Header Ads

khuab_e_janoon novel 74th episode by Umme Hania۔


 

khuab_e_janoon novel 74th episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

74th episode
 تم الو کی دم کل صبح مجھے میری ورک پلیس پر دکھائی نا دو۔۔۔۔ مینیجر سے اپنا حساب کلئیر کرواو اور یہاں سے چلتے بنو۔۔۔ میرے سامنے مت آنا اس سے پہلے کے میں تمہارا قتل کر ڈالوں۔۔۔ امان ایک ہاتھ سے موبائل کان کو لگائے دوسرا ہاتھ بالوں میں پھیرتا غصے سے اس شخص پر برس رہا تھا۔۔۔ عفرا الجھی نگاہوں سے اسے یہاں سے وہاں چکر کاٹتے دیکھ رہی تھی۔۔۔  
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ تمہاری جرات کیسے ہوئی یوں وہ ویڈیو اٹھا کر کسی کو بھی بھیجنے کی۔۔۔ تمہاری تو۔۔۔ گھٹیا انسان۔۔۔۔ مجھے تم کل سے ہی مشکوک لگ رہے تھے مگر تم اتنا گھٹیا کام کرو گئے مجھے اندازہ نا تھا۔۔۔۔
عفرا نے آج تک امان کو اتنا غصے میں کبھی نہیں دیکھا تھا جتنا وہ آج برہم ہو رہا تھا۔۔۔
شاید وہ یہ راز راز ہی رکھنا چاہتا تھا۔۔۔ 
امان نے فون بند کرتے ہی دوسرا نمبر ملا کر کان سے لگایا۔۔۔ اسکا غصہ کسی طور کم نا ہو رہا تھا۔۔۔
عفرا نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔  جو اسے نظر انداز کئے یوں اپنی بھراس نکال رہا تھا جیسے اسے کسی نے جلتے توے پر بیٹھا دیا ہو۔۔۔ اسکے نزدیک ان لوگوں پر غصہ نکالنا زیادہ ضروری تھا جنہوں نے اسکا راز لیک کیا تھا۔۔۔ عفرا کا دل مکدر ہونے لگا۔۔۔   
علی کا حساب چکتا کرو کل صبح وہ مجھے وہاں دکھائی نہیں دینا چاہے۔۔۔ رابطہ استوار ہوتے ہی وہ گویا ہوا۔۔۔۔
وہ جو بھی بکواس کر رہا ہے سننے کی ضرورت نہیں۔۔۔ نا ہی اسکے کسی ڈرامے میں آنے کی ضرورت ہے۔۔۔ کل صبح اگر وہ مجھے وہاں نظر آیا تو تم سب کی خیر نہیں۔۔ آگے سے ناجانے کیا کہا گیا تھا جب وہ بھڑک اٹھا۔۔۔۔
اپنا پیغام فون پر سنا کر وہ ایک گہری سانس خارج کر کے  وہیں عفرا سے کچھ فاصلے پر موجود اونچی کرسی پر بیٹھا۔۔۔۔ غصہ ابھی بھی اسکے چہرے پر موجود تھا۔۔۔ مگر وہ گہرے گہرے سانس بھرتا خود کو کمپوز کر رہا تھا۔۔۔
امان۔۔  جب کافی دیر تک وہ کچھ نا بولا تو عفرا نے آہستگی سے اسے مخاطب کیا۔۔۔۔
تو یہ وجہ تھی تمہارے بیمار ہونے کے پیچھے۔۔۔ عفرا کی جانب دیکھتا وہ گویا ہوا مگر اب لہجے میں غصہ نا تھا اسکا لہجہ نرم تھا۔۔۔وہ خود کو کافی حد تک کمپوز کر چکا تھا۔۔۔۔۔ اور تب سے کھوئے کھوئے رہنے کی بھی۔۔۔ اسی لئے تم اسقدر غائب دماغ تھی۔۔۔۔
اسکے لہجے میں ایک عجیب سی تپش تھی جسے عفرا کوئی نام نا دے پا رہی تھی۔۔۔
کیا یہ وجہ کم ہے امان۔۔۔ کیا آپ نے یہ بات مجھ سے چھپا کر ٹھیک کیا۔۔۔
