khuab_e_janoon novel 2nd last episode by Umme Hania۔
khuab_e_janoon novel 2nd last episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
سیکنڈ لاسٹ ایپی۔۔۔۔
نعمان صلہ کو لئے سیدھا ڈاکٹر کے کلینک آیا تھا۔۔۔ پھر وہاں سے چیک آپ کے بعد اسکی دوائی لے کر وہ وہاں سے سیدھا مال گئے تھے۔۔۔ جہاں پر بچوں کو پلے ایریا سے لے کر انہوں نے لنچ کیا اور پھر نعمان نے بچوں اور صلہ کو ڈھیر ساری شاپنگ کروائی ۔۔۔۔ یہ سب صلہ کے لئے انوکھا تھا ۔۔۔۔ اتنی ٹف زندگی میں اسنے کہاں بادصبا کے ان جھونکوں کے بارے میں سوچا تھا ۔۔۔۔
وہ کہے کے مطابق حقیقتاً صلہ کی بری ہی مکمل کر رہا تھا۔۔۔ کپڑے جوتے ہینڈ بیگز پرفیوم میک آپ۔۔۔ جیولری کیا وہ چیز تھی جو وہ نہیں خرید رہا تھا۔۔۔ جبکہ صلہ تو بس حق دق سی اسے ڈھیرو ڈھیر شاپنگ کرتا دیکھ رہی تھی۔۔۔ اور اسنے بس اسی پر اکتفا نہیں کیا تھا۔۔۔ بچوں کے کپڑوں اور جوتوں کے بعد اسنے تینوں بچوں کو انکی پسند کے کھلونے اور سٹیشنری دلوائی تھی۔۔۔
بچیاں بہت خوش تھیں۔۔۔ صلہ تو بس گم صم سی بچیوں کے چہروں پر کھلتی مسکراہت اور خوشی کے رنگ ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
شاپنگ میں کافی وقت لگا تھا اس لئے اب وہ ڈنر کرنے نزدیکی ریسٹورنٹ میں آ گئے تھے۔۔۔۔
نعمان نے فیملی کیبن ریزرو کروایا تھا۔۔۔ تینوں بچوں میں دوستی ہوگئ تھی بچے کانٹے چھڑیاں پلیٹ پر بجاتے اپنے آرڈر کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔
صلہ خاموشی سے بیٹھی اپنی زندگی کا محاسبہ کر رہی تھی۔۔۔ جتنا ریلیکس دن اسنے آج کا گزارا تھا پچھلے چار سالوں میں اتنا ٹینش فری کوئی دن نا گیا تھا۔۔۔
اسکی روٹین خاصی لگی بندھی تھی۔۔۔ ایک کے بعد دوسرا کام۔۔۔ اور دوسرے کے بعد تیسرا۔۔۔ اور یونہی سائیکل چلتا رہتا تھا۔۔۔ اور اب فراغت ہی فراغت تھی۔۔۔ نعمان مسکراتا ہوا بچوں کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔۔۔
دفعتا آرڈر آیا تو وہ سب سیدھے ہوئے۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد انہیں گھر پہنچتے پہنچتے خاصی دیر ہوگئ تھی۔۔۔
بچے تو اسقدر تھک گئے تھے کے آتے ہی سو گئے۔۔۔ جبکہ صلہ بچوں کے سونے کے بعد ان پر لحاف دے کر سیدھا کچن میں آئی۔۔۔ کچن سارا بکھرا پڑا تھا۔۔۔ صبح کے ناشتے کے برتن بھی یونہی اپنی حرماں نصیبی پر بیٹھے رو رہے تھے۔۔۔ تھک تو وہ خود بھی بہت گئ تھی لیکن گہرا سانس خارج کرتی بازو چڑھا کر سرعت سے شلف سے برتن سمیٹ کر سنک میں رکھنے لگی۔۔۔ اسے ویسے بھی عادت تھی تھکاوٹ کے باوجود کام کرنے کی۔۔۔ برتن سنک میں رکھتے ہی اسنے چولہے پر دو کپ چائے بننے کے لئے رکھی اور آنچ ہلکی کرتی برتنوں کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ برتن دھونے کے لئے نل کھولتی کچن میں آہٹ محسوس کر کے وہ بے ساختہ پلٹی۔۔۔
