Header Ads

khuab_e_janoon novel 79th episode by Umme Hania


 

khuab_e_janoon novel 79th episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

79the episode...
آفس کا ماحول خاصا گرم تھا۔۔۔۔ نعمان اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھا غضبناک نگاہوں سے صلہ کو دیکھ رہا تھا جبکہ صلہ خاموشی سے لب چباتی نگاہیں جھکائے اپنی ہونے والی متوقع حوصلہ افزائی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔
مس صلہ آپ یہاں پر امان کے ریفرینس سے ہیں۔۔۔ اور اسکی میں بہت عزت کرتا ہوں یہ ہی وجہ ہے کے میں ابھی تک آپکو برداشت کر رہا ہوں۔۔۔۔ وہ سخت لہجے میں کہتا اپنی جگہ سے اٹھتا قدم با قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔
البتہ صلہ کو بیٹھنے کی اجازت اسنے اب بھی نا دی تھی۔۔۔۔
ورنہ آپ جیسے غیر ذمہ دار اور اصول و ضوابط کو ٹورنے والے ورکز کو میں دوسری مرتبہ دیکھنا تک گوارا نہیں کرتا۔۔۔
وہ اسکے مقابل کھڑا پھنکارا تھا۔۔۔
صلہ نے ضبط سے مٹھیاں میچتے خود کو اسکے اتنے سخت الفاظ پر کوئی ردعمل دینے سے روکا۔۔۔۔
مسٹر نعمان۔۔۔ میری کچھ مجبوریاں ہیں۔۔۔ میں ایک سنگل مدر ہوں ۔۔۔ بریک ٹائم میں اپنی بچیوں کو سکول سے گھر ڈراپ کر کے واپس آتے آتے درمیانی فاصلہ زیادہ ہونے کے باعث میں تھوڑی سے لیٹ۔۔۔ مٹھیاں بھینچے وہ خود پر ضبط کرتی تحمل سے گویا ہوئی جب وہ درشتی سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
میں آپکی مجبوریاں سننے میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں مس صلہ۔۔۔
یہاں ہر انسان کی بہت سی مجبوریاں ہوتی ہیں۔۔۔ اس لئے براہ کرم اپنے مسائل اپنے تک محدود رکھیں۔۔۔ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔۔۔  مجھے صرف اپنے کام سے غرض ہے۔۔۔ وہ ناک سے مکھی اڑاتے بیزاریت سے گویا یوا۔۔۔
یو ایڈیٹ۔۔۔ وہ دل ہی دل تلملائی۔۔۔ دل چاہا کونے میں پڑا واس اٹھا کر اس کھڑوس انسان کے سر پر دے مارے۔۔۔۔
گڈ۔۔۔ کام سے غرض ہے نا آپکو سر ۔۔۔ تو کائنڈلی میرا کام دیکھیں۔۔۔ اس میں اگر کوئی کمی بیشی ہے تو بتائیے۔۔۔ وہ پھر سے غصہ پیتی لہیمی سے گویا ہوئی۔۔۔
اور اگر آپ میرے ساتھ تھوڑا سا تعاون کر سکتے ہیں تو کائنڈلی چار دن۔۔۔ وہ رکی۔۔۔ اور گہرا سانس خارج کرتی پھر سے گویا ہوئی۔۔۔
صرف چار دنوں کے لئے مجھے تھوڑی سی رعایت دے دیں۔۔۔ چار دن بعد امان بھائی اور عفرا عمرے سے واپس آ جائیں گے۔۔۔۔۔ پھر میری بیٹیوں کی سکول سے پک کرنے کی ذمہ داری عفرا کی ہوتی ہے ۔۔۔ صرف اسکی غیر موجودگی میں اتنی سی ڈسٹربنگ ہو رہی ہے کے میں باوجود بھرپور کوشیش کے بھی وقت پر آفس نہیں پہنچ پا رہی۔۔۔
چار دنوں کے بعد آپکو اس حوالے سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔۔۔ اس دوران بھی آپ مجھے میرے کام سے سو فیصد مخلص پائیں گئے۔۔۔ صرف چار دن۔۔۔ پلیز۔۔۔
پلکیں جھپکتی وہ ملتجانہ انداز میں گویا ہوئی۔۔۔۔
جبکہ نعمان میز کے کنارے سے ٹیک لگائے پاوں قینچی کی مانند بنائے سینے پر ہاتھ باندھے سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ جو اپنی بات مکمل کر کے زمین کو گھورتی اسکے جواب کی منتظر تھی۔۔۔
یاد رکھیے گا کے میں کام کے معاملے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔ وہ سیدھا ہوتا واپس اپنی سیٹ کی جانب بڑھا۔۔۔
You may go now...
