Header Ads

khuab_e_janoon novel 78th episode by Umme Hania۔


 

khuab_e_janoon novel 78th episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

78th episode
لاوئنج میں اتنے لوگوں کی موجودگی کے باوجود بھی خاموشی کا راج تھا۔۔۔۔  بچے کے بارے میں انکشاف اسقدر لرزا خیر تھا کے اسنے سب کی بولنے کی صلاحیت ہی مفلوج کر دی تھی۔۔۔ 
سب خاموش بیٹھے اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے۔۔۔ بیٹے کے وجود کو دیکھتے بالاج کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں تھیں۔۔۔۔  یہ کیسی آزمائش آن پڑی تھی۔۔۔۔
مشل کا الگ رو رو کر برا حال تھا۔۔۔۔ تائی اپنی جگہ گم صم تھی۔۔۔
ماں میری پرسوں واپسی کی فلائٹ ہے۔۔۔ اس خاموشی کو بالاج کی سنجیدہ آواز نے توڑا تھا۔۔۔
تائی کیساتھ ساتھ مشل نے بھی حیرت و بے یقینی سے اسے دیکھا۔۔
یہ تم کیا بول رہے ہو بالاج ۔۔۔ تم واپس جا رہے ہو۔۔۔ ایسا کیسے کر سکتے ہو تم۔۔۔
ہمارا بیٹا بیمار ہے۔۔۔ اسے ہم دونوں کی ضرورت ہے ۔۔۔ تم ایسے کیسے جا سکتے ہو۔۔۔
مشل بہتی آنکھوں سمیٹ چٹختی ہوئی گویا ہوئی۔۔۔
جانتا ہوں کہ ہمارا بیٹا بیمار ہے۔۔۔ اسکا اعلاج چل رہا ہے اور ڈاکٹرز نے بھی امید دلائی ہے کہ یہ ٹھیک ہو جائے گا۔۔ لیکن میں جانتا ہوں ایسے نوے فیصد کیسز میں بھرپور علاج کے باوجود بھی بچے ٹھیک نہیں ہوتے۔۔۔ وہ متانت سے بول رہا تھا جب بولتے بولتے اسی آواز بھاری ہونے لگی۔۔۔
لیکن میں ایسا کچھ سوچنا نہیں چاہتا۔۔۔ میں اپنے بیٹے کے لئے پرامید ہوں انشااللہ وہ ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ 
اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر تم لوگ یہاں عیش کی زندگی گزار رہے ہو یا یہاں آپ سب کے اللے تللے پورے ہو رہے ہیں تو وجہ یہاں پر باہر سے آتے ڈالز ہی ہیں۔۔۔
جس قدر مہنگا ہمارے بیٹے کا علاج ہے نا وہ بھی اسی صورت ممکن ہو پائے گا اگر میں واپس جا کر اپنا چارج سمبھالتا ہوں۔۔۔ اس لئے مضروضوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت شناس بن کر سوچو اور مجھے واپس جانے دو۔۔۔ کیونکہ میں پہلے ہی بہت زیادہ چھٹی منظور کروا چکا ہوں اس سے زیادہ نہیں رک سکتا۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتا ٹھہرے ہوئے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔ بیٹے کی حقیقت نے اسے بری طرح توڑا تھا۔۔۔
وہاں جا کر تم ہم سب کو پھر سے فراموش کر ڈالو گے۔۔۔ مشل اسکی باتیں سن کر سسکی۔۔۔ اتنی مشکل سے تو لگا تھا جیسے زندگی میں سب ٹھیک ہو رہا ہو۔۔۔ پھر سے ایک نئ آزمائش۔۔۔۔۔
پہلے بتاو پھر واپس کب آو گئے۔۔۔۔ وہ بے بسی کی حدودوں کو چھو رہی تھی۔۔۔ کچھ سوجھ نہیں رہا تھا کہ کیا کرے کیا نا کرے۔۔۔۔ 
