Header Ads

Scheme novel 6th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels


 

Scheme novel 6th Episode  by Umme Hania Represent by Uniqe Novels

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں
______

چھٹی قسط۔۔۔
باہر کئ دنوں کی برف باری کے بعد آج ہلکی ہلکی دھوپ نکل آئی تھی لیکن فضاء میں ہنوز خنکی برقرار تھی۔۔۔
کمرے کی بند کھڑکی کے شیشے سے باہر کا منظر دکھائی دے دہا تھا۔۔۔ اندر موجود آتش دان میں لکڑیاں چٹخنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔ 
دادا جان بیڈ کراوں کے ساتھ ٹیک لگائے نیم دراز سے لیٹے مسکرا کر اسے دیکھ رہے تھے جبکہ ٹانگوں پر لحاف اوڑھ رکھا تھا۔۔۔
دائم خان انکے پاس ہی کرسی پر بیٹھا گود میں انکا میڈیسن باکس رکھے ناشتے کے بعد انکی دوائیاں نکال کر انہیں دے رہا تھا۔۔۔
اکلوتا پوتا ہونے کے باعث وہ دادا کی آنکھوں کا تارا تھا۔۔۔۔
دفعتا دروازہ ناک کر کے یمنہ اندر داخل ہوئی تو دادا کے ساتھ ساتھ وہ بھی اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
نیلے رنگ کا پرنٹڈ سوٹ زیب تن کئے اوپر ہم رنگ ہی شال سلیقے سے اوڑھے وہ جھکی نظروں سمیٹ اندر داخل ہوئی۔۔۔
وہ پورے ہفتے سے اس ستم گر کو نظر انداز کر رہی تھی۔۔۔  دل پر تو کنٹرول تھا نہیں تو وہ نظروں پر رکھے ہوئے تھی۔۔۔ نا نگاہ بھٹکتی نا دل میں ہلچل مچتی۔۔۔
مگر ایک گھر میں ریتے آخر ایسا کب تک ممکن تھا۔۔ 
آج ٹکراو شاید قسمت میں لکھا ہی لکھا تھا۔۔۔ تبھی تو وہ سامنے موجود تھا۔۔۔ ورنہ وہ تو دیکھ کر گھر میں اسکی غیر موجودگی یقینی بنا کر ہی دادا کے کمرے میں آئی تھی پر کہاں جانتی تھی کے وہ پہلے سے ہی یہاں موجود ہوگا۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ اسنے دھمیی آواز میں سلام کیا تو دادا جان نے محبت سے جواب دیتے اپنے پاس ہی اسکے بیٹھنے کی جگہ بنائی۔۔
کیسی ہو یمنہ بیٹی۔۔۔ اب طبیعت کیسی ہے آپکی۔۔۔ آپ نے تو ڈرا ہی دیا تھا ہمیں۔۔۔
پورے ہفتے سے آپ تو بستر کی ہی ہو کر رہ گئ۔۔۔
کالام کے موسم میں تو آپ شروع سے ہی پلی بھری ہیں لیکن اس بار اتنی سردی لگ گئ کے پورا ہفتہ ہی بخار سر چڑھا رہا۔۔۔
وہ مسکرا کر اسکے سر پر پیار دینے کے بعد اسکا مرجھایا چہرا دیکھتے ہلکے پھلکے انداز میں گویا ہوئے۔۔۔
یمنہ اداسی سے مسکرا دی۔۔۔ اب کیسے بتاتی کے بخار موسم کی شدت کا نہیں بلکہ محبت میں ناکامی کا تھا۔۔ جو سر سے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔
