Header Ads

khuab_e_janoon novel 3rd part of last episode by Umme Hania۔


 

khuab_e_janoon novel 3rd part of last episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

آخری قسط۔۔۔۔
موسم خاصا ٹھنڈا تھا۔۔۔ دسمبر میں چلتی ٹھنڈی ہواوں اور ہوتی ہلکی ہلکی بوندا باندی کے زیر اثر ٹھنڈ کافی بڑھ گئ تھی۔۔۔ ساری رات عینا اسی بارے میں سوچتی رہی تھی۔۔۔ اپنی ماں اور بالاج کی شادی کی جو تصویریں اسنے دیکھی تھیں انہیں دیکھ کر وہ الجھ چکی تھی۔۔۔ 
جبکہ اسنے نعمان کے رویے کا بھی بریک بینی سے مشاہدہ کیا۔۔۔۔ وہ ہر لحاظ سے ایک پرفیکٹ باپ تھا۔۔۔ بیٹیوں پر جان چھڑکنے والا۔۔۔
ساری رات وہ شش و پنج میں مبتلا رہی تھی۔۔۔ لیکن تجسس ایسا تھا کہ وہ اس شخص سے بھی ایک بار ملنا چاہتی ہے جو بقول اسکی پھوپھو کے اسکا سگا باپ تھا۔۔۔۔
یہ ہی وجہ تھی کے اب یونیورسٹی آنے کے بجائے وہ حارث کے ساتھ اسکے گھر کے باہر کھڑی تھی۔۔۔
اسنے ہاتھ مسلتے اس گھر کو دیکھا ۔۔۔
ارے ریلیکس ہو جاو عینا۔۔۔ تمہارا اپنا ہی گھر ہے۔۔۔ حارث اسے کنفوز دیکھ کر مسکرا کر کہتا۔۔۔اسکا ہاتھ تھام کر اندر کی جانب بڑھا۔۔۔۔
ثانیہ اسے وہاں دیکھ کر واری صدقے جاتی نا تھک رہی تھی۔۔۔ وہ اس سے بہت خوشدلی سے ملی۔۔۔ حارث کی بہن حفصہ بھی خوشدلی سے اس سے ملی۔۔۔ وہیں وہ اپنے اس سپیشل بھائی سے بھی ملی جو بستر پر لیتا خاموش نگاہوں سے سامنے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اسے دیکھ کر عینا کے دل پر بوجھ بڑھنے لگا۔۔۔
آو اب تمہیں کسی سپیشل سے ملواوں۔۔۔ حارث مسکرا کر پراسرار انداز میں کہتا اوپر سیڑھیاں چڑھا۔۔۔
عینا الجھی سی اس گھر کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔
وہ اسے کمرے سے باہر ہی رکنے کا کہہ کر اندر گیا۔۔۔
اندر بالاج ماں کے ساتھ محو گفتگو تھا۔۔۔ آنکھوں پر گلاسز لگے تھے جبکہ کنپٹیوں سے بال سفید تھے۔۔۔۔
ماموں آپ کے لئے ایک سرپرائز ہے۔۔۔ آپکو کسی سے ملوانا ہے۔۔۔ وہ مسکرا کر پرجوش سا گویا ہوا۔۔۔
آجاو۔۔۔ اسکے کہنے پر عینا حیران سی اندر داخل ہوئی۔۔۔ جبکہ بالاج اسے دیکھ کر بے طرح چونکا۔۔۔ اس میں صلہ کی بہت مشابہت تھی۔۔۔ یہ۔۔۔ اسکا دل بے طرح ڈھرکا وہ معتجب سا حارث کی جانب پلٹا۔۔۔
آپ کی بیٹی عینا۔۔۔ حارث کے کہنے پر بے ساختہ بالاج کی آنکھوں میں نمی جمع ہونے لگی۔۔۔۔
وہ  دھندلائی نگاہوں سے اسے دیکھتا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسکی جانب بڑھا۔۔۔
