کام بھی سمبھالتی جا رہی تھی ۔۔۔ اس لئے جب کسی کی ضرورت ہی محسوس نا ہو رہی تھی تو بوا نے نئ لڑکیاں پھر رکھی بھی نہیں۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے اب عائزل کے علاوہ محض دو لڑکیاں بوا کے پاس موجود تھیں۔۔۔
بوا اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی عائزل کو تیزی سے سارا کام نبٹاتے دیکھ رہی تھی۔۔۔
جو صحن میں پھرتی سے جھاڑو لگانے کے بعد اب ہینڈ پمپ کے پاس بیٹھی برتن دھو رہی تھی۔۔۔
وہ بوا کی نظروں میں بنا اپنا پہلا عکس مکمل طور پر مٹا پانے میں کامیاب رہی تھی۔۔۔
پھرتی سے برتن دھو کر وہ برتنوں کا ٹوکرا اٹھا کر کچن میں آئی۔۔۔
صبح سے ٹھنڈ میں کام کر کر کے اسکے ہاتھ پاوں برف ہو رہے تھے۔۔۔
بوا میں اپنے لئے چائے بنا لوں۔۔۔ ٹھنڈ سے ٹھٹھرتے وہ ہاتھ خشک کرکے شال اچھے سے اپنے گرد لپیٹتی کچن سے باہر نکلتی بوا سے گویا ہوئی۔۔۔
اسکی ذات سے بوا کو بہت سہولت ہو گئ تھی اس لئے اکثر ہی اب اسکے لئے بوا کا لہجہ بدلنے لگا تھا۔۔۔
بوا اسے دوسری لڑکیوں کی طرح جھڑکتی نا تھی۔۔۔ بوا کے لئے اسکی ذات بہت ہی بے ضرر اور پر اسرار تھی۔۔۔۔ لیکن وہ دائم خان کو بھی باخوبی جانتی تھی۔۔۔۔ بلاوجہ تو وہ کسی کو پھول سے نا مارے۔۔۔ ایک کنکر لگنے جتنی تکلیف نا دے۔۔۔ ایسا کیا کیا تھا اس لڑکی نے جو وہ اسے یہاں چھوڑ گیا تھا۔۔۔
پہلی بات تو عائزل خود ہی بوا کو شکایت کا کوئی موقع نا دیتی۔۔ اور اگر غلطی سے اس سے کوئی کام خراب ہو بھی جاتا تو وہ درگزر کر جاتی تھیں۔۔۔
ہاں بنا لو اور میرے لئے بھی بنا لینا۔۔۔۔ بوا نے اسے غور سے دیکھتے اجازت دی تو وہ واپس کچن میں جاتی مٹی کے چولہے میں لکڑیاں لگا کر آگ جلانے لگی۔۔۔ اب تو وہ بہت حد تک آگ بھی لگانا سیکھ چکی تھی۔۔۔ یہ واحد کام تھا جو اسے نانی دادی دونوں یاد کروا دیتا۔۔۔ آدھ جلی لکڑیوں پر پھونکیں مار مار کر اسکے دھوئیں سے وہ کھانس کھانس کر ادھ موا ہو جاتی۔۔۔
اب بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔ کھانس کھانس کر آنکھوں سے پانی نکلنے لگا تھا لیکن وہ لگی رہی۔۔۔ جلد ہی لکڑیوں نے آگ پکڑ لی۔۔۔۔
دو کپ چائے بنا کر وہ ٹرے میں مٹی کی پیالیاں رکھتی باہر بوا کے پاس آئی۔۔۔
بیٹھ جاو عائزل۔۔۔ یہیں بیٹھ کر چائے پی لو۔۔۔ بوا کو انکی پیالی دے کر وہ اپنی پیالی لے کر مڑی تو بوا بے ساختہ بول اٹھی۔۔  صبح سے وہ بنا رکے ایک کے بعد ایک کام کر رہی تھی اب چائے تو سکون سے پی لیتی۔۔۔
نہیں بوا۔۔۔ مرچین جو سوکھنے رکھی تھیں وہ سوکھ گئ ہیں میں چائے پیتے ساتھ ساتھ انہیں پیس بھی لوں گی ۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر واپس کھلے صحن کے ایک طرف چلی گئ۔۔۔ جہاں پہلے ہی دو لڑکیاں سوکھی ہوئی مرچیں اکھٹی کر کے کوٹ رہی تھیں۔۔۔