پیچھے کچن کے دروازے میں ماتھے پر شکنوں کا جال لئے نعمان کھڑا تھا۔۔۔ وہ تو آتے ہی اپنی میلز چیک کرنے لگا تھا اور صلہ اسے مصروف دیکھ کر ہی کچن میں چائے بنانے کی نیت سے آئی تھی اور یہاں برتن یوں بکھرے دیکھ وہ انکی جانب متوجہ ہو گئ ۔۔۔ لیکن وہ شاید کمرے میں اسکی غیر موجودگی محسوس کر کے ہی وہاں آیا تھا۔۔۔
یہ تم کیا کر رہی ہو صلہ ۔۔۔ طبیعت کچھ بہتر ہو گئ ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کے تم اب رات کے اس پہر ان برتنوں کے ساتھ طبع آزمائی شروع کر دو۔۔۔ اسنے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ سے برتن تھام کر واپس سنک میں رکھے اور اسے بازو سے تھامے باہر لانے لگا۔۔۔
میری بات تو سنیں نعماں۔۔ وہ جاتی جاتی احتجاجاً گویا ہوئی۔۔۔ رات میں برتن یوں دھونے والے نہیں چھوڑتے۔۔۔ میں بس دو منٹوں میں دھو لوں گی۔۔۔
صبح میڈ آ جائے گی تو آ کر سب دیکھ لے گئ۔۔۔ ابھی تک ایک جز وقتی ملازمہ آتی ہے جو میرے آفس اور مغیث کے سکول جانے کے بعد آ کر گھر کے سبھی کام کر جاتی تھی۔۔۔ آج سنڈے تھا اور سنڈے ہم باپ بیٹا اکھٹے گھر میں گزارتے ہیں تو اس لئے سنڈے کو اسے بھئ چھٹی ہوتی ہے۔۔۔ صبح وہ آئے گی تو اس سے اپنے زیر نگرانی سب کروا لینا۔۔۔ مزید اب ایک کل وقتی ملازمہ کا بھی بندوبست کرواتا ہوں۔۔۔ وہ اسکی ایک بھی سنے بنا اسے باہر لاتا بتا رہا تھا۔۔۔
اچھا وہ چائے رکھی ہے چولہے پر وہ تو کپوں میں ڈال لینے دیں۔۔۔
وہ کچن کے دروازے میں زبردستی رکتی ملتجی ہوئی۔۔۔
نعمان نے آنکھیں چندھی کرتے ایک نظر چولہے کی جانب دیکھا پھر واپس صلہ کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ تم کمرے میں چلو میں لاتا ہوں۔۔۔
آپ۔۔۔ آپ لائیں گئے۔۔۔ صلہ حیرت سے پوری آنکھیں وا کرتی گویا ہوئی۔۔۔ جبکہ اسکے اس انداز پر وہ کھل کر مسکرا دیا۔۔۔ ٹروازر شرٹ میں ملبوس بال ماتھے پر آگے کو گرے پوئے تھے۔۔۔اوپر سے یوں مسکراتا ہوا وہ صلہ کو مسمرائز کر گیا۔۔۔ صلہ نے اسے بہت کم مسکراتا ہوا دیکھا تھا۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے مجھے چائے ڈالنی نہیں آتی ۔۔ وہ تاسف سے سر نفی میں ہلاتا چائے کپ میں انڈیلنے لگا۔۔۔