عینا میری جان۔۔۔ میری بچی۔۔۔ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تم میرے سامنے ہو۔۔۔۔ وہ اسکی گال پر اپنا کپکپاتا ہاتھ رکھتا کپکپاتے لہجے میں گویا ہوا جبکہ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔
عینا کا حال بھی اس سے متضاد نا تھا۔۔  وہ خود ہی اپنے احساسات  سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔
مجھے لگا تھا کے میں کبھی زندگی میں تم دونوں کو نہیں دیکھ پاوں گا۔۔۔
میری جان مجھے معاف کردو ۔۔۔ معاف کردو اپنے گنہگار باپ کو۔۔۔ وہ اسے خود سے لگائے شدت سے رو دیا۔۔۔ جبکہ عینا وہ خود پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔
کافی دیر بعد بالاج سمبھلتا سیدھا ہوا اور اس سے اسکا حال احوال دریافت کرنے لگا۔۔۔
اسکے بعد وہ اپنی دادی سے بھی ملی وہ فالج کے اٹیک کے باعث چلنے پھرنے سے قاصر تھی۔۔۔ اس سے ملتی وہ بھی رو دیں تھیں۔۔۔۔
وہ کافی وقت ان سب کے ساتھ گزار کر بھاری دل کیساتھ واپس گھر آئی۔۔۔۔
اپنے باپ کا اپنی بیٹیوں کے لئے رونا تڑپنا اس سے دیکھا نہیں جا رہا تھا۔۔۔
*****
جب سے نینا کو اپنے رشتے کی بابت پتہ چلا تھا وہ منہ پھلائے کمرا نشیں ہوگئ تھی۔۔۔  رات اپنے کمرے سے نکلنے کے بعد وہ سیدھا باپ کے پاس سٹڈی روم میں گئ تھی جہاں اسنے رو رو کر اپنی فریاد انکے گوش گزاری تھی کے وہ مغیث بھائی سے شادی نہیں سکتی۔۔۔ اور بابا نے بھی اسے یقین دہانی کروائی تھی کے بالکل ویسا ہی ہوگا جیسا وہ چاہے گی اسکی رضا مندی کے خلاف کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ لیکن وہ ایک دفعہ ٹھنڈے دماغ سے مغیث کے بارے میں سوچ لے کیونکہ وہ اس کے لئے مخلص ہے۔۔ بقول بابا کے اسے شادی تو کہیں نا کہیں کرنی ہی ہے نا تو مغیث ہی کیوں نہیں. جو محبت اور چاہت سے اسکا طلبگار ہے۔۔۔ اور اگر اسکے باوجود وہ خود کو مغیث کے لئے آمادہ نہیں پاتی تو وہ اسکے ساتھ ہیں۔۔۔ 
ماں نے الگ اسے بہت کچھ سمجھایا تھا کہ لیکن ان سب چیزوں کے باوجود وہ الجھ گئ تھی۔۔۔ کچھ سمجھ نا آ رہا تھا۔۔۔ مغیث کے بارے میں ایسا کچھ سوچنا بھی سوہاں روح تھا۔۔۔۔ اوپر سے اسکا بدلتا لہجہ اور بولتی نگاہیں اسے کنفوز کر دیتی تھیں۔۔۔
رہتی کسر اسکی صبح نینا کے کمرے میں آمد نے پوری کر دی تھی۔۔۔ جب وہ باپ سے ملنے کے بعد سنجیدہ سا اسکے کمرے میں آیا تھا۔۔۔
کیا تم کسی اور میں انٹرسٹڈ ہو۔۔۔ وہ اسکے سامنے کھڑا بے تاثر چہرا لئے سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
