Header Ads

khuab_e_janoon novel 72nd episode by Umme Hania۔


 

khuab_e_janoon novel 72nd episode  by Umme Hania۔


Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

72nd epi
رات کی  سیاہی چار سو پھیلی ہوئی تھی ایسے میں چاند کی چاندی اس بند کھڑکی کے گلاس سے ٹکرا کر واپس پلٹ رہی تھی۔۔۔ اس کھڑکی سے اندر جھانکو تو بستر پر عینا اور نینا دونوں محو استراحت تھیں جب کے ان سے کچھ فاصلے پر صلہ گرم شال اوڑھے بالوں کی ڈھیلی سی  پونی بنائے سنجیدہ سی صوفے پر بیٹھی سامنے موجود میز پر جھکی ہوئی تھی۔۔۔ اسکی سوچتی نگاہیں سامنے موجود جرنل پر مرکوز تھیں جبکہ ہاتھ میں تھامی بالپوائنٹ ایک پوائنٹ پر رکی ہوئی تھی۔۔۔
پھر کچھ سوچتے اسنے جرنل کے وسط میں صلہ لکھ کر اسکے گرد دائرہ لگایا۔۔۔ وہ اپنی مائنڈ میپنگ کرنے کو تیار تھی۔۔۔ آہستہ آہستہ وہ اپنے دماغ میں بنے نقشے کو کاغذ پر اتار رہی تھی۔۔۔
ایسا کیا کچھ تھا جو اسے آتا تھا یا جنہیں کرنے میں وہ دلچسپی رکھتی تھی۔۔۔
سب سے پہلے اسنے لفظ صلہ سے ایک لائن کھینچ کر بک ریڈینگ لکھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ ورق بالپوائنٹ کی سیاہی سے سیاہ ہوتا چلا گیا۔۔۔ 
کوکنگ۔۔۔  کڈز مینی ٹوائز۔۔۔
بک ریویو۔۔۔ سرپرائز پارٹیز۔۔۔
ایکسپلور۔۔۔ ٹریولنگ۔۔۔۔
فوڈ سٹریٹ۔۔۔۔ فن۔۔۔
اچانک لکھتے لکھتے وہ رکی۔۔۔
یہ سب اسکی دلچسپی کی چیزیں تھیں۔۔۔ لیکن ان سب چیزوں میں سے وہ کس چیز کو اپنے کیریئر کے طور پر لے سکتی تھی۔۔۔ 
اسنے سبھی چیزوں پر غور کیا۔۔۔ لیکن اسکے شوق کی ہر چیز ایکسپینسو تھی۔۔۔ وہ ان میں سے کسی کو بھی کیریر کے طور پر نہیں لے سکتی تھی ۔۔ کیونکہ اسے جو کرنا تھا وہ زیرو کوسٹ انویسٹمنٹ سے کرنا تھا۔۔۔ جبکہ ایکسپلور کرنے یا ٹریولنگ اور فوڈ سٹریٹ ہر چیز کے لئے انویسٹمنٹ کہ ضرورت تھی۔۔۔
پھر کسے وہ کیریر کے لئے منتخب کرتی۔۔۔
ایسا کونسی چیز تھی اسکے پاس جو اپنا آپ خود اس سے کرواتی ۔۔ جسے کرتے وہ اکتاتی نا۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر جس میں صرف محنت لگتی جو زیرو انویسٹمنٹ ہوتی۔۔۔
وہ اپنے دماغ میں موجود ہر سوچ کو کنگھال رہی تھی۔۔۔ ایسا کیا تھا جسکے لئے وہ پیشینیٹ ہو سکتی تھی۔۔۔ کوئی ایک چیز۔۔۔ کوئی بھی۔۔۔
کچھ نا کچھ تو ہوتا۔۔۔ پر کیا۔۔۔
وہ مسلسل سوچ رہی تھی۔۔۔ اسکا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔۔۔
