Scheme novel 2nd Episode by Umme Hania
Scheme novel 2nd Episode by Umme Hania
Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels
Online Reading
ناول "سکیم"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔
__________
دوسری قسط۔۔۔۔
گاڑی جھٹکا کھا کر رکی تو جھٹکے سے عائزل ایک دم ہربڑا کر اٹھی۔۔۔ سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے ناجانے وہ کب نیند کی وادیوں میں اتر گئ تھی۔۔۔
اسکے یوں ہڑبڑا کر اٹھنے پر دائم خان نے ایک سرسری نگاہ اس پر ڈالی اور گاڑی کا دروازہ وا کرتا باہر نکلا۔۔
سارے راستے ہی وہ وقفے وقفے سے اسے سوئے ہوئے دیکھتا رہا تھا۔۔۔۔
جو دھوکہ اس لڑکی نے اسے دیا تھا۔۔۔ جس انداز میں وہ اسکے جذبات کیساتھ کھیلی تھی۔۔۔ اسکا دل چاہ رہا تھا کے اس لڑکی کا حشر نشر کر دے۔۔۔
پر ہر بار ماں کی تربیت آڑے آ جاتی۔۔۔
اسکے خاندان میں عورتوں کی عزت کی جاتی تھی۔۔۔ وہ الگ بات کے یہ لڑکی عزت کی حقدار تھی ہی نہیں۔۔۔
اسنے ایک سخت نگاہ عائزل کے معصوم چہرے پر ڈالی اور گاڑی کا دروازہ زور سے بند کیا۔۔۔
عائزل بھی اسکی تقلید میں باہر نکلی۔۔۔
وہ واقعی ایک پسماندہ علاقہ تھا۔۔۔ جہاں باقی گھروں کی نسبت یہ قدرے بہتر حویلی تھی۔۔۔
لوہے کے آہنی گیٹ کو وا کرتا دائم آگے بڑھا تو تاحد نگاہ کھلے کچے صحن کے بعد رہائشی عمارت شروع ہوتی تھی۔۔۔
ایک طرف جانوروں کا بارہ تھا جہاں سے بھینسوں کے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔
عائزل نے حراساں نگاہوں سے ارد گرد دیکھا ۔۔۔ یہ ماحول اسکے لئے نیا تھا۔۔۔
کھلے صحن کے ایک طرف ہینڈ پمپ لگا تھا جبکہ اب انہیں سامنے برآمدے میں بچھی چارپائی پر ایک فربہہ مائل عورت بیٹھی حقہ پیتی ارد گرد آتی جاتی لڑکیوں سے کام کرواتی نظر آ رہی تھی۔۔۔
دائم پر نظر پڑتے ہی وہ عورت خوشی سے مسکراتی ہوئی چارپائی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
میں صدقے جاوں۔۔۔ ارے میرا پتر آیا ہے۔۔۔۔ اس دفعہ یہاں آنے میں تو نے بڑی دیر کر دی دائم۔۔۔
وہ عورت والہانہ دائم سے ملتی دونوں ہاتھوں سے اسکے سر پر پیار دیتی گویا ہوئی۔۔۔
عائزل کو اسکے کرخت چہرے اور بڑی بڑی آنکھوں سے خوف محسوس ہوا۔۔۔
جی بوا۔۔۔ بس کچھ مصروفیت تھی۔۔۔ اس لئے پہلے آ نہیں سکا۔۔۔
چلو کوئی بات نہیں دیر آئے درست آئے۔۔۔۔
وہ انکے پاس ہی دوسری چارپائی پر بیٹھتا اس عورت سے باتیں کرنے لگا۔۔۔
عائزل عجیب بے بسی کے عالم میں ہاتھ مسلتی وہیں کھڑی تھی۔۔۔ نا کسی نے اسے بیٹھنے کا کہا۔۔۔ نا ہی وہ خود بیٹھی۔۔۔۔
اسکے وجود سے وہ دونوں ہی غافل ہو چکے تھے۔۔۔ پتہ نہیں جان بوجھ کر یا انجانے میں۔۔۔
