khuab_e_janoon novel 80th episode by Umme Hania۔
khuab_e_janoon novel 80th episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
80th episode....
تائی کے گھر میں اس وقت صف ماتم بچھی تھی۔۔۔ تائی گم صم سی کونے میں بیٹھی تھی جبکہ مشل کا رو رو کر برا حال تھا۔۔۔
حسب وعدہ بالاج ہر سال پاکستان آ رہا تھا۔۔۔ ہر ماہ باقاعدگی سے وہ پیسے بھی بھیجوا رہا تھا۔۔ ابھی چھ ماہ پہلے ہی تو وہ آیا تھا ۔۔۔۔ اسکے بیٹے کا باقاعدگی سے علاج چل رہا تھا لیکن باوجود بھرپور علاج کے بھی کوئی خاطر خواہ نتائج ظاہر نا ہو رہے تھے۔۔۔ وہ کچھ کھاتا نا تھا صرف اسے بامشکل کچھ نا کچھ پلایا جاتا تھا۔۔۔۔
مشل دوبارہ امید سے تھی۔۔۔ لیکن وہ اپنی فکر بھلائے ہمہ وقت بیٹے کی طرف متوجہ رہتی۔۔۔ گزشتہ رات یکدم ہی بچے کی طبیعت بہت خراب ہوگئ تھی۔۔۔ ہنگامی صورتحال میں اسے ہسپتال لے کر جایا گیا۔۔۔۔
مشل سے اسکی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔۔۔ ساری رات ہسپتال میں اسکا علاج چلتا رہا تھا۔۔۔ اسے آکسیجن لگا دی گئ تھی کیونکہ اسکا سانس اکھڑنے لگا تھا۔۔۔
ساری رات ہسپتال میں اسکا علاج چلتے رہنے کے باوجود اڑھائی سال تک زندگی کی جنگ لڑتا لڑتا وہ ننھا وجود بلآخر صبح اذانوں کیساتھ ہی زندگی کی جنگ ہار گیا تھا۔۔۔۔
مشل کی چیخوں سے ہسپتال کی در و دیوار لرز گئے تھے۔۔۔۔ بچے کے بے جان وجود کو گھر لے آیا گیا تھا۔۔۔
باوجود کوشیش کے بھی بالاج اس نازک وقت پر وہاں پہنچ نا پایا تھا۔۔۔۔ مزید اسکا انتظار کئے بنا ہی بچے کی تدفین کر دی گئ تھی۔۔۔
تائی اور انکی بیٹیاں گم صم سی تھیں۔۔۔ محض ایک مشل ہی تھی جو سمبھالے نا سمبھالے جا رہی تھی۔۔۔۔
بہت سی عورتیں تو اسے یہی کہہ کر حوصلہ دے رہی تھیں کہ اسے تو شکر گزار ہونا چاہیے کے اللہ نے اس بچے کو اپنے پاس بلا لیا ورنہ ویسے بھی اس بچے کا کوئی مستقبل نا تھا۔۔۔
اسکا دل چاہا کے وہ ان عورتوں کا منہ بند کروا دے وہ کیسے ان باتوں پر صبر کرتی۔۔۔ وہ تو ماں تھی۔۔۔ اسکے لئے تو وہ اسکی پہلی اولاد تھی۔۔۔
*****
بیٹے کی موت کے بعد مشل کی طبیعت اکثر خراب رہنے لگی تھی اور بلآخر اسنے بیٹے کی وفات کے تین ماہ بعد پھر سے ایک خوبصورت سے بیٹے کو جنم دیا تھا۔۔۔
دوسرے بچے نے کافی حد تک اسکا دل بہلا لیا تھا۔۔۔
گھر بھر میں پھر سے خوشی کی لہر دور گئ تھی۔۔۔ ہر طرف میٹھائیاں بانٹی جا رہی تھی۔۔۔ تائی تو پوتے کی بلائیں لیتیں نا تھکتی تھیں۔۔۔۔اس بار شروع سے ہی اس بچے کے لئے دم درودوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔۔۔
پچھلے بچے کی حالت کے پیش نظر اس بچے کو ہر دوسرے دن نئے نئے پیر بابوں کے پاس دم درود کے لئے لے کر جایا جاتا۔۔۔۔۔
انکے مطابق بچے کی صحت و تندرستی کے لئے بڑے بڑے ہدیے دے جاتے۔۔۔۔