اسے زندگی میں آگے بڑھنا تھا۔۔۔ وہ ایک جگہ پر رک کر جمہود کا شکار نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔ ہر انسان میں کوئی نا کوئی ٹیلنٹ تو ہوتا ہے جسے وہ پالش کر سکتا ہے۔۔ اسکے پاس کیا تھا۔۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ بالکل ہی خالی الدماغ ہوتی۔۔۔ کچھ نا کچھ تو تھا اسکے پاس 
۔۔۔۔ لیکن کیا۔۔۔
مسلسل سوچتی وہ اچانک ایک جگہ پر رکی۔۔۔
ہاں تھا اسکے پاس کچھ ایسا جو اسکے چوبیس گھنٹوں کا ساتھی تھا۔۔۔ مگر کیا وہ اسے ایک کیریر کے طور پر لے سکتی تھی۔۔۔ اسکے چہرے پر پریشانی کے اثرات نمودار ہوئے۔۔۔
کیا اسے اس چیز کو اپنی مائنڈ میپنگ میں شامل کرنا چاہیے یا اس سوچ کو دماغ میں ہی کہیں دفن کر  لینا چاہیے۔۔۔ وہ شش و پنج کا شکار تھی۔۔۔
لیکن نہیں اسے ایک مرتبہ تو اپنی اس الجھن کو سلجھانا چاہیے تھا۔۔۔
نہایت سوچ بچار کے بعد اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنی مائنڈ میپنگ کے صفحے پر ایک آخری لفظ لکھا  اور پھر اسکے گرد ایک دائرہ لگاتے اس پر ٹک کا نشان لگایا۔۔۔ وہ امان سے اپنی یہ بات کلیئر کروانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔
*****
اس بڑے سے ہال میں اس وقت عدالت لگی تھی۔۔۔ بھرائی آنکھوں سے شوہر کے پہلو میں ایک دوشیزہ کو دیکھتی تانیہ کپکپاتی ہوئی ماں کی اوٹ میں کھڑی تھی۔۔۔ جبکہ کرن نے اسے تھام رکھا تھا۔۔۔ ثانیہ اور ماں اسکے شوہر اور ساس پر اپنی بھراس نکال رہی تھیں۔۔۔
ان سب میں اسکا شوہر سر جھکائے خاموش کھڑا تھا۔۔۔۔
ارے خدا کا عذاب نازل ہو تم لوگوں پر۔۔۔ جرات کیسے ہوئی تم لوگوں کی میری چاند سی بیٹی پر سوتن لانے کی۔۔۔ بولتے بولتے تائی کا سانس پھولنے لگا تھا جب تانیہ کی سانس سامنے آئی۔۔
ارے بہن ہمارا بھی ایک ہی بیٹا ہے۔۔۔ ہمیں بھی اپنے خاندان کے لئے وارث چاہیے۔۔۔ اگر آپ دو پوتیوں کے ہوتے ہوئے بیٹے کی دوسری شادی کر سکتی ہیں تو پھر ہمارے پاس تو پوتیاں بھی نہیں۔۔۔ ہماری تو بہو ہی بانج ہے۔۔۔۔
خبردار ۔۔۔ خبردار جو کسی نے میری بیٹی کو بانج بولا تو۔۔۔ اپنے دل پر ہاتھ پڑا تو ماں کی روح بلبلا اٹھی تھی۔۔۔ تائی چیختی ہوئی گویا ہوئی۔۔ جبکہ تانیہ کے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔ وہ صدمے کے تحت بس شوہر کو ہی دیکھتی جا رہی تھی جسنے تب سے ایک مرتبہ بھی اسکی جانب نظر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔۔۔ آخر اتنے سالوں کے ساتھ میں ایسا کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔
بس بہن بس کردو۔۔۔ تمہارے ماننے یا نا ماننے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی۔۔۔ اور بہت سے لوگ دوسری شادیاں کرتے ہیں آخر میرے بیٹے نے ایسا کونسا انہونا کام کر دیا۔۔۔ اور پھر یہ کام تو آپکے گھر سے ہی چلا ہے پھر اتنا واویلا کس بات کا۔۔۔ 
تانیہ کی ساس کی باتیں سن کر تائی کا جسم کپکپانے لگا تھا۔۔۔ ایک لمبی چوڑی لاحاصل بحث کے بعد تائی اور اسکی بہنیں ہانپتی کانپتی حال سے بے گال ہوتی تانیہ کو لئے گھر آ گئ تھیں۔۔۔
ماں یہ آپ سب کا کیا میرے سامنے آ رہا ہے۔۔۔ آپ سب نے صلہ کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔۔ اسکی بددعائیں لگ گئ میری خوشیوں کو۔۔۔ تانیہ لاوئنج کے وسط میں بیٹھی ڈھاریں مار مار کر بین کر رہی تھی۔۔۔
او بی بی بس کر دو۔۔۔ اسکے ساتھ جو ہوا وہ اسے ڈیزرو کرتی تھی تمہیں زیادہ نیک پروین بننے کی ضرورت نہیں۔۔۔ اسکے واویلے سن کر ثانیہ کی اس سے ساری ہمدردی ہوا ہوئی اور وہ ناک سے مکھی اڑارتی نخوت سے گویا ہوئی۔۔۔
تانیہ نے صدمے سے اسے دیکھا۔۔۔
تم ابھی تک وہیں جمی کھڑی ہو۔۔۔ ہم نے غلط کیا اسکے ساتھ تانیہ تاسف سے اسے دیکھی چیخی۔۔۔ مجھ سے میرے شوہر کی شراکت برداشت نہیں ہو رہی۔۔۔۔۔ دل پھٹ رہا ہے میرا۔۔۔ اب میں سمجھ سکتی ہوں صلہ کی کیفیت کے وہ کس مشکل وقت سے گزری ہو گئ۔۔۔۔۔ ہم نے ظلم کیا اس پر۔۔  ناجانے اسنے کیسے سہا ہو گا یہ درد۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی چلا رہی تھی۔۔۔ اسکا جسم کپکپانے لگا تھا۔۔۔
یہ عورت پاگل ہو گئ یے۔۔ اتنی نیک پروین تھی تم تو کیوں دیا ہمارا ساتھ۔۔۔ اتنی ہی وہ تمہیں عزیز تھی جو اب اسکی ہمدردیاں جاگ رہی ہیں تم میں۔۔ محض اس لئے کے تمہارے شوہر نے تمہارے ساتھ بے وفائی کر دی۔۔۔ تم بھی ان سب چیزوں میں ہمارے ساتھ تھی۔۔۔ اب آئی بڑی نیک ۔۔۔
نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔۔۔ ہنہہ۔۔۔
ثانیہ کوفت سے اس پر اپنی بھڑاس نکال کر اٹھتی وہاں سے اندر چلی گئ۔۔  جبکہ اسکی آنکھوں میں واضح مستقبل کے اندیشے سر اٹھا رہے تھے۔۔۔۔ اب صلہ کا رونا بلکنا اسکے سوچ کے پردوں پر لہراتا اسے مزید خوفزدہ کر رہا تھا۔۔۔ تمہارے ساتھ یہ سب نہیں ہوا نا ثانیہ۔۔۔ تم نے شوہر کی شراکت برداشت نہیں کی اسی لئے ابھی تک تمہاری اکڑ نہیں ٹوٹی۔۔۔ وہ سسکتی ہوئی گویا ہوئی
*****
لاوںج میں دیوار گیر ایل ای ڈی چل رہی تھی۔۔۔ جسکی آواز بہت مریم تھی۔۔۔۔ جبکہ عفرا صوفے پر ڈھیلے سے انداز میں بیٹھی تھی۔۔۔ دونوں بچیاں بھی اسکے ہاس ہی کارہٹ ہر بیٹھیں کھیل رہی تھیں۔۔۔ ان سے پیچھے کی جانب جاو تو صلہ کچن میں کھڑی دھکن اٹھا کر کھانے کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔ آج اسنے بچوں کے لئے میکرونی بنائی تھی۔۔۔
