khuab_e_janoon novel 85th episode by Umme Hania
khuab_e_janoon novel 85th episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
85Th epi...
تم نے نینا کو کیوں مارا صلہ۔۔۔ بچے کھیلتے بھی ہیں ان میں جھگڑے بھی ہوتے ہیں اور صلح بھی ہو جاتی ہے۔۔۔ ان کے جھگڑے بڑوں کے جگھڑوں جیسے نہیں ہوتے۔۔۔ انکے جھگڑوں میں یہاں جھگڑا ہوتا ہے تو وہاں صلح ہو جاتی ہے۔۔۔ ایسے میں بچوں کے معاملات میں پڑ کر ان ہر ہاتھ اٹھانا ۔۔۔۔ تمہیں نہیں لگتا کے سوائے بے وقوفی کے کچھ نہیں۔۔۔
وہ اسکے سامنے کھڑا سنجیدگی و تاسف سے اسے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
صلہ کی آنکھوں میں نمی سمٹنے لگی تھی۔۔۔ میں انہیں کبھی نہیں مارتی۔۔۔ لیکن میں گھبرا گئ تھی۔۔۔ بہت زیادہ۔۔۔ وہ ہاتھوں کی لکیروں کی جانب دیکھتی دوسرے ہاتھ کی انگلی ان لکیروں پر پھیر رہی تھی۔۔۔
کیونکہ آپ ۔۔ وہ رکی۔۔۔ آپ مغیث کے لئے بہت پوزیسو ہیں۔۔۔ وہ ہونٹ چباتی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
نعمان نے گہری سانس خارج کی اور دور کہیں خلاوں میں دیکھنے لگا۔۔۔
وہ بن ماں کا بچہ تھا صلہ۔۔۔ اسکی ماں وہ عورت تھی جسنے اسے ہتھیلی کا چھالہ بنا رکھا تھا۔۔۔۔ چوٹ مغیث کے لگتی اور جان پر اسکی ماں کے بن آتی۔۔۔
مغیث شروع سے ہی میری نسبت منیبہ کے زیادہ قریب تھا۔۔۔ اور اسنے ایسی ماں کھوئی تھی جسکے بنا بچے خود کو اندھا تصور کرتے ہیں۔۔۔
میں شعوری طور پر اسکے قریب سے قریب تر ہوتا گیا۔۔۔ ظاہر سی بات ہے میں مغیث کی زندگی میں منیبہ کی کمی تو پوری نہیں کرسکتا تھا لیکن میں نے کوشیش کی کہ میں اسکے زیادہ سے زیادہ قریب ہو سکوں تا کے وہ اپنی ماں کو کم سے کم مس کرے
۔۔ بس اسی چکر میں میں مغیث کے لئے بہت پوزیسو ہو گیا ۔۔۔ لیکن اب مجھے اسکی فکر نہیں۔۔۔ کیونکہ اسے اسکی ماں مل گئ ہے۔۔۔ نعمان نے نظریں گھما کر صلہ کو دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
مگر ۔۔ وہ کچھ توقف کو رکا ۔۔۔ میں نے اپنی بیٹیوں کی آنکھوں میں بہت حسرتیں دیکھیں ہیں۔۔۔
صلہ کی رنگت کچھ پھیکی پڑی۔۔۔
جنہیں میں ایک ایک کر کے ختم کر ڈالنا چاہتا ہوں۔۔۔ اس انداز میں کے انکی آنکھوں میں کوئی حسرت باقی نا رہے۔۔۔
اس لئے۔۔ اسنے پھر سے توقف لیا۔۔۔۔ میری بیٹیوں کے معاملے میں آئندہ سوچ سمجھ کر کام لینا۔۔۔ سنجیدگی سے کہتا وہ آگے بڑھا جب اسے صلہ کی سسکی سنائی دی۔۔۔
وہ وہیں رکا لیکن پلٹا نہیں۔۔۔
ان بچیوں کو اپنانے سے انکے سگے باپ نے انکار کر دیا تھا نعمان۔۔۔ مجھے یقین کرنے میں تامل ہے کے کوئی مرد کسی دوسری مرد کی اولاد کو اپنا سکتا ہے۔۔۔۔ آنسو ٹپ ٹپ اسکی آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔۔۔
آج تک اس ظالم دنیا اور ایک مرد کا جو خاکہ میرے دماغ میں بنا ہے نا آپ اس میں ڈراریں ڈال رہے ہیں۔۔۔۔