وہ بھی نیچے بچھی چٹائی پر بیٹھ کر اپنا سیل بٹا سمبھال چکی تھی۔۔۔
چائے کی چسکی لے کر پیالی اپنے پاس رکھتے اسنے سوکھی مرچیوں کو کوٹنا شروع کیا۔۔۔
سنو۔۔۔ دفعتاً ایک لڑکی کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔
عائزل نے کام کرتے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
داخم خان کا کیا نقصان کیا تھا تم نے لڑکی۔۔۔ ایک لڑکی بھرپور تجسس سے گویا ہوئی تو گویا عائزل کے ہاتھ زرا سست پڑے۔۔۔
وہ شخص ہوری جزئیات کیساتھ اسکے ذہن کے پردوں پر لہرایا ۔۔۔
انکے چار لاکھ کا نقصان کیا تھا۔۔۔   وہ مشینی انداز میں بے تاثر چہرے کے ساتھ گویا ہوئی۔۔۔
چار لاکھ۔۔۔ دوسری لڑکی حیرت سے چلائی۔۔۔ جبکہ عائزل کو اپنی آنکھوں میں مرچیں سی بھرتی محسوس ہوئی۔۔۔۔
تو تم اسے اسکی رقم لوٹا دو۔۔۔ دوسری لڑکی ترحم سے گویا ہوئی۔۔۔
پیسے نہیں ہیں میرے پاس لوٹانے کو۔۔۔ وہ زور زور سے سیل بٹا چلاتی گیلی سانس اندر کھینچتی گویا ہوئی۔۔۔
تو کیا پھر تم دائم خان کے چار لاکھ پورے کرنے کی خاطر پوری زندگی ہی یہیں کام کرو گی۔۔۔
پہلی لڑکی ہمدردانہ انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
عائزل کے دل پر ہاتھ پڑا تھا۔۔۔۔ شاید ہاں۔۔۔ وہ بے حسی سے گویا ہوئی۔۔
چچ۔۔۔چچ۔۔۔۔ ویسے کیسے جانتی ہو دائم خان کو۔۔۔ مطلب کیا لگتا ہے وہ تمہارا۔۔۔
دوسری لڑکی کی آنکھوں میں عائزل کے لئے ترحم تھا۔۔۔
شوہر ہے میرا۔۔۔ اسکا لہجہ بے تاثر تھا۔۔۔
کیاااااا۔۔۔۔ جبکہ دونوں لڑکیاں ایک دوسرے کو دیکھتی چلا اٹھیں۔۔۔
عائزل انہیں بنا دیکھے سر جھکائے مسلسل اپنا کام کر رہی تھی۔۔۔ کے زرا سر اٹھاتی تو آنکھیں چھلک جاتیں۔۔۔
لڑکی دماغ پر صدمہ لگنے سے اثر تو نہیں ہو گیا کہیں۔۔۔
دائم خان تمہارا شوہر۔۔۔۔ پہلی لڑکی استہزائیہ ہسی۔۔۔۔
اور شوہر بیویوں کو یوں لاوارث نہیں چھوڑتے لڑکی۔۔۔ تم کچھ زیادہ ہی خوش فہم ہو۔۔۔ دوسری لڑکی نے بھی پہلی کی تائید کی۔۔۔
کام کرتے عائزل کے ہاتھ کپکپا گئے۔۔۔
وہ دونوں لڑکیاں ہستی ہوئی اسکا مذاق اڑاتی کوٹی ہوئی سرخ مرچ اٹھا کر اندر رکھنے چلی گئں۔۔
جبکہ وہ کپکپاتے ہاتھوں سے مزید زور سے مرچیں کوٹنے لگی۔۔۔
عائزل اس شخص سے نکاح کرو اور دفع ہو جاو میرے گھر سے۔۔۔۔ 
ہاہر دھند کیساتھ ساتھ اسکی آنکھوں میں بھی دھند چھانے لگی تھی۔۔۔
کیا آپکو دائم خان ولد احمد خان سے بعوض پچاس ہزار حق مہر یہ نکاح قبول ہے۔۔۔
وہ گہرے گہرے سانس بھرتے تیزی سے مرچیں کوٹنے لگی۔۔۔
میں نے تم سے محبت کی تھی عائزل ۔۔۔ دل کی گہرائیوں سے۔۔ تمہیں عزت دینی چاہی پوری دنیا کے سامنے۔۔۔ مگر تم اسکے قابل نا تھی۔۔۔