چائے کپوں میں انڈیل کر اسنے کپ ٹرے میں رکھے اور ٹرے اٹھائے اسکی جانب بڑھا۔۔۔ وہ صلہ کا یوں یک ٹک اپنی جانب دیکھنا نوٹ کر چکا تھا مگر اسے جتلا کر وہ واپس اسے اسکے خول میں سمٹنے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا اس لئے بہت نارمل انداز میں اسکے پاس آیا۔۔۔
آپ میری عادتیں بگاڑ رہیں ہیں نعمان۔۔۔ مجھے اتنی آسائشوں کی عادت نہیں ہے۔۔ بہت ٹف وقت کاٹا ہے میں نے ۔۔۔۔ وہ اسکے ساتھ کمرے میں آ کر بستر پر بیٹھتی بیڈ کراوں سے ٹیک لگا کر لب چباتی افسردہ سی گویا ہوئی۔۔۔
پاس ہی تکیے پر نعمان کا لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا۔۔۔ وہ کام کرتا کرتا اسے دھونڈتا شاید ویسے ہی اٹھ کر چلا گیا تھا۔۔۔
اب میں نے شادی تم سے کام کروانے کو تو نہیں کی نا صلہ۔۔۔ کمال کرتی ہو تم بھی۔۔۔ وہ دوسری طرف سے آ کر بیڈ پر بیٹھا تو صلہ نے چائے کی ٹرے اسکی جانب بڑھائی۔۔۔
اب تم چائے پی کر آرام کرو ۔۔۔۔۔ صبح تم میرے ساتھ آفس جا رہی ہو جہاں میں تمہیں سٹاف سے مسز نعمان کی حیثیت سے متعارف کرواوں گا پھر بے شک واپس آ جانا۔۔
چائے کا کپ اپنی طرف کی سائیڈ ٹیبل پر رکھتا وہ واپس لیپ ٹاپ اپنی گود میں رکھ چکا تھا۔۔۔
صلہ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔ تو کیا میں اب آفس نہیں جاوں گی۔۔۔
آفس ہی تمہارا ہے صلہ۔۔۔ جب مرضی سپروزن کرنے چلی آنا۔۔۔ اسکی نگاہیں ہنوز لیپ ٹاپ کی سکرین پر تھی۔۔۔
نعمان میں کام کرنا نہیں چھوڑنا چاہتی۔۔۔ مجھے اپنا کیریئر بنانا ہے ۔۔۔ بہت مشکل سے میں یہاں تک پہنچی ہوں۔۔۔ مجھے واپس اپنے کمفرٹ زون میں نہیں جانا۔۔۔ پلیز۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں میں چائے کا کپ تھامے آنکھیں اس پر مرکوز کئے تھی۔۔۔
نعمان چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔۔
تو تمہیں کس نے کہا کہ اپنا کیریئر مت بناو۔۔۔
اپنا کلینک دوبارہ سے شروع کرو۔۔ اپنے گھر اور بچوں کے ساتھ اپنے کلینک کو اپنا سو فیصد دو۔۔۔ نو سے پانچ آفس جاب کر کے کیا کرنا ہے تم نے۔۔۔ وہ چائے کی چسکیاں لیتا فراغت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
صلہ کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ ابھری۔۔۔
تھینک یو۔۔۔۔ وہ اسکی بازو تھام کر اسکے کندھے پر سر ٹکاتی طمانیت سے آنکھیں موند گئ۔۔۔
******
گاڑی آفس کی پرشکوہ عمارت کے سامنے آکر رکی تو ڈرائیونگ ڈور کھول کر گرے پینٹ سفید شرٹ اور گرے ہی کوٹ میں ملبوس بال جیل سے سیٹ کئے نعمان باہر نکلا۔۔۔ جبکہ دوسرا دروازہ کھول کر میروں ٹخنوں کو چھوتی دیدہ ذیب فراک ذیب تن کئے جس پر سلور نقشی کا کام تھا۔۔۔ ہلکے پھلکے سے میک آپ اور نفیس سی جیولری پہنے میرون ہی سکارف سے حجاب کئے صلہ باہر نکلی۔۔۔