آئے دن اسکی نظر اتاری جاتی۔۔۔ بچے کی پیدائش کے تین ماہ بعد ایک سال مکمل ہونے پر بالاج پاکستان آیا تھا ۔۔۔
اولاد کھو کر اس بار اس بیٹے کے لئے وہ بھی بہت پوزیسو ہو گیا تھا۔۔۔۔
وہ زیادہ سے زیادہ وقت بیٹے کے ساتھ گزارتا۔۔۔ مشل اسے گھر اور بچے میں دلچسپی لیتا دیکھ خوش تھی۔۔۔
لیکن اصل قیامت تو تب ٹوٹی جب پانچ ماہ کا ہونے پر اس بچے نے بھی سر سمبھالنا شروع نا کیا۔۔۔
فوری سے ڈاکٹروں سے رجوع کیا گیا۔۔۔
اس بار تو سبھی کی جان سولی پر لٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔ پچھلے بچے کی کندیشن کی بیس پر اس بچے کیساتھ ساتھ بالاج اور مشل کے بھی کئ ایک ٹیسٹ کئے گئے۔۔۔
جسکے بعد بہت سے انکشاف انکے سامنے آئے۔ جو انہیں پوری طرح سے ٹور گئے تھے۔۔۔
یہ بچہ بھی پہلے بچے کی طرح ایک سپیشل چائلڈ تھا۔۔۔۔ نیز ان دونوں کے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی تھی کے انکی کزن میرج ایک کامیاب شادی نہیں تھی۔۔۔ انکے مزید جتنے بھی بچے ہوتے وہ ایسے ہی سپیشل چائلد ہونے تھے۔۔۔ اس لئے ان کے لئے ڈاکٹرز کا مخلصانہ مشورہ یہ ہی تھا کے وہ لوگ مزید اولاد پیدا نا کریں۔۔۔۔
یہ حقیقت تماچوں کی مانند انکے چہروں پر لگی تھی۔۔۔ جسنے تقریباً سبھی کو منہ کے بل زمین بوس کر دیا تھا۔۔۔
اس حقیقت کے کھلتے ہی ہر کوئی خاموش تھا۔۔۔ مہیب سناٹوں میں گرا ہوا۔۔۔
ہر کوئی ایک دوسرے سے نظریں چرا رہا تھآ۔۔۔۔
وقت نے کس بری طرح اپنا پہیہ گھمایا تھا۔۔۔ اوپر والی سطح نیچے آئی تھیں تو چیخیں نکل گئ تھیں۔۔۔
گھر آنے کے بعد بھی بالاج خاموش تھا۔۔۔ مشل اپنی جگہ گم صم تھی۔۔۔ اس خبر کے بعد سے یکدم ہی ہر کسی کی اس ننھے وجود سے دلچسپی جیسے ختم ہو گئ تھی۔۔۔ اس بچے کا وجہ ہونا یا نا ہونا ان سب کے لئے ایک برابر ہو گیا تھا۔۔۔
اس انکشاف کے بعد اتنے عرصے میں پہلی بار بالاج کو اپنی بیٹیوں کی یاد آئی تھی اور بے طرح آئی تھی کہ وہ کرلا اٹھا تھا۔۔۔
بیٹا نا سہی بیٹیاں تو تھی نا۔۔۔ کم از کم وہ صاحب اولاد تو تھا۔۔۔ یہاں تو ایسی بھی کوئی صورت نا تھی۔۔۔
بالاج کے ساتھ ساتھ سبھی گھر والوں کا بھی مشل سے رویہ خاصا کھینچا کھینچا سا رہنے لگا تھا۔۔۔ جیسے اسکی ذات سے بھی ان سب کی دلچسپی ختم ہو گئ ہو۔۔۔۔ وہ ان سب کے رویے بہت شدت سے نوٹ کر رہی تھی۔۔۔
جبکہ بالاج۔۔۔ وہ تو کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔۔۔ کہیں بہت گہرائی میں جا کر۔۔۔۔
******
بالاج میں تمہارا اور تمہارے سبھی گھروالوں کا رویہ بہت اچھے سے نوٹ کر رہی ہوں۔۔۔ کئ دنوں تک سب کا رویہ برداشت کرنے کے بعد بلآخر مشل بالاج کے سامنے پھٹ پڑی تھی۔۔۔۔
وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھا موبائل استعمال کر رہا تھا جب وہ غصے سے بھری کمرے میں آئی۔۔
