Header Ads

khuab_e_janoon novel last part of last episode by Umme Hania۔




khuab_e_janoon novel last part of last episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

آخری قسط۔۔۔۔ آخری حصہ۔۔۔
مغیث نے گاڑی کا رخ ہسپتال کی جانب موڑتے راستے میں ہی باپ کو فون کر دیا تھا۔۔۔ وہ سب چھوڑ چھاڑ انکے پیچھے ہی ہسپتال پہنچا تھا۔۔۔ صلہ کی حالت کافی سیریس تھی نینا تو یہ سب دیکھ مسلسل روئے جا رہی تھی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں عفرا اور امان بھی پتہ چلنے پر پہلی فرصت میں وہیں تھے۔۔۔
صلہ کو انجائنا کا اٹیک ہوا تھا۔۔۔ بقول ڈاکٹر اسنے کسی چیز کی بہت ٹینشن لی تھی۔  اور اسکا سقدر ٹینشن لینا اسکی طبیعت کے حوالے سے ٹھیک نہیں تھا۔۔۔ 
عفرا نے روتی بلکتی نینا کو ساتھ لگائے اس سے معاملہ جاننا چاہا اور اسکے انکشاف پر ہر شخص جہاں کا تہاں رہ گیا تھا۔۔۔ 
ماضی ایک مرتبہ پھر سے انکا تعاقب کار تھا۔۔۔
*****
کچھ دیر بعد صلہ کو ہوش آیا تو سب باری باری اس سے ملنے گئے۔۔۔ امان بچوں کو سکول سے پک کرنے واپس جا چکا تھا جبکہ عفرا ہنوز وہیں تھی۔۔۔
نعمان کو دیکھتے ہی صلہ سسک اٹھی تھی۔۔۔
نعمان۔۔۔ میرا ماضی میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتا۔۔۔ وہ لوگ میری بیٹی کو استعمال کر رہے ہیں نعمان۔۔۔ میں کیا کروں۔۔۔ وہ ٹوٹ کر بکھر رہی تھی۔۔۔
خاموش ہو جاو صلہ۔۔۔ تم ایک بہت باہمت اور بہادر عورت ہو تم یوں ٹوٹ نہیں سکتی۔۔۔ سمبھالو خود کو۔۔۔ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔۔۔ وہ تمہارے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دے گا۔۔۔ نعمان نے اسکے پاس بیٹھتے محبت سے اسکے آنسو صاف کئے ۔۔۔ 
عفرا خاموش سی ضبط کئے کچھ فاصلے پر موجود صوفے پر بیٹھی تھی ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر رکھے کہنی صوفے کی ہتھی پر جمائے ہوئے تھی جبکہ نگاہیں کھڑکی سے باہر درختوں پر پھدکتی چڑیا پر تھی۔۔۔ اسکے برعکس سماعت اندر ان دونوں کی جانب ہی مبذول تھی۔۔۔ جبکہ نینا اور مغیث افسردہ سے پاس ہی کھڑے تھے۔۔۔
اپنی تربیت پر بھروسہ رکھو صلہ۔۔۔ وہ تمہاری بات سمجھے گی۔۔۔
مجھے اپنی تربیت پر بھروسہ ہے نعمان۔۔۔ لیکن میری بیٹی نادان ہے۔۔۔ کم عمر ہے۔۔۔ میں نہیں کہتی کے وہ غلط ہے۔۔۔ وہ لوگ اسکے دماغ کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔۔۔ اسے مس گائیڈ کر رہے ہیں۔۔۔ اور مجھ سے بہتر اور کوئی نہیں جان سکتا کے اس عمر میں اپنی جذباتیت کے ہاتھوں انسان کتنے خسارے اکھٹے کر لیتا ہے۔۔۔ نعمان میں اپنی بچی کی زندگی خساروں کی نظر نہیں کر سکتی۔۔۔
صلہ تمہیں بہت پہلے اپنی بچیوں کو اعتماد میں لے کر انہیں سب بتا دینا چاہیے تھا۔۔۔ سب کچھ انکے علم میں ہوتا تو آج کوئی انہیں مس گائیڈ نا کر سکتا۔۔۔
عفرا نے نظریں کھڑی سے ہٹاتے صلہ کی جناب موڑیں جبکہ صلہ نے اسکی بات سن کر نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔
سب کچھ اتنا مکمل اور ٹھیک چل رہا تھا کے میں نے اسکی  کبھی ضرورت ہی محسوس نا کی۔۔۔ وہ تھکان زدہ سی واپس لیٹ گی۔۔۔
کوئی بات نہیں صلہ۔۔ اگر وہ لوگ عینا کو مس گائیڈ کر رہے ہیں تو تم اسکی گائیڈلائن سیدھی کردو۔۔۔ اور مجھے اپنی بیٹیوں پر پورا یقین ہے اتنی آسانی سے کوئی انکے دماغ کیساتھ نہیں کھیل سکتا۔۔۔ کیونکہ ابھی انکا باپ زندہ ہے۔۔۔ نعمان مضبوط لہجے میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ جبکہ صلہ اسے دیکھتی ہی رہ گئ۔۔۔
*******
عینا جلے پیر کی بلی کی مانند کمرے میں یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔ ماں ہسپتال میں تھی تو اسے بھلا سکون کہاں آنا تھا۔۔۔ سب اپنی جگہ مگر وہ ماں کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔ دل کرلا رہا تھا۔۔۔۔ اندر سے پشیمانی بھی ہو رہی تھی۔۔۔ وہ خود میں اتنی ہمت مفقود پاتی تھی کے ہسپتال ماں کے پاس ہی چلی یا کسی سے انکے بارے میں پوچھ ہی سکتی۔۔۔
دوپہر سے شام ہو گئ تھی لیکن کوئی بھی گھر نہیں لوٹا تھا۔۔  اسکی بے چینی بڑھنے لگی۔۔
اسنے ایک دو دفعہ نینا کو فون کر کے دریافت کرنا بھی چاہا مگر وہ بھی اس سے بات کر کے راضی نا تھی۔۔۔
اس نے خود صبح سے کچھ نا کھایا تھا۔۔۔ ٹینشن اور بھوک سے اسکا سر چکرانے لگا تھا مگر کچھ کھانے کا بھی دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔
