Scheme novel 5th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme novel 5th Episode by Umme Hania Represent by Uniqe Novels
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں
______
پانچویں قسط۔۔۔۔
یونیورسٹی کے بعد آفس میں بھی وہ خاصا غائب دماغ رہی تھی۔۔۔ گھر پہنچتے پہنچتے آج وہ وقت سے کچھ لیٹ تھی۔۔۔ ذہن منتشر تھا اور سوچیں لامحدود۔۔۔
گھر آ کر بنا کچھ کھائے ہی وہ سر تک لحاف اوڑھ کر لیٹ گی۔۔ ماں نے آوازیں بھی دیں کہ پہلے کھانا کھا لو مگر وہ ڈھیٹ بنی خود کو سوتا ظاہر کرتی لیٹی رہی۔۔۔
سارا دن وہ جو خود کو مضبوط ظاہر کر رہی تھی۔۔۔ بستر پر لیٹتے ہی دل بھر آیا تھا۔۔۔۔
ٹینشن سے کندھوں میں کھنچاو پڑنے لگا تھا۔۔ پچاس ہزار کا نقصان کہاں سے پورا کرتی وہ بھلا۔۔۔
زندگی کی گاڑی تو پہلے ہی کھینچ تان کر چل رہی تھی جس میں ابا کی پینش کے ساتھ ساتھ وہ اور حماد پارٹ ٹائم جاب کرتے تو امی کی بیماری کے ساتھ کام بامشکل چل پاتا۔۔۔ کجا کے ساتھ میں اتنی بڑی رقم۔۔۔۔
اسکے پاس تو کوئی سیونگ یا سیونگ کے نام پر کوئی زیور بھی نا تھا جسے بیچ کر کچھ حد تک کام چل پاتا۔۔۔۔
سوچ سوچ کر دماغ پھٹ رہا تھا۔۔۔ وہ یہ بات کسی صورت ماں یا بھائی سے شیئر کرنے کا بھی خود میں حوصلہ نا رکھتی تھی۔۔۔ کیسے اسکے چھوٹے بھائی نے پائی پائی جمع کر کے اسکی فیس اکھٹی کی تھی۔۔۔
منتشر سوچوں کے سنگ ایک اندھیری کوٹھری میں یہاں سے وہاں کسی روزن کی تلاش میں سر پٹختے پٹختے وہ نیند کی وادیوں میں اترنے لگی تھی۔۔۔ مگر کوئی راستہ تو کیا کوئی چھوٹا سا روزن بھی اسے دکھائی نا دیا تھا۔۔۔۔۔
*****
جب ذہن منتشر اور سوچیں لامحدود ہوں تو نیند بھی پرسکون نہیں آتی۔۔۔ اسکی نیند بھی خاصی بے چین تھی۔۔۔ ساری رات کروٹیں بدل بدل کر وہ صبح فجر کی پہلی اذان کیساتھ ہی اٹھ بیٹھی تھی۔۔۔
سر آنکھوں پر بھاری بھاری سا بوجھ محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
اسنے اٹھ کر وضو کیا اور فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد موبائل اٹھا کر بیٹھ گئ۔۔۔ اسے اس نقصان کو کور کرنے کے لئے کوئی اور پارٹ ٹائم جاب بھی تلاش کرنی تھی۔۔۔ اس وقت اسے صرف ایک یہ ہی حل دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ لیکن وقت مینج کیسے کرتی۔۔۔ اسےتو پہلے ہی یونیورسٹی کے بعد پارٹ ٹائم جاب کی شفٹ لگا کر گھر آتے آتے رات ہو جاتی تھی۔۔۔۔
بستر پر آلتی پالتی مار کر ٹانگوں پر لحاف لئے دونوں ہاتھوں میں موبائل تھامے وہ اسکی سکرین پر جھکی بیٹھی تھی۔۔۔ سکرین سے نکلتی روشنی براہ راست اسے متفکر چہرے پر پڑ رہی تھی۔۔
وہ مسلسل جابز کی ویب سائٹس نکال کر کنگال رہی تھی۔۔ ایک دو دن پرانے اخبار نیٹ سے نکال کر اپنے آس پاس کے علاقے میں موجود نوکری کی ویکنسی چیک کر رہی تھی۔۔۔۔
کئ ایک نوکریاں اسکی نظر کے سامنے سے گزر رہی تھیں۔۔۔
لیکن کسی کی بھی ٹائمینگ اسکی فری ٹائمینگ سے میل نا کھا رہی تھیں۔۔۔
وہ مایوسی کے عالم میں مسلسل سکرول ڈاون کرتے چیک کر رہی تھی۔۔ دفعتا ایک مطلوبہ ویکنسی نظر آنے پر اسکی آنکھیں چمکی۔۔۔
Oh thank God...
