khuab_e_janoon novel 71th episode by Umme Hania۔
khuab_e_janoon novel 71th episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
71st epi...
صلہ اور عفرا سٹڈی روم میں اونچی کرسیوں پر آمنے سامنے بیٹھیں تھیں۔۔۔ سامنے گول میز پر لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا۔۔۔
گلاس وال کے اگے بلائینڈز پھیلائے گئے تھے جبکہ سٹڈی مضنوعی روشنیوں سے جگما رہی تھی۔۔۔
صلہ خوموشی سے بیٹھی عفرا کو دیکھ رہی تھی۔۔
جو لیپ ٹاپ کے کی پیڈ پر انگلیاں چلاتی اسکی سکرین پر کچھ دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہاں دیکھتے اسکی آنکھوں میں تحیر ابھر اور
کچھ دیر بعد وہ جیسے کچھ سمجھ کر ایک گہرا سانس خارج کرتی سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
اب میں تمہیں چند باتیں بتانے جا رہی ہوں صلہ یوٹیوب چینل کے حوالے سے انہیں غور سے سننا۔۔۔
دراصل اپنا چینل بنانے سے پہلے میں نے اس چیز پر بہت ریسرچ کی تھی اور اسکی ایک ایک چیز کو سمجھنے کی کوشیش کی تھی۔۔۔
آج کل ایک ایک نیش پر سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں چینلز ہیں۔۔۔لوگوں کے پاس آپشنز بہت ہیں اور ورائٹی اس سے بھی زیادہ ہے۔۔۔ نیز لوگوں کا اٹینشن سپین بہت کم ہو گیا ہے۔۔۔ ایسے میں سب سے غور طلب چیز کہ تمہارے چینل میں یا تمہارے کانٹینٹ میں ایسی یونیق چیز کیا ہے جو لوگ باقیوں کو چھوڑ کر تمہیں دیکھیں۔۔۔
یہاں یوٹیوب کی دنیا میں ہر کوئی بہت محنت کر رہا ہے۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک ۔۔۔ اور یہاں کمپیٹیشن بہت ہے۔۔۔
تو سب سے پہلے تو یہاں پر اپنا ایریا آف انٹرسٹ پہچاننے کی ضرورت ہے۔۔۔ کیونکہ اگر تم کسی بھی شوقیہ چیز سے انسپائر ہو کر چینل بناو گئ تو بہت جلد اکتا جاو گئ اس ریس میں تھک جاو گی اور سب چھوڑ چھاڑ کر بیٹھ جاو گئ جیسے زیادہ تر لوگ کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
تمہیں چینل اس چیز ہر بنانا ہے جو تمہارے اندر بستی ہو۔۔۔ جسکے بنا تم رہ نا سکتی ہو۔۔۔
جیسے میں نے اپنا ایریا آف انٹرسٹ تلاش کیا تھا امان کی ایک ویڈیو دیکھ کر۔۔۔ وہ جیسے کچھ سوچ کر بولی۔۔۔
اس ویڈیو نے مجھے اس کام میں بہت مدد دی تھی۔۔۔
جیسے اس میں مان نے اپنی مائنڈ میپنگ کرنے کا بولا تھا اور پھر میں نے بھی وہی کیا۔۔۔۔
ایک کاغذ پنسل لے کے درمیان میں ایک سرکل لگا کر عفرا لکھا ۔۔۔ وہ میرا دماغ تھا۔۔۔
عفرا آگے کو جھکی صلہ کو دیکھتی بول رہی تھی جبکہ صلہ توجہ سے اسے سن رہی تھی۔۔۔