میکرونی کو باول میں نکال کر وہ ڈش میں پلیٹیں چمچ اور باول رکھ کر باہر لاونج میں ہی چلی آئی۔۔۔
آ جاو بچو کھانا کھا لو۔۔۔ اسنے ٹرے سامنے صوفے پر رکھی اور خود بھی صوفے پر بیٹھتی بچوں کو بلانے لگی۔۔۔
اسے دیکھ کر عفرا بھی سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
آج کیسے تم فرصت سے یہاں بیٹھی ایل ای ڈی دیکھ رہی ہو۔۔۔ صلہ نے بچوں کو میکرونی دینے کے بعد پلیٹ عفرا کی جانب بڑھائی۔۔۔
یارررر۔۔  دو دن ہو گئے امان گھر نہیں آئے اب انکا ایک لائیو سیمینار آںے والا ہے اسی لئے دیکھنے بیٹھ گئ۔۔۔ اسنے پہلا چمچ منہ میں ڈالا۔۔۔
ہممم۔۔۔ مزے کی بنی ہے۔۔۔ اسکی بات پر صلہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ۔۔۔
میں سوچ رہی ہوں اس ہفتے اپنے گھر شفٹ ہو جاوں۔۔۔ دو دن پہلے ہی نیا گھر صلہ کے نام ہو گیا تھا تبھی وہ پلیٹ میں چمچ ہلاتی گویا ہوئی۔۔۔
عفرا نے سنجیدگی سے اسے دیکھا مگر بولی کچھ نا۔۔
بچیوں کو سکول داخل کروانے کے بارے میں تم نے کیا سوچا ہے۔۔۔ کچھ دیر بعد عفرا سامنے سکرین کو دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔
ہمم۔۔ ابھی یہ بھی ایک کام پینڈنگ ہے۔۔۔ سوچ رہی تھی جو سکول گھر سے سب سے زیادہ قریب ہو انہیں وہیں داخل کروا دوں۔۔۔ ویسے میں نے امان بھائی کو کسی جاب کے بارے میں کہا تھا انہوں نے ابھی تک کچھ بتایا نہیں۔۔۔ اس سے کافی سہولت ہو جاتی نا مجھے۔۔۔ 
وہ رفتہ رفتہ  پلیٹ میں چمچ چلاتی اپنی الحھنیں بہن سے شیئر کر رہی تھی۔۔۔ اب جا کر تو انکا رشتہ ایسا بنا تھا کہ صلہ بلا جھجھک اس سے اپنے مسائل شیئر کر لیتی تھی۔۔۔ ورنہ شادی سے پہلے تو دونوں میں نوے فیصد جھگڑے ہی ہوتے تھے۔۔ ۔۔۔
ہاں امان بتا رہے تھے مجھے کے انہوں نے تمہارے لئے ایک سوٹ ایبل جاب کا انتظام کیا ہے شاید کل تک وہ واپس آ جائیں تو پھر تمہیں بتا دیں گے ۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ کہہ رہے تھے کے انکا کام تو ایسا نہیں ہے کہ وہ لڑکیوں کے لئے سوٹ ایبل ہو اس لئے تمہارے لئے انہوں نے ایک کمفرٹیبل جاب دھوندی ہے۔۔۔ باقی اگر اللہ نے چاہا تو انشااللہ سب اچھا ہی ہوگا۔۔۔
وہ دونوں باتوں میں مشغول تھیں جب ایل ای ڈی سے تالیوں کی آواز گھونجی تو وہ دونوں اسکی جانب متوجہ ہوئیں جہاں امان اب اسٹیج پر آ چکا تھا۔۔۔۔سکرین کی جانب دیکھتے عفرا کی مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک دوگنی ہوئی۔۔۔۔