تو بیٹھ پتر میں تیرے لئے کھانے کا انتظام کرواتی ہوں۔۔۔ وہ باتیں کرتی یاد آنے پر گھٹنوں پر وزن ڈالتی اٹھنے لگی جب دائم بعجلت انہیں روک گیا۔۔۔
اس تکلف کی کوئی ضرورت نہیں بوا۔۔۔ ابھی زرا جلدی میں ہوں۔۔۔ جلد دوبارہ چکر لگاوں گا۔۔۔
انشااللہ پھر کھانا کھا کر جاوں گا۔۔۔ دائم اٹھ کھڑا ہوتا عاجزی سے گویا ہوا۔۔۔
ارے یہ لڑکی کون ہے ۔۔
اس عورت کی دائم کے پیچھے چھپی کھڑی لڑکی پر شاید ابھی نظر پڑی تھی۔۔۔
دائم نے ایک گہری سانس خارج کی۔۔۔
مریم کی شادی ہوگئ نا بوا۔۔۔ اسکی جگہ خالی ہے اب۔۔۔ تو اسکی جگہ اب یہ کام کرے گی آپکے پاس۔۔۔۔
دائم خان ماتھا کھجاتا سرخ نگاہوں سے وہاں کام کرتی لڑکیوں کو دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
ارے کیسا مذاق ہے پتر۔۔۔ یہ شہر کی نازک جان یہاں کے کام کیسے کرے گی۔۔۔ بوا قہقہ لگاتی اسکی بات کو مذاق کا رخ دیتی گویا ہوئی۔۔۔
بلکل کرے گی بوا۔۔۔ اور سب کچھ کرے گی۔۔۔ اسنے ایک تلخ نگاہ عائزل کے ہوائیاں اڑے چہرے پر ڈالی اور نظروں کا رخ واپس بوا کی جانب کیا۔۔۔ اسی لئے تو آپکی شاگردی میں دے کر جا رہا ہوں ۔۔۔ جانتا ہوں آپ اسے اچھے سے ٹرین کر دیں گی۔۔۔ وہ تلخی سے ہسا۔۔۔
ویسے بھی یہ سب سیکھ لے گی کیونکہ اس کے پاس انکار کا جواز نہیں ہے۔۔۔
بہت نقصان کر چکی ہے میرا۔۔۔ اچھی خاصی رقم لے چکی ہے تو یہ کام کرے گی ہی کرے گی۔۔۔
عائزل کو لگا گویا وہ اپنے لفظوں کے ذریعے گھونٹ گھونٹ زہر اسکے اندر انڈیل رہا ہو۔۔۔
اسنے تھوک نگلتے خوفزدہ نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا جہاں ایک کونے میں لڑکی برتنوں کا ڈھیر لگائے ہینڈ پمپ سے پانی بھر کر برتن دھو رہی تھی۔۔ تو دوسری طرف ایک لڑکی جانوروں کا چارہ تیار کر رہی تھی۔۔
یہ ماحول اسکے لئے اجنبی تھا۔۔۔ وہ اس ماحول کی پروردہ نہیں تھی۔۔
اوپر سے خود میں گری اس عورت کی نگاہیں۔۔۔ ایک سنسی سی عائزل کے جسم میں ڈوری۔۔۔
دائم خان بوا سے پیار لیتا واپس مڑ چکا تھا۔۔ جبکہ اسے گیٹ کی جانب بڑھتا دیکھ عائزل کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔۔۔
رضیہ اس لڑکی کو کام سمجھاو۔۔۔
اسے اپنی سماعتوں سے اس عورت کی کرخت آواز ٹکراتی محسوس ہوئی۔۔۔
اسے اندر سے ایک لڑکی باہر آتی دکھائی تھی۔۔ عائزل نے چہرا گھما کر دائم کو دیکھا۔۔ وہ تقریباً گیٹ کے قریب پہنچ چکا تھا۔۔۔
عائزل نے آو دیکھا نا تاو اندھا دھند دائم کی جانب بھاگی۔۔۔
وہ لڑکی رضیہ اور بوا منہ کھولے حیرت سے اسے دیکھنے لگیں۔۔۔
دائمممممم۔۔۔۔ دائممم رکیں پلیززززز۔۔۔ وہ بھاگتی ہوئی اسے آوازیں دے رہی تھی۔۔۔
