Header Ads

khuab_e_janoon novel 84th episode by Umme Hania۔

 


khuab_e_janoon novel 84th episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

84th episode
دفعتاً امان کو دیکھ کر بچیاں دوڑتیں ہوئیں اسکے پاس آئیں۔۔۔
امان انکل۔۔۔ نینا کے پکارنے پر وہ اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
ارے کیا ہوا میری پرنسس کو ۔۔۔ رو کیوں رہی ہیں آپ۔۔۔ امان نے پریشانی سے اسکے آنسو صوف کئے۔۔۔
انکل ہمیں ماما پاس جانا ہے۔۔۔ انکے بغیر نیند نہیں آتی ہمیں۔۔۔ عینا بھی رو دی تھی۔۔
اوہ۔۔۔ اسی لئے تو دیکھو آپکو لینے کے لئے آ بھی گئے امان نے مسکراتے ہوئے عینا کے آنسو صاف کرتے نعمان کی جانب اشارہ کیا ۔۔۔۔
یہ ۔۔ یہ کون ہیں۔۔۔ وہ دونوں معتجب ہوئیں۔۔۔
یہ بابا ہیں آپکے۔۔۔ امان کے مسکرا کر کہنے پر حیرت زدہ سی عینا آگے بڑھی۔۔۔ نعمان اسکے حیرت زدہ تاثرات دیکھ کر مسکر دیا۔۔۔
اسنے نعمان کے پاس جا کر حیرانی سے اپنا چھوٹا سا ہاتھ ہلاتے اسے نیچے جھکنے کو کہا تو نعمان مسکرا کر اسکے سامنے دوزانو بیٹھا۔۔۔
عینا حیرت و استعجاب سے اسکے چہرے کا ایک ایک نقش چھو رہی تھی۔۔۔
آپ آ گئے پاپا۔۔۔۔ آپ کہاں تھے اتنی دیر سے۔۔۔ میں نے آپکو بہتتتتت مس کیا۔۔۔۔ وہ اسکے چہرے کے نقوش کو چھو کر حسرت سے کہتی اسکے گال پر لب رکھ گئ تو نعمان جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔۔
اس جذباتی منظر نے سب کی نگاہیں نم کر دیں تھیں۔۔۔ اور ایک لمحہ لگا تھا نعمان کو سمجھنے میں کے ان بچیوں کے دماغ میں انکے باپ کی کوئی شبیہہ تک نا تھی۔۔۔۔ کجا کے وہ اس حقیقت سے واقف ہوتیں۔۔۔
ہم نے جب بھی ماما سے آپکے بارے میں پوچھا تو وہ اداس ہو جاتی تھیں۔۔۔ وہ بتاتی نہیں تھیں۔۔۔ اب آپ ہمیں چھوڑ کر نہیں جائیں گے نا پاپا۔۔۔  نینا بھی اسکے پاس آتی حسرت زدہ آواز میں مسمرائز سی گویا ہوئی۔۔ ہماری سبھی دوستوں کے پاپا انکے پاس رہتے ہیں انکے ساتھ کھیلتے ہیں ۔۔۔ شاپنگ کروانے لے کر جاتے ہیں آپ بھی ہمیں کرواو گے نا۔۔۔
انکی معصوم معصوم سی حسرتیں سن کر نعمان کو لگا گویا اسکا دل پھٹ جائے گا۔۔۔
اسنے شدت سے انہیں  خود میں بھینچا۔۔۔
نہیں میں اب اپنی ننھی پریوں کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاوں گا ۔۔۔ ہم ساتھ کھیلیں گے۔۔۔ مستی کریں گے اور ڈھیر ساری شاپنگ بھی کریں گے۔۔۔ اسنے ان دونوں کو پیار کرتے محبت سے کہا۔۔۔
وہ دونوں بہت خوش تھیں۔۔۔ خوشی خوشی نعمان کے ساتھ اسکی گاڑی میں بیٹھیں۔۔۔ راستے میں بھی وہ دونوں اس سے ڈھیروں باتیں کرتی آئیں تھیں۔۔۔
اجنبیت جیسے انکے درمیاں حائل ہوئی ہی نا تھی۔۔ گویا واقعی وہ انکا سگا باپ تھا جو سالوں بعد انہیں ملا تھا۔۔۔
یہ ہم کہاں آئیں ہیں پاپا۔۔۔ گاڑی کے کار پورچ میں رکتے ہی وہ دونوں حیرت سے اس سے مستفسر ہوئیں۔۔۔