دفعتاً دروازے پر دستک ہوئی تو وہ چونک کر پلٹی۔۔۔ سامنے سنجیدہ سا نعمان کھڑا تھا۔۔۔
عینا اپنے آپ میں شرمندہ ہوتی سر جھکا گئ۔۔۔ کل تک وہ باپ کی لاڈلی تھی۔۔۔ حق سمجھ کر فرمائشیں کرتی اور لاڈ اٹھواتی تھی۔۔۔ لیکن اس ایک انکشاف نے ان دونوں کے درمیان اجنبیت کی ایک دیوار حائل کر دی تھی۔۔۔ وہ باپ کے سامنے سر تک نہیں اٹھا پا رہی تھی۔۔۔ اسے اپنا آپ سامنے کھڑے شخص کے احسانوں تلے دبا ہوا محسوس ہونے لگا۔۔۔۔
کیا میں اپنی بیٹی سے کچھ دیر بات کر سکتا ہوں۔۔ 
وہ مسکرا کر نرم لہجے میں کہتا اسکی جانب بڑھا۔۔۔ جبکہ عینا نے نم آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ وہی شفیق لہجہ وہی نرم نگاہیں۔۔ کچھ بھی تو نا بدلا تھا۔۔۔ عینا کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا۔۔۔۔
کیا ہوا عینو۔۔۔ اپنے بابا سے شیئر نہیں کرو گئ۔۔۔۔ وہ سامنے کھڑی اس لڑکی کے احساسات بخوبی سمجھ رہا تھا تبھی محبت سے اسکے سر پر دست شفقت دراز کیا تو وہ ضبط کھوتی باپ کے سینے سے لگی رو دی۔۔۔
ماں کی بیماری کا خوف اور باپ کا اپنائیت بھرا لہجہ ۔۔ اسے واقعی اس وقت ایک جذباتی سہارے کی ضرورت تھی۔۔۔۔۔
بابا وہ کہتیں ہیں کے آپ میرے بابا نہیں۔۔۔ وہ ثانیہ کا حوالہ دیتی گویا ہوئی۔۔۔
اور آپ کیا کہتی ہو۔۔۔ آپکو کیا لگتا ہے۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
آپ میرے بابا ہو۔۔۔ وہ اپنے لفظوں پر زور دیتی اسکا کوٹ مٹھی میں میچتے مزید شدت سے رو دی۔۔۔
تو پھر مسلہ کیا ہے پرنسس۔۔ اسنے عینا کا سر تھپتھپایا۔۔
ماں ناراض ہے۔۔۔
کیوں۔۔۔ 
کیونکہ وہ میری حارث سے شادی نہیں کروانا چاہتیں۔۔ اور مجھے حارث سے ہی شادی کرنی ہے۔۔۔۔
بیٹا آپکو لگتا ہے آپکا باپ آپکے ساتھ کوئی ناانصافی ہونے دے گا۔۔۔
کیا آج تک آپکا کوئی کام آپکی خلاف رائے ہوا۔۔۔ وہ سنجیدہ ہوا تو عینا کے آنسو بھی ٹھٹھرنے لگے۔۔۔
وہ یک ٹک باپ کا چہرا دیکھنے لگی۔۔۔۔
جب آج تک ایسا نہیں ہوا بیٹا تو یقین رکھو  آگے بھی ایسا نہیں ہوگا۔۔۔
آپ کی شادی وہیں ہوگی جہاں آپ چاہتی ہو۔۔۔ آپکے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کرے گا۔۔۔ نعمان گہرا سانس خرج کرتا پیچھے صوفے پر بیٹھا۔۔۔
اور ماما۔۔۔ وہ ہنوز معتجب تھی۔۔۔
وہ آپ مجھ پر چھوڑ دو۔۔۔ اسے سمجھانا میرا کام ہے۔۔۔ وہ دروازے کی جانب دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
جہاں سے باہر کچن دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ جہاں عفرا کھڑی صلہ کے لئے سوپ بنا رہی تھی۔۔۔۔ 
وہ نعمان کے ساتھ ہی گھر آئی تھی صلہ کے لئے کھانا بنانے جبکہ نینا اور مغیث وہیں تھے ماں کے پاس۔۔۔
لیکن۔۔۔ دفعتاً اسنے نگاہئن ہٹا کر عینا پر مزکور کیں۔۔۔
لیکن ۔۔۔  عینا کے لب سرگوشی کی مانند پھڑپھڑائے۔۔۔
آپکو ایک مرتبہ تسلی سے اپنی ماں کی بات سننی ہوگی۔۔۔ اسکے بعد آپکا جو بھی فیصلہ ہوگا اس میں میں آپکے ساتھ ہوں۔۔۔ وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور کوٹ کا بٹن بند کرتا دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔
بابا۔۔۔ دفعتا عینا کی آواز پر وہ رکا مگر پلٹا نہیں۔۔۔
مجھے بھی ماں کے پاس جانا ہے۔۔۔
وہ منمنائی۔۔۔ نعمان کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔۔۔
آجاو۔۔۔
*****
عینا آہستگی سے کمرے کا دروازہ دھکیل کر اندر
داخل ہوئی۔۔۔ سامنے بیڈ پر صلہ لحاف کندھوں تک اوڑھے سو رہی تھی۔۔۔ جبکہ دائیں جانب صوفے پر نینا بیٹھی تھی۔۔۔

مغیث وہاں نہیں تھا۔۔ البتہ عفرا اور نعمان صلہ کی ڈاکٹر سے بات کرنے گئے تھے۔۔۔۔
وہ خاموشی سے آ کر نینا کے پاس بیٹھی تو اسے دیکھتے ہی نینا نے منہ پھیر لیا۔۔۔
عینا تڑپ کر رہ گئ۔۔۔
تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی نینو۔۔۔ 
اور تم جو مرضی کرتی پھرو۔۔۔ نینا تڑخ کر کہتی اسکی جانب پلٹی۔۔۔
کس نے حق دیا تمہیں ماما کے ساتھ اتنی بدتمیزی کرنے کا۔۔۔
کیا بدتمیزی کی میں نے۔۔۔ میں نے تو انکا ماضی جاننے کے بعد ایک سوال تک نا کیا ان سے۔۔۔ حالانکہ انہوں نے یہ سچائی ہم سے چھپائی۔۔ میں نے تو محض اپنے۔۔۔
کونسی سچائی چھپائی ماں نے ہاں۔۔ وہ جرح پر اتری۔۔۔
سب کچھ تو روز روشن کی طرح واضح ہے۔۔ کہاں تمہیں لگا کے ماں نے کچھ چھپایا ہم سے۔۔۔
نینا کے بپھرنے پر عینا ٹھٹھکی۔۔۔ یہ کیا کہہ رہی تھی وہ۔۔۔ اسنے تھوک نگلا

