Header Ads

Scheme novel 1st Episode by Umme Hania


 

Scheme novel 1st Episode  by Umme Hania 

Scheme is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels

Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front 

of the world and improve their abilities in that field.

 Scheme Novel by Umme Hania | Scheme novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels

Online Reading

 ناول "سکیم"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

ناول کی ہفتے میں چار اقساط اپلوڈ ہونگی اور دن کوئی سے بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔ رٹن میں ناول دو جنوری بروز پیر سے شروع ہوگا۔۔۔۔۔
_________

پہلی قسط۔۔۔۔
اسے اپنے سر اور آنکھوں پر بوجھ سا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ وہ نیند میں کسمسائی ۔۔ بالوں میں سرائیت کرتی انگلیوں کا پرسکون  لمس بھی جیسے نیند میں خلل ڈال رہا تھا۔۔۔ اس کے ماتھے پر چند بل پڑے۔۔۔ پھر رفتہ رفتہ وہ بل غائب ہونا شروع ہوئے اور وہ پھر سے نیند کی پرسکون وادی میں اتر گئ۔۔۔ نیند گہری تھی۔۔۔ جیسے صدیوں کی مسافت نے تھکا ڈالا تھا اور زرا سکون میسر ہوتے ہی وہ دنیا بھلا گئ۔۔۔
دفعتا پھر سے بالوں میں سرائیت کرتے انگلیوں کے لمس سے اسنے کسمساتے بامشکل خود میں پیوست پلکوں کی چلمن  کو ہلکا سا کھولا۔۔۔
لیکن سامنے کا منظر دیکھتے ہی اسکی نیند بھک سے اڑی۔۔۔۔ رات کے مناظر پوری جزئیات سے اسکی آنکھوں کے سامنے چلنے لگے۔۔۔۔
یکدم ہی غزال سی آنکھوں میں خوف اور ہراس پھیلا تھا وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹتی خود میں سمٹی۔۔۔
دل خوف کے زیر اثر زور سے ڈھرکا تھا۔۔۔ اسنے بے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔ گردن میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔
وہ شخص وائٹ کاٹن کے کڑکڑاتے سوٹ میں ملبوس نک سک سے تیار خوشبوں میں نہایا کہنی تکیے پر رکھے ہاتھ کی ہتھیلی پر سر ٹکائے اس کے پاس ہی نیم دراز دوسرے ہاتھ کی انگلیں اسکے بالوں میں چلاتا یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
عائزل نے اپنے جسم کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے اپنی غزالی نگاہوں کو گھماتے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ یہ وہی فلیٹ تھا جس میں کل رات وہ شخص اسے وہاں لایا تھا۔۔۔
کیا ہوا سویٹ ہارٹ رات نیند تو اچھے سے آئی نا۔۔۔ اسکی آنکھوں میں یوں خوف کو ہلکورے کھاتا دیکھ ایک طنزیہ مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔۔
عائزل کی آنکھوں میں نمی سمٹنے لگی۔۔۔
کتنی معصومیت ہے اس چہرے پر۔۔۔ قربان ہی نا ہو جاوں اس معصومیت پر۔۔  
عائزل نے پیچھے کو کھسکتے اپنے اور اسکے درمیان جتنا بھی فاصلہ بنایا تھا وہ شخص ایک ہی جھٹکے میں اسے واپس کھینچتا اسے پاٹ گیا تھا۔۔۔
