Header Ads

khuab_e_janoon novel 75th episode by Umme Hania۔


 

khuab_e_janoon novel 75th episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official


 سارا دن عفرا کا صلہ کے ساتھ مصروف ترین گزرا تھا۔۔۔ دوپہر کو وہ بچیوں کو اپنے ساتھ لے آئی تھی۔۔۔بچیوں کے ساتھ وقت کیسے گزرا اسے پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔ آفس سے واپسی پر صلہ ان دونوں کو ساتھ لے گئ جبکہ اسکے بعد عفرا کچھ دیر خالہ کے پاس بیٹھ کر واپس کمرے میں آ گئ۔۔۔
سارا دن تو مصروفیت میں گزر گیا لیکن اب زرا فرصت میسر آتے ہی دل امان کے لئے ہمکنے لگا تھا۔۔۔۔
ناجانے کیوں وہ اتنا خفا ہو گیا تھا۔۔۔  وہ پہلے بھی دو دو دن گھر سے باہر رہتا تھا لیکن وہ بارہا اس سے فون پر رابطہ استوار رکھتا تھا لیکن اب وہ ناراض تھا تو کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔   
دفعتاً اسے لاوئنج سے خالہ کی آواز سنائی دی۔۔۔ وہ اسے ہی اپنے پاس بلا رہی تھیں۔۔۔
جی خالہ۔۔۔ وہ سرعت سے کمرے سے نکلی۔۔۔
ارے یہاں آو بچے دیکھو امان کی ڈاکومینٹری چل رہی ہے۔۔۔ خالہ اسے لاوئنج میں آتا دیکھ پرجوش سی گویا ہوئی۔۔۔
وہ خالہ کی بات سن کر حیرت زدہ سی انکے پاس آ کر بیٹھتی سامنے دیوارگیر ایل ای ڈی کو دیکھنے لگی۔۔۔
آپکو کس نے بتایا اسکا۔۔۔۔۔ سکرین کو دیکھتی وہ ہنوز متحیر تھی۔۔۔ 
اماں کا فون آیا تھا اسنے بتایا کے ٹی وی پر اسکی ڈاکومینٹری چل رہی ہے۔۔۔ خالہ کے بتانے پر عفرا کی آنکھوں میں پانی سمٹنے لگا۔۔۔
وہ امان کی موٹیویشنل سکسیس  سٹوری پر ڈاکومینٹری تھی جس میں امان نے ہی پرفارم کیا تھا۔۔۔ سکرین پر مختلف مناظر چل رہے تھے چائے کے ٹھیلے سے پاکستان کے موسٹ اویٹڈ چائے والا بننے تک کا سفر۔۔۔
وہیں پر امان کی شادی کا سین بھی شارٹ میں آیا تھا۔۔۔ چند منٹوں پر محیط۔۔۔ اتنا سا ہی جتنا اسکے پاس ویڈیو آئی تھی۔۔۔ 
ڈاکومینٹری دیکھتے اس پر گھروں پانی پڑنے لگا۔۔۔
تو یہ سرپرائز تھا۔۔۔ امان کی ایک نئ اچیومنٹ۔۔۔ یقینا وہ اس اچیومنٹ کو ماں اور بیوی کے ساتھ سیلبریٹ کرنا چاہتا تھا۔   وہ سر تھام کر رہ گئ ۔۔ سمجھ نہیں آرہا کہ وہ کیا محسوس کر رہی ہے۔۔۔ امان کی شادی نا کرنے کی خوشی یا اسکے اسقدر ناراض ہو جانے کا دکھ۔۔۔۔ بس وہ بے چین تھی اور بے چینی حد سے سوا تھی۔۔۔
وہ واپس گھر بھی تو نہیں آ رہا تھا اور نا ہی فون اٹھا رہا تھا ورنہ وہ ابھی تک جیسے بھی کر کے اسے منا لیتی۔۔۔۔