کاوئچ پر بیٹھی وہ امان کی جانب دیکھتی شکوہ کناں ہوئی۔۔۔ آنچل سر سے کھسک چکا تھا اور ہاف کیچر میں مقید بالوں کی آبشار دائیں کندھے پر پھسلی پڑی تھی۔۔۔ شفاف چہرے پر غزال سی آنکھوں میں ڈھیروں شکوے سموئے ڈھیلے سے انداز میں بیٹھی وہ اسے خود سے بہت بے پرواہ لگی۔۔۔۔ کسی اور ہی جہاں میں پہنچی ہوئی۔۔۔ ٹوٹی بکھری سی۔۔۔ امان کو اسکی حالت دیکھ کر افسوس ہوا۔۔۔۔
یہ ایک سرپرائز تھا۔۔۔ میری زندگی کی سب سے بڑی اچیومنٹ تمہارے لئے اور امی کے لئے ایک سرپرائز تھی۔۔۔ وہ گھٹنوں پر کہنیاں رکھے ہاتھ باہم آپس میں پھنسائے زرا آگے کو جھک کر اسکی آنکھوں میں دیکھتا سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
ایک تلخ مسکراہٹ عفرا کے ہونٹوں پر ابھری۔۔۔۔ اسے سرپرائز دینا نہیں ۔۔ بلکہ  شاک دینا کہتے ہیں امان صاحب۔۔۔۔۔ وہ بھی اسی کے اندز میں اسے دیکھتی تلخی سے گویا ہوئی۔۔۔ 
اسکا انداز انی کی مانند امان کے دل پر لگا۔۔۔۔۔ 
وہ بھی نم آنکھوں سے تلخی سے مسکرا دیا۔۔۔ اس سے یوں بدگمان ہوتی یہ اسکی عفرا تو نا لگ رہی تھی۔۔۔۔ یہ انکی ازواجی زندگی کی پہلی باقاعدہ تلخ کلامی تھی ورنہ وہ دونوں ہی معاملات کو اچھے سے سلجھا لیا کرتے تھے ۔۔۔ اور اس میں بھی زیادہ ہاتھ امان کا ہی ہوتا۔۔۔ لیکن آج وہ خود ہی یہ معاملہ سلجھانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
اور پھر میں نے تو خود آپکو دوسری شادی کرنے کا بول دیا تھا امان۔۔۔۔ ظرف بڑا کر کے اجازت دے دی تھی۔۔۔ پھر کم از کم بتا تو دیتے۔۔۔ اسکی آواز میں دکھ ہلکوڑے لے رہا تھا۔۔۔ جیسے چوٹ بہت گہری ہو۔۔۔ ہاں اسکی جگہ اگر امان اسے اعتماد میں لے کر یہ کام کرتا تو شاید حالات اور ہوتے۔۔۔
جب شادی کی اجازت دے ہی دی تھی تو پھر مسلہ کیا ہے۔۔۔ وہ بھی تلخ ہو اٹھا۔۔۔ عفرا نے شکایتی انداز میں اسے دیکھا بولی کچھ نا۔۔۔۔۔
یہ ہی تو بات ہے محترمہ عفرا صاحبہ وہ مسکراتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ دکھ بھری مسکراہٹ۔۔۔
کہ آپ ذہین بہت ہیں۔۔۔ عقل کل ہیں۔۔۔
آپ نے اپنا ظرف بہت بڑا کر لیا۔۔۔ وہ قدم قدم چلتا اسکی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔ مگر اسکی آواز میں عجیب سی سختی تھی طنز تھا۔۔
مجھے دوسری شادی کی اجازت بھی دے دی۔۔۔ سیلف امپرومنٹ پر کام بھی کر لیا۔۔۔ وہ براہ راست اسکی آنکھوں میں دیکھتا بول رہا تھا۔۔۔۔  کیریئر بھی چن لیا۔۔۔ عفرا اسے اپنی جانب بڑھتا دیکھ خود بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔  امان کے انداز اسے ٹھٹھکا رہے تھے۔۔۔
کیرئیر پر کام کر کے کامیابی کی منازل طے کرنا بھی شروع کر دی۔۔۔۔۔۔ وہ مزید گویا ہوا۔۔ 
