khuab_e_janoon novel 77th episode by Umme Hania
khuab_e_janoon novel 77th episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
77th episode
پیچھے والے کیبنز کی رینویشن کا کیا بنا۔۔۔۔ جینز اور ڈریس شرٹ میں ملبوس اس پر ویسکوٹ پہنے امان تیزی سے چلتا ماربل لگی شفاف راہداری عبور کرتا جا رہا تھا۔۔۔ جبکہ اسکے پیچھے پیچھے آتا علی اسے تندی سے بریفنگ دے رہا تھا۔۔۔
آج وہ کافی دنوں بعد اپنی ڈریم پلیس سی اے چائے والا کے مین آوٹلیٹ پر آیا تھا۔۔۔ اور آتے ہی ہر چیز کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔ اسکے پیچھے سے اس مین برانچ کا سارا چارج علی ہی سمبھالتا تھا۔۔۔
وہ ایک شوخ اور چلبلا سا مگر محنتی شخص تھا ۔۔۔ وہ اپنے کام کو لے کر مخلص تھا اس لئے امان کو وہ بہت عزیز تھا۔۔۔
جی امان بھائی شام تک انکا کام بھی شروع ہو جائے گا۔۔۔۔ امان اپنے آفس کا دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا ۔۔۔ اندر ہر چیز نفاست سے اپنی اپنی جگہ پر موجود مسکرا کر اسکا استقبال کر رہی تھی۔۔۔ دونوں گلاس والز کے بلائنڈز ہٹے تھے جس سے باہر کا سارا منظر دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
قدرتی روشنی سے سارا آفس منور تھا۔۔۔۔
امان آ کر اپنی سیٹ پر بیٹھا اور سامنے موجود لیپ ٹاپ پر کچھ چیک کرنے لگا دفعتاً آفس کا دروازہ بنا ناک کئے کوئی اندر داخل ہوا۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر علی اور امان دونوں ہی چونک کر دروازے کی جانب متوجہ ہوئے کہ کون ہے جو بنا اجازت کے اندر گھس آیا۔۔۔ جبکہ سامنے سیاہ عبایہ اور گولڈن سکارف میں موجود لڑکی کو دیکھ کر علی ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا جبکہ امان کی آنکھوں میں خوشگوار حیرت ابھری۔۔۔
وہ بے ساختہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ایکسکیوزمی میم آپ یہاں کہاں آ رہی ہیں یہ سر کا آفس ہے پرائیویٹ کیبنز دوسری۔۔۔۔
واٹ آ پریزنٹ سرپرائز یار۔۔۔
علی ابھی حیرت سے بول رہا تھا جب امان خوشگوار حیرت سے کہتا اپنی جگہ سے اٹھا اور اسنے جا کر گلاس والز کے آگے بلائنڈز کھینچے۔۔ یکدم آفس نیم تاریک ہو گیا۔۔۔ امان نے ایک ساتھ ہی سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر سارے بٹن دبا ڈالے۔۔۔
یکدم ہی آفس روشنیوں میں نہا گیا۔۔۔
علی حیران سا کبھی امان تو کبھی اس لڑکی کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
تم جاو علی۔۔۔ امان کے کہنے پر اس سے پہلے کے علی نا سمجھی سے باہر نکلتا ایک سیکنڈ کی دیر کئے بنا عفرا واپس پلٹی۔۔۔
ویٹ۔۔۔ ویٹ ۔۔۔ ویٹ۔۔۔
یہ وہی علی ہے نا جس نے مجھے ویڈیو بھیجی تھی۔۔۔ رائٹ۔۔۔ وہ خشمگین نگاہوں سے علی کو دیکھتی امان سے مستفسر ہوئی۔۔ جبکہ امان زیر لب مسکرا دیا۔۔۔
یہ ابھی تک یہاں کیا کر رہا ہے امان۔۔۔ آپ نے اسے فائر کیوں نہیں کیا۔۔۔ یہ تو۔۔۔
علی کو ایک پل لگا تھا سمجھنے میں کہ اتنے استحقاق سے اس آفس میں داخل ہونے والی لڑکی کون ہے۔۔۔
جاو علی تم۔۔۔ وہ زیر لب مسکراتا علی سے کہہ کر عفرا کا ہاتھ تھام کر اپنی سربراہی کرسی تک لایا۔۔۔
کرسی کا رخ اسکی جانب کرتے اسے وہاں بیٹھایا ۔۔۔۔
علی سرپٹ وہاں سے نکلا ۔۔۔۔