میں ہر سال چکر لگاوں گا مشل لیکن میرا جانا ضروری ہے۔۔ اس لئے اسے سلا کر میری پیکنگ کر دینا۔۔۔ وہ خاموشی سے لیٹے بیٹے کی جانب اشارہ کرتا گویا ہوا۔۔۔ اور اٹھ کر اپنے کمرے میں آگیا۔۔۔
****
عفرا عمرے پر جانے کے لئے بہت پرجوش تھی۔۔۔ وہ بہت دل سے اپنی تیاریاں کر رہی تھی۔۔۔ بارہا انٹرنیٹ سے وہ وہاں کے متعلق ایک ایک چیز کی سرچ کر چکی تھی۔۔۔ آج شام کی انکی فلائیٹ تھی۔۔۔ صلہ اور بچیوں سے مل کر وہ تینوں ایئر پورٹ کے لئے نکلے۔۔۔ عفرا اور ماں کا یہ پہلا انٹرنیشنل سفر تھا اس لئے وہ ہر چیز کو انجوائے کر رہی تھی۔۔۔
وہاں پر جہاز کے لینڈ کرتے ہی وہ لوگ ٹیکسی کروا کر اپنے مطلوبہ ہوٹل پہنچے ۔۔۔ ہوٹل پہلے سے ہی منتخب تھا۔۔۔ وہاں پہنچ کر فریش ہوتے ہی انہوں نے کھانا کھایا اور ساتھ ہی  احرام باندھ کر طواف کرنے کے لئے نکل پڑے۔۔۔ 
عفرا کا دل زور زور سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔ اس نے سن رکھا تھا  کے خانہ کعبہ کو دیکھتے ہی جو دعا مانگو وہ قبول ہوتی ہے۔۔۔ اور اسکا ماننا تھا کہ ممکن ہی نہیں اس پاک زمیں پر اپنے رب سے کچھ مانگا جائے اور وہ قبول نا ہو۔۔۔
اٹھتے ہر قدم کیساتھ ہی وہ مزید بے قرار ہو رہی تھی کے اس حدود میں داخل ہوتے ہی تاحد نگاہ پہلی نظر پڑتے ہی وہ اپنے رب کے حضور دعا گو ہو۔۔۔ وہ ابھی تک بے یقین تھی کے وہ اس مقدس جگہ پر پہنچ چکی ہے۔۔۔
بلآخر اسکا انتظار ختم ہوا اور دور سے ہی اپنی نگاہوں کے سامنے وہ خوبصورت منظر دیکھتے اسکی دھرکنیں بے ترتیب ہونے لگیں۔۔۔ دل میں جذبوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ابھرا تھا۔۔۔ جسکے باعث آنکھوں سے جھڑنا بہہ نکلا تھا ۔۔
اے میرے اللہ اس پاک زمین پر مانگی گئ میری ہر دعا میری ہر التجا کو اپنی بارگاہ الہی میں قبولیت کا شرف عطا فرمانا۔۔۔۔ وہ فوری طور پر دل کی گہرائئؤن سے  دعا گو ہوئی۔۔۔
بہتی آنکھوں سمیت ہی اسنے وہاں اپنے طواف مکمل کئے ۔۔۔ وہاں ایک ایک چیز کو دبدبائی نگاہوں سے دیکھتی وہ یوں ٹوٹ ٹوٹ کر بکھری تھی کے اپنے رب سے سبھی دعائیں قبول کروا کر ہی جائے گئ۔۔۔
دل دکھی ہو تو فریادیں خودبخود نکلتی ہیں۔۔۔ وہ یہاں دل کا سکون حاصل کرنے آئی تھی۔۔۔ امان نے اسکی دعاوں کی شدت دیکھتے اسے چھیرنا مناسب ہی نا سمجھا ۔۔۔ یہ اسکا اور اسکے رب کا معاملہ تھا۔۔۔
وہاں حرم شریف میں بیٹھ کر اور مسجد نبوی میں نمازیں ادا کرتے وہ گھنٹوں اپنے رب کے حضور سربسجود رہتی اس سے راز و نیاز میں مشغول رہتی۔۔۔۔ یہاں آ کر جیسے وہ دنیا بھول گئ تھی۔۔۔
