khuab_e_janoon novel 81st episode by Umme Hania
khuab_e_janoon novel 81st episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
81st episode...
کپکپاتے ہاتھوں سے گلاس ڈور کو کھولتی صلہ میٹنگ ہال میں داخل ہوئی۔۔۔ میٹنگ شروع ہونے میں ابھی وقت تھا اس لئے فلحال سارا ہال خالی تھا۔۔۔ ایک طرف لمبی میز کے گرد کرسیاں لگی تھیں جبکہ دوسری طرف ایل شیپ کا صوفہ تھا۔۔۔ ہال کی ایک دیوار گلاس کی تھی جس سے باہر کا کچھ منظر دکھائی دیتا تھا اس پر سے بلائنڈز ہٹے تھے۔۔۔۔
وہ بے جان ہوتے وجود کے ساتھ صوفے پر ڈھے گئ۔۔۔ دل ابھی تک دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔ آنکھیں چھلکنے کو بے تاب تھیں جبکہ اسکے ہاتھوں میں ابھی تک لغزش تھی۔۔۔ وہ گہرے گہرے سانس بھرتی بامشکل خود کو کمپوز کئے ہوئے تھی۔۔۔۔
پتہ نہیں باہر کیا ہو رہا ہو گا۔۔۔ نعمان اسکے بارے میں کیا سوچے گا دل میں نئے وسوسے سر ابھارنے لگے تھے۔۔۔ یہ لمحوں میں کیا ہو گیا تھا۔۔۔ وہ شخص کیوں آیا تھا دوبارہ اسکی زندگی میں۔۔۔ کیا ابھی بھی کوئی کسر باقی تھی۔۔۔
وہ دکھتے سر کو ہاتھوں میں تھام گئ۔۔۔ دفعتاً اسے اپنے قریب قدموں کی چاپ سنائی دی تو اسنے ضبط سے سرخ پڑتی جلملاتی نگاہیں اٹھا کر اوپر دیکھا۔۔۔ وہ نعمان تھا جو سنجیدہ صورت لئے اسکے قریب آ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
پتہ نہیں باہر کیا بنا تھا۔۔۔ اسکا دماغ ہنوز سائیں سائیں کر رہا تھا ۔۔
مس صلہ آپ ٹھیک نہیں ہیں۔۔۔ میرا نہیں خیال کے آپ یہ میٹنگ اٹینڈ کر پائیں گی۔۔۔ آئیں میں آپکو گھر ڈراپ کر دوں ۔۔۔ وہ سنجیدگی سے مگر نرم لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔
ایک آنسو صلہ کی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔ وہ لب بھینچتی فوراً سر جھکا گئ۔۔۔
مس صلہ حوصلہ پکڑیں۔۔۔ آپ بہت بہادر خاتوں ہیں۔۔۔ آئیں میں آپکو آپکے گھر ڈراپ کر دوں۔۔۔ آپکو ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔۔ وہ لب بھنچتے گویا ہوا۔۔۔ صلہ کی ایسی حالت اسے بالاج پر مزید غصہ دلا رہی تھی۔۔۔
جی۔۔۔ وہ پزمردہ آواز میں کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ ایک بھی قدم اٹھاتی اسے زوردار چکر آیا ۔۔۔ وہ سر تھامتی لہرائی۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ چکرا کر گرتی نعمان نے سرعت سے اسے بازوں سے جھکڑے صوفے پر بیٹھایا۔۔۔
مس صلہ آپ ٹھیک ہیں۔۔۔ نہیں تو ڈاکٹر کو بلاوں ۔۔ وہ فکر مند ہوا۔۔۔
آہ۔۔۔ میری آنکھ میں شاید کچھ چلا گیا ہے۔۔۔ وہ چکراتا سر تھامے آنکھ میں ہوتی چبھن کے باعث کرلائی۔۔۔
ایک۔۔ایک منٹ۔۔۔ مجھے دکھائیں۔۔۔ وہ صلہ کی آنکھ سے پانی نکلتا دیکھ جھکا اور اسکی آنکھ میں دیکھنے لگا۔۔۔۔ آپ آنکھ میں پانی کے چھینٹے مارلیں مس صلہ آپ بہتر محسوس کریں گی کیونکہ مجھے آپکی آنکھ میں کچھ نہیں لگ رہا۔۔۔ شاید سکارف کا کونہ نا لگ گیا ہو۔۔۔ وہ سیدھا ہوتا میز سے پانی کی بوتل اٹھا کر اسکی جانب بڑھاتا گویا ہوا۔۔۔۔
نہیں اب کچھ بہتر ہے۔۔۔ وہ انگلی کی پور سے آنکھ کا کونا دابتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
چلیں ۔۔۔ میٹنگ شروع ہونے میں ابھی کچھ دیر ہے میں تب تک آپکو ڈراپ کر کے واپس آجاوں گا۔۔۔ وہ کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھتا دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔
اٹس اوکے سر میں چلی جاوں گی۔۔۔ وہ خود کو کمپوز کرتی اسکے پیچھے بڑھی۔۔۔