یہ آپکا نیا گھر ہے بیٹا۔۔۔ وہ مسکرا کر گویا ہوا۔۔۔
ہم یہاں رہیں گی اب۔۔۔۔ انکے معصومیت سے پوچھنے پر وہ سر ہاں میں ہلاتا انہیں لئے اندر آیا۔۔۔
****
صلہ کروٹ پر کروٹ بدل رہی تھی۔۔۔ مگر ایک پل کو سکون نا  مل رہا تھا۔۔۔۔
اجنبی جگہ اور اوپر سے بچیاں بھی پاس نا تھیں۔۔۔ اگر بچیوں کو اسکے بنا نیند نا آتی تھی تو وہ خود بھی تو انکے بنا سو نا پا رہی تھی۔۔۔
دفعتاً اسے باہر سے بچیوں کی کھلکھلانے کی آواز آئی تو وہ چونک اٹھی۔۔۔ پھر اسے اپنا وہم گردانا کہ بھلا وہ دونوں یہاں کیسے۔۔۔
دفعتا وہ دونوں خوشی سے چہچہاتے چہرے لئے مسکراتی ہوئیں دھرام سے کمرے کا دروازہ کھولتیں اندر داخل ہوئیں۔۔۔
ماما۔۔۔ ماما۔۔۔  وہ باہیں پھیلائے اسکی جانب بڑھی۔۔۔ جبکہ صلہ حیرت زدہ سی اٹھ بیٹھی۔۔۔ چہرے پر یکدم ہی رونق چھا گئ تھی۔۔۔ اسنے سرعت سے بچیوں کو اپنی آغوش میں چھپایا۔۔۔ اور بہتی آنکھوں سمیت انہیں پیار کرنے لگی۔۔۔ کیسا سکون ملا تھا دل کو انہیں آغوش میں سمیٹ کر۔۔۔
کس کے ساتھ آئی ہو آپ دونوں۔۔۔ بدقت اپنے آنسو صاف کرتی وہ مستفسر ہوئی۔۔۔
اس بیچ وہ نعمان کی اس کمرے میں موجودگی یکسر فراموش کر گئ تھی جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا اسکے شیشے سے یہ التفات دیکھتا اپنی گھڑی اتار رہا تھا۔۔
پاپا کے ساتھ۔۔ وہ دونوں چہکتی ہوئیں نعمان کی جانب دیکھتی گویا ہوئیں۔۔۔
صلہ نے حیرت و استعجاب سے اسکی جانب دیکھا جو اب اپنا والٹ اور گاڑی کی چابی وہاں رکھ کر الماری سے اپنے کپڑے نکالتا واش روم میں چلا گیا۔۔۔
جبکہ صلہ ہنوز حیران تھی۔۔۔ یہ اس شخص کا کونسا روپ تھا بھلا۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ آرام دہ سوٹ میں ملبوس واش روم سے باہر نکلا تو دونوں بچیاں بھاگ کر اس تک پہنچیں۔۔۔
پاپا ہم شاپنگ کرنے کب جائیں گے۔۔۔ عینا چہکتی ہوئی گویا ہوئی۔۔۔ اور پارک میں بھی۔۔۔ نینا بھی چہکی۔۔۔
صبح چلیں گے بیٹا۔۔۔۔۔ ابھی ٹائم بہت ہو گیا ہے نا ۔۔۔ ابھی آپ اپنی ماما کے پاس جا کر سو جاو۔۔۔ نہیں تو صبح آنکھ نہیں کھلے گی۔   وہ انکے پاس ہی دوزانو بیٹھتا انکے گال تھپتھپا کر گویا ہوا تو دونوں چہکتی ہوئی ماں کے پاس آ گئیں ۔۔۔ جبکہ نعمان اپنا لیپ ٹاپ اٹھاتا سٹڈی روم میں چلا گیا۔۔۔
*****
بچیاں صلہ کے دائیں بائیں لیٹیں تھیں جبکہ وہ انکے درمیان میں انہیں سلاتے ہوئے مسلسل کچھ دیر پہلے وقوع پزیر ہوئے واقعہ کو سوچ رہی تھی۔۔۔۔  نعمان پہلء ہی دن اسکے دل میں ایک نرم گوشہ پیدا کرنے میں کامیاب رہا تھا۔۔۔ وہ اتنا برا بھی نا تھا جتنا وہ سمجھی تھی۔۔۔۔