آپ نے اسے نکالا کیوں نہیں۔۔۔ وہ غصے سے گویا ہوئی۔۔
میں نے اسے معاف کر دیا۔۔۔ کیونکہ اسکی نیت وہ نہیں تھی ۔۔ وہ صرف مذاق کر رہا تھا اور اپنے حصے کی سزا وہ کاٹ چکا ہے۔۔۔ امان اسکے پاس ہی دوزانو بیٹھتا اسکے دونوں ہاتھ تھام کر اسے محبت پاش نگاہوں سے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
چھوڑو اس بات کو۔۔۔ کیا لے کر بیٹھ گئے ہم بھی۔۔۔ جو گزر گیا اس پر مٹی ڈالو۔۔۔
یہ بتاو کہ آج اچانک یہاں آنے کا پروگرام کیسے بن گیا یہاں آ کر مجھے سرپرائز دینے کا۔۔۔۔ اسنے ہاتھ بڑھا کر عفرا کا نقاب اتارا اور مسکرا کر اسے دیکھتے سامنے سے اٹھ کر دوسری کرسی گھسیٹتا اسکے قریب ہی بیٹھتا گویا ہوا۔۔۔
کیوں ۔۔۔ میرا اپنا آوٹلیٹ ہے جب چاہے یہاں آوں۔۔۔ وہ اٹھلا کر کہتی کہنی میز پر رکھ کر اس پر چہرا ٹکا گئ۔۔۔
ارے یس یس۔۔۔ آپ بالکل آ سکتی ہیں بالکل زہے نصیب کہ آپ نے ہمیں یہ شرف بخشا۔۔۔ وہ حقیقتاً اسکے یوں اچانک وہاں آنے سے خوش ہوا تھا۔۔۔
دو دن ہو گئے آپ گھر نہیں آئے اب آپ سے بات کر کے پتہ چلا کے آپ یہاں وزٹ کرنے آئے ہیں تو یہیں چلی آئی۔۔۔۔ اسنے کرسی سے ٹیک لگاتے کندھے اچکائے۔۔۔۔
بہت اچھا کیا۔۔۔ اب بتاو کیا کھاو گئ۔۔۔۔ امان نے انٹر کام اپنی جانب کھسکایا۔۔۔
افکورس پزا۔۔ وہ بلا تردد گویا ہوئی۔۔۔
امان نے انٹرکام پر آرڈر دے کر ریسیور واپس رکھا تو عفرا کچھ جھجھکتے ہوئے گویا یوئی۔۔۔
دراصل مجھے آپ سے ایک بات کرنی تھی امان۔۔۔ اسکے یوں جھجھکنے پر امان ٹھٹھکا۔۔۔
ایسی کونسی بات ہے عفرا جسے کرنے کے لئے تمہیں اتنا سوچنا پڑ رہا ہے۔۔۔
امان نے اسکا مومی ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اسے تحفظ کا احساس دلانا چاہا۔
وہ میں۔۔۔ وہ میں سوچ رہی تھی امان۔۔۔
پلیز ڈونٹ مائنڈ۔۔۔ ہونٹ چباتی وہ خاصی نروس تھی۔۔۔
نہیں میں مائنڈ نہیں کروں گا تم بولو۔۔۔ امان نے اسکا حوصلہ بڑھایا اب تو اسے بھی تجسس ہونے لگا تھا کہ وہ ایسا کیا کہنا چاہتی تھی۔۔۔
دیکھیں امان مجھے غلط مت سمجھیے گا پر۔۔۔ وہ پھر ہچکچائی۔۔۔
نہیں میں اپنی عفی پرنسس کو کبھی غلط نہیں سمجھ سکتا تم بولو۔۔۔ وہ سنجیدہ ہوا۔۔۔۔
امان میں سوچ رہی تھی کہ اگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کو لمبا کھینچا
اگر ہم بے بی اڈاپٹ ۔۔۔۔۔ رکی پھر آہستگی سے بولی
کر لیں تو۔۔۔۔
مطلب۔۔۔ لبوں پر زبان پھیرتے آہستگی سے اسے دیکھا۔۔۔ یو نو۔۔۔ اسنے خود کو کمپوز کرنے کو ایک گہرا سانس بھر کر خارج کیا۔۔۔ جیسے یہ بات کرنے کو اسے بہت ہمت درکار ہو۔۔۔ جیسے ناجانے امان کا اس بات پر کیا ری ایکشن ہو۔۔۔۔
ضبط کے باوجود ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹ کر پھسلا۔۔۔۔
امان نے سیدھا ہوتے کھینچ کر اسے خود میں بھینچا۔۔۔
خود پر قابو پاتی پاتی بھی رو دی۔۔۔
امان مجھے یہ کمی محسوس ہوتی ہے۔۔۔ بعض اوقات بہت زیادہ۔۔۔ شاید یوں اللہ ہمیں بھی اپنی رحمت سے نواز دے۔۔۔ اس کے ساتھ لگی وہ سرگوشانہ بول رہی تھی۔۔۔
اماں لب بھینچے اسکا سر سہلاتا رہا ۔۔۔۔۔
امان شاید یوں ہمارے توسط کسی بچے کی بھی ایسی کمی دور ہو جائے۔۔۔ اسے بھی ماں باپ کا پیار مل جائے۔۔۔
ہوے ہیں نا ایسے ضرورت مند بچے بھی۔۔۔ وہ اس سے الگ ہوتی انگلی کی پوروں سے آنکھ کے کونے صاف کرتی وضاحت دیتی گویا ہوئی۔۔۔ اب وہ خود کو کافی حد تک سمبھال چکی تھی۔۔۔۔