وہ فوراً ہی سجدہ شکر بجا لائی۔۔۔ ہاں وہ یہاں نوکری کر سکتی تھی۔۔۔ تنخواہ بھی ٹھیک ٹھاک تھی۔۔۔ تو یقیناً اسکا کام چل جاتا۔۔۔۔
امی کے ناشتے کے لئے بلانے پر وہ گہری سانس خارج کرتی بستر سے نکلی۔۔۔۔ موبائل پر سر کھپاتے کافی وقت گزر گیا تھا۔۔۔ کچھ سر سے بوجھ ہلکا ہوا تو طبیعت بھی کچھ بہتر لگنے لگی تھی۔۔۔۔
وہ مسکراتی ہوئی شال اوڑھ کر باہر برآمدے میں آئی جہاں امی چھوٹی سی لکڑی کی میز پر ناشتہ لگا رہی تھیں۔۔ جبکہ حماد پہلے سے ہی تیار کالج یونیفارم میں ملبوس بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا ۔۔ وہ اپنی کرسی گھسیٹ کر بیٹھی تو ماں نے بھاپ اڑاتا چائے کا مگ اسکے سامنے رکھا۔۔۔
حماد ہمارے گھر کے پاس روڈ پر جو اکیڈمی انسٹیٹیوٹ ہے نا وہاں انگلش ٹیچر کی ایک ویکنسی خالی ہے۔۔۔ رات چھ سے آٹھ کی کلاس ہے ۔۔ تو میں سوچ رہی تھی جاب سے آنے کے بعد وہاں جاب کر لوں۔۔۔ اسنے چنگیر سے پڑاٹھا اٹھاتے اپنی ڈش میں رکھا اور نوالہ توڑتی سرسری انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
تمہیں تو پہلے ہی گھر آتے آتے مغرب ہو جاتی ہے ایما۔۔۔ مزید یہ جاب۔۔۔ اور سردیوں میں تو سات بجے ہی عشاء ہو جاتی ہے ایسے میں آٹھ ساڑھے آٹھ بجے تمہارا اکیلے گھر آنا بالکل بھی سیو نہیں۔۔۔ اوپر سے باہر کے حالات بھی ٹھیک نہیں۔۔۔
ہم چند پیسوں کے لالچ میں کوئی ناقابل تلافی نقصان کروانے کے متحمل نہیں۔۔۔ اس لئے تم رہنے دو۔۔ چائے پینے کی غرض سے ہاتھ میں تھاما مگ وہ واپس میز پر رکھتا سنجیدگی سے اسے دیکھ کر گویا ہوا۔۔۔
وہ اپنی ہر ہر بات سے باخوبی باور کروا رہا تھا کہ وہ عمر میں چاہے اس سے چھوٹا ہو مگر حالات اسے وقت سے پہلے بہت بڑا کر چکے ہیں۔۔۔
اب اتنا اندھیر بھی نہیں مچا حماد۔۔ وہ پست سے لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔ گویا حماد کی باتوں سے اسکی ساری بھوک مر گئ ہو۔۔۔ ایک یہ ہی تو صورت نکلی تھی اپنے نقصان کی بھرپائی کرنے کی۔۔۔۔
اتنا ہی اندھیر مچا ہے ایما۔۔۔ موقع کی تلاش میں بھیڑے جگہ جگہ تاک لگائے بیٹھے ہیں۔۔ کہ ادھر کسی سے زرا سے لغزش ہو اور ادھر وہ اسے نوچ کھائیں۔۔
ایسے میں ہر انسان اپنی حفاظت کا خود ذمہ دار ہے۔۔۔ پھر چاہے وہ جانی ہو مالی ہو یا سوال عزت کا ہو۔۔۔ پھر ایسے حالات میں کوئی رسک بھی کیوں لینا پھر۔۔۔ جب ہم سفید پوش لوگوں کے پاس سوائے عزت کے کچھ ہے بھی نہیں۔۔۔
وہ اپنا ناشتہ مکمل کر چکا تھا اب کھڑے ہوتے صحن میں بنے واش بیسن کے پاس جاتا ہاتھ دھو رہا تھا۔۔۔