بس نہیں کیا تو ایک کام ہی نہیں کیا۔۔۔۔ وہ اسکے قریب رک کر دکھ سے اسکی آنکھوں میں دیکھتا زرا توقف کو رکا۔۔۔۔  وہ کیا بول رہا تھا عفرا کو سمجھ نا آیا۔۔۔ اسنے تھوک نگلتے استعجاب سے امان کو دیکھا جو اس سے چند انچ کے فاصلے پر کھڑا تھا۔۔۔ لیکن اسکے انداز عجیب ٹھٹھکانے والے تھے۔۔۔
بس نہیں کیا تو اپنے شوہر پر اعتبار ہی نہیں کیا۔۔۔ وہ اسکے بالکل قریب اسکی آنکھوں میں دیکھتا  تلخی سے مسکرایا۔۔۔۔
عفرا دھک سے رہ گئ۔۔۔ یہ کیا بول گیا تھا وہ۔۔۔۔۔۔ کیا کہیں کچھ غلط تھا۔۔۔ دل زور سے ڈھرکا
اور اعتبار کا کیا ہے یہ کوئی اتنی خاص چیز ہے بھی نہیں۔۔۔ ہے نا۔۔۔  
اس دفعہ عفرا کو اسکی آنکھوں میں کئ ان دیکھے شکوے نظر آئے۔۔۔۔ عفرا نے بے ساختہ تھوک نگلا۔۔۔۔ کہیں کچھ مسنگ تھا۔۔۔ لیکن کیا۔۔۔۔ وہ یوں کیعں بول رہا تھا۔۔۔
بس اسے اتنا پتہ تھا کے چوری چھپے کچھ کرنے والوں کے لہجے اتنے مضبوط اور کھڑے نہیں ہوتے۔۔۔ انکی آنکھوں میں یوں ہزاروں شکوے نہیں ہوتے۔۔۔۔ 
آج تم نے مجھے ہرٹ کیا ہے عفرا۔۔۔ وہ ہاتھ پشت پر باندھتا دو قدم پیچھے ہٹا۔۔۔ عفرا کو گمان گزرا جیسے اسکی آنکھیں نم ہو اٹھی ہوں جنہیں چھپانے کو وہ رخ بدل گیا۔۔۔ 
اتنا ہرٹ کیا ہے اتنا ہرٹ کیا  اتنا ہرٹ کیا ہے کہ مجھے حقیقتاً اپنے دل کے مقام پر تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔ اسکی آواز بھاری ہونے لگی تھی۔۔۔ عفرا تڑپ اٹھی ۔۔۔ اسے سمجھ نا آیا کہ کیا بولے۔۔۔ وہ تو ابھی حقیقی کہانی سے بھی نا آشنا تھی۔۔۔ یہ اسکے ساتھ ہو کیا رہا تھا۔۔۔ کیا کوئی پرینک۔۔۔ اسکا سر چکرانے لگا۔۔۔
میں خود کو دنیا کا ناکام ترین انسان محسوس کر رہا ہوں عفرا۔۔۔ وہ پلٹا ۔۔۔ اسکی آواز زرا اونچی ہوئی۔۔۔ فائدہ۔۔۔ فائدہ اس کامیابی کا جب گھر میں موجود آپکی بیوی ہی آپ پر اعتبار نا کرتی ہو۔۔۔ لہجہ پر شکوہ اور سوالیہ تھا
وہ ضبط کرتا دقت سے بول رہا تھا جبکہ عفرا وہ تو حق دق سی صورتحال کو ہی سمجھنے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔ یہ کہانی بدل کیسے رہی تھی۔۔
کہیں تو کچھ مسنگ تھا۔۔۔ کیسے پتہ کرتی۔۔۔
امااا۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ بولنے کو منہ کھولتی امان سختی سے ہاتھ اٹھاتا اسے خاموش کروا گیا۔۔۔ اسکے بعد وہ بنا اس سے بات کئے سٹڈی سے  تو کیا گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔
گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز پر عفرا کا دل ڈوب کر ابھرا۔۔۔ اور کچھ نا سہی بات تو کلیئر کر جاتا۔۔۔ اسنے بے چینی سے سوچا
دفعتاً عفرا کو پھر سے ایک میسج موصول ہوا۔۔۔ اسنے لپک کر موبائل اٹھایا۔۔۔
میسج اسی نمبر سے آیا تھا جس سے اسے کل وہ ویڈیو موصول ہوئی تھی۔۔۔