پھر وہاں سے مختلف برانچز نکل رہی تھیں۔۔۔
جیسے مجھے کس کس چیز کا شوق ہے اور میرا ایریا آف انٹرسٹ کون کونسی چیزیں ہیں۔۔۔ وہ سبھی مینشن کر کے ان میں سے سب سے پورفل چیز کو تلاش کرنا ہوتا ہے۔۔۔
جیسے مجھے کس کس چیز میں انٹرسٹ تھا۔۔۔ وہ اسے تب کی باتیں یاد کر کے بتانے لگی
مجھے انٹرسٹ تھا ڈی آئی وائز بنانے میں۔۔۔
مجھے انٹرسٹ تھا شاپنگ کرنے میں۔۔۔
مجھے گارڈنینگ میں بھی انٹرسٹ تھا۔۔۔ وہ انگلیوں ر گنتی بتا رہی تھی
مجھے ہوم ڈیکور کا بھی شوق تھا۔۔۔
مجھے انگلش سیکھنے کا بھی کریز تھا۔۔۔
مجھے آپ ٹو دیٹ رہنے کا بھی کریز تھا۔۔۔
پھر ان سب انٹرسٹ کی چیزوں کو لکھنے کے بعد میں نے ایک ایک کا تنقیدی جائزہ لے کر اپنا مین ایریا آف انٹرسٹ نکالا۔۔۔
جیسے مجھے ڈی آئی وائز بنانے اچھے لگتے ہیں۔۔۔ لیکن اتنے نہیں کے میں اسے ایک پروفیشن کے طور پر لے سکوں۔۔۔ ہاں میں جو چیزیں استعمال نہیں ہوتی ان پر مختلف تجربات کرتی ہوں لیکن فارغ اوقات میں۔۔۔
اسی طرح مجھے گارڈنینگ کا بھی شوق ہے مجھے میرا گارڈن ہرا بھرا چاہیے لیکن صرف اپنے گارڈن کے حد تک میں اسے بھی اپنا پروفیشن نہیں بنا سکتی تھی۔۔۔
یہ ہی ایم چیز شاپنگ اور ہوم ڈیکور میں بھی تھی۔۔
لیکن انگلش سیکھنے کے لئے میں بالکل کریزی تھی۔۔۔ جیسے ایک رائٹر کے دماغ میں سوتے جاگتے اسکے کردار ہی گھومتے ہیں۔۔۔ جیسے ایک بزنس مین کے دماغ میں بزنس کو لے کر سٹریٹیجیز ہی گھومتی ہیں۔۔۔
جیسے ایک فنکار کے دماغ میں ہمہ وقت اسکے فن کو لے کر ہی چیزیں گھومتی ہیں۔۔۔۔بلکہ اسی طرح مجھے سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے صرف اسی چیز کے خیالات آتے تھے۔۔۔
تو میرا ایریا آف انٹرسٹ کلیئر ہو گیا۔۔۔
تب میں نے بس دو چیزیں سوچیں ایک کہ میرے جیسی اس ملک میں بہت سی لڑکیاں ہیں جو اس زبان پر عبور پانا چاہتی ہیں مگر پہلا سٹیپ نہیں لے پاتیں تو ان کے لئے میں آسان طریقے سے اس چیز کو شروع کر سکتی ہوں ۔۔
دوسرا جتنا میں اس چیز کی گہرائی میں جاوں گی میرا نالج اور بڑھے گا اور اس زبان پر میری گرفت مزید مضبوط ہوگئ۔۔۔ پھر میں دن رات کا فرق مٹاتی گئ۔۔۔ بلکہ خود باخود مٹا گیا۔۔۔ میں جو نئ چیز سیکھتی اسے مکمل سیکھنے کے بعد آگے سیکھاتی میری پریکٹس ہوتی اور کئ لوگوں کی مدد ہو جاتی۔۔۔ یوں یہ ایک چین سائیکل بنتی گئ۔۔۔۔
میری اتنی لمبی چوڑی بات کا مطلب پتہ ہے کیا ہے۔۔۔ اانے اوالیہ بھنور اچکائی۔۔
صلہ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔
یہ کہ جس نیش پر تم نے اپنا چینل بنایا ہے مطلب کہ کوکنگ۔۔ وہ ایک لمحے کو رکی پھر ٹہر کر گویا ہوئی۔۔۔
وہ تمہارا ایریا آف انٹرسٹ نہیں ہے۔۔۔
اسکی بات سن کر صلہ جہاں کی تہاں رہ گئ۔۔۔
تم غلط دائریکشن میں اپنی انرجی ضائع کر رہی ہو۔۔۔
میں نے تمہارے چینل پر کام کی رفتار اور طریقہ دیکھا ہے۔۔۔ ایک ویڈیو ڈالنے کے بعد تم نے مہینوں چینل نہیں کھولا۔۔۔ پھر کھولا تو تین چار ویڈیوز ڈالی اور پھر غائب۔۔۔
یہ کام تم کچھ مجبوری اور کچھ جان چھڑوانے والے انداز میں کر رہی ہو کہ چینل بنا لیا اب اسے بس گھسیٹنا ہے۔۔۔
اس لئے یہیں رک جاو اور دماغی طور پر اپنا محاسبہ کرو اور اپنا ایریا آف انٹرسٹ ڈھونڈو۔۔۔
وہ کام جس کے ساتھ تم سب سے زیادہ کمفرٹیبل ہو۔۔۔ جس کام کے لئے تمہیں اپنے ساتھ زبردستی نا کرنی پڑے۔۔۔ وہ کام جسے کر کے تمہیں خوشی ملے۔۔۔ وہ کام جو تم پر بوجھ نا ہو۔۔۔ وہ کام جو خودبخود تم سے اپنا آپ کروائے۔۔ وہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔ تمہارا پیشن ۔۔ تمہاری ہابی۔۔ یا کچھ بھی۔۔۔
اپنی مائنڈ میپنگ کرو اور اپنے ایریا آف انٹرسٹ کو دھونڈو۔۔۔ اپنا ایریا آف انٹرسٹ دھونڈ کر اس پر کام کرو گئ تو تمہیں آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔۔۔ کیونکہ جو چیز دل سے نکلتی ہے وہی دل تک پہنچتی ہے۔۔۔
صلہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی جسنے چھوٹی ہو کر اسے بہت کچھ سمجھا دیا تھا۔۔۔
******
رات کے سائے گہرے ہورہے تھے۔۔۔ مشال اپنے کمرے میں بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔۔ کمرے کے کھلے دروازے سے باہر تک سارا پورشن دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ تازہ رنگ و روغن کے بعد گھر کی شکل نکل آئی تھی۔۔۔ کل ہی اسنے نیچے کا پورشن اپنے لئے سیٹ کروایا تھا۔۔۔
اس گھر کو دیکھتے ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹا۔۔
بالاج کی ماں بہنوں کو اسنے نیچے پورشن میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی تھی مگر یہ سب کر کے ۔۔۔ اتنے سال تک ایک مرد کو ضد بنا کر اسکے پیچھے خوار ہو کر اسے اپنا بنا کر بھی اندر ایک خالی پن تھا۔۔۔ گھر کے خالی درو دیوار اسے کاٹنے کو ڈورتے تھے۔۔۔
دنیا کے لئے اسکا شوہر اسکی ہر بات مانتا تھا۔۔۔ اس پر جان چھڑکتا تھا مگر حقیقت سے آشنا صرف وہ کرلاتا دل ہی تھا۔۔
اسنے آنسو صاف کرتے ایک مرتبہ پھر سے بالاج کا نمبر ملایا۔۔۔