بچیوں کو سلا کر وہ آہستہ سے درمیان سے اٹھی اور جوتا اڑس کر کمرے سے نکل آئی۔۔۔ یہ جگہ اس کے لئے نئ تھی۔۔۔ منیبہ کی زندگی میں وہ اسکی شادی کے ابتدائی دنوں میں یہاں ایک دو دفعہ آئی تھی۔۔۔۔ سبھی کمروں کی لائٹیں بند تھی۔۔۔ صرف ایک کمرے کی لائٹ جل رہی تھی۔۔۔ وہ جگہ غالباً سٹڈی تھی۔۔۔۔ وہ کچن میں گئ اور کافی بنا کر اسی کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
ہلکا سا دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی۔۔۔ وہ واقعی سٹڈی روم تھا جسکی سامنے کی دیوار میں بنے ریک پر جابجا کتابیں ترتیب سے پڑئ تھیں۔۔۔ ایک جانب ایک کاوئچ پڑا تھا جبکہ کاوئچ کے قریب ہی سٹڈی ٹیبل اور کرسی تھی۔۔۔
صلہ نے آگے بڑھتے کافی کا مگ ٹیبل پر رکھا تو نعمان نے چونک کر پہلے مگ کو اور پھر پاس کھڑی صلہ کو دیکھا جو ہاتھ مسلتی خاصی شش و پنج میں مبتلا تھی۔۔۔ ہلکی سی مسکراہٹ نعمان کے ہونٹوں کو چھو گئ۔۔۔
تمہارا کپ کہاں ہے۔۔۔۔ اسنے کافی کا مگ اٹھاتے گھونٹ بھرا اور پھر سے لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہو گیا۔۔۔
میں کافی نہیں پیتی۔۔۔ وہ جھجھک کر پاس ہی موجود کاوئچ پر بیٹھی۔۔۔
بچیاں سو گئ۔۔۔ وہ ٹائپ کرتا بنا اسکی جانب دیکھے گویا ہوا۔۔۔
جی۔۔۔ صلہ نے ہاتھ مسلے۔۔۔  تھینک یو۔۔۔ پھر ہونٹ چباتی ہلکی سی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
اور وہ کس لئے۔۔۔ وہ لیپ ٹاپ کی کیز سے ہاتھ اٹھاتا کرسی کی پشت سے سر ٹکائے رخ اسکی جانب موڑ گیا ایسے کہ اب وہ بالکل اسکی نگاہوں کے حصار میں تھی۔۔۔
انہیں یہاں لے کر آنے  کے لئے۔۔۔ وہ لبوں پر زبان پھیرتی اسکی جانب دیکھ کر گویا ہوئی۔۔۔ 
ان فارمیلٹیز میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے صلہ تم سمیت اب یہ گھر انکا بھی ہے۔۔۔ اس لئے فضول کی سوچوں کو جھٹک دو۔۔۔ میں جانتا ہوں ابھی تم یہاں کمفرٹیبل نہیں ہو۔۔۔ لیکن پرسکون ہونے کی کوشیش کرو رفتا رفتا سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔ کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے اس سے مخاطب ہوتا یہ وہ نعمان تو نہیں تھا جسے وہ جانتی تھی۔۔۔  یہ تو کوئی اور ہی شخص تھا۔۔۔۔
وہ یک ٹک اسے دیکھے گئ۔۔۔
اسکی محویت نوٹ کرتا وہ مسکرایا۔۔۔ رات بہت ہوگئ ہے صلہ جاو جا کر آرام کرو۔۔۔تمہاری طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ وہ واپس کرسی لیپ ٹاپ کر جانب موڑتا گویا ہوا تو صلہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ وہ واقعی ٹھیک کہہ رہا تھا اب تو اسے بھی مسلسل ذہنی دباو کے باعث اپنے پٹھوں میں کھنچاو ہونے لگا تھا۔۔۔
ویسے ایک بات بولوں نعمان۔۔۔ وہ جاتے جاتے رک کر پلٹی۔۔۔ 
ہمممم وہ مصروف سا گویا ہوا۔۔۔
آپ اتنے بھی سڑیل اور کھڑوس نہیں جتنا میں نے آپکو سمجھا تھا۔۔۔۔ وہ اپنی ہسی روکتی زبان دانتوں تلے دبا گئ۔۔۔
کیااااا۔۔۔ جبکہ وہ ٹھٹھک کر بے یقین سا گویا ہوا۔۔۔اسکے ردعمل سے صلہ کا قہقہ چھوٹا اور وہ چھپاک سے سٹڈی روم سے نکل گئ۔۔۔