اب بہتر ہوں دادا جان۔۔۔۔  وہ اپنی قمیض کے دیزائن پر انگلی پھیرتی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی دادا جان۔۔
ہمممم۔۔ دائم نے انہیں گولیاں نکال کر دیتے پانی کا گلاس تھمایا تو وہ گولیاں پھانکتے گویا ہوئے۔۔۔
دادا جان میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں ۔۔۔ اپنی بات مکمل کر کے جیسے وہ ہمت مجتمع کرنے کی خاطر رکی۔۔۔ جیسے دادا جان کا اپنی بات پر رد عمل جاننا چاہتی ہو۔۔۔
دوسری طرف اسکی بات سن کر جیسے سناٹا چھا گیا تھا۔۔۔ دادا کا شفیق لہجہ یکدم ہی گویا بدل گیا تھا۔۔۔
جتنا ہم آپ کو پڑھا چکے ہیں یمنہ اسکے لئے ہم پہلے ہی اپنی خاندانی روایات کے بہت خلاف جا چکے ہیں۔۔۔ ہمارے ہاں لڑکیوں کو پڑھنے باہر نہیں بھیجا جاتا لیکن پھر بھی آپکے شوق کا احساس کرتے ہم نے آپکو پڑھنے کے لئے شہر کے کالج بھیجا۔۔۔
لیکن اب آپ یونیورسٹی جائیں گی یہ بات آپ بھول جائیں۔۔۔ ہمارے خاندان کی لڑکیاں لڑکوں کے ساتھ نہیں پڑھتی۔۔۔۔ 
تمہاری چچی تمہارے لئے رشتہ دھونڈ رہی ہے۔۔۔۔ ہم جلد از جلد تمہیں تمہارے گھر کا کر کے تمہارے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں۔۔۔
وہ بنا مروت کے اپنے ازلی فیصلہ کن انداز میں گویا ہوئے جو انکی ذات کا خاصا تھا۔۔۔ 
پوتے پوتیوں سے پیار محبت سب اپنی جگہ مگر وہ اپنی روایات اور فیصلوں کے معاملے میں کٹر تھے۔۔۔ 
یمنہ نے بھرائی نگاہوں سے انہیں دیکھا۔۔۔ 
دادا جان۔۔۔ وہ کپکپاتے لہجے میں کہتی نگاہیں جھکا گئ۔۔۔
خواہشیں۔۔۔۔ فرمائشیں۔۔۔ اور ضدیں ۔۔۔ بھی تو حق اور ۔۔۔۔وہ رکی اور گہرا سانس بھر کر  خود کو کمپوز کیا۔۔۔ مان سے وہیں کئے جاتے ہیں نا جہا۔۔۔ جہاں۔۔۔ باپ سر پر ہو۔۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھیں سے ٹپکا۔۔۔ لب کا کونے دابتے اسنے سسکی روکی۔۔۔
جہا۔۔۔ جہاں۔۔ آواز بھرا گئ۔۔۔ باپ نا ہو وہاں صرف ذمہ داریاں ہی نبھائی جاتی ہیں۔۔ وہ ہچکی لیتی منہ پر ہاتھ رکھے وہاں سے اٹھ کر بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ ناجانے کون کونسی حسرتیں اور ٹوٹے خواب کی کرچیاں وہ ناچاہتے ہوئے بھی وہاں اپنے لفظوں اور لہجے کی حسرتوں کی صورت بکھیر گئ تھی۔۔۔۔
جبکہ پیچھے دادا اور دائم حق دق سے اسے دیکھتے رہ گئے تھے۔۔۔ یہ بھلا وہ کیا کہہ گئ تھی۔۔۔
******
دیکھا دائم خان۔۔۔ کہا کہہ کر گئ ہے ہمیں۔۔۔ ہماری بے لوث محبت کا یہ صلہ دیا ہے اسنے ہمیں کے ہمیں باپ نا ہونے کا طعنہ دے گی ہے۔۔۔ اب اس لڑکی کے لئے ہم اپنی روایتیں بدلنے سے تو رہے۔۔۔ وہ تھکے تھکے انداز میں بیڈ کراون سے ٹیک لگا گئے۔۔۔ 