  اپنی نشست سمبھالتا وہ مغرورانہ انداز میں گویا ہوا تو صلہ ایک غصیلی نگاہ اس پر ڈالتی آفس سے نکل گئ۔۔۔۔
******
   امان کے گھر پر خاصی رونق لگی تھی۔۔۔۔ کل رات ہی وہ عمرہ کر کے واپس پاکستان پہنچے تھے اور شام میں سب وہاں ڈنر کے لئے اکھٹے تھے۔۔۔
لاوئنج میں نینا اور عینا امان کے دائیں بائیں بیٹھیں خوشی سے ٹمٹماتے چہروں کیساتھ امان کی جانب سے موصول ہونے والے گفٹ دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
انکے بالکل سامنے ماں نم آنکھوں  سے نواسے کو گلے سے لگائے اس میں بیٹی کی خوشبو تلاش کر رہی تھیں جبکہ نعمان پاس ہی سنگل صوفے پر سر جھکائے بیٹھا تھا۔۔۔ جبکہ صلہ عفرا کے ساتھ ہی کچن میں موجود تھی۔۔۔
شکر ہے تم دونوں نے شکل تو دکھائی ورنہ مجھے تو لگا تھا کہ تم دونوں باپ بیٹے کا تعلق صرف منیبہ سے ہی تھا اور اب میں تم دونوں کی صورت تک دیکھنے سے محروم رہوں گی۔۔۔ترس جاوں گی تم دونوں کو دیکھنے کے لئے۔۔۔۔
ماں گلوگیر سی بار بار مغیث کا چہرا چومتی کبھی اسے سینے سے لگاتیں نعمان کو خفا خفا سی نظروں سے دیکھتیں گویا ہوئیں۔۔۔
جبکہ امان زیر لب مسکراتا اسکی ماں کے ہاتھوں  درگت بنتے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ایسی بات ہرگز نہیں ہے ممانی۔۔۔ منیبہ سے پہلے میرا آپ سے رشتہ ہے۔۔۔ آپ ماں ہیں میری۔۔۔ 
بس کچھ کام تھا وہاں جسکی بدولت میں پہلے واپس نہیں آ سکا۔۔۔ مگر جیسے ہی سب سیٹ ہوا میں فوراً چلا آیا آپکے پاس۔۔۔
آپکے سوا اور ہے ہی کون ہمارا۔۔۔ پلیز آپ یوں کہہ کر شرمندہ نا کریں۔۔۔ وہ انہیں دیکھتا لجاہت سے گویا ہوا۔۔۔
چھوڑیں نا ماں۔۔۔ دیر آئے درست آئے۔۔۔ آ تو گیا نا واپس۔۔۔ اب ہم اسے جانے نہیں دیں گئے۔۔۔ بلاخر امان اسکا احساس کرتا گویا ہوا۔۔۔
عفرا کے ڈنر کے لئے بلانے پر سب ڈائینینگ ٹیبل کی جانب بڑھے۔۔۔
کھانا بہت خوشگوار ماحول میں کھایا گیا تھا۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد وہ وہیں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔ امان اور نعمان کسی بزنس سٹریٹیجی پر محو گفتگو تھے۔۔۔ جبکہ صلہ خالہ اور عفرا سے وہاں کے سفر کے بارے میں ہوچھ رہی تھی۔۔۔
وہ سب آپس میں اتنے محو تِھے کہ اچانک مغیث کے چلانے پر سب اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
انکی طرف دیکھتے ہی ایک لمحے میں صلہ کو سارا معاملہ سمجھ آ گیا تھا۔۔۔
