Header Ads

Scheme novel 3rd Episode by Umme Hania Represented by Unique Novels


 

Scheme novel 3rd Episode  by Umme Hania 

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔
________

تیسری قسط۔۔۔۔
ہر چیز دھند کی شدید لپیٹ میں تھی۔۔۔  باہر ہر جانب ہو کا عالم تھا۔۔۔ حد بصارت دھندلائی پڑی تھی۔۔۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نا دیتا تھا۔۔۔ ایسے میں ٹھٹھرتی ہوئی اپنی تیاری مکمل کر رہی تھی۔۔۔ یخ ٹھنڈے پانی سے منہ دھو کر اسکے دانت بجنے لگے تھے۔۔۔ بھاگم بھاگ کمرے میں آکر اسنے جرابیں پہنی اور پاوں جوتوں میں اڑستے کپکپاتے ہوئے بال بنانے لگی۔۔۔
ایما۔۔۔ ناشتہ کر لو۔۔۔ اور حماد کو بھی بلا لاو۔۔۔ کچن سے ماں کی آواز سنائی دی تو وہ بھاگم بھاگ شال خود پر لپیٹتی حماد کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
کیا ہوا حماد آج کالج نہیں جانا کیا۔۔۔ اسے ہنوز لحاف میں دبکے دیکھ وہ پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔
جانا تو ہے ایما پر۔۔۔  وہ بولتا بولتا رکا۔۔۔
اسکی لال انگارہ نگاہیں دیکھتے ہی ایمن کو سارا معاملہ سمجھ آگیا۔۔۔
تصدیق کے طور پر اسنے آگے بڑھ کر حماد کے ماتھے پر ہاتھ رکھا مگر اگلے ہی پل پیچھے ہٹا لیا ۔۔۔
اللہ۔۔۔ حماد تمہیں تو بہت تیز بخار ہے۔۔۔ یہ سب نائٹ شفت کی مرہون منت ہے۔۔۔ رات بارہ بارہ بجے تک جب بائیک پر ہوم ڈیلیوری کرنے جاو گئے تو ٹھنڈ تو لگے گی ہی نا۔۔۔۔ وہ دکھ سے گویا ہوئی۔۔۔
اب کیا کیا جا سکتاہے ایما۔۔۔ خوشی سے کون کرتا ہے ایسے۔۔۔ مجبوری کرواتی ہے سب۔۔۔ وہ  کسی غیر مری نقطے کو دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
حماد تم یہ جاب چھوڑ دو۔۔۔
چھوڑ کر بھی کہاں گزارا ہے۔۔۔ اسنے نظروں کا زاویہ موڑتے اسکی جانب مبذول کیا۔۔۔
لیکن ایسے کام نہیں چلے گا حماد۔۔۔ تمہاری صحت سے بڑھ کر نہیں یہ نوکری۔۔۔۔۔
ابھی نیا نیا ہوں اس لئے شاید۔۔۔ آہستہ آہستہ ایڈجسٹ کر لوں گا۔۔۔ ویسے ایک دو مزید پارٹ ٹائم جابز کے لئے اپلائے کیا ہے میں نے شاید کچھ بن جائے۔۔۔ اگر یہ جاب ویٹر کی جاب سے ہی ریپلیس ہو جائے تو بھی بہت بہتر ہے۔۔۔ لیکن جب تک کچھ نہیں بن جاتا تب تک تو اسی پر گزارا کرنا پڑے گا۔۔۔ کیونکہ ہمارے پاس آپشن نہیں ہے۔۔۔۔
ایمن کے دل پر بوجھ کچھ مزید بڑھا۔۔۔ ابا کی اچانک دیٹھ سے سارا نظام ہی الٹ پلٹ ہو گیا تھا۔۔۔ ناجانے کب سب کچھ سٹیبل ہوتا اور زندگی کچھ ٹریک پر آتی۔۔۔
ویسے کل سیلری مل گئ مجھے ایما۔۔۔ اور ساتھ میں کچھ ٹپس بھی کچھ ایک دو دوستوں سے پکڑے ہیں۔۔۔۔ مل ملا کر پچاس ہزار ہوگئے ہیں۔۔۔ تم آج اپنے سمیسٹر کی فیس جمع کروا دینا۔۔۔  پھر تمہاری سیلری پر باقی سب دیکھ لیں گے۔۔۔
اوہ تھینک گاڈ۔۔۔  
