khuab_e_janoon novel 2nd part of last episode by Umme Hania۔
khuab_e_janoon novel 2nd part of last episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
آخری قسط۔۔۔۔دوسرا حصہ
مام آپ فری ہیں کیا۔۔۔
مغیث دروازہ ناک کر کے اسے آہستگی سے کھولتا سر اندر کر کے گویا ہوا۔۔۔
صلہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی ہاتھوں پر مساج کر رہی تھی۔۔۔ اسنے مسکرا کر آئینے میں سے اسکا عکس دیکھا۔۔۔۔
ارے آو میرے شیر۔۔۔ آپکو اجازت طلب کرنے کی ضرورت کب سے پیش آنے لگی بھلا۔۔۔۔
صلہ کے مسکرا کر کہنے پر اسنے تادیبی نگاہوں سے کمرے کا جائزہ لیا۔۔۔ نعمان کمرے میں نہیں تھا۔۔۔ وہ شکر کا سانس خارج کرتا ماں کے سامنے آ کر ڈریسنگ ٹیبل کے کنارے ٹک گیا۔۔۔ ایسے کے ہاتھ دائیں بائیں ٹکے تھے جبکہ پاوں قینچی کی صورت بنائے وہ ملتجی صورت بنائے ہوئے تھا۔۔۔
اب کیا ہوا میرے شیر کو ۔۔۔ صلہ کو اسے دیکھتے ہسی آئی جو نیلی جینز پر براون جیکٹ پہنے تھا۔۔۔ بال حسب عادت ماتھے پر بکھرے تھے۔۔۔۔
آپ کو پتہ ہے مام کہ مجھے کیا ہوا ہے۔۔۔ آپ بابا سے میری شفارش کیوں نہیں کرتیں۔۔۔ کیا آپکو میں ابھی بھی اسکے قابل نہیں لگتا۔۔۔۔ وہ نڑوٹھے پن سے گویا ہوا۔۔۔
مجھے میرے بیٹے کی قابلیت پر کل بھی بھروسہ تھا اور آج اس سے بھی زیادہ ہے۔۔۔ آنے دو تمہارے بابا کو آج میں خود بات کروں گی ان سے۔۔۔ وہ مغیث کے روشن چہرے کو دیکھتی مسکرائی۔۔۔۔ اسے ہوری جزئیات سے چھ ماہ پہلے کا دن یاد آیا جب وہ تینوں یہیں اسی کمرے میں موجود تھے۔۔۔
نعمان بیڈ پر بیٹھا کوئی فائل دیکھتا چائے پی رہا تھا۔۔۔ جبکہ صلہ اور مغیث صوفے پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔۔۔ شام کا وقت تھا۔۔ عینا اور نینا اپنی کسی دوست کی سالگرہ میں گئ تھیں۔۔۔ انہیں مغیث ہی ڈراپ کر کے آیا تھا اور اب کچھ دیر بعد اسے ہی انہیں لینے جانا تھا۔۔۔
صلہ عاصف نے اپنے بیٹے احمر کے لئے عینا کے بارے میں اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے۔۔۔ تم کیا کہتی ہو اس بارے میں۔۔۔ اچانک یاد آنے پر نعمان فائل بند کرتا صلہ سے مخاطب ہوا۔۔۔۔
عاصف نعمان کا فیملی فرینڈ تھا۔۔۔ دونوں فیملیز کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا بھی تھا اور آپس میں کافی گہری علیک سلیک بھی تھی۔۔۔ احمر سے صلہ بھی واقف تھی وہ پڑھا لکھا خاصا مہذب لڑکا تھا اور اب باپ کا بزنس سمبھال رہا تھا۔۔۔
احمر لڑکا تو اچھا ہے۔۔۔ فیملی بھی ٹھیک ہے پھر آپ نے کیا کہا ان سے۔۔۔ صلہ پرسوچ سی گویا ہوئی۔۔۔
کچھ نہیں انتظار میں ہیں وہ لوگ ہماری طرف سے گرین سگنل ملے تو وہ لوگ باقاعدہ رشتہ لے کر آئیں۔۔۔
وہ اب دوبارہ فائل کھول چکا تھا۔۔۔
پھر آپ۔۔۔
