Header Ads

Guman say Agay complete novel by Umme Hania

  



Guman say Agay complete  novel  by Umme Hania

Guman say Agay is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels

Guman say Agah is a motivational  and encourgious story by Umme Hania of a strong person 
اتنی بڑی  بڑی بٹنوں کی حامل کی بینائی کیا ڈبی میں بند کئے گھر رکھ کر آئے ہو جو سامنے سے آتا کوئی زی روح تمہیں دکھائی نہیں دیتا۔۔۔  یونیورسٹی داخل ہونے کے بعد یہ شمائل حسن کی پہلی لب کشائی تھی۔۔۔۔ اس شخص کی اس غیر ذمہ درانہ حرکت سے لمحوں میں اسکا دماغ گھوما تھا صبیح پیشانی پر جابجا شکنوں کا جال بچھا تھا جس کے باعث وہ آنکھوں کو  مزید چھوٹا کئے سامنے والے سے مستفسر تھی  جو پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے  لب بھینچے سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس لڑکی کے اتنے بدتمیزانہ طرز تخاطب نے اسکے اندر شعلے بھڑکائے تھے۔۔۔ بھلا پہلے کہاں سہا تھا اسنے کسی کا ایسا انداز و لہجہ ۔۔۔
۔ نہیں میری بینائی تو میرے پاس ہی ہے۔۔  البتہ تم جیسی لڑکیاں ہینڈسم اور امیر گھرانے کے لڑکوں کو دیکھتی اپنی بینائی کیساتھ ساتھ اپنی عقل و فہم اور نسوانیت کو بھی گھر میں گروی رکھے خود کو باقیوں میں نمایاں کرنے اور توجہ حاصل کرنے کو ایسے گھٹیا سٹنٹ کرتی ہیں۔۔۔ تاکہ خیرات میں کسی کے دو پل کے التفات کو جھولی میں ڈال سکیں   اور تم جیسیوں کے لئے یونیورسٹی اپنے ایسے کارناموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک پلیٹ فارم ثابت ہوتی ہے۔۔۔۔
مقابل اس پر سوا سیر تھا۔۔۔ لہجے کی تپش کو لفظوں کی صورت اگلتے وہ شمائل کو جلا کر بھسم کر دینے کے در پر تھا۔۔۔ آواز اتنی بلند ضرور تھی کہ اردگرد کے لوگ متوجہ ہونے لگے تھے۔۔۔ ٹک ٹاک بنانے کے لئے موجود مجمع اب اپنی سرگرمیاں ترک کرتا انکی طرف متوجہ ہوچکا تھا۔۔۔ دل کی بھراس نکال لینے پر اب مقابل  فاتحانہ نگاہوں سے شمائل کی اڑی اڑی رنگت دیکھ رہا تھا۔۔۔۔  شمائل اسکی اس قدر بیہودگی پر خون کے گھونٹ پی کر رہ گئ تھی۔۔۔ صورتحال اسکی توقعات سے برعکس ہو چکئ تھی۔۔۔ یونیورسٹی کے پہلے ہی دن وہ اپنی ریپوٹیشن خراب کرنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔  مقابل پر وار کرنے کو ہتھیاروں کی اسکے پاس بھی کمی نا تھی۔۔۔ تاریخ گواہ تھی کہ وہ جب جب اپنی کرنی پر آئی تھی مقابل کو بھسم کر کے ہی چھوڑتی تھی مگر یہاں پر بھی باپ کا بے بسی بھرا وعدہ آڑے آگیا جو انہوں نے بیٹی کی باغی فطرت دیکھتے اسے یونیورسٹی جانے کی اجازت دیتے لیا تھا۔۔۔
مسٹر تمہارے اندھے پن کی وجہ سے میری فائل زمین بوس ہو چکی ہے انہیں اکھٹا کون کرے گا۔۔۔ مجمع لگا دیکھ اور بات کو مزید بڑھتا دیکھ وہ ضبط کرتی تحمل سے اپنی تیکھی ناک چڑھاتی جو کہ اسکے پرکشش چہرے کو مزید جاذبیت بخشتی تھی  بکھرے کاغذات کی جانب اشارہ کرتی گویا ہوئی۔۔۔