ایمن کا چہرا اسکی بات پر کھل اٹھا تھا۔۔۔ وہ بے ساختہ سجدہ شکر بجا لائی۔۔۔ بڑی ٹینشن تھی مجھے اس فیس کی آج آخری تارخ تھی فیس جمع کروانے کی۔۔۔ وہ حقیقتاً مشکور تھی۔۔۔
تمہیں جیز کیش بھیج دیتا ہوں ایما۔۔۔ خود ہی نکلوا لینا۔۔ اسنے سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھایا۔۔۔
ہاں چلو ٹھیک ہے سہولت سے کر دینا پہلے تم ناشتہ کر کے دوائی کھا لو۔۔۔ میں تمہارے لئے ناشتہ لاتی ہوں۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتی کمرے سے نکلی۔۔۔۔
ہاں سچ یاد آیا۔۔۔ جاتے جاتے یاد آنے پر وہ ماتھے پر ہاتھ مارتی رک کر پلٹی۔۔۔
حماد نے موبائل کی سکرین سے نگاہیں اٹھاتے اسے دیکھا۔۔۔
آج امی کے ڈائیلسز ہیں۔۔۔
میں کروا لاوں گا ۔۔۔ گھر ہی ہوں۔۔۔ ایک دو گھنٹے تک بہتر محسوس کروں گا۔۔۔  
ہممم۔۔۔ لیکن۔۔۔ ایمن کے چہرے کی شادابی کچھ مانند پڑی تھی۔۔۔ 
ایما یقیناً آج ابا کی پینشن مل جائے گی۔۔۔ پہلے پتہ کر لوں گا۔۔  ہو جائینگے ڈائیلسز بھی فکر نا کرو۔۔۔ وہ جیسے اسکی ادھوری بات کا مفہوم سمجھ گیا تھا۔۔۔ 
ایک بھولی بھٹکی مسکراہٹ ایمن کے چہرے پر ابھری۔۔۔
یہ بھائی بھی خدا کی کتنی بڑی نعمت ہوتے ہیں۔۔۔ وہ دل ہی دل اسکی لمبی زندگی کی دعائیں کرتی باہر نکل آئی۔۔ جو عمر میں تو اس سے تین سال چھوٹا تھا مگر وہ گھر کا ذمہ دار بیٹا تھا۔۔۔
*****
اس
کلاس شروع ہونے میں ابھی کچھ دیر تھی۔۔۔ وہ کلاس میں اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی نتاشہ کی منتظر تھی۔۔۔ ابھی باہر وہ سب اکھٹے ہی تھے۔۔۔ نتاشہ شیراز کیساتھ کینٹین جا رہی تھی اس لئے وہ واپس کلاس میں آگئ۔۔۔ نتاشہ کے بارہا کہنے پر وہ سہولت سے انکار کر گئ کے اسے کباب میں ہڈی بننے کا شوق نہیں۔۔۔ 
کلاس میں آہستہ آہستہ سٹودینٹس آنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔۔  دفعتاً اسکے موبائل کی بپ بجی تو اسنے موبائل پر آیا میسج چیک کیا۔۔۔   ہلکی سی مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں پر چھب دکھلائی۔۔۔۔  
حماد نے اسے پیسے سینڈ کر دیئے تھے۔۔۔  اس کلاس کے بعد وہ فیس جمع کروانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔
ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کے اسکے موبائل پر پھر سے بپ بجی۔۔۔ اپنی ہی سوچوں میں گم اسنے میسج کھولا۔۔۔
وہاں جیز کیش اکاونٹ کی ریکوری کا کوڈ آیا تھا۔۔۔ ایمن کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔
اسنے تو جیز کیش اکاونٹ ریکور کرنے کی کوشیش نا کی تھی۔۔ پھر۔۔۔
یکدم ہی اسکے دماغ میں ایک لفظ ابھرا ۔۔۔ سکیم۔۔۔
اسنے بعجلت موبائل کی سکرین لاک کرتے اسے زور سے ہاتھ میں دبوچا۔۔۔
دل کی ڈھرکن معمول سے تیز ہوئی تھی۔۔۔
تو کیا کوئی اسکے ساتھ سکیم کرنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔ 