نہیں آپ ٹھیک نہیں ہیں مس صلہ۔۔۔ آپ آئیں میں آپکو ڈارپ کر کے وقت پر پہنچ جاوں گا۔۔۔ نعمان کے دوٹوک انداز میں کہنے پر وہ خاموشی سے اسکے پیچھے ہولی۔۔
شاید وہ ٹھیک ہی کہہ رہا تھا وہ اس وقت مینٹلی اسقدر ڈسٹرب ہو چکی تھی کے کچھ سوجھ ہی نا رہا تھا۔۔۔ قدم رکھ کہیں رہی تھی اور پر کہیں رہا تھا۔۔ ایسے میں اگر اکیلی جاتی تو پتہ نہیں گھر کیسے جاتی۔۔۔
گلاس وال سے یہ سارا منظر دو شعلے اگلتی نگاہوں نے پوری جزئیات سے دیکھا تھا۔۔۔۔ بالاج مٹھیاں بھینچے یہ سب دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسکا بس نا چل رہا تھا کہ صلہ کو کیسے بھی کر کے اپنے ساتھ اڑا لے جائے۔۔۔
****"
کمرا مضنوعی روشنی سے روشن تھا۔۔۔ باہر بھرپور دن کے باوجود اسکی کوئی رمق اندر محسوس نا ہو رہی تھی۔۔۔ کھڑکیوں پر بلائنڈز گرے تھے جسکے باعث سورج کی روشنی اندر آنے سے کاصر تھی۔۔
ایسے میں عفرا گھٹنے سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔۔۔۔ آنکھوں سے آنسوں ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔۔۔۔ دفعتاً اسنے ہچکی لی اور ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتی موبائل اٹھا کر امان کا نمبر ملانے لگی۔۔۔ دوسری جانب بیل جا رہی تھی۔۔۔ تقریباً پانچویں بیل پر فون اٹھا لیا گیا۔۔۔
امان آپ کہاں ہیں۔۔۔۔ وہ سسکی۔۔۔
امان جو کے اپنے آفس میں بیٹھا سٹیٹس کی کوئی فائل دیکھ رہا تھا سرعت سے فائل بند کرتا مکمل طور پر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
تم رو رہی ہو عفرا۔۔۔ سب ٹھیک تو ہے نا۔۔۔ تم ٹھیک ہو نا۔۔۔ وہ لمحوں میں پریشان ہو اٹھا تھا۔۔۔
جبکہ عفرا اسکے التفات دیکھتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ عفرا ہوا کیا ہے یار کچھ بتاو تو سہی۔۔۔ وہ فائل پیچھے دھکیلتا پریشانی سے بعجلت اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔۔گاڑی کی چابی اٹھائی اور اب اسکا رخ باہر کی جانب تھا۔۔۔
آپ فوری گھر آجائیں امان مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے۔۔۔ وہ زارو قطار رو رہی تھی جبکہ امان کے تو ہاتھ پاوں ہی پھولنے لگے تھے۔۔۔
میں آ رہا ہوں عفرا۔۔۔ بس کچھ دیر میں تمہارے پاس پہنچ جاوں گا۔۔۔ وہ ایک ایک جست میں کئ کئ سیڑھیاں پھیلانگتا نیچے کی جانب بڑھا۔۔۔
لیکن کچھ تو بتاو کہ۔۔۔ وہ ابھی بول ہی رہا تھا فون بند ہو گیا۔۔۔
شٹ۔۔۔ اسنے جھنجھلا کر فون جیب میں رکھا اور بھاگ کر گاڑی کے پاس پہنچا۔۔۔
******
گاڑی کو ہواوں میں اڑاتا امان بیس منٹ کا راستہ دس منٹ میں طے کر کے گھر پہنچا تھا۔۔ گھر میں داخل ہوتے ہی خاموشی نے اسکا استقبال کیا۔۔۔۔
عفرا۔۔۔ لاوئنج میں داخل ہوتے وہ پکارا۔۔۔ ماں غالباً اپنے کمرے میں تھی تبھی اسے باہر دکھائی نا دیں۔۔۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔۔دروازہ وا کرنے پر وہ اسے سامنے بیڈ پر بیٹھی ملی۔۔۔ متورم سرخ آنکھوں سے اشک ہنوز جاری تھے۔۔۔
کیا ہوا عفی پرنسس۔۔۔ وہ تھکے تھکے انداز میں کہتا اسکی جانب بڑھا۔۔۔
آپ جیت گئے امان۔۔۔ وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتی گویا ہوئی۔۔
مطلب۔۔۔ وہ الجھا۔۔۔
آپکا یقین جیت گیا۔۔۔ وہ سسکی اور سائیڈ پر پڑی فائل اٹھا کر امان کی جانب بڑھائی۔۔۔
امان نے پریشانی سے فائل پکڑے اسے کھولا۔۔۔ فائل میں موجود رپورٹ پڑھ کر اسکے چہرے پر حیران کن تاثرات ابھرے۔۔۔
My Godddd...