جہاں امان جینز اور ڈریس شرٹ پر ویسکوٹ پہنے اب میزبان سے مل رہا تھا۔۔ پورا ہال سٹودینٹس سے بھرا پڑا تھا جو جوش و خروش سے تالیاں پیٹ رہے تھے۔۔۔ یہ غالباً کسی یونیورسٹی میں سیمینار تھا۔۔۔
عفرا نے ریمورٹ اٹھا کر والیوم زیادہ کیا۔۔۔
وہاں اب ابتدائی تعارف کے بعد سٹودینٹس کے سوال جواب کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔۔۔
اسلام علیکم سر۔۔۔ سب سے پہلے تو یہ کہ مجھے ابھی تک یقین نہیں ہے کے میں لائیو آپکو دیکھ رہا ہوں۔۔ یہ ایک خواب ہی لگ رہا ہے۔۔۔ اوڈینس میں سے ایک لڑکا کھڑا ہوتا مائیک میں بول رہا تھا۔۔۔ جبکہ امان سٹیج پر میزبان کے ساتھ آمنے سامنے موجود دو آرام دہ صوفوں پر بیٹھا توجہ سے مسکرا کر اسکی بات سن رہا تھا۔۔۔
تو سر میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ جب ہم اپنے کیریر کی شروعات کرتے ہیں تو تب ہمیں بہت سے چیلنجز دیکھنے کو ملتے ہیں۔۔۔ جیسا کے میں نے بھی ابھی اپنا ایک سٹارٹ اپ شروع کی ہے تو مطلب لوگ بہت ڈی موٹیویٹ کرتے ہیں۔۔ کہ یہ کام نہیں چلے گا۔۔۔ یہ تم کیا کر رہے ہو۔۔۔یہ فضول کام ہے وغیرہ وغیرہ تو ایسی سچویشن میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔۔۔مطلب ظاہر سی بات ہے کے آپکو بھی ایسی سچویشن فیس کرنی پڑی ہو گی تو آپ اس چیز کو کیسے ڈیل کرتے تھے۔۔۔
وہ سٹودینٹ اپنا سوال پوچھ کر اب منتظر نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ پورے ہال کی نگاہیں امان کی جانب جواب کے لئے مرکوز تھیں۔۔۔
دیکھیں جب آپ کوئی کام شروع کرتے ہیں چاہیے وہ کوئی بزنس ہو یا کوئی اونلائن کام ہو تو آپکو سب سے پہلے خود پر یقین کرنا ہوتا ہے کے آپ وہ کر سکتے ہو۔۔  کیونکہ لوگ کبھی آپ پر یقین نہیں کریں گے وہ ہمیشہ آپکی ٹانگ کھینچیں گئے۔۔۔
 یقین خود پر کرنا ہے اور جب آپ خود پر یقین کرتے ہو تو پھر کسی دوسرے کا کوئی بھی فیڈ بیک آپ پر اثر انداز نہیں ہوتا کیونکہ آپکے سامنے یہ کلیئر ہوتا ہے کہ آپ نے کیا کرنا ہے۔۔۔
 جیسے جب میں نے یہ کام شروع کیا تھا تو مجھے پتہ تھا کہ ابھی نہیں تو چند سال بعد میں کہاں ہوگا۔۔ مجھے اس کے لئے کونسے چھوٹے چھوٹے سٹیپ اٹھانے ہیں۔۔۔ تب تنقید مجھ پر بھی بہت ہوئی ۔۔۔۔
دل چھلنی کرتے حوصلہ پست کرتے الفاظ کہ یہ تو پڑھا لکھا گوار ہے جس نے پڑھ کر گنوایا ۔۔  فلاں فلاں۔۔۔
لیکن میرا وائے کلیئر تھا۔۔۔ کہ مجھے یہ کیوں کرنا ہے کس طرح سے کرنا ہے۔۔۔