اچھا تو پھر کیا کروں میں۔۔۔ وہ ماتھے پر تیوریاں سجائے اکھڑے لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
مشل کا صدمے سے برا حال تھا۔۔۔ بس دکھا دی اوقات تم سب گھٹیا لوگوں نے۔۔۔ وہ صدمے کے زیر اثر روہانسی ہوتی گویا ہوئی۔۔۔
گھٹیا میں نہیں تم ہو محترمہ۔۔۔ کسی کا گھر اجاڑ کر یہاں تک پہنچی ہو۔۔۔ اسکے تو آج رنگ ڈھنگ ہی نرالے تھے۔۔۔وہ کوفت سے اٹھتا اسکے مقابل آیا
تمہاری ذات میں مجھے کبھی بھی کوئی دلچسپی نہیں رہی مشل۔۔۔ تم سے شادی کے بعد سے میں ہمہ وقت پشیمان ہی رہا کہ میں نے ہیرے کو چھوڑ کر کوئلے کو اپنا لیا۔۔۔
بالاج کا لہجہ اسقدر تحقیرانہ تھا کہ مشل کو اپنا آپ سلگتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔
غلطی تمہاری نہیں ہے بالاج۔۔۔ اس صلہ کی قسمت اچھی تھی جو وقت رہتے اسکی تم جیسے خود غرض اور مفاد پرست انسان سے جان چھوٹ گئ ۔۔ درحقیقت تم جیسا خود غرض انسان کسی سے وفا بنھا ہی نہیں سکتا۔۔۔۔
صدمے سے اسک جسم کپکپانے لگا تھا۔۔۔ آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے تھے۔۔۔
غلطی میری بھی ہے جو میں دنیا بھلائے ایک بھگورے خود غرض اور مفاد پرست گھٹیا انسان کے پیچھے خوار ہوتی رہی۔۔۔ خود پر ضبط کھوتی اور چیخ اٹھی تھی۔۔۔
چلو شکر تمہیں احساس تو ہوا۔۔۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی ہم بہت اچھے طریقے سے اپنی راہیں جدا کر سکتے ہیں۔۔۔ اس پر تو کسی چیز کا اثر ہی نہیں ہوا تھا۔۔۔ الٹا وہ بہت پرسکون انداز میں سینے پر ہاتھ باندھے گویا ہوا۔۔۔ جیسے وہ یہ سب بالا ہی بالا پہلے ہی طے کئے بیٹھا تھا۔۔۔
مشل نے ضبط سے مٹھیاں بھینچتے سرخ پڑتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔
میں رہوں گی بھی نہیں تمہارے ساتھ۔۔۔ ضبط سے وہ گویا ہوئی جبکہ جسم سوکھے پتے کی مانند کپکپانے لگا تھا۔۔۔ ملا بھی کیا تھا اس شخص کے ساتھ چار سالہ رفاقت میں۔۔۔۔ ان میں تو ایک دوستانہ تعلق تک نا قائم ہو سکا تھا۔۔۔ اسی لئے تو اسے چھوڑ دینا اس شخص کے لئے اتنا آسان تھا۔۔۔
اچھی بات ہے۔۔۔ اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے جانا۔۔۔ ٹھنڈے انداز میں کہتا وہ پلٹا۔۔۔
کیوں۔۔۔ میں کیوں لے کر جاوں۔۔۔ اسکی بے حسی دیکھ وہ چٹخ اٹھی۔۔۔ قائر انسان کسی اولاد کو تو اپنا نام دے دو۔۔۔ تمہیں پرواہ نہیں تو کیا مجھے زیادہ ہے
۔۔۔ بھاڑ میں جاو تم۔۔۔ تمہاری اولاد ہے وہ تمہاری ذمہ داری۔۔۔ میں اسے ہرگز ہرگز نہیں لیکر جاوں گی۔۔۔۔۔ چٹخ کر گویا ہوتے اسکی گردن کی رگیں پھولنے لگی تھیں۔۔۔ جبکہ بالاج نے پہلی مرتبہ اسے غصے سے گھورا۔۔۔
جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے دفعہ ہو جاو۔۔۔ کل تک طلاق نامہ پہنچ جائے گا تمہیں۔۔۔۔