اپنی ماں سے کہو کے جلد از جلد اسکا رشتہ دھونڈیں۔۔۔ میں جلد از جلد اسکے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتا ہوں۔۔۔
دادا جان کسی غیر مری نقطے کو دیکھتے کھوئے کھوئے سے گویا ہوئی۔۔۔
باہر ہلکی ہلکی نکلی دھوپ پھر سے کہیں گم ہو گئ تھی جبکہ یکدم ہی پھر سے برف بھاری شروع ہو گئ تھی۔۔۔۔
دائم خان ہوا کے دوش پر روئی کے مانند برف کے گالوں کو کھڑی کے شیشے سے ٹکرا کر نیچے گرتا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
دادا جان وہ تایا جان کو مس کر رہی ہو گئ اس لئے جذباتی ہوگئ۔۔۔۔ ورنہ وہ خاصی سلجھی طبیعت کی حامل ہے یہ بات آپ بھی جانتے ہیں۔۔۔
اور میرے خیال سے اسکا مطالبہ کوئی اتنا بھی بے جا نہیں۔۔۔ وہ آگے پڑھنا چاہتی ہے اور یہ اسکا حق ہے۔۔۔ شادی کچھ وقت بعد بھی ہو سکتی ہے۔۔۔
دادا جان نے چونک کر اسکی جانب دیکھا۔۔۔
دائم خان اس بار تمہاری کوئی بات نہیں مانی جائے گی۔۔۔ پہلے ہی تمہاری حمایت پر ہم نے انہیں شہر کے کالج پڑھنے بھیجا اور اب۔۔۔  دادا جان اسکی باتوں کا مفہوم سمجھ کر گرجے جب وہ سرعت سے انکی بات کاٹ گیا۔۔۔
دادا جان اگر تب یقین کیا تھا نا مجھ پر تو اب بھی کر لیں۔۔۔ اگر ہمارے خاندان کی بچیوں نے ہمارا مان تب نہیں توڑا تھا تو یقین جانے وہ اب بھی نہیں توڑیں گی۔۔۔ اسکا انداز قائل کرنے والا تھا۔۔۔ اور تاریخ گواہ تھی کے جب جب اسنے دادا جان کو قائل کرنے کی کوشیش کی تھی تب تب انہیں قائل کر کے ہی اٹھا تھا۔۔۔ اور دادا جان کو قائل کرنے کا ہنر محض اسکے پاس ہی تھا۔۔۔
****
وہ جب سے کمرے میں آئی تھی بستر پر اونڈھے منہ لیٹے رو رہی تھی۔۔ ناجانے کس کس محرومی پر یہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔
دائم خان کے کسی اور کو پسند کرنے کے انکشاف کا روگ دل نے اس بری طرح لیا تھا کہ پچھلے پورے ہفتے سے وہ بستر کی ہی ہو کر رہ گئ تھی۔۔۔ دل اس اسقدر بجھ سا گیا تھا کے پوری دنیا ہی ویران سی لگنے لگی تھی۔۔۔ جیسے دنیا میں بہار بس صرف اسی ایک انسان کے مرہونِ منت تھی۔۔۔
دفعتاً شیریں کمرے میں داخل ہوئی اور اسے دیکھتے ہی اسنے ایک گہرا سانس خارج کیا۔۔ وہ اسے جیسا چھوڑ کر گئ تھی واپسی پر وہ ہنوز اسے ایسے ہی ملی تھی۔۔۔ 
فکر نا کرو آپی۔۔۔ ابھی سن کر آ رہی ہوں۔۔۔ لالا داداجان کو آپکے یونیورسٹی جانے کے لئے قائل کر رہے ہیں۔۔ اور آپ تو جانتی ہی ہیں وہ جب جب دادا جان کو قائل کرنے بیٹھتے ہیں انہیں قائل کر کے ہی اٹھتے ہیں۔۔۔ شیرین اسکے پاس ہی آ کر بیٹھتی اداسی سے گویا ہوئی۔۔۔