****
عفرا کے عمرہ کے لئے چلے جانے کے باعث صلہ کی ذمہ داریاں خاصی بڑھ گئ تھیں۔۔۔ پہلے تو وہ بے فکر ہو کر جاب کرتی تھی۔۔۔  بچیوں کو سکول سے عفرا لے جاتی اور اسکے آفس سے آنے تک وہ دونوں عفرا کے ساتھ ہی رہتیں۔۔۔ لیکن اب یکدم ہی یہ ذمہ داری بھی اسی پر آن پڑی تھی۔۔۔
اور آفس کے بریک ٹائم میں بچیوں کو رسیو کرنا اور واپس آفس پہنچنا اسکے لئے خاصا مشکل ہو جاتا
۔۔۔ ابھی یہ شکر تھا کہ عفرا اپنی ایک ملازمہ کی ڈیوٹی لگا کر گئ تھی کے بچوں کے سکول ٹائم کے بعد سے صلہ کے واپس گھر آنے تک وہ بچیوں کے پاس رہتی۔۔۔۔ لیکن اس بیچ بچیوں کو واپس گھر لا کر انہیں لنچ کرواتے کرواتے واپس وقت پر آفس پہنچنے کی ہربونگ میں بعض اوقات وہ خود بھوکی رہ جاتی۔۔۔
اب بھی آفس سے واپسی پر وہ اچھا خاصا تھک گئ تھی۔۔۔ کچھ موسم کی تبدیلی کے باعث اسے اپنی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔۔ سر بھاری بھاری سا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
کھینچ تان کر اپنے روزمرہ کے کام نبٹا کر وہ دوائی کھا کر سونے کے لئے بستر پر لیٹی تو صبح دیر سے اسکی آنکھ کھلی۔۔۔۔  آنکھ کھلتے ہی وہ ہڑبڑا کر اٹھی۔۔۔
اتنی دیر سے اسکی آنکھ کھلی تھی جلدی جلدی کرتے بھی اسکے کئ کام رہ جاتے۔۔۔
جلدی جلدی وہ ناشتہ بنا کر بچیوں کو اٹھاتی انہیں تیار کرنے لگی۔۔۔ آفس کا وقت ہونے میں بھی کچھ ہی ٹائم تھا۔۔۔
ایک تو ستم کے بچیوں کو چھٹی بھی نہیں کروا سکتی تھی کہ پیچھے انہیں چھوڑتی کس کے پاس۔۔۔ عفرا ہوتی تو اتنی مشکل نا ہوتی۔۔۔ اور انہیں تیار کر کے ناشتہ کرواتے کرواتے یقیناً وہ خود لیٹ ہو جاتی۔۔۔
اور اصل پریشانی کی وجہ بھی تو یہ ہی تھی کہ آج اسکی کمپنی کا اصل باس واپس آنے والا تھا ۔۔۔
جسکے بارے میں پہلے ہی وہ بہت سی افواہیں سن چکی تھی کے ایک نمبر کا کھڑوس اور سڑیل قسم کا باس ہے وہ۔۔۔ جو کام کے معاملے میں زرا سی کوتاہی برداشت نہیں کرتا۔۔۔
جسکی زبان شعلے اگلتی ہے۔۔۔ غلطی کی نشاندہی کرواتے وقت وہ یہ تک نہیں دیکھتا کے سامنے صنف نازک ہے۔۔۔
اور کل ہی مرزا صاحب نے اسے بالخصوص بریفنگ دی تھی کے وہ کوشیش کرے کے کام کے حوالے سے باس کو کسی قسم کی کوئی شکایت نا ہو۔۔۔ ورنہ اسکا باس کے ساتھ کام کر پانا مشکل ہو جائے گا۔۔۔
اور اب بچوں کو تیار کروانے کے بعد خود تیار ہوتے مسلسل اسکا دل گھبرا رہا تھا کے کسی طرح وہ وقت پر آفس پہنچ جائے۔۔۔۔
  بچیوں کو بعجلت انکے سکول چھوڑ کر  جلدی جلدی میں آفس آتے آتے بھی وہ پورے پندرہ منٹ لیٹ تھی۔۔۔
*****
وہ ایک گہری سانس بھرتی خود کو کمپوز کئے آفس میں داخل ہوئی۔۔۔
آفس میں ہر جانب ہو کا عالم تھا۔۔۔ سبھی ورکز ہر چیز نظر انداز کئے خاموشی سے اپنے کاموں پر سر جھکائے مصروف تھے یا خود کو مصروف ظاہر کر رہے تھے۔۔۔۔ اتنا ڈسپلن اسنے اس جگہ پر آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔ وہ معتجب ہوئی۔