ڈاکومینٹری ختم ہوتے ہی وہ بھاری دل کیساتھ اٹھ کر کمرے میں آ گئ۔۔۔ پچھلی پوری رات کا رتجگا اور مصروفیت بھرے دن کے بعد اب جس پشیمانی کا سامنا کرنا پڑا تھا اسنے اعصاب پر بھاری بوجھ ڈالا تھا۔۔۔ اسکا انگ انگ درد کرنے لگا۔۔۔
اس لئے سر شام ہی جب وہ بستر پر لیٹی تو لیٹتے ہی نیند کی دیوی اس پر مہربان ہو گئ۔۔۔
*****
سوتے سوتے وہ یکدم ہڑبڑا کر اٹھی۔۔۔۔ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھتے اسنے متوحش نگاہوں سے ارد گرد دیکھا۔۔ وہ شاید خواب میں ڈر گئ تھی۔۔۔ لیکن یکدم وہ چونکی۔۔۔ وہ بستر پر لیٹتے ہی سو گئ تھی لیکن اب اس پر لحاف دیا گیا تھا جبکہ وہ لائٹ جلتی چل کر سوئی تھی اسکے برعکس اب زیرو پاور کی لائٹ چل رہی تھی۔۔۔
اسکا دل زور سے ڈھرکا ۔۔۔۔ کیا امان واپس آگئے۔۔۔ وہ سرعت سے بستر سے اترتی ننگے پاوں کھڑکی تک گئ۔۔۔ 
اچک کر باہر کار پورج میں دیکھا۔۔۔ وہاں امان کی گاڑی کھڑی دیکھ اسکے شک پر یقین کی مہر ثبت ہو گئ۔۔۔ ایک مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔
وہ کمرے میں نہیں تھا تو یقیناً سٹڈی روم میں ہی ہوتا۔۔۔ اسنے بعجلت جوتا ارسا اور ہاتھوں سے کپڑوں کی نادیدہ شکنیں درست کر کے ہاتھوں سے ہی بال سنوارے اور شال اوڑھ کر کمرے سے نکلی۔۔۔
سٹڈی روم کے بند دروازے کے نیچے سے وہ اندر جلتی لائٹ دیکھ سکتی تھی۔۔۔ مطلب وہ وہیں تھا۔۔۔ 
اسنے وہیں رک کر ایک گہری سانس بھر کر خارج کی اور دل کڑا کرتے اپنے من من بھاری ہوتے قدم اٹھاتی کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔۔
آج پہلی مرتبہ وہ اسکے روبرو جاتی پریشان تھی۔۔۔ وہ اسکی ناراضگی کا اندازہ لگا سکتی تھی۔۔۔
اسنے ڈھرکتے دل سے آہستگی سے دروازے کا ہینڈل گھماتے دروازہ کھولا اور پشیمان سی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اندر بڑھی۔۔۔۔
وہ کاوچ پر بیٹھا سامنے موجود چھوٹی گول میز پر لیپ ٹاپ رکھے  اپنا کام کر رہا تھا۔۔۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر بھی وہ اسکی جانب متوجہ نا ہوا۔۔۔ شاید وہ آنے والے سے آشنا تھا۔۔۔
عفرا ہاتھوں کی انگلیاں چٹخاتی اسکے پاس گئ۔۔۔ اس سے چند قدم کی دوری پر وہ رک گی۔۔۔ وہ اسکی توجہ چاہتی تھی۔۔۔ کسی طرح تو وہ اسکی جانب متوجہ ہوتا۔۔۔ کچھ دیر وہ وہیں کھڑی رہی جبکہ وہ شاید جان کر بھی انجان بنا بیٹھا تھا۔۔۔ 
جب وہ بالکل اسکی جانب متوجہ نا ہوا تو وہ آرام سے اسکے ساتھ کاوچ پر بیٹھتی  دونوں ہاتھوں سے اسکی بازو تھام کر اسکے کندھے پر سر رکھ گئ۔۔۔