وہ اسکے اس سوال پر حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
مغیث بھائی آپ۔۔۔۔ ۔
بھائی نہیں ہوں تمہارا ڈیم۔۔۔۔ جان چھوڑ دو اس لاحقے کی۔۔۔ وہ سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتا تیز لہجے میں گویا ہوا۔۔۔ کچھ تو تھا غیر معمولی سا اسکے لہجے میں کہ وہ سہم گئ۔۔۔۔
وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہا تھا۔۔۔۔ بابا نے اسے واضح وارنینگ دی تھی کے اگر نینا اس شادی کے لئے راضی نا ہوئی تو وہ اسکے ساتھ زبردستی نہیں کریں گے۔۔۔
بول دو ایک دفعہ نینا۔۔۔ اگر کوئی اور ہے تمہاری زندگی میں تو میں دوسری دفعہ دیکھوں گا نہیں تمہاری طرف۔۔۔ چپ چاپ خاموشی سے تمہاری زندگی سے نکل جاوں گا۔۔۔  اگر ایسی کوئی وجہ ہے تو مجھے بتاو نینا۔۔۔۔ وہ ٹوٹے لہجے میں ضبط سے گویا ہوا۔۔۔ آنکھوں کی سرخی اسکے ضبط کی گواہ تھی۔۔۔ اسنے آج تک مغیث کو اسقدر سنجیدہ نہیں دیکھا تھا۔۔۔ وہ بہت جولی قسم کا انسان تھا۔۔۔ روتو کو ہنسا دینے والا۔۔۔
وہ گم صم سی اسے دیکھتی رہی۔۔۔
ایسی  بات نہیں ہے۔۔۔ میری زندگی میں کوئی نہیں ہے۔۔۔۔ وہ نظریں جھکاتی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
ایک بوجھ سا مغیث کے سر سے کھسکا تھا۔۔۔ اسنے طمانیت سے گہری سانس خارج کی
پھر مسلہ کیا ہے یار۔۔۔ کیوں انکاری ہو اس رشتے سے۔۔۔ اسنے نینا کو آس سے دیکھا۔۔۔۔
میں اس تبدیلی کو قبول نہیں کر پارہی۔۔۔ میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا۔۔۔ اسنے زرا کی زرا مغیث کی جانب دیکھا۔۔۔
یہ اتنا مشکل تو نہیں ہے نینو۔۔۔ تم کوشیش تو کرو۔۔۔۔ 
ویسے بھی رشتہ بدلنے سے جذبات بدل جاتے ہیں۔۔۔۔ وہ اسکا چہرا تھامے ملتجی ہوا۔۔
چلو نکاح کر لیتے ہیں۔۔۔  اور میں نے سنا ہے کہ نکاح کے بعد اللہ ایک دوسرے کے لئے دل میں محبت ڈال دیتا ہے۔۔۔ نینا نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔ اور سرعت سے اسکے ہاتھ ہٹاتی رخ بدل گئ۔۔
لیکن اسکے چہرے پر ابھرتی سرخی مغیث کی نگاہوں سے پوشیدہ نا رہ سکی۔۔۔ وہ طمانیت سے مسکرا دیا۔۔۔
آپ جائیں یہاں سے مغیث۔۔۔۔ وہ کپکپاتی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
یااللہ تیرا شکر ہے میرے مالک۔۔ اس لڑکی نے ایک فضول سا لاحقہ تو اتارا۔۔۔ اب تو سجدہ شکر واجب ہے۔۔۔ وہ لمحوں میں اپنے پرانے نداز میں لوٹا اور اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ملتوی کرتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔ جبکہ نینا بھی چہرا ہاتھوں میں چھپاتی مسکرا دی۔۔۔
