khuab_e_janoon novel 1st part of last episode by Umme Hania
khuab_e_janoon novel 1st part of last episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
آخری قسط۔۔۔
اسنے آہستگی سے اپنی آنکھیں وا کیں تو نظریں سیدھی سیلنگ فین سے ٹکرائیں۔۔۔ چھت سفید تھی۔۔۔ اسے ارد گرد سے شور اپنے کانوں میں سنائی دیا تو اس نے نظریں گھمائی۔۔۔
پورا کمرا سفید تھا جسے لائٹ پنک اور سفید غباروں اور پھولوں کے بکے سے سجایا گیا تھا۔۔۔
تازے گلابوں کی مہک اسکے نتھنوں سے ٹکرائی۔۔۔ اسنے بائیں جانب دیکھا جہاں خالہ صوفے پر بیٹھیں تھیں پاس ہی صلہ بھی موجود تھیں۔۔۔ خالہ کی گود میں ایک ننھا سا وجود تھا جس پر خالہ اور صلہ جھکیں مسکرا کر تبادلہ خیال کر رہی تھیں۔۔۔۔
بچے بھی پر جوش سے ننھے مہمان کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ اس ننھے سے وجود کو دیکھتے بے ساختہ عفرا کی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔۔
وہ غالباً ہسپتال کا وی آئی پی پڑائیویٹ روم تھا۔۔۔ دفعتا دوسری طرف نعمان سے بات کرتے امان کی نظر عفرا پر پڑی تو وہ سرعت سے اٹھ کر اسکی جانب بڑھا۔۔۔
بے ساختہ اسے کچھ وقت پہلے کے لمحات یاد آئے جب وہ لوگ عفرا کی طبیعت خراب ہونے پر اسے ہسپتال لائے تھے اور تب سے ہی وہ ماں کے ساتھ آپریشن ٹھیٹھر سے باہر بے چین سا بیٹھا تھا۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد ڈاکٹر نے باہر نکل کر انہیں خوشخبری سنائی۔۔۔
مبارک ہو بیٹا ہوا ہے۔۔۔۔ ماں اور بیٹا دونوں ٹھیک ہیں۔۔۔ کچھ دیر تک ماں کو بھی کمرے میں شفٹ کر دیا جائے گا۔۔۔
یہ خبر سنتے ہی خالہ کے تو آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔ جبکہ امان ۔۔۔ اسکی کیفیت بھی ماں سے کچھ مختلف نا تھی۔۔۔ وہ تو الٹے قدموں وہیں سے ہسپتال سے ملحقہ چھوٹی سی مسجد میں گیا تھا اور وہیں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوا۔۔۔۔
وہاں شکرانے کے نوافل ادا کر کے گڑگڑا کر اپنے رب کے حضور بچےاور ماں کی صحت و تندرستی اور ایمان والی لمبی حیاتی کی دعا کر کے وہ واپس ماں کے پاس آیا۔۔۔
ماں بچے کو سینے سے لگائے خود کو سکون فراہم کر رہی تھی۔۔۔۔ اسنے مسکرا کر ماں کی گود سے بچہ لیا۔۔۔
یہ احساس ہی بہت خوبصورت تھا۔۔۔ بے ساختہ اسنے روئی کے ننھے گالے کی مانند اس ننھے وجود کے ماتھے پر بوسہ لیا اور وہیں ہسپتال کے کمرے میں بیٹھے ہی اسکے کان میں اذان دی۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں صلہ نعمان اور بچے بھی مٹھائی اور پھولوں سے لڈے پھندے وہاں موجود تھے۔۔۔