سات سال کے تھے ہم جب نعمان بابا ہمیں ملے۔۔۔ مغیث ہمارا سگا بھائی نہیں ہے۔۔ بابا ہمارے بائیولوجیکل فادر نہیں۔۔۔ یہ بات اس عمر میں تو نہیں پتہ تھی مگر وقت گزرنے کیساتھ ساتھ سمجھ آ ہی گئ نا۔۔۔ 
تو اسکا سیدھا سا مطلب ایک ہی ہے کہ ماں کا ماضی کچھ تو رہا ہوگا نا۔۔۔ جو اگر قابل فخر ہوتا تو یقیناً وہ ہم سے شیئر کرتیں۔۔۔۔ اس میں کچھ شیئر کرنے لائق نہیں ہوگا تو انہوں نے نہیں کیا نا ہم سے شیئر۔۔۔ وہ برہمی سے بول رہی تھی۔۔۔ جبکہ نینا نے حیرت سے اسے دیکھتے کچھ کہنے کو منہ کھولنا چاہا۔۔۔
اس کے باوجود اگر کوئی مجھے یہ کہے کے نعمان بابا میرے بابا نہیں تو میں اسکا سر کھول دوں گی۔۔۔ کیونکہ صرف وہی میرے بابا ہیں اور انکے سوا میں کسی کو نہیں جانتی۔۔۔ اپنی بات مکمل کر کے اسنے پھر سے غصے سے اپنا منہ پھیرا جبکہ عینا ششدر سی بیٹھی رہ گئ۔۔۔
****
یہاں آو میرے پاس دونوں۔۔۔۔ صلہ تکیوں کے سہارے نیم دراز تھی۔۔۔ کمرے میں صرف وہ دونوں بہنیں ہی تھیں باقی سب اس سے مل کر جا چکے تھے۔۔۔ حتی کہ نعمان ان تینوں کو سپیس دینے کی خاطر مغیث کو بھی ساتھ لے گیا تھا۔۔۔
ماں مجھے معاف کر دیں۔۔ میں آپکو ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ عینا ماں کے پاس آ کر بیٹھتی شرمندگی سے گویا ہوئی۔۔۔
جبکہ صلہ کہیں دور خلاوں میں دیکھ رہی تھی۔۔۔
آج میں تم دونوں کو ایک کہانی سناوں گی۔۔۔ غور سے سننا۔۔۔ اسنے جیسے عینا کی بات سنی ہی نا تھی۔۔۔
 بہت سال پہلے ایک باغی لڑکی ہوا کرتی تھی۔۔۔
دور خلاوں میں دیکھتے اسکی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا۔۔۔
ماضی کی خاردار جھاڑیوں کا سفر آسان نا تھا۔۔۔
اور پھر وہ ان نوکیلے کانٹوں اور پتھروں پر برہنہ پاوں چلتے سب بتاتی چلی گئ۔۔۔ ایک دنیا سے لڑ کر انکا شادی کرنا۔۔۔ شادی کے بعد سسرال والوں کا رویہ۔۔۔ اسکا امید سے ہونا۔۔۔ بالاج کے فنانشلی حالات۔۔۔
اسکے گھر دو ننھی پریوں کی پیدائش۔۔۔ بیٹیوں کی پیدائش پر سسرال والوں کا ردعمل۔۔۔ صلہ کا اندھا ہونا۔۔ اسکی ماں کی قربانیاں۔۔۔ مشل اور اسکی نندوں کی سازشیں۔۔۔ صلہ کا بالاج کو دکان بیج کر باہر بھیجنا۔۔۔ماں کی موت۔۔۔ پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالاج کا واپس آنا ۔۔۔ اسکی دوسری شادی اور صلہ کو طالاق دینا۔۔۔
اور یہاں آ کر اسکی ہچکی بندھ گئ تھی۔۔۔ آنکھ آنسو نہیں خون بہا رہی تھی۔۔۔
اور یہاں پر بھی بس نہیں ہوئی۔۔۔ اس شخص نے طالاق نامے پر میری بیٹیوں کو اپنانے سے انکار کر دیا۔۔۔ طالاق کی وجوہات میں ان شہزادیوں کو ناجائز قرار دیا۔۔۔۔
صلہ نے دائیں جانب پڑا طلاق نامہ اٹھا کر انکے سامنے رکھا۔۔۔ اور سلسلہ کلام وہیں سے جوڑا۔۔۔
طلاق کے بعد کی اسکی سٹرگل۔۔۔ اپنی بچیوں کو تحفظ اور معیاری زندگی فراہم کرنے کی جدوجہد۔۔۔ پھر نعمان کا اسکی زندگی میں آنا اور بالاج کا واپس ہنگامی صورت میں اسکی زندگی میں آ کر وہاں ہلچل مچانا اور اسکا نعمان سے نکاح ۔۔۔ ایک ایک بات پوری جزئیات سے انکے گوش گزارنے کے  بعد وہ نڈھال سی تکیے پر سر رکھ گئ۔۔۔ جبکہ دونوں بچیاں جیسے کسی صدمے کے تہت ساکت و جامد تھیں۔۔۔ کیا کچھ نا سہا تھا انکی ماں نے۔۔۔۔آنسو تینوں کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔۔۔
آئی ایم سوری ماں ۔۔۔ مجھے معاف کر دیں۔۔۔ عینا نے کپکپاتے ہاتھوں سے ماں کے پاوں تھامے ۔۔۔
نہیں بچے۔۔۔ بس تم میرے جڑے ہوئے ہاتِوں کی لاج رکھ لو۔۔۔ اپنی ماں کی کہانی مت دہرانا۔۔۔ مانتی ہوں یہ میرا مقافات عمل ہے لیکن خدارا تم اس مقافات عمل کے چکر کو توڑ دو۔۔  ان بے قدرے لوگوں میں مت جانا وہ میری پھول سی بیٹی کی قدر نہیں کر سکتے۔۔۔
میں۔۔ میں محبت کی شادی کے خلاف نہیں ہوں بچے۔۔  تمہیں احمر سے شادی نہیں کرنی مت کرو۔۔۔ تمہیں اپنی پسند سے شادی کرنی ہے ۔۔۔ کرو۔۔۔
مگر محبت بھی ایسے انسان سے کرو جو تمہارا قدردان ہو۔۔۔ جو محبت سے زیادہ تمہیں عزت دے اور معاشرے سے دلوا سکے۔۔۔ جو ہر لحظ سے تمہارے لئے موافق ہو۔۔۔ صرف محبت کی پٹی آنکھوں پر باندھے باقی سبھی حقائق کو نظر انداز مت کرو میری جان۔۔۔ صحیح انسان سے محبت کرو تمہاری ماں وہاں خود تمہاری شادی کروائے گی۔۔۔ 
صلہ نے اسکے ہاتھ اپنے پاوں سے اٹھاتے اپنے ہاتھوں میں تھامے۔۔۔
وہ سسک کر ماں کے سینے سے جالگی۔۔۔ نہیں ماں۔۔۔ آپ جہاں کہیں گی میں شادی کرنے کو راضی ہوں۔۔۔  جس سے جب کہیں گئ میں تیار ہوں۔۔۔۔
بس آپ مجھے معاف کر دیں مجھے سے غلطی ہو گئ۔۔۔ وہ کسی معصوم بچے کی مانند اسکے سینے سے لگی کہہ رہی تھی ۔۔ صلہ نے دوسری بازو وا کی تو نینا بھی اس میں آ سمائی۔۔۔