پاگل۔۔۔ کتنی ہی دیر تک ہسنے کے بعد وہ سر پر ہاتھ پھیرتا سر جھٹک کر پھر سے اپنے کام کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
*********
صبح حسب معمول صلہ کی آنکھ کھل گئ۔۔۔ بچیاں ہنوز سو رہی تھیں ۔۔۔۔ کمرے میں نعمان کہیں نہیں تھا۔۔  پتہ نہیں وہ رات کمرے میں آیا ہی نہیں یا اسکے اٹھنے سے پہلے ہی اٹھ گیا تھا۔۔۔ وہ بیڈ کراوں سے ٹیک لگائے بیٹھ گئ۔۔ اسکی زندگی اتنی مصروفیت بھری تھی کے ایک پل کو وہ فارغ نا رہتی۔۔۔ لیکن اب یکدم ہی جیسے فراغت ہی فراغت ہو گئ تھی۔۔۔
آج سنڈے تھا تو اسنے بچیوں کو اٹھایا نہیں خود نماز پڑھ کر باہر لاوئنج میں آگئ۔۔۔  ہر جانب خاموشی تھی۔۔۔ ابھی اس گھر سے اس گھر کے مکینوں سے اسے کچھ جھجھک محسوس ہوتی تھی۔۔۔۔ وہ وہیں لاوئنج میں بیٹھی تھی جب لاوئنج کا داخلی دروازہ کھول کر مغیث اندر داخل ہوا۔۔۔
ارے ماما آپ اٹھ گئیں۔۔۔ وہ اسے دیکھ خوشگوار حیرت سے گویا ہوا۔۔۔۔۔
جی بیٹا پر آپ کیاں سے آ رہے ہو۔۔۔ وہ اٹھ کر اسکے پاس آتی اسکے بال بگھاڑ کر گویا ہوئی۔۔۔
میں پاپا کے ساتھ نماز پڑھنے گیا تھا۔۔   پھر واک کرنے چلے گئے۔۔۔ ویسے تو روز میں بھی انکے ساتھ جاتا ہوں واک کرنے۔۔۔۔ مگر آج چونکہ سنڈے ہے تو میں واپس آگیا کیونکہ ابھی میں دوبارہ سووں گا۔۔۔ 
آپ بھی آرام کریں ماما۔۔۔ پاپا ابھی لیٹ آئیں گے۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ صلہ کچن میں جا کر اپنے لئے چائے بنانے لگی۔۔۔
مغیث کے کہنے کے مطابق وہ کہیں گھنٹہ بھر بعد میں آیا تھا۔۔۔ آتے ہی فریش ہونے چلا گیا۔۔۔
بچیاں بھی اٹھ چکیں تھیں۔۔۔ دفعتاً عفرا اور امان انکا ناشتہ لئے آئے۔۔۔
صلہ انہیں دیکھتے ہی کھل اٹھی۔۔۔ امید ہے کہ ہم لیٹ نہیں ہوئے۔۔۔ مجھے پتہ تھا کہ دونوں ہی سحر خیز ہیں تو ہمیں بروقت پہنچا چاہیے۔۔۔ یہ نا ہو کہ ہمارے جانے تک وہ ناشتہ کر چکے ہوں۔۔۔ امان مسکرا کر کہتا نعمان سے بغلگیر ہوا۔۔۔
میں ایسی رسموں کو نہیں مانتا۔۔۔ نعمان ان سب کو لئے ڈائینیگ ٹیبل تک آیا۔۔۔ جبکہ عفرا صلہ کے ساتھ مل کر ٹیبل سیٹ کرنے لگی۔۔۔
رسم نہیں ہے یار۔۔۔ بس گیٹ ٹو گیڈر کا بہانا ہے۔۔۔ امان مسکرایا۔۔۔
کھانا بہت خوشگوار ماحول میں کھایا گیا۔۔۔ بچیاں بھی بہت خوش تھیں۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد عفرا اس سے مل کر امان کے ساتھ ہی واپس چلی گئ۔۔۔ ایک تو آج کل ویسے ہی اسکی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں رہتی مزید کچھ وہ بھی اپنے معاملے میں خود بھی کچھ حساس تھی۔۔۔
اتنی دیر بعد اللہ نے انہیں نوازا تھا  وہ خود بھی زرا سی بھی بے اختیاطی کرنے کے حق میں نا تھی۔۔۔ پہلی دفعہ اپنی لابالی اور بے اختیاطی کے ہاتھوں ہی وہ اتنے نقصان کو پہنچی تھی۔۔۔ اسی لئے صلہ نے بھی اسے اپنے پاس رکنے کے لئے اصرار نا کیا ۔۔۔ 
