Header Ads

khuab_e_janoon novel 70th episode by Umme Hania۔


 

khuab_e_janoon novel 70th episode  by Umme Hania۔


Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

70 th episode
کمرے میں تین لوگوں کی موجودگی کے باوجود گہرا سکوت تھا۔۔۔
تائی اپنے بیڈ پر سر باندھے نیم دراز تھی۔۔۔ چہرا بخار کی حدت سے ٹمٹما رہا تھا جبکہ سامنے صوفے پر ثانیہ اور اسکا شوہر سر پکڑے بیٹھے تھے۔۔۔
سامنے میز پر ایک لفافہ پڑا تھا۔۔۔
حالات یکدم ہی خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے تھے۔۔۔۔ جانے کیسی ہوا چلی تھی۔۔۔ بیٹا تو ان سے بدزن ہوا ہی تھا ساتھ ہی باقی سب بھی الٹ ہونے لگا تھا۔۔۔
انہیں لگا کہ شاید شوہر کا سایہ ان پر سے اٹھتے ہی انکی حیثیت اپنے گھر میں ہی تنکے سے بھی ہلکی ہو کر رہ گئ تھی۔۔۔ شوہر ہی زندہ ہوتا تو بھی بیٹے کی بے اعتنائی اتنی نا کھلتی۔۔۔
اب کیا کرنا ہے ماں۔۔۔ وہ لڑکی تو بہت پہنچی شے نکلی۔۔۔ عدت سے اٹھتے ہی اسنے لیگل نوٹس بھیج دیا گھر خالی کرنے کا وہ بھی محض دو دنوں میں۔۔۔
ثانیہ کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔۔۔
تب سے وہ حق سے اسی پورشن میں رہائش پذیر تھی۔۔۔ اب اتنے شارٹ نوٹس پر وہ کہاں جاتی۔۔۔ سسرال واپس جانے کا تو وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔
یہ اتنی غور طلب بات نہیں ہے۔۔۔ زیادہ غور طلب بات یہ ہے کہ ابھی تک دونوں پورشن میں رہتے کام چل رہا تھا لیکن اب پورشنز کی بجائے گھر کے درمیاں میں دیوار ہو کر الگ الگ حصے بنیں گے۔۔۔  اسکے شوہر کے کہنے پر تائی نے سرخ آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
اسی بات کا تو رونا ہے کہ اگر نیچے سے کچھ پورشن مل رہا ہے تو اوپر سے بھی چھوڑنا پڑ رہا ہے اور میری تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ہی مفلوج ہو گئ ہیں کہ اب کریں تو کریں کیا۔۔۔
اسنے تو بزرگوں کو بیٹھانے کی بجائے قانون کا سہارا لیا ہے۔۔۔
تائی نے اپنے دکھتے سر کو ہاتھوں سے دبایا۔۔۔
اب دو دنوں میں سارا پورشن کیسے خالی کریں۔۔۔ ثانیہ ہنوز پریشان تھی۔۔۔
عموماً عدالتی کام اتنے جلدی نہیں ہوتے۔۔۔ سالوں لگ جاتے ہیں ایسے قبضے کے کیسوں پر ۔۔۔ لیکن یہاں اسکے پیچھے اسکا بہنوئی ہے اب تو پورے پاکستان میں اسکی ایک پہچان ہے یہ اسی کی پہنچ ہے کہ اتنے شارٹ نوٹس پر جگہ خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔۔۔
اسکا شوہر ایک دفعہ پھر سے نوٹس پڑھتے ہوئے بددلی سے گویا ہوا۔۔۔
ثانیہ میری بالاج سے بات کروا۔۔۔
تائی کچھ سوچتے ہوئے گویا ہوئیں۔۔۔
کیا بات کرنی ہے آپ نے اس سے۔۔۔ ثانیہ ماتھے پر تیوریاں ڈالتے گویا ہوئی۔۔۔
سیدھے منہ بات تو کرتا نہیں وہ آپ سے۔۔۔ اسقدر بدگمان کر دیا ہے اس بدذات نے اسے ماں بہنوں سے پھر بھی آپ بار بار اسکا نمبر ملوا لیتی ہیں۔۔۔
ہاں تو اور کیا کروں۔۔۔ کس کا نمبر ملواوں۔۔۔ اکیلا کماو پوت ہے میرا۔۔۔ اور کس کے پاس جاوں۔۔۔ نمبر ملا کے دے مجھے اسکا۔۔۔