سات ملکوں کے جھنڈے کو اکھٹا کر کے نہیں لینا تھا نا خود کو پارسا ظاہر کرنے کی گھٹیا کوشیش نے یہ سب کیا ہے۔۔۔وہ دل جلاتی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسکے سر پر سلیقے سے اوڑھے آنچل کو دیکھتا طنزیہ گویا ہو۔۔۔ اس سے ٹکر لینے والا اپنے ہونے پر پچھتاتا تھا خود سے پنگا لینے والوں کے لئے وہ اسقدر ہی برا ثابت ہوتا تھا۔۔۔ یہ تو پھر ایک معمولی سی لڑکی تھی اسے وہ کس  خاطر میں رکھتا  بھلا۔۔۔۔
شٹ آپ  گھٹیا انسان۔۔۔ بس اسکی ضبط کی طنابیں یہں تک تھیں جو مزید اسکی گھٹیا الفاظی سنتی جھٹکے سے چھوٹیں تھی۔۔۔ وہ شخص مسلسل اسکی ذات پر کچوکے لگا رہا تھا اب میدان میں اترنا ناگزیر ہو گیا تھا۔۔۔ وہ بھوکی شیرنی بنی مقابل پر جھپٹی تھی اسکا ہاتھ ابھی پوری طرح سے مقابل کے گریبان پر پڑا بھی نا تھا جب  نوفل نے پوری قوت سے اسکا ہاتھ جھٹکا ۔۔۔۔۔ یہ سب نوفل کے لئے بھی غیر متوقع تھا ایک معمولی سی لڑکی اور اتنی جرات کہ وہ نوفل درانی کے گریبان پر ہاتھ ڈالتی۔۔۔ اندر سر ابھارتی شدت جذبات کی شوریدہ سر سرکش لہروں پر بند باندھنے کی اسنے ضرورت محسوس نا کی تھی۔۔۔ آنکھوں سے وحشت اور جنون ٹپکنے لگا تھا اسکے ہاتھ جھٹکتے ہی وہ اپنا اور صنف نازک کا فرق مٹائے اسکی جانب لپکا تھا غصے میں وہ ایسے ہی بے قابو ہو جایا کرتا تھا۔۔۔ نوفل چھوڑو سب چلو یہاں سے۔۔۔ عین موقع پر زامن نے اس بپھرے طوفان کو  پیچھے سے جکڑتے دور ہٹانا چاہا جبکہ وہ سرکش اور اتھرے گھوڑے کی مانند لپک لپک کر شمائل کی جانب بڑھ رہا تھا کہ کسی طرح سے اسے زندہ درگو کر ہی دے۔۔
 اتنی دیر میں بڑے بڑے گول شیشوں کی عینک بیضوی چہرے پر لگائے ایک لڑکی نے سرعت سے نیچے بکھرے تمام کاغذات اکھٹے کئے غصے میں جلتی بھنتی شعلے برساتی نگاہوں سے نوفل کو دیکھتی شمائل کو بازو سے کھینچتے منظر سے ہٹانا چاہا۔۔۔
یہ شمائل حس اور نوفل درانی کی پہلی ملاقات تھی ۔۔۔  مجھے گھٹیا کہنے والے گھٹیا انسان تمہاری آج کی بےعزتی کا بدلہ میں نے تم سے سود سمیت نا لیا نہ ۔۔۔ تو کہنا کہ شمائل حسن تم ایک باپ کی اولاد  نہیں کیونکہ شمائل حسن نے معاف کرنا تو سیکھا ہی نہیں۔۔۔ ایک اجنبی لڑکی کیساتھ کھینچتی جاتی وہ مسلسل چہرا موڑے اس باغی و سرکش شخص کی جانب دیکؑھتی خود سے مخاطب تھی۔۔۔
رائٹرز پیج۔ ام ہانیہ آفیشل
چوبیس گھنٹے۔۔۔ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر مجھے اس لڑکی کا سارا بائیو ڈیٹا چاہیے۔۔۔  دو دن کے اندر اندر مجھے یہ لڑکی اس یونیورسٹی سے باہر چاہیے وہ بھی بھرپور ذلالت کیساتھ۔۔۔۔  کینٹین میں  اپنی مخصوص ٹیبل پر بیٹھتا وہ خون آشام نگاہوں سے بے چینی سے بالوں میں ہاتھ پھیڑتا چٹکی بجاتا مضطرب سا اپنے سامنے بیٹھے ضامن اور علایہ سے گویا ہوا جسے سنتے ان دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کی جانب دیکھا کہ نوفل درانی جو سوچتا تھا اس پر کاربند ہو کر ہی رہتا تھا۔۔۔  انہیں اس لڑکی کی قسمت پر ترس آ رہا تھا  جسکا  آج یونیورسٹی میں پہلا دن تھا مگر دو دن بعد آخری دن ثابت ہونے والا تھا۔
نجانے اب اونٹ کس کروٹ بیٹھنے والا تھا۔

Download link

          


For best type of uniqe urdu meterial and such motivational and lesson able novels join us at facebook

          Face book pg link


     

No comments

Powered by Blogger.
4