khuab_e_janoon novel 76th episode by Umme Hania۔
khuab_e_janoon novel 76th episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
76th episode
تانیہ یہ تم کیا کر رہی ہو۔۔۔ تائی کمرے میں آئی تو تانیہ کو اپنا سامان پیک کرتے دیکھ حیرت سے مستفسر ہوئیں۔۔۔ وہ بہت چپ چپ رہنے لگی تھی۔۔۔ کوئی بلاتا تو بات کر لیتی ورنہ وہ کسی چیز میں دلچسپی نا لیتی۔۔۔ ابتدائی دنوں میں تو تائی سے بیٹی کو سمبھالنا محال ہو گیا تھا کیونکہ اسنے شوہر کی دوسری شادی کا خاصا صدمے لیا تھا جس سے وہ کافی بیمار ہو گئ تھی۔۔۔ کئ کئ دن وہ ہوسپیٹلائزڈ رہی۔۔۔ شروع میں تو وہ پہروں کسی غیر مری نقطے کو دیکھتی کھوئی کھوئی رہتی اور پھر بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو جاتی۔۔۔
کہیں دو ماہ کے مسلسل علاج کے بعد اب جا کر اسکی طبیعت سمبھلی تھی تو وہ پیکنگ کرنے لگی۔۔۔
پیکنگ کر رہی ہوں ماں۔۔۔ وہ مصروف سی سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔
لیکن کیوں۔۔۔
کیونکہ میں اپنے گھر جا رہی ہوں۔۔۔ وہ ہنوز مصروف تھی۔۔
کہاں جا رہی ہو۔۔۔ ان بے قدرے لوگوں میں۔۔۔ جنہوں نے تمہاری قدر نا کی۔۔۔ تائی بھڑک اٹھی تھی۔۔۔ ازلی غصہ عود آیا تھا۔۔۔ اب وہ انہیں برا بھلا کہہ رہی تھیں۔۔۔
بس کر دیں ماں۔۔۔ پلیز بس کر دیں۔۔ وہاں نا جاوں تو کیا کروں کہاں جاوں۔۔۔ بھرائی آنکھوں سے ماں کو دیکھتی وہ بے بسی سے گویا ہوئی۔۔۔ تائی سے بیٹی کی یہ حالت دیکھی نا جا رہی تھی۔۔۔ دل کٹ رہا تھا
یہیں ڈیرہ جما لوں۔۔۔ یہاں بھی کون ہے پوچھنے والا۔۔۔ اور بھائی کے گھر کب تک بیٹھ سکتی ہوں۔۔۔ ابھی تو مشل ڈھکے چھپے انداز میں باتیں سناتی ہے۔۔۔ کل کو اولاد کے بعد بس ہاتھ سے پکر کر گھر سے نکالنے کی کسر رہ جائے گی۔۔۔پھر کہاں جاوں گی۔۔۔۔ ماں مجھے حقیقت پسند رہنے دیں۔۔۔ مجھے مفروضوں پر نہیں جینا۔۔۔ اور حقیقت بہت تلخ ہے۔۔۔ اسکی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔ اپنا ہی کیا آگے آ رہا ہے۔۔۔ وہ آنسو صاف کرتی واپس بیگ میں چیزیں رکھنے لگی۔۔
کیوں فضول بولتی ہو تانیہ وہ لوگ ہیں ہی بے قدرے۔۔۔ تائی نے جھنجھلا جر اسکی نفی کی۔۔۔ ایک تو وہ بات بات ہر کچوکے لگانے لگی تھی جس سے تائی جھنجھلا جاتی۔۔۔
بلکل ہماری طرح۔۔۔ سیر کو سوا سیر۔۔۔ وہ تلخی سے مسکر دی
یہاں رہ کر بھی کیا مستقبل ہے میرا ماں۔۔ بھابھی کے ہاتھوں ذلیل ہونا۔۔۔ یہاں بھی تو خاموشی سے سہنا ہے نا ۔۔۔