انکے جاتے ہی نعمان کسی کام کے سلسلے میں گھر سے نکل گیا۔۔۔ بچے کھیلنے لگے تو وہ کمرے میں آگی۔۔۔
آکر اسنے اپنا موبائل آن کیا جو کل امان نے سوئچ آف کر دیا تھا۔۔۔
موبائل آن کرتے ہی پے در پے بالاج کے کئ میسج موصول ہونے لگے۔۔۔۔
کل صلہ کے فون نا اٹھانے پر وہ واپس صلہ کے گھر گیا تھا  اور وہاں سے اسے جو خبر سننے کو ملی تھی وہ اسے پاگل کرنے کو کافی تھی۔۔۔ 
وہ اب اسے خطرناک عزائم سے روشناس کروا رہا تھا۔۔۔ اسکے عزائم جان کر صلہ لرز کر رہ گئ۔۔۔۔
کل سے اب جا کر وہ کو کہیں زرا پرسکون ہوئی تھی اس شخص نے ایک ہی لمحے میں اسے بے سکونی کی کھائی میں پھینک دیا تھا۔۔۔
دفعتا اسے باہر سے مغیث کے چلا کر اسے پکارنے کی آواز آئی تو وہ موبائل وہیں پھینکتی باہر کو بھاگی۔۔۔
تینوں بچے لان میں کھیل رہے تھے عینا اور نینا دونوں سامنے کھڑی تھیں جبکہ مغیث کی کہنی چھل چکی تھی جس سے اب خون رس رہا تھا ۔۔۔ وہ تکلیف سے چلاتا اسے پکار رہا تھا۔۔۔۔
صلہ تڑپ کر اسکی جانب بڑھی۔۔۔
کیا ہوا بیٹا یہ خون کیسے۔۔۔ وہ حواس باختہ ہوئی۔۔
ماما مجھے اسنے دھکا دیا۔۔۔ اسنے روتے ہوئے عینا کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ جبکہ عینا اسے اپنی جانب اشارہ کرتا دیکھ جھٹ سے صلہ کے پیچھے ہوئی اب سامنے نینا تھی۔۔۔ صلہ کا دماغ اسقدر ماووف ہو رہا تھا بالاج کی دھمکیاں مغیث کا نکلتا خون ۔۔۔ اسنے بنا سوچے سمجھے رکھ کر نینا کے تھپڑ لگایا۔۔۔
انسان نہیں بنتی تم۔۔۔ جنگلیوں کی طرح کھیلتی ہو۔۔۔ صلہ کے تھپڑ نے جہاں عینا اور نینا کو ساکت کیا وہیں مغیث بھی ساکت رہ گیا تھا۔۔۔
اور وہ دونوں بہنیں۔۔۔ آج تک صلہ نے انہیں یوں سینے سے لگا کر رکھا تھا کہ پھول سے چھوا تک نا تھا اور اب یوں تھپڑ۔۔۔ انکی آنکھوں میں اسقدر بے یقینی تھی کہ صلہ کو فوراً اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا۔۔۔
لیکن اس سے پہلے وہ انہیں کچھ کہتی وہ دونوں جھٹ سے وہاں سے بھاگ گئیں۔۔
صلہ بے بسی سے آنکھیں مونڈتی واپس مغیث کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ اسے لے کر اندر آئی اور اسکا زخم صاف کر کے فریج سے پلاسٹ نکال کر اسے لگایا۔۔۔
ماما مجھے نینا نے نہیں بلکہ عینا نے دھکا دیا تھا آپ نے نینا کو مارا۔۔۔۔ وہ پشیمان سا گویا ہوا۔۔۔
کوئی بات نہیں بیٹا میں انہیں منا لوں گی۔۔۔ وہ اداسی سے گویا ہوئی۔۔۔۔ آپ ٹھیک ہو نا زیادہ درد تو نہیں ہو رہا۔۔۔ اسکے دل کو تو بس ایک ہی ڈھرکا تھا کے نعمان جو مغیث کو لے کر اسقدر حساس تھا ناجانے اسکی چوٹ دیکھ کر اسکا کیا ردعمل ہوتا۔۔۔ اسی لئے تو بنا سوچے سمجھے وہ نینا پر ہاتھ اٹھا چکی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد نعمان واپس گھر آیا تو وہ ڈھرکتے دل کیساتھ اسکے لئے چائے بنانے چلی گئ۔۔۔ کاش مغیث اسے کچھ نا بتائے۔۔۔ وہ مسلسل دل ہی دل کئ ورد کر رہی تھی۔۔۔