اس غیر متوقع آواز پر دائم ٹھٹھک کر رکا۔۔۔
تعجب سے پلٹا۔۔۔
تب تک وہ اسکے پاس پہنچ چکی تھی۔۔۔
دائم کی آنکھوں میں حیرت ابھری۔۔۔
دائم پلیز مجھے یہاں مت چھوڑ کر جائیں۔۔۔ پلیز۔۔ پلیز۔۔۔ دائم۔۔۔
وہ دائم کی بازو زور سے دبوچے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی بار بار پیچھے پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔۔۔
کپکپاتے لب۔۔۔ حراساں نگاہیں۔۔۔ لرزتا بدن۔۔۔ دائم کا دل پسیجا۔۔۔۔
وہ لڑکی واقعی اس ماحول کی پروردہ نہیں تھی۔۔۔ اس ماحول سے مانوس نہیں تھی۔۔۔
پلیز دائم ۔۔۔ مجھے ساتھ لے جائیں۔۔ مجھے معاف کر دیں۔۔۔ خدا کے لئے پلیز۔۔۔ میرا جرم اتنا بڑا نہیں ہے۔۔۔
میں آپکو چار لاکھ دے دوں گی لیکن۔۔۔
چھن سے سارا فسوں ٹوٹا تھا۔۔۔
دائم کے ماتھے پر جابجا شکنوں کا جال بچھا۔۔
اسنے سختی سے اپنی بازو پر موجود اسکا ہاتھ جھٹکا۔۔۔
کاش کے تمہیں اندازہ ہوتا کے تمہاری غلطی کتنی بڑی ہے۔۔۔
اسنے عائزل کی بازو اپنے سخت گرفت میں جھکڑتے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔
جبکہ عائزل پھٹ پڑتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
سویٹ ہارٹ یہاں سے تمہاری جان خلاصی ممکن نہیں ۔۔۔ تمہاری زندگی کی آخری سانس تک نہیں۔۔۔
اسنے ایک جھٹکے سے اسکی بازو چھوڑی۔۔۔
یوں کے وہ لڑکھڑاتی ہوئی سامنے کھڑی بوا سے ٹکرائی۔۔۔
سمبھالیں اسے بوا۔۔۔ خاصی تیڑھی چیز ہے۔۔۔ اسے ڈھیل دیں گی تو یہ آپکو تگنی کا ناچ نچوا دے گی۔۔۔
وہ اس پر ایک تحقیرانہ نگاہ ڈالتا بوا سے مخاطب ہو کر اس آہنی گیٹ کو عبور کر گیا۔۔۔
جبکہ بوا کی سخت جارحانہ گرفت میں وہ پتھرائی نگاہوں سے اسکی دھول اڑاتی گاڑی کو نگاہوں سے اوجھل ہوتے دیکھتی رہ گئ۔۔۔
******
اسنے گھر کے دروازے پر ہاتھ رکھا تو وہ کھلتا ہی چلا گیا۔۔۔ بے ساختہ اسنے سکون کا سانس خارج ۔۔۔ یہ بھی بہت تھا کہ دروازہ کھلا تھا۔۔۔ یہاں مزید انتظار نہیں کرنا پڑا۔۔۔
پیدل چلنے سے سفید رنگت میں سرخیاں گھلنے لگی تھیں۔۔۔
سفید بے داغ سکول کے یونیفارم میں وہ کوئی چھوٹی سی گڑیا ہی معلوم ہوتی تھی۔۔۔
ارے بجو شکر خدا کا آپکے پاس کچھ کھانے کو ہے۔۔۔ ورنہ مجھے لگ رہا تھا شاید آج میں نے بھوک سے ہی فوت ہو جانا ہے۔۔۔۔ چھوٹا سا صحن عبور کر کے وہ لاوئنج میں بیٹھی عفیفہ کے ہاتھ میں تھامی بریانی کی پلیٹ دیکھ کر ندیدوں کی طرح بیگ وہیں سنگل صوفے پر پھینکتی دھپ سے اسکے پاس بیٹھی ۔۔۔
عفیفہ کا منہ کی طرف چمچ لے جاتا ہاتھ ٹھٹھک کر رکا۔۔۔
جب وہ اسکے ہاتھ سے پلیٹ جھپٹتی اسے چمکتی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔۔۔