اسنے شدت سے اپنی متاع جان کو خود میں بھینچا۔۔۔۔
*****
ماں آپ نے ابھی تک دوائی نہیں لی۔۔۔  عینا قمیض شلوار پر جیکٹ پہنے شال کندھوں کے گرد لپیٹے کہیں جانے کو تیار سی کھڑی ماں کو کھانا کھلانے کے بعد دوائی کھلا رہی تھی۔۔ تین دن پہلے ہی اسے ہسپتال سے ڈسچارج مل گیا تھا اور تب سے اب تک ان دونوں بہنوں نے ماں کو ہتھیلی کا چھالہ بنا لیا تھا۔۔۔
پرسوں شام ہی ایک گھریلو تقریب میں صلہ کی خواہش پر احمر کے نام کی انگوٹھی اسکی انگلی میں پہنا دی گئ تھی اور ایسی ہی ایک انگوٹھی نینا کی انگلی میں مغیث کے نام کی بھی جگمگا رہی تھی۔۔۔ 
بیٹا کہیں جا رہی ہو۔۔۔ دوائی کھا کر پانی کا گلاس واپس اسے پکڑاتے صلہ گویا ہوئی۔۔۔
جی ماں ایک ضروری کام سے جا رہی ہوں۔۔۔ ابھی مت پوچھنا واپس آ کر بتاوں گی۔۔۔
وہ ماں کو واپس لٹا کر ان پر لحاف اوڑھا کر وہاں سے باہر نکل گئ۔۔۔۔۔
****
وہ واپس اسی گھر کے باہر کھڑی تھی جہاں چند روز پہلے حارث کے ساتھ آئی تھی۔۔۔
مگر آج ان آنکھوں میں کوئی تجسس نا تھا۔۔۔ بلکہ آج وہاں صرف نفرت تھی صرف اور صرف نفرت۔۔۔
اسنے دروازے پر ہاتھ رکھا تو وہ کھلتا ہی چلا گیا۔۔۔
وہ خاموشی سے اندر داخل ہوئی۔۔۔ صحن میں کوئی نا تھا۔۔۔ ہر جانب گندگی ہی گندگی تھی۔۔۔ جیسے ناجانے کتنے دنوں سے وہاں صفائی نا کی گئ ہو۔۔۔ یہیں پر اسکی طبیعت مکدر ہونے لگی۔۔۔
اندر سے اسے پاٹ دار آواز سنائی دی۔۔۔
اب کیا سارا دن یہیں لیٹے لیٹے پلنگ توڑنے کا ارداہ ہے کیا۔۔ کہیں کسی کام پر لگ جا۔۔۔ کب تک ماموں کے پیسوں کے سہارے جینے کے ارادے ہیں۔۔۔ یہ آواز غالباً اس کی پھوپھو کی تھی۔۔۔ انکا طرز تخاطب سن کر بے ساختہ عینا نے حیرت سے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔۔
چپ کر جا ماں۔۔۔ میرا دماغ پہلے ہی بہت خراب ہے۔۔۔ تیری انہی حرکتوں کی وجہ سے تیرا بڑا بیٹا تجھے چھوڑ گیا ۔۔۔ سکون تیری جان کو اب بھی نہیں۔۔۔ یہ بدتمیزانہ لہجہ حارث کا تھا اسے پہچاننے میں کوئی تامل نا ہوا۔۔۔ آنکھوں میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔۔۔ اس شخص کے لئے وہ اپنی ماں کے روبرو ہوئی تھی۔۔۔
ارے وہ تھا ہی پکا رن مرید۔۔۔ بیوی نے یوں انگلیوں پر لگایا اور وہ منہ اٹھا کر چل دیا ماں کو چھوڑ کر اسکے ساتھ ناہجار نہ ہو تو۔۔۔  وہ غصے سے اسکے قریب ہی صوفے پر بیٹھی۔۔۔
ویسے میں نے سنا ہے ماں کسی زمانے میں آپ بھی بابا کو ایسے ہی گھر سے لے کر نکلی تھیں۔۔۔ موبائل پر مسلسل کچھ ٹائپ کرتی حفصہ کی زبان میں کھجلی ہوئی تھی۔۔۔
بکواس بند کر اپنی۔۔۔ ثانیہ نے وہیں سے جوتا اٹھایا۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ مارتی حفصہ اسکی پہنچ سے دور تھی۔۔۔
تین دن ہوگئے ہیں عینا نا میرا فون اٹھا رہی ہے اور نا یونیورسٹی آ رہی ہے۔۔۔ اسکے چہرے سے پریشانی ہوادیدہ تھی۔۔۔
ارے اس کو اپنے جال میں پھانس کر رکھ۔۔۔ سونے کے انڈے دینے والی مرغی ہے وہ ۔۔۔ کب تک بالاج کے پیسے پر کھاتے رہیں گے۔۔۔
ارے آج بالاج بھی جو کچھ ہے اسکی ماں کی کرم نوازی کی وجہ سے ہے۔۔۔ وہ اگر اسے اپنی دکان بیچ کر باہر نا بھیجتی تو آج یہ بھی یہاں دھکے کھا رہا ہوتا۔۔۔
اور سچی بات ہے اب نہیں سمبھلتی مجھ سے اسکی یہ معذور اولاد۔۔۔
اور ویسے بھی سنا ہے عینا کا دوسرا باپ ٹھیک ٹھاک پیسے والا ہے۔۔۔ تجھے کاروبار تو سیٹ کروا ہی دے گا۔۔۔۔
وہ رازدرانہ انداز میں اور بھی ناجانے کیا کیا کہہ رہی تھیں لیکن عینا کو اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا محسوس ہوا۔۔۔
وہ لوگ اسکی ماں کے کہے سے زیادہ بےحس تھے۔۔۔
وہ بنا آہٹ کئے الٹے قدموں باہر نکلی۔۔۔ اسکا یہاں دم گھٹنے لگا تھا۔۔۔ دل گھبرا رہا تھا کہ اگر انہیں انکی اصلیت عینا پر کھلنے کا پتہ  لگ گیا تو وہ لوگ کیا کریں گے۔۔۔ ابھی تک تو وہ اپنا اچھا تاثر عینا پر چھوڑنے کی غرض سے برخلافِ فطرت چل رہے تھے۔۔۔ 
وہ جلد سے جلد کسی کے بھی نوٹس میں آئے بنا وہاں سے نکل جانا چاہتی تھی۔۔۔
اسنے ابھی خارجی دروازہ عبور کیا ہی تھا جب کسی سے بے طرح ٹکرائی۔۔۔ اسنے حواس بختگی میں اوپر دیکھا۔۔۔
ارے عینا بیٹی آپ کب آئی اور جا بھی رہی ہو۔۔۔ وہ بالاج تھا جو اسے دیکھتے ہی کھل اٹھا تھا۔۔۔
نہیں ہوں میں آپکی بیٹی۔۔۔۔ اسے دیکھتے عینا کی آنکھوں میں مرچیں سی بھرنے لگیں۔۔
ایک پل میں بالاج کے چہرے کا رنگ نچھڑا تھا۔۔۔
میں صرف نعمان بابا کی بیٹی ہوں۔۔۔