عفرا کے کمرے میں آنے سے پہلے پہلے کمرے میں یہ ساری ارینجمنٹس صلہ نے نعمان اور امان کی مدد سے کی تھیں۔۔۔
بچوں نے بھی ان سب میں انکا خوب خوب ساتھ دیا تھا۔۔۔۔
تم ٹھیک ہو عفرا۔۔۔ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔۔۔ وہ نقاہت زدہ سی لیٹی عفرا پر جھکا محبت سے اسکے بال سنوارتا گویا ہوا تو وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔۔
ہمارا بے بی۔۔۔ مجھے دیکھنا ہے۔۔۔ وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔ صلہ بھی اسے ہوش میں آتا دیکھ اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
امان نے اسکے بیڈ کا ہینڈل گھماتے بیڈ سر کی سائیڈ سے اونچا کیا۔۔۔ خالہ بھی مسکراتے ہوئے بچہ لے کر اسکے پاس آئیں۔۔۔
خالہ نے محبت سے بچہ اسکی گود میں لٹاتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔۔
ایک منٹ ایک منٹ۔۔۔ آپ سب ایک ساتھ ہوں میں نے فوٹوز بنانی ہیں۔۔۔ صلہ نے موبائل اٹھاتے امان اور خالہ کو عفرا کے ساتھ کیا اور ان چاروں کی کئ ایک تصویریں موبائل کے کیمرہ میں نظر بند کیں۔۔۔
*****
عفرا کو اگلے دن ہسپتال سے ڈسچارج ملنا تھا۔۔۔ پے درپے لگتی ڈرپس اور دوائیوں کے زیر اثر وہ نیم غنودگی میں تھی۔۔۔ سب ہنوز اسی کمرے میں موجود تھے۔۔۔ اس ننھے شہزادے کو چھوڑ کر جانے کا کسی کا بھی دل نا تھا۔۔۔۔ خوش گپیوں کا دور چلا نکلا تھا۔۔۔ عفرا سوئی جاگی کیفیت میں تھی۔۔۔ کبھی انکے قہقوں کی آواز پر آنکھیں کھولتی مسکرا کر انکی جانب متوجہ ہو جاتی تو کبھی پھر سے غنودگی میں چلی جاتی۔۔۔۔
بچے اشتیاق سے اس ننھے شہزادے کے جھولے کے گرد بیٹھے تھے۔۔۔
دفعتا نینا مغیث کو دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔
مغیث بھائی کینٹین چلیں۔۔۔
بھائی نہیں ہوں میں تمہارا۔۔۔ وہ ماتھے پر بل لئے اسکی جانب دیکھتا گویا ہوا۔۔۔ جبکہ نینا اسکا یہ دھوپ چھاوں سا روپ دیکھتی منہ بسور کر بیٹھ گئ۔۔۔
کبھی وہ اتنا اچھا بن جاتا کے عینا سے زیادہ اسکی پرواہ کرتا تو کبھی لمحوں میں اتنا روڈ ہو جاتا۔۔۔
او میگ برو کو برا لگا۔۔۔ عینا نینا کو دیکھتی منہ ٹیرھا کر کے گویا ہوئی۔۔۔ عینا اسکے ٹاکرے کی تھی اس لئے وہ اس سے زیادہ بحث نا کرتا تھا۔۔۔ جبکہ وہ کئی بار نینا سے کہہ بھی چکی تھی کہ وہ مغیث کی باتوں پر چڑ کر چپ کر جاتی ہے اسی لئے وہ اسے چڑاتا ہے۔۔۔
مغیث ایک نظر اسے دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔
چلو نینو کینٹین چلتے ہیں اسے نہیں لے کر جائیں گے۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا نینا کا ناک دبا کر اسکا ہاتھ کھینچ کر دروازے کی جانب بھاگا۔۔۔
اوے مجھے بھی لے کر جاو۔۔۔ عینا بھی دہائی دیتی انکے پیچھے بھاگی۔۔۔
صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھی صلہ بچوں کو یوں آپس میں ہستا مسکراتا دیکھِ خوش تھی۔۔۔
مغیث ایک بہت ہی سمجھدار بچہ تھا جو صلہ اور بچیوں کے ساتھ بہت جلد ایڈجسٹ کر گیا تھا ۔۔۔ بس نینا کو کبھی کبھار چڑانا اپنا فرض سمجھتا تھا۔۔۔
*****
بارہ سال بعد۔۔۔۔
صلح حسب معمول صبح صبح ہی اٹھ چکی تھی۔۔۔۔
آج سنڈے تھا تو سب لیٹ ہی اٹھنے والے تھے۔۔۔۔ کل شام ہی مغیث نے اپنا پہلا پڑاجیکٹ کامیابی کے ساتھ مکمل کیا تھا۔۔۔ پورے چھے ماہ بعد کہیں جا کر اسنے مغیث کو رات پرسکون ہو کر سوتے دیکھا تھا۔۔۔ ورنہ وہ اس پڑاجیکٹ کے پیچھے دن رات ۔۔۔ کھانا پینا۔۔۔ سونا جاگنا۔۔۔ حتی کہ خود تک کو بھی فراموش کر چکا تھا۔۔۔
چھ ماہ پہلے نعمان نے اسے خود کو ثابت کرنے کے لئے ایک چیلنج دیا تھا جسے وہ کچھ زیادہ ہی سیریس لے گیا تھا۔۔۔ اور لیتا بھی کیوں نا۔۔۔ آخر اسکی زندگی کا فیصلہ ہی اس پڑاجیکٹ سے مشروط کر دیا گیا تھا۔۔۔۔
صلہ صوفے کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں مونڈے لیٹی تھی جب وہ اپنی گود میں ایک لمس محسوس کرتی مسکراتی ہوئی سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔۔
ناجانے وہ کس وقت اسکے پاس آ کر بیٹھا تھا۔۔۔ نیچے زمین پر بچھے مخملی کارپٹ پر بیٹھا مغیث سر اسکی گود میں رکھے آنکھیں مونڈے ہوئے تھا۔۔۔
ٹریک سوٹ میں ملبوس بال ماتھے پر بکھرے تھے ہلکی بڑھی شیو میں وہ اسے بہت پیارا لگا۔۔۔ دل نے بے ساختہ ماشااللہ کہا۔۔۔غالبا وہ ابھی واک سے ہی واپس آیا تھا۔۔۔
ارے بیٹا اتنی جلدی اٹھ گئے مجھے لگا آج دیر سے اٹھو گئے ۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتی اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگیں۔ ۔۔
ارے مام ابھی آپکے ظالم شوہر نے میری قسمت کا فیصلہ نہیں کیا۔۔۔ ویسے راز کی بات ہے مام۔۔۔ آپکے شوہر نامدار اتنے کھڑوس کیوں ہیں۔۔۔ وہ اسکی گود سے سر اٹھاتا اسے دیکھتا رازدرانہ گویا ہوا۔۔۔
شیطان۔۔۔ صلہ اسکے کندھے پر چیت رسید کرتی کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔
یہاں کس کی غیبتیں ہو رہی ہیں۔۔۔ دفعتاً نعمان ٹریک سوٹ میں ملبوس نیوز پیپر تھامے آ کر صوفے پر بیٹھا۔۔۔
آپکے ہوتے ہم ماں بیٹا بھلا کس کی غیبتیں کر سکتے ہیں۔۔۔ ظاہر ہے آپکی ہی۔۔۔ وہ صوفے کی سیٹ پر کہنی ٹکائے رخ باپ کی جانب کرتا گویا ہوا۔۔۔