عفیفہ نے مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلاتے چمچ پلیٹ میں رکھا تو وہ بنا دیر کئے چمچ اٹھاتی چاول کھانے لگی۔۔۔
امممم۔۔۔۔ کیا ذائقہ ہے بریانی کا بجو۔۔۔۔ وہ پہلا نوالہ منہ میں ڈالتی ہی آنکھیں بند کرتی بریانی کا ذائقہ منہ میں گھلتے محسوس کرتی گویا ہوئی۔۔۔
ناہجار۔۔۔ آتے ہی اسکی پلیٹ پر قبضہ جما لیا۔۔۔
نا طریقہ ۔۔۔ نا سلیقہ۔۔۔ منہ اٹھا کر گھر آئی۔۔۔ اور بنا کپڑے بدلے بنا منہ ہاتھ دھوئے دوسروں کی چیزوں پر قبضہ جما لیا۔۔۔ غاضب کہیں کی۔۔۔ کھا جا میری بچی کا حق۔۔۔۔
ارے تجھ جیسی ڈھیٹ بندی بھی نا دیکھی ہو گی میں نے آج تک۔۔۔ زرا جو حیا یا غیرت ہو تجھ میں۔۔۔
سارا فسوں لمحوں میں ٹوٹا تھا۔۔۔ مامی کی گرجدار آواز پر اسنے جھٹ سے آنکھیں کھولی۔۔۔
فربہہ مائل سی گندمی رنگت کی حامل مامی لال بھبھوکا چہرا لئے اسکے سامنے کھڑی تھیں۔۔۔ جیسے بس نا چل رہا ہو کے اسے کچا ہی چبا جائیں۔۔۔۔
اسکے ہاتھ سے چمچ چھوٹ کر پلیٹ میں گرا جب مامی نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ سے پلیٹ جھپٹی۔۔۔۔
ماں۔۔۔ عفیفہ نے ماں کے یوں پلیٹ جھپٹنے پر تڑپ کر ماں کو دیکھا۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتی ماں نے ہاتھ اٹھاتے اسے سختی سے کچھ نا بولنے کی وارنینگ دی۔۔۔
گڑیا بے بسی سے انہیں دیکھتی پاوں پٹختی وہاں سے اٹھی اور کمرے میں جا کر زوردار انداز میں دروازہ بند کیا۔۔۔
یہ غصے کسی اور کو دکھانا جا کر۔۔۔ دروازہ تمہارے باپ نے نہیں لگوایا یہاں۔۔۔
دروازہ دھاڑ کی آواز سے بند ہوتے ہی مامی غصے سے پھٹی۔۔۔
اسی رفتار سے دروازہ وا کرتے اسنے اپنا سرخیاں چھلکاتا چہرا باہر نکالتے ناک چڑھائی۔۔۔
میرے باپ تک آپ نا ہی جائیں تو بہتر ہے۔۔۔ غزالی آنکھیں۔۔۔ تیکھی ناک پر دھرا غصہ۔۔۔ باریک پنکھری سے نازک لب۔ سرخ و سپید رنگت۔۔ وہ خوبصورتی کا ایک شاہکار تھی۔۔۔ جس رفتار سے دروازہ کھولا بات مکمل کر کے وہ ویسے ہی دھار سے دروازہ بند کر چکی تھی۔۔۔
اسکے انداز دیکھ مامی کے تو سر پر لگی تلووں پر بجھی۔۔۔۔ ایک تو کمبخت کو نظر بھی نہیں لگتی تھی۔۔۔
دیکھا۔۔۔ دیکھے تو نے اسکے انداز اطوار۔۔۔ وہ غصے سے تلملاتیں دروازے کی جانب اشارہ کرتیں بیٹی سے گویا ہوئیں۔۔۔۔
ماں بچی ہے ابھی سمجھ جائے گی۔۔۔ آپ بھی تو پلیز زرا خیال کیا کیجیئے۔۔۔ کتنے سخت الفاظ استعمال کر جاتی ہیں آپ وہ تو۔۔۔
او بس کر دے بی بی۔۔۔ بس کر دے۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے تمہیں۔۔۔ اسکا وکیل بننے کو تمہارا باپ ہی کافی ہے۔۔۔
ماں وہ بن ماں باپ کی بچی ہے۔۔ اسکے ماں باپ۔۔۔