ایمن اسے ہاتھ دھوتے دیکھتی رہی۔۔۔ منہ میں ڈالا نوالہ حلق میں پھنسنے لگا تھا۔۔۔ کیا اس سے بھی زیادہ کوئی اس وقت جان سکتا تھا کہ بھیڑے کس طرح تاک میں محض کسی کی ایک ہلکی سی لغزش کے منتظر بیٹھے ہیں۔ اسکے ساتھ تو ابھی کل ہی حادثہ سر زد ہوا تھا تو زخم تازہ تھے۔۔۔ لیکن وہ ابھی تک اپنی لغزش ہی تو دھونڈنے کی کوشیش کر رہی تھی ۔ کے آخر اس سے غلطی ہوئی کہاں تھی۔۔۔
کیسے اسکی انفارمیشن لیک ہوئی اور کیسے اسکا اکاونٹ ہیک ہو گیا۔۔۔۔
لیکن اب وہ اس واقعہ کو سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔ جب وہ اسکا کوئی حل نکال ہی نہیں سکتی تھی رقم کسی صورت واپس آ ہی نہیں سکتی تھی تو پھر اس واقع کو سوچنے کا فائدہ۔۔۔ جتنا وہ اس واقع کو سوچتی تھی اتنا ہی خود کو ہارا ہوا اور شکست خوردہ تصور کرتی ۔۔۔
اسنے گرم گرم چائے کا گھونٹ بھرتے حلق میں اٹکے آنسووں کے گولے کو بھی ساتھ ہی نیچے اتارا۔۔۔۔
*******
ہائے بجو کتنے پیارے جوڑے ہیں نا ۔۔۔ آپکے سسرال والوں نے دیکھیں کتنا سارا سامان بھیجا ہے۔۔۔۔ سارے بیڈ پر عفیفہ کے سسرال سے آئے کپڑے جوتے اور جیولری پھیلی پڑی تھی۔۔۔ اور عائزل سفید اور سیاہ امتزاج کی سادہ سی قمیض شلوار میں ملبوس آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔
ہلکے نم بال پشت پر بکھرے پڑے تھے۔۔۔ گویا وہ تھوری دیر پہلے ہی نہا کر نکلی ہو۔۔۔ وہ سنہرے رنگ کی نازک سی سینڈل میں اپنے دودھیا پاوں مقید کئے میرون ہلکا کامدار آنچل ایک شانے پر پھیلائے مسکراتے ہوئے اپنا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔
بجو کیسی لگ رہی ہوں۔۔۔ دفعتا وہ مسکراتی ہوئی پلٹی۔۔۔
ساری چیزوں کو دیکھنے کے بعد انہیں اختیاط سے پیک کرتی عفیفہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
ماشااللہ۔۔۔ بے ساختہ اسکے منہ سے نکلا۔۔۔ وہ تھی ہی اتنی پیاری کے عام سے گھریلو کپڑوں اور لاپرواہ انداز میں ہی ہر کسی کو اپنی جانب متوجہ کر سکتی تھی۔۔ زرا سی سج دھج کے بعد تو قیامت ڈھا دیتی۔۔۔
اسے دیکھتے آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پر نگاہ پڑی تو عفیفہ اداسی سے مسکرا کر سر جھٹک گئ۔۔۔۔
اسکی گڑیا تھی ہی اتنی پیاری کے شاید ہی کوئی اسکی ٹکر کا ہوتا۔۔۔
وہ اب بیڈ کے قریب آتی اسکی جیولری اٹھا کر باری باری پہن رہی تھی۔۔۔۔۔
کانوں میں آویزے پہننے کے بعد وہ اب نازک سی بندیا اپنے ماتھے پر سیٹ کر رہی تھی۔۔۔
ویسے بجووووو۔۔۔ وہ کچھ یاد آنے پر آئینے کے پاس سے پلٹی۔۔۔
آپکی داود بھائی سے بات ہوتی ہے۔۔۔ اسکے اشتیاق سے پوچھنے پر عفیفہ نے اسے آنکھیں دیکھائیں۔۔۔