کوئی کیسے کسی اور کی اولاد کو اپنا سکتا ہے ۔۔۔ اور وہ بھی بیٹیوں کو۔۔۔۔۔
اسنے کرب سے آنسو صاف کئے۔۔۔ بلآخر وہ دل میں پنپتے خدشات زبان پر لے ہی آئی۔۔۔۔
اپنے اپنے ظرف کی بات ہے صلہ۔۔۔ کسی کے لئے بیٹی رحمت ہے تو کسی کے لئے زحمت۔۔۔۔ وہ پلٹا۔۔۔ صلہ نے بھی رخ پلٹ کر نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔
اور میرا ذاتی ایکسپیرینس ہے کہ گھر میں رونق بیٹی کے دم سے ہوتی ہے۔۔۔۔ اگر آپ اپنے گھر میں ایک جانور بھی پالو نا تو اس سے لگاو اور محبت کس قسم کی ہوتی ہے یہ تم کسی پیٹ لور سے جا کر پوچھو۔۔۔۔
محبت بیٹی یا بیٹے سے مشروط نہیں ہوتی۔۔۔ اور رہ گئ بات کسی اور کی اولاد کو اپنانے کی ۔۔۔ تو زرا ان بچیوں کی آنکھوں میں تو دیکھو۔۔۔ کیا وہاں تمہیں نظر آئے گا کے انکا باپ کوئی اور ہے۔۔۔
انکی آنکھوں میں ببنے والا باپ کا پہلا خاکہ میرا ہے صلہ۔۔۔ اسنے اپنی جانب انگلی کرتے میرے پر زور دیا۔۔۔
انکا باپ نعمان ہے انہوں نے اس حقیقت کو قبول کر لیا ہے۔۔۔ تم بھی کر لو۔۔۔ تمہیں آگے بڑھنے میں آسانی رہے گی۔۔۔کیونکہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔۔۔۔ وہ نرمی سے کہہ کر باہر نکل گیا جبکہ وہ ہنوز حق دق اور بے یقین سی کھڑی تھی ۔۔۔
کیا واقعی ایسا ہو سکتا تھا۔۔۔ کیا واقعی نعمان جیسے لوگ بھی اس دنیا میں ہوتے ہیں۔۔۔
دل اعتبار کرنے سے انکاری تھا۔۔۔
دفعتاً بچے شور مچاتے کمروں سے نکل کر باہر امان کے پاس بھاگے تو وہ چونک کر ہوش میں آئی۔۔۔
******
سورج سر پر پہنچ چکا تھا۔۔۔۔ سورج کی کرنیں لاوئنج کی بند کھڑکیوں کے شیشوں سے ٹکرا رہی تھیں۔۔۔
ایسے میں صلہ لاوئنج کے بیچ و بیچ اضطراب و بے چینی سے ہاتھ مسلتی لب چباتی چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔۔
بچے اور نعمان باہر آئسکریم کھانے گئے تھے۔۔۔ سب نے اسے ساتھ چلنے کو بھی بہت اصرار کیا تھا لیکن وہ سر درد کا بہانہ کرکے رک گی تھی کے وہ آرام کرنا چاہتی ہے۔۔۔ اس بات میں حقیقت بھی تھی لیکن اسکے نا جانے کی اصل وجہ کچھ اور تھی۔۔۔۔
اور وجہ وہی تھی جو آج کل اسکے لئے جان کا عذاب بن گئ تھی۔۔۔
بار بار بالاج کے میسجز اور کالز آ رہی تھیں۔۔۔
اصولی طور پر تو بالاج کو اسکی جانب بڑھتے اپنے قدم روک لینے چاہیے تھے کیونکہ وہ اب کسی اور کے نکاح میں تھی۔۔۔۔
مگر وہ ایسا نہیں کر رہا تھا۔۔۔ بلکہ وہ بارہا اسے پریشرائز کر رہا تھا۔۔۔۔
یہ صورتحال اسے بوکھلا رہی تھی۔۔ اسنے ایک صاف ستھری زندگی گزاری تھی۔۔۔ ایسے میں اب بالاج جو کچھ کر کے اسے اپنے ساتھ گھسیٹ کر جس انداز میں بدنام کر رہا تھا ۔۔۔ ان حالات کو ڈیل کرنا اسکے لئے خاصا دشوار تھا۔۔۔ بالخصوص تب جب وہ ایک نئے رشتے میں بندھ چکی تھی۔۔۔
سوچ سوچ کر اسکا دماغ پھٹ رہا تھا۔۔۔
دفعتاً اسے لاوئنج کا دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی تو وہ لپک کر اسکی جانب بڑھی۔۔۔