یقیناً اب اسے ٹریپ کرنے اور یہ کوڈ حاصل کرنے کے لئے کال آنے والی تھی۔۔۔
جب تک وہ یہ کوڈ کسی کو نا بتاتی اسکا اکاونٹ سیکیور تھا۔۔۔ لیکن جیسے ہی کسی کو اسکا کوڈ پتہ چلتا اسکا اکاونٹ ہیک ہو جاتا۔۔۔
پہلی بات تو وہ کسی کے جھانسے میں نہیں آنے والی تھی۔۔۔
مزید وہ کوئی رسک بھی نہیں لینا چاہتی تھی اسی لئے کلاس میں بعد میں آنے کا ارادہ کرتی وہ پہلے فیس جمع کروانے کی غرض سے اٹھی۔۔۔۔
پائی پائی کر کے فیس اکھٹی کی تھی۔۔ وہ کوئی رسک نہیں لینا چاہتی تھی۔۔۔۔
ابھی وہ کلاس سے نکل کر چند قدم ہی چلی تھی کے اسکے موبائل پر ایک مرتبہ پھر سے بپ بجی۔۔۔
ابکی بار وہ بہت چوکنی ہو چکی تھی۔۔۔ اسنے اختیاط سے میسج کھولا۔۔۔
مگر۔۔۔ میسج پر نظر پڑتے ہی بھک سے اسکا دماغ اڑا۔۔۔ ہاتھ کپکپا گئے۔۔۔ موبائل نیچے گرتے گرتے بچا۔۔۔
اسے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا محسوس ہوا۔۔۔۔
اسکے اکاونٹ سے پچاس ہزار نکلوانے کا میسج آیا تھا۔۔۔
بمشکل بکھرتے حواس یکجا کرتے اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنا اکاونٹ کھولا۔۔۔۔
سامنے خالی اکاونٹ پر نظر پڑتے ہی اسے دن میں تارے دکھائی دینے لگے۔۔۔
عقل سمجھ سب مفلوج ہوگئ تھی۔۔۔۔ یہ کیا ہوا تھا اسکے ساتھ۔۔۔
اسنے تو کوڈ کسی کو نا دیا تھا۔۔۔ نا ہی اسکے پاس کوئی کال آئی اس غرض سے۔۔۔
پھر۔۔۔۔
بنا انفارمیشن لئے اسکے ساتھ سکیم کیسے ہوگیا۔۔۔
بنا کوڈ کے اکاونٹ ہیک کیسے ہوا۔۔۔ 
اور پیسے۔۔۔ اسکا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا۔۔۔
فیس۔۔۔ وہ فیس کہاں سے جمع کرواتی۔۔۔۔۔۔ اسکی حسیات منجمند ہونے لگی تھیں۔۔۔
بنا معلومات کے اسکے ساتھ سکیم کیسے ہوا۔۔۔ کسے بتائے اپنے ساتھ ہوئے دھوکے کا۔۔۔ سراغ کیسے لگائے۔۔۔ اس سکیمر تک کیسے پہنچے ۔۔۔۔۔ اس الجھی گھٹی کا سرا کہاں تھا بھلا جسے پکڑ کر وہ رفتہ رفتہ اس گھٹی کو سلجھا سکتی۔۔۔ مگر یہاں تو کوئی سرا ہی نا تھا۔۔۔ یہ تو ایک جھنجھال تھا بھلا وہاں سے بھی کوئی سرا ملنا تھا۔۔۔ شاید وہ ڈھونڈنے کی تگ و دود بھی کر لیتی۔۔۔ مگر ابھی تو دماغ میں ایک ہی چیز ڈوب کر ابھر رہی تھی۔۔۔
فیس کی آخری تاریخ۔۔۔۔۔۔
*******
گاڑی اونچے نیچے پتھریلے راستوں پر فراٹے بھرتے جا رہی تھی۔۔۔ گویا چلانے والا ان راستوں کا عادی ہو۔۔۔ سردیوں کے باعث اب باہر سر شام ہی رات کے اثرات نمودار ہونے لگے تھے۔۔۔ یہ علاقہ ویسے بھی خاصا ٹھنڈا تھا لیکن فلحال گاڑی کے گرم ماحول پر باہر کے موسم کے کوئی اثرات موجود نا تھے۔۔۔
وادی کلام میں پہاڑوں کے بیچ و بیچ سڑک بنائی گئ تھی۔۔۔
ارد گرد آنکھوں کو خیرہ کرتے کئ مناظر تھے جو صبح کے وقت تو سیاحوں کے لئے خاصی کشش رکھتے مگر اس وقت اندھیرے کے باعث خوفناک محسوس ہو رہے تھے۔۔۔
باہر کے موسم اور خوبصورتی سے اسے کوئی غرض تھا بھی نہیں۔۔۔