وہ پورے دل سے مسکرایا۔۔۔۔
Ohh My God...
رپورٹ پھر سے پڑھتے اسنے خود کو یقین دہانی کروانی چاہیے۔۔۔ جبکہ آنکھیں جھلملا اٹھیں تھیں۔۔۔
اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرے مالک۔۔۔ اسنے آگے بڑھ کر آنسو بہاتی عفرا کو خود میں بھینچا۔۔۔۔
یہ تو خوشی کی خبر ہے نا پاگل۔۔۔ تو پھر رو کیوں رہی ہو۔۔۔
تو یہ بھی خوشی کے ہی آنسو ہیں امان۔۔۔ وہ روتے روتے ہس کر گویا ہوئی ۔۔۔
امان اللہ نے ہماری سن لی۔۔۔۔ آٹھ سالوں بعد اسنے ہمیں پھر سے نواز دیا امان ۔۔۔۔ اسنے میری ساری دعائیں قبول کر لی امان۔۔۔۔ اللہ کتنا پیارا ہے نا امان۔۔۔ وہ سن لیتا ہے۔۔۔ وہ نواز دیتا ہے۔۔۔ بس ہم ہی جلد باز ہو جاتے ہیں نا۔۔۔ وہ پھر سے رو دی۔۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی میں اسکا شکر کیسے ادا کروں امان۔۔۔ میرا اللہ بہت پیارا ہے۔۔۔وہ معجزے کرنا جانتا ہے۔۔۔ اسکے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سمیت بول رہی تھی۔۔۔ اور امان اسکی تو اپنی آنکھیں جلملا اٹھی تھیں۔۔۔
چلو آنسو صاف کرو اور آو امی کو یہ خوشی کی خبر سنائیں۔۔۔وہ بھی تو اس خبر کو سننے کے لئے کب سے آس کا دیا جلائے بیٹھی ہیں۔۔۔۔ اسنے محبت سے عفرا کے آنسو صاف کئے اور اسے لئے کمرے سے نکلا۔۔۔۔
ماں تو یہ خبر سنتے ہی نحال ہو گئ تھیں۔۔۔ وہ تو عفرا کی بلائیں لیتیں نا تھک رہی تھی۔۔۔ فوری طور پر عفرا کا صدقہ دیتے انہوں نے غریبوں کو کھانا کھلانے کا حکم جاری کیا تھا۔ جس پر سر خم کرتا امان فورا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
******
سارا دن صلہ دماغی طور پر غیر حاضر رہی تھی۔۔۔ جب سے نعمان اسے گھر چھوڑ کر گیا تھا وہ کھوئی کھوئی سی تھی۔۔۔ کسی کام کی طرف توجہ مبذول ہی نا ہو پا رہی تھی۔۔۔ بامشکل اسنے بچوں کو کھانا بنا کر دیا۔۔۔ آج تو اسنے اپنا کلینک بھی نا کھولا تھا بلکہ باہر کلوزنگ کا بورڈ لگا دیا تھا۔۔۔
وہ انہی سوچوں میں گم تھی جب ڈور بیل بجی۔۔۔ وہ کوفت سے دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔ اس وقت وہ کسی سے ملنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ جھنجھلاتے ہوئے اسنے جا کر دروازہ کھولا۔۔۔ لیکن سامنے بالاج کو کھڑا دیکھ یکدم ہی اسکا پارہ ہائی ہوا تھا۔۔۔۔
کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔۔ کیوں آئے ہو یہاں۔۔۔
وہ ماتھے پر تیوریاں ڈالے پھاڑ کھانے والے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
ارےےے۔۔۔ اتنا غصہ۔۔۔۔
یار بات تو سن لو۔۔۔ وہ اپنے ازلی انداز میں دلکشی سے مسکرایا۔۔۔ وہی انداز جسکی وہ کبھی دیوانی تھی۔۔۔ اسنے بدقت آنکھوں کا زاویہ بدلا۔۔۔۔
مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی۔۔۔ اب کی بار اسکا لہجہ کچھ دھیما تھا۔۔۔
یار اندر تو آنے دو۔۔۔ وہ ملتجی ہوا۔۔۔۔
میں نامحرموں کو گھر میں نہیں بلاتی۔۔۔ وہ کاٹ دار انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
کیا محرم بننے سے پہلے تم نے مجھ سے کبھی بات نہیں کی تھی یا کبھی مجھ سے نہیں ملی تھی۔۔۔۔۔ وہ بھی سمجیدہ ہوا۔۔۔
نہیں۔۔۔ دو ٹوک جواب آیا تھا۔۔۔ میری ماں کی موجودگی میں آتے تھے تم میرے گھر آئی سمجھ۔۔۔ اسے نئے سرے سے غصہ آنے لگا۔۔۔ ماضی کے حوالے جان کیوں نہیں چھوڑ دیتے تھے ۔۔۔
اوکے پلیز۔۔۔ پلیز ایک دفعہ بات کرنے کا موقع دے دو اسکے بعد میں کبھی تنگ نہیں کروں گا۔۔۔ اسکے ایک دفعہ پھر سے ملتجی ہونے پر وہ ماتھے پر بل لئے راستے سے ہٹی۔۔۔
وہ اسے ساتھ لئے لاوئنج میں آگی۔۔
صلہ میں تم سے معافی مانگنے آیا ہوں۔۔۔ پلیز میں اپنے کئے پر بہت بہت شرمندہ ہوں۔۔۔میں نے زمانے کی خاک چھان لی۔۔۔ سب کچھ کر لیا۔۔۔ لیکن میں نے یہ ہی جانا ہے کے میرا سکون تم میں ہے۔۔۔ پلیز تم بھی غصہ تھوک دو۔۔ آو صلح کر لیتے ہیں۔۔۔ تمہیں مشل سے پرابلم ہیں نا تو میں اسے چھوڑ رہا ہوں۔۔۔ اب ہمارے درمیاں کوئی تیسرا کبھی نہیں آئے گا۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔ تم میں اور ہماری بیٹیاں۔۔۔ ہم اپنا الگ ایک جہاں بسائیں گے جہاں کی ملکہ تم ہو گئ۔۔۔ میں دنیا جہاں کی خوشیاں تمہارے قدموں میں لا کر رکھ دوں گا صلہ۔۔۔ پلیز ایک موقع دے دو۔۔۔ تمہارے ساتھ غلط کر کے میں بہت پچھتایا ہوں۔۔۔
پل پل میرے ضمیر نے مجھے کچوکے لگائیں ہیں۔۔۔ پچھلے چار سالوں میں میں تمہیں ایک پل کو بھول نہیں پایا۔۔۔ تمہاری یادوں نے ہمہ وقت مجھے اپنے حصار میں مقید رکھا ہے۔۔ پلیز صلہ۔۔۔ پلیز۔۔۔ آج کوئی پچھلا حوالہ نہیں۔۔۔ آو نئے سرے سے زندگی کی شروعات کرتے ہیں۔۔۔۔
وہ گلو گیر لہجے میں اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہتا اس کے گرد ایک حصار بنا رہا تھا۔۔۔
کتنا خوشنما تصور تھا جو وہ کروا رہا تھا۔۔۔
اسکے سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھی صلہ قہقہ لگا کر ہسی۔۔ اور اسقدر ہسی کے ہستے ہستے اسکی آنکھوں سے پانی بہنے لگا۔۔۔
اوہ مائے گاڈ۔۔۔ بالاج تم یہ کہنے کے لئے یہاں آئے ہو۔۔۔ نہیں مطلب سیریسلی۔۔۔۔
ہس کیوں رہی ہو صلہ۔۔۔ میں مذاق نہہں کر رہا میں سنجیدہ ہوں۔۔۔۔بالاج اسکے ہسنے پر جزبر ہوا۔۔۔
وہی تو بالاج۔۔۔ تم سنجیدہ ہی تو نہیں ہوتے۔۔۔ ہسی کہیں غائب ہو گئ تھی۔۔۔ اسکی جگہ دکھ نے لے لی تھی۔۔