ایک چیخ اسکے حلق سے برآمد ہوئی۔۔۔ دائم خان کی اس حرکت پر وہ کپکپا کر رہ گئ۔۔۔
آنکھوں میں ابھری نمی پھسل کر گالوں پر پہنچی۔۔۔ 
تمہیں واقعی لگتا ہے سویٹ ہارٹ کے یہ آنسو تمہارے کسی کام آئیں گے۔۔۔ نہیں مطلب۔۔۔۔ وہ سر کھجاتا سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔
تم پر امید ہو کے ان مگرمچھ کے آنسووں سے تم مجھے ایک مرتبہ پھر سے بے وقوف بنا لو گئ۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔۔ وہ اپنے بڑھی شیو پر ہاتھ پھیرتا قہقہ لگا کر ہسا۔۔۔
او گاڈ۔۔۔ مطلب۔۔۔ میں دائم خان۔۔۔۔ جسکے سامنے اچھے اچھے نہیں ٹکٹے ۔۔۔ اسے ایک لڑکی دوسری دفعہ دھوکہ دینا چاہتی ہے۔۔۔۔ داد دینی پڑے گی تمہارے سکیمر دماغ کی۔۔۔ وہ ایک ٹانگ چھٹ کی جانب موڑے اس پر کہنی رکھے اپنے دائیں جانب موجود عائزل کی جانب رخ کرتا ستائشی انداز میں گویا ہوا۔۔ 
ماننا پڑے گا تمہارے دماغ کو۔۔۔ آخر کو ایک سکیمر کا دماغ ہے۔۔۔
میں نے آپکے ساتھ کوئی سکیم نہیں کیا۔۔۔۔ وہ تو بلبلا ہی اٹھی تھی دائم کی اس بات پر۔۔۔
پوری شدت سے چلاتی وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔
آواز نیچے۔۔۔۔ ورنہ زبان گدی سے کھینچ ڈالوں گا۔۔۔
دائم نے جارحانہ انداز میں اسکا منہ دبوچا تو عائزل کی آنکھیں خوف سے ابل پڑیں۔۔۔
اسے اس شخص کے وحشی پن سے وحشت ہونے لگی تھی۔۔۔
میں عورتوں پر ظلم کرنے کے حق میں نہیں کیونکہ یہ میری تربیت میں شامل نہیں۔۔۔ ورنہ تم اس قابل ہو کے تمہارے چھوٹے چھوٹے ٹکرے کر کے کتوں کو ڈال دیئے جائیں۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں نفرت سے دیکھتا ایک جھٹکے سے اسکا چہرا چھوڑتا۔۔۔  گھٹنوں پر کہنیاں رکھتا سر ہاتھوں میں تھام گیا۔۔
دائم خان نے محبت کی تھی تم سے گھٹیا لڑکی۔۔۔ میری بن کر تو دیکھتی اپنا سب کچھ تم پر نا لٹا دیتا تو کہتی۔۔۔
اسنے ضبط سے لال انگارہ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ جو ہاتھ مسلتی سر جھکائے مسلسل خاموش آنسو بہا رہی تھی۔  
لیکن نہیں تم نے تو اپنی اصلیت دکھانی تھی۔۔۔ بڑے سستے میں تم نے مجھے جانے دیا یار۔۔۔
چار لاکھ۔۔۔ صرف چار لاکھ تھے تمہارے ضمیر کی قیمت۔۔۔۔
چچ۔۔۔چچ۔۔۔چ۔۔۔۔ قیمت ہی لگانی تھی تو چار کڑور تو لگاتی۔۔۔۔ وہ دل جلاتی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسکی جانب رخ کر گیا۔۔۔
عائزل گھٹنوں میں سر جھکاتی سسک اٹھی۔۔۔۔
کیا ہوا ابھی سے ہمت جواب دے رہی ہے۔۔۔ وہ بڑی محبت سے اسکے بال سہلانے لگا۔۔۔
لیکن ابھی تو بڑی لمبی مسافت ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔ کیسے کاٹو گی۔۔۔ اسکے لہجے میں ہمدردی تھی۔۔۔ اسکا مذاق اڑاتی ہمدردی۔۔۔
عائزل نے شدت سے اپنے گھٹنے دبوچتے اپنے ہاتھوں کی کپکپاہٹ پر قابو پایا۔۔۔
مجھے امید ہے کہ تم اپنے سکیمر مائینڈ سیٹ سے بہت جلد میری قید سے بھاگ نکلو گی۔۔۔