نعمان نے نیوز پیپر کھولتے اسے گھورا۔۔۔۔
بس کریں نعماں۔۔۔ خبردار جو میرے بیٹے کو یوں گھورا تو۔۔۔ صلہ ان دونوں کو دیکھتی مسلسل مسکرا رہی تھی۔۔۔
لو یو مام۔۔۔ بس ایک آپ ہی تو میری ہیں۔۔۔ ورنہ لوگوں کو کہاں میری پرواہ۔۔۔ وہ چہرا صلہ کی جانب موڑتا فلائنگ کس کرتا گویا ہوا۔۔۔
جبکہ نعمان سر نفی میں ہلاتا واپس اخبار کھولنے لگا۔۔۔
بابا کیا آپ آج فری ہیں مجھے آپکی ہیلپ چاہیے ایک اسائمنٹ بنانے میں۔۔۔ دفعتا شارٹ شرٹ اور کیپری میں ملبوس آنچل سینے پر پھیلائے اونچی پونی کئے نینا باپ کے پاس آ کر بیٹھتی۔۔۔
ارے اپنی پرنسس کے لئے تو میرے پاس وقت ہی وقت ہے آپ کسی بھی وقت اسائمنٹ لے آئیں۔۔۔ وہ نینا کو دیکھتا نرمی سے گویا ہوا۔۔۔
تھینک یو پاپا پھر۔۔۔
اوووو۔۔۔ نینو بے بی کو ہیلپ چاہیے۔۔۔ حسب عادت مغیث اسکی بات میں ٹانگ اڑا چکا تھا۔۔۔
مغیث بھائی۔۔۔ اسنے غصے سے انگلی اٹھاتے اسکی جانب دیکھا جب وہ بھی انگلی اٹھاتا سرعت سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
بھائی نہیں ہوں تمہارا اوکے۔۔۔۔۔
آپ ہو ہی نہیں عزت کے لائق ۔۔۔۔۔ وہ پاوں پٹختی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ بابا آپکا اور اپنا ناشتہ میں خود بنانے جا رہی ہوں۔۔۔ آپ چیک کر کے بتانا کیسا بنا ہے۔۔۔ فضول لوگ اپنا بندوبست خود کریں۔۔۔ وہ باپ سے کہتی اسے ایک گھوری سے نوازتی کچن کی جانب بڑھی۔۔۔
مغیث خود کو فضول لوگ بلائے جانے پر کھلکھلا کر مسکرا دیا۔۔۔ وہ صرف اپنے باپ کے اپروول کا منتظر تھا۔۔۔ پھر بات کھلنے پر وہ نینو کے تاثرات دیکھنا چاہتا تھا جسکے نین حیرت کے وقت مزید بڑے ہو جاتے تھے۔۔۔جبکہ صلہ بھی انکی نوک جھونک انجوائے کرتی مسکراہٹ چھپانے کو چہرا چھپا گئ۔۔۔
نینا میرے لئے بھی بنا لینا پلیز۔۔۔ دفعتا کھلی سی شرٹ اور ٹراوز میں آنچل کندھے پر ٹکائے لیئرز میں کٹے بال ایک کندھے پر ڈالے عینا دھپ سے آ کر باپ کے پاس بیٹھی۔۔۔
کیوں تمہارے ہاتھوں کو مہندی لگی ہے کیا۔۔۔ کبھی تم بھی کچھ کر لیا کرو۔۔۔ جاو جا کر بہن کی مدد کرو ناشتہ بنانے میں۔۔۔ صلہ نے اسے غصے سے دیکھتے آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔
بابا۔۔۔ جبکہ وہ ماں کے ہاتھوں ہوئی حوصلہ افزائی پر منہ بناتی باپ سے شکوہ کناں ہوئی۔۔۔
صلہ۔۔۔ خبردار جو میری شہزادی کو ڈانتا تو۔۔۔
ہاں جی بس آپ ہی کی شہہ کا نتیجہ ہے۔۔۔۔
اور چڑھائیں سر پر۔۔۔ صلہ چڑ کر کہتی عینا کو خونخوار نگاہوں سے دیکھتی اٹھ کر نینا کے پیچھے کچن میں گئ۔۔۔