صلہ کبھی تمہارا انتخاب نہیں تھی۔۔۔ صلہ تمہارے لئے ایک آپشن ہے۔۔۔ بیٹے کی جانب سے مایوس ہو کر تم اپنی بیوی کو چھوڑ رہے ہو۔۔۔ اس بیوی کو جس کے لئے تم نے اپنی بیٹیوں کی ماں کو چھوڑا تھا۔۔۔ وہ تمہیں صحتمند اولاد نہیں دے سکتی تو اس سے بہتر آپشن تمہارے لئے صلہ ہے۔۔۔ چلو اور کچھ نہیں تو بیٹیاں تو ہیں۔۔۔۔ بولتے بولتے وہ دکھ سے مسکرائی۔۔۔
اس تک اسکے سابقہ سسرال کی خبریں پہنچتی ہی رہتی تھیں۔۔۔ وہ نا چاہنے کے باوجود بھی ہر چیز سے باخبر تھی۔۔۔۔
مطلب بالاج کیا بولوں میں تمہیں۔۔۔ چلو چھوڑو ساری باتوں کو بات بڑھانے یا لمبی کرنے کی بجائے یہیں پر ختم کرتے ہیں۔۔۔ چوائس تو دور بالاج مجھے تم آپشن کے طور پر بھی قبول نہیں۔۔۔ سوری۔۔۔ لیکن تمہارے نکاح میں آنے سے میں سنگل مدر ہی اچھی۔۔۔
مسکرا کر کہتی وہ بہت بڑا وار کر گئ تھی جو سہنا بالاج کی برداشت سے باہر تھا۔۔۔
حد کر رہی ہو تم اب صلہ۔۔۔ غصہ ضبط کرتا وہ نرمی سے گویا ہوا۔۔۔ مانتا ہوں تمہیں غصہ ہے مجھ پر۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ ہرگز ہرگز نہیں۔۔ مجھ تم پر غصہ کیوں ہو گا بھلا۔۔۔۔ وہ کندھے اچکاتی لاپرواہی سے گویا ہوئی۔۔۔
میں ماضی کی خاک نہیں چھانتی بالاج۔۔۔ بہت کھٹن راستہ طے کیا ہے میں نے زندگی کا۔۔۔ بہت خاردار۔۔۔ بارہا لہولہاں ہوئی ہوں اس راستے پر چلتے چلتے۔۔۔ پر شکر ہے اس پاک ذات کا کے میں۔۔۔ وہ رکی پھر گویا ہوئی۔۔۔۔ زندگی میں آگے بڑھ گئ ہوں۔۔۔ اب ماضی کی جانب مڑ کر دیکھنا۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ میں یہ نہیں کر سکتی۔۔۔ تو پیچھے کوئی بات بچتی ہی نہیں ہے۔۔۔ تم جا سکتے ہو۔۔۔
وہ بے مروتی سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ بالاج نے اسے تعجب سے دیکھا۔۔۔ وہ کہیں سے بھی چار سال پہلے والی صلہ نا لگ رہی تھی۔۔۔ اسکی ہمراہی کو پاگل ہوتی۔۔۔ اسکے ایک ایک التفات کی منتظر۔۔۔ اسکی راہ تکتی۔۔۔ اسکی نارضگی پر بچھ بچھ جاتی۔۔۔ ہر مقام پر جھک جانے والی۔۔۔ جھگڑوں سے ڈر جانے والی۔۔۔ سامنے تو کوئی اور ہی صلہ تھی۔۔۔ نڈر ۔۔۔ پر اعتماد۔۔۔ اپنی بات پر اٹل۔۔۔
صلہ تمہیں واپس میرے پاس ہی آنا ہے۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
خام خیالی ہے یہ تمہاری۔۔۔ کہا نا تم انتخاب تو دور مجھے آپشن کے طور پر بھی قبول نہیں۔۔۔
بالاج کی ہٹ ڈھرمی دیکھتے اسکے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔
میں تم سے اپنی بیٹیاں واپس لے لوں گا۔۔۔ وہ دھمکی آمیز لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔
😢😢
اوہ۔۔۔ وہ ہونٹوں کو گول کرتی محظوظ ہوتی گویا ہوئی۔۔۔ پتہ ہے کیا بالاج۔۔۔ تمہاری اس احمقانہ بات پر مجھ سے ہسا بھی نہیں جا رہا۔۔۔
