Scheme novel 4th Episode by Umme Hania
Scheme novel 4th Episode by Umme Hania
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں
______
چوتھی قسط۔
دو آنسو ٹوٹ کر یمنہ کی آنکھوں سے گرے۔۔۔ وہ اپنے کندھے پر رکھے شیرین کے ہاتھوں کو جھٹکتی آگے بڑھی۔۔۔ آپی آپ۔۔۔
شیرین پلیز مجھے کچھ وقت کے لئے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔۔ کمرے میں آتش دان جلنے کے باوجود اسے اپنا جسم کپکپاتا محسوس ہوا۔۔۔ وہ بمشکل خود کو گھسیٹ کر بیڈ تک پہنچتی سر تک لحاف اوڑھ کر لیٹ گئ۔۔۔ دل کی کلی مکمل طور پر کھلنے سے پہلے ہی نوچی جا رہی تھی۔۔ بلبلانا تو بنتا تھا۔۔۔۔
میں لالا کو ایسے ہی نہیں جانے دوں گی۔۔۔ ابھی جا کر ان سے جواب طلبی کرتی ہوں وہ ایسے کیسے۔۔۔۔
یمنہ کی حالت دیکھتی شیرین جذباتی پن سے بولتی دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔
جبکہ اسکی باتوں کا مفہوم سمجھ کر یمنہ بجلی کی سی تیزی سے لحاف پھینکتی اٹھی اور ایک ہی جست میں اس تک پہنچی۔۔۔
تم پاگل ہو گئ ہو شیریں۔۔۔
خبردار جو تم نے دائم خان سے یا کسی سے بھی اس حوالے سے بات کر کے میری ذات کا تماشہ بنایا تو۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سمیٹ اسکی بازو تھامتی درشتی سے گویا ہوئی۔۔۔
آپی ان سے بات تو کرنے دیں نا۔۔ اسکی یہ ٹوٹی بکھری حالت شیرین سے دیکھنا محال تھی۔۔۔ وہ اسکی دائم خان سے محبت کی شدت سے آگاہ تھی۔۔۔ اسے دیکھتی وہ خود بھی رو دی۔۔۔۔
یمنہ نے کرب سے سر نفی میں ہلایا۔۔۔ جب وہ خود ہی کسی اور سے محبت کا اعتراف کر چکا تھا تو وہ کیوں خود کو بے مول کرتی۔۔۔ اپنی محبت کی اتنی توہین اسے گوارا نا تھی۔۔۔
شیرین نے اسے خود سے لگایا تو وہ اسکے گلے لگتی نا نا کرنے کے باوجود بھی رو دی۔۔۔
ہم لڑکیوں کو محبت راس نہیں آتی شیرین۔۔۔ نا جانے کیوں ہم محبت کر بیٹھتیں ہیں۔۔۔ وہ کرب سے گویا ہوئی۔۔۔
******
ناجانے اسے گراونڈ کے پاس موجود بینچ پر بیٹھے کتنا وقت گزر چکا تھا اسے کچھ پتا نا تھا۔۔۔ کب اسکی کلاس شروع ہو کر کب ختم ہوئی وہ کچھ بھی تو نا جانتی تھی۔۔۔ دماغ تو مفلوج ہو چکا تھا۔۔۔ اکاونٹ سے پیسے کہاں گئے۔۔۔ اور اب وہ فیس کیسے بھرتی۔۔۔ پہلے ہی اس رقم میں سے آدھی ادھار تھی اب اوپر سے یہ سکیم۔۔۔۔
دماغ پھٹ رہا تھا ۔۔۔ شدت ضبط سے آنکھیں سرخ ہو گئ تھیں۔۔۔
ہائے بیوٹیفل لیڈی کیا ہوا۔۔۔
تبھی ریاں اسکے پاس آ کر بینچ پر کچھ فاصلے سے بیٹھا۔۔۔۔ ایمن نے خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔ آج تو غائب دماغی میں اسے ریان کو گھورنا یا وہاں سے اٹھنا بھی یاد نا رہا تھا۔۔۔