*****
اف آج تو گھر میں بہت کام ہیں ۔۔۔ اور تم آج یونیورسٹی سے اتنا لیٹ کیوں آئی ہو۔۔۔ عینا گم صم سی بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔۔ کندھوں کے گرد شال لپیٹ رکھی تھی ایسے کے کھلے بال اسکی لپیٹ میں تھے جبکہ نینا الماری سے کپڑے نکال نکال کر چیک کرتی اپنی ہی دھن میں بول رہی تھی۔۔۔
 تمہیں پتہ ہے شام میں تمہیں لڑکے والے دیکھنے آ رہے ہیں۔۔۔ عاصف انکل نے احمر بھائی کے لئے تمہارا ہاتھ مانگا ہے اور اسی سلسلے میں وہ آج شام یہاں آ رہے ہیں۔۔۔ وہ ایک فراک کے ہینگر کو آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی خود سے لگا کر چیک کرتی چہکی۔۔۔ جبکہ عینا پر حیرت کا پہار ٹوٹا تھا۔۔۔ وہ بدقت اپنی سوچوں سے نکلتی اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
کیا بکواس کر رہی ہو نینا ۔۔۔ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔۔۔ وہ غصے سے غرائی۔۔۔
میرا دماغ تو ٹھیک ہے پر تمہارا ٹھکانے پر نہیں لگتا۔۔۔ لڑکیاں ایسی باتیں سن کر شرماتی ہیں مگر تمہاری تو کھوپری ہی الٹی ہے۔۔۔ اسنے ہاتھ جھلاتے اس پر دو حرف بھیجے اور منہ بنا کر دوسرا ڈریس چیک کرنے لگی۔۔۔
عینا نے غصے سے کھولتے پاوں میں جوتا اڑسا اور کمرے سے نکلی۔۔۔ جبکہ عینا بھی اسکا یہ روپ دیکھ کپڑے وہیں بیڈ پر پھینکتی حیرت سے اسکے پیچھے کمرے سے نکلی۔۔۔
وہ ایک جھٹکےمیں ماں کے کمرے کا دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی۔۔۔ ماں یہ نینا کیا کہہ رہی ہے کہ شام میں مجھے دیکھنے لڑکے والے آ رہے ہیں۔۔۔ وہ غصہ ضبط کرتی زرا تحمل سے مگر تیز لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔  
صلہ بیڈ پر بیٹھی کسی پیشنٹ کی فائل چیک کر رہی تھی۔۔۔ پچھلے چند سالوں میں اسنے نعمان کی بھرپور سپورٹ کے باعث بہت کامیابیاں سمیٹی تھیں۔۔۔ اسکا شمار پاکستان کے بہترین سائیکالوجسٹ میں ہونے لگا تھا۔۔۔ وہ کئ سیمنار میں شرکت کر چکی تھی۔۔۔ اور سیمینار کے سلسلے میں دوسرے ممالک تک جا چکی تھی۔۔۔ وہ اپنی کامیابیوں کے لئے جتنا اپنے رب کا شکر ادا کرتی اتنا کم تھا۔۔۔
ہاں بیٹا عاصف صاحب کی فیملی آ رہی ہے احمر کے لئے تمہارا ہاتھ مانگنے۔۔۔ صلہ نے مسکرا کر فائل بند کی۔۔۔
