Header Ads

khuab_e_janoon novel 73rd episode by Umme Hania۔


 

khuab_e_janoon novel 73rd episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

73rd epi...
 عفرا اپنے کمرے میں یہاں سے وہاں پیدل مارچ کرتی مسلسل گہرے گہرے سانس خارج کرتی خود کو کمپوز کر رہی تھی۔۔۔ کبھی ماتھا مسلتی کبھی آنکھوں کی نمی کو اندر انڈیلتی وہ خود ہی اپنے محسوسات سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔ اس وقت وہ وہاں لاوئنج سے اٹھ کر کمرے تک کیسے پہنچی تھی یہ یا تو وہ جانتی تھی یا اسکا خدا۔۔۔ اسکے سبسکرائبرز مسلسل بڑھ رہے تھے۔۔۔ وہ کامیابی جس کا اسنے پہروں انتظار کیا تھا اب دروازے پر کھڑی تھی مگر اندر سے کہیں اسکی خوشی ہی مر گئ تھی۔۔۔ ابھی صلہ اسے بتا کر گئ تھی کے اسکے سبسکرائبرز پچاس ہزار ہو گئے ہیں اور چینل کی مسلسل گروتھ ہو رہی ہے مگر وہ ذہنی طور پر وہاں تھی ہی کب۔۔۔ 
وہ موبائل پر آئی اس ویڈیو کو کوئی پانچویں بار پلے کر کے دیکھ چکی تھی مگر اسکی ابھی تک تسلی نہیں ہوئی تھی۔۔۔
اندر کہیں دل کا کوئی ایک خانہ مسلسل اس چیز کی نفی کر رہا تھا۔۔ ناجانے کیوں اندر سے جیسے کوئی کہہ رہا ہو کے ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ اسنے کمر پر ہاتھ رکھتے چہرے پر ہاتھ ہھیرا اور ایک مرتبہ پھر سے ویڈیو پلے کی۔۔۔ لیکن اس بار جھنجھلا کر وہیں ویڈیو پاز کر دی۔۔۔
اسکے ایک ایک انداز سے اسکی بے چینی کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔۔۔
کسی کروٹ سکون بھی تو نا مل رہا تھا۔۔۔
رات کا کھانا کھانے سے وہ  پہلے ہی انکار کر چکی تھی۔۔۔ اب بھی اسے مسلسل پیدل مارچ کرتے آدھی رات ہو گئ تھی اور رات کا سوچتے ہی دل مزید بے چین ہونے لگا۔۔۔
جب بے چینی حد سے سوا ہوئی تو اسنے لپک کر موبائل اٹھایا اور امان کا نمبر ملانے لگی۔۔۔
مگر ایک بار دو بار پھر بار بار۔۔۔ مسلسل بیلز جا رہی تھیں مگر کوئی اٹھا نہیں رہا تھا۔۔۔
بے چینی اب غصے میں بدلنے لگی تھی۔۔۔ کچھ اور نہیں تو بندہ اپنی خیریت تو بتا ہی دیتا ہے ۔۔۔۔ وہ دل ہی دل بھر بھراتی آ کر دھپ سے بستر پر گرتی آنکھیں موند گئ۔۔۔
وہ اب صرف سونا چاہتی تھی۔۔۔ وہ نیند کی خواہشمند تھئ لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔
کروٹیں بدلتے رات کے کس پہر نیند اس پر مہربان ہوئی اسے پتہ ہی نا چلا ۔۔۔۔
*****
صبح اسکی آنکھ معمول سے کافی ہٹ کر کھلی تھی۔۔۔ آنکھ کھولتے ہی اسے اپنے پاس خالہ بیٹھی دیکھائی دیں۔۔۔۔ 
اب کیسی طبیعت ہے بچے۔۔۔ یہ اچانک کیا ہوگیا تمہیں۔۔۔ رات تک تو اچھی بھلی تھی۔۔۔ خالہ اس پر جھکی محبت سے اسکی ماتھے پر ہاتھ رکھتیں گویا ہوئیں۔۔۔ خالہ کی محبت پر اسکا دل بھر آیا۔۔۔ وہ کھسک کر انکی گود میں سر رکھتی سسک اٹھی۔۔۔