لڑکی زرا ہاتھ پاوں چلا لیا کرو تم بھی ورنہ زنگ لگ جائے گا۔۔۔ اور اگلے گھر جا کر ناک کٹواو گی ہماری کے ہمیں زنگ آلود لڑکی دی ہے۔۔۔ مغیث مسکراہٹ ہونٹوں میں دابتا سنجیدہ صورت بنائے روبدار آواز میں گویا ہوا۔۔۔۔
عینا نے اسے دیکھ دانٹ پیستے پاس پڑا کشن رکھ کر اسے دے مارا۔۔ جسے وہ کمال مہارت سے کیچ کرتا اپنے پیچھے صوفے پر پھینک چکا تھا
اس سے پہلے کے وہ جنگلی بلی بنی اس پر جھپٹتی مغیث اسکے ارادے سمجھتا قہقہ لگاتا سرپٹ وہاں سے بھاگا۔۔۔۔
******
بابااااا۔۔۔۔ بابا میرا رزلٹ آگیا۔۔۔۔ یہ دیکھیں۔۔۔۔۔۔ نو سالہ میرب بھاگتی ہوئی لاوئنج کا دروازہ وا کرتی اندر داخل ہوئی اور سامنے صوفے پر بیٹھے کسی سے فون ہر بات کرتے باپ کے پاس آئی۔۔۔۔
امان نے فون پر الوداعی کلمات کہتے فون میز پر رکھا اور چمکتی نگاہوں سے سامنے کھڑی بیٹی کا دمکتا چہرا دیکھا جسکے چہرے کی خوشی سے ہی اسکے رزلٹ کا پتہ لگایا جاسکتا تھا۔۔۔
اس میں دکھانے والی کونسی بات ہے ہمیں پتہ ہے تمہارے رزلٹ کا۔۔۔ ہر بار ایک ہی رزلٹ۔۔۔ بابا میں نے ٹاپ کیا۔۔۔ کبھی فیل ہو کر دکھاو تو مانے۔۔۔ آواز پر میرب اچھنبے سے پیچھے پلٹی۔۔۔ ایکسائٹمنٹ میں وہ آگے پیچھے دیکھنا ہی بھول گئ تھی۔۔
اس سے کچھ فاصلے پر بارہ سالہ مائیز جینز اور چیک شرٹ میں ملبوس کارپٹ پر بیٹھا سامنے موجود گلاس ٹیبل پر جھکا جرنل پر کچھ لکھ رہا تھا جبکہ پاس ہی لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا جس سے دیکھ دیکھ کر وہ کچھ نوٹ کر رہا تھا۔۔۔۔۔
آپ سے یہ ہی امید تھی بھیا۔۔۔۔ اسنے منہ بسورا۔۔۔
مائیزززز۔۔۔ امان نے بیٹی کا اترا چہرا دیکھ اسے تنبیہ کی۔۔۔ جبکہ وہ ان دونوں کو دیکھتا باری باری ہاتھ دونوں کانوں کو لگا کر واپس اپنے کام پر جھک گیا ۔۔
لاو دکھاو اپنا رزلٹ پرنسس۔۔۔ وہ محبت پاش نگاہوں سے اسے دیکھتا اسکے پھولے پھولے گال سہلاتا گویا ہوا۔۔۔۔
میرب نے چہک کر رزلٹ اسکی جانب بڑھایا۔۔۔
ماشااللہ۔۔۔۔ بابا کی جان بابا کو آپ سے یہ ہی امید تھی۔۔۔ بابا کا مان ہو آپ۔۔۔ امان اسکا کندھا تھپتھپاتا اسکے ماتھے کا بوسہ لے کر پرجوش آواز میں گویا ہوتا اسکا سیروں خون بڑھا گیا۔۔۔
لو یو بابا۔۔۔۔ باپ کے التفات پر وہ باپ کے گلے میں بازو حائل کرتی اٹھلا کر بولی۔۔۔
اب میرا گفٹ۔۔۔۔۔ اسنے آنکھیں پٹپٹائی۔۔۔
اللہ معاف کرے۔۔۔ دھکوسلے دیکھیں اسکے۔۔۔ مائیز نے ایک نظر جرنل سے اٹھا کر توبہ توبہ کرنے کے انداز میں سر نفی میں ہلایا۔۔۔
میرب نے اسکے گھورا پھر سرعت سے باپ کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