عفرا کی اس حرکت پر پل بھر کو امان کے لیپ ٹاپ کی کیز پر چلتے ہاتھ ٹھٹھکے مگر وہ بنا کوئی توجہ دیئے پھر سے اپنا کام کرنے لگا۔۔۔
عفرا نے منہ بسورتے لیپ ٹاپ کی سکرین کے آگے اپنا ہاتھ کیا ۔۔۔ سکرین اور امان کے درمیان اسکا ہاتھ آنے سے امان کے کام میں خلل پڑا۔۔۔۔لیکن امان اسکا ہاتھ ہٹاتا پھر سے اپنا کام کرنے لگا۔۔۔
کچھ دیر بعد عفرا نے سکرین کے آگے ہاتھ کرنے کی بجائے لیپ ٹاپ کی سکرین فولڈ کرنی چاہی جبکہ امان نے سرعت سے سکرین کو بند ہونے سے روکا۔۔۔ 
تنگ مت کرو عفرا۔۔۔ بہت مصروف ہوں میں۔۔۔ جاو یہاں سے۔۔۔۔۔ وہ سختی سے کہتا لیپ ٹاپ پھر سے کھول چکا تھا۔۔۔ جب کچھ دیر بعد عفر نے وہی حرکت دہرائی۔۔۔
جاو یہاں سے عفرا اس سے پہلے کے میں تمہیں کچھ سخت سست سنا ڈالوں۔۔۔ وہ واپس لیپ ٹاپ کی سکرین تھامتا بنا اسکی جانب دیکھے سنجیدگی سے چبا چبا کر بولا۔۔۔۔
آپ مجھے سخت سست سنا ہی ڈالیں امان۔۔۔ کم از کم یوں اسی بہانے آپ بات تو کریں گئے۔۔۔ وہ مزید اسکے کندھے میں چہرا گھسا گئ۔۔۔
ٹھیک ہے پھر تم مت جاو۔۔۔ میں چلے جاتا ہوں۔۔۔
وہ اپنا بازو عفرا کے ہاتھ سے چھڑواتا اٹھ کھڑا ہوا جب عفرا تڑپ کر اسکے ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
امان میں اپنے رویے پر پشیمان ہوں۔۔۔ شرمندہ ہوں۔۔۔ آپ سے معافی چاہتی ہوں ۔۔۔ آپ کیوں کر رہے ہیں ایسا میرے ساتھ۔۔۔ میں آپکی یوں نظر اندازی برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔ وہ منمنا کر کہتی آبدیدہ ہو گئ۔۔۔
امان نے اسکی جانب پلٹے سختی سے انگلی اٹھاتے اسے وارن کرنا چاہا۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتا۔۔۔ اسکا یہ جارحانہ انداز دیکھتے آنسو ٹپ ٹپ عفرا کی آنکھوں سے بہنے لگے۔۔۔۔ 
بس اسی کی کسر رہ گئ تھی۔۔ ایموشنل ڈرامے۔۔۔ وہ اسے روتا دیکھ غصہ ضبط کرتا ہاتھ نیچے کر کے جھنجھلایا سا رخ بدل گیا۔۔۔
آپ مجھے ڈانٹ لیں امان۔ سخت سست سنا لیں۔۔۔ سزا بھی دے لیں لیکن پلیز۔۔۔ وہ سسکی۔۔۔ ناراض مت ہوں۔۔۔ آپکی ناراضگی جان لیوا ہے۔۔۔ وہ پشیمان سی سر جھکائے کھڑی تھی۔۔ 
ہاں جی یہ اچھا ہے۔۔۔ بلکہ بہت اچھا ہے۔۔۔
آپ شک کر لیں۔۔۔ بے اعتبار ٹھہرا دیں۔۔۔ دوسری شادی کا الزام لگا دیں۔۔۔ بے وفا بھی قرار دے دیں لیکن ہم ناراض بھی نا ہوں۔۔۔ ہے نا۔۔۔ وہ پلٹا اور طنزیہ گویا ہوا۔۔۔
عورتوں کے پاس نا ایموشنل بلیک میل کرنے کو یہ آنسو ایک اچھا ہتھیار ہوتے ہیں۔ جن کا تم خوب خوب استعمال کر رہی ہو۔۔۔