ارےےے یہ کیا عفرا۔۔۔ کیا ہوگیا بیٹا۔۔۔۔ اسکی اس حرکت پر خالہ بوکھلا اٹھی تھیں۔۔۔۔ دفعتا صلہ بھی سوپ کا باول اٹھائے اندر داخل ہوئی۔۔۔
کیا پوا عفرا کیا زیادہ طبیعت خراب ہے۔۔۔ وہ سائیڈ ٹیبل پر باول رکھتی اسکے پاس ہی بیٹھ گئ۔۔۔
نہیں بس تھوڑا سا سر درد کر رہا ہے تو امی یاد آگئ۔۔۔ وہ بدقت مسکرا کر گویا ہوئی ۔۔ 
دوپہر تک اسکا بخار بھی اتر چکا تھا۔۔۔ خالہ اور صلہ اسکے ساتھ ہی تھیں۔۔۔۔
شام تک امان بھی واپس گھر آگیا۔۔۔
عفرا اپنے کمرے میں تھی جب اسکی گاڑی باہر کار پورچ میں آ کر رکی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ باہر سے اسکی زندگی سے بھرپور آواز گھونجی تھی۔۔۔ وہ بچیوں سے مل رہا تھا۔۔۔
اسکی آواز سن کر وہ بھی کسلمندی سے بستر سے اتری۔۔۔ 
اس سے پہلے کے وہ کمرے سے نکلتی امان کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ کیسی ہو عفی پرنسس۔۔۔ اب طبیعت کیسی ہے۔۔۔  اسنے اپنے سامنے کھڑی عفرا کو استحقاق سے اپنے حصار میں مقید کیا تو بے ساختہ اسکی آنکھیں نم ہونے لگی۔۔۔
اسکے شانے پر سر ٹکائے اسکی شرٹ کو مٹھی میں جھکڑے اسکا بے ساختہ دل چاہا کے پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔۔۔ لیکن وہ ضبط کئے کھڑی تھی۔۔۔۔ اسے اپنے سر پر امان کے ہونٹوں کا لمس محسوس ہوا تو وہ ایک گیلی سانس اندر کھینچتی پیچھے ہٹی۔۔۔
Many many Congratulations on completing 100000 subscribers
 امان نے محبت سے اسکا چہرا تھوڑی سے پکڑ کر اونچا کرتے کہا تو عفرا پھیکا سا مسکرا دی۔۔۔
Thank you...
 اسکا انداز دیکھ کر امان ٹھٹھکا۔۔۔۔
کیا ہوا عفرا۔۔۔ کیا تمہیں تمہاری اتنی بڑی اچیومنٹ کی خوشی نہیں ہوئی۔۔۔ امان اسکا بجھا بجھا سا انداز دیکھ کر حیرت سے مستفسر ہوا۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے امان ۔۔۔ میں خوش ہوں۔۔۔ اسنے بدقت مسکرا کر خود کو خوش ظاہر کرنا چاہا۔۔۔ مگر آگے بھی ایک چہرا شناس تھا۔۔۔ جو چہرے پڑھنے کے فن سے آشنا تھا۔۔۔
آپ فریش ہو جائیں میں آپکے لئے چائے لاتی ہوں۔۔۔ وہ واڈروب کی جانب بڑھتی اسکا لباس نکالتی گویا ہوئی۔۔۔
امان اسکا ایک ایک انداز نوٹ کر رہا تھا۔۔۔ کہیں نا کہیں تو گڑبڑ تھی۔۔۔
کوئی غلطی ہو گئ کیا مجھ سے ۔۔۔ عفرا اسکے کپڑے واش روم میں لٹکا کر کمرے سے باہر نکلنے لگی تو امان بے ساختہ اسکی بازو تھامتا گویا ہوا۔۔۔۔
عفرا کو خود پر  ضبط کرنا محال ہوا۔۔۔
وہ وہیں چہرا جھکائے ہونٹ کچلتی سسک اٹھی۔۔۔