ہمیشہ سے ایسے ہی تو ہوتا آیا تھا۔۔۔ اسکی ریزرو نیچر کے باعث کوئی لڑکا اسکے ساتھ فرینک ہونے کی کوشیش نا کرتا۔۔۔ جبکہ یہ ریان وہ واحد تھا جو ایمن کے بری طرح جھڑکنے کے باوجود بھی مستقل مزاج ثابت ہوا تھا۔۔۔
ایمن کو دیکھتے ہی اسکی آنکھوں میں دیپ سے جل اٹھتے تھے۔۔۔ مگر اتنا ہی وہ لڑکی اسے نظر انداز کرتی تھی۔۔۔ اسے جھڑکنے کے باوجود بھی جب وہ مستقل مزاج رہا تو ایمن نے اسے نظر انداز کرنا ہی بہتر سمجھا۔۔۔
یار اب اتنا برا بھی نہیں ہوں ایمن۔۔۔ اگر کوئی پرابلم ہے تو شیئر کر کے دیکھ لو شاید میں کسی کام آ ہی جاوں۔۔۔ وہ اسکی ویران آنکھیں اور سپید پڑتی رنگت کو دیکھتا بیچارگی سے گویا ہوا۔۔۔
مم۔۔۔ میرے ۔۔۔ ساتھ۔۔۔ سکیم۔۔۔ فیس۔۔۔ پچاس ہزار۔۔۔ وہ تھوک نگلتی خود کو کمپوز کرتی بامشکل چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ ہی ادا کر پائی۔۔۔ حواس اسقدر مختل ہو رہے تھے کے اسے حواس بحال کرنا اس وقت دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگا۔۔۔
ریان کو اسکی باتوں کا کچھ کچھ مفہوم سمجھ آنے لگا تھا۔۔۔ اسکے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔۔۔۔
کیسے سکیم ہوا۔۔۔ پیسے چوری ہوئے یونیورسٹی میں یا۔۔۔۔
اکاونٹ ہیک ہو گیا۔۔۔ وہ اپنے ہاتھوں کی جانب دیکھتی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔ آج آخری تاریخ ہے ۔۔۔۔ فیس۔۔۔۔ سبمٹ ۔۔۔۔ کروانے کی۔۔۔
چلو اٹھو پہلے فیس تو جمع کرواتے ہیں باقی سب کچھ بعد میں کریں گے۔۔۔ اسنے ایک جھٹکے سے اٹھتے ایمن کا ہاتھ تھام کر اسے بھی اٹھانا چاہا۔۔۔
ایمن نے حیرت سے اسکے ہاتھ میں تھاما اپنا ہاتھ دیکھا۔۔۔ پھر اسے
ایم سوری۔۔۔ اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھتے ریان نے شرمندگی سے اسکا ہاتھ چھوڑا۔۔۔
میرے پاس فلحال مزید پیسے نہیں ہیں۔۔۔ آہستہ آہستہ وہ خود کو اب کمپوز کر رہی تھی۔۔۔۔
جانتا ہوں۔۔۔ فلحال فیس میں جمع۔۔۔
وہ ابھی بات کر ہی رہا تھا جب وہ تیزی سے اسکی بات کاٹ گی۔۔۔
تم کس خوشی میں میری فیس جمع کرواو گئے۔۔۔ میری مجبوری کا فائدہ اٹھا کر تم میرے ساتھ فری ہونے کی کوشیش مت کرو۔۔۔ غصے سے ایمن کے گال ٹمٹما اٹھے تھے۔۔۔ جھنجھلاہٹ اس وقت حد سے سوا تھی۔۔۔ ایک تو اکاونٹ ہیک ہو گیا تھا دوسرا کسی اجنبی سے مدد لینی پڑ رہی تھی۔۔۔
ریان کئ پل سنجیدگی سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔
اوکے فائن۔۔۔ جذباتیت کو سائیڈ پر رکھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔ آج فیس کی آخری تاریخ ہے۔۔ تم مجھ سے ادھار لے لو۔۔۔ جب تمہارے پاس ہو تو لوٹا دینا۔۔۔وہ گہرا سانس بھر کر ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ارستا گویا ہوا۔۔۔ اور ٹرسٹ می۔۔ اس کے بدلے میں میں تم سے فری ہونے کی یا فلرٹ کرنے کی کوشیش بالکل نہیں کروں گا۔۔۔۔ اسنے سادگی سے کندھے اچکائے۔۔۔
اتنا مت سوچو یار۔۔۔ وہ اسے ہنوز کشمکش میں گرا دیکھ بیچارگی سےبولا تو ناچار وہ اٹھ پڑی۔۔۔
*****
کیااااا۔۔۔ لیکن یہ ہوا کب۔۔۔ کلاس کے بعد نتاشہ اور شیراز اسے ڈھونڈتے ہوئے اس تک پہنچے تو وہ ریان کیساتھ فیس جمع کروا کر واپس آ رہی تھی۔۔۔ اسکی زبانی سارا معاملہ سن کر نتاشہ صدمے کے زیر اثر چلا اٹھی۔۔۔
لیکن ایمن جب تم نے کسی کو کوئی کوڈ دیا ہی نہیں تو تمہارا اکاونٹ ہیک کیسے ہو گیا۔۔۔ بنا انفارمیشن لئے تو اکاونٹ ہیک نہیں ہو سکتا۔۔۔ شیراز پریشانی سے سوچتا گویا ہوا۔۔
پتہ نہیں مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی ۔۔۔ پتہ نہیں کیا مصیبت ہے۔۔۔ وہ چاروں چلتے ہوئے کینٹین میں آگے تھے۔۔۔
شیراز اسکا کوئی حل نہیں ہے کیا۔۔ مطلب ہم کسی طرح سے رقم ریکور نہیں کر سکتے کیا۔۔۔ آخر رقم اتنی چھوٹی بھی نہیں۔۔۔ نتاشہ ایمن کیساتھ ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھتی آس سے شیراز کو دیکھ کر گویا ہوئی۔۔ جو ایمن کے موبائل پر آئے میسجز کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
اسکا حل تو یہ ہی ہے کے سائبر کرائم والوں کو اسکی رپورٹ کروائی جائے۔۔۔ تاکے مستقبل میں اگر کوئی ہیکر پکڑا جائے تو پیسے ریکور ہونے کی کوئی سبیل نکل آئے۔۔۔ اسنے موبائل کی سکرین سے سر اٹھاتے موبائل واپس ایمن کی جانب بڑھایا جو گم صم سی انکی باتیں سنتی میز کی سطح کو گھور رہی تھی۔۔۔
آج تک ویسے ایسا کبھی ہوا نہیں شیراز کے سکیم ہوئی رقم واپس مل جائے۔۔۔ ان سکیمرز کے دماغ اتنے کوئی اعلی پائے کے ہوتے ہیں اور انکا ہوم ورک اتنا مکمل ہوتا ہے کے یہ پکڑے نہیں جاتے ۔۔ ریان جو تب سے انکے پاس کھڑا موبائل پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا اسنے موبائل بند کر کے جیکٹ کی جیب میں رکھا اور انکی طرف متوجہ ہوتا گویا ہوا۔۔۔
میرے خیال سے تو یہ رپورٹس وغیرہ کروانا یا انکے ہیڈ کوارٹر چکر لگانا محض وقت کا ضیائع ہے اس سے کچھ حاصل وصول نہیں۔۔۔ خیر یہ میرا اپنا پوائنٹ آف ویو ہے۔۔۔ اگر ایمن کا دل مانے تو وہ رپورٹ ضرور کروائے۔۔۔ میں اب چلتا ہوں۔۔۔ اسنے بات مکمل کر کے لاپرواہی سے شانے اچکائے اور وہاں سے باہر نکل گیا۔۔۔
نتاشہ نے غصے سے اسکی پشت کو گھورا۔۔۔