لیکن مجھے وہاں شادی نہیں کرنی ماں اس لئے آپ انہیں منع کر دیں۔۔۔ وہ بنا لگی لپٹی رکھے دو ٹوک انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
بیٹا احمر اچھا لڑکا ہے اور پھر۔۔۔
مجھے اسکی اچھائی سے کوئی غرض نہیں ہے۔۔ وہ اچھا ہو یا نا ہو میری بلا سے۔۔۔ جب مجھے اس سے شادی کرنی ہی نہیں۔۔۔ وہ تنک کر گویا ہوئی۔۔۔
صلہ کئ لمحوں تک خاموشی سے بیٹی کا یہ باغی روپ دیکھتی رہی۔۔۔ نوٹ تو وہ اسے کافی دنوں سے کر رہی تھی کہ وہ کافی الجھی الجھی اور غیر دماغ سی تھی لیکن آج تو اسنے حد ہی کر دی تھی۔۔۔
کیا جان سکتی ہوں کہ اتنی بغاوت کی وجہ کیا ہے۔۔۔ احمر سے شادی نہیں کرنی تو کس سے کرنی ہے۔۔۔۔ وہ بھی ایک سائیکالوجسٹ تھی۔۔۔ انسانی رویوں کو بخوبی سمجھتی تھی۔۔۔ پھر سامنے تو اپنی ہی اولاد تھی۔۔۔
ثانیہ پھوپھو کے بیٹے حارث سے۔۔۔ وہ صلہ کی آنکھوں میں دیکھتی بنا جھجھکے گویا ہوئی۔۔۔
جبکہ ایک پہاڑ تھا جو صلہ پر ٹوٹا تھا۔۔وہ ایک جھٹکے سے سیدھی ہوئی۔۔۔۔ اسے اپنے قدموں تلے سے زمین کھسکتی محسوس ہوئی۔۔۔
کیا بولا تھا اسنے ثانیہ پھوپھو۔۔۔ اسے سمجھنے میں دشواری ہو رہی تھی۔۔۔ وہ کیسے جانتی تھی اسے۔۔۔ اور اسکا بیٹا حارث۔۔۔ 
یہ اسکے ناک کے نیچے کیا کھیل کھیلا جا رہا تھا۔۔۔ اسے اپنے کان سائیں سائیں کرتے سنائی دیئے۔۔۔۔
جانتی بھی ہو کہ کیا بول رہی ہو ۔۔۔۔ وہ کسی امید کے تحت  خود پر قابو ہوتی گویا ہوئی۔۔۔
اب ہی تو جانا ہے ماں۔۔۔ ورنہ آپ نے تو کچھ نہیں بتایا تھا۔۔۔ آپکے اور میرے بابا کے درمیان کیا ہوا۔۔۔ کیوں آپ نے ان سے ہمیں جدا کیا میں ان سب کی تفصیل میں نہیں جاوں گی نا ہی آپکو جج کروں گی۔۔۔ وہ آپکی زندگی تھی آپکو جو بہتر لگا آپ نے کیا۔۔۔ لیکن میں شادی صرف حارث سے کروں گی۔۔۔۔
پاگل ہو گئ ہو کیا۔۔۔ میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ اسکا باغیانہ انداز دیکھتی صلہ چٹخی۔۔۔ ان لوگوں نے اس پر بڑا قاری وار کیا تھا۔۔۔ وہ اسی کی اولاد کا استعمال کر رہے تھے۔۔۔
آپ مجھے نہیں روک سکتی ماں۔۔۔ محبت کی شادی گناہ نہیں ہے۔۔۔ اور اسکی اجازت مجھے میرا اسلام دیتا ہے۔۔۔۔مضبوط لہجے میں کہتی وہ پلٹی۔۔۔
جانتی کیا ہو اسکے بارے میں تم عینا۔۔۔ وہ عورت تمہیں نوچ کھائے گی۔۔۔۔ اسے اپنی شکست خوردہ سی آواز سنائی دی۔۔۔
وقت کے ہندسے پیچھے کو گھومتے اسے اپنے سنگ گھسیٹتے کہیں پیچھے لے کر جا رہے تھے۔۔۔ کہیں بہت پیچھے۔۔۔۔۔
جہاں پلنگ پر بیٹھی سفید آنچل سر پر جمائے تسبیح ہاتھ میں تھامے بے بس ماں بیٹھی تھی اور سامنے پنک لباس میں ملبوس کھلی آبشار کے ساتھ آنکھوں مئن بعاوت لئے ایک باغی لڑکی۔۔۔