ہے عفرا۔۔۔۔ یہ کیا یار۔۔۔۔ کیا مجھ سے ناراض ہو۔۔۔ لیکن ایسے کیسے۔۔۔ بتاو گئ نہیں تو مجھے پتہ کیسے چلے گا۔۔۔۔ وہ تڑپ کر اسکی جانب بڑھتا اسکا نم چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا گویا ہوا۔۔۔۔
میری انگلیاں ٹوٹ گئیں کل رات آپکا نمبر ملا ملا کر۔۔۔ آپ نے ایک دفعہ بھی کال رسیو نہیں کی۔۔۔ ایسی بھی کونسی مصروفیت تھی امان کے بندہ اپنی خیریت بتانے سے رہا۔۔۔۔ وہ شکوہ کناں نگاہوں سے امان کو دیکھتی گلوگیر لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
سو سوری عفی پرنسس۔۔۔ وہ زبان دانتوں تلے دابتا پشیمان سا گویا ہوا۔۔۔۔
کل رات کچھ کام تھا۔۔۔ بہت مصروف تھا اس لئے موبائل سائیلنٹ پر تھا۔۔۔ لیکن صبح ہوتے ہی میں نے کال کی تھی ۔۔۔پر امی نے بتایا کے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں اس لئے تم آرام کر رہی ہو۔۔۔۔
اسکی باتیں سن کر عفرا میں ہمت نا رہی کے وہ اس سے اسکی مصروفیت کے بارے میں پوچھتی یا کل سے خود کو لاحق بے چینی کا سبب اس سے کنفرم کرتی۔۔۔
اٹس اوکے۔۔۔ میں چائے لاتی ہوں آپ فریش ہو لیں۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتی کمرے سے نکل گئ جبکہ امان سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔
*****
رات کا ڈنر سب نے اکھٹے کیا تھا اسکے بعد امان اپنی سٹڈی میں آگیا۔۔۔ کچھ دیر بعد عفرا بھی وہیں آتی خاموشی سے کاوچ پر بیٹھتی لیپ ٹاپ پر اپنا کام کرنے لگی۔۔۔ لیکن اسکا انداز بہت کھویا کھویا سا تھا۔۔۔ امان نے اپنا پیپر ورک کرتے کئ بار نگاہیں اٹھا کر اسکی غائب دماغی نوٹ کی ۔۔۔ وہ جیسے وہاں ہو کر بھی وہاں نہیں تھی۔۔۔ کچھ تو اسکے ساتھ مسلہ تھا جسکی وہ پردہ داری کر رہی تھی۔۔۔
وہ بات امان سے شیئر کر نہیں رہی تھی تو امان بھی زبردستی کا قائل نہیں تھا۔۔۔
دفعتاً صلہ کے وہاں آنے پر عفرا بھی چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
آو صلہ میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔۔۔ صلہ آ کر عفرا کے پاس ہی بیٹھی تو امان  اپنے سامنے موجود میز کے دراز سے ایک کارڈ نکالتا گویا ہوا۔۔۔ 
یہ کارڈ رکھ لو یہاں مرزا صاحب سے جا کر مل لینا۔۔۔ وہ تمہیں وہاں کا سارا کام سمجھا دیں گئے ۔۔۔ کافی اچھے انسان ہیں وہ۔۔۔ امان نے کارڈ صلہ کی جانب بڑھایا تو وہ کارڈ تھام کر اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی۔۔۔
یقیناً اس جاب کا انتظام امان نے کیا تھا تو یہ ہر لحاظ سے صلہ کے لئے اچھی ہی ہوتی۔۔۔
اسنے خاموشی سے اپنے ہاتھ میں تھاما جرنل امان کے آگے رکھا تو اسنے چونک کر صلہ کی جانب دیکھا۔۔۔