ہننہہ آیا بڑا۔۔۔ سکیمر کے دماغ بہت اعلی پائے کے ہیں۔۔۔ اسنے ریان کی نکل اتاری۔۔۔ ہے تو انسان ہی نا۔۔۔ کہیں نا کہیں تو غلطی کر کے پکڑے جائیں گے ہی نا۔۔۔ اور میری تو بددعا ہے کے غریبوں کا خون چوسنے والے اتنا برا پھنسے کے نانی دادی سب یاد آجائے۔۔۔نتاشہ نے غصے اور تاسف سے سر جھٹکا۔۔۔۔ان جیسوں کو تو بددعائیں بھی نہیں لگتیں تاشو۔۔۔ ناجانے وہ لوگ ایک دن میں کتنوں کی بددعائیں سمیٹتے ہونگے۔۔۔ مگر وہ پھر بھی اپنے کام میں مستقل مزاجی سے لگے ہیں۔۔۔ ایمن نے غائب دماغی سے میز کی سطح پر لکیریں کھینچیں۔۔۔
اور میرے خیال سے ریان ٹھیک کہہ کر گیا ہے کوئی فائدہ نہیں ہوگا کہیں پر بھی کوئی رپورٹ کروانے کا۔۔۔ محض وقت کا ضیائع ہے اور اتنی مصروفیت میں میرے پاس بس وہی نہیں ہے۔۔۔ وہ بھرائی آواز میں کھوئی کھوئی سی کہتی اٹھ کر چلی گئ۔۔۔ جبکہ نتاشہ نے تاسف سے اسے جاتے دیکھا۔۔۔
خدا غارت کرے ایسے لوگوں کو ایمن۔۔۔ اسنے ہاتھ کی انگلی سے نم آنکھ کا کونہ صاف کیا۔۔
******
لاوئنج سے قہقوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔ ماموں سامنے سنگل صوفے پر براجمان تھے خوشی انکے چہرے سے چھلک رہی تھی۔۔۔ جبکہ مامی عفیفہ کے ساتھ صوفے پر بیٹھی تھیں۔۔۔ انکے سامنے مٹھائی کا دبا کھلا پڑا تھا۔۔۔
جبکہ عفیفہ کی تو آج چھب ہی نرالی تھی۔۔۔
وہ پستہ کلر کے خوبصورت سے سوٹ میں ہلکے پھلے میک آپ اور جیولری میں بہت خوبصورت دکھائی دے رہی تھی۔۔ دفعتا عائزل آندھی طوفان کی مانند اپنے کمرے کا دروازہ کھولتی باہر بھاگی چلی آئی۔۔۔
آپکو بہت بہت مبارک ہو بجو۔۔۔۔ بہت بہت مبارک۔۔۔ میں کہتی تھی نا آپ کے لئے واقعی ایک شہزادہ آئے گا۔۔۔ کہ لوگ دیکھتے رہ جائیں۔۔۔
عائزل وہیں صوفے پر عفیفہ کے ساتھ دھپ سے بیٹھتی اسکے گلے میں اپنی بازوں حائل کرتی چہکی۔۔۔
کیا مامی یار ایسے کیا دیکھ رہی ہیں ۔۔ چلے گئے ہیں وہ لوگ ۔۔۔ انکی گاڑی کے جانے کے بعد ہی باہر نکلی ہوں۔۔۔ وہ مامی کو دیکھ کر منہ بسور کر کہتی صوفے سے نیچے کارپٹ پر بیٹھی اور سامنے میز پر کھلے میٹھائی کے ڈبے پر جھکی۔۔۔
اور ہاں۔۔۔ یاد آنے پر مامی کی جانب پلٹی۔۔۔ اب آپ یہ مت کہنا کے نظر نا لگا دینا میری بیٹی کو۔۔ تو آپ کی اطلاع کے لئے عرض کر دوں کہ بجو کو میں نے ہی تیار کیا ہے۔۔۔ اور اسکے بعد آیت الکرسی اور ساری دعائیں پڑھ کر آپی پر پھونک بھی ماری تھی تاکے کسی کی نظر نا لگے۔۔۔ اسکے باوجود کہتے ہیں کے ماں کی نظر لگ ہی جاتی ہے۔۔۔ اب اگر بجو کو نظر لگی نا تو آپکی ہی لگے گی۔۔ تو اس بات کو میرے سر مت ڈالنا۔۔
وہ روٹھی روٹھی سی مامی کی جانب چہرا کرتی اپنا دل ہلکا کر رہی تھی۔۔۔