عفیفہ ہونٹ چباتی منمنائی جب مامی نے درشتی سے اسکی بات کاٹی۔۔
ا
تو کیا ہم نے مارے ہیں اسکے ماں باپ۔۔۔ اسکے دودھیال میں تو کوئی اسکی صورت دیکھنے تک کا روادار نہیں۔۔۔ نا ہی اتنے سالوں میں کسی نے پلٹ کر دیکھا اسکی جانب ۔۔۔
کتنی بار بولا ہے تمہارے باپ کو کے چھوڑ آئے اسے وہیں جنکا یہ خون ہے۔۔ ناجانے کس مٹی کا بنا ہے وہ شخص بھی۔۔۔ مجال ہے جو کبھی میری بات سن جائے۔۔۔
یہ لڑکی حق کھا جائے گی تیرا۔۔۔ تجھے کیوں یہ بات سمجھ نہیں آتی۔۔۔۔
ماں کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔۔۔ وہ بچی ہے۔۔۔ ماں کو ٹوکتی وہ پِھر سے منمنائی۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے پالا ہے میں نے اسے۔۔۔ میری گڑیا ہے وہ۔۔۔
ارے کہاں سے تجھے وہ بچی لگتی ہے۔۔۔ ہاں۔۔۔
مامی۔۔۔ جاتی جاتی واپس پلٹتی اس سے جرح پر اتری۔۔۔
اسکا رنگ روپ ۔۔۔ قد کاٹھ دیکھا ہے تو نے۔۔۔ تیرے برابر کی لگتی ہے۔۔۔ سات سالوں کا جو فرق ہے نا تم دونوں میں۔۔۔ وہ محض گنتی کے ہندسوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔۔۔
اور تو دیکھ۔۔۔ پاگل بنی پھرتی رہتی ہے اسکے پیچھے۔۔۔
کچھ اپنا خیال بھی کر لیا کر۔۔۔
اس سال پورے بائیس کی ہو جائے گی۔۔۔
یہ بھر بھر کر کریمیں منگوا کر دیتی ہوں تجھے۔۔۔ پر مجال جو کبھی تو نے استعمال کی ہوں۔۔۔ وہ اسکی گندمی رنگت کو دیکھ گلوگیر ہو اٹھیں۔۔۔
ویسے تو نہیں ۔۔۔ مگر گڑیا کے سامنے واضح اسکی رنگت دبتی محسوس ہوتی تھی۔۔۔
میری بات کان کھول کر سن لے عفیفہ۔۔۔ اگلے ہفتے لڑکے والے تجھے دیکھنے آنے والے ہیں۔۔۔
خبردار جو وہ کرم جلی انکے سامنے آئی تو۔۔۔
ارے مجھے تو کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کے پچھلی دفعہ جو لڑکے والے تجھے دیکھنے آئے تھے وہ اسے پسند کر گئے۔۔۔ مامی کرب سے کہتی صوفوں کے کشنز ٹھیک کرنے لگی ۔۔۔جبکہ وہ خاموش نگاہوں سے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھتی گم صم سی بیٹھی تھی۔۔۔
یہ تو ابھی شکر ہے کے وہ آفت ہے پندرہ کی ورنہ تیرے باپ نے تو میرے کلیجے پر پاوں رکھتے پہلے اسے ہی اسکے گھر کا کر دینا تھا۔۔۔ وہ ٹیبل پر پڑے برتن اٹھا کر کچن میں چلی گئ جبکہ عفیفہ نے انکے جاتے ہی تاسف زدہ نگاہ جوں کی توں پڑی بریانی کی پلیٹ پر ڈالی اور دوسری نگاہ بند پڑے کمرے کے دروازے پر۔۔۔۔
*****
عفیفہ بریانی کی پلیٹ اٹھا کر ماں کے پیچھے ہی کچن میں گئ۔۔۔ ایک نظر چائے بناتی ماں پر ڈال کر اسنے اوون میں چاول گرم کئے ۔۔۔ اب اسکا رخ اپنے کمرے کی جانب تھا۔۔۔