جہاں کہیں بھی جا کر بیٹیوں کو لینے کی بات کرو گئے نا تو لوگ جوتے اٹھا کر ماریں گے کہ یہ وہیں بیٹیاں ہیں جنہیں چار سال پہلے تم نے ناجائز قرار دے کر اپنی وراثت سے بے دخل کر دیا تھا۔۔۔
چچ۔۔۔چچ۔۔۔چچ۔۔ تمہارے پاس تو یہ حق بھی نہیں کہ تم اپنی بیٹیوں کے لئے عدالت کا دروازہ ہی کھٹکھٹا سکو۔۔۔
لیکن خیر تمہیں میری بیٹیوں میں دلچسپی ہے بھی نہیں۔۔۔ یہ تو تم صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لئے کہہ رہے ہو۔۔۔ وہ کندھے اچکا گئ۔۔۔
وہ میری بیٹیاں ہیں صلہ چار سال پہلے جو ہوا وہ غلط فہمی کی بنا پر ہوا تھا اب میں اپنی غلطی۔۔۔
غلط فہمی۔۔۔ سہی۔۔ سہی۔۔ وہ اسکی بات کاٹتی طنزیہ گویا ہوئی۔۔
اگر تب غلط فہمی ہوئی تھی تو وہ کلیئر بھی ہو گئ تھی۔۔۔ پر اسکے بعد تم نے باپ ہونے کا کونسا حق ادا کیا۔۔۔ پچھلے چار سالوں میں کتنی دفعہ بیٹیوں سے ملنے آئے۔۔۔ غلط فہمی تھی نا وہ۔۔۔ تو دور ہونے پر کہاں سرپرست بنے تم میری بیٹیوں کے۔۔۔ بولتے بولتے اس کی آواز بلند ہونے لگی تھی۔۔ وہ غلط فہمی تھی تو کیوں تمہاری بیٹیاں پھر یتیموں سی زندگی بسر کرتی رہیں۔۔ کہاں کفالت کی تم نے انکی۔۔۔ بات کرتے ہو تم غلط فہمی کی۔۔ بات کرتے اسکی آواز بھرانے لگی تھی جبکہ بالاج خاموشی سے سر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔
میں سب ٹھیک کر دوں گا صلہ۔۔۔ وہ آخری کوشیش کے طور پر منمنایا۔۔۔ جب صلہ نے زور دار انداز میں اسکے سامنے ہاتھ جوڑے۔۔۔
چلے جاو یہاں سے۔۔۔ میرا ضبط مزید مت آزماو۔۔۔
اس جمعے کو ہمارا نکاح ہے صلہ۔۔۔ بالاج کے چہرے پر چٹانوں سی سختی ابھر آئی تھی۔۔۔
بالکل ۔۔۔ تمہیں پاگل خانے جانے کی ضرورت ہے بس۔۔۔ صلہ پھنکاری۔۔۔۔
آج رات تک مجھے تمہارا جواب ہاں میں چاہیے۔۔۔ ورنہ یاد رکھنا محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔۔۔ اگر تم سیدھے طریقے سے میرا ساتھ قبول نہیں کرتی تو اسکے بعد میں جو کروں گا تم اسکا شکوہ نہیں کر سکتی مجھ سے۔۔۔ وہ سب میں تمہاری محبت میں مجبور ہو کر کروں گا۔۔۔
حالانکہ میں ایسا کچھ نہیں چاہتا۔۔۔ تمہاری رضا مندی سے یا زبردستی مگر ۔۔۔ تمہیں آنا میرے پاس ہی ہے۔۔۔ کیونکہ تمہاری نا کی صورت میں جو کروں گا وہ سہنا تم سے مشکل ہو جائے گا۔۔۔ اس لئے آخری بار بول رہا ہوں مجھے مجبور مت کرو۔۔۔ تم صرف میری ہو۔۔۔
وہ پراسرار لہجے میں سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔ جبکہ صلہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔ اسے بالاج میں سے کسی خطرے کی بو آ رہی تھی۔۔۔۔
ناجانے وہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ اسکے عزائم جان کر ایک گلٹی صلہ کی گردن میں ابھر کر معدوم ہوئی۔۔ جبکہ اپنی بات کہہ کر وہ خاموشی سے جا چکا تھا۔۔۔
*****

No comments