غلطی بھی خود کرو۔۔۔ دوسرے کو ہرٹ بھی کرو۔۔۔ اسےبے اعتبار کر کے اسی کی نظروں میں گرا بھی دو اور بعد میں مظلوم بھی خود ہی بن جاو۔۔۔۔ اسکے لہجے میں آج عفرا کے لئے کوئی رعایت نہیں تھی۔۔۔ اور اسکا یہ رویہ عفرا کی برداشت سے باہر تھا۔۔۔ اسنے امان کا آج تک محبت کرنے والا روپ ہی دیکھا تھا۔۔۔
امان کا یہ رویہ اسکی برداشت سے باہر تھا۔۔۔
معافی بھی تو مانگ رہی ہوں نا۔۔۔ اسنے بھیگی قاتل نگاہیں اٹھاتے پھر سے کوشیش کی۔۔۔۔
اور اس سے کیا ہوگا۔۔۔ کیا تمہیں لگتا ہے محترمہ عفرا صاحبہ کہ یہ ایک لفظ معافی آپ کے دیئے گئے زخموں کو بھر سکے گا۔۔۔۔ یا یہ لفظ آپ کی جانب سے ملی اذیت کا مداوا کر سکے گا۔۔۔
وہ سراپا سوال بنا کھڑا تھا اور عفرا کے پاس اسکے کسی سوال کا کوئی جواب نا تھا۔۔۔۔۔
ہمارے اتنے سالوں کے رشتے میں بلکہ ہمارا رشتہ تو ہمارے اس ازواجی رشتے سے بھی بہت پہلے کا ہے نا۔۔۔ بچپن کا ناطہ ہے ہمارا تو۔۔۔
تو تم اتنے سالوں کے رشتے میں ابھی تک اپنے شوہر پر اعتبار ہی نہیں کر سکی۔۔۔سمجھ ہی نہیں سکی کے تمہارا شوہر کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں۔۔۔ اسکے لہجے میں دکھ تھا۔۔۔ٹوٹے مان کی کرچیاں تھی۔۔۔ جسکی چبھن تک عفرا اپنے دل پر محسوس کر سکتی تھی۔۔۔
تمہیں مجھ پر اعتبار ہی نہیں تو پھر لعنت ہے ایسے رشتے پر جہاں  اتنے سالوں کی رفاقت کے بعد بھی بے اعتباری ہو۔۔۔
جہاں پر کسی بھی انجان نمبر سے موصول ہونے والی کوئی بھی ویڈیو رشتے کی بنیادیں ہلا دے۔۔۔ شک پیدا کر دے ۔۔۔
بدگمان کر دے۔۔۔ اسکے لہجے میں تلخی کا عنصر نمایاں ہونے لگا۔۔۔۔۔۔
تم جو خود دو دنوں تک اندر ہی اندر گھٹتی رہی۔۔۔ کیا تمہارا فرض نہیں بنتا تھا۔۔ ویڈیو موصول ہوتے ہی تم اسکی تصدیق کرتی۔۔۔ کم سے کم مجھ سے تو شیئر کر کے اس معاملے کا پوچھتی۔۔ 
لیکن نہیں ۔۔۔ تم نے بے چاری بننا تھا۔۔۔ دکھیاری عظیم ترین لڑکی۔۔۔ جس پر ظلم کے پہاڑ ٹورے جا رہے ہیں۔۔۔  جسکا شوہر ظالم ہے
آج سامنے وہ امان نہیں تھا جسے وہ جانتی تھی۔۔۔ آج تو سامنے کوئی اور ہی امان تھا۔۔ تلخ۔۔ غصیلہ۔۔ جسکا لہجہ آگ اگل رہا تھا۔۔۔ الفاظ پشیمانی کے گڑھے میں دھکیل رہے تھے۔۔۔
دراصل بات پتہ ہے کیا ہے عفرا۔۔۔ تمہاری نظر میں تمہارے شوہر کی کوئی کریڈیبیلٹی نہیں ہے۔۔۔ 
وہ تم سے محبت کرتا ہے۔۔۔ تم اسکی زندگی میں اہمیت رکھتی ہو۔۔۔ تم دونوں دوست ہو تم دونوں کے درمیان کوئی مضبوط رشتہ ہے۔۔۔ یہ سب گیا جہنم میں۔۔۔ ان سب کی تمہاری نظروں میں کوئی اہمیت نہیں۔۔