لیکن یقین مانو۔۔۔ اس بار دائم خان بھی پوری تیاری سے میدان میں اترا ہے۔۔۔ وہ اسکا سر اوپر اٹھاتا اسکی سرخ پڑتی نم آنکھوں میں دیکھتا پر اسرار انداز میں گویا ہوا۔۔۔۔
ایک دفعہ مجھے بے خبری میں بے وقوف بنا کر ہلکے میں مت لینا یار۔۔۔ میں اپنا سو فیصد دوں گا تمہارے قید خانے کو تمہارے لئے عقوبت خانہ بنانے میں ۔۔۔۔
جس کی دیواروں سے ٹکرا کر تم مر تو سکتی ہو لیکن باہر نہی نکل سکتی۔۔۔
وہ ایک قہر آلود نگاہ اسکے خوبصورت سراپے پر ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
آپ پچھتائیں گے۔۔۔ وہ بے بسی کے تحت اسے جاتا دیکھ گویا ہوئی۔۔۔
وہ رکا ۔۔۔ پھر پلٹا۔۔۔ ایک دلکش مسکراہٹ اسکے وجیہہ چہرے پر ابھری۔۔۔۔ 
تم یقین مانو سویٹ ہارٹ۔۔۔ اس بار میں پچھتانے کو تیار ہوں۔۔۔
اسکی آواز کے سرد پن نے عائزل کے جسم میں ایک سسنی ڈورا دی۔۔۔
میں آپکے چار لاکھ لوٹا دو گی۔۔۔۔ خدارا میری جان چھوڑ دیں۔۔۔۔
وہ مضبوط قدم اٹھاتا کمرے سے نکل رہا تھا جب اسکی تلخ آواز دائم کی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔۔
ایک تلخ مسکراہٹ اسکے ہونٹوں کی تراش میں ابھری۔۔۔
چار لاکھ تو کیا چار کڑور بھی نہیں۔۔۔ 
دائم خان کے جذبات سے کھلینے کی قیمت اتنی کم نہیں ہو سکتی۔۔۔
وہ بنا پلٹے گویا ہوا اور عائزل کے دیکھتے ہی دیکھتے کمرے سے نکل گیا۔۔۔
اسکے جاتے ہی عائزل کا دل خوف کے زیر اثر ڈوب کے ابھرا۔۔۔ 
اسنے ایک سہمی نگاہ چاروں اور دوڑائی ۔۔۔ اسے سناٹے اور تنہاہی سے خوف محسوس ہوا۔۔۔
******
کلاس روم کی کھلی کھڑی سے سورج کی روشنی اندر آ رہی تھی۔۔۔ آج کافی دنوں کے جارے کے بعد سورج نے چھب دکھلائی تھی۔۔۔
کلاس میں پن ڈراپ خاموشی تھی۔۔۔ سبھی سٹودینٹس سامنے پروفیسر کا لیکچر نوٹ کر رہے تھے۔۔۔
یہ سامنے  کھڑے پروفیسر کے اس باوقار شخصیت کا روب ہی تھا کہ انکی کلاس کے دوران ہمیشہ اتنی ہی خاموشی ہوتی۔۔۔۔۔۔ 
ایسے میں وہ جرنل پر سر جھکائے جرنل کے کھلے کاغذات پر لیکچر نوٹ  کرنے کی بجھائے آڑھی تڑچھی لائینیں کھینچ رہی تھی۔۔۔ پس منظر میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔۔۔
ماں کی بگڑتی طبیعت کے پیش نظر بجٹ سے باہر جاتے اخراجات۔۔۔۔ بجلی کا بل۔۔۔ پلمبر کا۔۔۔ اور اسکے ساتھ ہی ایک کرخت آواز کے زیر اثر اسکی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا اور اسنے ہربڑا کر سامنے دیکھا جہاں پروفیسر صاحب اسے غصے سے گھور رہے تھے۔۔۔ وہ پچاس کے پیٹے میں ایک روبدار شخصیت کے مالک تھے۔۔۔
ی۔۔۔یس سر۔۔۔ ایمن تھوک نگلتی ناسمجھی سے گویا ہوئی۔۔۔
دھیان کہاں ہے آپکا۔۔۔ وہ گرجدار آواز میں کہتے بورڈ مارکر ٹیبل پر رکھتے اسکی جانب بڑھے۔۔۔
سس۔۔۔ سر ۔۔۔ لیکچر نوٹ کر رہی تھی۔۔۔ اسنے آواز کی لڑکھراہٹ پر قابو پانا چاہا جو واضح اسکے جھوٹ بولنے کی نشاندہی کر رہی تھی۔۔۔
اچھا چلیں دکھائیں کیا نوٹ کیا ہے آپ نے۔۔۔ وہ اسکی جانب بڑھتے گویا ہوئی۔۔
