Header Ads

khuab_e_janoon novel 82nd episode by Umme Hania۔


 

khuab_e_janoon novel 82nd episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official


 ساری رات صلہ کی بے چینی میں گزری تھی۔۔۔۔ ساری رات ہی بالاج وقفے وقفے سے اسے میسجز کرتا رہا تھا۔۔۔۔ صلہ نے بھی اسے ریپلائے نا کرنے کی قسم کھا رکِی تھی شاید۔۔۔۔
 جو کمال مہارت سے اسے نظر انداز کر رہی تھی ۔۔ تھک ہار کر اسنے بالاج کا نمبر ہی بلاک کر دیا۔۔۔لیکن بے سود  اگلے ہی منٹ اسے دوسرے نمبر سے میسجز موصول ہونے لگے تھے۔۔۔ لیکن اب کی بار میسجز دھمکی آمیز تھے۔۔۔۔ اب چونکہ وہ نفسیات کو جاننے لگی تھی تو باخوبی آگاہ تھی کے وہ اسے پریشرائز کرنے کی کوشیش کر رہا ہے۔۔۔
صلہ کا سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔۔۔ وہ موبائل سوئچ آف کرتی پین کلر لے کر سو گئ۔۔۔
اسے اب کہیں نا کہیں بالاج سے خوف محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔ جو کچھ ماضی میں وہ اسکے ساتھ کر چکا تھا اسکے بعد اسے بالاج سے کسی اچھائی کی امید تو رہی نا تھی۔۔۔
صبح  وہ حسب معمول اٹھ گئ تھی۔۔۔ لیکن بے سکونی اور پریشانی کے باعث اسے اپنا سر بھاری بھاری سا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
اپنی روز مرہ کی سرگرمیاں سر انجام دے کر وہ آفس پہنچی تو اسے کچھ عجیب سا لگا۔۔۔ کچھ تو مختلف تھا مگر کیا اسے کچھ سمجھ نا آئی۔۔۔
سب لوگ اس سے کھنچے کھنچے سے تھے جیسے اسکے بارے میں چہ مگوئیاں کر رہے ہوں یا اسے ہی ایسا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ جیسے آپس میں کوئی بات کر رہے ہوتے اور صلہ کے وہاں جاتے ہی  وہاں سناٹا چھا جاتا سب خاموش ہو جاتے۔۔۔ وہ ان سب کے رویے دیکھتی الجھ گئ تھی۔۔۔
دیکھنے میں تو کتنی سیدھی سادھی لگتی ہے لیکن کرتوت دیکھو۔۔۔ وہ کسی کام سے اپنی کولیگ کے کیبن میں گی لیکن اسے وہاں دیکھتے ہی وہ دونوں کولیگز یکدم خاموش ہو گئیں۔۔۔
صلہ اپنا مطلوبہ کام اس سے پوچھ کر پریشان حال سی وہاں سے نکل آئی۔۔ نا جانے وہ کس کے متعلق بات کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔اپنا کام مکمل کر کے وہ فائل لئے نعمان کے آفس میں آئی۔۔۔ 
نعمان سربراہی کرسی پر بیٹھا فائل چیک کر رہا تھا۔۔۔ جبکہ صلہ اسکے سامنے کرسی پر بیٹھی تھی۔۔۔ دفعتاً صلہ کے موبائل کی بیل بجی۔۔۔۔
رات سے بالاج نے ہی ناک میں دم کر رکھا تھا۔۔۔ اسنے کوفت سے میسج کھولا۔۔۔
اندر ایک ویڈیو کے ساتھ کیپشن لکھا تھا۔۔۔
اس سب کے لئے اب تم مجھے ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتی۔۔۔ اس سب کے لئے تم نے مجھے مجبور کیا ہے۔۔۔
کیپشن پڑھتے صلہ نے ماتھے پر بل لئے ویڈیو پلے کی۔۔۔۔ ناجانے اب وہ کیا کارنامہ سر انجام دینے والا تھا۔۔۔۔
اور ویڈیو پلے کرتے ہی اسکی نگاہوں کے سامنے زمین و آسمان گھوم گئے۔۔۔۔ اسکی رنگت خطرناک حد تک سفید پڑنے لگی تھی۔۔۔ اسے لگا جیسے اسکا سانس سینے میں ہی کہیں اٹکنے لگا ہو۔۔۔
دیکھنے میں تو کتنی سیدھی سادھی لگتی ہے لیکن کرتوت دیکھو۔۔۔ اسکے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔۔ تو گویا وہ فقرات اسکے لئے تھے۔۔۔
اسے اپنے جسم سے روح نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔ تو گویا یہ وجہ تھی پورے سٹاف کی اس سے متنفر ہونے کی۔۔۔
کیا وہ کسی سے نظریں تک ملا سکتی تھی اب۔۔۔۔۔ کیا وہ کسی کے سامنے اپنا سر تک اٹھا پائے گی۔۔۔۔اسکا کردار پوری دنیا کے لئے سوالیہ نشان بن گیا تھا۔۔۔
مس صلہ یہ پوائنٹ۔۔۔ نعمان فائل کو دیکھتے اچانک اسکی جانب دیکھتا گویا ہوا۔۔۔ جب اسکی سپید پڑتی رنگت دیکھ ٹھٹھکا۔۔۔
مس صلہ آپ ٹھیک ہیں۔۔۔ وہ پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔۔۔
صلہ نے خالی خالی نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ کیا وہ کبھی دوبارہ اس شخص کا سامنا کر پائے گی۔۔۔۔
وہ وہیں ہر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ اسکا جسم کپکپانے لگا تھا۔۔۔۔
Miss Sila is everything All right.....