جیسے جب آپ کوئی نیا کام شروع کرتے ہو نا تو پہلے پہلے تو لوگ آپکو اگنور کرتے ہیں کہ نیا نیا جوش ہے چار دن گزریں گے پھر بیٹھ جائے گا۔۔۔ اسکے آواز جے اتار چڑھاو سے ہال میں ایک ارتکاز بندھ چکا تھا
لیکن جب آپ رکتے نہیں ہو مسلسل ایک کام کو کرتے ہو۔۔۔ اسنے مسلسل پر زور دیا۔۔۔
پورے ہال میں اس وقت پن ڈراپ سائلینس تھا۔۔۔ اپنے کام میں بہتری لاتے جاتے ہو اور بنا رکے کرتے جاتے ہو تو پھر وہی لوگ آپکو ٹورنے لگتے ہیں۔۔۔ آپکی ٹیم کو ٹورتے ہیں آپکی ٹانگ کھینچتے ہیں کہ آپ رک جاو۔۔۔
یہ میں مفروضوں پر بات نہیں کر رہا۔۔۔ انسانی سائیکی بتا رہا ہوں۔۔ وہ بات کے درمیاں رک کر گویا ہوا۔۔۔
دراصل جو لوگ خود آگے نہیں بڑھ سکتے نا وہ آپکو بھی آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتے اس بات کو گہرائی میں جا کر سمجھو۔۔۔ 
پھر اگلے سٹیپ میں کیا ہوتا ہے کہ جب آپ اس لیول سے بھی آگے بڑھ آتے ہو۔۔۔ اپنے گول کو اچیو کرنے کے لئے ٹکے رہتے ہو لوگوں کا اثر نہیں لیتے تو پھر لوگ آپکی ذاتیات پر اترتے ہیں۔۔۔ آپکو برا بھلا کہہ کر ڈی موٹیویٹ کرتے ہیں۔۔ بس کسی طرح سے آپکو گرانا چاہتے ہیں۔۔۔ اور یہ سب سے خطرناک سٹیج ہوتی ہے جہاں پر لوگ آپکے دماغ کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ہیں۔۔۔ آپکی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ چھیر چھاڑ کر کے وہاں طنزوں کے نشتر پھینک کر اس تخلیق میں ہلچل مچانا چاہتے ہیں۔۔۔
لیکن جب آپ وہاں پر ان سب چیزوں کو اہمیت نہیں دیتے اور انہیں راستے کا ایک کنکر سمجھ کر کک آوٹ کر جاتے ہیں اور اپنی جگہ پر استقامت سے کھڑے رہتے ہیں تو پھر وہی لوگ آپکو سر سر کہتے آپکے پیچھے آتے ہیں۔۔۔ آپ سے کولیبریٹ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔
امان کے یہاں تک پہنچتے ہی ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔۔۔
آج میرے پاس وہ لوگ بھی آکر مجھے ایپریشیت کرتے  ہیں جو کبھی کہتے تھے کہ یہ کبھی زندگی میں کچھ کر گیا تو کہنا۔۔۔ امان نے مسکرا کر کہتے بات کو مزاح کا رخ دیا۔۔۔
اور ایسا نہیں ہے کہ تنقید اب مجھ پر نہیں ہوتی۔۔۔ جی ہاں اس سٹیج پر پہنچ کر بھی مجھ پر بہت تنقید ہوتی ہے۔۔۔ یہ آپکی زندگی کا حصہ ہے۔۔۔ بس آپ یہ ذہن نشین کر لیں کہ آپ اپنے کام پر کبھی سو فیصد ہر انسان کو قائل نہیں کر سکتے۔۔۔ کہیں نا کہیں کچھ نا کچھ مخالفت رہے گی ہر سٹیج پر۔۔۔ چاہیے آپ جتنے بھی کامیاب کیوں نا ہو جائیں۔۔۔
اور اگر کبھی آپکی زندگی میں ایسا مقام آئے۔۔۔ جہاں آپکی کوئی مخالفت نا ہو رہی ہو تو سمجھ لینا کہ اس مقام پر آپ نے کچھ نا کچھ کمپرومائز کیا ہے۔۔۔