دوسری طرف بیلز جا رہی تھیں اندر کہیں دل سے درد کی ٹھیسیں اٹھ رہی تھی ۔۔۔ اسے اپنا بنا کر بھی وہ اسکے روبرو ہونا یا اس کے ساتھ وقت گزارنا تو دور اسکی آواز تک سننے کو ترس جاتی تھی۔۔۔
اسے اپنی بے بسی پر رونا آ رہا تھا۔۔۔ وہ شخص اسکی ہر ضرورت پوری کر رہا تھا مگر اسکے نزدیک اسکے جذبات کی اسکے دل کی کوئی قدر نا تھی۔۔۔
ہیلو۔۔۔ اب کیا مسلہ ہے مشل۔۔۔ گھر رینوویٹ کروانے کے لئے پیسے بھیج تو چکا ہوں۔۔۔۔فون اٹھائے جاتے ہی فون سے اسکی اکتائی بے زار سی آواز گھونجی۔۔۔ اسکے آنسووں میں مزید روانی آ گئ۔۔۔
کیا اب تم سے بات کرنے کے لئے بھی مجھے ہمہ وقت کسی بہانے کا سہارا لینا پڑے گا۔۔۔۔ وہ بھرائی آواز میں گویا ہوئی۔۔
ہاں بولو کیا بات کرنی ہے۔۔۔ جان چھراتا لہجہ اسے اندر تک گھائل کر گیا۔۔۔
کیا صلہ سے بھی اسی لہجے میں بات کرتے تھے۔۔۔ وہ کرلائی۔۔۔ یہ صلہ بھیچ میں کہاں سے آگئ۔۔۔ اور خدارا اسکا اور اپنا موازنہ نا کیا کرو کیونکہ پھر اس موازنے کا جواب تمہیں پسند نہیں آئے گا۔۔۔
اور ویسے بھی تمہارے پاس بات کرنے کو ہوتا کیا ہے مشل۔۔۔ ماں بہنوں کی برائیاں۔۔۔ یار تھک چکا ہوں یہ سب سن سن کر۔۔۔ اب الگ پورشن کروا تو دیا ہے۔۔۔ اب اور کیا چاہیے۔۔۔ ہر ضرورت پوری کر تو رہا ہوں تمہاری۔۔۔ اب اور کیا کروں تمہارے لئے۔۔۔ اسکی آواز سے ظاہر تھا کہ وہ سب بعجلت کہہ کر بحث سمیٹنا چاہتا تھا۔۔۔
مجھے تمہارے پاس آنا ہے بالاج۔۔۔ مجھے وہاں بلواو۔ میں یہاں نہیں رہ سکتی۔۔۔
وہ اسکا لہجہ اور باتیں سب نظر انداز کرتی گویا ہوئی۔۔
کیوں یہاں کیا تکلیف ہے تمہیں۔۔۔ سب تمہاری مرضی کے مطابق ہو رہا ہے تو عزت راس نہیں آ رہی کیا۔۔۔ لمحوں میں وہ طیش میں آتا گویا ہوا۔۔۔ غصے میں وہ اسے یونہی لمحوں میں دو کوڑی کا کر دیتا تھا۔۔۔
بالاج میری شادی تم سے ہوئی ہے اور تم افورڈ بھی کرتے ہو مجھے وہاں بلانا تو۔
۔۔۔ وہ جذباتی انداز میں گویا ہوئی جب وہ سرعت سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔
پاکستان میں نوے فیصد لڑکیوں کے شوہر ایسے ہی باہر کام کرنے جاتے ہیں اور وہ وہاں رہتی ہیں اس لئے تم مجھے مت سیکھاو کہ تمہاری شادی کس سے ہوئی ہے۔۔ کیا اب بھی مجھے پتہ نہیں چلنا تھا کہ تمہاری شادی کس سے ہوئی ہے۔۔۔ وہ بھڑکا۔۔۔
ہاں ایسا ہی ہوتا ہوگا۔۔۔ ان لڑکیوں کے شوہر انہیں اپنے پاس بلوانا افورڈ نہیں کر تے ہونگے مگر یہاں۔۔۔ وہ بھی چٹختی ہوئی گویا ہوئی جب وہ گھر سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