 نعمان نے فائل پیچھے ہٹاتے سرعت سے پانی کی بوتل کھولتے اسکی جانب بڑھائی۔۔۔
جبکہ وہ اپنی سسکیوں پر قابو پاتی ۔۔۔ آنسو رگڑ کر صاف کرتی اسے خوفزدہ نگاہوں سے دیکھتی اپنی جگہ سے اٹھی اور اندھا دھند باہر کو بھاگی۔۔۔
وہ بنا کسی کی جانب دیکھے بھاگ رہی تھی۔۔۔ آفس کے سبھی ورکز نے اسے یوں بھاگتے دیکھ سر جھٹکا۔۔۔۔ ایسی لڑکیوں کیساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔۔  کسی کا زہریلا جملہ اسکے کانوں میں پڑا تھا۔۔۔
وہ سڑک پر اندھا دھند بھاگ رہی تھی۔۔۔ ٹریفک کا ہجوم گاڑیوں کا شور ۔۔۔ لوگوں کا شور۔۔۔ اسے کچھ سجائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ وہ بس اپنے بہتے آنسو صاف کرتی بھاگ رہی تھی ۔۔۔
دو دفعہ وہ گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔۔  ناجانے وہ کیسے گھر پہنچی تھی۔۔۔ بس اسے اتنا یاد تھا کے گھر آتے ہی وہ ڈھے گئ تھی۔۔۔
****
,
صلہ کے رد عمل سے نعمان الجھ گیا تھا۔۔۔ ایسا اسنے کبھی نا کیا تھا کہ درمیان میں کام چھوڑ کر چلی جاتی۔۔۔ اور یوں اس انداز میں۔۔۔ وہ اچھا خاصا پریشان ہو اٹھا تھا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ مزید اس بات پر غور کرتا اسے بھی ایک ویڈیو موصول ہوئی۔۔۔
اسنے ویڈیو پلے کی۔۔۔ اور ویڈیو دیکھتے ہی اسکے کانوں سے بھی دھواں نکلنے لگا۔۔۔ وہ غصے سے پاگل ہونے کے در پر تھا۔۔ ایک لمحہ لگا تھا اسے صلہ کی حالت کی وجہ سمجھنے میں۔۔۔ وہ مرد ہو کر یہ برداشت نا کر پا رہا تھا تو وہ عورت ہو کر کیسے کرتی۔۔۔
یہ ویڈیو کل کی ہوٹل میں میٹنگ ہال کی تھی۔۔۔ جب وہاں صلہ کو چکر آنے پر نعمان نے دونوں ہاتھوں سے تھام کر صوفے پر بیٹھایا تھا۔۔۔ اور پھر صلہ کی آنکھ میں دیکھنے کے لئے نعمان کا اس پر جھکنا۔۔۔ اف خدایا۔۔۔ ویڈیو کو اتنا غلط رخ دیا گیا تھا کہ دیکھنا والا اگر انکے بارے میں کچھ غلط سمجھتا تو وہ بے جا نا ہوتا۔۔  لیکن غور طلب بات تو یہ ہی تھی کے یہ ویڈیو وہاں بنائی کس نے تھی۔۔۔
کیا بالاج نے۔۔۔ نعمان کا دماغ فوراً اس جانب ہی گیا تھا۔۔  کیونکہ اس وقت وہاں سوائے بالاج کے کوئی نا تھا۔۔۔
غصے سے اسکی رگیں پھولنے لگی تھیں۔۔۔۔ یہ صرف اسنے صلہ کے کردار کو مشکوک نہیں بنایا تھا بلکہ اسکی ذات کو بھی دنیا والوں کے لئے ایک سوالیہ نشان بنا دیا تھا۔۔۔
اسنے موبائل پر تیزی سے نمبر ڈائل کرتے اسے کان سے لگایا۔۔۔
ایک ویڈیو بھیج رہا ہوں۔۔۔ اگلے آدھے گھنٹے میں مجھے اسکی ڈیٹیلز چاہیے کے یہ کسی نے پھیلائی ہے۔۔۔ فون پر حکم جاری کرتے ہی وہ سر تھام کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
اگر واقع اسکا شک صحیح نکلتا تو ناجانے وہ کیا کر گزرتا۔۔۔
*****
رو رو کر صلہ کی آنکھیں سوجھ گئ تھیں۔۔۔ اب تو آنکھوں کے سوتے بھی خشک ہونے لگے تھے۔۔۔ اسقدر رسوائی۔۔۔ وہ کس کس کو اپنے کردار کی گواہی دیتی۔۔۔  دل سے بالاج کے لئے بددعائیں نکل رہی تھیں۔۔۔
ہاں اسنے آج تک اسے بددعائیں نہیں دی تھیں اسکے اتنا غلط کرنے کے باوجود بھی۔۔۔۔۔ لیکن آج خودبخود دل سے نکل رہیں تھیں۔۔۔