شاید نعمان اور بچے واپس آ گئے تھے۔۔۔ لیکن لاوئنج کا دروازہ کھول کر بالاج کو اندر داخل ہوتا دیکھ اسے اپنے قدموں تلے سے زمین کھسکتی محسوس ہوئی۔۔۔ ایک ہی پل میں جیسے کسی نے روح جسم سے کھینچ لی ہو۔۔۔۔
وہ فق ہوتی رنگت کیساتھ پھٹی پھٹی نگاہوں کیساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ یہاں کیوں آیا تھا۔۔۔ کیا کرنے آیا تھا۔۔۔
اسے اپنی ڈھرکنیں مزید سست پڑتیں محسوس ہوئی۔۔۔
نعمان کسی بھی وقت گھر آ سکتا تھا۔۔۔ اور شادی کے دوسرے ہی دن اپنے گھر میں اپنی بیوی کے سابقہ شوہر کر دیکھ کر وہ اسکے بارے میں کیا سوچتا ۔۔۔۔ وہ حالات کی سنگینی کا اندازہ لگا سکتی تھی۔۔۔ اور جب وہ حالات کی سنگینی کا اندازہ لگا سکتی تھی تو بالاج کیوں اتنا بے خبر بنا بیٹھا تھا۔۔
کیا کر رہے ہو تم یہاں۔۔۔کیا اتنا سب کچھ کرنے کے بعد۔۔۔ مجھے اسقدر ذلیل و رسو کرنے کے بعد بھی تم میں اتنی ہمت ہے کے تم یہاں میرے گھر میں کھڑے ہو۔۔۔ وہ خوفزدہ سی اسکی پاس آتی درشتی سے گویا ہوئی۔۔۔
تمہارا غصہ بجا ہے صلہ۔۔۔ مانتا ہوں غلط کیا ہے میں نے تمہارے ساتھ۔۔۔ لیکن میں اپنی غلطی سدھارنا چاہتا ہوں۔۔۔ خدارا مجھے معاف کردو۔۔۔
نہیں رہ سکتا میں تمہارے بنا۔۔۔ ڈیم۔۔۔۔ تمہیں یہ بات سمجھ کیوں نہیں آ رہی۔۔۔ وہ بے بسی سے کہتا جھنجھلایا۔۔۔ جیسے صلہ کی شادی کی خبر نے اسے توڑ دیا ہو۔۔۔
اسنے صلہ سے اس چیز کی توقع نہیں کی تھی۔۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کے صلہ نے جب چار سالوں سے شادی نہیں کی تو اب اسکی آفر کے بعد راتو رات نکاح کر لے گی۔۔۔
یہ صدمہ اس کے لئے بڑا تھا۔۔۔ بہت بڑا تھا۔۔۔
اور میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی۔۔۔ اتنی چھوٹی سی بات تمہارے دماغ میں نہیں بیٹھ رہی۔۔۔ یہ دیکھو میرے جڑے ہوئے ہاتھ چلے جاو یہاں سے اس سے پہلے کے نعمان آ جائیں اور بات زیادہ بڑھ جائے۔۔۔
وہ حقیقتاً اسکے سامنے ہاتھ جوڑتی گھِبرائی سی گویا ہوئی۔۔ بار بار اسکا دروازے کی جانب دیکھنا اور اسے جلد از جلد وہاں سے نکالنا اسکے اضطراب کی گواہی دے رہا تھا۔۔۔
میں اب شادی شدہ ہوں بالاج تمہیں یہاں آنے سے پہلے سو دفعہ سوچنا چاہیے تھا۔۔۔ کہ کسی کی عزت پر نقب لگانے جا رہے ہو۔۔۔ اور جب بات غیرت پر آجائے تو اکثر ختم قتلوں پر ہوتی ہے۔۔۔
تمہیں خدا کا واسطہ یے چلے جاو یہاں سے ۔۔۔ کیونکہ میرا شوہر ایک غیرت مند شخص ہے۔۔۔ اور میں نہیں چاہتی یہاں پر کچھ بھی غلط ہو۔۔۔ وہ کپکپاتے لہجے میں اسے دھکے چھپے انداز میں حالات کی سنگینی سمجھا رہی تھی۔۔۔ مگر شاید وہ تو سمجھنا ہی نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔
صلہ پلیز سٹاپ اٹ۔۔۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے مجھے نہیں پتہ۔۔۔ مجھے بس اتنا پتہ ہے کے میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتا اور تم۔۔۔ تم بھی تو محبت کرتی ہو نا مجھ سے ۔۔۔۔پھر تم کیسے ایسے کسی اور سے نکاح کر سکتی ہو۔۔۔ دیکھو واپس آ جاو۔۔۔ تم جو کہو گی میں وہی کروں گا۔۔۔ تم جیسے چاہو گی ہم ویسے رہیں گئے پر پلیز۔۔ وہ اسکی باتوں کا اثرا لئے بنا اسے بازووں سے تھامتا التجائیہ گویا ہوا۔۔۔
اسکے صلہ کے بازو تھامنے پر وہ مچل مچل گئ۔۔۔
چھوڑو مجھے گھٹیا انسان۔۔۔تم پاگل ہو چکے ہو۔۔۔۔ نہیں کرتی میں تم سے محبت۔۔۔۔ اسنے جھٹکے سے اپنے بازو بالاج کی گرفت سے آزاد کروائے۔۔۔ اسے اپنے بازو جلتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔
میں جسکے نکاح میں ہوں اس کے ساتھ مخلص ہوں۔۔۔ پوری دلی آمادگی سے میں نے یہ رشتہ قبول کیا ہے۔۔۔ اسکے سوا کوئی نہیں ہے میرے دل میں۔۔۔ اور میں صرف اسی سے وفا نبھاوں گی۔۔۔ صلہ کا جسم سوکھے پتے کی مانند کپکپانے لگا تھا۔۔
بخش دو مجھے۔۔۔ بخش دو بالاج۔۔۔ جی لینے دو مجھے بھی۔۔۔ وہ زوردارنہ انداز میں بالاج کے آگے ہاتھ جوڑتی سسک اٹھی۔۔۔
جبکہ بالاج سرخ پڑتی نگاہوں سمیٹ بے بسی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اسنے کبھی سوچا نا تھا کے صلہ کو پانے کے لئے وہ کبھی اسقدر خوار بھی ہو گا۔۔۔ اس صلہ کو پانء کے لئے جسے اسنے ہمیشہ فار گڑانٹڈ لیا تھا
وہ پھر صلہ کی جانب بڑھا۔۔۔
******
لاوئنج کے دروازے کے پار ایک قدم پہلی سیڑھی پر رکھے دوسرا قدم فرش پر جمائے ایک ہاتھ سے نیم وا دروازے کے ہینڈل کو تھامے سرخ آنکھوں اور ماتھے پر جا بجا شکنوں کا جال لئے نعمان نے اندر ہوتی گفتگو کا لفظ با لفظ اپنے کانوں سے سنا تھا۔۔۔ غصے سے اسکی رگیں تک پھولنے لگی تھیں۔۔۔ ناجانے کس ضبط سے وہ کھڑا تھا
وہ کچھ دیر پہلے ہی واپس آیا تھا۔۔۔ بچے وہاں پلے ایریا میں کھیل رہے تھے جبکہ وہ لنچ باہر ہی کرنے کا ارادہ کئے صلہ کو گھر سے لینے آیا تھا کہ اگر طبیعت ابھی بھی بہتر نہیں ہوئی تو ڈاکٹر سے چیک آپ کروا لیتے ہیں۔۔۔ لیکن یہاں آکر اسے ٹھٹھک کر رکنا پڑا۔۔
لیکن بالاج کے دوبارہ سے صلہ کی بازو تھامنے پر وہ آپے سے باہر ہوتا ایک جھٹکے سے لاوئنج کا دروازہ وا کرتا اندر بڑھا اور اندر جاتے ہی لمبے لمبے ڈگ بڑھتا وہ بالاج کے سر پر پہنچا۔۔۔ اسکے کالر سے پکر کر گھماتے نعمان نے بنا اسے سوچنے سمجھنے کا موقع دیئے پوری قوت سے مکہ اسکے منہ پر جڑا۔۔۔حملہ غیر متوقع تھا وہ تلملا کر پیچھے جاتا دیوار سے لگا۔۔۔ ہونٹ کا کنارہ پھٹ گیا تھا جس سے خون رسنے لگا تھا۔۔۔
صلہ منہ پر ہاتھِ رکھتی چیخ کر پیچھے ہٹی۔۔۔ اسکی آنکھیں ابل کر باہر آ رہی تھیں۔۔۔ نعمان کو اسقدر غصے میں اسنے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔۔۔
تیری جرات کیسے ہوئی میرے ہی گھر میں آکر میری بیوی کو چھونے کی۔۔۔ وہ پھر سے مکہ تانے اسکی جانب بڑھا تھا جب سرعت سے صلہ درمیان میں آئی۔۔۔