ہم دونوں بہنوں سے رشتہ آپ نے بہت سال پہلے ہی توڑ لیا تھا۔۔۔ اور پتہ ہے کیا۔۔۔
وہ تھوڑا سا آگے کو جھکتی رازدرانہ انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
اب بھی جب کبھی رات میں تنہا بیٹھی سوچتی ہوں نا تو تھرا کر رہ جاتی ہوں کہ اگر نعمان بابا اتنی چاہت اور محبت سے ہمیں اپنا نام نا دیتے تو کیا مقام ہوتا ہمارا معاشرے میں۔۔۔ لفظ چبا چبا کر ادا کرتی وہ ضبط سے گویا ہوئی۔۔۔ 
بالاج کی آنکھوں میں نمی جمع ہونے لگی تھی۔۔۔
میرے بابا میرے سپر ہیرو ہیں۔۔۔ وہ کہتے ہیں کے انکی بیٹیاں انکا مان ہیں لیکن پتہ ہے کیا۔۔۔ دراصل وہ خود ہم دونوں کا مان ہیں۔۔۔ جنکے دم پر جنکے بل پر ہم نے دنیا کو دیکھا اسے تسخیر کیا اور جنکی بنا پر دنیا نے ہماری عزت کی ۔۔
وہ ہمارے بابا ہیں کیونکہ انہوں نے باپ ہونے کا حق ادا کیا۔۔۔ سگے بیٹے سے بڑھ کر بیٹیوں کو رحمت مانا۔۔۔
اور انکے نام کے ساتھ بھی مجھے شراکت گوارا نہیں۔۔۔ میرے صرف ایک بابا ہیں جنکی برابری دنیا کا کوئی دوسرا شخص نہیں کر سکتا۔۔۔
اپنی بات کہتی وہ تیز تیز قدم اٹھاتی سامنے سے آتی ٹیکسی کو روک کر اس میں سوار ہو گئ ۔۔۔۔
جبکہ اسے حسرت سے جاتا دیکھ ایک آنسو بالاج کی آنکھ سے  ٹوٹ کر گرا۔۔۔۔ 
******
بس کرو میرا بیٹا اب خاموش ہو جاو۔۔۔ تمہیں کہا کس نے تھا کے تم واپس وہاں پر جاو۔۔۔ عینا جب سے گھر واپس آئی تھی ماں کے گلے لگی مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔
وہ اسے چپ کرواتی کرواتی ہلکان ہو گئ تھی۔۔۔
ماں میں وہاں جاتی نا تو انکے اتنے گھٹیا منصوبے سے کیسے واقف ہوتی۔۔۔۔
نینا سامنے صوفے پر بیٹھی تاسف سے بہن کو دیکھ رہی تھی۔۔ وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی سو کر اٹھی تھی اور شاور لے کر ماں کے پاس آگئ تھی۔۔۔ کھلے نم بال پشت پر پھیلے تھے جبکہ آنچل سینے پر پھیلا رکھا تھا۔۔۔
اچھا چلو اب بس بھی کرو۔۔۔ اٹھو ناشتہ بناو کبھی مجھے بھی اپنے ہاتھ کا کچھ کھلا دیا کرو۔۔۔ اب تو تم چند دنوں کی مہمان ہو۔۔۔ نینا نے ہلکے پھلکے انداز میں ماحول کی کثافت دور کرنی چاہی۔۔۔
میں شکر ادا کرتی ہوں ماں کے ان گھٹیا لوگوں کے بچھائے جال میں پھس کر میں نے کہیں کوئی غلط قد م نہیں اٹھا لیا۔۔۔ بس اب تو اس محبت نامی لفظ سے بھی نفرت ہوگئ ہے۔۔۔ اعتبار ہی اٹھ گیا ہے۔۔۔
وہ رگڑ کر آنسو صاف کرتی سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔
اوہ ہیلو محترمہ ۔۔۔
اعتبار تمہارا اٹھا ہے نا محبت سے دوسروں کا بھی کیوں اٹھانے پر تلی ہو۔۔۔ ہماری تو ابھی شروعات ہے ۔۔ اچھا اچھا بولو نا۔۔۔
ہے نا نینا۔۔۔
دفعتا وہ ہوا کے جھونکے کی مانند اندر داخل ہوا تھا اور دھپ سے صوفے پر نینا کے ساتھ بیٹھا اور اسکا ہاتھ تھام کر مخمور مگر شرارتی نگاہوں سے اسے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
جبکہ نینا۔۔۔ وہ تو اس اچانک افتاد پر سٹپٹا کر ہی رہ گئ تھی۔۔۔ اسنے بوکھلاہت میں سامنے موجود ماں اور عینا کو دیکھا۔۔۔ اور سرعت سے نگاہیں جھکا گئ۔۔۔
صلہ ہسی ضبط کرتی چہرا جھکا گئ تھی جبکہ عینا روتے روتے ہی ہس دی تھی۔۔۔ 
نینا نے مغیث کو آنکھیں دکھا کر اس سے ہاتھ چھڑوایا اور عینا کو گھورا۔۔۔۔
ارے احمر یار آو آو۔۔۔۔ ابھی عینا تمہارا ہی ذکر کر رہی تھی۔۔۔
مغیث یکدم دروازے کی جانب دیکھتا خوشدلی سے گویا ہوا۔۔۔
عینا کرنٹ کھا کر پلٹی اور حواس باختہ سی اپنا آنچل درست کرنے لگی جب دروازے کی جانب دیکھتے اسکے ہاتھ سست پڑے۔۔۔
جبکہ اب کی بار اسکا ریکارڈ لگانے کی باری نینا کی تھی۔۔۔ جو پیٹ پکڑے ہس ہس کر دہری ہو رہی تھی کیونکہ مغیث نے مذاق کیا تھا۔۔۔
عینا نے دانت پیستے کشن اٹھا کر اسے دے مارا۔۔۔۔
*****
ہال کچا کچ لوگوں سے بھرا پڑا تھا۔۔۔  سامنے سٹیج پر ڈائس کے پاس صلہ کھڑی تھی ۔۔ سیاہ عبایہ اور سکن کلر کے سکارف میں ملبوس۔۔۔۔  آج اسکا ایک بہت بڑا سیمینار تھا۔۔۔ وہ نعمان کے ساتھ ہی وہاں آئی تھی۔۔۔ لوگ طرح طرح کے سوالات اس سے پوچھ رہے تھے۔۔۔ 
میم بیٹیوں کی تربیت کے حوالے سے کچھ ٹپس اگر آپ دے سکیں کے کن پیمانوں پر ہم انکی تربیت کر سکتے ہیں۔۔۔ ایک خاتوں نے کھڑے ہوتے مائیک میں اس سے یہ سوال پوچھا تھا۔۔۔
سوال سن کر صلہ مسکرا دی۔۔۔
ساری بات ہی تو یہ ہے۔۔۔ کہ ہم بیٹیوں کی تربیت کے بارے میں بہت فکر مند ہوتے ہیں۔۔۔ اپنا سو فیصد انکی تربیت پر لگا دیتے ہیں۔۔ کیوں۔۔۔