تائی آنچل کے پلو سے آنکھوں کی نمی صاف کرتی گلوگیر لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
تو ثانیہ کو چارونا چار بالاج کا نمبر ملاتے ہی بنی۔۔۔ اسنے بیزاریت سے نمبر ملاتے فون تائی کی جانب بڑھایا۔۔۔
*****
ہر گزرتے لمحے کیساتھ ٹینشن مزید بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔  ادھر تائی نے اسے اپنی پریشانی بتانے کے لئے فون کیا تھا اور وہاں سے جو خبر سننے کو مل رہی تِھی وہ مزید تائی کا بی پی ہائی کر رہی تھی۔۔۔
ماں صلہ کی طرف سے محض آپکو ہی نوٹس نہیں ملا۔۔۔۔
مجھے بھی ملا ہے۔۔۔ اسنے اپنے چودہ لاکھ کلیم کئے ہیں جو اسنے مجھے باہر بھیجنے کے لئے دیئے تھے۔۔۔
وہ زبانی کلامی باتیں نہیں کر رہی۔۔۔ سارے ثبوتوں کے ساتھ اسنے مضبوطی سے گھیرا تنگ کیا ہے ہمارے گرد۔۔۔
راہ فرار نا ممکن ہے اور میں اسے حق پر بھی سمجھتا ہوں ماں۔۔۔
میں نہیں کہوں گا کہ وہ جو کر رہی ہے وہ غلط ہے۔۔ غلط وہ تھا جو ہم سب نے مل کر اسکے ساتھ کیا۔۔۔ 
ہنہہ اسے اس حالت میں بھی اسی جادوگرنی کی حمایتیں سوجھ رہی ہیں۔۔۔ ٹھیک پاگل بنایا ہوا ہے اسنے اس عقل کے اندھے کو۔۔۔ ثانیہ سر جھٹکتی منہ ہی منہ بڑبڑائی۔۔۔
ٹھیک کہتی ہے وہ کہ اس چار سالہ ازواجی زندگی میں اسنے اس گھر سے محض بے حسی ہی چرائی ہے۔۔۔سپیکر سے آواز ہنوز ابھر رہی تھی
وہ واقعی بے حس بن گئ یے۔۔۔ اس لئے بنا کسی نئے فساد کے اسکا پورشن خالی کر دیں۔۔۔
نیچے کا پورشن مشل اپنے لئے سیٹ کر لے ور اوپر کا آپ اور کرن۔۔۔۔
بالاج کی بات سن کر ثانیہ اور تائی بیک وقت تلملائیں۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہاری ان باتوں کا ۔۔۔ پھر ثانیہ کہاں جائے گی۔۔۔ تائی چٹخی۔۔۔ جبکہ ثانیہ بھی ماتھے پر بل ڈالے خاموش بیٹھی تھی
ثانیہ میری ذمہ داری نہیں ہے ماں۔۔۔ وہ واپس جائے اپنے سسرال ۔۔ پوری دنیا کی لڑکیاں اپنے سسرالوں میں رہتی ہیں یہ کوئی انوکھی نہیں۔۔۔
اور ویسے بھی میں نے صلہ کی جانب سے ملنے والے نوٹس کے جواب میں ایک ماہ کی مہلت مانگی ہے۔۔۔ ایک ماہ میں مجھے اسکی رقم واپس کرنی یے۔۔۔ جیسے بھی کر کے۔۔۔ تو کچھ وقت آپ سب کو میرے ساتھ اپنی ضروریات پر سمجھوتا کرنا ہوگا۔۔۔
مشل کے ساتھ ساتھ آپ میری ذمہ داری ہو یا کرن جس کی ابھی شادی نہیں ہوئی۔۔۔ باقی سب کا میں نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔۔۔
آپ کے کام کرنا آپکے کھانے پینے اور دوائی وغیرہ کا خیال رکھنا فرض ہے میرا اور میں مشل کو بھی بتا چکا ہوں کے اس معاملے میں میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا اس کے علاوہ آپکا مشل سے رویہ کیسا ہے یا اسکا آپکے ساتھ رویا کیسا ہے یہ میرا مسلہ نہیں۔۔۔ نا اس سے میں فضولیات سنو گا اور نہ ہی آپ سے اسکے خلاف ۔۔۔
آپ بہتر جان سکتیں ہیں کے آپکو اپنا آپسی تعلق کیسا رکھنا ہے۔۔۔