یہ ساری شاپنگ کل نعمان کی ہی کروائی ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ دونوں اکھٹے ہی آفس کا دروازہ دھکیلتے اندر داخل ہوئے تو کئ نگاہوں نے حیرت و استعجاب سے انکی جانب دیکھا۔۔۔
نعمان نے ریسپشنسٹ سے کہتے سب کو مرکزی ہال میں اکھٹے ہونے کا کہا ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں پورا سٹاف وہاں اکھٹا تھا۔۔۔
نعمان کے وہاں صلہ کو اپنی بیوی کی حیثیت سے متعارف کروانے پر ہر کوئی حیرت کے سمندر میں دبکیاں کھا رہا تھا۔۔۔
پھر دیکھتے ہی دیکھتے صلہ نے لوگوں کو گڑگٹ کی مانند رنگ بدلتے دیکھا۔۔۔ کل تک اسکی ذات پر انگلیاں اٹھانے والے لوگ آج آکر اس سے تعظیماً مل رہے تھے۔۔۔ اسے عاجزی سے مبارکباد دے رہے تھے۔۔۔۔۔
یہ سب ایک مضبوط سہارے اور محرم کے رشتے کے حوالے سے تھا ورنہ بدنام بھی تو اسی کے ساتھ کی گئ تھی۔۔۔ کیسے لوگوں نے آنکھیں پھیریں تھیں۔۔۔ اب وہی لوگ خوش آمدوں پر اتر آئے تھے۔۔۔
صلہ کا دل مکدر ہونے لگا تو وہ بڑے حق سے آ کر نعمان کے آفس میں بیٹھ گئ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ بھی آفس میں چلا آیا تھا۔۔۔
کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے۔۔۔ صلہ دیوار کے ساتھ لگے مخملی صوفے پر سر صوفے کی پشت سے ٹکائے ڈھیلے سے انداز میں بیٹھی تھی جب نعمان ایک نظر اسکی جانب دیکھتا اپنی کرسی کی جانب بڑھا۔۔۔
یہ وہی جگہ ہے جہاں آپ نے پہلی دفعہ مجھے ڈانٹا تھا اور اچھی خاصی سنائی تھیں۔۔۔ وہ مسکراہٹ لبوں میں دابے سیدھا ہو کر بیٹھتی شرارتی انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
جی بالکل ۔۔۔ میں نالائق ۔۔ کام چور اور غیر ذمہ دار ورکرز کو ایسے ہی دانٹتا ہوں۔۔ وہ اسکی شرارت سمجھتا اسی کے انداز میں گویا ہوا تو حیرت کی شدت سے صلہ کا منہ کھل گیا۔۔۔جبکہ اسکے تاثرات انجوائے کرتا وہ قہقہ لگاتا محظوظ ہوا۔۔۔
میں جا رہی ہوں گھر۔۔۔ وہ نڑوتھے پن سے گویا ہوئی۔۔۔
دو منٹ انتظار کرو یار۔۔۔ یہ ایک میل کر لوں پھر میں بھی ساتھ چلتا ہوں تمہارے مجھے بھی کام ہے۔۔۔ وہ تیزی سے لیپ ٹاپ کی کیز پر انگلیاں چلاتا ٹائپ کرنے لگا۔۔۔