تم اپنے شوہر کو صرف ایک شوہر سمجھتی ہو۔۔ اور تمہاری نظر میں شوہر بے وفا ہوتا ہے۔۔۔ اور تم نے اپنے شوہر کی کریڈیبیلٹی کو ایک بے وفا شوہر کی کریڈیبلیٹی کے ساتھ مشروط کر کے اسی کے تناظر میں رکھ کر دیکھا۔۔۔ اسکی سبھی اچھائیاں۔۔۔ اسکی محبت اسکی وفا اسکے جذبات ہر چیز کو سائیڈ پر رکھ کر۔۔۔۔
کیونکہ تم نے اپنے بہنوئی کی بے وفائی دیکھی ہے۔۔۔ بات کرتے وہ اسکے گرد چکر لگا رہا تھا۔۔۔
عفرا کا ڈھرکنیں سست پڑنے لگی۔۔۔ وہ بات کی تہہ تک جا رہا تھا۔۔۔ وہ اسکے دل میں پلتے چور کو پکڑنے والا تھا۔۔۔۔
وہ امان تھا ۔۔ جو بات کی کھال نکال لیتا تھا۔۔۔ مسلے جی جڑ تک جاتا تھا۔۔۔ وہ یہ بھول گئ تھی۔۔۔ 
تمہارے بہنوئی نے تمہاری بہن کو محبت کے جھانسے میں رکھ کر اسے آخری وقت تک دھوکہ دیا ۔۔۔
اور یہ ہی چیز سب سے زیادہ خطرناک ہے کہ تم اپنے شوہر کی شخصیت کو اپنے بہنوئی کی شخصیت کے تناظر میں دیکھتی ہو۔۔۔ وہ ٹھہرا
اور یہ ہی چیز مجھے اندر سے کسی برچھی کی مانند کاٹ رہی ہے۔۔۔ وہ اسکے بالکل سامنے آ رکا۔۔۔ آنکھوں میں ہزاروں شکوے تھے۔۔۔
زندگی کے کس مقام پر تم نے مجھے خود سے مخلص نہیں پایا۔۔۔ کہاں میرے رویے میں تبدیلی محسوس کی۔۔۔ کہاں لگا کے میں دکھاوا کر رہا ہوں۔۔۔ اپنے کس فرض سے مجھے روح گردانی کرتے دیکھا تم نے۔۔۔ کب مجھے دیکھا تم نے رشتوں کو فراموش کرتے۔۔۔۔
موازنہ ہی کرنا تھا تو دھنگ سے تو کرتی۔۔۔ اسنے ناچاہتے ہوئے بھی عفرا کو بازووں سے پکڑتے جھنجھوڑا۔۔۔
وہ جھکے سر سمیت مزید شدت سے رو دی۔۔۔
تم اس بے وفا شخص سے میرا موازنہ کرتی ہو۔۔۔ وہ اسکی بازو چھورتا تھکے تھکے قدموں سمیٹ پیچھے ہٹنے لگا۔۔۔ کیونکہ ہماری اولاد نہیں۔۔۔ تمہیں اولاد کے حوالے سے انسیکیورٹیز ہیں۔۔۔
ٹھیک ہے کہ اولاد کی خواہش ہر شخص کو ہوتی ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔۔۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ عورتیں اس معاملے میں زیادہ حساس ہوتی ہیں۔۔۔
لیکن اسی حساسیت کے ہاتھوں کسی دوسرے کی ذات کو کٹہرے میں کھڑے رکھنا بھی کہاں کا انصاف ہے۔۔۔
جہاں تم یہ سب باتیں مانتی ہو تو وہاں اس بات سے کیوں انکاری ہو کہ دنیا میں بہت سے جوڑوں کو اللہ اولاد  کی نعمت عطا نہیں بھی کرتا۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ لوگ اچھی زندگی گزارتے ہیں۔۔۔
ٹھیک ہے کہ اولاد آپکی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے لیکن اسکے باوجود وہ سب کچھ نہیں ہوتی۔۔۔