وہ اداسی سے مسکرا دیا۔۔۔۔
اللہ نوازے گا ہمیں بھی عفرا۔۔ انشااللہ۔۔۔
جلد وہ وقت بھی آئے گا جب ہم بھی صاحب اولاد ہونگے تم کیوں دل چھوٹا کرتی ہو۔۔۔۔ وہ متانت سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے گویا ہوا۔۔
میں اسکی رحمت سے مایوس نہیں ہوں امان۔۔۔ لیکن جب تک وہ نہیں نوازتا تب تک۔۔۔۔
اپنے ارد گرد دیکھ لو عفرا نظر دوڑا لو ۔۔۔شاید تمہیں تمہارے مطلوبہ کردار مل جائیں۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی بول رہی تھی جب امان اسکی بات کاٹتا گویا ہوا۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔۔ عفرا نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔۔
مطلب یہ کے وہ کچھ آگے کو جھکا۔۔۔
عینا اور نینا ہیں نا۔۔۔ ماں انکی تو سروائیول کے لئے ایک جنگ لڑ رہی ہیں۔۔۔ اپنی بچیوں کو ایک بہترین مستقبل دینے کے لئے۔۔۔ تو اپنی یہ ممتا تم ان سے مشروط کر دو۔۔۔
وہ بھی تو ہیں نا محبت کے لئے رشتوں کے لئے ترسی ہوئیں۔۔۔ ان کے پاس کونسے رشتے ہیں سوائے ماں اور ماسی کے۔۔۔ اور ماسی بھی تو ماں سی ہی ہوتی ہے نا۔۔۔
تو اپنی ممتا کو انکی زندگیوں کے خلا کو پر کرنے ہر لگا دو۔۔۔ ان بچیوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارو۔۔۔۔ میں جانتا ہوں کے تم ابھی بھی ان کے ساتھ وقت گزارتی ہو اس وقت میں مزید اضافہ کر دو۔۔۔ یوں صلہ کو بھی سہولت ہو جائے گی اور بچیاں بھی اچھا محسوس کریں گی۔۔۔ تمہاری کمی بھی دور ہو جائے گی۔۔
یوں اگر تمہاری بات ماں کر ہم بے بی اڈاپٹ کر بھی لیں تو کیا ہوگا۔۔۔ تم اس بے بی کے ساتھ مصروف ہو جاو گئ۔۔۔ اس بیچ نظرانداز تو وہ دو معصوم ننھی جانیں ہی ہونگیں نا۔۔۔ تو اپنا سو فیصد وہاں دو جو زیادہ مستحق ہو۔۔۔ اس محبت پر اس ممتا بھرے لمس پر ان کا زیادہ حق ہے۔۔۔ ابھی تک بھانجیاں سمجھ کر ان سے محبت کرتی تھی اب ماں سمجھ کر کرنے لگو۔۔۔ امان کے سمجھانے پر وہ گم صم سی اسے دیکھنے لگی تھی۔۔۔ اسکی باتوں میں صداقت تو تھی۔۔۔ ان بچیوں میں تو پہلے ہی اسکا بہت پیار تھا۔۔۔ سکول سے آنے کے بعد وہ اسکے پاس ہی ہوتیں تھیں۔۔۔
ہمم شاید آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔ وہ گہری سانس بھرتی پیچھے کو ٹیک لگا گئ۔۔۔ دفعتاً دروازہ ناک کر کے علی انکا آرڈر لے کر اندر داخل ہوا۔۔۔ عفرا نے اپنا نقاب درست کرتے اسے ٹیبل پر چیزیں سرو کرتے گھور کر دیکھا۔۔۔
سوری بھابھی۔۔۔ سیدھا ہوتا وہ کان پکڑ کر گویا ہوا۔۔۔ لیکن پہلے ہی امان بھائی سے بہت زبردست قسم کی کلاسسز لگ چکی ہیں تب کہیں جا کر انہیں مجھ پر رحم آیا اور انہوں نے مجھے فائر نہیں کیا۔۔۔ اب پلیز آپ بھی غصہ تھوک دیں اور مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔ وہ شرمندہ سا سر جھکاتا گویا ہوا۔۔۔
جاو کیا یاد کرو گئے کیا معاف وہ سر جھٹکی مسکرا کر گویا ہوئی تو علی بھی مسکراتا ہوا سر خم کرتا کیبن سے نکل گیا۔۔۔
ویسے میرے پاس تمہارے لئے ایک سرپرائز ہے۔۔۔ وہ پزے پر جھکی پزا اٹھا رہی تھی جب امان گویا ہوا اور جھک کر دراز کھول کر کچھ نکالنے لگا۔۔۔
وہ پر تجسس نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
Oh my God Aman...