دفعتا اسکے موبائل کی بیل بجی۔۔۔ اسنے سوجھی آنکھوں سے موبائل کی طرف دیکھا لیکن سامنے بالاج کالنگ کے الفاظ جگھمگاتے دیکھ اسکے سینے میں بھانبھر سے جلنے لگے تھے۔۔
اسنے بنا دیر کئے فون اٹھایا۔۔۔ گھٹیا ذلیل انسان۔۔۔ کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔ کیا ملا  تمہیں میری پوری ذات مسخ کر کے۔۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی گویا ہوئی۔۔۔۔
صلہ پلیز رو مت۔۔۔ میں ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔  لیکن اب بھی دیر نہیں ہوئی۔۔ آو آج ہی نکاح کر لیتے ہیں۔۔۔ مجھ پر یقین کرو صلہ میں سب ٹھیک کر دوں گا۔۔۔ صلہ کے آپے سے باہر ہونے کے باوجود وہ لہیمی سے گویا ہوا۔۔۔
مر جاو تم بالاج۔۔۔ تم جیسے گھٹیا شخص کو جینے کا کوئی حق نہیں۔۔۔
سن لو تم بھی۔۔۔ مجھے خود کشی کرنا منظور ہے مگر تم جیسے گھٹیا شخص کے نکاح میں آنا قبول نہیں۔۔۔ وہ حلق کے بل چیختی گویا ہوئی ۔۔۔ اور فون بند کر کے صوفے کی پشت سے سر ٹکاتی آگے کے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔
*****
یہ بات جنگل میں آگ کی طرح پھیلی تھی۔۔۔۔ ٹھیک آدھے گھنٹے بعد ہی نعمان کے پاس ساری ڈیٹیلز موجود تھیں۔۔۔ اسکا شک ٹھیک تھا۔۔۔ یہ گھٹیا حرکت صلہ کے سابقہ شوہر کی ہی تھی۔۔۔۔ 
😅😅
اسنے بنا دیر کئے امان سے رابطہ استوار کیا اور کل کے واقعے سمیت آج کا واقعہ اسکے گوش گزارنے کے بعد وہ ویڈیو بھی اسے سینڈ کی۔۔۔ امان اس وقت اپنے اگلے آوٹلٹ کے لئے جگہ دیکھنے گیا تھا جب اسے نعمان کا فون آیا۔۔۔ تمام حقائق جان کر اسکی آنکھوں میں بھی خون اتر آیا تھا۔۔۔
وہ گھٹیا انسان اس لڑکی کو جینے کیوں نہیں دیتا تھا۔۔ جو ناجانے کیسے اپنی زندگی کی ان تاریکیوں سے نکل کر یہاں تک پہنچی تھی۔۔۔ وہ سب کام وہیں چھوڑ واپس گھر گیا اور ماں اور عفرا کے گوش ساری حقیقت گزارتے انہیں لئے صلہ کے گھر کے لئے نکلا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ صلہ کے گھر موجود تھے۔۔۔ بچیوں کو وہ وہاں ہی زبیدہ آپا کے پاس چھوڑ آئے تھے۔۔۔
وہاں صلہ کی حالت حسب توقع ہی تھی۔۔۔ وہ خالہ اور عفرا کو دیکھتی لپک کر انکی جانب بڑھی اور خالہ کے گلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
خالہ اس گھٹیا شخص نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔  خالہ اسے اپنی آغوش میں ہی لئے صوفے پر بیٹھیں۔۔۔ وہ تو خود اس صورتحال سے حق دق رہ گئ تھیں۔۔ آخر بیٹی کی عزت کا معاملہ تھا۔۔۔
یہاں میری طرف دیکھو صلہ۔۔۔ امان اسکے سامنے ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھتا اسے اپنی جانب متوجہ کر کے سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔۔
مجھے ساری بات بتاو۔۔۔ شروع سے لے کر آخر تک۔۔۔
امان کے کہنے پر وہ نظریں جھکائے آہستگی سے اسے سب بتاتی چلی گئ۔۔۔
اب تم کیا چاہتی ہو۔۔۔ وہ ساری بات مکمل کر چکی تو امان گہری سانس خارج کرتا گویا ہوا۔۔۔
وہ تم سے نکاح کا خواہشمند ہے تو اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔۔۔ وہ پھر سنجیدگی سے اس سے اسکی رائے جاننا چاہتا تھا۔۔۔