جی میری شہزادی بتائیں آپکو کیا چاہیے ۔۔
اس دفعہ ویکیشن پر مجھے سویزلینڈ جانا ہے بابا۔۔۔ میری دوست بتا رہی تھی وہاں بہت خوبصور۔۔۔
سویزلینڈ کپلز ہنی مون کے لئے جاتے ہیں تم جا کر کیا کرو گئ۔۔۔
مائیز اسکی بات کاٹتا مصروف سے انداز میں گویا ہوا۔۔۔۔
اوہ خدا نام ہے مائیز کچھ سوچ سمجھ کر بولا کرو۔۔۔ امان اسکی بات پر عاجز آتا اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر گویا ہوا۔۔۔
کیا ہوا بابا میں نے سرچ کی تھی اس پر تبھی مجھے پتہ چلا کے ایک سروے کے مطابق۔۔
اچھا بس بس ابھی کے لئے جو کر رہے ہو وہ کرو۔۔۔ امان سرعت سے گویا ہوا۔۔۔
مائیز ایک کوئیک لرنر بچہ تھا۔۔۔ مزید ماں باپ کی توجہ اور بروقت گائیڈنیس نے اسکی اس صلاحیت کو بہت پالش کیا تھا یہ ہی وجہ تھی کے وہ ہر بات میں اپنی رائے دینا ضروری سمجھتا ۔۔۔ بعض دفعہ تو امان تک اسکی باتوں پر سر تھام کر رہ جاتا۔۔۔
کچن سے نکلتی عفرا باپ بیٹے کو یوں دیکھ اپنا قہقہ نا ضبط کر پائی۔۔۔
بلاشبہ امان ایک بہت بہترین باپ ثابت ہوا تھا۔۔۔ مائیز اس گھر میں آنے والا پہلا بچہ تھا اس لئے اسنے سب کی خوب خوب توجہ سمیٹی تھی۔۔۔ عفرا تو دن رات اس پر جان چھڑکتی ہی تھی۔۔۔پر رات میں اگر وہ اٹھ جاتا تو امان اسے ساری ساری رات سٹڈی میں اپنے پاس رکھتا کہ عفرا کی نیند میں خلل نا پڑے۔۔۔ پہلے دن سے لے کر اب تک بچوں کی تربیت میں اسکا رول عفرا سے بھی زیادہ رہا تھا۔۔۔
وہ انکا باپ کم دوست زیادہ تھا۔۔۔ انکے ساتھ بھرپور وقت گزارتا۔۔۔ انکی سٹڈی میں مدد کرتا۔۔۔ اور ویک اینڈ تو تھا ہی اسکا بچوں کے لئے۔۔۔۔
دونوں بچے ہی اسے بہت عزیر تھے۔ لیکن میرب میں تو اسکی جان تھی۔۔۔
بابا میں یہ دادو کو دکھا کر آتی ہوں۔۔۔ میرب رزلٹ کارڈ لے کر دادی کے کمرے کی جانب بھاگی۔۔۔۔
دادو کو بھی باہر لے آو میرب میں چائے لا رہی ہوں۔۔۔ وہ فرنچ فرائز کی پلیٹ میز پر رکھتی میرب کو اونچی آواز میں کہنے لگی جو بھاگ کر دادی کے کمرے کی جانب جا رہی تھی۔۔۔
بابا علی بھائی سے کہہ کر میرا بھی کوڈنگ کا یوٹیوب چینل بنوا دیں۔۔۔ مائیز نے پنسل بند کر کے جرنل میں رکھی اور خود سیدھا ہو کر گردن دائیں بائیں گھمائی۔۔۔
آپکا کوڈنگ کا کورس مکمل ہوگیا بیٹا۔۔۔ عفرا نے اسکے پاس ہی صوفے پر بیٹھتے محبت سے اسکے بال سنوارے۔۔۔۔
جی ماما تقریباً باقی ساتھ کے ساتھ سیکھتا جاوں گا۔۔۔ وہ ماں کو دیکھتا مسکرایا۔۔۔
لاو مجھے دکھاو کہاں تک پہنچے۔۔۔ امان کے کہنے پر اسنے اپنا جرنل اٹھا کر اسکی جانب بڑھایا۔۔۔