تینوں بچے لاوئنج میں کھیل رہے تھے جبکہ اب مغیث چلاتے ہوئے خونخوار نگاہوں سے عینا اور نینا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ نینا تو گم صم سی سہمی کھڑی تھی جبکہ عینا ویسے ہی غصے سے مغیث کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ نینا جتنی بھولی اور خاموش طبیعت تھی عینا اتنی ہی شرارتی تھی۔۔۔
ایک لمحہ لگا تھا صلہ کو یہ جاننے میں کے عینا نے کھلیتے کھیلتے کسی بات پر بگڑ کر مغیث کو دھکا دیا ہے۔۔۔
نعمان بہت غصے سے وہاں سے اٹھ کر بچوں کی طرف بڑھا۔۔۔ جب صلہ چیل کی تیزی سے وہاں جاتی بچیوں کو اپنے پیچھے چھپا چکی تھی۔۔۔۔
وہ نعماں کی اپنے بیٹے کے لئے حساس طبیعت سے باخوبی واقف تھی۔۔۔ آفس میں بھی ایسے واقعات ہو چکے تھے جسکے بعد سب ورکز بلخصوص  مغیث کےمعاملے میں محتاط ہو گئے تھے۔۔۔
ارے کیا ہو گیا بیٹا۔۔۔ معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے امان عفرا اور خالہ بھی وہیں آگئے جب امان مغیث کو اپنی جانب متوجہ کرتا گویا ہوا۔۔۔
ماموں اس بدتمیز نے مجھے دھکا دیا ہے۔۔۔ مغیث غصےسے عینا کی جانب اشارہ کرتے چلایا۔۔۔
بدتمیز ہو گئے تم خود۔۔۔ صلہ کے پکڑے پکڑے ہی عینا زور سے چیخی۔۔۔ جب صلہ نے اسکے منہ پر سختی سے ہاتھ جماتے کن اکھیوں سے نعمان کے لال بھبھوکا ہوتے چہرے کو دیکھا۔۔۔۔ جو ناجانے کس طرح ضبط کئے کھڑا تھا۔۔۔
بری بات بیٹا۔۔۔ یوں نہیں بولتے۔۔۔ صلہ نے عینا کو سختی سے ٹوکا۔۔۔
ارے کوئی بات نہیں شیر۔۔۔
یہ میرا شیر بہادر بیٹا ہے۔۔۔ اور شیروں کو ایسے دھکوں سے فرق نہیں پڑتا۔۔۔ امان نے مغیث کی پیٹھ تھپتھپاتے اسے اپنے ساتھ لگا کر معاملے کی سنگینی ختم کرنی چاہیے۔۔۔
میرے خیال سے ہمیں چلنا چاہیے۔۔  نعمان ضبط کئے گویا ہوا۔۔۔
ارے ایسے کیسے۔۔۔ آج رات تم یہیں رکنے والے ہو۔۔۔ امان فوراً گویا ہوا۔۔۔
کافی دیر ہوگئ ہے امان بھائی۔۔ میں چلتی ہوں ۔۔۔ نہیں تو پھر یہ دونوں صبح سکول کے لئے نہیں اٹھیں گی۔۔۔ صلہ بعجلت گویا ہوئی۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ نعمان اسکی اور بچیوں کی موجودگی کے باعث وہاں سے جا رہا ہے۔۔۔۔
اسی لئے وہ وہاں سے چلی جانا چاہتی تھی کہ بات مزید نا بڑھے۔۔۔ ویسے بھی ابھی گھر میں اسکے بہت سے کام پینڈنگ پڑے تھے۔۔۔
چلو پھر تمہیں میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔۔۔ امان کچھ دیر اسے دیکھتے رہنے کے بعد گویا ہوا  اور گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکل گیا جبکہ صلہ نے بھی اسکی پیروی کی۔۔۔۔