تو بات صرف یہ ہے کہ آپکو توجہ صرف اپنے کام پر دینی ہے۔۔۔ جہاں تنقید برائے اصلاح ہو تو اس پر عمل کرنا ہے اور جہاں تخریبی تنقید ہو جہاں لگے کے کوئی اپنے اندر کی بھراس اپنی کھولن۔۔۔ وہ لفظوں پر زور دے کر بول رہا تھا۔۔۔۔ اپنی فریسٹریشن آپ پر نکال رہا ہے۔۔۔
اسکے مزاحیہ انداز میں کہنے پر ہال قہقوں سے گونج اٹھا ۔۔ وہاں آپ نے کوئی ری ایکٹ نہیں دینا نا اچھا نا برا۔۔۔۔
بس نظر انداز کر کے آگے بڑھ جانا ہے۔۔۔ آپ کے پاس اتنا وقت بھی نہیں ہونا چاہیے کے آپ اپنے گول سے نگاہیں ہٹا کر انکی تصیح یا تردید کریں۔۔۔
جسے آپکا کام پسند آ رہا ہے وہ دیکھے جسے نہیں آ رہا تو وہ کیوں جڑا ہے آپکے ساتھ ابھی تک۔۔۔ کسی کے ساتھ کوئی زبردستی تھوڑی نا ہے بھائی۔۔ اپنے انٹرسٹ کا کانٹینٹ دھونڈو۔۔۔ ہال میں پھر سے قہقے گھونج اٹھے تھے۔۔۔
سر میرا سوال آپ سے یہ ہے کے میں نے اپنا بزنس شروع کیا ہے لیکن جب میں اپنا کوئی پراڈکٹ لوگوں کو بیچتا ہوں تو مجھے ایک گلٹ ہمہ وقت رہتا ہے کے شاید میں لوگوں کو دھوکہ دے رہا ہوں۔۔۔ اس پڑادکٹ کے فیچرز انہیں بتا بتا کر انہیں لوٹ رہا ہوں۔۔۔۔
اگلے سٹودینٹ نے اس سے سوال پوچھا تھا۔۔۔
یہاں ہر تھوڑ سا نظریہ بدلنے کی ضرورت ہے۔۔۔ امان نے اپنا رخ اس شخص کی جانب کیا۔۔۔
بزنس شروع کرنے سے پہلے اس پر باقاعدہ ریسرچ کرو۔۔۔ دیکھو کے آپ کے اردگرد لوگوں کو کیا پرابلم ہے۔۔۔ اس پرابلم کو سولو کرنے کی کوشیش کرو۔۔۔ اب دیکھو اگر کسی انسان کی پرابلم ایسی ہے جسے آپ حل کر سکو کسی انسٹرومینٹ کے ذریعے یا کسی پراڈکٹ کے ذریعے تو اب آپ بتاو کے جب آپ وہ چیز اس شخص کو بیچو گے تو کیا اسے دھوکہ دو گئے یا اسکی مدد کرو گئے۔۔۔۔ وہ سوالیہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔
افکورس سر مدد کروں گا۔۔۔ اس شخص کی آنکھیں چمکیں۔۔۔ اور وہ شخص جسکا کوئی مسلہ حل ہو رہا ہو وہ آپ کو پیسے دے گا یا نہیں۔۔۔ ظاہر سی بات ہے کے وہ اپنی وہ پرابلم حل کروانے کے لئے پیسے دے گا۔۔
جیسے میں نے اپنا ایریا ڈھوندا۔۔۔ کہ ایک سٹودینٹ کی حیثیت سے سٹودینٹس کو کیا مسائل درپیش ہوتے ہیں۔۔ وہ کچھ سوچ کر گویا ہوا۔۔۔
وہ پڑھ نہیں پاتے۔۔۔ پروکیسٹینیٹ ہو جاتے ہیں۔۔۔ ٹائم مینج نہیں کر پاتے۔۔۔ امتحان کے دنوں میں فریسٹریٹ ہو جاتے ہیں۔۔۔ وہ ایک ایک انگلی کو کھولتا گن رہا تھا۔۔۔ تو میں نے ان مسائل کو حل کیا۔۔۔ ان پر ویڈیوز بنائیں۔۔۔ اب سٹودینٹس کو یہ مسائل ہیں تو وہ انکے حل تلاشنے کے لئے میرے چینل پر آتے ہیں ویڈیوز دیکھتے ہیں۔۔۔ تو ہمیشہ پرابلم سولورز بنو۔۔۔ یوں لوگوں کا آپ پر ٹرسٹ قائم ہو گا تو وہ خودبخود آپ سے جڑیں گے۔۔۔