یہ ہی تو بات ہے شیریں۔۔۔ وہ سب کا خیال رکھتا ہے۔۔۔ حق بات پر ڈت جاتا ہے۔۔۔ عورتوں کی عزت کرتا ہے۔۔۔ کسی کے ساتھ غلط ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ اسکی انہی خوبیوں پر تو دل آیا تھا میرا۔۔۔ پھر وہ میرے دل کے حال سے بے خبر کیوں رہا شیریں۔۔۔
اسے کیسے میرے دل کی خبر نہیں ہوئی یا وہ جان بوجھ کر نظر انداز کر گیا۔۔۔ وہ اٹھ کر اسکے مقابل بیٹھتی پوچھنے لگی۔۔۔
صرف ایک وہی تو ہمراز تھی جس سے وہ دل کا درد ہلکا کر لیتی تھی۔۔۔
وہ کتنی خوش قسمت ہوگئ نا شیریں جس پر دائم خان دل ہارا ہوگا۔۔۔ محبوب کے دل پر حکومت کرنا بھی کتنی خوش بختی ہوتی ہے نا۔۔۔۔
وہ کیسی ہوگئ شیریں۔۔۔  کیسی دکھتی ہوگئ۔۔۔ ایسا کیا ہے اس میں جو دائم خان جیسے مکمل انسان کی منظور نظر ٹھہری۔۔۔۔
وہ کھوئی کھوئی سی جیسے کسی اور ہی جہان پہنچی ہوئی تھی۔۔۔
کسی اور کو اپنی جگہ تصور کرنا بھی برا جان گسل کام تھا۔۔۔
آپی آپ کیوں ایسے بول رہی ہیں۔۔۔ اللہ بہتر لے کر بہترین سے نوازنے والا ہے۔۔۔ وہ بڑا مہربان ہے۔۔ اسنے اپکے لئے لالا سے بھی بہترین کوئی منتخب کر رکھا ہوگا۔۔۔
وہ چھوٹی تھی لیکن بہن کی خاطر اسے آج بڑے پن کا ثبوت دینا تھا۔۔۔
جبکہ اسکی باتیں سن کر یمنہ خاموشی سے آنکھیں موند گی۔۔۔ وہ اسے کہہ نا سکی کے کوئی دائم خان جیسا نہیں ہو سکتا۔۔,
******
 دائم خان کافی دیر دادا کے پاس گزار کر واپس اپنے کمرے میں گاڑی کی چابی اٹھانے آیا۔۔۔ گو ابھی بھی باہر برف باری ہو رہی تھی لیکن یہ تو یہاں کا تقریباً روزانہ کا معمول تھا۔۔۔ بس جب برفباری کی شدت بڑھنے لگتی تب زرا معمولات زندگی ڈسٹرب ہونے لگتے تھے ورنہ تو کام چلتا ہی رہتا۔۔۔۔
بروقت سڑکوں سے برفباری ہٹا دی جاتی تھی۔۔۔
کمرے میں آکر اسے چابی مخصوص جگہ پر نا ملی تو اسنے سائیڈ ٹیبل کا دراز کھولا۔۔۔
دراز کھلتے ہی  نظر سامنے سیاہ کور والی لیدر کی ڈائری سے ٹکرائی۔۔۔
اس ڈائری کو دیکھتے ہی اسکی آنکھوں میں مرچیں سی بھرنے لگی۔۔۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسنے وہ ڈائری نکالی اور وہیں آرام دہ کرسی پر بیٹھ کیا۔۔۔
ڈائری کھول کر پہلا صفحہ پلٹتے ہی اسکی نظر موتیوں کی طرح پروئی لکھائی میں لکھے لفظوں پر گئ۔۔۔
Daim ❤ Aizel...
Aizel is the most innocent beautiful and cute girl of the world infact she is the princess of my heart.... She is a shining star in the darkness of my life...