میں اس معاملے میں سٹک ہو گیا ہوں عفرا۔۔۔ میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔۔  میں تمہیں یہ سب بھی نہیں کہنا چاہتا تھا۔۔۔ کہا تھا میں نے کہ چلی جاو یہاں سے مگر تم نہیں گی۔۔۔
رخ موڑے اب اسکے لہجے میں پہلے سی سختی نہیں تھی بلکہ ایک بے بسی تھی۔۔۔۔
میں اس وقت صرف تنہائی کا خواہشند ہوں ۔۔۔ اسی لئے میں کل رات گھر نہیں آیا ورنہ پتہ نہیں کیا کر گزرتا ۔۔  جاو چلی جاو عفرا میں فلحال کچھ وقت اکیلے گزارنا چاہتا ہوں ۔۔۔
وہ شکستہ خیز لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
عفرا ہارے ہوئے انداز میں دروازے کی جانب پلٹی۔۔۔۔ دروازے کی جانب اٹھتے ہر قدم کیساتھ اسکا دل کرلا رہا تھا۔۔۔ امان تنہائی کا خواہشمند تھا لیکن وہ اس سے دور نہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔ امان کی سبھی باتیں درست لیکن ایسا نہیں تھا کہ وہ امان پر اعتبار نہیں کرتی ۔۔۔ ہاں اس معاملے میں وہ بے وقوف بن گئ تھی۔۔۔ لیکن وہ یوں واپس نہیں جا سکتی تھی۔۔۔ وہ تو پہلے ہی کل سے بے سکون تھی۔۔۔ لیکن امان بھی کہاں اسکی بات سن رہا تھا۔۔۔ اسکے تو انداز میں رتی برابر لچک نا تھی۔۔۔ حوصلہ پیدا ہونے سے پہلے ہی اپنی موت آپ مر جاتا۔۔۔
دروازے کی ناب پر ہاتھ رکھ اسے کھولتے کھولتے وہ رکی۔۔۔ پھر دل کی آواز پر لبیک کہتی بنا سوچے سمجھے واپس پلٹی اور بھاگ کر امان کے پاس پہنچتی اسکی پشت سے سر ٹکائے اسکی شرٹ کو کپکپاتے ہاتھوں کی مٹھیوں میں دبوچے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
سوری۔۔۔۔
پلیز معاف کر دیں۔۔۔ 
پلیز ۔۔۔۔ہو گئ نا غلطی مجھ سے۔۔۔۔
لیکن اب کیا کروں۔۔۔۔ میرا تو سب سے عزیر دوست ۔۔۔ میری زندگی کا سب سے اہم انسان ہی روٹھ گیا مجھ سے۔۔۔ کیسے مناوں۔۔۔
مانتی ہوں نا کہ اپنی بے وقوفی کے ہاتھوں میں نے اسے ہرٹ کیا۔۔۔ مگر اب کروں کیا۔۔۔
واپس نہیں جا سکتی۔۔۔ نا آپکی بات مان سکتی ہوں۔۔۔ ورنہ تو مر جاوں گی۔۔۔
اب معاف کر بھی دیں نا۔۔۔ نہیں دیکھ سکتی آپ کو خود سے ناراض۔۔۔ پلیز۔۔۔۔
بے وقوف سمجھ کر ہی معاف کر دیں۔۔۔ اسکا انداز ضدی تھا۔۔۔ بچوں جیسا۔۔۔ جیسے ضد پوری نا ہوئی تو وہیں بیٹھتی ایڑیاں رگڑ رگڑ  کر رو دے گئ۔۔۔ مگر تب تک واپس نا جائے گی جب تک اسکی بات نا مانی جاتی۔۔۔
امان جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔۔ 
یہ لڑکی اسے بے بس کر رہی تھی۔۔۔
*******

No comments

Powered by Blogger.
4