اسلام علیکم میم۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔ میں نے امان بھائی کا سرہرائز خراب کر دیا۔۔۔ پلیز آپ ان سے کہیں کے غصہ تھوک دیں اور مجھے کام سے نا نکالیں ۔۔۔ پلیز میم۔۔۔ وہ آپکی بات نہیں ٹالتے۔۔۔ دراصل میں نے تو فن کے لئے یہ سب کیا تھا مجھے نہیں پتہ تھا کے وہ میرے اس مذاق کو اتنا سیریس لے جائیں گے۔۔۔۔ 
میسج پڑھتے ہی غصے سے عفرا کی کنپٹی کی رگ پھرکنے لگی۔۔۔ دل چاہا کے کاش یہ گھٹیا شخص اسکے سامنے ہوتا تو وہ اسکا سر پھار دیتی۔۔۔
ایک دفعہ دل چاہا کے وہ اس سے ساری بات تو کنفرم کر لے لیکن پھر  غصے سے اسے میسج ٹائپ کرنے لگی۔۔۔
جہنم میں جاو تم۔۔۔ تمہارے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ کم ہے۔۔۔ تم اس سے زیادہ ڈیزرو کرتے ہو۔۔۔۔ تمہیں تو بیچ چوڑاہے پر الٹا لٹکا دینا چاہیے گھٹیا انسان
میسج ٹائپ کر کے وہ وہیں سر تھامتی کاوئچ پر بیٹھ گئ۔۔۔
بات کیا تھی۔۔۔ کیسا سرپرائر ۔۔۔اس ویڈیو کا مقصد۔۔۔ امان کی دوسری شادی۔۔۔ سب گڈ مڈ ہو رہا تھا اور ان الجھی ڈوروں کا کوئی سرا بھی نا مل رہا تھا۔۔۔
*****
ساری رات اسے ایک پل کا سکون نصیب نہیں ہوا تھا۔۔۔امان زندگی میں پہلی مرتبہ اس سے ناراض ہوا تھا۔۔۔ شادی کے بعد اسے کوئی ایک واقعہ بھی ایسا یاد نا آیا جب امان اس سے ناراض ہوتا۔۔ اور اب اتنا شدید ناراض ہوا تھا کے اس کی کال تک ریسیو نہیں کر رہا تھا۔۔۔
ناجانے کل رات سے وہ خود کہاں تھا۔۔۔ عفرا کے دل میں ہول اٹھ رہے تھے۔۔۔ اسکی ناراضگی بے چین کر رہی تھی۔۔۔ حقیقی بات سے وہ ابھی بھی آشنا نہیں تھی۔۔۔ شاید امان نے شادی نہیں کی تھی مگر پھر وہ ویڈیو۔۔۔ اور کیسا سرپرائز۔۔۔ وہ الجھ کر رہ جاتی۔۔۔
آج اسے کام بھی بہت تھے صلہ رات میں ہی اسے بتا چکی تھی مگر پھر بھی اسکا کچھ کرنے کو دل نا چاہ رہا تھا۔۔۔ دل اندر سے اداس ہو تو باہر پھر کچھ اچھا نہیں لگتا۔۔۔
لیکن اسکے باوجود وہ صلہ کے لئے نو بجے ہی تیار سی اس کے پاس کھڑی تھی۔۔۔ سب سے پہلے صلہ نے عفرا کیساتھ جا کر گھر کے قریبی سکول میں بچیوں کا ایڈمیشن کروایا اور پھر وہیں سے اسکے نئے گھر چلی گئ۔۔۔
صلہ آج اپنے گھر شفٹ ہو رہی تھی۔۔۔ یہ گھر عفرا کے گھر کے پاس ہی تھا۔۔۔ دو بیڈ روم ایک چھوٹے سے لاوئنج اور اوپن کچن پر مشتمل یہ چھوٹا سا گھر صلہ کی اب کل جنت تھا۔۔۔
گھر کی سیٹینگ کے بعد عفرا بچیاں لے کر اپنے گھر واپس آ گئ جبکہ صلہ وہیں سے امان کے بتائے آفس انٹرویو کے لئے چلی گئ۔۔۔
******
بچیاں اس چھوٹے سے لاوئنج میں صوفوں پر بیٹھی ایل سی ڈی پر کارٹوں دیکھ رہی تھیں جب صلہ نے کچن سے لا کر رات کا کھانا انکے سامنے رکھا اور خود کافی کا کپ اٹھاتی سنگل صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔ آج اسکی اس گھر میں پہلی رات تھی اور آج کی رات اس پر خاصی بھاری تھی۔۔۔ دل عجیب سا ہو رہا تھا۔۔۔ ابھی تو آبلہ پائی کا یہ سفر بہت لمبا تھا اور آنکھ ابھی سے نم ہونے لگی تھی۔۔۔۔