توکیا اس سے بہتر نہیں کے اپنے گھر میں عزت سے خاموش رہ لوں۔۔۔ دل پر تھر رکھ کر یہ شراکت قبول کر لوں۔۔۔ سوتن برداشت کر لوں۔۔۔۔ آخر شوہر ہے وہ میرا۔۔۔ اتنے سالوں ساتھ رہے ہیں۔۔۔ وہ سسکی۔۔۔ میں اگر یہ سب برداشت کر لوں گی تو وہ بھی میرا احساس کرے گا نا ماں۔۔۔۔۔ابھی تو اتنا شکر ہے کے اسنے بالاج کی طرح کھڑے کھڑے مجھے طلاق نہیں دے دی۔۔۔
نہیں ماں مجھ میں صلہ جتنا حوصلہ نہیں ہے۔۔۔ ظلم کیا ہم نے اس پر۔۔۔ بہت برا کیا اسکے ساتھ۔۔۔
اسکی سسکیاں اسکی آہیں مجھے سونے نہیں دیتی ماں۔۔۔ اسکی بدعائیں لگ گئ مجھے۔۔۔ اسنے رگڑ کر اپنے آنسو صاف کئے۔۔۔۔
لیکنمجھے اپنا گھر نہیں توڑنا۔۔۔ اور یہاں میں آپکی کوئی بات نہیں سنوں گی مجھے مت روکنا۔۔۔
وہ اکتائی سی ماں کو کہتی موبائل اٹھا کر شوہر کا نمبر ملانے لگی۔۔۔ جبکہ تائی بیٹی کو دیکھتی ہی رہ گئ۔۔۔ وہ نہیں سوچنا چاہتی تھیں ان باتوں پر جسے تانیہ انہیں سوچنے پر بارہا مجبور کرتی۔۔۔ وہ لڑکی انہیں وارث نہیں دے سکتی تھی اور انہیں وارث چاہیے تھا بس یہ ایک بات انکے پاس دلیل کے لئے کافی تھی۔۔۔
******
اسنے آہستگی سے عفرا کی بازو تھام کر اسے اپنے سامنے کیا۔۔۔۔
غصہ کہیں بہہ گیا تھا۔۔۔ اب اسے خود اپنے رویے پر افسوس ہو رہا تھا لیکن وہ حقیقتاً عفرا کے رویے سے ہرٹ ہوا تھا۔۔۔
آنسو صاف کرو اپنے۔۔۔ اب کی بار وہ نرمی سے گویا ہوا۔۔۔
نہیں۔۔۔ وہ بنا اسکی جانب دیکھے سر نفی میں ہلا گئ۔۔۔
آپ صاف کرو۔۔۔ اسکی اس بے تکی خواہش پر وہ اداسی سے مسکراتا اسکا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر اسکے آنسو صاف کرنے لگا۔۔۔
سوری۔۔۔ وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتی پشیمانی سے گویا ہوئی۔۔۔
اٹس اوکے۔۔۔ اسنے جھکے کر عفرا کے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑتے اسے خود میں بھینچا۔۔۔
جو روپ میں نے آج آپکا دیکھا وہ دوبارہ زندگی میں کبھی نہیں دیکھنا چاہوں گی۔۔۔ وہ شکوہ کناں ہوئی۔۔۔
دوبارہ کبھی زندگی میں مجھ پر شک مت کرنا پھر۔۔۔
شک میں نے اب بھی نہیں کیا تھا۔۔۔ بس آپ سے کنفرم کرنا چاہا تھا۔۔۔ وہ اس سے پیچھے ہٹتی نڑوتھے پن سے گویا ہوئی۔۔۔
تم نے کنفرم کرنا ہوتا تو اسی وقت کرتی جب تمہیں وہ ویڈیو موصول ہوئی تھی۔۔۔ تم پر یقین تھی۔۔۔ وہ دو بدو گویا ہوا۔۔۔
چلو چھوڑو اس فضول ٹاپک کو جاو جا کر آرام کرو مجھے کچھ کام ہے۔۔۔ اسنے عفرا کو پھر سے پشیمان ہوتا دیکھ اسکی گال تھپتھپا کر کہا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔ مجھے آئسکریم کھانے جانا ہے۔۔۔ وہ نا میں سر ہلاتی اسکی بازو تھامتی گویا ہوئی۔۔۔