اب ایسے کیا دیکھ رہی ہیں مجھے بجو۔۔۔ ویسے بھیا ہے تو بڑے پیارے میں نے انکی فوٹو دیکھی ہے جو آپ نے الماری میں چھپا کر رکھی ہے اور میں نے آپکو رات میں ٹیکسٹ پر بات کرتے بھی دیکھا ہے ۔۔ آپ مجھ سے شیئر کر سکتی ہیں۔۔۔ وہ عفیفہ کی آنکھیں دکھانے پر کھی کھی کرتی رازدرانہ انداز میں انکشافات کرنے لگی جبکہ اسکی باتوں پر عفیفہ کا منہ حیرت کی زیادتی سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔۔
گڑیا۔۔۔۔ اسنے دانت پیستے رکھ کر کشن اسے دے مارا۔۔۔
اپنی عمر سے بڑی باتیں کرنے لگی ہو۔۔۔ باز آ جاو۔۔۔ اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔۔۔ دو مہینے بعد تمہارے میٹرک کے پیپر ہیں۔۔۔
وہ عائزل کی باتوں پر ہنوز شاک میں تھی۔۔۔ جبکہ عائزل مسلسل کھلکھلا رہی تھی۔۔۔۔
ویسے بجو آپکی شادی پر دودھ پلائی کی رسم تو میں ہی کروں گی۔۔۔ اور پورے بیس ہزار لوں گی بتا دینا آپ داود بھائی کو۔۔۔
وہ اٹھلا کر کہتی واپس آئینے کی جانب پلٹی جبکہ یکدم دروازہ کھلنے کی آواز پر اسکی زبان کو بریک لگی تھی۔۔۔
اے لڑکی۔۔۔ غضب خدا کا۔۔۔ کیا کر رہی ہو یہ تم۔۔۔ تمہیں نہیں پتہ یہ سب شگن کی چیزیں ہیں۔۔۔ کتنے ارمان سے عفیفہ کے سسرال والے لے کر آئیں ہیں۔۔۔ اسنے ابھی تک ایک مرتبہ پہن کر بھی نہیں دیکھیں اور تم کس بے غیرتی سے انہیں پہن رہی ہو۔۔۔
اسے یوں سج دھج کر آئینے کے سامنے کھڑے دیکھ مامی کا دماغ لمحوں میں گھوما تھا۔۔۔ جبکہ چہکتی ہوئی عائزل بھی سہم چکی تھی۔۔۔
وہ ایک ہی جست میں اسکی طرف بڑھی اور نوچتے ہوئے اس پر سے کامدار آنچل اتار کر بیڈ پر پھینکنے کے بعد اسکے ماتھے کی بندیا کھینچ کر اتاری اور بے دردی سے اسکے آویزے اتارنے لگیں۔۔۔
سییی۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ۔۔
عائزل مامی کا جارحانہ روپ دیکھتی لب بھینچے مامی کے لگنے والے ناجن اور جیولری کی خراشوں کی تکلیف کو برداشت کر رہی جبکہ عفیفہ کی جان پر بنی ہوئی تھی۔۔۔ کبھی دائیں تو کبھی بائیں طرف سے ماں کے آگے آگے ہوتی وہ ماں کو روک رہی تھی۔۔۔
تو پیچھے ہٹ جا عفیفہ ۔۔۔۔ تیری شہہ پر یہ بڑھتی ہی جا رہی۔۔۔ مامی نے غصے سے عفیفہ کو بیڈ کی جانب دھکیلا۔۔۔ جبکہ وہ اسی سپیڈ سے لڑکھڑا کر سمبھلتی واپس عائزل کی طرف لپکتی چیل کر طرح اسے اپنے حصار میں لے کر اپنے پیچھے کرتی ماں کی پہنچ سے دور کر گئ۔۔۔۔
میں نے ہی وہ سب گڑیا کو پہنایا تھا۔۔ میں ڈیزائن چیک کر رہی تھی ماں۔۔۔ کیا ہو گیا ہے آپکو۔۔۔ وہ روہانسی ہوتی گویا ہوئی۔۔۔۔
منہ بند کر اپنا۔۔۔ میں تو جیسے جانتی ہی نہیں نا اس کرم جلی کو۔۔ اسکی نظر تمہاری ہر چیز پر ہوتی ہے۔۔۔ اور دودھ پلائی کی یہ کیا بات کر رہی تھی ہاں۔۔۔ خبردار جو اس نے تمہاری شادی میں اپنی ایک جھلک بھی کسی مہمان کو دکھائی تو۔۔۔