کیونکہ انہوں نے گھر بسانا ہوتا ہے۔۔۔ سسرال میں وقت کاٹنا ہوتا ہے۔۔۔ ایک نسل کو پروان چڑھانا ہوتا ہے۔۔ رائٹ۔۔۔
وہ متوازن آواز میں بول رہی تھی۔۔۔ سارے ہال میں سناٹا چھایا تھا۔۔۔
لیکن اس سب میں ہم اپنا سو فیصد بیٹیوں کی تربیت میں تو لگا دیتے ہیں لیکن بیٹوں کی تربیت کرنا بھول جاتے ہیں۔۔۔
اور میرے خیال سے ہمیں زیادہ ضرورت بیٹوں کی تربیت کرنے کی ہوتی ہے۔۔۔ 
ہم انہیں یہ سیکھاتے ہی نہیں ہیں کے انہیں آگے چل کر گھر کا سرپرست بننا ہے۔۔۔ ایک خاندان کا کفیل بننا ہے۔۔۔
ٹھیک ہے کہ اسلام نے مرد کو ایک درجہ عورت سے اوپر رکھا ہے۔۔۔۔
 لیکن کس بنیاد پر یہ چیزیں ہم اپنے بیٹوں کو نہیں سکھاتے۔۔۔ یہ ہی وجہ ہے کے آگے چل کر ایک بیٹی تو اپنا گھر بسانے میں سو فیصد دے دیتی ہے لیکن بیٹا اتنی ساری ذمہ داریوں کو ایک ساتھ دیکھ کر اپنے رشتوں میں توازن ہی قائم نہیں کر پاتا۔۔۔۔  اور اصل بگاڑ بھی وہیں سے شروع ہوتا ہے۔۔
اس لئے چاہے بیٹی ہو یا بیٹا دونوں کی تربیت کے پیمانے ایک سے رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ کیونکہ عورت اگر نسلوں کی امین ہے تو رشتوں میں توازن مرد نے قائم کرنا ہے۔۔۔ 
میرے پاس بہت سے کیس آتے ہیں اس حوالے سے۔۔۔ ابھی پچھلے دنوں ایک کیس آیا ۔۔۔ ایک بوڑھی عورت جسکا کہنا تھا کہ اسکے شوہر کا انتقال بہت پہلے ہو گیا تھا اسنے محنت کر کے اپنے بچے پالے اور آج شادی کے بعد بیٹا اسے پوچھتا تک نہیں۔۔۔۔
ایسے کیسز سن کر دکھ ہوتا ہے۔۔ لیکن ہم اس چیز کی روٹ میں جا کر اسکی وجہ نہیں تلاش کرتے۔۔۔ ہمارے پاس ایک آسان سا جواب ہوتا ہے۔۔۔ بیوی آئی اور اسنے اسے سب سے بدزن کر دیا۔۔۔
اب میں آپکو اسکا ریسرچز کے مطابق جواب دیتی ہوں۔۔۔ زرا غور سے سنیئے گا۔۔۔
ایک بچے پر جب بے جا روک ٹوک ہوتی ہے۔۔۔ اسکی غلطیوں پر اسے ان خطاوں سے روکنے کے لئے تربیت کے نام پر اس پر ہاتھ اٹھایا جاتا ہے۔۔۔ اسکی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی تو شروع سے ہی اسکی ذات میں جھول رہنے لگتے ہیں۔۔۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم ان پر روک ٹوک انکی تربیت کے لئے کر رہے ہیں انہیں صحیح غلط کی پہچان کروانے کے لئے۔۔۔ غلط کاموں سے روکنے کے لئے۔۔۔ جیسے اگر کوئی بچہ پہلی دفعہ سگریٹ پیتا ہے تو ہمارے پاس اسے روکنے کا طریقہ ہاتھ اٹھانا ہی ہوتا ہے۔۔۔ 
کہ دوبارہ پیو گے سگریٹ۔۔۔
اس سے کیا ہوتا ہے۔۔۔ اس سے ہوتا یہ ہے کہ بچہ آپکے سامنے سگریٹ نہیں پیئے گا آپکی بات مانے گا۔۔۔ آپکا تابعدار بن جائے گا۔۔۔۔ لیکن آپ سے چھپ کر سگریٹ ضرور پیئے گا۔۔۔ وہ رکے گا نہیں ۔۔۔ صرف طرز تبدیل کر لے گا۔۔۔
ابھی وہ چھوٹا ہے۔۔۔ خود مختار نہیں ۔۔۔ آپ پر انحصار کرتا ہے۔۔۔ اسے آپکی ضرورت ہے۔۔۔ اس لئے آپکے ڈر کے باعث وہ آپکی باتیں مانے گا۔۔۔
لیکن یہ ہی بچہ جب خود مختار ہو جائے گا تو وہ آزاد فضاوں میں سفر کرے گا۔۔۔ 
وہ ان رشتوں سے دامن چھڑوائے گا۔۔۔ اس میں فیکٹر اس نئ آنے والی لڑکی کا نہیں ہوتا۔۔۔ یہ صرف ملبہ کسی کے سر ڈال کر بات ختم کرنے والی بات ہوتی ہے۔۔۔ یہ ابتدا میں ماں باپ اور بچے کے رشتے کے جھول ہوتے ہیں۔۔۔
اس لئے آپکا اور آپکے بچے کا رشتہ ڈر کا نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ وہ دوستی کا ہونا چاہیے۔۔۔
اب وہ کیسے۔۔۔
وہ ایسے کے چاہے بیٹا ہو یا بیٹی۔۔۔ پیرنٹنگ کے تین سٹیپ ہیں۔۔۔
پہلے سٹیپ میں بچے کی  پیدائش سے سات سال تک کا عرصہ ہوتا ہے جس میں بچہ سب ابزرو کرتا ہے۔۔۔ 
وہ وہی سب کرے گا جو سب وہ اپنی ماں یا باپ کو کرتے دیکھے گا۔۔۔ ماں باپ کے لہجوں میں نرمی ہو گی تو بچے کے لہجے میں خودباخود نرمی آئے گی وہ لہجوں کے تیز ہونگے تو بچہ بھی لہجے کا تیز ہی ہوگا۔۔۔
اس عمر میں بچے پر ہاتھ اٹھانا اسکی شخصیت کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔۔۔ اکثر مائیں بچوں کی ضد کے ہاتھوں پریشان ہو کر یا اپنی پریشانیوں کے باعث اپنی فریسٹریشن اپنے بچوں پر نکال دیتی ہیں۔۔۔  میں نے بھی ابتدائی مراحل میں یہ ہی کیا۔۔۔ وہ بات کرتی ہلکا سا مسکرائی۔۔۔
لیکن یہ ایک غلط طریقہ ہے۔۔۔ بہت ہی غلط طریقہ۔۔۔ جو بچوں کی شخصیت تباہ کر دیتا ہے۔۔۔
سب سے بہتریں طریقہ یہ ہے کہ اپنے بچوں سے انٹریکٹ کریں۔

۔ ان سے بات کریں۔۔ انہیں پیار سے سمجھائیں۔۔۔ وہ ضد پر اتریں تو بجائے انہیں ڈانٹنے کے انہیں پیار سے سمجھائیں۔۔۔ ان سے التجا کر کے اپنی بات سمجھائیں۔۔۔ پھر چاہے اس میں جتنا بھی وقت آپکو لگے۔۔۔ وہ بچے ہیں اور وہ التجا اور ریکویسٹ کو بہت جلد مان جاتے ہیں۔۔ ہاں غصہ اور ڈانٹ ڈپٹ وہ جلد ہضم نہیں کرتے۔۔۔