کمرے کے دروازے کے پاس رک کر اسنے ایک گہری سانس خارج کی اور دروازہ کھول کر اندر بڑھی۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر بیڈ پر کتابیں بکھرائے انکے درمیان میں بیٹھی جرنل پر سر جھکائے گڑیا نے ناراض نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
یونیفارم وہ تبدیل کر چکی تھی۔۔۔ سیاہ پلین شلوار سوٹ میں ملبوس اسکی رنگت دمک رہی تھی۔۔۔ ریشمی بالوں کی ٹیل پونی بنا رکھی تھی جو شانوں اور کمر پر جھول رہی تھی۔۔۔ اس پر واقعی ایک گڑیا کا گمان ہوتا تھا۔۔۔
اوہ شکر بجو آپ آگئ۔۔۔ ورنہ یہاں میں نے بھوک سے ہی مر جانا تھا۔۔۔
عفیفہ کے بیڈ پر بیٹھتے ہی وہ اپنے گرد بکھری ساری کتابوں کو بے ترتیبی سے ایک طرف کرتی چوکری لگا کر اسکے ہاتھ سے پلیٹ تھامتے چاول کھانے لگی۔۔۔
عفیفہ اسے ندیدوں کی طرح کھاتے دیکھ مسکرا دی۔۔۔
سکون سے کھاو گڑیا۔۔۔ کوئی پیچھے تھوڑی نا لگا ہے۔۔۔۔
ارے رہنے دیں بجو۔۔۔ ابھی آپکی وہ جلادی اماں جان آگئ نا۔۔۔ میرے حلق سے بھی نوالہ نکلوا لیں گی۔۔۔ اسنے بمشکل پچھلہ نوالہ نگلتے بھر کر چمچ منہ میں ڈالا۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے گڑیا۔۔۔ وہ خجالت سے بیڈ شیٹ کے پرنٹ پر انگلی پھیرتی منمنائی۔۔۔ بعض اوقات گڑیا کی صاف گوئی اسے خوامخواہ ہی شرمندہ کر دیتی تھی۔۔۔
ایسی ہی بات ہے بجو۔۔۔ آپ اور ماموں اتنے اچھے ہیں۔۔۔ پر میری مامی ناجانے کس پر چلے گئ۔۔۔ انکا بس چلے نا تو وقت کا پہیہ موڑ کر مجھے امی اور ابو کے ساتھ اسی گاڑی میں بیٹھا کر پوری شدت سے ایکسیڈینٹ کروا دیں اور کہیں۔۔۔ لو گئ نحوس ماری۔۔۔ خس کم ۔۔۔ جہاں پاک۔۔۔
وہ بھرائی آواز میں سر جھٹکتی کھانے سے ہاتھ روک گئ۔۔۔۔
گڑیاااااا۔۔۔ اب تم مجھے ہرٹ کر رہی ہو۔۔۔
آپکو ہرٹ نہیں کر سکتی بجو۔۔۔ آپ تو میری جان ہیں۔۔۔ وہ لاڈ سے اسکی گردن میں بازو حائل کر گئ۔۔۔ پر پتہ ہے کیا۔۔۔ وہ میری سوتیلی مامی ہے۔۔۔ سگی نہیں ہے۔۔۔ وہ اسکے کان کے پاس جا کر رازدرانہ انداز میں سرگوشانہ گویا ہوئی۔۔۔
جبکہ عفیفہ کھل کر مسکرا دی۔۔۔
بالکل پاگل ہو۔۔۔ اور یہ ختم کرو۔۔۔ درمیان میں کیوں چھوڑ دیئے۔۔۔ عفیفہ اسکے سر پر چیت رسید کرتی اسکی توجہ پلیٹ کی جانب مبذول کروا گئ۔۔۔
پتہ ہے مجھے۔۔۔ بریانی گھر میں نہیں پکی۔۔۔ آئی ہے کہیں سے یا شاید آپنے منگوائی ہے۔۔۔ وہ اسکی گود میں سر رکھتی لیٹ گئ۔۔۔میں نے آدھی کھا لی اب باقی آدھی آپکی ہے۔۔۔
ورنہ مجھے سچ میں لگے گا۔۔۔۔ وہ بات بیچ میں چھوڑتی سنجیدگی سے عفیفہ کا دیکھنے لگی۔۔۔
کیا۔۔۔ وہ حیرت سے مستفسر ہوئی۔۔۔
کے میں آپکا حق کھا گئ۔۔۔ بات کرتے وہ قہقہ لگا کر ہس دی۔۔۔ حتی کے ہستے ہستے اسکی آنکھوں میں نمی سمٹنے لگی۔۔۔