مرچیں کوٹتے اسکے ہاتھ پر زوردار چوٹ لگی تھی کے وہ بلبلا کر رہ گئ۔۔۔۔
******
سنو۔۔۔۔
ایمن ابھی ابھی  کلاس لے کر نکلی تھی جب اسنے اپنے پاس سے ریان کو خاموشی سے گزرتے دیکھا تو بے ساختہ پکار اٹھی۔۔۔
آگے بڑھتے ریان کے قدم ٹھٹھک کر رکے۔۔۔ ایک جاندار مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر ابھری ۔۔۔  وہ ایک ادا سے پلٹا۔۔۔۔ 
کیا آپ نے مجھے روکا مس ایمن۔۔۔ وہ اپنی طرف انگلی کرتا پوری آنکھیں کھولے مضنوعی حیرت سے گویا ہوا کے ایک پل کو تو ایمن کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئ جیسے بروقت وہ چہرا جھکاتی داب گئ۔۔۔
جی۔۔۔ 
جی۔۔۔ جی۔۔ فرمائیے۔۔۔ بندہ ہمہ تن گوش ہے۔۔۔ وہ بالوں میں ہاتھ چلاتا شوخ ہوا۔۔
ویسے اگر آپ برا نا مانے۔۔۔ اور آپکو یہ نا لگے کہ میں آپکی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر آپ سے فری ہو رہا ہوں اور اگر آپ بہتر سمجھیں تو کیا ہم کینٹین میں چل کر بات کر سکتے ہیں۔۔۔ دراصل مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ اڑستے وہ اپنی ازلی لاپرواہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔۔
ہمم۔۔۔۔۔ وہ ہاں میں سر ہلاتی اسکے ساتھ چل دی۔۔۔
ویسے تھینک گاڈ تم نے مجھے مخاطب کر لیا ورنہ پچھلے ایک ہفتے سے میں نے اپنی فطرت کے برخلاف خود پر سنجیدگی کا اتنا لبادہ اوڑھا نا کہ کہیں میری کسی حرکت پر یہ بندی پھر سے مجھے ٹونٹ نا مار دے کے میری مجبوری کا فائدہ اٹھا کر یہ فری ہونے کی کوشیش کر رہا ہے۔۔۔
کینٹین پہنچ کر وہ کرسی کھینچ کر ڈھیلے سے انداز میں بیٹھتا ایمن کا چہرا دیکھ کر گویا ہوا ۔۔۔
آج ایمن کو وہ شخص اتنا بھی برا نہیں لگا تھا۔۔ وہ واقعی پچھلے ایک ہفتے سے اپنی عادت کے برخلاف سنجیدگی سے اسے نظر اندز کر رہا تھا ۔۔۔ ورنہ وہ شخص اسے ہمیشہ ہی اپنے آگے پیچھے اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتا اسکی توجہ حاصل کرتا ہی دکھائی دیا تھا۔۔۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے۔۔۔ دراصل مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ ہلکا سا مسکرا کر وہ اسکی بات کی نفی کرتی گویا ہوئی۔۔۔
اچھا پھر ایک منٹ رکو میں زرا کاونٹر سے کچھ کھانے کو لے آوں۔۔۔
وہ اپنی بات کہہ کر بنا اسکے جواب کا انتظار کئے وہاں سے اٹھتا کاونٹر کے پاس جا چکا تھا۔۔۔
اسے کاونٹر کے پاس کھڑے دیکھ ایمن نے اسکا تفصیلی جائزہ لیا۔۔۔ جینز پر سرخ ٹی شرٹ پر سلیو لیس جیکٹ پہنے بال ماتھے پر بکھرائے۔۔۔۔ اسکے گلے میں آڑ حروف کا ایک پینڈینٹ تھا جو جیکٹ کی آدھ کھلی زپ سے گلے میں جھولتا دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔
وہ ایک خوش شکل خوش اخلاق اور لاابالی سا شخص تھا۔۔۔  ہر کسی سے چھیر چھاڑ کرنے والا۔۔۔۔
ابھی بھی اپنا آرڈر لیتا وہ آتے جاتے کئ سٹودینٹس سے بات کرتا انہیں چھیڑ رہا تھا۔۔۔
ایمن بیٹھی اسے یک ٹک دیکھ رہی تھی جب وہ ٹرے لئے واپس اسی میز پر آیا۔۔۔
سینڈویج کی پلیٹ اسکی جانب بڑھا کر اسنے ایک کولڈرنگ اسکے سامنے رکھی اور اپنا سینڈویج کھانے گا۔۔۔
ایمن نے کچھ دیر اسے دیکھا اور پھر خود بھی کھانے لگی۔۔۔۔
دراصل ریان میں فوری طور پر تمہیں رقم واپس نہیں کر سکتی مجھے کچھ وقت چاہیے۔۔۔ لیکن میں جلد۔۔۔  جلد تمہیں تمہاری رقم لوٹادوں گی۔۔۔
وہ ہونٹ چباتی کولڈرنگ کے کنارے پر انگلی پھیرتی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
اوہ تو یہ بات تھی جسکے لیے مجھ پر اتنی کرم نوازی کی گئ کے ایمن صاحبہ نے مجھ جیسی ناچیز کو خود سے مخاطب کیا۔۔۔
وہ تاسف سے سر نفی میں ہلا رہا تھا اور بندہ بشر خوامخوہ ہی خوش گمانیوں کے پہاڑ بنانے لگا۔۔۔
پیسے واپس کرنے کی کوئی جلدی نہیں تم اپنی سہولت سے واپس کر دینا ایمن۔۔۔ وہ بجھے دل سے کہتا ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔۔
ایمن نے  سینڈویچ اور کولڈرنگ کے پیسے ٹیبل پر رکھے اور اٹھنے ہی والی تھی جب وہ صدمے کے تحت تقریباً چیخ ہی اٹھا۔۔۔
اب اتنا بھی گرا ہوا مت سمجھو مجھے ایمن کے تم ایک سینڈویج اور کولڈرنگ کے پیسے بھی میرے منہ پر مار کر جاو۔۔۔ کے لو دفعہ ہو۔۔۔
وہ نڑوٹھے پن سے کہتا پرشکوہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسکا انداز اسقدر شرمندہ کرتا تھا کے ایمن خوامخواہ ہی شرمندہ ہوتی پیسے واپس اٹھا گئ۔۔۔
ویسے اب ایک بات میں بھی تم سے کر سکتا ہوں کیا۔۔۔ اسے اٹھنے کے پر تولتا دیکھ وہ بعجلت گویا ہوا۔۔۔  
ایمن اٹھتے اٹھتے واپس بیٹھ گئ۔۔۔
اسنے اپنے لبوں پر زبان پھیرتے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔۔دیکھو ایمن مجھے غلط مت سمجھنا اور میری بات سن کر یہاں سے کچھ اٹھا کر میرے سر پر مار مت دینا پلیز۔۔۔
وہ بے چینی سے گویا ہوا جبکہ ایمن نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
Aiman I am in love with you... Please don't take me wrong...
 پر میں تمہارے گھر اپنا رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں۔۔۔
وہ ایک ہی سانس میں اپنی بات کہتا چلا گیا۔۔۔ کہ کہیں وہ بنا سنے اسے ٹوک نا دے اور اب وہ سانس بھی روکے اسکے ردعمل کا منتظر تھا۔۔۔
جب ایمن پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسکی ہمت ملاخظہ کر رہی تھی۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4