کبھی نہیں بھائی۔۔ میں اس گھٹیا انسان سے دوبارہ کبھی نکاح نہیں کروں گی۔۔۔  جو شخص ایک مرتبہ آپکو ذلیل کر کے اپنی زندگی سے نکال سکتا ہے وہ قابل اعتبار نہیں۔۔ مجھ سے بہتر آپشن ملنے پر وہ پھر سے ایسا ہی کرے گا۔۔۔ اور میں بار بار ٹوٹنے کی اذیت سے نہیں گزر سکتی۔۔۔ وہ اپنا دکھتا سر تھامتی صوفے کی ہشت سے ٹیک لگا دی۔۔۔
ٹھیک ہے صلہ۔۔۔ جیسا تم چاہتی ہو ویسا ہی ہوگا۔۔۔ اطمیئنان رکھنا مجھ پر۔۔۔ بھائی کہا ہے  نا مجھے تم نے۔۔۔ تو تم ہر آنچ نہیں آنے دوں گا۔۔۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوتا اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر گویا ہوا تو آنسو ایک مرتبہ پھر سے اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔۔۔
 امان اپنے موبائل پر نمبر ڈائل کرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
***** 
عفرا اور خالہ نے اسکی بہت ہمت بندھائی تھی۔۔۔ وہ سسکتی سسکتی وہیں خالہ کی گود میں سر رکھے سو گئ تھی۔۔۔ کچھ دیر کے لئے اس سارے ہنگامے سے فرار حاصل کر گئ تھی۔۔۔
دوبارہ اسکی آنکھ باتوں کی آوازوں سے کھلی تھی۔۔۔ وہ مندی مندی آنکھیں کھولتی سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔ ناجانے اسے سوئے کتنا وقت گزر گیا تھا۔۔۔۔ لیکن اٹھنے پر اسے عینا اور نینا سامنے کمرے میں کھیلتی نظر آئیں۔۔۔ جبکہ امان بھی وہیں موجود تھا۔۔۔
صلہ کیا تمہیں مجھ پر یقین ہے۔۔۔ امان 
اسکے سامنے بیٹھا سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔۔۔
خود سے بھی زیادہ امان بھائی۔۔۔ وہ بنا توقف کے گویا ہوئی۔۔۔ تو کیا  تمہارا بھائی ہونے کے ناطے مجھے حق حاصل ہے کہ میں تمہارے لئے کوئی فیصلہ لے سکوں۔۔۔ وہ ہنوز سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
صلہ کا دل دھک دھک کرنے لگا۔۔۔ ناجانے وہ کیا فیصلہ لینے والا تھا۔۔ 
یہ کیسا یقین ہے صلہ۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔ وہ اسکی شش و پنج اچھے سے جانتا تھا۔۔۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے امان بھائی۔۔۔ میں جانتی ہوں کے آپ میرے بارے میں کبھی کوئی غلط فیصلہ نہیں لے سکتے۔۔۔  وہ ہلکا سا مسکراتی گویا ہوا۔۔۔
بہت شکریہ اس مان کا صلہ۔۔۔ یقین رکھنا میں یہ مان کبھی ٹوٹنے نہیں دوں گا۔۔۔
وہ شخص تمہیں جس مشکل میں ڈال چکا ہے مجھے تمہیں وہاں سے نکالنا ہے۔۔ میں اپنی بہن کی طرف اٹھتی انگلیاں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ مجھے لوگوں کے منہ بند کرنے ہیں۔۔۔ اس لئے ابھی کچھ دیر میں تمہارا نکاح ہے۔۔۔ 
ہوسکتا ہے ابھی تمہیں میرا یہ فیصلہ غلط لگ رہا ہو ۔۔۔ مگر اعتماد رکھنا مجھ پر یہ فیصلہ تمہارے حق میں بہت بہترین ثابت ہو گا۔۔۔ اپنی بہن کے لئے میں کبھی کم معیاری چیز کا انتخاب کر ہی نہیں سکتا۔۔۔ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا گویا وہ صلہ کے سر پر بم پھوڑ چکا تھا۔۔۔
صلہ حق دق سی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ جیسے اسکی کہی باتوں کو سمجھنے کی کوشیش کر رہی ہو۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4