وقت کے تھپیرے نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ ڈالا تھا۔۔۔
کوئی کسی کو نہیں نوچ کھاتا ماں۔۔۔ جو جیسے کرتا ہے ویسا بھر بھی لیتا ہے۔۔۔ وقت نے جیسے ایک کڑارا ٹھپر مارا تھا۔۔۔
خون جیسے اسکی رگوں میں منجمند ہونے لگا تھا۔۔ چہرے کی رنگت نچڑ گئ تھی۔۔۔ وقت خود کو دہرا رہا تھا۔۔۔ آج ایک اور صلہ اسکے سامنے تن کر کھڑی تھی۔۔۔ آج وہ یقین کرنے پر قادر تھی کے زندگی میں جو بو وہ کاٹنا پڑتا ہے۔۔۔ سب بھول جاتے ہیں مگر نظام قدرت کچھ نہیں بھولتا۔۔۔
اسے لگا تھا کہ اسکے ساتھ اتنا کچھ ہو گیا اسنے اتنا سب سہہ لیا اوراب کچھ نہیں ہو گا۔۔۔ لیکن شاید کہ مقافات عمل اٹل ہے۔۔۔ اسکی جلتی آنکھوں سے جھڑنا بہنے لگا
ماں ۔۔۔ ماں آپ ٹھیک تو ہیں نا۔۔۔ تب سے حق دق کھڑی نینا ماں کی حالت دیکھتی بھاگ کر ماں کے پاس آئی۔۔۔ عینا اپنی بات کہہ کر کب کی جا چکی تھی۔۔۔
ماں آپ فکر مت کریں۔۔ وہ پاگل ہے۔۔ میں سمجھاوں گی اسے۔۔۔ عینا فکر مندی سے اسکی کمر سہلاتی گویا ہوئی۔۔۔
وہ نہیں سمجھے گی عینا۔۔۔ وہ نہیں سمجھے گی۔۔۔ کیونکہ تمہاری ماں نہیں سمجھی تھی۔۔۔ وہ کرب سے آنکھیں میچتی اسکے ہاتھوں سے پھسل پھسل گئ۔۔۔۔
آج میں اپنی ماں کی بے بسی محسوس کر سکتی ہوں۔۔۔ میں اب سمجھ سکتی ہوں کہ تب میری ماں میری خود سری دیکھتی کیسا محسوس کر رہی ہوگی۔۔۔
نینو میرا دل پھٹ جائے گا۔۔۔ پھٹ جائے گا میرا دل۔۔۔ میں وہ دیکھ سکتی ہوں جو یہ نادان نہیں دیکھ سکتی۔۔۔ بلکل ویسے ہی جیسے تب میری ماں اگے کے سارے حالات دیکھ سکتی تھی۔۔۔
بچے لیکن میں نہیں سمجھی۔۔۔ اب یہ بھی نہیں سمجھے گی۔۔۔ وہ زارو قطار رو رہی تھی۔۔ جیسے اب اسے سب صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
میں نے اسکی آنکھوں میں بغاوت دیکھی ہے نینو۔۔  میں اسے روکوں گی تو وہ مجھے اپنا دشمن سمجھے گی۔۔۔ بالکل ایسے جیسے کبھی میں اپنی ماں کو سمجھتی تھی۔۔۔
لیکن آج ۔۔۔ آج سمجھ سکتی ہوں کے ماں باپ دشمن نہیں ہوتے۔۔۔ بچے وہ دشمن نہیں ہوتے۔۔۔ وہ اپنے تجربے کی آنکھ سے وہ دیکھ لیتے ہیں جو بچے محبت نامی پٹی کو آنکھوں پر باندھے نہیں دیکھ سکتے۔۔۔
نہیں ہوتے ماں باپ دشمن۔۔۔ میرا دل پھٹ رہا ہے نینو۔۔۔
میری ماں نے کیسے برداشت کیا ہوگا یہ سب بچے۔۔۔ کاش میں پہلے سمجھ جاتی۔۔۔ 
پر نہیں سمجھی میں۔۔۔ نینو یہ صلہ کی کہانی دہرانہ چاہتی ہے۔۔۔ یہ پاگل ہو گئ ہے نینو۔۔۔ اسے نہیں پتہ وہ کیسی زندگی تھی۔۔۔ 