پلیز۔۔۔ پلیز نعمان نہیں۔۔۔ وہ خوفزدہ نگاہوں سے اسے دیکھتی حواس باختہ سی گویا ہوئی ۔۔۔ جبکہ سر زوردار انداز میں دیوار سے ٹکرانے سے بالاج کا سر چکرا رہا تھا۔۔۔
اندر جاو صلہ۔۔۔ وہ آنکھیں بند کرتا خود کو کمپوز کرتا گویا ہوا۔۔
نع۔۔۔ نعمان۔۔۔
اندر جاو صلہ۔۔۔ وہ چبا چبا کر گویا ہوا تو صلہ بھاگ کر اندر جا چھپی۔۔۔
وہ بالاج کو کالر سے جھپٹے باہر لیجا رہا تھا۔۔۔ جبکہ وہ بھی اب ہوش پکڑتا ہاتھا پائی پر اتر رہا تھا۔۔۔ صلہ بے دم ہوتی وہیں صوفے پر بیٹھی۔۔۔ پتہ نہیں یہ آزمائشیں اسکا پیچھا کب چھوڑنے والی تھیں۔۔۔۔
*******
لان تک پہنچتے بالاج نے برح طرح جھٹپتاتے اس سے
اپنا آپ چھڑوایا۔۔۔ ان دونوں کو دیکھ واچ مین بھی اپنی بندوق اٹھائے وہاں بھاگا چلا آیا تھا۔۔۔
بہت نرمی سے میں تمہیں آخری بار وارن کر رہا ہوں بالاج۔۔۔ میرے گھر اور میری بیوی کی جانب ٹیرھی آنکھ کر کے دیکھنے کی جرات مت کرنا ورنہ اگلی بار میں وارنینگ نہیں دوں گا۔۔۔ پھر جو ہو گا اسکے ذمہ دار تم خود ہو گئے۔۔۔ نعمان کی آواز میں ازدھوں سی پھنکار تھی۔۔۔
یہ اگلی بار میرے گھر کے آس پاس بھی دکھائی دیا نا تو سیدھا اسکے سینے میں گولی مارنا۔۔ وہ واچ مین کی جانب متوجہ ہوتا سختی سے گویا ہوا۔۔۔
اور فکر مت کرنا تمہارے پیچھے میں کھڑا ہوں تو کوئی مسلہ بھی نہیں ہو گا۔۔۔ یہاں کا قانون ویسے ہی بہت اندھا ہے۔۔۔ وہ شعلہ بار نگاہوں سے ایک نظر دھواں دھواں ہوتے بالاج کے چہرے کو دکھ کر اندر بڑھا۔۔۔
لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ لان عبور کر کے لاوئنج میں آیا۔۔۔ غصے سے دماغ کھول رہا تھا۔۔۔ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کر کے اسنے ٹائی لاوئنج کے صوفے پر پھینکی اور اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔
کمرے میں آتا ہی وہ ٹھٹھکا۔۔۔
خوفزدہ سی صلہ ستا ہوا چہرا لئے صوفے پر بیٹھی تھی۔۔۔ اسے کمرے میں آتا دیکھ وہ سرعت سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ اسکے ہاتھوں میں موجود لغزش وہ دور سے بھی دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔ وہ آج کے واقعہ سے خوفزدہ تھی یہ اسکے ایک ایک انداز سے چھلک رہا تھا۔۔۔
نعمان نے ایک گہری سانس خارج کی۔۔۔
غصہ اور جنون جیسے کہیں بہنے لگا تھا۔۔۔ وہ قدم قدم آگے بڑھا۔۔۔
اسے۔۔۔ مم۔۔۔۔ میں نے یہاں نہیں بلایا تھا۔۔ مم مجھے نہیں پتہ۔۔۔
خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتے وہ کپکپاتے لہجے میں صفائی پیش کر رہی تھی۔۔۔ جب نعمان نے آگے بڑھتے اسے شدت سے خود میں بھینچ لیا۔۔۔۔
صلہ کے لئے یہ غیر متوقع تھا۔۔۔ وہ سانس تک روک گئ۔۔۔۔
میں نے تم سے صفائی نہیں مانگی صلہ۔۔۔ کیوں خود کو ہلکان کر رہی ہو۔۔۔ ایک دنیا دیکھی ہے میں نے بھی۔۔۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے۔۔۔