چلو اللہ کامیاب کرے میرے بیٹے کو۔۔۔ عفرا نے اسے دعایئں دیتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
******
رات کی رانی چہار سو اپنے پنکھ پھیلائے تھی۔۔۔ کمرے کی کھڑکی کھلی تھی جہاں سے چاند کی روشنی چھن چھن کر اندر آ رہی تھی۔۔۔۔ ایسے میں عینا گم صم سی نائٹ ڈریس میں ملبوس شال کندھون کے گرد لپیٹے گم صم سی کھڑکی کے پاس کھڑی تھی ۔۔۔ کھلے بال باہر سے آتی ٹھنڈی ہواوں کے سنگ اڑ رہے تھے۔۔۔ اور سوچوں کا مرکز کہیں دور ہی بھٹک رہا تھا۔۔۔
یکدم ہی اسکے گرد دھند کے مرغولے چھانے لگے اور وہ کہیں بہت پیچھے جانے لگی کچھ مہینہ ڈیڑھ مہینہ پیچھے یونیورسٹی کے گراوئنڈ میں۔۔۔
وہ عبایہ میں ملبوس سر پر حجاب کئے یونیورسٹی کے گراونڈ میں چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔ اسے یونیورسٹی میں آئے ہفتہ بھر ہو گیا تھا۔۔۔ اور یہ بھی صلہ کی ہی تربیت تھی کے گھر میں چاہیے جیسے بھی رہو باہر عبایہ میں ہی جانا ہے۔۔۔۔ آج موسم کافی خوبصورت تھا اس لئے زیادہ تر سٹودینٹس گراونڈ میں ہی تھے۔۔۔ نینا کی بھی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لئے وہ بھی آج یونیورسٹی نہیں ائی تھی۔۔۔
دفعتا اسے اپنے پیچھے سے ایک مردانہ آواز سنائی دی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔
وہ چونک کر پلٹی۔۔۔ وہ صاف رنگت اور کھڑے نقوش والا ایک جازب نظر شخص تھا جو جینز پر لیڈر کی جیکٹ پہنے ہوئے تھا۔۔۔
جی۔۔۔۔ عینا معتجب ہوئی۔۔۔۔
آپ عینا بالاج ہیں نا۔۔۔ وہ شخص شاید کنفرم کر رہا تھا۔۔۔
عینا الجھی۔۔۔ نہیں میں عینا نعمان ہوں۔۔۔
نہیں آپ عینا بالاج میں۔۔۔ بالاج ماموں کی بیٹی۔۔۔ اور میں آپکا کزن ہوں حارث آپکی ثانیہ پھوپھو کا بیٹا۔۔۔ اور
ایک منٹ۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔ آپ کیا اول فول بولے جا رہے ہیں۔۔۔ کہا نا میں عینا نعمان ہوں اور میری کوئی پھوپھو نہیں۔۔۔ عینا مسلسل اسے بولتا دیکھ غصے سے گویا ہوئی ۔۔
اسے غصے میں دیکھ حارث ایک گہری سانس بھر کر رہ گیا۔۔۔
آپ ایسے نہیں مانیں گی۔۔۔ میں کل اپنی امی کو لاوں گا۔۔۔ وہ آپکو ثبوت دکھائیں گی تو شاید آپکو یقین آجائے کے آپ عینا نعمان نہیں بلکہ عینا بالاج ہیں۔۔۔ آپ کل اسی وقت پچھلے گراوئنڈ میں مجھے ملنا۔۔۔ وہ لڑکا اداسی سے کہتا وہاں سے غائب ہو گیا ۔۔۔۔۔ جبکہ عینا اچھا خاصا الجھ کر رہ گئ تھی ۔۔
لیکن چاہ کر بھی وہ یہ بات کسی سے شیئر نا کر پائی تھی۔۔ حتی کے نینا سے بھی نہیں۔۔۔ کیونکہ وہ جس قدر کمزور دل تھی یقیناً اسے کبھی اس عورت سے ملنے نا دیتی۔۔ کیونکہ بقول عینا وہ بہت وہم پال لیتی تھی۔۔۔۔۔ اور ماں سے بات کر کے وہ انہیں پریشان کرنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