میری بچی نازو پلی ہے نہیں سہہ پائے گی نینو اسے بتاو اسکی ماں دشمن نہیں ہے اسکی۔۔۔ وہ سسک رہی تھی۔۔۔ ماضی کے پچھتاوے پھر سے ڈسنے لگے تھے۔۔۔ بیٹی کی خودسری دل چیر رہی تھی۔۔ اسکے مستقبل کی فکر اسے اندر سے کھا رہی تھی۔۔۔ 
اسے کہو اپنے لئے اتنی کھٹن زندگی کا انتخاب نا کرے نینو۔۔۔۔ اپنی ماں والی غلطی نا دہرائے۔۔۔۔ اسے سمجھاو نینا۔۔۔ اسے سمجھا۔۔۔۔
بات کرتے اسکی آواز موٹی ہونے لگی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ وہیں نینا کی بازووں میں جھول گئ۔۔۔
ماں ں ں ں۔۔۔۔۔۔ وہ ماں کے بے جان ہوتے وجود کو دیکھ پوری شدت سے چلائی۔۔۔ اسکے اپنے ہاتھ پاوں ساتھ چھوڑتے جا رہے تھے۔۔۔
بابااااا۔۔۔ مغیث بھائی۔۔۔۔ وہ حواس باختگی سے چلاتی باہر باگی۔۔۔ دفعتاً اسے یاد آیا کہ گھر پر تو دونوں میں سے کوئی نا تھا۔۔۔۔ نینا بھی اسکی آوازیں سن کر اپنے کمرے دروازے میں ہی ٹھٹھک کر رکی۔۔۔ دل نے شدت سے کچھ غلط ہونے کی گواہی دی۔۔۔
وہ اندھا دھند باہر واچ مین کو بلانے بھاگی۔۔۔ اس سے پہلے کے لاوئنج کا دروازہ کھول کر باہر نکلتی وہ کسی کے چوڑے سینے سے بے طرح ٹکرائی۔۔۔
آرام سے لڑکی پیچھے چور لگے ہیں کیا۔۔۔۔ دروازے میں استادہ مغیث نے اسے گھورا۔۔۔ وہ ابھی ابھی باہر سے آیا تھا۔۔۔
مغیث بھائی۔۔۔۔ نینا نے اپنا آنسووں سے تر چہرا اوپر اٹھایا تو وہ ٹھٹھکا۔۔۔ کیا ہوا نینو۔۔۔
مغیث بھائی ماما۔۔۔ ماما وہ اندر۔۔۔ ماما۔۔۔ وہ حواس باختگی سے روتے ہوئے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں گویا ہوئی۔۔۔ اسکا بدن کپکپا رہا تھا۔۔۔ ماں کی ایسی حالت اسنے پہلے کبھی نا دیکھی تھی۔۔۔
اسکی بات سمجھتا مغیث پریشانی سے اندر بھاگا۔۔۔ 
مام۔۔۔۔ ماں کے بے جان ہوتے وجود کو دیکھ وہ بھاگ کر ان تک پہنچا۔۔۔
مام آنکھیں کھولیں۔۔۔ آنکھیں کھولیں مام۔۔ وہ دیوانہ وار اسکا چہرا تھپتھپا رہا تھا۔۔۔
ایک دفعہ پھر سے نہیں۔۔۔ میں اپنی ماں کو کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ اسنے شدت سے ماں کو خود میں بھینچا۔۔۔ 
نینو گاڑی کھولو۔۔ اسنے گاڑی کی چابی نینا کی جانب پھینکی اور ماں کو اٹھاتا باہر کو لپکا۔۔۔۔
وہ دونوں ہی عجلت میں ماں کو لئے باہر نکل گئے تھے۔۔۔ جبکہ وہیں حق دق کھڑی عینا کو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔ ماں کو کیا ہوا تھا بھلا۔۔۔ اور کیا اسکی وجہ سے؟؟؟؟؟؟؟؟ 
*********

No comments

Powered by Blogger.
4