پھنکار کر کہتا وہ کمرے سے تو کیا گھر سے ہی نکل گیا جبکہ مشل وہیں زمین پر بیٹھتی اپنی حرماں نصیبی پر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
*****
بالاج بلا مقصد ہی گاڑی لئے سڑکیں ناپ رہا تھا۔۔۔ دماغ میں طرح طرح کی سوچیں چل رہی تھیں۔۔۔ مشل کو اپنا فیصلہ سنا کر وہ ہلکا پھلکا ہو گیا تھا۔۔۔۔
ہاں یقیناً اب اسکی زندگی میں سب کچھ ٹھیک ہونے والا تھا۔۔۔ وہ صلہ کو واپس اپنی زندگی میں شامل کرنے کا پختہ ارادہ کر چکا تھا۔۔۔
صرف وہی لڑکی اسکی سول میٹ تھی۔۔۔ اسکا سکون صرف صلہ کی ذات سے ہی وابسطہ تھا۔۔۔ ہاں اب سب ٹھیک ہو جاتا۔۔۔
مشال نامی کانٹا انکی زندگی سے نکل چکا تھا۔۔۔ یقینا اب صلہ کو بھی کوئی اعتراض نا ہوتا۔۔۔ وہ فنانشلی بہت سٹرونگ ہو گیا تھا۔۔۔ وہ صلہ اور اپنی بیٹیوں کو ایک اچھی پر آسائش زندگی دے سکتا تھا۔۔۔ اسے بچیوں کو واپس اپنا نام دینا تھا۔۔۔
آج کل وہ اسی معاملے کو فکس کرنے پر لگا ہوا تھا۔۔ وہ مفتی صاحب سے مل کر ساری انفارمیشن بھی لے چکا تھا۔۔۔ اسکا اور صلہ کا دوبارہ ملن کوئی مشکل کام نا تھا۔۔۔
بقول مفتی صاحب کے اگر مرد عورت کو ایک طلاق دیتا ہے تو اگر عدت کے دوران انکی صلح ہو جائے تو رجوع ہو جاتا ہے لیکن اگر عدت کی مدت مکمل ہو جائے اور رجوع نا ہو اور آئندہ زندگی کے کسی مقام پر میاں بیوی کو احساس ہو جائے اور وہ پھر سے ایک ہونا چاہیں تو ایسی صورت میں نئے سرے سے نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کیاا جاسکتا ہے حلالہ کی شرط اس صورت میں نہیں ہے۔۔۔ البتہ آئندہ کے لئے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق رہ جاتا ہے۔۔۔
اور مفتی صاحب کی یہ باتیں سن کر وہ بہت پرسکون ہو گیا تھا۔۔۔ اب بس صلہ سے ایک ملاقات ناگزیر تھی۔۔۔ اسے صلہ کی رہائش کے بارے میں پتہ کرنا تھا۔۔۔۔ اور یقیناً یہ اس کے لئے کوئی مشکل کام نا تھا۔۔۔۔
*****
آپ ٹھیک ہیں مس صلہ۔۔۔ مطلب ریلکیس ہیں نا۔۔۔ نعمان ہوٹل کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرتا اپنے ساتھ فرنٹ سیٹ پر براجماں صلہ سے مستفسر ہوا۔۔۔۔
یس سر۔۔۔۔ وہ اسے دیکھتی سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔ اور نعمان کے گاڑی سے نکلتے ہی اسکی تقلید میں باہر نکلی۔۔۔ باہر سب کچھ روشنیوں میں نہایا ہوا تھا۔۔۔ وہ اسکی ساتھ ساتھ روش پر چلتی انٹرس کی جانب بڑھی۔۔۔۔ وہ نعمان کے ساتھ پہلی مرتبہ یوں باہر کوئی میٹنگ اٹینڈ کرنے آئی تھئ۔۔۔ اس سے پہلے ایسا کوئی اتفاق نا ہوا تھا۔۔۔
یہ اسکا پہلا ایکسپیرینس تھا اور اسکی نیچر کو سمجھتے ہی نعمان اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
انٹرس سے اندر آتے ہی نعمان چکنی ٹائلز لگے فرش پر تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا صلہ بھی اسکے پیچھے ہی تھی جب وہاں سے باہر آتے بالاج کی اس پر نظر پڑی۔۔۔۔ وہ اسے عبایہ اور حجاب میں بھی دور سے ہی پہچان گیا تھا۔۔۔