یہ وقت ایسا ہے جس میں آپکا بچہ وقت کا بادشاہ ہے اور آپ اسکی رعایا۔۔۔
بچے کی پسند نا پسند کو اہمیت دیں۔۔۔ اپنے چھوٹے چھوٹے فیصلے اسے خود کرنے دیں۔۔ آج اسنے کونسے کپڑے پہننے ہیں۔۔۔ یا اس فنگشن پر اسنے کس قسم کے کپڑے خریدنے ہیں۔۔۔  ہر چیز میں اسکی رائے لیں۔۔۔ اسکی رائے کو اہم جانے۔۔
پھر دوسرا مرحلہ آتا ہے آٹھ سے تیرا سال کی عمر کا۔۔۔
اب بچے کی اس عمر میں آپ بادشاہ ہیں اور آپکا بچہ آپکی راعایا۔۔۔
اب یہاں آپ اسے صحیح غلط کا بتائیں گے۔۔ گھر میں کچھ قانوں بنائیں گے جسے فالو کرنا سب پر لاگو ہو گا۔۔۔ یہاں آپ اسے ڈسپلن سیکھائیں گے ۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد برتن کہاں رکھنے ہیں۔۔۔ کھیلنے کے بعد کمرے کا میس کیسے سمیٹنا ہے ۔۔۔ بچے کی چھوٹی بڑی چیزیں کہاں ہے یہ اسے خود پتہ ہونا چاہیے۔۔۔
آپ کی نظر اسکی ہر سرگرمی پر ہونی چاہیے
 لیکن آپ نے  اس پر بے جا روک ٹوک نہیں کرنی۔۔۔۔۔ کیونکہ بےجا روک ٹوک بغاوت کو جنم دیتی ہے۔۔۔
تیسرا مرحلہ آتا ہے تیرہ سال سے بعد کی عمر کا۔۔۔ اور یقین جانے اگر پہلے دو مرحلے آپ نے اچھے سے گزار لیے ہیں تو اب آپکا بچہ خواہ وہ بیٹا ہے یا بیٹی۔۔۔ وہ آپکا دوست ہے۔۔۔
وہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات بھی آپ سے شیئر کرے گا۔۔۔ وہ زندگی کے کسی بھی حصے میں دنیا کی کسی بھی جگہ پر ہو گا وہ آپ سے تہی دامن نہیں رہ سکتا۔۔۔ وہ لوٹ کر آپکے  پاس آئے گا۔۔۔ وہ رشتوں میں توازن قائم رکھے گا۔۔۔ وہ پوری زندگی آپکا قدردان رہے گا۔۔۔۔۔ 
اسکی بات مکمل ہوتے ہی ہال تالیوں سے گھونج اٹھا تھا۔۔۔ سیمینار ختم ہو گیا تھا۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی سٹیج کے بیک ڈور کی جانب بڑھی جب اسے ایک لڑکی کی آواز سنائی دی۔۔۔
میم پلیز لاسٹ سوال۔۔۔ پلیز۔۔۔ 
وہ رک کر واپس پلٹی اور پھر سے ڈائس تک آئی۔۔۔
میری زندگی میں اس وقت اتنا کچھ برا چل رہا ہے۔۔۔ اتنی مشکلات ایک ساتھ آگی ہیں کہ میرا دل چاہتا ہے کے میں خودکشی کرلوں۔۔۔ بات کرتے اس لڑکی کی آواز بھرا گئ تھی۔۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کیا کروں۔۔میں اس چیز کو اوور کم کیسے کروں۔۔۔ کیا آپ مجھے اس حوالے سے گائیڈ کر سکتی ہیں۔۔۔
صلہ نے ایک گہری سانس خارج کی اور واپس ڈائس پر کہنی ٹکائی۔۔
 ہماری زندگی میں بہت سے مقامات ایسے آتے ہیں جب ہمیں لگتا ہیں کے ہم مر جائیں۔۔۔ اس سے زیادہ ہم نہیں سہہ سکتے۔۔۔ لیکن اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا کہ اللہ کبھی بھی انسان کو اسکی سکت سے زیادہ نہیں آزماتا۔۔۔ ہماری زندگی میں رونما ہونے والا ہر واقعہ اسکے حکم سے ہوتا ہے اور اس میں اس رب کی کوئی نا کوئی حکمت ہوتی ہے۔۔۔ اس لئے اس وقت کو اپنے رب پر کامل یقین توکل اور صبر سے کاٹنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ کیونکہ اگر آپکا یقین اپنے رب پر پختہ ہو تو آپ دیکھیں گے کے کچھ وقت گزرنے کے بعد وہ رب آپکو اس مسلے سے اتنے خوبصورت انداز سے نکال دے گا کے عقل دھنگ رہ جائے گی۔۔۔ جسے کبھی اس مسلے کا وجود ہو ہی نا۔۔۔
جیسے اگر میں اپنی مثال دوں تو میری زندگی میں ایسے مقامات بھی آئے جب مجھے لگا کے شاید اب میری زندگی میں سب ختم ہو گیا۔۔ بات کرتے اسکی اپنی آواز بھاری ہونے لگی تھی۔۔۔ اسنے بدقت خود کو سمبھالا۔۔۔
لیکن آج اگر میں اس مقام پر کھڑے ہو کر اپنی پچھلی زندگی کے بارے میں سوچوں تو اب۔۔  اسنے اب پر زور دیا ۔۔مجھے اس رب کی حکمتیں سمجھ میں آتی ہیں۔۔۔ وہ سب کڑیاں تھیں۔۔ وہ مسائل وہ مشکلیں وہ اذیتیں وہ سب کڑیاں تھیں جو مل کر ایک چین بنی وہی چین جو آج مجھے یہاں تک لانے کا باعث بنی۔۔۔
اب میں سوچتی ہوں کہ اگر تب وہ سب نا ہوا ہوتا تو آج یہ سب نا ہوتا۔۔۔ آج میں یہاں اس مقام پر آپ سب کے سامنے یوں اتنے اعتماد سے کھڑی نا ہوتی۔۔۔
یہ باتیں یہ حکمتیں ہمیں تب سمجھ میں نہیں آتی جب ہمیں کوئی تکلیف یا مسائل درپیش ہوں۔۔۔ یہ ہمیں کچھ وقت کے بعد سمجھ میں آتی ہیں۔۔۔ اس وقت تو صرف اپنے رب پر اندھا یقین اور کامل بھروسہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ چاہے کچھ ہوجائے وہ ہمیں تنہا نہیں چھوڑے گا اور اس وقت کو بھی گزار ہی دے گا۔۔۔