امان نے اسے گھورا۔۔۔
مجھے کام ہے۔۔۔ بالخصوص کام پر زور دیا۔۔۔
وہ کب نہیں ہوتا آپکو۔۔۔۔ اور پھر مجھے تو آپ اتنے دنوں بعد میسر ہوئے ہیں۔۔۔ آپکے فضول کے کاموں سے مجھے کیا سروکار۔۔۔
وہ منہ بناتی سر جھٹک گئ۔۔۔
چلو۔۔۔ وہ اس کے فرمودات سنتا کچھ دیر اسے گھور کر آخر کار ہار مانتا کار کی چابی اٹھاتا لیپ ٹاپ بند کر کے سٹڈی سے باہر نکلا۔۔۔۔۔
آپکو پتہ ہے امان وہ ویڈیو دیکھ کر میں کتنا ڈر گئ تھی۔۔۔ بے شک میں نے خود آپکو دوسری شادی کی اجازت دے دی تھی لیکن مجھے لگا میری سانسیں رک رہی ہیں۔۔۔۔ کہ میں مر جاوں گی۔۔۔
آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے تب مجھے صلہ ہی یاد آئی تھی۔۔۔ اور میری بے چینی حد سے سوا ہو گئ۔۔۔ اگر واقعی ایسا ہو جاتا تو۔۔۔
لیکن اب محسوس ہو رہا ہے کے صلہ نے ناجانے کیسے یہ سب سہا ہو گا۔۔ اور پھر بالاج بھائی نے کی بھی تو حد نا۔۔۔ اور آپ بالکل غلط ہیں یہاں۔۔۔ میں کبھی آپکا اور بالاج بھائی کا موازنہ نہیں کر سکتی۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔آپ کبھی انکے جیسے ہو ہی نہیں سکتے۔۔۔
بس ایک انسیکیوریٹی آگئ تھی دماغ میں۔۔
اور رہی بات اعتماد کی تو مجھے آپ پر خود سے زیادہ یقین ہے ۔۔ اعتماد ہے۔۔۔ پوری دنیا سے زیادہ ہے۔۔۔ یہاں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجھے آپ پر یقین نہیں۔۔۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں کم عقل اور بے وقوف ہونے کے ساتھ ساتھ تھوڑی سی جذباتی بھی ہوں لیکن آپکی ہمراہی میں میری ذات کی یہ کمیاں کہیں چھپ جاتی ہیں کیونکہ آپ مجھے اچھے سے ہینڈل کر لیتے ہیں۔۔۔ آئی لو یو امان۔۔۔ ریئلی ریئلی لو یو۔۔۔ آپ کے بنا زندگی کا میں تصور بھی نہیں کر سکتی۔۔۔ بس کبھی زندگی میں مجھ سے ناراض مت ہونا۔۔۔ اور اگر میں کوئی بے وقوفی بھی کروں تو سمبھال لینا لیکن ناراض مت ہونا کیونکہ میں آپکی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔ آپکو اندازہ بھی نہیں کہ میں کتنا ڈر گئ تھی۔۔۔ بہت بہت ڈر گئ تھی میں۔۔۔
وہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اسکی بازو تھامے اسکے شانے سے سر ٹکائے کسی سہمے ہوئے بچے کی مانند اس سے اپنی ایک ایک فیلنگ شیئر کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
امان پورے دل سے مسکرا دیا۔۔۔
I also sorry iffra...