*****
گاڑی ایک عالی شان عمارت کے سامنے آ کر رکی تو صلہ بھی نعمان کیساتھ باہر آ نکلی۔۔۔ وہ لاپرواہ سی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی ۔۔۔ نعمان وہاں کسی کام سے آیا تھا ایسے میں وہ بلڈنگز اور آفس کے آرکیٹکچر کو بہت غور سے آبزرو کرتی تھی۔۔۔ انشااللہ مستقبل میں وہ بھی اپنا ایک ایسا ہی آفس بنائے گی ۔ یہ خواہش تب سے اسکے دل میں تھی جب سے اسنے اپنے ڈرائنگ روم کو کلینک بنایا تھا۔۔۔۔
وہ خاصی پیاری جگہ تھی۔۔۔ جسکے دیوہیکل گلاس ڈور کے بعد سب سے پہلے ریسپشن ڈیسک آتا تھا اس سے تھوڑا سا آگے ویٹنگ ایریا تھا۔۔۔ وہاں کا انٹریئر لاجواب تھا۔۔۔ ایک طرف روش کے بعد ناجانے کیا تھا وہ تاحد نگاہ دیکھتے اندازہ نا لگا سکی۔۔۔ لیکن دوسری جانب گلاس ڈور کے پار غالباً آنر کا آفس تھا۔۔۔
ساری بلڈنگ اس وقت خالی تھی۔۔۔ وہ نعمان کے پیچھے اس آفس میں داخل ہوئی جسکے اندر کا انٹریئر دیکھنے کو وہ کب سے بے تاب تھی۔۔۔
کمرے کا انٹریئر باہر سے بھی زیادہ خوبصورت تھا۔۔۔ اندر سب کچھ سفید تھا۔۔۔ سفید بے داغ ۔۔ کمرے کو دیکھتے ہی تازگی کا احساس ہوتا تھا۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھی جب اچانک اسکی نظر ٹیبل پر پڑی کرسٹل کی نیم پلیٹ پر پڑی۔۔۔
سائیکولوجسٹ صلہ نعمان۔۔۔ اسکی آنکھیں حیرت سے پھٹ پڑیں۔۔۔
نعمان ی۔۔یہ کیا۔۔۔۔ وہ تھوک نگلتی نعمان کو اپنی جانب متوجہ کرتے گویا ہوئی۔۔۔
یہ تمہاری منہ دکھائی کا تحفہ ہے صلہ۔۔۔ مانا کے تھوڑا سا لیٹ ہو گیا ہوں ۔۔۔ لیکن میں پوری زندگی اپنی بیوی کے طعنے نہیں سن سکتا تھا کہ میرے شوہر نے مجھے منہ دکھائی کا تحفہ تک نا دیا۔۔۔
وہ کندھے اچکا کر اسکی سربراہی ریوالونگ چیئر کھینچ کر اس پر بیٹھا۔۔۔
جبکہ صلہ پر تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے چاروں جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔
کیا یہ واقعی سچ تھا۔۔۔ حسرتیں یوں بھی پوری ہوجایا کرتی تھیں بھلا۔۔۔
اسکی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا تھا۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں سے جھرنا بہنے لگا۔۔۔
لڑکی۔۔۔ تمہاری آنکھوں میں سمندر فٹ ہے کیا جو یہ ہر وقت بہتی ہی رہتی ہیں۔۔۔ غم ہوں تو بہتی ہیں۔۔۔ خوشی ہو تو بہتی ہیں۔۔۔ وہ مضنوعی تاسف سے سر نفی میں ہلاتا کہہ رہا تھا۔۔۔ مقصد اسے ہلکا پھلکا کرنا تھا۔۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔۔ وہ اس وقت اپنے ہی احساسات سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔
ہوا کیا ہے۔۔۔ وہ عاجزانہ گویا ہوا۔۔۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
وہ بہتی آنکھوں سمیت مسکراتی ہوئی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ یہ ایموشنل لڑکی اسے بھی ایموشنل کر گئ تھی۔۔۔