ایمن نے فق پڑتی نگاہوں سے اپنے جرنل پر دیکھا جہاں سوائے آڑی ترچھی لکیروں کے کچھ نا تھا۔۔۔ اسنے ہاتھ مسلتے بے بسی سے سر کو اپنی جانب بڑھتے دیکھا۔۔
ایڈیٹ کیا ضرورت تھی سر کے لیکچر میں اتنی غائب دماغ رہنے کی۔۔ لیکچر نوٹ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ اندر سے کسی نے اس کے لتے لئے۔۔۔
اس سے پہلے کے سر اسکے قریب پہنچ کر اسکا جرنل اٹھاتے ایمن کے یچھے سے ایک مضبوط سفید ہاتھ آگے بڑھا جسنے لمحوں میں وہ جرنل بدلہ تھا۔۔۔ یوں کے ایمن بھی حقا بقا سی دیکھتی ہی رہ گئ۔۔۔۔
سر کے جرنل اٹھانے پر اسنے ایک گہری سانس خارج کی۔۔۔
سر عینک کے موٹے شیشوں کی اوٹ سے اس جرنل کو اچھے سے دیکھنے کے بعد اسے واپس رکھتے واپس اپنی کرسی کی طرف بڑھ گئے تو ایمن سکون کا سانس لیتی واپس اپنی جگہ پر بیٹھی۔۔۔
انسان اپنے محسن کا شکریہ ہی ادا کر دیتا ہے۔۔۔
سر کے لیکچر کے ختم ہونے کے بعد کلاس سے جاتے ہی وہ دھپ سے ایمن کے ساتھ آ کر بیٹھا۔۔۔
ایمن کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے ۔۔۔ اسنے آنکھیں ٹیڑھی کرتی اسے دیکھا۔۔۔
جینز پر بلیک جیکٹ زیب تن کئے بال ماتھے پر آرے ترچھے انداز میں بکھرائے چمکتی آنکھوں اور عنابی لبوں پر مسکراہٹ بکھرائے وہ اسی کی جانب متوجہ تھا۔۔۔ سر سے لے کر پیروں تک بڑینڈ میں ملبوس وہ اپنے بیک گراونڈ کا چلتا پھرتا ثبوت تھا۔۔۔ 
میں نے اس محسن کو مجھ پر کوئی احسان کرنے کی دعوت نہیں دی تھی۔۔۔
وہ سخت لہجے میں کہتی اپنی چیزیں اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
بندہ کِبھی تو مسکرا کر بات کر لیتا ہے۔۔۔ وہ تاسف سے کہتا اسکے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ آنکھوں کی جوت بجھ سی گئ تھی۔۔۔۔ مجال تھی جا یہ لڑکی زرا سا بھی خود سے فری ہونے کا موقع دیتی۔۔۔
ایمن نے اسے ایک سخت گھوری سے نوازا اور نظر انداز کرتی کلاس سے باہر نکل پڑی۔۔۔ 
آہ۔۔ لڑکی ابھی تمہارے لئے بہت پاپڑ بیلنے پڑیں گے ۔۔ ریان مایوسی سے بالوں میں ہاتھ چلاتا دھپ سے واپس بیٹھا۔۔۔۔
*******
وہ سرسراتی ہڈیوں میں خون کو ٹھٹھراتی ہواوں میں تیز تیز قدم اٹھاتی گھر کی جانب جاتی گلی کو مڑی۔۔۔۔ آج کافی دنوں بعد سورج نے چھب دکھلائی تھی۔۔ دن کافی خوشگوار تھا لیکن جیسے جیسے آسمان جامنی ہونا شروع ہوا سردی کی شدت میں بھی یکدم ہی اضافہ ہونے لگا تھا۔۔۔۔ 
مغرب باسی ہو رہی تھی۔۔۔ ابھی اسے گھر پہنچ کر نماز بھی ادا کرنا تھی۔۔۔ گھر کا دروازہ نظر آتے ہی ایمن نے زرا سکھ کا سانس لیا۔۔۔ آج یونیورسٹی میں نتاشہ بھی نہیں آئی تھی جسکی وجہ سے وہاں بھی اسکا دن خاصا بور گزرا تھا۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔
اندر داخل ہوتے ہی اسنے باآواز بلند سلام کیا۔۔۔۔
واعلیکم اسلام۔۔۔ بیٹا کھانا لاوں۔۔۔۔ 
اسکی آواز سن کر ماں کمرے سے نکلتی گویا ہوئی۔۔۔