فزا تم۔۔۔۔ 
ششش۔۔۔۔ وہ اپنی ایک کولیگ کے کیبن میں جھکی اس سے مخاطب ہوئی جب وہ لیپ ٹاپ پر سر جھکائے ہی سرگوشی میں اسے چپ کرواتی گویا ہوئی۔۔۔
باس آفس آ چکے ہیں اور اپنے لیپ ٹاپ کی سکرین پہ ہم سب کو مانیٹر کر رہے ہیں۔۔۔ خاموشی سے اپنی سیٹ پر جاو ۔۔۔ تم پہلے ہی لیٹ ہو۔۔۔۔
فزا نے لیپ ٹاپ سے سر تک نہیں اٹھایا تھا۔۔۔
صلہ لب چباتی تھکے تھکے قدم اٹھاتی اپنے کیبن کی جانب بڑھی۔۔۔ یہ باس ابھی تک اسکے متعلق پھیلی افواہوں سے زیادہ سخت مزاج لگ رہا تھا۔۔۔ 
ابھی وہ اپنی کرسی پر بیٹھی ہی تھی کے اسکا انٹر کام بج اٹھا۔۔۔
مس صلہ آپکو سر اپنے آفس میں بلا رہے ہیں۔۔۔ 
فون اٹھاتے ہی گویا اسکے کانوں میں صور پھونک دیا گیا ہو۔۔۔ 
باس کے آفسں آنے کے پہلے ہی دن صلہ کے آفس آتے ہی بلخصوص لیٹ آتے ہی۔۔۔۔اسکا بلاوا آ جانا یقیناً کوئی خوش آئندہ بات نا تھی۔۔۔
وہ خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی کسلمندی سے کرسی سے اٹھی۔۔۔ طبیعت پھر سے بوجھل بوجھل سی ہونے لگی تھی۔۔۔
خود کو گھسیٹی وہ سر کے آفس تک گئ۔۔ دروازہ ناک کرتے ہی وہ اجازت ملنے پر دروازہ دھکیلتی اندر داخل ہوئی۔۔۔
لیکن اندر جاتے ہی اسے ٹھٹک کر رکنا پڑا۔۔۔ سامنے سربراہی کرسی پر پینٹ کوٹ میں ملبوس نک سک سے تیار کوئی اور نہیں منیبہ کا شوہر نعمان تھا۔۔۔۔ 
وہ اسے ایک لمحے میں پہچان گئ تھی یقیناً وہ بھی اسے پہچان چکا تھا لیکن اسکی آنکھوں میں شناسائی کی رمق تک موجود نا تھی۔۔۔
اسکے سامنے صرف اسکی ایک ایمپلائی کھڑی تھی ۔۔۔ اسی لئے شاید امان نے اس کمپنی میں صلہ کو جاب دلوائی تھی۔۔۔
اسلام علیکم سر۔۔۔  گلہ کھنگار کر وہ اسکی جانب دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔ جو کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے۔۔۔ دونوں کہنیاں کرسی کی بازوں پر ٹکائے ہاتھوں کی انگلیاں باہم ہیوست کئے سنجیدگی و تسلی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
سر کے خم سے سلام کا جواب دیتا وہ سیدھا ہو بیٹھا۔۔۔ البتہ صلہ کو بیٹھنے کی اجازت اسنے ابھی بھی نا دی تھی۔۔۔ وہ ہنوز منتظر نگاہوں سے اسے دیکھتی وہیں کھڑی تھی۔۔۔
مس صلہ آپ آج پورے پندرہ منٹ لیٹ ہیں۔۔۔ اس سے پہلے ناجانے آپ کی آفس آنے جانے کی کیا ٹائمینگ رہی ہو گئ لیکن ایک بات میں واضح کردوں کے ایسے ورکرز جو وقت کی قدر نہیں کرتے اور جو اپنے کام سے مخلص نہیں انکی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ۔۔۔ وہ صلہ کو دیکھتا سنجیدگی سے اپنے لفظوں پر زور دیتا گویا ہوا۔۔۔ اور نا ہی ۔۔  وہ رکا ۔۔۔ اس آفس میں انکی کوئی ضرورت ہے۔۔۔۔۔ 