ایک منٹ ۔۔ ایک منٹ ۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔ یہ یہاں چھوٹوں کے رشتے فائنل ہونے لگ گئے بھئ۔۔۔ بڑا میں ہوں۔۔۔ پہلے میری بات فائنل ہوگئ پھر عینا کی باری آئے گئ۔۔۔۔ آپ لوگ میرے ساتھ یوں ناانصافی نہیں کر سکتے
مغیث اپنا کپ میز پر رکھتا حیرت سے باری باری ماں اور باپ کا چہرا دیکھتا دہائی دیتا گویا ہوا۔۔۔ جبکہ صلہ اور نعمان دونوں نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔
مغیث۔۔۔ بیٹا کیا آپ کسی میں انٹرسٹڈ ہو۔۔۔ صلہ معتجب سی گویا ہوئی۔۔۔
جی مام۔۔۔ پلیز میری بھی بات فائنل کروا دیں نا پلیز مام۔۔۔ پلیز۔۔۔ وہ جھٹ صوفے سے اترتا ماں کے پاس دوزانو بیٹھتا اسکے دونوں ہاتھ تھام کر ملتجی ہوا۔۔۔
کون ہے وہ بیٹا۔۔۔ بتاو مجھے۔۔۔ میں صبح ہی اپنے بیٹے کا رشتہ کے کر جاوں گی۔۔۔ آخر کو میرا شیر میرا شہزادہ کسی سے کم تھوڑی ہے۔۔۔ لاکھوں میں ایک ہے۔۔۔ صلہ نے خوبصورت مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اسکے بال سنوارے۔۔۔۔
ماما جانا نہیں ہے کہیں۔۔۔ وہ ہونٹ چباتا شش و پنج میں مبتلا تھا کہ کیسے بات کرے۔۔۔
پھر۔۔۔ صلہ کی حیرت بڑھی۔۔۔
مام۔۔۔ آپکا بیٹا ہوں نا۔۔۔
کوئی شک۔۔۔ وہ مسکائی۔۔
تو پھر اب داماد بھی بنا لیں۔۔۔ وہ بے بسی سے گویا ہوا۔۔۔۔
کیاااا۔۔۔ صلہ کو حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔ یہ وہ کیا کہہ رہا تھا۔۔۔ ایسا ہی ایک جھٹکا نعمان کو بھی لگا تھا۔۔۔
مطلب ۔۔۔ میرا مطلب ہے کون۔۔۔ آپ کس کی بات کر رہے ہو۔۔۔ وہ خود تو کنفوز تھا ہی اسنے صلہ کو بھی کنفوز کر دیا تھا۔۔۔
مطلب مام۔۔۔ نینو بہن نہیں ہے میری تووووو۔۔۔۔ وہ بے چینی بھری بے بسی سے کہتا بات ادھوری چھوڑ کر ماں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
مطلب اپنی۔۔۔ نینا۔۔۔۔ صلہ کو خوشگوار حیرت نے آ گھیرا۔۔۔ جیسے ابھی بھی اسکی بات سمجھ نا پا رہی ہو۔۔۔ ایسا تو اسنے سوچا بھی نا تھا۔۔۔ اور اگر ایسا ہو جاتا تو اس سے بہتریں بات بھی کوئی نا تھی ۔۔۔ز۔۔
مغیث اسکا اپنا بیٹا تھا جسکے شب و روز سے وہ باخوبی واقف تھی اور پھر بیٹی بھی آنکھوں کے سامنے ہی رہ جاتی۔۔۔۔
بیٹا مجھے تو۔۔۔
او ہیلو۔۔۔ نینا کا باپ ادھر بیٹھا ہے مجھ سے مخاطب ہو ۔۔۔ یہ کیا تم ماں کو چونچلے دکھا رہے ہو۔۔۔۔ اس سے پہلے کے صلہ فرط جذبات میں بہہ کر کچھ کہتی نعمان سیدھا ہوتا سرعت سے گویا ہوا۔۔۔
مغیث بھی ناسمجھی سے باپ کو دیکھتا انکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
جی تو آپ بتا دیجئے۔۔۔ وہ مسکرایا۔۔۔
وہی بتانے لگا ہوں کہ تمہارے پاس ایسا ہے کیا جسکی بنا پر میں اپنی نازوں پلی بیٹی کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں تھما دوں۔۔۔ وہ واقعی شاید اس وقت بیٹی کا باپ تھا ۔۔۔