یہ میں نے مائنڈ میپنگ کی تھی اپنی۔۔۔ اور اس میں سے مجھے لگا کہ یہ ایک چیز ہے جو میرے دل سے نکلتی ہے لیکن مجھے یہ نہیں پتہ کے میں اسے کیریر کے طور پر لے سکتی ہوں یا نہیں۔۔۔ صلہ نے جرنل کے اوپر دائرے میں لکھے لفظ پر انگلی رکھتے کہا۔۔۔
تو امان نے سنجیدگی سے اس جانب دیکھا جہاں لفظ ٹراما لکھا تھا۔۔۔ ایک مسکراہٹ امان کے لبوں کو چھو گئ۔۔۔
کیا واقعی تمہیں ایسا لگتا ہے۔۔۔
جی ۔۔۔ میرے خیال میں میری زندگی میں محض ٹراماز ہی ہیں۔۔۔ پچھلے چار سالوں میں میں اتنے ٹراماز سے گزری ہوں کے کوئی اور لفظ سوجھا ہی نہیں۔۔۔
صدمہ لے کے کر اندھی ہوگئ۔۔۔ اپنی ذات مسخ کر ڈالی۔۔۔ اپنا کانفیڈینس تباہ کر لیا لیکن اس دوران میں نے ایک ہی بات سیکھی ہے کہ چاہیے آپ کچھ بھی کر لو ۔۔۔ خود کو جتنا مرضی ڈی گریڈ کر لو۔۔۔ جہاں تک مرضی جوتوں کا کارپٹ بن جاو ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے۔۔۔
بات کرتے اسکا لہجہ بھرا گیا تھا۔۔۔
کیا تم نے میرا کل کا سیمینار دیکھا تھا۔۔۔ امان اسے سنجیدگی سے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
عفرا خاموشی سے کاوچ کی پشت سے ٹیک لگائے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
جی میں نے دیکھا تھا۔۔۔
اس میں میں نے ایک بات بتائی تھی کے ہمیشہ پرابلم سولور بنو۔۔۔ جتنی بڑی پرابلم آپ سولو کرو گئے اتنا ہی زیادہ گرو کرو گئے۔۔۔
جیسے اگر سر درد کر رہا ہو تو اسکا علاج کیا ہے ایک پینا ڈول۔۔۔ اس پر آپ کتنے روپے خرچ کرو گئے زیادہ سے زیادہ دس روپے۔۔۔ وہ مسکرا کر اسے دیکھتا بول رہا تھا۔۔۔
لیکن اگر خدانخواستہ کسی کو برین ہمرج ہو جائے تو کیا کرو گئے۔۔۔ ایسی سچویشنز میں لوگ علاج کی خاطر اپنے گھر بار تک بیچ ڈالتے ہیں۔۔۔۔ 
سمجھ آئی میری بات کے میں کیا سمجھانا چاہ رہا ہوں۔۔۔ لوگوں کی پرابلم دیکھ کر انکے حل تلاش کرو ۔۔۔
آسان الفاظ میں سمجھاوں۔۔۔ وہ تھورا سا آگے کو جھکتا اسکی آنکھوں میں دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
صلہ نے الجھی نگاہعں سے اسے دیکھتے سر ہاں میں ہلانے پر اکتفا کیا۔۔۔۔
ٹراماز سے گزری ہو نا۔۔۔۔ انہیں تم نے ایکسپیرینس کیا ہے اور ان مشکل حالات سے خود کو نکالا بھی ہے تو اس چیز کو آگے لے کر چلو۔۔۔
انسانی رویوں کو زرا اچھے سے سمجھنے لگی ہو نا تو اپنے ٹراماز کو اپنا کیریر بناو۔۔۔
سائیکولوجی کی گہرائی میں اتر جاو۔۔۔ اگر تم اپنی جیسی کئ دوسری لڑکیوں کی زندگیوں میں اپنے تجربے اور نالج کی بنیاد پر کچھ بہتری لا پانے میں کامیاب ہو پاو تو یہ تمہارے لئے ایک اعزاز کی بات ہوگئ ۔۔ رائٹ۔۔ اسنے رک کر اسکی رائے جاننی چاہیے۔۔۔