اسکا چہرا ہر قسم کے جذبات سے عاری تھا۔۔۔
اس لئے آپ اسے میری جانب سے پہلی اور آخری وارنینگ سمجھیں۔۔۔ کام پر مجھے کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ قبول نہیں۔۔۔ اور اگلی دفعہ میں وارنینگ نہیں دوں گا۔۔۔ اسکا لہجہ کاٹ دار تھا۔۔۔ صلہ کو اسکا انداز صاف اپنا مذاق اڑاتا محسوس ہوا۔۔۔
جی سر۔۔۔۔ آئندہ آپکو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔۔۔۔ غلطی اسکی اپنی تھی اس لئے ضبط کرتی لہیمی سے گویا ہوئی۔۔۔
ہمم۔۔ اب آپ جا سکتی ہیں۔۔۔ اسے کہہ کر وہ واپس اپنے سامنے کھلی فائل پر جھک گیا۔۔۔
ہنہہ۔۔۔ ایڈیٹ۔۔۔ صلہ اسے گھور کر دیکھتی کیبن سے باہر نکلی ۔۔۔۔
*****
نعمان سے ملاقات کے بعد سے ہی صلہ کا موڈ سخت آف تھا۔۔۔ اتنا عرصہ ہو گیا مرزا صاحب کے ساتھ کام کرتے مگر انہیں اس سے کوئی شکایت نہیں ہوئی تھی۔۔ وہ بہت کاآپریٹو انسان تھے۔۔۔ جہاں صلہ کو کچھ سمجھ نا آتا وہ بلاجھجھک اسے سمجھا دیتے۔۔۔ مزید وہ ہر لحاظ سے اسکے ساتھ تعاون کرتے اور اس شخص نے آتے ہی اسکی کلاس لگا لی تھی۔۔۔ وہ یہیں سے اندازہ لگا سکتی تھی کے یہ انسان آگے اسے بہت ٹف ٹائم دینے والا تھا۔۔۔
وہ اپنے سبھی کام بہت تندہی سے کر رہی تھی کے اسکے کھروس باس کو کوئی شکایت کا موقع نا ملے۔۔۔ بریک ٹائم ہوتے ہی وہ اپنا کام سمیٹ کر آفس سے نکل گئ۔۔۔ اسے بریک ٹائم کے اندر اندر ہی بچیوں کو گھر چھوڑ کر انہیں لنچ کروا کر ملازمہ کے حوالے کر کے واپس آنا تھا۔۔۔
اسکی ٹانگوں میں بجلیاں بھری ہوئی تھیں۔۔۔ وہ اس مرتبہ لیٹ نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔۔ بھاگم بھاگ بچیوں کو گھر چھوڑ کر انکا لنچ اور بچیاں ملازمہ کے حوالے کر کے وہ واپس آفس کے لئے نکلی۔۔۔ لیکن آفس اور اسکے گھر کے درمیان فاصلے کے باعث وہ بھاگم بھاگ جاتے جاتے بھی پھر سے لیٹ تھی۔۔۔ اس دوران لنچ گول ہوا سو الگ۔۔۔
طبیعت پہلے ہی ٹھیک نا تھی۔۔۔ اوپر سے نعمان نامی تلوار الگ سر پر منڈلا رہی تھی ۔۔۔ وہ ماتھا پیٹتی اپنے کیبن میں گئ۔۔۔ 
ابھی وہ کیبن میں بیٹھی ہی تھی جب انٹر کام بج اٹھا۔۔۔ ایک ہی دن میں یہ اسکا دوسرا بلاوا آ پہنچا تھا۔۔۔باس نے اسے پھر سے بلایا تھا۔۔۔ اور یقیناً یہ بھی اسکے پھر سے لیٹ ہونے کی وجہ سے تھا۔۔۔ اسنے کوفت سے فون بند کیا۔۔۔ اسکا دل چاہا کے اپنا سر دیوار میں مار کر پھوڑ ڈالے۔۔۔۔
مطلب حد ہی ہوگئ۔۔۔ صبح ابھی کیا اسنے کم سنائی تھیں جو پھر سے بلا لیا۔۔۔۔
وہ لب چباتی اٹھ کھڑی ہوئئ۔۔۔
پتہ نہیں منیبہ اس سڑیل انسان کیساتھ کیسے گزارا کرتی ہوگئ۔۔۔
اسنے سر جھٹکا۔۔۔ وہ توقع کر سکتی تھی کے اب کی بار صبح سے کچھ زیادہ میٹھی میٹھی ہونے والی تھی۔۔۔
*******

No comments

Powered by Blogger.
4