مطلب کیا ہے آپکی بات کا بابا۔۔۔ یہ سب کچھ میرا ہی ہے۔۔۔ وہ تنک کر گویا ہوا۔۔۔
یہ سب کچھ تمہارے باپ کا ہے۔۔۔ اپنی بات کرو۔۔۔ اپنی قابلیت کی۔۔۔ کیا ہے تمہارے پاس جو ایک باپ تمہیں اپنی بیٹی دے دے۔۔۔
اس وقت تو تم اس پوزیشن میں بھی نہیں ہو کہ میری بیٹی کو دو وقت کی روٹی ہی کھلا سکو۔۔۔ کیونکہ فلحال تو تم خود باپ کے پیسوں پر عیش کر رہے ہو۔۔۔
نعمان میرا بیٹا بہت سمجھدار ہے وہ سب کر لے گا۔۔۔ ابھی تو اسنے اپنی ڈگری مکمل کی ہے پھر۔۔۔
کر لے گا اور کیا کرتا ہے میں بہت فرق ہوتا ہے صلہ۔۔۔ اور میں مفروضوں کی بنیاد پر اپنی بیٹی کی زندگی کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔۔۔
وہ سنجیدہ تھا اور سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
تو آپ کیا چاہتے ہیں۔۔۔ مغیث بھی سنجیدہ ہوا۔۔۔
خود کو ثابت کرو۔۔۔ صبح سے آفس جوائن کرو اور مسٹر مہتاب والا نیا پراجیکٹ جو ہماری کمپنی کو ملا ہے اسے تم لیڈ کرو گئے۔۔۔ اس پراجیکٹ میں اپنی کارکردگی دکھاو اسکے بعد ہم کوئی اور بات کریں گے۔۔۔ اور ہاں اس دوران آج جو بات ہمارے درمیان ہوئی تم اسکا ذکر نینا سے نہیں کرو گئے۔۔۔ اور نا ہی اس حوالے سے اس سے کوئی ذکر کر کے اسے ڈسٹرب کرو گئے۔۔۔۔ اسے اپنی سٹڈی پر فوکس کرنے دو۔۔۔ باقی سب باتیں اس پراجیکٹ کے مکمل ہونے کے بعد ہونگی۔۔۔
سنجیدگی سے اپنی بات مکمل کرتا نعمان اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ مغیث اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔ اپنے لئے اپنے باپ کا اتنا سخت روپ اسنے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھ تھا۔۔۔ لیکن شاید اس وقت وہ اسکا باپ تھا ہی نہیں وہ تو اس وقت نینا کا باپ تھا۔۔۔
دھند کے مرغولوں میں وہ منظر کہیں غائب ہو گیا تھا اور وقت انہیں واپس اسی کمرے میں لے آیا تھا۔۔۔
*****
نعمان دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو ڈریسنگ ٹیبل کے پاس ماں بیٹے کو کھڑا دیکھ ٹھٹھکا پھر سر جھٹک کر آگے بڑھا۔۔۔
یہ تم آج کل میری بیوی کے آس پاس ہی کیوں منڈلاتے رہتے ہو۔۔۔ وہ رسٹ واچ اتارتا بیڈ کے کنارے پر بیٹھا۔۔۔
آپکی غیبتیں کرنے اور شکایتیں لگانے کے لئے۔۔۔ مغیث سینے پر ہاتھ باندھتا مسکرا کر باپ کو دیکھتا گویا ہوا۔۔۔۔
سیریسلی ۔۔۔ نعمان نے ایک بھنور اچکائی۔۔۔
جی نعمان بالکل۔۔۔ میرے بیٹے نے اپنی قابلیت ثابت کر دی ہے اب آپ اسکا معاملہ بھی حل کریں۔۔۔۔ صلہ اسکے پاس ہی جا کر بیٹھی جبکہ مغیث بھی باپ کے تاثرات ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے اسنے اپنی قابلیت ظاہر کی ہے اس پراجیکٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے مگر اسے جلدی کیا ہے۔۔۔ یہ کہیں بھاگا جا رہا ہے یا نینا۔۔۔۔