اور اس ایک کام کو شروع کرنے کے پیچھے تمہارا مقصد یہ ہی ہونا چاہیے کے تم دوسروں کی زندگیوں میں کچھ ویلیو ایڈ کرنا چاہتی ہو۔۔۔ پھر اہمیت نہیں رکھتا کے وہ لوگ تعداد میں چند گنے چنے ہوں یا انکی تعداد ہزاروں میں ہو تم نے بس اپنے کام سے مخلص رہنا ہے۔۔۔ صلہ کے سر ہاں میں ہلانے پر وہ مزید گویا ہوا
میرے خیال سے تمہیں سائیکولوجی کو جاننا چاہے اپنا نالج اس فیلڈ میں بڑھا کر کچھ ایڈیشنل ڈپلومے کر کے پہلے خود کو اس قابل بنانا چاہیے کے تم دوسروں کی زندگیوں میں ویلیو ایڈ کر سکو۔۔۔
آپکا مطلب ہے کہ سائکائٹرسٹ۔۔۔۔ اسکے دماغ میں چند دن پہلے اس سے ملنے والی سائیکائٹرسٹ کا عکس گھوما۔۔۔
نہیں ۔۔۔ میرا مطلب ہے سائیکالوجسٹ۔۔۔ وہ اسکی تصیح کرتا لفظ سائیکالوجسٹ پر زور دیتا گویا ہوا۔۔۔
صلہ الجھ کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
دونوں الگ الگ ہیں کیا۔۔۔
بالکل دونوں الگ الگ ہیں ۔ لیکن بہت سے لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے کے دونوں ایک ہی ہیں۔۔۔۔تم دونوں کے فرق کو سرچ کر سکتی ہو۔۔۔ سائیکائٹرسٹ باقاعدہ ایم بی بی ایس ڈگری ہولڈر ڈاکٹر ہوتا ہے جو میڈیسنز کے ذریعے سے آپکی نفسیاتی بیماری کا علاج کرتا ہے۔۔۔ جبکہ سائیکالوجست نفسیات کا ماہر ہوتا ہے اسکے الفاظ اسکے مریضوں کے لئے آب حیات کا کام کرتے ہیں۔۔۔ وہ اپنے لفظوں کے ذریعے لوگوں کو مایوسی اور صدمات کے گہرے اثرات اور اندھیروں سے باہر کھینچ لاتا ہے۔۔۔ 
وہ ہلکا سا مسکرایا جبکہ صلہ کے دماغ میں بیک وقت بہت کچھ چلنے لگا تھا۔۔۔
ہاں یہ چیز انٹرسٹنگ تھی۔۔۔ وہ اسکی گہرائی میں جا کر ڈوب کر اسکا مطالعہ کر سکتی تھی۔۔۔ ہاں وہ اسے کیرئیر کے طور پر لے سکتی تھی۔۔۔۔ امان سے گفتگو کر کے اسکی بہت سی الحھنیں سلجھ گئ تھیں۔۔۔ نئ راہیں دکھائی دینے لگیں تھیں۔۔
ایک بات پوچھوں امان بھائی۔۔۔ جاتے جاتے وہ رک کر پلٹی اور لبوں پر امڈی مسکراہٹ کو لبوں میں دابتی شرارتی انداز میں گویا ہوئی۔۔
ہمم پوچھو۔۔۔ وہ جو واپس اپنے کاغذات پر جھک چکا تھا مصروف سے انداز میں اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
اتنے حاضر جواب کیسے ہیں آپ۔۔ ہر بات کا جواب اور ہر مسلے کا حل آپکے پاس کیسے موجود ہوتا ہے۔۔۔
اسکی بات پر امان ہلکا سا مسکرا دیا۔۔۔
یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔۔۔ جتنا آپ مطالعہ کرتے ہیں نئ چیزیں سیکھتے ہیں اتنا آپکو کلیریٹی ملتی جاتی یے اور دماغ کو وسعتیں بھی۔۔۔ باقی بہت سی چیزیں ایسی بھی ہیں جنکا مجھے علم نہیں بھی ہوتا کیونکہ مکمل علم کسی کے پاس بھی نہیں ہوتا سیکھنے کا عمل تاقیامت جاری رہتا ہے۔۔۔۔۔ تو اگر کوئی مجھ سے کسی ایسے ٹاپک پر بات کرنے لگتا ہے جسکا مجھے علم نہیں ہوتا تو میں اسے سادگی سے یہ کہہ دیتا ہوں کہ اس چیز کا نالج میرے پاس ابھی نہیں ہے اس لئے میں اس ٹاپک پر فلحال رائے  نہیں دے سکتا لیکن جلد میں اس پر ریسرچ کر کے آپ سے اس بارے میں بات کروں گا۔۔۔ اسنے سادگی سے کندھے اچکائے تو وہ اسکی شخصیت سے مزید متاثر ہوتی سٹڈی سے باہر نکل گئ۔۔۔ سوچ کے نئے در اس پر وا ہوئے تھے تو اسے بھرپور پلینینگ سے ان پر کام کرنا تھا۔۔۔
*****
صلہ کے جانے کے بعد بھی کافی دیر تک وہ عفرا کی بے چینی نوٹ کرتا رہا تھا۔۔۔ لیکن خاموش تھا۔۔۔
بلآخر عفرا نے ایک گہری سانس خارج کرتے لیپ ٹاپ کی سکرین بند کی اور کاوچ کی ہشت سے ٹیک لگاتی آنکھیں موند گی۔۔۔
آپ اس سے مجھے ملوا کب رہے ہیں ۔۔۔ بلآخر امان کو اسکی تھکی تھکی سی آواز سنائی دی ۔۔۔ امان نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔۔
کسے۔۔۔ کس کی بات کر رہی ہو۔۔۔
آپکی دوسری بیوی کی۔۔۔ مجھے کب اس سے ملوا رہے ہیں۔۔۔ عفرا نے آنکھیں کھول کر اسکی جانب دیکھتے مسکرا کر دوستانہ انداز میں کہا۔۔۔ جبکہ اسکی بات پر امان کا دماغ بھک سے اڑا۔۔۔۔
وہ کئ لمحوں تک ہل نہیں سکا تھا بس ششدر سا اسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔ جسے اسے اس بات کا یقین نا آ رہا ہو کہ یہ بات اس سے عفر نے پوچھی یے۔۔۔
تمہیں کس نے کہا۔۔۔ وہ کمزور سے لہجے میں اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
کیا یہ بات اہمیت رکھتی ہے۔۔۔ اس کے برعکس اہمیت یہ رکھتا ہے کہ آپ نے مجھے نہیں بتایا۔۔۔ وہ اسے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔
نہیں اسکے باوجود مجھے تمہارا سورس آف انفارمیشن  جاننا ہے۔۔۔ باقی سب تو بعد میں۔۔۔۔
وہ اسے گہری نگاہوں سے دیکھتا ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
عفرا نے بہت ضبط سے موبائل پر آئی ویڈیو پلے کر کے امان کو تھمائی جس میں وہ شیروانی پہنے ایک سرخ لباس میں گھونگھت اوڑھے بیٹھی لڑکی کیساتھ بیٹھا نکاح نامے پر سائن کر رہا تھا۔۔۔ خوشی اسکے چہرے سے پھوٹ رہی تھی۔۔۔کہیں سے ایسا نا لگ رہا تھا کے وہ لگے بندھے مجبوری میں یہ شادی کر رہا ہو۔۔۔ ویڈیو دیکھتے امان نے زیر لب ویڈپو بھیجنے والے کو گالی سے نوازا۔۔ اسکا دماغ پھٹنے کے قریب تھا جبکہ آنکھوں سے شرارے پھوٹ رہے تھے۔۔۔ یہ سب وہ شخص یوں اس انداز میں کھولے گا اسنے توقع نہیں کی تھی۔۔۔ وہ نہایت غصے سے اپنا موبائل نکالتا اس پر ایک نمبر ڈائل کرنے لگا۔۔۔
جبکہ عفرا حیران سی اسکا ردعمل سمجھنے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4