مگر یہاں بات افورڈ کرنے یا نا کرنے کی تو ہے ہی نہیں۔۔۔ اپنے پاس تو میں اسے نا بلا سکا جسکا سب سے زیادہ حق تھا۔۔۔ تو کسی اور کیا بلاوں گا۔۔۔ وہ بالاج کی آواز نم ہوتی محسوس کر سکتی تھی۔۔۔
تم اسکی سزا مجھے نہیں دے سکتے۔۔۔ یہ اسکی قسمت تھی۔۔۔ وہ اسکی سبھی باتیں سمجھتی بات کو دوسرا رخ دے گی۔۔۔
اور یہ تمہاری قسمت ہے جسکے ساتھ تمہیں سمجھوتا کرنا پڑے گا۔۔۔۔ وہ بھی جیسے کسی خواب سے جاگتا گہرا طنز کر گیا۔۔۔
بالاج میں تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔۔۔ مشل نے بھرائی آواز میں اسے بلیک میل کرنا چاہا۔۔
وہ بھی میرے بچوں کی ماں تھی مشل اور یقین مانو تمہیں جو آسائشیں فراہم کی ہیں نا میں نے اسکا دس فیصد بھی میں اسے نہیں دے پایا۔۔۔۔ اور اسی بات کا غم کم نہیں ہوتا کے وہ میرے برے دنوں کی ساتھی تھی اور اچھے دنوں کے آتے ہی اپنی حماقتوں کے ہاتھوں میں نے اسے کھو دیا۔۔۔
اور اگر یقین کر سکتی ہو تو کر لو مشل کہ تم میں ایسا کچھ نہیں جو اسکا مقابلہ کر سکے۔۔ یہ میری بدقسمتی کے میں نے اسے ہلکا لیتے اسکے صبر اور درگزری کو اسکی کمزوری سمجھتے گھاٹے کا سودا کر لیا۔۔۔۔۔ گلو گیر لہجے میں وہ اسکی ذات پر بہت گہرے وار کر گیا ٹھا۔۔۔
وہ سر تا پیر سلگتی بلبلا کر رہ گئ۔۔۔
تم مجھے ڈی گریڈ نہیں کرسکتے بالاج۔۔۔ وہ بھی اس عورت کے لئے جو تمہاری زندگی میں کہیں نہیں۔۔۔ میں بیوی ہوں تمہاری۔۔۔ وہ حلق کے بل چیخی تھی۔۔۔
اور اسی بات کا افسوس ہے مجھے۔۔۔ وہ پست لہجے میں کہتا فون بند کر گیا جبکہ مشل فون بید پر پھینکتی چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
اندر کہیں انتقام کی آگ جل اٹھی تھی۔۔۔ جسے سکون اب اس گھر میں ایک بڑا ہنگامہ بھرپا کر کے ہی ملنا تھا۔۔۔ ساری فریسٹریش بلاج کی ماں بہنوں پر نکلنی تھی اسکے بعد کے مراحل وہ باخوبی جانتی تھی۔۔۔ جسکے بعد بالاج کو فون جانا تھا اور اسنے سب نظر انداز کرنے کا بول کر خود اپنے آپسی مسائل حل کرنے کا کہنا تھا۔۔۔۔ یوں سبکو لگتا کی بالاج مشل کی مٹھی میں ہے جبکہ یہ صرف وہی جانتی تھی کے وہ اس سے ضروری بات بھی نہایت لگے بندھے کرتا تھا۔۔
بالاج کی زندگی میں اپنا یہ مقام وہ گھر میں کسی کے سامنے نہیں لا سکتی تھی۔۔۔ اسے ہر حال میں یہ بھرم قائم رکھنا تھا۔۔۔
بس وہ دعا گو ہی تھی کہ اللہ اسے بیٹا عطا کر دے شاید ایک محرومی کے بعد نعمت حاصل کر کے بالاج اور اسکا رشتہ بہتر ہو جاتا۔۔۔