کرن کا بھی کہیں رشتہ ڈھونڈیں اور اسے اسکے گھر کا کرنے کی کریں۔۔۔  وہ سپاٹ لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔
بالاج بیٹا واپس آ جاو۔۔۔ مجھے تمہاری ضرورت ہے۔۔۔ اسکی ساری باتوں کے جواب میں ماں لجاہت سے گویا ہوئی۔۔۔
ٹھیک ہے مان لیتا ہوں کے آپکو میری ضرورت ہے لیکن وہاں آکر میں آپکی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتا۔۔۔ اور ویسے بھی یہ گھر جسکے دم سے آباد تھا اسکے بغیر مجھے کاٹنے کو ڈورتا ہے۔۔۔ کاش میں نے وقت رہتے عقل سے کام لیا ہوتا۔۔۔ وہ تیز لہجے میں کہتے فون بند کر چکا تھا حالانکہ اسکی آواز میں گھلی نمی کو تائی نے شدت سے محسوس کیا تھا۔۔۔
جبکہ اسکے یوں صفا چٹ جواب پر ثانیہ شوہر سے نظریں چرا کر رہ گئ۔۔۔
******
صلہ سیاہ عبایہ پر سنہرے سکارف سے حجاب کئے چہرا نقاب سے دھانپے عفرا کے ساتھ گاڑی سے نکلی۔۔۔
اسنے گردن اٹھا کر اس عمارت کو دیکھا جہاں اسکا بچپن گزرا تھا جس سے اسکی اچھی بری ہر طرح کی یادیں وابسطہ تھیں۔۔۔
اسکی آنکھوں میں کرب اور ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں تھیں۔۔۔
ورکز تندہی سے کام کر رہے تھے۔۔۔
گھر کے درمیاں میں اونچی اور مضبوط دیوار کھڑی ہو رہی تھی۔۔۔۔ وہ اٹھی گردن کیساتھ اندر داخل ہوئی ۔۔۔ پورے پورشن کا چکر لگایا۔۔۔ اسکے اور بالاج کے زیر تصرف کمرا اسکے حصے میں آیا تھا۔۔۔ وہ کمرا دیکھتے اسکے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری۔۔۔ کئ سوچیں یادوں کی پٹاری کھولے بنا اجازت سامنے آنے لگیں تھیں۔۔۔ لیکن وہ سر جھٹکتی آگے بڑھ گئ۔۔۔
سارے پورشن کا چکر لگا کر وہ عفرا کیساتھ امان کے بتائے کئ گھر دیکھ رہی تھی۔۔۔  امان نے سارے گھر ہی اپنی کالونی کے آس پاس ہی دیکھے تھے۔۔۔
اس گھر کو دوسری پاڑتی کے نام کروا کر اور اپنے لئے عفرا کے گھر کے پاس ہی ایک چھوٹا سا مگر خوبصورت اور فرنشڈ گھر دیکھ کر وہ لوگ شام میں تھکے ہارے گھر لوٹے تھے۔۔۔۔
چلو شکر ایک معارکہ تو سر ہوا۔۔۔ گھر آتے ہی اسنے شکر کا سانس خارج کیا۔۔۔
****
کیسا رہا آج کا دن۔۔۔ رات کے کھانے پر سبھی اکھٹے تھے جب امان نے ان سے دریافت کیا۔۔۔
اچھا رہا۔۔۔ جواب عفرا کی جانب سے آیا تھا۔۔۔
ایک دو دن تک تمہارا گھر بھی تمہارے نام ہو جائے گا۔۔۔ بچیوں کی پلیٹ میں نوڈلز ڈالتے امان صلہ سے مخاطب ہوا۔۔۔
اسنے تشکرانہ نگاہوں سے امان کو دیکھا جب خالہ بے ساختہ بول اٹھیں۔۔۔
وہ سب تو ٹھیک ہے بیٹا مگر تم نے آگے کیا سوچا ہے صلہ۔۔۔
خالہ پریشانی سے مستفسر تھیں۔۔۔
کیا مطلب خالہ۔۔۔ کس بارے میں۔۔۔ صلہ الجھی۔۔۔
بیٹا میں تمہارے بارے میں ہی بات کر رہی ہوں۔۔۔
عدت تمہاری پوری ہو چکی ہے اب میں تمہاری کوئی مناسب رشتہ دیکھ کر شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ یہ زندگی بہت لمبی ہے میری جان اور بنا کسی ساتھی کے یہ نہیں کٹ سکتی۔۔۔ 
اور پھر معاشرہ ایک اکیلی عورت کا جینا حرام کر دیتا ہے پھر تمہاری عمر ہی کیا ہے۔۔۔ یقیناً نصرت ہوتی تو وہ بھی یہ ہی کرتی۔۔۔