اور پھر اس میں بھی پرابلم سولو کرنے کا کہہ کر اگر آپکے کانٹینٹ میں یا پراڈکت میں دم نہیں ہو گا تو لوگ ایک مرتبہ آئینگے  آپکے پاس اسکے بعد دوبارہ مڑ کر نہیں دیکھیں گے۔۔۔ اس لئے اپنے کام کے ساتھ مخلص ہونا ہے۔۔۔
آپ لوگوں کی پرابلم سولو کریں گے لوگوں کو آپ سے پازیٹو وئبز آئیں گی تو وہ آپ سے جڑیں گے۔۔۔ 
ہال ایک مرتبہ پھر سے تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔۔ جیسے میری وائف ہے عفرا اسکا چینل ہے لٹس لرن وڈ عفرا کے نام سے جہاں وہ سٹودینٹس کو بیسک انگلش سے کمپلیکس انگلش کی طرف لے کر جاتی ہے ۔۔۔ جو پرابلمز اسے اس جرنی کے دوران درپیش ہوئیں۔۔۔۔۔
او مائے گاڈ۔۔۔ صلہ میرا لیپ ٹاپ دو زرا۔۔۔
عفرا مسکراتی ہوئی مکمل یکسوئی سے سیمینار دیکھ رہی تھی۔۔ جب امان کے اس طرح کہنے پر خوشی سے اچھلتی اپنا لیپ ٹاپ ڈھونڈنے لگی۔۔۔
کیا ہو گیا ہے عفرا حوصلہ تو رکھو۔۔۔ صلہ نے اسے کہتے چارجینگ سے اسکا لیپ ٹاپ اتار کر اسے دیا۔۔۔
یار مجھے توقع نہیں تھی کے امان یوں اپنے سیمینار کے دوران مجھے شاٹ اوٹ دیں گے۔۔۔ وہ پرجوش سی تیزی سے لیپ ٹاپ کی کیز پر انگیاں چلا رہی تھی۔۔۔
انہوں نے تمہیں شاٹ آوٹ کب دیا وہ تو محض ایک بات کہہ رہے تھے۔۔۔
صلہ الجھ کر گویا ہوئی۔۔
ارے نام بول دیا نا چینل کا۔۔۔ یہ ہی شاٹ آؤٹ تھا۔۔۔ یہ ویڈیو اس وقت لاکھوں لوگ لائیو دیکھ رہے ہیں۔۔۔ 
اوہ گاڈ یہ دیکھو میری چینل پر ٹریفک آنے بھی لگی۔۔۔ چینل کی بڑھتی گروتھ دیکھ کر وہ خوشی سے پاگل ہوتی صلہ کو لیپ ٹاپ دیکھانے لگی جہاں لمحہ با لمحہ اسکے سبسکرائبرز بڑھ رہے تھے۔۔۔۔
دفعتاً اسکے موبائل کی ٹیون بجی۔۔۔ اسنے مسکراتے ہوئے لیپ ٹاپ سے نگاہیں ہٹا کر میز پر پڑا موبائل اٹھا کر وہاں آئی ویڈیو پلے کی۔۔۔۔
مگر جیسے جیسے ویڈیو چل رہی تھی ویسے ویسے ہی عفرا کے چہرے کی رنگت فق ہونے لگی۔۔۔
اسکی آنکھوں کے سامنے زمین آسمان گردش کرتے دکھائی دینے لگے۔۔۔
ہاتھ میں تھاما موبائل کپکپا کر رہ گیا۔۔۔
کچھ دیر پہلے ملنے والی خوشی کافور ہو کر رہ گئ تھی۔۔۔ ایک پل کے لئے اسے اپنے جسم سے روح نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔
اسنے شکایتی نگاہوں سے ایک نظر ایل ای ڈی میں نظر آتے مسکرا کر کسی بات کا جواب دیتے امان کو دیکھا۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4