صرف حوصلے ہمت اور اللہ پر توکل کیساتھ اس سے مدد طلب کریں اور اگر آپ ان چیزوں پر ثابت قدم رہی تو کچھ وقت گزرنے کے بعد آپ دیکھیں گی آج جو پریشانیاں آپکو لاحق ہیں انکا کوئی وجود بھی نا ہوگا۔۔۔
صرف ان تین چیزوں کو پلو سے باندھ لیں۔۔۔ زندگی بہت سہل ہو جائے گی
اللہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے کوئی ہو یا نا ہو پر وہ ہے۔۔۔ وہ ہمارے حال سے واقف ہے اور ہماری ہر فریاد سن رہا ہے اور وہ انسان کو اسکی سکت سے زیادہ نہیں آزماتا۔۔۔۔۔
اللہ پر کامل یقین اور توکل سے مانگی دعا قسمتیں بدل دیتی ہیں۔۔
اور آخری چیز کے ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔۔۔ اللہ کبھی انسان پر سارے راستے بند نہیں کرتا کچھ راستے وہ ہمیشہ کھلے رکھتا ہے صرف انہیں تلاشنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ 
ہال ایک مرتبہ پھر سے تالیوں کی گھونج سے گھونج اٹھا تھا۔۔۔ وہ چمکتی آنکھوں سے ایک نظر لوگوں سے بھرے ہال کو دیکھتی پلٹی اور سر اٹھا کر مضبوط قدم اٹھاتی بیک ڈور سے باہر نکل گئ۔۔۔
*****
واہ محترمہ آپ تو چھاگئ۔۔۔ جہاں جاتی ہیں الگ ہی سماں باندھ دیتی ہیں۔۔۔ وہ گیسٹ کے لئے مختص ویٹینگ روم میں آکر اپنی چیزیں سمیٹ رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے سے آؤاز سنائی دی۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی پلٹی۔۔ نعمان گرے کلر کے پینٹ کوٹ میں ملبوس بازو سینے پر بازو باندھے دیوار سے ٹیک لگائے ایک ٹانگ موڑ کر دیوار پر رکھے کھڑ تھا۔۔۔
بس اللہ کے بعد آپ ہی کی کرم نوازیوں کا نتیجہ ہے۔۔۔۔ یہ اعتماد آپ ہی کا بخشا ہے۔۔۔۔ صلہ اسے دیکھ کر مسکرائی اور ہینڈ بیگ کی زپ بند کر کے کندھے پر لٹکائے اسکی جانب بڑھی۔۔۔
نہیں یہ میری بیوی کی قابلیت کا نتیجہ ہے۔۔۔ اسنے گلاسز کھول کر آنکھوں پر لگائے اور اسکے ساتھ ہی وہاں سے باہر نکل آیا۔۔۔
مغیث عینا اور نینا کو یونیورسٹی سے لے آیا ہے۔۔۔ 
ابھی امان کا فون آیا تھا وہ لوگ بھی گھر سے نکل چکے ہیں۔۔۔ بس تمہارا ہی انتظار تھا۔۔۔
وہ اسکے ساتھ چلتا بتا رہا تھا۔۔۔
آج وہ سب اکھٹے نکاح کے لئے کپڑوں کی خریداری کرنے جا رہے تھے۔۔۔ الگے ہفتے بچوں کا نکاح تھا۔۔۔  وہ اب جلد سے جلد اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونا چاہتی تھی۔۔۔
پارکنگ میں اسے دور سے ہی تینوں آپس میں نوک جھونک کرتے دکھائی دیئے۔۔۔ عینا اور مغیث میں حسب سابق کوئی بحث چل رہی تھی۔۔۔ جبکہ نینا اپنی ہسی دابے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
مام میں نے احمر کو ٹیکسٹ کر دیا ہے وہ ہمیں وہیں پر جوائن کر لے گا۔۔۔  گاڑی میں بیٹھ کر مغیث نے عینا کو کن اکھیوں سے دیکھتے ماں کو بتایا۔۔۔
نعمان نے گاڑی سٹارٹ کر کے سڑک پر دوڑائی۔۔ وہ باپ بیٹا آگے بیٹھے تھے جبکہ وہ تینوں پیچھے تھیں۔۔۔
چلو اچھی بات ہے وہ بھی اپنی پسند سے خریداری کر لے گا۔۔۔۔
آہمم۔۔۔ صلہ کے کہنے پر مغیث نے گلہ کنگھارا۔۔۔
مام آپکی بہو کی شاہنگ میں اپنی پسند سے کروں گا۔۔۔ اسکے یوں کہنے ہر جہاں صلہ اسکی جانب متوجہ ہوئی وہیں نینا بھی تڑپ کر سیدھی ہوئی۔۔
خبردار۔۔ خبردار جو آپ نے مجھے ماں یا بابا کی بہو کہا تو۔۔۔
لو اس میں برا ماننے والی کونسی بات ہے بھلا۔۔۔ مجھے لگا شاید میری پسند سے شاہنگ کرنے میں مسلہ ہے۔۔۔ وہ گہری سانس خارج کرتا سیدھا ہوا۔۔
بابا دیکھ رہیں ہیں آپ۔۔۔ وہ فوراً شکایتی دفتر کھولے باپ سے شکوہ کناں ہوئی۔۔۔
مغیث انسان بن جاو۔۔  وہ ہماری گڑیا ہے۔۔۔ ہاں آپ داماد ضرور بن سکتے ہو۔۔۔ نعمان نے حسب سابق اسی کی سائیڈ لی۔۔۔ نینا اتنے میں ہی کھل اٹھی تھی۔۔۔
مغیث نے منہ بسورا۔۔۔ دفعتاً اسکی آنکھیں چمکیں۔۔۔۔صلہ مسکرا کر ان سب کو دیکھ رہی تھی۔۔
باباااا۔۔۔ ویسے میں سوچ رہا تھا۔۔۔ وہ تجسس پھیلائے باپ سے مخاطب ہوا۔۔۔
وہ تینوں بھی اسکے پراسرار انداز میں اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔
کے میرے بچے آپکو کیا پکاریں گے نانا جان۔۔۔ یا دادا جان۔۔۔ 
اسکے یوں کہنے پر گاڑی میں ایک جانبدار قہقہ پھوٹا تھا ۔۔۔ عینا نے مغیث کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے اسے داد دی جبکہ نینا دانت پیس کر سر تھام کر بیٹھ گی۔۔ اس شخص سے جیتنا اسکے بس کی بات نا تھی۔۔۔
صلہ نے نم آنکھوں سے ان سب کو دیکھتے اپنے رب کے حضور انکی دائمی خوشیوں کی دعا کی
*********
ختم شد۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.
4