صبح سے وہ کمرے سے باہر تک نہیں آئی تھی۔۔۔ بس مہمانوں کے آنے سے پہلے اسنے زبردستی عفیفہ کو اپنے سامنے بیٹھا کر اسکے نا نا کرنے کے باوجود ہلکا پھلکا سا میک آپ کیا تھا۔۔۔ اور پھر کئ سورتیں پڑھ کر اس پر پھونکی تھیں۔۔۔۔۔
اب مجھے یوں مت دیکھنا مامی جان۔۔ میری بہن کا رشتہ طے ہوا ہے تو میں میٹھائی کھا رہی ہوں۔۔۔ بجو آپ نے کھا لی نا۔۔۔ نہیں تو مامی نے پھر بولنا ہے کہ کرم جلی میری بیٹی کا حق کھا گئ۔۔۔
اسنے سر جھٹکتے میٹھائی کا پیس منہ کی طرف لیجاتے یاد آنے پر عفیفہ کی جانب دیکھتے پوچھا جو اسے بھراس نکالتا دیکھ نم آنکھوں سے مسکرا دی تھی۔۔۔
اسکی باتیں سن کر ماموں سر جھکا گئے ۔۔۔۔ بیوی کے رویے سے وہ بھی آگاہ تھے۔۔۔
جبکہ اسکے شکوے سن کر مامی نے بھی نم آنکھوں سے اسے دیکھا جو سفید فراک میں ہم رنگ آنچل شانوں پر پھیلائے بالوں کی اونچی پونی بنائے خود بھی ایک نوخیز کلی ہی معلوم ہو رہی تھی۔۔۔
اللہ تمہاری بھی قسمت بہت اچھی کرے بیٹا۔۔۔۔۔ مامی نے فرط جذبات سے اسکا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اسکے ماتھے پر لب رکھے اور فوراً سے وہاں سے اٹھ کر چلی گئ۔۔۔۔
جبکہ عائزل صدمے کے زیر اثر پوری آنکھیں کھولے انہیں جاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔
بجو۔۔ یہ انہونی کیسے ہو گئ۔۔۔ کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی۔۔۔ بجو کہیں مجھے اس کرم نوازی پر ہارٹ اٹیک ہی نا آجائے۔۔۔ وہ سینے پر ہاتھ رکھے خوشگوار حیرت سے بول رہی تھی۔۔۔ جبکہ عفیفہ کے ساتھ ساتھ ماموں بھی مسکرا دیئے۔۔۔۔
دل کی بری نہیں ہے تمہاری مامی بیٹا۔۔۔ بس حالات کے ہاتھوں چڑچڑی سی ہو جاتی ہے۔۔۔ ماموں اسکے سر پر پیار دے کر کہتے اندر چلے گئے جبکہ وہ ہنوز بے یقین سی تھی۔۔۔
*****
سورج کی روشنی اس کھلے سے کچے صحن میں دور تک پھیلی ہوئی تھی۔۔۔ دو دنوں کے جارے کے بعد آج دھوپ بھی کسی نعمت مترکبہ سے کم نا لگ رہی تھی۔۔۔ برآمدے میں بوا اپنی مخصوص چارپائی پر ایک ٹانگ مورے ایک ٹانگ چارپائی سے نیچے لٹکائے بیٹھی لڑکیوں کو کام کرتا دیکھ رہی تھی۔۔۔
عائزل کا آج یہاں تیسرا دن تھا۔۔۔ پہلی رات ہی یہاں کی سردی برداشت نا کر پاتے اگلی صبح وہ بخار میں پھنک رہی تھی۔۔۔ لیکن اسکے باوجود وہاں کاموں سے جان خلاصی نا تھی۔۔۔
بوا کام کے معاملے میں خاصی سخت واقع ہوئی تھی ۔۔۔ اسے ہر حال میں اپنا کام مکمل چاہیے تھا۔۔۔۔
انکے پاس کئ ایک جانور تھے جسکا دودھ وہ پوری بستی میں بیچتی تھیں۔۔۔ اور اس کام کے لئے انہوں نے بستی کی ہی لڑکیاں تنخوا پر رکھی ہوئی تھیں۔۔۔ لیکن انکے ہاں کام اتنا ہوتا کے کوئی بھی لڑکی زیادہ دیر تک رکتی نا تھی۔۔۔