اگر تمہارے شادی کے پورے فنگشن پر یہ مجھے باہر دکھائی دے گئ نا عفیفہ تو خدا کی قسم تمہارے باپ کا لحاظ بھی نہیں کروں گی۔۔۔ اگر اسکی ٹانگیں توڑ کر اسے ہسپتال کے بستر پر نا پہنچایا نا تو پھر کہنا کہ میں تمہاری ماں نہیں۔۔۔
میری بیٹی کی خوشیاں کھانے یہ کہاں سے ٹپک پڑی۔۔۔ اب یہ سج دھج کر تیری دودھ پلائی کی رسم کر کے عین شادی کے دن تیرے رشتے میں پھوٹ دلوانا چاہتی ہے۔۔۔ لوگوں کو موازنے کروانے کے لئے یہ وہاں رسم کرنے جانا چاہتی ہے۔۔۔۔ مامی تو غصے سے آپے سے باہر ہوتی جا رہی تھیں۔۔۔ پتہ نہیں کیوں دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر دونوں کا موازنہ کرتے ہی انکا دماغ پھٹنے لگتا تھا۔۔۔
دفعتاً باہر سے ماموں کی آواز آنے پر مامی اپنی بھراس نکالتی باہر چلی گئ جبکہ اس سے پہلے کے عفیفہ پلٹ کر عائزل کو دیکھتی وہ چھپاک سے واش روم میں بند ہوتی دروازہ بند کر گئ۔۔۔
عفیفہ وہیں بیڈ پر بیٹھتی سر ہاتھوں میں تھام گئ۔۔۔۔۔ ماں کی سنتی کے اس معصوم کا چہرا دیکھتی۔۔۔۔
ایک گہرا سانس خارج کرکے وہ بے دلی سے باری باری سارا سامان واپس پیک کرنے لگی۔۔ سب کچھ سمیٹ کر وہ الماری میں رکھنے کے بعد بیڈ پر آ کر بیٹھی تو عائزل ابھی تک ہنوز واش روم میں بند تھی۔۔۔
وہ اٹھ کر واش روم کے دروازے تک گئ۔۔۔ عائزل گڑیا پلیز باہر آ جاو میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔۔ پلیز گڑیا۔۔۔
اسکی نم آواز سن کر اندر دیوار کے ساتھ کھڑی مسلسل آنسو بہاتی عائزل نے رگڑ کر اپنے آنسو صاف کئے۔۔۔۔
آ۔۔۔ آئی بجو۔۔۔ واش بیسن کا نل کھولتے اسنے کئ چھپاکے ٹھنڈے پانی کے آنکھوں میں مارے۔۔۔ اور تولیے سے چہرا خشک کرتی واش روم سے باہر نکل آئی۔۔۔۔
اسے باہر نکلتا دیکھ عفیفہ نے شکر ادا کیا اور ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیوب اٹھا کر اسکے پاس بیڈ پر آئی۔۔۔ اسکی تھوڑی اوپر اٹھا کر چہرا سیدھا کیا تو نظر ماتھے اور کان کے پاس لگی خراشوں کے بعد سرخ پڑتی آنکھوں اور ناک سے ٹکرائی۔۔۔
گڑیا تم واش روم میں روتی رہی ہو۔۔۔۔ وہ حیرت سے مستفسر ہوئی۔۔۔
عائزل نے نگاہیں جھکاتے سر نفی میں ہلایا۔۔۔۔
عفیفہ نے بھرائی آنکھوں سے اسے دیکھتے اسکے ماتھے پر لب رکھے۔۔۔ سوری گڑیا۔۔۔ اسکے کان کے پاس وہ سرگوشانہ گویا ہوئی اور سیدھی ہو کر اسکے چہرے پر موجود خراشوں پر آئنٹمنٹ لگانے لگی۔۔۔
نہیں بجو۔۔۔ غلطی میری ہی ہے۔۔۔ مجھے یوں آپکی چیزیں استعمال نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔۔ وہ شرمندگی سے گویا ہوئی۔۔۔ جبکہ عفیفہ ماں کے رویے کے بعد اس سے دو بول تسلی کے بھی بول نا پائی۔۔۔۔