تھوڑا زیادہ ہی غصہ کرگیا میں بھی۔۔۔
لیکن یار اگر یقین کر سکتی ہو تو کر لو کہ میری وجہ سے تمہیں یہ دکھ کبھی نہیں ملے گا ۔۔۔۔ کیونکہ میری زندگی میں میری عفی پرنسس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔۔۔ کوئی بھی نہیں۔۔ باوجود اسکی بےوقوفیوں اور جذباتی پن کے بھی۔۔
امان کے کہنے پر عفرا کھلکھلا دی
*******
ہسپتال کے باہر خاصی چہل پہل تھی۔۔ خوشیاں تھے قہقے تھے۔۔۔ تائی کے تو پاوں ہی زمین پر نا ٹک رہے تھے۔۔۔ پورے ہسپتال میں میٹھائیاں بانٹی جا رہی تھی۔۔۔
اندر کمرے میں مشل ندھال سی ہسپتال گاون میں ملبوس بیڈ پر لیٹی تھی جبکہ اس سے کچھ فاصلے پر کاٹ میں ایک ننھا سا وجود محو استراحت تھا۔۔۔
اسنے اب سے کچھ دیر پہلے ایک بیٹے کو جنم دیا تھا جسنے انکے گھر میں خوشی کی لہر پیدا کر دی تھی۔۔۔ تائی بھی سب کچھ بھلائے پوتے کے آگے پیچھے پھر رہی تھی۔۔۔
انکی درینہ خواہش پوری ہوئی تھی۔۔۔ انکے خاندان کا وارث آگیا تھا جسکے خواب انہوں نے برسوں سے سجائے تھے تو انکی خوشی تو بنتی تھی نا۔۔۔۔
اندر مشل فون کان سے لگائے بات کر رہی تھی۔۔۔ وہ خوش تھی بے تحاشہ خوش۔۔۔
یقیناً بیٹے کو پا کر بلاج بھی خوش ہوتا اور ماضی میں ہوا سب کچھ بھلا دیتا۔۔۔ آخر اسنے بالاج کو بیٹے کی نعمت سے نوازا تھا۔۔۔ اسے تو اب اڑ کر آ جانا چاہیے تھا اپنا بیٹا دیکھنے۔۔۔
بالاج اب آپ پاکستان کب آ رہے ہیں۔۔۔ ہمارا بیٹا اپنے پاپا کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہے۔۔
وہ نقاہت زدہ سی مسکرا کر گویا ہوئی۔۔۔
میں جلدی آنے کی کوشیش کروں گا مشل۔۔۔ مگر میرا فوری آنا ممکن نہیں ۔۔۔ ابھی یہاں بہت کام ہے جسے میں یونہی چھوڑ کر نہیں آسکتا۔۔۔
ایئر پیس سے بالاج کی آواز ابھری تو مشل کے مسکراتے لب سکڑنے لگے۔۔۔۔
بالاج کیا آپکو آپکے بیٹے کی خوشی نہیں ہوئی۔۔۔ وہ دکھ سے گویا ہوئی۔۔۔
ہوئی ہے خوشی مشل۔۔۔ بیٹا پا کر کسے خوشی نہیں ہوتی۔۔۔ بالاج کی آواز ابھری لیکن وہ اسکی آواز میں وہ خوشی وہ ایکسائٹمنٹ تلاشنے میں ناکام تھی۔۔۔
پھر آپ خوش لگ کیوں نہیں رہے۔۔۔
کام بہت ہے یار۔۔۔ لیکن تم فکر مت کرو۔۔۔ میں جلد آنے کی کوشیش کروں گا۔۔۔ تم اپنا خیال رکھنا اور ہمارے بیٹے کا بھی۔ مشل کی اداسی محسوس کرتا وہ نرمی سے گویا ہوا۔۔۔
*****
صلہ کی صبح فجر کی اذانوں کیساتھ ہی ہو جاتی تھی۔۔۔ اسکی زندگی میں بہت بدلاو آگیا تھا۔۔۔ کبھی ماں کے بارہا اٹھانے پر بھی کسلمندی سے اٹھنے والی آج الارم کی پہلی بیل پر اٹھ جاتی۔۔۔
اٹھتے ہی نماز اور قرآن سے فارغ ہو کر وہ کچن کا رخ کرتی ناشتہ بنانے کے بعد وہ بچوں کے لنچ باکسز تیار کر کے انہیں اٹھاتی۔۔۔ ان دونوں کو ایک ساتھ تیار کرنا اسکے لئے جان جوکھم کا کھیل بن جاتا۔۔۔ دونوں کی پہلے میں پہلے میں کی گردان سے وہ تنگ آ جاتی۔۔۔ ایک کے پہلے بال بناتی تو دوسری رونے بیٹھ جاتی ۔۔۔ صبح کا یہ وقت اسکے لئے بہت ہربونگ والا ہوتا۔۔