****
ڈنر کے بعد وہاں چائے کا دور چل رہا تھا۔۔۔ امان صلہ کو اسکے گھر ڈرپ کر کے واپس آ گیا تھا۔۔۔ جبکہ سب ماں کے کمرے میں بیٹھے تھے۔۔۔
بیٹا تم نے اب آگے اپنے متعلق کیا سوچا ہے۔۔۔ ٹھیک ہے کہ منیبہ میری بیٹی تھی۔۔۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں۔۔۔ اور مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا۔۔۔
اس لئے میں چاہتی ہوں کے تم شادی کر لو۔۔۔ مغیث کو بھی ماں کی ضرورت ہے۔۔۔
ماں نعمان کو دیکھتی دلگرفتی سے گویا ہوئیں جب وہ بے ساختہ بول اٹھا۔۔۔
ممانی میرا بیٹا بڑا ہو چکا ہے اسے ماں کی ضرورت نہیں اور نا ہی مجھے بیوی کی ضرورت ہے۔۔۔
ہم دونوں ہی ایک دوسرے کا کل سرمایہ ہیں۔ مغیث میری کل کائنات ہے اور میں اسکی۔۔۔ ہمیں کسی تیسرے کی ضرورت نہیں۔۔۔
وہ دو ٹوک انداز میں گویا ہوا۔۔۔۔
لیکن بیٹا یوں زندگی نہیں گزرتی۔۔۔
پلیز ممانی۔۔ میں اس ٹاپک پر مزید بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ یہ ٹاپک مجھے پیچھے کہیں ماضی میں لا پٹختا ہے تو پلیز۔۔ نعمان کے بے زار محر ملتجی انداز میں کہنے پر بے ساختہ امان بول اٹھا۔۔۔
ماں چھوڑے نا ۔۔۔ یہ سب باتیں تو چلتی ہی رہیں گئ۔۔۔
اسکے بات بدلنے پر ماں انہیں دیکھتی ہی رہ گئ۔۔۔
******
اس دن کے بعد سے صلہ نے نعمان کو کام کے سلسلے میں شکایت کا کوئی موقع نا دیا تھا۔۔۔ وہ مکمل یکسوئی سے اپنا کام کرتی۔۔۔ ابتدائی وقت میں دیر ہونے کے بعد عفرا کے واپس آ جانے کے بعد سے نعمان کو اس سے یہ شکایت بھی نا رہی تھی۔۔۔
وہ لیپ ٹاپ کی سکرین پر ہمہ وقت اپنے آفس کو مانیٹر کرتا خواہ وہ آفس میں ہوتا یا نا۔۔۔ اور یہ بات اسنے شدت سے نوٹ کی تھی کہ جہاں اسکے باقی کا سٹاف اسکے آفس سے نکلتے ہی ریلیکس ہو کر گپے ہانکتے اور وقت ضائع کرتے کام کرتا وہیں صلہ کو اسکے آفس میں ہونے یا نا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔۔ وہ ہمہ وقت اپنا کام مکمل یکسوئی سے کرتی۔۔۔
وہ کئ پراجکٹس پر نعمان کے ساتھ کام کر چکی تھی اور اسنے کسی جگہ پر بھی اسے مایوس نہیں کیا تھا۔۔۔
وہ کئ کئ گھنٹے نعمان کے آفس میں بیٹھی اسکی بریفنگ سن کر نوٹس تیار کرتی لیکن اس دوران بھی اسکا سارا فوکس اپنے کام پر ہوتا۔۔۔
ہاں وہ ہر کچھ دیر بعد گھر فون کر کے بچوں کے بارے میں پتہ ضرور کرتی۔۔۔ 
آفس ٹائم ختم ہوتے ہی اسے گھر جانے کی جلدی ہوتی۔۔۔۔ باقی جتنا بھی کام بچتا وہ آفس ٹائم ختم ہونے کے بعد ایک پل کے لئے بھی آفس میں نا ٹکتی۔۔۔ لیکن گھر جا کر وہ کام مکمل کر کے اسے میل کر دیتی۔۔۔۔