عمرا ٹکٹس۔۔۔ وہ عمرے کی ٹکس دیکھ کر بچوں کی طرح خوش ہو اٹھی۔۔۔
ہمم۔۔۔ میں تمہیں اور امی کو حج کروانا چاہتا تھا۔۔۔ مگر چونکہ حج ابھی دور ہے تو سوچا کہ ابھی ہم کیوں نا عمرہ ادا کر لیں۔۔۔ اگلے ہفتے ہماری فلائٹ ہے۔۔۔ ہم تینوں جا رہے ہیں۔۔۔
امان اسکا خوشی سے ٹمٹماتا چہرا دیکھتا اسے بتا رہا تھا جبکہ اسے یہ ٹکٹس دیکھ پزا بھول گیا تھا۔۔۔
ٹھینک یو امان آپکو پتہ ہے اس سے بڑھ کر میرے لئے اور کوئی سرپرائز ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔
I am very excited....
وہ پرجوش سی گویا ہوئی۔۔۔
*****
آج اس گھر میں انواع و اقسام کے پکوان پک رہے تھے۔۔۔ تائی نے کچن خود سمبھال رکھا تھا۔۔۔۔ انکی تینوں بیٹیاں بھی آج تو وہاں موجود تھیں۔۔۔
مشل خوبصورت سے لباس میں ملبوس نک سک سی تیار اپنے بیٹے کو تیار کرنے کے بعد پرام میں لٹا رہی تھی۔۔ وہاں سب خوش تھے کیونکہ بیٹے کی پیدائش کے ٹھیک پانچ ماہ بعد بالاج ماں کی منتیں ترلوں اور مشل کے واویلوں کے بعد بلآخر آج پاکستان آ رہا تھا۔۔۔
اسکا بیٹا رات سے ہی کچھ بیمار تھا جسکے باعث وہ کچھ سست سست سا تھا۔۔۔
دفعتاً باہر سے گاڑیوں کے رکنے کی آواز آئی تو وہ سب دروازے کی جانب لپکے۔۔۔۔۔
بالاج اندر آ کر باری باری سب سے مل رہا تھا۔۔۔ سامنے سے نک سک سے تیار مشل اسکی جانب بڑھ رہی تھی ۔۔۔ بے ساختہ اسے اپنا پہلی دفعہ پاکستان واپس آنا یاد آیا تب صلہ حیرت کی مورت بنی سامنے کھڑی تھی۔۔۔
وہ بدقت سر جھٹک کر آگئے بڑھا۔۔۔ لیکن کہاں کہاں وہ اسے فراموش کرتا۔۔۔۔ ناجانے انسانوں کی قدر انکے کھو جانے کے بعد ہی کیوں ہوتی یے۔۔۔
سب سے باری باری مل کر وہ پرام میں لیٹے اپنے بیٹے پر جھکا۔۔۔۔ وہ ننھا سا وجود بخار کی حدت سے تپتا ہوا خاموشی سے آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
بالاج کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔۔۔۔ اس بیٹے کے لئے اسنے بہت بھاری قیمت چکائی تھی۔
اسنے آہستگی سے بچے کو گود میں تھام کر اپنے سینے میں بھینچا۔۔۔۔
وہاں ہر جانب قہقے تھے خوشیاں تھی لیکن بالاج کو اپنا آپ خالی خالی سا لگ رہا تھا۔۔۔
تھوڑا سا مشکل وقت ہے بالاج۔۔۔ انشااللہ کٹ جائے گا۔۔۔ اچھا وقت بھی جلد آئے گا۔۔۔ بہت جلد ۔۔۔ تم بس دیکھتے رہنا۔۔۔۔ ہوا کے دوش پر ایک آواز ابھرتی اسے اندر تک جھنجھوڑ گئ تھی۔۔۔
وہ لڑکی اسکے برے دنوں کی ساتھی تھی۔۔ جس نے تنکا تنکا اسکے ساتھ مل کر یہ آشیانہ بنایا تھا جسکی حکمرانی آج کسی اور کے ہاتھ میں تھی۔۔۔ ضمیر کچوکے لگاتا تھا