 اپنے ہی لکھے الفاظ پڑھتے اسکی آنکھوں سے کرب چھلکنے لگا تھا۔۔۔ 
کیا وہ اتنا بھی بے وقوف ہو سکتا تھا ۔۔۔ کیا انسانوں کے بارے میں اسکے تجربات اتنے ہی غلط ثابت ہونے لگے تھے۔۔۔ تو مطلب کہ ابھی تک وہ انسانوں کو پہچاننے کی صلاحیت سے ہی محروم تھا۔۔۔۔
اسنے ڈائری وہیں پر بند کی جب دھند کے مرغولے وقت کی سوئیوں کو گھماتے اسے کہیں دور کھینچتے لے گئے۔۔۔ کمرے کا منظر انہی مرغولوں میں کہیں تحلیل ہونے لگا تھا۔۔
*****
وہ ایک البیلی صبح تھی کالام کا موسم سال کے بارہ مہینے ہی ٹھنڈا رہتا تھا لیکن سردیوں کے مہینوں میں وہاں شدت کی سردی پڑنے لگتی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کے مئ جون کے مہینوں میں بھی وہاں موسم خوشگوار ہوتا جبکہ اس کے برعکس لاہور میں خاصی گرمی تھی۔۔۔
وہ بھی فیکٹری کے سلسلے میں لاہور آیا تھا۔۔ اسکے باپ دادا کی لیڈر کی مضنوعات کی فیکٹریاں تھیں۔۔۔ اچھا خاصا کاروبار پورے ملک میں پھیلا تھا۔۔۔ لیکن اس سے پورا دن آفس میں بیٹھ کر ورکز اور انکی کارکردگی دیکھی نہیں جاتی تھی۔۔۔ اس لئے اسنے بابا اور دادا سے صاف کہہ دیا تھا کے ورکز اس سے ہینڈل نہیں ہوتے فزیکلی آفس میں موجودگی والا کام وہ دیکھیں۔۔۔ دائم خان آنلائن اسی کام کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دے گا۔۔۔
وہ براہ راست اپنی مضنوعات پاکستان سے باہر بھی بیچنا چاہتا تھا۔۔۔
اس لئے وہ دن رات ہی  ڈیجیٹلی کاموں میں سر کھپاتا تھا۔۔۔ وہ اس زمانے کا شخص تھا جسکی ٹیکنالوجی سے ویسے ہی بہت بنتی تھی۔۔۔
آنلائن کئ انفلوئنسرز سے مل کر اس نے اپنی مضنوعات کے اشتہارات شوشل میڈیا کے ذریعے ویسے ہی گھر گھر تک پہنچا دیئے تھے۔۔۔ اب وہ ہول سیل ریٹ پر اپنی مضنوعات برینڈ آنرز کو دینے کی بجائے تھرڈ پارٹی کو درمیان سے نکالتے ڈسکاونٹ ریٹس پر باقاعدہ خود کسٹمرز تک دیلیور کروانا چاہتا تھا۔۔۔
سوشل میڈیا اور ہوم ڈیلیوری نے یہ کام بہت آسان کر دیا تھا۔۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے آج وہ ایک بہت بڑے انفولینسر سے کولیبریٹ کرنے کی ڈیل فائنل کرنے لاہور آیا تھا۔۔۔
مطلوبہ ریسٹورینٹ کے سامنے گاڑی روکتے وہ آنکھوں پر گلاسز لگاتے باہر نکلا۔۔۔
نیلی جینز پر ہاف سلیوز جسم سے چپکی کاٹن کی شرٹ زیب تن کئے بال جیل سے سیٹ کئے دراز قامت تیکھے مغرورانہ نقوش پر سن گلاسز لگائے وہ شخص ہر آتے جاتے کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے فن سے آگاہ تھا۔۔۔۔
پارکنگ سے ریسٹورینٹ میں اپنی مطلوبہ ٹیبل تک جاتے وہ کئ نگاہوں کے حصار میں تھا۔۔۔ ہر چیز سے آگاہ ہونے کے باوجود وہ بڑی خوبصورتی سے ہر چیز کو نظر انداز کرتا آیا تھا۔۔۔