اسکی آنکھوں کی پتلیوں میں تو بس ایک ہی چہرا ثبت ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔
آس و امید سے اسکی جانب بڑھتے ہاتھ۔۔۔ خوفزدہ آنکھیں کپکپاتے لب۔۔۔ بار بار اسے ساتھ لے جانے کے لئے کی جانے والی فریادیں ۔۔۔ اور اسکے عائزل کا ہاتھ جھٹکنے پر اسکی پتھرائی آنکھیں۔۔۔
دائم نے بامشکل سانس خارج کرتے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔
کیوں تمہارا چہرا مجھے بار بار ڈسٹرب کر رہا ہے۔۔۔ کیوں۔۔۔ اسنے بے بسی سے سٹرینگ پر مکہ مارا۔۔۔
تم اسی کے قابل ہو۔۔۔ تمہارے ساتھ اس سے بھی زیادہ ہونا چاہیے تھا۔۔۔ کیوں دھوکہ دیا تم نے مجھے ۔۔۔ کیوں۔۔۔
وہ بے چین ہوتا خود کو تاویلیں دے رہا تھا۔۔۔
وہ حق پر تھا۔۔۔ اور اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کو کفر کاردار تک پہنچاتا تھا لیکن دل جانے کیوں اس دھوکے باز کو مارجن دے رہا تھا۔۔۔
نہیں تمہاری بھولی اور معصوم صورت کے پیچھے بہت مکروہ چہرا ہے۔۔۔
اسنے سبھی سوچوں کو دماغ سے جھٹکنا چاہا ۔۔۔
دفعتاً موبائل کی رنگ ٹیوں بجنے پر اسنے موبائل نکالا۔۔۔
ماں کالنگ کے جگمگاتے الفاظ دیکھ اسے چہرے پرل ایک مسکراہٹ بکھری۔۔۔
اسلام علیکم ماں۔۔۔ کیسی ہیں آپ۔۔۔
ہو کہاں پر تم دائم خان۔۔۔ تم کیسے اتنے غیر ذمیدار ہوسکتے ہو۔۔۔
ہوش ہے تمہیں کچھ کے تم تین دن سے گھر نہیں آئے۔۔۔ اب اگر تم عشا سے پہلے گھر نہیں پہنچے نا تو ہم سے برا کوئی نہیں ہوگا دائم خان۔۔۔
تم ہم سب کی محبتوں کا اب ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہو۔۔۔ فون سے گھونجتی تیز غصیلی آواز پر اسنے آنکھیں زور سے میچتے موبائل کان سے ہٹایا ۔۔۔
ماں۔۔ ماں۔۔۔ ماں۔۔۔ میری بھی تو سنیں نا پلیز۔۔۔ وہ مفاہمتی انداز میں گویا ہوا۔۔۔
جب گھر پہنچ جاو گئے تو تمہاری بھی سن لیں گے۔۔۔ 
بس پانچ منٹ میں آپکے پاس موجود ہوں گا میں۔۔۔ اسنے لبوں پر زبان پھیرتے معاملہ سمبھالنا چاہا جبکہ دوسری طرف بنا مزید بات کئے فون بند ہو گیا تھا۔۔۔ اسنے مسکرا کر فون سامنے ڈیش بورڈ پر رکھا۔۔۔
اسے دور سے ہی پورے طمطراق سے کھڑی عمارت نظر آنے لگی تھی۔۔۔
گھر کے سامنے گاڑی کے رکتے ہی مستند کھڑے چوکیدر نے لوہے کا آہنی گیٹ وا کیا۔۔۔
سیمٹ اور بجری کی بنی سڑک پر گاڑی روکتے ہی وہ دروازہ کھول کر باہر نکلا۔۔۔
باہر نکلتے ہی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس سے ٹکرایا۔۔۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا روش عبور کر کے دو زینے چڑھا۔۔۔
لکڑی کے منش دروازے کے پاس رک کر اسنے مسکرا کر گہری سانس خارج کی اور دروازہ کھول کر اندر بڑھا۔۔۔
اندر کا ٹمپریچر باہر کے مقابلے میں بہت بہتر تھا۔۔۔
چھوٹی سے راہداری عبور کر کے آگے لاوئنج تھا۔۔
اسلام علیکم۔۔۔۔ حسب سابق وہ سب لاوئنج میں ہی بیٹھے تھے۔۔۔