کبھی اسے یہ خوشی دنیا کی سب سے بڑی خوشی لگتی تھی لیکن آج یہ خوشی پا کر بھی اندر کہیں کوئی خلش تھی۔۔۔
کچھ مشل کا مزاج صلہ سے بالکل متضاد تھا تو بات بات پر دل اسکا موازنہ کرنے لگتا۔۔۔ وہ بات بات پر یاد آتی جبکہ وہ ہمیشہ ہی سر جھٹک کر اسکی یادوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشیش کرتا۔۔۔
یہ کب سے یوں بیمار ہے۔۔۔ بچے کو روتا دیکھ بالاج بے چینی سے مستفسر ہوا۔۔۔
کل رات سے ہی اسے ہلکا ہلکا سا بخار تھا ڈاکٹر کو دکھایا بھی لیکن اب زیادہ ہونے لگا ہے ۔۔۔ تائی بچے کو نیم غنودگی میں جاتا دیکھ پریشانی سے گویا ہوئی۔۔۔
چلیں آ جائیں ڈاکٹر کے پاس لے چلتے ہیں اسے ۔۔ نہیں تو یہ رات میں زیادہ بیمار بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ وہ پریشانی سے اٹھتا ماں سے گویا ہوا۔۔۔۔
چائلڈ سپیشلسٹ سے چیک آپ کے بعد وہ تجویز کردہ دوائیاں لے کر گھر واپس آئے۔۔۔
دن پے دن گزر رہے تھے لیکن اسکا بیٹا شفایاب نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ وہ بہت سست رہنے لگا۔۔۔۔
وہ اسے ایک سے بڑھ کر ایک ڈاکٹر کو دکھا رہا تھا لیکن بچے کی طبیعت سمبھلنے کی بجائے مزید بگڑ رہی تھی۔۔۔ اس دوران بالاج پر عجیب سا انکشاف ہوا کے پانچ ماہ کا ہونے کے باوجود اسکا بیٹا سر نہیں سمبھالتا تھا۔۔۔ فورا سے ایک مرتبہ پھر سے ڈاکٹر سے رجوع کیا گیا۔۔۔ اور اسکے چیک آپ کے بعد ڈاکٹر نے بتایا کے بچہ فزیکلی ویک ہے۔۔۔ اسکے مسلز بہت ویک ہے جسکی باعث وہ ابھی تک سر سمبھال پانے کی صلاحیت سے محروم ہے۔۔۔
اسکے بیٹے کا پراپر علاج شروع ہو گیا تھا۔۔۔ وہ پیسہ پانی کی طرح بہا رہا تھا۔۔ ایک ماہ کی چھٹی پر وہ آیا تھا لیکن بیٹے کی طبیعت دیکھتے اسے اپنی چھٹی مزید بڑھوانی پڑی۔۔۔ بار بار اسکے علاج کی غرض سے دوسرے شہر چکر لگ رہے تھے مگر بچے کی امپرومنٹ صفر تھی۔۔۔ آہستہ آہستہ وہ بچہ بالکل ہی حرکت کرنا چھوڑتا جا رہا تھا۔۔۔ اور یہ ایک بہت تشویشناک صورتحال تھی۔۔۔
بلآخر دو ماہ یے علاج کے بعد ان پر ایک لرزہ خیز انکشاف ہوا جسنے اس گھر کے درو دیوار ہلا کر رکھ دیئے کے بجے کی پیدائش کے دوران آکسیجن کی کمی کے باعث اسکے مسلز کمزور تھے جسکے باعث اسکا دماغ عام بچوں کی نسبت بہت پیچھے تھا اس لحاظ سے اسکی گروتھ بہت سلو تھی۔۔۔۔ آسان لفظوں میں وہ ایک سپیشل چائلڈ تھا۔۔۔
انکشاف اسقدر لرزا خیز تھا کے بالاج کو اپنے قدموں تلے سے زمین کھسکتی محسوس ہوئی۔۔۔
*****

No comments