اسے اپنے کام کے ساتھ مخلص دیکھ کر نعمان بھی اسکے ساتھ تعاون کرنے لگا تھا۔۔
وہ نا خود کسی سے فری ہوتی اور نا کسی کو خود سے بلاوجہ فری ہونے کی اجازت دیتی۔۔۔
نعمان کے ساتھ بھی وہ صرف ضرورت کے وقت ہی مخاطب  ہوتی۔۔۔
نعمان کے سامنے پہلی ملاقات میں بنا اسکے لاپرواہ ہونے کا امیج ختم ہو گیا تھا۔۔۔ اور یہ ہی کچھ حالات صلہ کے بھی تھے۔۔۔ اسکے سامنے جو نعمان کا ایک سخت گیر اور کھڑوس باس کا امیج بنا تھا اسکا اثر بھی کہیں زائل ہو گیا تھا۔۔۔ اسے نعمان کیساتھ کام کرتے چھ ماہ سے زائد کا عرصہ ہوگیا تھا اور اسنے جانا تھا کے  وہ کھڑوس اور سخت مزاج باس تھا مگر صرف ان ورکز کے لئے جو اپنے کام کے دوران ڈنڈی مارتے تھے۔۔۔۔ 
ڈیڑھ سال تک صلہ نے سائیکولوجی کو پڑھتے اس پر ریسرچ کرتے اور مختلف ڈپلومے حاصل کر کے اپنا یوٹیوب چینل بنایا تھا اور اسکے ساتھ ہی شام میں اسنے اپنے ہی گھر کے ڈرائینگ روم میں اپنا چھوٹا سا پرائیویٹ کلینک کھول لیا تھا۔۔۔ چونکہ یہ اسکے کیریئر کی شروات تھئ اور اسکا ابھی کوئی اتنا نام بھی نا تھا تو اسنے اپنی کنسلٹنٹ فیس بہت کم رکھی تھی۔۔۔ تقریباً نا ہونے کے برابر۔۔۔
چند ایک پیشنٹ اسکے پاس آنے لگے تھے جن کی کہانیاں سن کر اور انہیں گائیڈ کرکے وہ کچھ اور کما رہی تھی یا نہیں لیکن اسکا ایکسپیرینس بہت بڑھ رہا تھا۔۔۔۔
یوٹیوب پر بھی اتنی محنت کے بعد اسکے محض چند سو ویوز ہوتے۔۔۔ لیکن جو اسکی ویڈیوز دیکھتے وہ اسے پسند بہت کرتے۔۔۔ اور انکے فیڈ بیک کے صلہ کی کاوشوں سے انہیں اپنے ٹراماز سے نکلنے میں بہت مدد ملتی ہے۔۔۔ یہ فیڈ بیک ہی اسکا کل اثاثہ تھے۔۔۔  صرف یہ فیڈ بیک ہی اسکی موٹیویشن تھے کہ اسکے باعث کسی کی زندگی میں کوئی آسانی پیدا ہو رہی ہے انکی زندگیوں میں کوئی ویلیو ایڈ ہو رہی ہے۔۔۔ 
صرف یہ فیڈ بیک ہی تھے جو اسے بنا کسی مفاد کے مسلسل کام کرنے پر اکساتے تھے۔۔۔۔۔
زندگی کا ایک مقصد مل گیا تھا اسے۔۔۔ اسنے اس مختصر سے عرصہ میں لوگوں کی حقیقی  اتنی کہانیاں سن لی تھیں۔۔ یہ دنیا اسقدر بے رحم تھی کے اسے اپنے ساتھ ہوئی زیادتیاں چھوٹی لگنے لگتی۔۔۔
بالاج اور اسکے گھر والوں کی تلخ یادوں اور اس ستم گر کی بے وفائی کے جوگ سے وہ کب کی نکل چکی تھی۔۔۔ وہ زندگی میں اپنے مقصد حیات کے ساتھ اسقدر آگے آ چکی تھی کہ بالاج اور اس سے وابسطہ رشتے کہیں پیچھے رہ گئے تھے کہیں بہت پیچھے۔۔۔ حالات و واقعات کے گرد تلے دبے ہوئے۔۔۔
اب تو اسے اسکی یاد بھی نا آتی۔۔۔ اب تو وہ اس سے متعلق کوئی خبر سن کر بھی اپنے اندر کوئی ارتعاش پیدا ہوتا محسوس نا کرتی۔۔۔