شاید خالہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھیں کے زیست کا یہ سفر تنہا کاٹنا بہت مشکل تھا۔۔۔ اسکے ساتھ ہی سوچوں کی پرواز کا رخ اس ستم گر کی جانب چلا گیا جسے اسنے کبھی نا سوچنے کا عہد کیا تھا۔۔۔ 
لیکن اکثر کچھ سوچتے سوچتے اسکی سوچ اسی ستم گر کی جانب محو پرواز ہو جاتی۔۔۔
ہمیشہ مجھ سے اتنی محبت ہی کرو گئے نا۔۔۔ ہوا کے دوش پر ایک کھلکھلاتی آواز سنائی دی۔۔۔ ہمیشہ۔۔۔ جب ہم دادی دادا اور نانی نانا بھی بن گئے نا تب بھی۔۔۔ ساتھ ہی ایک قہقہ ابھرا تھا۔۔۔۔ وہ بدقت خود کو سمبھالتی ماضی سے پیچھا چھڑا پائی.  
 اسنے گھر کے سبھی دروازوں اور کھڑکیوں کے لاک اچھے سے چیک کئے مگر اسے باوجود دل اکیلے رہنے سے ڈر رہا تھا۔۔۔ امان کے گھر تو ابھی تک یہ تنہائی محسوس نہیں ہوئی تھی مگر اب یہاں بہت محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ 
اتنی کم مدت تھی انکے رشتے کی۔۔۔ 
کافی پیتے اسے پتہ ہی نا چلا کہ کب اسکی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔ ہوش تو تب آیا جب دو ننھے ہاتھوں نے اسکے آنسو صاف کئے۔۔۔
وہ چونک کر انکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
ماما آپ رو کیوں رہی ہو۔۔۔ وہ دونوں پریشانی سے اسے دیکھتیں مستفسر تھیں۔۔۔ اسکے آنسو مزید بہہ نکلے۔۔۔
ماما آپ مت رو ورنہ ہمیں بھی رونا آ رہا ہے۔۔۔ نینا نے منہ بسورتے کہا تو صلہ نے نم آنکھوں سے مسکراتے انہیں خود میں بھینچ لیا۔۔۔
نہیں میں نہیں رو رہی۔۔۔ اسنے چٹاچٹ انکے معصوم چہروں کے بوسے لیتے اپنا چہرا رگڑ کر صاف کیا۔۔۔
چلو آپ لوگ کھانا کھا لیا ہے تو سب بند کرو۔۔۔ اب سونے کا ٹائم ہے صبح پھر آپ نے سکول بھی جانا ہے وہ انکا سب کچھ سمیٹی انہیں ساتھ لے کر کمرے میں چل دی۔۔۔
ان دونوں کے درمیان میں لیٹ کر اس نے ان دونوں کو سلایا اور کافی دیر کسی غیر مری نقطے کو دیکھتی اپنے مستقبل کے بارے میں ہی سوچتی رہی۔۔۔ جب کافی وقت گزرنے کا احساس ہوا تو اللہ توکل سب چھوڑتی سر جھٹک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
بس نیا نیا ہی یہ سب ہو رہا ہے۔۔۔۔ ایک دو روز تک وہ اس ماحول سے رفتہ رفتہ ایڈجسٹ کرنے لگتی۔۔۔ اسنے خود کو سمجھاتے تسلی دی۔۔
صبح بچوں کا پہلا دن تھا سکول میں اور اسکا آفس میں بھی۔۔۔
آج وہ جا کر مرزا صاحب سے مل کر اپنا اپائمنٹ لیٹر لے آئی تھی۔۔۔ مرزا صاحب پچاس پچپن سال کے کافی سوبر شخصیت کے حامل شخص تھے۔۔۔ ان سے مل کر اسکی جاب کے حوالے سے خدشات بھی جاتے رہے تھے۔۔۔
وہ وہاں سے اٹھ کر صبح کے لئے اپنے اور بچوں کے کپڑے استری کرنے لگی۔۔۔ 
*******

No comments

Powered by Blogger.
4