اسکے لبوں پر ایک جاندار مسکراہٹ ابھری۔۔۔ وہ بھاگ کر اس تک پہنچا۔۔۔
صلہ۔۔۔۔ اسکے بالکل قریب پہنچ کر وہ صلہ کی بازو تھامتا گویا ہوا۔۔۔
آہہہہ۔۔۔ صورتحال غیر متوقع تھی اس لئے صلہ چیخ مارتی بدک کر پیچھے ہٹی۔۔۔
آگے بڑھتا نعمان بھی ٹھٹھک کر پلٹا۔۔۔
سامنے غیر متوقع طور پر بالاج کو دیکھ کر وہ مزید پریشان ہو گئ تھی۔۔۔ دل زور زور سے ڈھرکنے لگا تھا۔۔۔ یہ یوں اچانک سر راہ کہاں سے آ گیا تھا بھلا۔۔۔
ایک پل لگا تھا نعمان کو ساری بات سمجھنے میں۔۔۔ یہ صلہ کا سابقہ شوہر تھا وہ اسے دیکھتے ہی پہچان گیا تھا۔۔۔
صلہ میری بات سنو۔۔۔۔ اسنے صلہ کا ہاتھ تھاما جب وہ بے طرح اسکا ہاتھ جھٹکتی پیچھے ہٹی۔۔۔۔ وہ اچھا خاصا پریشان ہو گئ تھی۔۔۔ اسنے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتے ارد گرد لوگوں کو دیکھا پھر نعمان کو۔۔۔
اسے اپنی ریپوٹیشن بہت عزیز تھی اور اب عزت کے سوا اسکے پاس تھا ہی کیا۔۔۔۔۔ یوں اسے بھلا سر راہ روکنے کا مقصد۔۔۔۔
صلہ بات تو سنو۔۔۔۔ وہ دو قدم مزید اسکی جانب بڑھا۔۔۔۔
دور ہٹو۔۔۔ دور رہ کر بات کرو۔۔۔ اور مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی۔۔ اسکے ہاتھ کپکپانے لگے تھے۔۔ وہ بس یہاں سے آگے چلے جانا چاہتی تھی۔۔۔
صلہ پلیززز میری۔۔۔ اسکی بات ابھی مکمل بھی نا ہوئی تھی جب اسے یوں خوفزدہ دیکھ نعمان آگے بڑھا۔۔۔
پیچھے ہٹو اور اسے تنگ مت کرو ۔۔۔ وہ بالاج کے سینے پر ہاتھ رکھتا اسے مزید آگے بڑھنے سے روکتا غصے سے گویا ہوا۔۔۔۔
تمہیں کیا تکلیف ہے۔۔۔ بیوی ہے وہ میری۔۔۔۔
بالاج کو کہاں پسند آئی تھی اسکی بے وقتی مداخلت۔۔۔ اسنے پوری شدت سے اسکے سینے پر دونوں ہاتھ جماتے اسے زوردار دھکا دیا۔۔۔۔
آہ۔۔ صلہ چیخ کر منہ پر دونوں ہاتھ سختی سے پیوست کرتی دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔
خوف سے اسکا جسم کپکپانے لگا تھا۔۔۔
ارد گرد لوگ متوجہ ہونے لگے تھے۔۔۔۔ اسنے خوفزدہ نگاہوں سے ارد گرد دیکھا۔۔۔ آنکھیں نم ہو اٹھی تھی۔۔۔ وہ کوئی تماشہ افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ جب اسنے نعمان کو چیل کی طرح اس پر جھپٹے دیکھا۔۔۔ اسے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔
بیوی نہیں ہے وہ تمہاری گھٹیا انسان۔۔۔ وہ بالاج کو اسکے گریبان سے جھکڑے پھنکارا۔۔۔
تیری کیا لگتی یے سالے۔۔۔ وہ اسکی مضبوط گرفت میں جھٹپٹایا۔۔۔
مس صلہ اندر جائیں۔۔۔ لوگوں اور انتظامیہ کے وہاں اکھٹے ہونے پر وہ زرا کی زرا گردن ترچھی کرتا آہستہ آواز میں صلہ سے گویا ہوا۔۔۔
جبکہ صلہ وہ تو یہ بات سنتے ہی اپنی کپکپاتی ٹانگوں پر وزن ڈالتی اپنے مطلوبہ میٹنگ ہال کی جانب بھاگی۔۔۔۔
******

No comments