چائے بنائے وہ واپس آئی تو تینوں بچے نعمان کے پاس بیٹھے تھے جبکہ وہ خود بھی بہت سنجیدہ تھا۔۔۔ اسکا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔ کیا نعمان کو سب پتہ چل گیا ۔۔۔ مغیث اسکے سامنے سنگل صوفے پر بیٹھا تھا جبکہ عینا اور نینا اسکے دائیں بائیں بیٹھی تھیں۔۔۔
اسنے اپنی کیفیت پر قابو پاتے چائے نعمان کے سامنے رکھی۔۔۔
اگر نعمان نے اسکی بیٹیوں کے بارے میں کچھ بھی کہا تو وہ برداشت نہیں کرے گی۔۔۔ کیا مصیبت ہے۔۔۔ یہ امان بھائی نے کس مشکل میں ڈال دیا۔۔۔
وہ دل ہی دل بڑبڑائی۔۔۔
یہ میں کیا سن رہا ہوں صلہ۔۔۔ آپ نے نینا گڑیا کو مارا۔۔۔ وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔ صلہ نے حیرت سے سر اٹھاتے اسکے سنجیدہ چہرے کو دیکھا۔۔۔
جی پاپا اور وہ بھی اسکے کہنے پر۔۔۔ نینا کی بجائے عینا اسکی بازو تھامتی غصے سے مغیث کی جانب اشارہ کرتی گویا ہوئی۔۔
اسے دھکا نینا نے نہیں بلکہ میں نے دیا تھا کیونکہ یہ مجھے نوڈل گرل کہہ رہا تھا۔۔۔ وہ غصے سے نتھنے پھلائے گویا ہوئی۔
اسکے بال کرلی تھے جسکے باعث مغیث اسکی یہ چڑ بنا چکا تھا۔۔۔
مغیث کیا یہ سچ ہے۔۔۔ نعمان سنجیدگی سے اسے دیکھتا مستفسر ہوا۔۔۔
پاپا اب نوڈلز کو نوڈلز نا کہوں تو کیا کہوں۔۔ وہ اپنے بال کھجاتا بامشکل اپنی ہسی روکے گویا ہوا۔۔
مغیث۔۔۔ نعمان کے تنبیہی کہنے ہر وہ فوراً سیدھا ہوا۔۔۔ 
دونوں بہنوں سے سوری کہو۔۔۔ اسنے روئی روئی سی نینا کے بال سہلائے۔۔۔
یہ میری بہنیں نہیں ہیں۔۔۔ وہ اکڑا۔۔۔ 
سوری۔۔۔ جب نعمان کے گھورنے پر شرافت سے گویا ہوا۔۔۔
اب تمہاری پنش یہ ہے کے تم اپنی پاکٹ منی سے دونوں بہنوں کو آسکریم کھلاو گئے۔۔۔ نعمان کے کہنے پر وہ بدک کر باپ کو دیکھتا احتجاجاً گویا ہوا۔۔۔
پاپا۔۔۔۔ اسنے مجھے بھی دھکا دیا اور چوٹ میرے لگی ہے۔۔۔ آپ یہ ناانصافی نہیں کر سکتے۔۔۔
دوبارہ بہنوں کو تنگ مت کرنا اور اگر کیا تو اگلی دفعہ تمہیں ان دونوں کیساتھ ساتھ اپنی ماما اور مجھے بھی آئسکریم کھلانی پڑے گی۔۔۔ نعمان کے کہنے پر وہ پاوں پٹختا اندر کی جانب بڑھا۔۔۔
جاو آپ دونوں بھی فریش ہو کر آو پھر ہم آئسکریمّ کھانے چلیں گئے۔۔۔ نعمان نے انکے چہرے تھپتھپا کر محبت سے کہا تو وہ خوشی سے چہچہاتیں اندر کو بھاگیں۔۔۔۔
انکے جانے کے بعد وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور مضبوط قدم اٹھاتا صلہ کے سامنے گیا۔۔۔ صلہ جو ان سب کو نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی اسکے یوں اپنے پاس آ کر کھڑے ہونے پر ٹھٹھکی۔۔۔ وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھِ ڈالے اسکے مقابل کھڑا سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4