وہ سر نفی میں ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
تھینک یو نعمان۔۔ تھینک یو ویری مچ۔۔۔ آپ میرے لئے میرے اللہ کا انعام ہیں۔۔ وہ اسکے قریب آتی بہتی آنکھوں سے اسکے چہرے کا ایک ایک نقش چھوتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
آج تم مجھے بھی رلا کر ہی چھوڑو گئ۔۔۔ وہ اپنی نم آنکھیں جھپکتا اسے خود میں بھینچ گیا۔۔۔
*****
بڑھی شیو اور سرخ پڑتی نگاہوں کیساتھ وہ یک ٹک اپنے سامنے جھولے میں لیٹے اس چھوٹے سے بچے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
آنکھوں کے سامنے اسکی پوری زندگی کی فلم چل رہی تھی۔۔۔ کیسے صلہ اسکے آگے پیچھے پھرتی تھی۔۔۔ اسکے دم سے جیتی تھی۔۔۔ اسکی ناراضگی پر پہروں اسکے پیچھے پیچھے پھرتی۔۔۔ اسکی سانسیں رکنے لگتی تھیں۔۔ جب تک وہ مان نا جاتا تب تک وہ سکون کا سانس نا لیتی۔۔۔
پھر منظر بدلا تھا۔۔۔ جیسے وہ آنے والے وقت کو محسوس کرتی اسکی منتیں کرتی کے وہ اسے چھوڑ نا دے۔۔۔ ورنہ وہ مر جائے گی۔۔۔ وہ سسکتی ہوئی اس سے وعدے لیتی تھی۔۔۔
پھر منظر بدلا۔۔۔ کیسے ٹوٹی تھی وہ اسکی دوسری شادی کا سن کر۔۔۔ اسکا صلہ کو دھتکارنا۔۔۔ طلاق دینا۔۔۔ اسکی آنکھوں میں دم تورتی زندگی کو دیکھنا یہ سب اسکی روح پر تازیانے لگا رہا تھا۔۔۔
اپنی کی زیادتیاں اب شدت سے یاد آ رہی تھیں۔۔۔
اور وقت نے کیسی کروٹ لی تھی وہی صلہ جو کبھی اسکے نام کی مالا جپتی نا تھکتی تھی۔۔۔ وہ اب اسکا نام لے کر راضی نا تھی۔۔۔ اسکی آنکھوں میں بالاج کے لئے محبت کے دیپ نہیں بلکہ دھتکار تھی۔۔۔
کیا پایا اسنے زیست کے اس سفر میں۔۔۔ وہ کل بھی تنہا تھا وہ آج بھی تنہا ہی تھا۔۔۔ جس بیٹے کی خواہش نے اسے انسانیت کے درجے سے ہی گرا دیا وہی بیٹا آج قدرت کی جانب سے اسکے چہرے پر تماچا بن کر لگا تھا۔۔۔
وہ سرخ پڑتی آنکھوں کو شدت سے مسلتا بیٹا اٹھا کر ماں کے کمرے میں گیا۔۔۔
تائی بیڈ کراوں سے ٹیک لگائے نڈھال سی بیٹھی تھی۔۔۔ جبکہ ثانیہ بھی انکے پاس ہی بستر پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی دونوں کے درمیان چائے کی ٹرے پڑی تھی۔۔۔
وہ ماں کی جانب بڑھا۔۔۔
یہ لیں ماں ۔۔۔ آپکو پوتے کی ہی خواہش تھی نا۔۔۔ اللہ نے آپکی خواہش پوری کر دی۔۔۔ اسنے بیٹا ماں کی گود میں ڈاالا تو ایک آنسو تائی کی آنکھ سے ٹوٹ کر بچے کے چہرے پر گرا۔۔۔۔
میں کل واپس جا رہا ہوں ماں۔۔۔ اب یہاں میرا کچھ نہیں بچا۔۔۔
وہ سامنے صوفے پر بیٹھا دلبرداشتہ سا گویا ہوا۔۔۔