میں آپکا حق کھاوں گی بجو۔۔۔ میں۔۔۔
پانچ سال کی تھی جب امی ابو کی ڈیتھ کے بعد یہاں آئی۔۔۔ راتوں کو آپکے ساتھ سوئی۔۔۔ آپ سے فرمائشیں کیں۔۔ آپ سے ناز اٹھوائے۔۔۔ آپکو تنگ بھی کیا۔۔۔ آپ کے ساتھ کھیلی ۔۔۔ آپ پر روب بھی جمایا اور حق بھی ۔۔۔ آپ کے ساتھ ہسی ۔۔۔ آپ کے ساتھ روئی۔۔۔ بجو میں آپکا حق چھینوں گی۔۔۔ میں مر نا جاوں گی ایسا سوچنے سے بھی پہلے۔۔۔
گڑیا ۔۔۔ انکی باتوں کو سر پر سوار نا کرو ۔۔۔ ابھی تمہاری عمر نہیں ہے اتنا کچھ سوچنے کی۔۔۔ صرف اپنی پڑھائی پر توجہ دو۔۔۔ میٹرک میں اچھے نمبر آنے چاہیے۔۔۔
عفیفہ اسکا دھیان بٹانے کو بات بدلا گئ لیکن اسنے تو شاید سنا ہی نا تھا۔۔۔
بجو میرا بس چلے نا تو ایک لمحے میں اپنی رنگت آپکو دے دوں۔۔۔ کاش دے سکتی۔۔۔اسکا لہجہ بھرا گیا۔۔۔ نہیں تو کاش مجھے کوئی ایسی کریم مل جائے جو میری رنگت سانولی کر دے۔۔۔ کم از کم یہ روز روز کے کمپیریزن سے تو جان چھوٹے۔۔۔
مائے گاڈ گڑیا۔۔ کیا کیا فضول بیٹھی سوچتی رہتی ہو۔۔۔ وہ تو ششدر ہی رہ گئ تھی اسکی باتوں سے۔۔۔ جھٹکے سے اسکا سر گود سے اٹھاتے اسے سیدھا کیا۔۔۔ وہ نم سرخ آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
ایم سوری بجو۔۔۔ ریئلی ریئلی سوری۔۔۔ وہ اسکے گلے لگتی سرگوشانہ گویا ہوئی۔۔۔ اور عفیفہ اسے لگا گویا وہ پتھر کی ہو گئ ہو۔۔۔۔ اسنے شدت سے اپنی گڑیا کو خود میں بھینچا۔۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹپکا۔۔۔
سو جاو میری جان۔۔۔ کچھ بھی فضول مت سوچو۔۔ عفیفہ نے بھاری سانس سینے سے خارج کی اور اسکی کمر سہلانے لگی۔۔۔۔
بجو۔۔۔ میں آپکے لئے بہت دعائیں کرتی ہوں۔۔۔ دیکھنا آپ کے لئے کوئی شہزادہ ہی آئے گا۔۔۔ سب لوگ دیکھتے ہی رہ جائینگے۔۔۔ میری دعاوں میں بہت اثر ہے بجو۔۔۔ دیکھنا کیسے رنگ لائینگی۔۔۔ بولتے بولتے اسکی آواز موٹی ہونے لگی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیند کی گہری وادیوں میں اترتی چلی گئ۔۔۔
*****
ہڈیوں کو ٹھٹھراتی یخ بستہ رات میں وہاں کچے کھلے صحن میں دھند کے مرغولوں میں لپٹے آسمان تلے کھڑی عائزل کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر پھسلا۔۔۔۔ اسکی شال کا ایک سرا اسکے کندھے پر تھا جبکہ دوسرا زمین پر سجدہ ریز تھا۔۔۔ کیچر میں جھکڑی ریشمی آبشار کی کئ الجھی لٹیں گرن میں پھیلی تھی۔۔۔
کاش آپکے شہزادے نے مجھ پر یقین کیا ہوتا بجو۔۔۔۔ کاش۔۔۔۔۔تو آپ کی گڑیا آج اس حال میں نا ہوتی۔۔۔۔ شاید میری دعاوں میں اب وہ تاثیر نہیں رہی۔۔۔۔ ایک ہوک سی اسکے دل سے نکلی۔۔۔
******

No comments