نعمان سنجیدہ ہوا۔۔۔
بابا مجھے جلدی ہے۔۔۔ آپ نے شادی نہیں کروانی مت کروائیں کم از کم انگیجمنٹ تو کروا دیں اور اگر وہ بھی نہیں کروانی تو کم از کم ایک آفیشل آناونسمنٹ تو کروا ہی دیں۔۔۔
ورنہ آپکی بیٹی نے مجھے بھائی بھائی کہتے مجھِے پاگل کر دینا ہے۔۔۔ کم از کم اسکی زبان سے یہ ایک لفظ ختم کروا دیں۔۔۔ وہ روہانسا ہوتا جھنجھلا کر گویا ہوا۔۔۔
جبکہ صلہ کا ہس ہس کر برا حال ہو رہا تھا۔۔۔ نعمان بھی اسکی جھنجھلاہٹ پر مسکرا دیا۔۔۔
ٹھیک ہے عینا کے ساتھ کرتے ہیں تمہار بھی کچھ۔۔۔ نعمان نے بیٹے کو تسلی دی تو وہ ماں کو دیکھنے لگا۔۔۔
تم نینا سے ایک دفعہ پوچھ لینا صلہ۔۔۔۔ نعمان کے کہنے پر وہ سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
عینا سے بات کرنے کیساتھ ساتھ نینا سے بھی کرتی ہوں۔۔۔
مام آپ عینا سے بات بعد میں کر لینا پہلے نینا سے کر لیں۔۔۔
وہ کمرے سے نکلتا نکلتا بھی گویا ہوا۔۔۔ جبکہ صلہ اسے دیکھتی مسکرا دی۔۔۔
*****
کیاااااا۔۔۔ ماں یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔۔ مغیث بھائی۔۔۔
ایسے کیسے بھلا ماں۔۔۔ وہ بھائی ہیں میرے۔۔۔ جب سے صلہ نے نینا سے بات کی تھی وہ روہانسی ہوتی سر تھامے بیٹِھی تھی۔۔۔
بیٹا مغیث بہت اچھا اور فرمابردار بچہ ہے وہ آپکو ہمیشہ خوش رکھے گا۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر آپ میرے پاس ہی رہو گئ بیٹا۔۔۔ اور بھلا کیا چاہیے تمہیں۔۔۔ اتنی چاہت سے اسنے تمہیں ہم سے مانگا ہے۔۔۔ اتنا عرصہ ساتھ رہنے کے باوجود اسنے رشتوں کے تقدس کا خیال رکھا کبھی کوئی چھچھوڑی حرکت نا کی۔۔۔ اور تو اور کبھی تمہارے ساتھ کوئی فضول گوئی تک نہیں کی۔۔۔
بلکہ سیدھے سادھے طریقے سے بڑوں کے اپروول کا منتظر رہا۔۔۔ کہاں ملتے ہیں ایسے نیک صفت لڑکے آج کل۔۔۔۔ صلہ بیٹی کو قائل کرنے کی غرض سے گویا ہوئی۔۔۔ بیٹے کا ذکر کرتے اسکی لہجے میں محبت ہی محبت تھی۔۔۔۔
ماں مت کریں نا انکے حوالے سے ایسے بات ۔۔ وہ بھائی ہے میرا۔۔۔ وہ جھنجھلائی۔۔۔
بیٹا اسنے تمہارے لئے خود کو ثابت کیا ہے۔۔۔ پچھلے چھ ماہ وہ کس قدر اپنے پڑاجیکٹ میں ڈوبا رہا ہے اسکی روٹین تم سے ڈھکی چھی نہیں۔۔۔
اور میں تمہارے اس بے بنیاد اعتراض کی بنا پر اسے انکار نہیں کروں گی۔۔۔ ابھی تمہیں یہ سب عجیب لگ رہا ہوگا کیونکہ تم نے اس بارے میں اس لحاظ سے کبھی سوچا ہی نہیں ہے۔۔۔ اب اگر سوچو کی تو سب خودبخود ٹھیک لگنے لگے گا۔۔۔
صلہ نے اسے رسانیت سے سمجھانا چاہا ۔۔۔ جبکہ وہ ماں کو اپنی کوئی بات مانتے نا دیکھ پاوں پٹختی کمرے سے نکل گئ۔۔۔
*****
مغیث بھائی میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔ وہ مسلسل ناخن چباتی کمرے میں دائیں سے بائیں پیدل مارچ کر رہی تھی۔۔۔