وہ اس شخص کو ماضی کا حصہ سمجھ کر کہیں دفن کر چکی تھی۔۔۔
ہاں کبھی کبھار وہ دن رات محنت کرتے کرتے تھک جاتی۔۔۔ اور کبھی بے طرح تھک جاتی۔۔۔ اسکا شیڈیول بھی تو بہت ٹف تھا۔۔۔ صبح سے شام بس محنت ہی محنت۔۔۔
سنگل مدر۔۔ ہاوس وائف۔۔۔ گھر اور بچیاں۔۔۔ آفس۔۔۔۔ بچیوں کو پڑھانا۔۔۔ کلینک کو وقت دینا۔۔۔ اپنا ریسرچ ورک۔۔۔ یوٹیوب کے لئے ویڈیوز بنانا۔۔۔۔ اور اگلے دن اپنی آفس کی اور بچیوں کی سکول کی تیاری کر کے سونا۔۔۔۔ ان سب میں سے سب سے زیادہ مشکل ترین کام اسے ویڈیو بنانا لگتا۔۔۔۔ جس کام کو وہ آج تک آسان ترین کام مانتی آئی تھی وہی کام سب سے مشکل تھا۔۔۔
سب سے پہلے ایک ٹاپک تیار کر کے اس پر سکرپٹ لکھنا۔۔۔ پھر اس سکرپٹ کو کاٹ کاٹ کر مختصر کرنا کے لوگ اس چیز کو سنتے بور نا ہوں۔۔۔
پھر اس کی ویڈیو ریکارڈ کرنی۔۔۔ اسے ایڈیٹ کرنا اور اسکے لئے سب سے مشکل ترین کام ڈسکرپش لکھنا اور ٹیگز لگانا تھا جو اسکا سب سے زیادہ ٹائم لیتے۔۔۔
جب وہ اپنی روٹین سے فیڈ آپ ہونے لگتی تو پھر سے بیٹیوں کے معصوم چہرے دیکھتی ہمت پکڑتی۔۔۔۔
اسکی ماں اسکے لئے ایک گھنا سایہ دار شجر ثانت ہوئی تھی۔۔۔ جسنے اسے رلنے نہیں دیا تھا۔۔۔ وہ اسکی ڈھال بنی تھیں۔۔۔۔۔ ایسا ہی سایہ دار شجر اسے بھی اپنی بیٹیوں کے لئے بننا تھا ۔۔۔ ایسی ہی ڈھال وہ بھی بننا چاہتی تھی۔۔۔۔
باپ تو انکا بے حس تھا پر ماں تو  تھی نا۔۔۔۔  تبھی اسکے موبائل کی ٹیون بجی۔۔۔۔
میسج پڑھتے ہی وہ بیزاری سے اسے ڈیلیٹ کر گئ۔۔۔ یہ تماشائی رشتے دار بھی کسی کو خوش نہیں رہنے دیتے۔۔۔۔
بالاج پھر سے پاکستان آیا تھا جسکی انفارمیشن اسے دی جارہی تھی۔۔۔ پتہ نہیں کیسے لوگ تھے وہ۔۔۔ اسے زندگی میں آگے بڑھتا دیکھتے تو ہمدری کی چادر میں لپیٹ کر ترس کھاتے کے بہت برا ہوا تمہاری طاق ہوگئ ۔۔  بھری جوانی اور یہ روگ وغیرہ وغیرہ۔۔۔
بالخصوص بالاج اور اس سے وابسطہ چیزوں کو بڑھا چڑھا کر اسکے سامنے پیش کرتے۔۔۔
اگر وہ کبھی کہہ دیتی کے اسے فرق نہیں پڑتا۔۔ تو دل کو بہلانے کو یہ خیال اچھا ہے غالب کے مصداق اس سے ہمدریاں دکھائی جاتی کے وہ اسکا درد سمجھ سکتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔
اور صلہ وہ ایسے ٹاکسک رشتے داروں سے کوسوں دور رہتی۔۔۔ اب تو وہ انسانی نفسیات بہت اچھے سے سمجھنے لگی تھی اور انکا مینٹیلٹی لیول سمجھتی وہ سر جھٹک جاتی۔۔۔ جیسے ابھی جھٹک چکی تھی۔۔۔
****،"
 

No comments

Powered by Blogger.
4