اسی لئے انہیں آئے دن لڑکیوں کی ضرورت رہتی۔۔۔ اور کئ بار تو لڑکیوں کی کمی کی وجہ سے وہاں موجود لڑکیوں کا کام کئ گنا بڑھ جاتا۔۔ سبھی لڑکیاں صبح وہاں آ جاتیں اور مغرب کے بعد وہاں سے چلے جاتیں۔۔۔ وہاں محض عائزل ہی تھی جو اتنی بڑی حویلی میں بوا کے ساتھ رات میں رکتی۔۔۔
پہلے دو دن تو بوا نے اس پر ہاتھ کافی ہلکا رکھا ۔۔۔ کچھ اسکے شہر سے آنے اور ناتجربہ کار ہونے اور کچھ اسکی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے۔۔۔ مگر آج صبح ہی ایک اور لڑکی کے چلے جانے کی اطلاع ملتے ہی بوا نے اسے باقاعدہ کام سمبھالنے کا حکم دیا تھا اس لئے اب وہ آستینیں کہنیوں تک چڑھائے ایک ہاتھ میں پانی کی بالٹی تھامے اور دوسرے میں جھارو اس کچے صحن کے ایک کونے میں کھڑی تھی ۔۔۔۔
بوا کی ایکسرے کرتی نگاہیں اسی پر گھری تھیں۔۔۔
صرف میری اچھی صورت دیکھ کر آپ نے کیسے فیصلہ کر لیا تھا مامی کے میرے قسمت بہت اچھی ہوگی۔۔۔
قسمتیں اچھی صورت کی ہی محتاج ہوتیں تو آج میں یہیں ہوتی۔۔۔۔ بے نام و نشان۔۔۔۔۔ اسکے دل سے ایک ہوک نکلی۔۔۔
وہ سرعت سے ہاتھ کی مدد سے صحن میں پانی کا چھڑکاو کرنے لگی۔۔۔ کچھ حصے پر پانی کا چھڑکاو کرنے کے بعد اسنے جھارو سمبھالی۔۔۔ ابھی آدھے سے بھی کم صحن صاف ہوا تھا کے اسکی ہمت جواب دینے لگی۔۔
اتنا بڑا صحن جھاڑو دیتے وقت گویا چار گنا زیادہ بڑا ہو گیا تھا۔۔۔ اسکی آنکھوں میں دھند چھانے لگی۔۔۔۔۔
زندگی میں پہلی مرتبہ وہ ایسے تجربے سے گزر رہی تھی۔۔۔ ورنہ وہ تو مامی کی سخت طبیعت کے باعث وہاں بھی من مانی کر جاتی تھی۔۔۔ مگر یہاں تو حساب ہی اور تھا۔۔
جلدی ہاتھ چلا لڑکی۔۔۔ شام تک صرف صحن ہی صاف نہیں کرنا ۔۔۔ اسے اپنے پیچھے سے ایک کرخت آواز سنائی دی۔۔۔گویا اسکی ہر حرکت بوا کی نگاہوں میں ہو۔۔۔
مصیبت۔۔۔ وہ منہ ہی منہ بڑبڑائی۔۔۔ دل چاہا سب یہیں پھینک کر تھونک بجا کر کہے کے مجھ سے نہیں ہوتا یہ سب۔۔۔ وہ پڑھائی کی دلدادہ لڑکی ویسے ہی بہت کام چور تھی۔۔۔
لیکن کیا وہ ایسا کچھ کہہ سکتی تھی۔۔۔ اس شخص نے تو اسکے ہاتھ پاوں ہی اس انداز میں باندھے تھے کے وہ خود کو چھڑوانے کی خاطر ہاتھ پاوں بھی نہیں مار سکتی تھی۔۔۔
کہا بھی تھا اسنے کے وہ چار لاکھ لوٹا دے گی اس ظالم کو۔۔۔ مگر اسکی تو اونچی ناک نیچے ہو جانی تھی جو مان جاتا۔۔۔ لیکن اچھا ہی ہوا کے نہیں مانا۔۔۔۔
مان بھی جاتا تو وہ کہاں سے دیتی اسے چار لاکھ۔۔۔ چار لاکھ تو کیا اسکے پاس تو ایک پھوٹی کوڑی بھی نا تھی۔۔۔
تمہیں میرا اللہ پوچھے گا دائم خان۔۔۔ دیکھنا تم۔۔۔ اسنے بے دلی سے سر جھٹکتے آنکھوں کو مسلا۔۔۔۔ اور مزید تیزی سے جھارو دینے لگی۔۔۔
*******

No comments