خراشوں پر آئنٹمنٹ لگانے کے بعد وہ اسکا دھکن بند کر کے اٹھنے لگی تو عائزل نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔۔
عفیفہ اٹھتی اٹھتی واپس بیٹھ کر سوالیہ انداز میں اسے دیکھنے لگی۔۔۔
کاش بجو۔۔۔۔ کاش مامی مر جائے۔۔۔ اسکے سفاکیت سے کہنے پر عفیفہ کا دل دہل گیا۔۔۔
نہیں گڑیا۔۔۔ اسنے سانس تک روکتے سختی سے اسکے منہ پر ہاتھ رکھتے اسے مزید کچھ کہنے سے روکا۔۔۔ ایسے نہیں کہتے گڑیا۔۔۔ توبہ کرو اللہ سے۔۔۔
تو پھر اللہ کرے میں مر جاوں۔۔۔ بھرائی آواز میں کہتے اسکے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔
عفیفہ کے دل پر ہاتھ پڑا تھا۔۔۔
اسنے شدت سے اپنی گڑیا کو اپنے سینے میں بھینچا۔۔۔
وہ کم عمر تھی کم عقل تھی نادان تھی۔۔۔ مامی کے سخت رویے پر دلبرداشتہ تھی۔۔۔ مگر وہ سمجھدار تھی سب سمجھتی تھی۔۔۔ لوگوں کی موازنہ کرتی نظریں۔۔۔ تبصرے اور دل چھلنی کرتی باتیں۔۔۔ اور انکے تبصروں پر ماں کا چڑچڑا پن اور پھر اس ساری کھولن کا ایک معصوم جان پر نکلنا۔۔۔ ۔
لیکن سب کچھ دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھی۔۔۔
گڑیا کو سختی سے خود میں بھینچے ابھی تک اسکی باتوں پر اسکا دل کپکپا رہا تھا۔۔۔۔
آگر ایک طرف گڑیا تھی تو دوسری طرف بھی ماں تھی۔۔۔ دونوں ہی اسکے لئے لازم و ملزم تھے۔۔۔ اور شاید ہی وہ یہ بات کبھی دونوں کو سمجھا پاتی۔۔۔
ویسے تو ابھی شکر ہے آپکی شادی ایک سال بعد ہے۔۔۔ لیکن سال بھی چٹکیوں میں گزر جاتا ہے۔۔۔ پتہ نہیں آپکے جانے کے بعد میں اتنی جلادی مامی کے ساتھ کیسے رہوں گی۔۔۔ وہ پھر سے ہچکی لیتی گویا ہوئی تو ایک اداس مسکراہٹ عفیفہ کے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔
میرے جانے کے بعد ماں کا رویہ تمہارے ساتھ بہت اچھا ہو جائے گا گڑیا کیونکہ موازنے کی جڑ ہی ختم ہو جائے گی۔۔۔ نا کوئی موازنہ ہو گا اور نا ہی ماں چڑچڑی ہوگئ۔۔۔ وہ اسکے بال سہلاتی محبت سے گویا ہوئی۔۔۔
پتہ نہیں گڑیا نے اسکی بات سنی تھی یا نہیں۔۔ لیکن اسکی بھاری ہوتی سانسیں گواہ تھی کے وہ روتے روتے مہربان نیند کی آغوش میں چلی گئ تھی۔۔۔ یقیناً جب وہ اٹھتی تو ہمیشہ کی طرح اس واقعہ کو بھول چکی ہوتی۔۔۔ اسنے عائزل کو سیدھا کر کے اسکا سر تکیے پر رکھا اور اس پر لحاف دے دیا۔۔۔
لیکن شاید وہ نہیں جانتی تھی کے کچھ واقعات ہمشہ کے لئے دل پر نقش چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔ کبھی نا مٹنے کے لئے۔۔۔
********

No comments