اور ثانیہ تم۔۔۔ تم یہیں رہ لو ماں کے پاس۔۔۔ اس بچے کی پرورش کی بھی ذمہ داری اٹھا لو۔۔۔ میں اسکی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ تمہاری اور تمہارے بچوں کی ذمہ داری بھی اٹھاتا ہوں۔۔۔ تم انہیں پڑھاو کسی مقام پر پہنچاو۔۔۔ ویسے بھی وسیم بھائی کی موت کے بعد تمہارا تمہارے سسرال میں جو مقام ہے وہ کسی سے دھکا چھپا تو نہیں۔۔ میرے خیال سے یہ ڈیل ہم دونوں کے حق میں بہتر ہے۔۔۔ بالاج جیسے سب کچھ طے کئے بیٹھا تھا۔۔۔
ماں بس ویران نگاہوں سے بیٹے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ انہیں تو بیٹیوں کے غم نے ہی مار ڈالا تھا۔۔۔ تانیہ تو سمجھوتے کی زندگی جی ہی رہی تھی۔۔۔ سوتن اور اسکے بچے سمبھالتی ہوئی لیکن وہ شوہر کا گھر چھوڑںے کو تیار نا تھی۔۔۔ کرن کے سسرال والوں نے الگ اسکے ناک میں دم کر رکھا تھا۔۔۔ رہتی کمر چھ ماہ پہلے ثانیہ کے شوہر کے انتقال نے توڑ دی تھی۔۔۔ سانیہ کی اپنے سسرال میں کبھی بنی نا تھی اس لئے اب کوئی اسے قبول کر کے راضی نا تھا۔۔۔
بیٹا تم صلہ کے پاس گئے تھے کیا بنا۔۔ تائی گہرا سانس بھرتی گویا ہوئیں۔۔۔
میں نے سب کچھ ٹھیک کرنا چاہا تھا ماں۔۔۔ اپنے کئے کا مداوا کرنا چاہا تھا۔۔۔ مگر میں نے شاید کبھی کچھ ٹھیک کرنا سیکھا ہی نہیں ۔۔۔ اس لئے ٹھیک کرنے کے چکروں میں مزید خراب کرتا چلا گیا۔۔۔۔
وہ آپکے بیٹے کو دھتکار کر اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکی ہے۔۔ وہ بھرائی آواز میں زمین کو گھورتا گویا ہوا۔۔۔
وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے۔۔۔ ثانیہ تنفر سے گویا ہوئی۔۔۔ مجال ہے جو شوہر کی موت نے بھی اسکی طبیعت پر کوئی اثر ڈالا ہو۔۔۔
وہ ایسا کر چکی ہے۔۔۔ بالاج ٹوٹے لہجے میں کہتا اٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔۔۔
جبکہ ثانیہ تلملا کر رہ گئ۔۔۔۔دیکھا تو نے ماں۔۔۔ عزت اس لڑکی کو راس ہی نہیں۔۔۔ میرا بھائی پاگل بنا پھر رہا ہے اسکے پیچھے اور اسے قدر ہی نہیں۔۔۔
لیکن نہیں۔۔ ایسے تو میں بھی نہیں بخشوں گی اسے۔۔۔ خون جوش مارتا ہے۔۔۔ ایسی جگہ وار کروں گی نا کہ پوری زندگی بلبلاتی رہے گئ۔۔۔ یہ لڑکی شاید پچھلی ذلالت بھول گئ ہے۔۔۔ وہ خطرناک عزائم لئے تنفر سے گویا ہوئی۔۔۔
جبکہ ماں اسکی باتیں سنی ان سنی کرتی بچے کو بستر پر لٹانے لگیں۔۔۔ وہ اس عمر میں خود ہی ثانیہ کی جھگڑالو طبیعت سے عاجز آ چکی تھیں۔۔۔
اپنے ہاتھوں ہی لگائے گئے کانٹے اب چبھ رہے تھے تو درد سہتے ہاتھ ہی ساتھ چھوڑنے لگے تھے۔۔۔۔
******

No comments