جلدی جلدی انہیں تیار کرتی وہ خود تیار ہو کر انکے ساتھ ہی آفس کے لئے نکل جاتی۔۔۔
انہیں سکول چھوڑ کر خود آفس چلی جاتی۔۔۔ بچوں کی واپسی صلہ سے پہلے ہو جاتی تو انہیں وہاں سے عفرا ساتھ گھر لے جاتی۔۔۔
شروع میں یہ روٹین اسے مشکل لگتی مگر اب تو وقت گزرنے کیساتھ ساتھ یہ روٹین بھی پختہ ہو گئ تھی۔۔۔
آفس میں بھی مرزا صاحب کی رہنمائی میں وہ سب کام بہت اچھے سے سیکھ گئ تھی۔۔۔
اب بھی وہ اپنے کیبن میں بیٹھی اپنا کام کر رہی تھی جب اسکے موبائل کی بپ بجی۔۔۔
میسج اسکی ایک دور کی کزن کا تھا۔۔۔ میسج دیکھتے ہی وہ کئ لمحوں کے لئے فریز ہو گئ تھی۔۔۔ بالکل ساکت و جامد۔۔۔
بالاج کے ہاں بیٹا ہوا تھا۔۔۔ سامنے بچے کی تصویر کیساتھ لکھا تھا۔۔۔ خاندانی کزنز کے اور پرانے محلے والوں کے ذریعے اسے ان لوگوں کی خبریں ملتی ہی رہتی تھیں۔۔۔
مگر اس خبر نے اسے بالکل گم صم کر دیا تھا۔۔۔
ایک لمحے میں جیسے وہ ماضی کے کسی حصے میں پٹخ دی گئ تھی۔۔۔ اس چیز کے خواب تو اسنے بھی دیکھے تھے۔۔۔
لیکن جلد ہی وہ گہری سانس خارج کرتی سر جھٹک گئ۔ وہ ابتدائی فیز سے نکل آئی تھی۔۔۔ لیکن اسکی سوچیں منتشر ہو چکی تھیں۔۔۔۔۔
باقی کا سارا وقت وہ گم صم ہی رہی۔۔۔ اسی خاموشی سے باقی کے سارے کام نبٹا کر واپس بچیوں کو ساتھ لئے گھر آئی۔۔۔ کیسے وہ زندگی میں آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔ کیا اسکے لئے آگے بڑھ جانا اتنا ہی آسان تھا۔۔۔ کیا اسے وہ اور اسکی بیٹیاں کبھی یاد نا آئی ہونگی۔۔۔۔ دل سے ایک ہوک سی اٹھی تھی۔۔۔
گھر آ کر بھی اپنے روزمرہ کے کام کرتی وہ کھوئی کھوئی سی تھی۔۔۔ حتی کے اسکی اونلائن کلاس کا وقت ہو گیا اور وہ خود کو سرزنش کرتی اپنی کلاس اٹینڈ کرنے کو لیپ ٹاپ اٹھانے لگی۔۔۔
وہ سائیکولوجی پڑھ رہی تھی۔۔۔ انسان کی سائیکی سمجھ رہی تھی۔۔۔ اس نے مختلف سورسز سے نالج حاصل کرنے کیساتھ ساتھ وہ باقاعدہ ایک انسٹیٹیوٹ سے اونلائن ڈپلومہ کر رہی تھی کیونکہ وہ فزیکلی کہیں جا کر کلاسز اٹینڈ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ اس سے اسکا شیڈیول ڈسٹرب ہوتا۔۔۔۔
بچوں کو سٹڈی کروانے کے بعد انہیں کھیلنے اور کارٹوں دیکھنے کی طرف متوجہ کر کے رات کا کھانا تیار کرتی اور اسکے بعد اسکی ایک گھنٹے کی اونلائن کلاس ہوتی جسکے بعد وہ بچوں کو سلا کر اپنا باقی کا ریسرچ ورک اور گھر کے سینکڑوں کام نبٹا کر سوتی۔۔۔۔
کام ختم کرتے کرتے اسے رات دیر ہو جاتی اور جب وہ بستر پر جاتی تو اسکی آنکھ اگلی صبح ہی کھلتی۔۔۔ اب تو وہ اپنی اس روٹین سے خوش تھی جس کی مصروفیات میں اسے ماضی کی تلخیاں غلطی سے بھی یاد نا آتی دماغ میں بس حال اور بچیوں کا مستقبل ہی چلتا۔۔۔ لیکن آج ایک کنکر نے آ کر اسکی سوچوں کو منتشر کر ڈالا تھا۔۔۔
*****

No comments