دیوار گیر انگھیٹی میں آگ جل رہی تھی۔۔۔  جبکہ دادا جان انگھیٹی کے پاس ہی آرام دہ کرسی پر بیٹھے چائے پی رہے تھے ٹانگوں پر لحاف اوڑھ رکھا تھا۔۔۔ جبکہ ماں اور بابا صوفوں پر بیھٹے  تھے۔۔۔
میز پر ڈرائی فروٹس کی پلیٹ پڑی تھی۔۔۔ دیوار گیر ایل ای ڈی پر کڑکٹ میچ چل رہا تھا۔۔۔
میچ دیکھتے چائے پیتے وہ آپس میں محو گفتگو تھے جب اسکی آمد پر وہ سب اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
ماں تو اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ وہ جھک کر ان سے ملا۔۔
بہت شیطان ہو گئے ہو دائم خان بہت تنگ کرنے لگے ہو ہمیں۔۔۔ ماں محبت سے اسکے سر پر پیار دیتیں اسکے ماتھے کا بوسہ لے کر گویا ہوئیں۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے ماں۔۔۔ بس کچھ کام تھا۔۔۔ باپ سے ملنے کے بعد اب وہ دادا کے پاس دوزانو بیٹھا ان سے پیار لے رہا تھا۔۔۔۔
دائم خان تمہاری ماں کو ہم سے بہت شکوے ہونے لگے ہیں کہ ہماری وجہ سے انکا بیٹا بگڑ رہا ہے۔۔۔ اب بولو کیا علاج کیا جائے تمہارا۔۔۔ اب اکلوتے پوتے ہو تو کیا اب ہمیں یوں تنگ کرو گئے۔۔۔۔ دادا جان نے اسکا کان پکڑتے اسے سخت سست سنائی۔۔۔ جبکہ وہ کان چھڑواتا بلبلا کر رہ گیا۔۔۔
بس کریں ابا جان۔۔۔ جیسے میں تو جانتی ہی نہیں نا آپ دونوں کو۔۔۔ اس دکھاوے کی ضرورت نہیں۔۔۔
بس آپ اتنی سی مہربانی کریں کے اسے بھی کسی کے ساتھ منسوب کر کے باندھ دیں تاکہ یہ جو کئ کئ دن گھر سے باہر رہتا ہے اسے بھی گھر آنے کا بہانہ مل سکے۔۔۔
دادا کے مضنوعی ڈانٹنے پر ماں سر جھٹکتی اپنا عندیا انکے سامنے پیش کر گئ۔۔۔
جبکہ انکی بات کا مفہوم سمجھتے دائم کو بری طرح کھانسی کا پھنڈا لگا تھا۔۔۔
ماں کیا ہوگیا ہے آپکو۔۔۔ فیکٹری کے کام سے گیا تھا۔۔۔ بابا آئندہ سے میں کوئی نہیں جارہا کسی کام سے شہر۔۔۔ اور پلیز ماں ابھی یہ خیال ذہن سے نکال دیں۔۔۔  وہ ماں کی بات پر ہڑبڑا کر وہیں دادا کے پاس ذبیز کالین پر بیٹھتا دہائی دیتا گویا ہوا۔۔۔
ماں نے اسے ایک گھوری سے نوازا۔۔۔ کھانا لے کر آتی ہوں یقیناً کھا کر نہیں آئے ہوگے۔۔۔۔ اور کچن میں چلی گئ۔۔۔
داداجان۔۔۔۔ اسنے مدد طلب نگاہوں سے دادا جان کو دیکھا جو اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کندھے اچکا گئے ۔۔۔
*****
یمنہ آپی لالا آگئے۔۔۔ دروازے کی اوٹ  سے دائم خان کو لاوئنج میں دیکھ کر شیرین نے دروازہ بند کیا اور بیڈ پر نیم دراز ناول پڑھتی یمنہ کے پاس جا کر پرجوش سی گویا ہوئی۔۔۔
کیا ۔۔۔ واقعی۔۔۔ وہ ایک جھٹکے میں ناول بند کرتی سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔ چہرے پر الوہی چمک ابھر آئی تھی۔۔۔۔
ویسے ایک اور سرپرائز بھی ہے۔۔۔ وہ بیڈ کراوں کے ساتھ ٹیک لگا کر یمنہ کا بند کیا ناول اٹھا کر ورق الٹ پلٹ کرنے لگی۔۔۔