لیکن اگلے دن وہ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر مطلوبہ گراونڈ میں موجود تھی۔۔۔
جہاں آج کل والے لڑکے کے ساتھ ایک فربہہ مائل خاتوں بھی تھی جو شاید بقول اس لڑکے کے اسکی پھوپھو تھی۔۔۔
وہ عورت بہت چاہت سے والہانہ انداز میں اس سے ملی۔۔۔ اسے دیکھتے ہوئے وہ عورت مسلسل رو رہی تھی۔۔۔ پھر اس عورت نے اسے جو کہانی سنائی وہ اسے زلزلوں کی زد میں دے گئ تھی ۔۔ بقول اس عورت کے اسکے باپ اور ماں کی لو میرج تھی۔۔۔ ایک زمانے سے ٹکر لے کر دونوں نے شادی کی تھی۔۔۔۔ دونوں بہت خوش رہتے تھے لیکن پھر کسی گھریلو مسلے کو لے کر اسکے ماں اور باپ میں جھگڑا ہوا تو اسکی ماں نے غصے میں اسکے باپ سے علیحدگی اختیار کر لی۔۔۔
اسکا باپ بہت رویا تڑپا گڑگڑایا لیکن اسکی ماں نے اسکی ایک نا سنی اور بیٹیاں لے کر نعمان کے ساتھ شادی کر کے اپنا گھر بسا گئ۔۔۔ جبکہ اسکا باپ دلبرداشتہ ہو کر یہ ملک ہی چھوڑ گیا کیونکہ وہ بیٹیوں سے بہت محبت کرتا تھا اور صلہ نے اسے بچیوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی تھی۔۔
عینا کو ان میں سے کسی بات پر بھی یقین نا تھا۔۔ مگر پھر اس عورت نے اسے صلہ اور بالاج کی شادی کی اور ان دونوں بہنوں کی بچپن کی اپنے ماں اور باپ کے ساتھ تصویریں دکھائیں تو وہ جیسے برف کے مجسمے کی مانند ساکت و جامد رہ گئ۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔۔۔ ایک دفعہ دل چاہتا کے ماں کو کٹہرے میں کھڑے کر کے پوچھے تو ضرور کے کیوں اسے اسکے باپ سے جدا کیا۔۔۔ لیکن پھر دل کا ایک کونہ ماں کے حق میں گواہی دیتا تو وہ خاموش ہو جاتی۔۔۔ لیکن اس بیچ ہوا یہ تھا کہ وہ حارث سے بہت فرینک ہو گئ تھی۔۔۔ دن رات اس سے باتیں کرتی اس سے اپنے باپ کے متعلق پوچھتی۔۔۔
اور اب اسنے ہی کل اسے یو یورسٹی میں بتایا تھا کہ صبح اسکے بابا پاکستان آنے والے ہیں۔۔۔ وہ اسے گھر پر ان سے ملنے کے لئے بلانے پر بضد تھا۔۔۔ اور وہ ہنوز شش و پنج میں مبتلا تھی کے کیا اسے وہاں جانا چاہیے یا نہیں۔۔۔ لیکن باپ سے ملنے کا ایک فطری تجسس اس میں سر ابھار رہا تھا۔۔۔
دفعتا اسکے موبائل کی بیل بجی تو وہ اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ میسج حارث کا ہی تھا۔۔۔ وہ موبائل لئے لحاف میں گھس گئ۔۔۔ اسے کسی بھی طرح صبح اسکے ساتھ اپنے باپ سے ملنے جانا تھا۔۔۔۔
******

No comments