ارادہ مغیث کے کمرے میں جا کر اس سے جرح کرنے کا تھا کیونکہ وہ کچھ دیر پہلے ہی گھر آ گیا تھا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ اپنی سوچ کو عملی جامہ پہناتی مغیث ایک جھٹکے سے اسکے کمرے کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا۔۔۔
عینو ایک کپ چائے تو بنا دو پلیز۔۔۔ اسکی نگاہیں موبائل کی سکرین پر مرکوز تھیں۔۔۔ وہ مصروف سا گویا ہوا۔۔۔
مغیث بھائی آپ۔۔۔۔
بھائی نہیں ہوں تمہارا اوکے۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ غصے میں پھٹتی وہ موبائل کی سکرین سے نگاہیں اٹھاتا اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
یہ بات تو آپ بچپن سے کہتے آ رہے ہیں تو کب سے نظر رکھ کر بیٹھے تھے مجھ پر۔۔۔ اچانک وہ پھٹ پڑئ تھی۔۔۔ نین کٹورے پانی سے لبالب بھر گئے تھے۔۔۔
اووو۔۔۔ ہووووو۔۔۔ بدلے بدلے سے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔۔۔ اسکے چہرے پر ایک دلنشین مسکراہٹ ابھری ۔۔۔ ایک منٹ لگا تھا اسے سمجھنے میں کے مام اس سے رشتے کے حوالے سے بات کر چکی ہیں اور اب اسی کا نزلہ اس بیچارے پر گر رہا تھا۔۔۔
مجھ سے اتنی فضول گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ وہ چٹخی۔۔۔ کیونکہ اس انکشاف کیساتھ ہی مغیث کی تو نگاہیں ہی بدل چکی تھیں۔۔ جبکہ اسکی یہ نگاہیں اسے کنفوز کر رہی تھیں۔۔۔ کہاں دیکھا تھا اسنے مغیث کا ایسا روپ پہلے۔۔۔۔
آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔ آپ بھائی ہیں میرے۔۔۔ وہ بے بسی سے گویا ہوئی۔۔۔
بھائی نہیں ہوں تمہار سویٹ ہارٹ۔۔۔ یہ بات تمہیں بچپن سے سمجھا رہا ہوں۔۔۔ اسکے باوجود یہ بات تمہارے چھوٹے سے دماغ میں نہیں بیٹھی تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔۔۔ وہ شریر سے انداز میں کہتا اسکا ناک دبا گیا۔۔۔ جبکہ نینا نے غصے سے اسکا ہاتھ جھٹکا۔۔۔
مجھے نہیں کرنی آپ سے شادی۔۔۔ وہ جھنجھلائی۔۔۔ اسکا بس نا چل رہا تھا کہ دیواد میں اپنا سر مار ڈالتی۔۔۔کوئی بھی تو نہیں سمجھ رہا تھا اسے۔۔۔ نا ماں اور نا اب مغیث۔۔۔۔
ارے ایسے کیسے نہیں کرنی شادی ظالم لڑکی۔۔۔ کوئی ایک وجہ تو بتاو شادی نا کرنے کی۔۔۔ اور اب تو میں نے تمہارے کھڑوس باپ کی شرط بھی پوری کر دی ہے پھر کیا مسلہ ہے۔۔۔ وہ اسکے کان کے قریب جھکتا رازدرانہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
نہایت برے انسان ہیں آپ۔۔۔ وہ اسکے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے دھلیکتی کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن چائے تو بنا دو یار۔۔۔ وہ پیچھے سے ہانک لگاتا گویا ہوا۔۔۔
خود بنائیں۔۔۔ اسی تیزی سے جواب موصول ہوا تھا ۔۔۔
******

No comments