وہ کیا۔۔۔ جلدی بولو۔۔ یمنہ نے بے چینی سے اس کے ہاتھ سے ناول جھپٹا۔۔۔
باہر لالا کی شادی کی بات چل رہی ہے۔۔۔ میرے خیال سے اب دادا جان آپکی اور لالا کی شادی اناوںس کرنے والے ہیں کیونکہ ماں لالا کے تین دن بعد گھر آنے پر بہت غصے میں ہیں۔۔۔
اسنے مزے سے ساری بات یمنہ کے گوش گزاری جبکہ یمنہ جو باہر جا کر اس سے ملنے کا ارادہ رکھتی تھی شیرین کی اس بات پر ہو نٹ کچلتی وہیں بیٹھی رہ گئ۔۔۔
ویسے کسی کی دل کی مراد بھر آنے والی ہے۔۔۔ اب تو ٹریٹ پکی ہے۔۔۔  وہ یمنہ کا ناک دباتی کھلکھلائی تو یمنہ نے اسے ایک گھوری سے نوازا اور خود دبے پاوں چلتی دروازے تک آکر آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولا۔۔۔ یوں کے اب باہر کا منظر واضح تھا۔۔   وہ ستم گر سامنے ہی صوفے پر بیٹھا کھانا کھا رہا تھا۔۔
اسے اتنے دنوں بعد دیکھ کر آنکھوں کو سکون ملا تھا۔۔۔
ماں بھی اسکے ساتھ ہی بیٹھی تھیں۔۔۔۔
کیا ماں یمنہ۔۔۔ ۔۔ وہ انکی بات سن کر جیسے بدکا تھا۔۔۔ نوالہ منہ کی طرف لیجاتا ہاتھ درمیان میں ہی ٹھٹھکا تھا۔۔۔
یمنہ اور شیرین نے اسکے اسقدر سخت ردعمل پر ناسمجھی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔
ماں وہ بہن ہے میری ۔۔ میں اسکے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔ آپ پلیز یہ فتور دماغ سے نکال دیں۔۔۔
اور یمنہ کے لئے کوئی لڑکا دیکھ کر پہلے  اسکے فرض سے سبکدوش ہو جائیں۔۔۔
میں نے جب شادی کرنی ہوگی تب بتادوں گا آپکو۔۔  وہ نوالہ واپس رکھتا ماں کی جانب دیکھ کر گویا ہوا۔۔۔
پلیز ماں اب ایسے تو نا دیکھیں۔۔۔ میں جلد آپکو اپنی شادی کے لئے بتاوں گا۔۔۔
کیا کوئی لڑکی ہے تمہاری زندگی میں۔۔۔ ماں اسکی بات کاٹتی سختی سے گویا ہوئی۔۔
ماں کی بات سن کر وہ کئ لمحے خاموش رہ گیا۔۔۔ چھم سے ایک بے وفا کا چہرا سامنے آیا تھا۔۔۔
ایسا ہی کچھ سمجھ لیں ماں۔۔۔ وہ پست سے لہجے میں کہتا وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ یہ جانے بنا کے وہ اپنے اس انکشاف سے کسی کی ذات کو جھٹکوں کی زد پر چھوڑ گیا تھا۔۔۔
اسکے جانے کے بعد ماں نے شکایتی نگاہوں سے شوہر اور سسر کو دیکھا۔۔
بیٹا یہ اسکی زندگی کا فیصلہ ہے ہم اس معاملے میں زبردستی کے قائل نہیں۔۔۔
ہمارے خاندان کا وہ اکلوتا وارث ہے آپ یمنہ کے لئے کوئی رشتہ ڈھونڈیں۔۔۔ تاکے میں بھی بیٹے کے سامنے سرخرو ہو سکوں۔۔۔  دادا نے جیسے بات ہی ختم کر دی۔۔۔۔ جبکہ اندر کھڑی یمنہ کو اپنے جسم سے روح نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔۔
آپی آپ ٹھیک ہیں کیا آپی۔۔۔ شیرین نے اسکی نچھڑی رنگت دیکھ حواس باختگی سے اسے تھاما ۔۔۔ اسنے خالی خالی نگاہیں اٹھا کر شیریں کو دیکھا تو وہ کچھ نا کرتے ہوئے بھی نگاہیں چرا گئ۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4