تمہارے کردار کی گواہی میں خود دے سکتا ہوں۔۔۔ اس لفاظی کے ذریعے خود کو بے مول مت کرو۔۔۔
اسے خود میں سموئے نرمی سے اسکے بال سہلاتے اسنے جو پھاہے صلہ کی زخمی زخمی ہوتے وجود پر رکھے تھے اسے لگا جیسے اتنی کھٹن ریاضت کا صلہ مل گیا ہو ۔۔۔ وہ ان الفاظ کے ذریعے اسے معتبر کر گیا تھا۔۔۔۔
وہ اپنی ایک ایک محرومی پر اسقدر پھوٹ پھوٹ کر روئی کہ جیسے سارے آنسو آج ہی بہا دینے کا ارادہ ہو۔۔۔
نعمان نے بھی اسے خاموش نہیں کروایا وہ بھی بس خاموشی سے اسکے بال سہلا رہا تھا جیسے خود بھی چاہتا ہو کہ وہ اندر پلٹا سارا لاوا بہا دے۔۔۔۔
جب وہ رو رو کر نڈھال ہو گئ تو اسنے نرمی سے اسے خود سے الگ کرتے کرتے بیڈ پر بیٹھایا۔۔۔
میں سونا چاہتی ہوں۔۔۔ اسکے نرم رویے سے اور اسی کے کندھے پر سر رکھ کر آنسو بہا کر ایک بوجھ تھا جو صلہ کے سر سے سرکا تھا۔۔۔ وہ ہلکی پھلکی ہوئی تو نیند کا غلبا اس پر طاری ہونے لگا تھا۔۔۔
نہیں ایسے نہیں سونا۔۔۔ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ منہ دھو کر فریش ہو اور چلو پہلے ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں پھر وہاں سے لنچ کر کے واپس آئیں گے۔۔۔
اور پھر اپنی بات کہہ کر اسکے نا نا کہنے کے باوجود بھی نعمان نے اسے اٹھا کر ہی دم لیا۔۔۔
لڑکی میک آپ کے نام پر ایک لپ اسٹک تک نہیں ہے تمہارے بیگ میں۔۔۔ کہ کہیں سے ہی بندی نوبیاہتا لگے۔۔۔
وہ فریش ہو کر تولیے سے چہرا خشک کرتی واش روم سے نکلی تو وہ بیڈ پر بیٹھا بڑے مصروف سے انداز میں اسکے ہینڈ بیگ کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔
صلہ اداسی سے مسکراتی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ کر اپنے بال سلجھانے لگی۔۔۔ کہ کیا بتاتی عرصہ ہوا وہ یہ چونچلے چھوڑ چکی تھی۔۔۔
لیکن خیر میری طرف سے بھی کوئی میک آپ نہیں گیا تھا تمہارے لئے۔۔ اور میک آپ تو کیا بری کے نام پر کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔ آخر شادی جو اتنی ہنگامی صورت میں ہوئی تھی۔۔۔
لیکن کوئی بات نہیں ۔۔۔ لنچ کے بعد شاپنگ پر چلیں گے۔۔ پھر وہاں سے سب کچھ خرید لیں گے۔۔۔ انشااللہ ہم تمہاری بری تو مکمل کر ہی لیں گے۔۔
صلہ بال سلجھا کر انہیں فولڈ کر کے کیچر میں مقید کرتی آنچل اوڑھ کر اٹھ کھڑی ہوئی تو وہ بھی بیگ کی زپ بند کرتا اٹھ گیا۔۔۔۔
صلہ اسکی باتیں سن کر مسلسل مسکرا رہی تھی۔۔۔
آفس میں کونسا نعمان ہوتا ہے۔۔۔ کہیں آپکا جڑواں تو نہیں۔۔۔
وہ اسکے آفس والے روڈ رویے اور سخت لہجے کی جانب اشارہ کرتی گویا ہوئی۔۔۔ بات کرتے وہ کمرے سے نکل گئے تھے۔۔۔
خیر اب میں سب سے فرینک نہیں ہوتا۔۔۔ اور اپنے قریبی لوگوں سے روڈ نہیں ہوتا اسنے شان بےنیازی سے کہتے کندھے اچکائے۔۔۔
*****

No comments