******
گہری ہوتی رات میں اوپر کے پورشن میں بھی خاصا سناٹا تھا۔۔۔ ثانیہ دو روز پہلے ہی اپنے سسرال واپس چلی گئ تھی کیونکہ اسکا شوہر گھر کا کرایہ افورڈ نہیں کر سکتا تھا اور اب وہاں اسکا رہنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔۔۔ مشل سے بالاج کی شادی کا فیصلہ اسے اب اپنی زندگی کی سب سے بڑی حماقت لگ رہا تھا۔۔۔
ماں بستر پر بیٹھی چائے پیتی ناجانے سوچوں کی کن وادیوں میں پہنچی ہوئی تھی۔۔۔ بالاج کے متنفر ہونے اور شوہر کے ساتھ چھوڑ جانے کے بعد وہ خود کو یونہی ہمہ وقت سوچوں کے بھنور میں ڈوبا پاتیں۔۔۔
تانیہ سامنے صوفے پر سر پکڑے بیٹھی تھی اسے کئ دنوں سے اپنے شوہر اور سسرال والوں کی حرکتیں کافی مشکوک لگ رہی تھیں۔۔۔ اسے کچھ بہت غلط ہونے کے خدشات لاحق تھے لیکن وہ انہیں مسلسل جھٹلا رہی تھی اب بھی کل سے اسکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو وہ ماں کے پاس آئی ہوئی تھی۔۔۔
کرن کل رشتے والے آ رہے ہیں اس لئے دوپہر میں تیار رہنا۔۔۔
ماں کے کہنے پر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بال بناتی کرن اچھل کر آگ بھگولہ ہوتی ماں کی طرف پلٹی۔۔۔
آپ نے یہ سوچا بھی کیسے کے میں کسی اور سے۔۔۔
بکواس بند کر اپنی۔۔۔ کرن کے غصے کو کسی خاطر میں نا لاتے ماں چلا کر گویا ہوئی۔۔۔
کب تک اس ناہجار کے خوابوں میں کھوئی رہو گی جس نے پلٹ کر تجھے دیکھا تک نہیں۔۔۔ اب اس معاملے میں دوبارہ تمہاری کوئی حماقت برداشت نہیں کروں گی۔۔ جو کر رہی ہوں کچھ سوچ کر ہی کر رہی ہوں۔۔۔
جس طرح سے بالاج نے ہم سب سے نظریں پھیریں ہیں نا اس سے میں کسی بھلائی کی توقع نہیں رکھتی۔۔۔ آج تو وہ تمہاری شادی کا خرچہ اٹھا رہا ہے کل کو اولاد ہونے کے بعد اسنے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے تو یہیں اسی دہلیز پر بیٹھی رہ جاو گئ۔۔۔
میں آج ہوں کل نہیں۔۔۔ یہ ہی بھابھی تمہیں پانی کا گھونٹ تک پلانے کی روادار نہیں ہوگئ۔۔۔۔ اس لئے جتنی جلدی ہو اپنے گھر کی ہو جاو۔۔۔
ماں ماتھے پر بل ڈالے اسے سمجھا رہی تھی۔۔ جبکہ تانیہ کی ساری توجہ اسکے موبائل پر آتے میسج کی ٹیون نے سمیٹ لی تھی۔۔۔
میسج پڑھتے ہی اسکے چہرے کا رنگ اڑا تھا اسنے ایک حواس باختہ سی نظر سامنے ماں پر ڈالی۔۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹ کر گرا۔۔۔ کپکپاتے ہاتھوں سے موبائل نیچے جا پھسلا تھا جبکہ وہاں کے درو دیوار اسکی دلدوز چیخوں سے گھونج اٹھے تھے۔۔
ماں اور کرن ہربڑا کر اسکی جانب متوجہ ہوئے جو گہرے گہرے سانس بھرتی وہیں ہوش و حواس سے بیگانہ ہوچکی تھی۔۔۔
****""

No comments