ایمن نے تاسف سے ماں کو دیکھا۔۔۔ نچھڑی رنگت۔۔۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور چہرے کی ابھرتی ہڈیاں۔۔۔۔ ایک ہوک سی اسکے سینے سے نکلی۔۔۔
اس بیماری نے ماں کو دنوں میں گھول کر رکھ دیا تھا۔۔۔
نہیں ماں۔۔۔ آپ لحاف میں لیٹی تھیں باہر کیوں آئی۔۔۔ کتنی بار کہا ہے کھانا میں خود لے لوں گی۔۔۔۔ وہ بے بسی سے کہتی اندر بڑھ گئ۔۔۔ چادر سر سے اتارتے فورا سے تہہ کر کے ہینگ کی۔۔۔ اور جوتے اتار کر جرابیں اتارتی چپل اڑس کر کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ مغرب کا وقت نکل رہا تھا تو اسکے ہر ہر انداز میں عجلت تھی۔۔۔۔
آستیینیں بازوں پر چڑھاتے سردی کی شوریدرہ سر ہواوں نے اسے کپکپانے پر مجبور کر دیا۔۔۔
چل جھلی۔۔۔ سارا دن باہر کھپتی ہے۔۔۔ پہلے یونیورسٹی پھر نوکری۔۔۔ تجھے کیا لگتا ہے مجھے اپنے بچوں کی محنت کا احساس نہیں۔۔۔ کیا اب میں کھانا دینے سے بھی رہی۔۔۔
صحن کے کونے میں لگے واش بیسن پر ٹھنڈے پانی سے وضو کرتے اسے کچن سے مسلسل ماں کی باتیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔ وہ غالباً اسکے لئے کھانا گرم کر رہی تھی۔۔۔
آہ یہ زندگی اور اسکے جھمیلے۔۔۔۔ ایمن نے سرد آہ بھرتے نل بند کیا۔۔۔ 
حماد آیا تھا کیا۔۔۔ دفعتاً تولیے سے چہرا خشک کرتے یاد آنے پر وہ گویا ہوئی۔۔۔ ٹھنڈ سے اب اس پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔
ہاں آیا تھا۔۔۔ کھانا کھا کر ہی واپس گیا ہے۔۔۔۔ اس بیچارے کی بھی خاصی سخت دیوٹی ہے۔۔۔
ماں کی بات سنتی وہ دلگرفتی سے آستینیں نیچے کرتی آنچل سر پر اوڑھتی کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
کاش کام کی کوئی اور سبیل نکل آئے تو وہ حماد کو کبھی کام کی یہ شفٹ نا لگانے دیتی۔۔۔
گرمیوں میں تو پھر بھی ٹھیک تھا۔۔۔۔ لیکن سردیوں کی راتوں میں تو نو بجے ہی دھند کے باعث ہر سو ہو کا علم ہو جاتا۔۔۔ ایسے میں رات بارہ بجے تک ڈیلیوری بوائے کے فرائض سر انجام دینا ۔۔۔ سوچ کر ہی ایمن کا دل کٹ کر رہ جاتا۔۔۔ 
وہ حماد کے گھر واپس آ جانے تک مسلسل اسکے بحفاظت گھر پہنچنے کی دعائیں کرتی رہی۔۔۔
یہ نوکری انکی مجبوری نا ہوتی تو وہ اسے کبھی نا کرنے دیتی۔۔۔ لیکن شاید زندگی کا نام ہی مجبوری تھا۔۔۔ یا شاید اب تک کے حالات و واقعات کے پیش نظر یہ اسکا نظریہ تھا۔۔۔۔
اگر زندگی خوشی اور غمی کا مجموعہ تھی تو اب تک زندگی نے ایمن علی کے حصے میں محض کانٹے ہی دیئے تھے۔۔ جسے چنتے چنتے اسکے ہاتھ لہولہان ہوتے جا رہے تھے۔۔۔
********
سردی کی شدت سے سرخ پڑتی ناک کیساتھ ساتھ اسکے ہاتھ بھی برف ہو رہے تھے۔۔۔ وہ سردی کی شدت سے کپکپا رہی تھی یا خوف و ہراس سے وہ سمجھ نہیں پائی۔۔۔
گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر دائم خان کے ساتھ بیٹھتے ہی سفر ایک مرتبہ پھر سے شروع ہوا تھا۔۔۔
گاڑی کا ہیٹر چلتے ہی عائزل کو کچھ سکون ملا۔۔۔ 