اسکے چہرے پر ہمہ وقت چسپاں نو لفٹ کا بورڈ جہاں اسے اپنے حلقہ احباب میں مغرور کے ٹائٹل سے نواز گیا تھا وہیں وہ دوسروں کو اس سے ایک حد میں رہ کر مخاطب کرنے پر بھی مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔
وہ صرف کام سے کام رکھنے والا شخص تھا۔۔۔ جسے کام کے خبط کے سوا کچھ دکھائی دیتا بھی نا تھا۔۔۔
سارا سارا دن شوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے کمپیٹیٹرز کی سرگرمیاں دیکھنا انکی نئ نئ سٹریٹیجیز دیکھ کر ان سے کچھ بہتر پیکجز اور سٹریٹیجز بنانا۔۔۔  نئے نئے پلانز ترتیب دینا۔۔۔
غرض اسکا دن سوشل میڈیا سے شروع ہو کر سوشل میڈیا پر ہی ختم ہو جاتا تھا۔۔ 
اب بھی وہ اپنے انفولینسر کے انتظار میں اپنی ٹیبل پر بیٹھا اپنا ٹویٹر اکاونٹ چیک کر رہا تھا جب اچانک ایک آئی ڈی اسکی نظروں سے گزری۔۔۔
آئی ڈی پر لگی تصویر میں اسقدر معصومیت تھی کے وہ خود کو اس آئی دی کو کھولنے سے روک نہیں پایا۔۔۔
ایک کے بعد ایک تصویر دیکھتا وہ کتنی ہی دیر اس چہرے کی معصومیت میں کھویا رہا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔
سیاہ چادر کے ہالے میں لپٹا چودھویں کے چاند کی مانند چمکتا چہرا۔۔۔ اکثر و بیشر تصویریں حجاب میں تھیں جبکہ چند ایک تصویریں کالج کے یونیفارم میں تھیں جن میں اسکے ریشمی بالوں کی ٹیل پونی جھول رہی تھی۔۔۔
تصویریں دیکھتے اسکا دل شدت سے چاہا کے وہ اس چہرے کو دنیا سے چھپا دے۔۔۔۔۔ اور تب زندگی میں پہلی مرتبہ دائم خان نے کسی لڑکی کی طرف خود سے ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔ بے ساختگی میں اسنے اس آئی ڈی پر پہلا میسج بھیجا۔۔۔
شاید اگلا وجود اونلائن ہی تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں رپلائے آگیا تھا۔۔۔ اور تب ابتدائی تعارف کے بعد ہی اسے اس لڑکی کا نام پتہ چل چکا تھا۔۔۔
تھوڑی دیر ہی ٹیکسٹ پر بات کرنے کے بعد اسنے عائزل کا نمبر ملا ڈالا تھا۔۔۔
وہ محبت نامی کسی چیز پر یقین نہیں رکھتا تھا مگر آج وہ پہلی نظر کی محبت پر اعتبار لے آیا تھا۔۔۔۔۔
عائزل سے بات کرتا وہ اسکی آواز میں کھو گیا تھا۔۔۔۔
اسکا انفولینسر لیٹ تھا اسے کب کا اسکا معذرتی میسج موصول ہو گیا تھا لیکن وہ ہنوز وہیں بیٹھا اس لڑکی سے بات کر رہا تھا۔۔۔ جب کسی کے آنے پر عائزل نے گھبراتے ہوئے فون بند کرنا چاہا جب اسکے فون بند کرنے سے پہلے دائم نے اسے ایک ہی بات کہی تھی۔۔۔
تم پلیز اپنی آئی ڈی سے سبھی تصویریں ریمو کر دو میں نہیں چاہتا کے تمہاری معصومیت پر کسی اور کی نظر بھی پڑے اور دائم خان کی خوشی کی انتہا نا رہی جب وہ بڑی آسانی سے مان بھی گئ تھی اور کال بند ہونے کے چند منٹ بعد ہی اسکی آئی ڈی سے سبھی تصویریں ڈیلیٹ ہوگی تھیں اور تو اور ڈی پی بھی اسنے تبدیل کر کے نقاب سے چھلکتی آنکھوں کی لگا دی تھیں۔۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4