سردی کے معاملے میں وہ ایسی ہی تھی۔۔۔ تھوڑی سی سردی کو بہت زیادہ محسوس کرنے  والی۔۔۔ یہ تو پھر اسلام آباد کی سردی تھی۔۔۔۔
اسنے ایک چور نگاہ اپنے مقابل ڈرائیونگ کرتے دائم خان پر ڈالی جو سنجیدہ صورت لئے سامنے ونڈ سکرین کے پار دیکھتا کار ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔۔
صبح والے وائٹ کاٹن کے سوٹ پر اس وقت وہ سیاہ جیکٹ پہنے تھا۔۔۔ بال سلیقے سے بنائے گئے تھے۔۔۔
تیکھے نقوش کا حامل وہ ایک سحرانہ شخصیت کا مالک تھا جو کسی کو بھی اپنی شخصیت کے سحر میں جھکڑ سکتا تھا۔۔۔
ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔۔ وہ ہلکے گلابی کھدر کے سوٹ میں ملبوس شال کو مزید اچھے سے خود پر لپیٹتے بے چینی سے مستفسر ہوئی۔۔۔
صبح کی بات چیت کے بعد سے ان دونوں میں کوئی بات نا ہوئی تھی۔۔۔ وہ اسے فلیٹ میں ہی چھوڑ کر  خود باہر نکل گیا  تھا۔۔۔  کل رات کی شدید بے سکونی اور پے در پے اپنے مخالف چلتے حالات نے تو اسے پہلے ہی ادھ موا کر چھوڑا تھا۔۔۔
کھانا نہ رات میں کھایا تھا۔۔۔ اوپر سے اتنا لمبا سفر۔۔۔ وہ تو ویسے ہی ادھ موئی ہوئی پڑی تھی۔۔۔ کجا کہ صبح بھی وہ اسے بنا ناشتے کا پوچھے ویسے ہی فلیٹ سے نکل گیا تھا۔۔۔
پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہوتی وہ ڈھیٹ بن کر اپنے کمرے سے نکلی۔۔۔
وہ ایک صاف ستھرا فرنشڈ فلیٹ تھا۔۔۔ کچن ڈھونڈنے میں اسے زیادہ دشواری نا ہوئی تھی۔۔۔ 
کچن میں جاتے ہی اسنے سب سے پہلے فریج کھولی۔۔۔ فریج میں ضرورت کا تقریباً سارا ہی سامان تھا۔۔۔ بریڈ ۔۔انڈے ۔۔۔ جوس۔۔۔ دودھ۔۔۔ جیم۔۔۔ 
اسنے ایک پل کے لئے سوچا اور اگلے ہی پل وہ کیبنٹس کھول کر مطلوبہ چیزیں دھونڈ رہی تھی۔۔۔
ٹھیک دس منٹ بعد وہ فرائی انڈا اور چائے کے کپ کیساتھ بریڈ کے سلائس لے کر لاوئنج میں آئی۔۔ ناشتہ کر کے واپس کچن میں جا کر وہ سارے برتن دھو کر سب کچھ واپس انکی جگہوں ہر رکھتی واپس اپنے کمرے میں آگی۔۔۔
تقریباً بارہ بجے وہ واپس گھر آیا تھا۔۔۔
اور آتے ہی انکا سفر ایک مرتبہ پھر سے شروع ہو گیا تھا۔۔۔
ناجانے وہ اسے اب کہاں لے کر جا رہا تھا۔۔۔ اسنے عائزل کی کسی بات کا جواب نا دیا تھا۔۔۔ وہ اسکی طرف سے جواب کے انتظار سے مایوس ہو کر سیٹ کی پشت سے سر ٹکاتی باہر دیکھنے لگی۔۔۔
گاڑی ٹوٹے پھوٹے رستوں سے گزرتی آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔ یقیناً وہ کسی پسماندہ علاقے میں جا رہے تھے۔۔۔
ناجانے وہ شخص اسے کہاں لے کر جا رہا تھا اور آگے اسکے ساتھ کیا کرنے والا تھا۔۔  سوچتے ہی وہ لرز کر رہ گئ۔۔  دل زور زور سے ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔
اسنے رحم طلب نگاہوں سے ساتھ بیٹھے اس خوبرو شخص کو دیکھا جسکے چہرے پر نرمی کی کوئی رمق تک نا تھی۔۔۔
یقیناً زندگی آگے بھی عائزل کے لئے آسان نہیں رہنے والی تھی۔۔۔۔۔
*******

No comments

Powered by Blogger.
4