خالہ کی بات پر صلہ کیساتھ ساتھ امان اور عفرا بھی کھانے سے ہاتھ روکے خالہ کو دیکھنے لگے تھے۔۔۔ جبکہ ہر گزرتے لمحے کیساتھ ساتھ صلہ کی رنگت فق ہو رہی تھی۔۔۔
نہیں کرنی مجھے شادی خالہ۔۔۔۔ کیوں کروں۔۔۔ کیا زندگی میں شادی ہی سب کچھ ہے۔۔۔ کیا عورت شادی کے بنا سروائیو نہیں کر سکتی۔۔۔
ایک تلخ تجربہ کافی ہے میرے لئے۔۔۔ میں بار بار اپنی زندگی کو تجربوں کی نظر نہیں کر سکتی۔۔۔۔ نہیں کرنی مجھے شادی۔۔۔ وہ نوالہ وہیں واپس پلیٹ میں پھینکتی دکھ سے گویا ہوئی تو آواز خودبخود بھراگئ اور کئ آنسو بنا اجازت ہی پلکوں کی بار پھیلانگ گئے۔۔۔۔
امان بس خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
جبکہ بچیوں کو وہ اپنا موبائل دیتا اندر بھیج چکا تھا۔۔ وہ بھرپور کوشیش کرتا کہ بچیوں کے سامنے کوئی بھی ایسا کام نا ہو جو انکے کچے ذہنوں پر نقش چھوڑے۔۔۔
بیٹا اگر ایک تجربہ تلخ نکلے تو ضروری نہیں کہ ہر بار ہی ایسا ہو۔۔۔ خالہ نے تاسف اے اسے دیکھتے سمجھانا چاہا۔۔۔
خالہ میں مفروضوں کی بنیاد پر اپنی زندگی نہیں گزار سکتی۔۔۔ اور نا ہی حقیقت سے منہ موڑ سکتی ہوں۔۔۔ اور اگر آپ حقیقت دوبارہ سے میرے منہ سے سننا چاہتی ہیں تو سن لیں کہ حقیقت بہت تلخ ہے۔۔۔
میرے ماتھے پر طلاق کے دھبے کے ساتھ بدکردار کا ٹیگ بھی لگایا گیا ہے۔۔۔ میری بچیوں کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔۔۔ کون ہے جو ایک بدکردار لڑکی سے شادی کرے گا۔۔۔۔ وہ اذیت سے بول رہی تھی جبکہ اسکے الفاظ عفرا کا دل چھلنی کر رہے تھے۔۔۔ اسکے برعکس امان نے سر جھکاتے دوبارہ سے کھانا شروع کر دیا تھان۔۔۔ وہ پہلے ان دونوں کے نظریات جان لینا چاہتا تھا۔۔۔
اور بلفرض کوئی ہو بھی جو اس بکواس پر یقین نا کرے اور مجھ سے شادی کی حامی بھر لے تو خالہ مجھے تو شوہر مل جائے گا مگر میری بیٹیوں کو باپ کبھی نہیں ملے گا۔۔۔ جن بچیوں کا باپ ہی انہیں اپنانے سے انکار کر دے تو پھر عبث ہے کہ کوئی غیر انہیں اپنائے۔۔۔
اور پھر میں کل کہیں پڑھ رہی تھی کے عورت پر سب سے زیادہ حق اسکے شوہر کا ہوتا ہے۔۔۔ وہ اپنی کیفیت پر قابو پاتی ضبط سے گویا ہوئی۔۔۔۔
اور آپ زرا اس فقرے کا بھاری پن محسوس کریں۔۔۔ کم از کم مجھے اس سچوئشن میں تو یہ بھاری پن ہی محسوس ہو رہا ہے کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ مجھ پر کسی کا حق ہو یا میں کسی کے لئے باونڈ ہو کر اپنی بچیوں کی حق تلفی کروں۔۔۔ مجھ پر سب سے زیادہ میری بچیوں کا حق ہے۔۔۔ وہ میری اور میں انکی کل کائنات ہوں۔۔۔ خالہ ہماری اس چھوٹی سی دنیا میں کسی تیسرے کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی پلیز۔۔۔ پلیز خالہ دوبارہ اس موضوع پر مجھ سے بات مت کیجیئے گا۔۔۔ یہ موضوع مجھے ہرٹ کرتا ہے۔۔۔ وہ آنکھیں سختی سے رگڑ سے صاف کرتی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ جبکہ خالہ اسے تاسف سے وہاں سے جاتی دیکھتی رہی۔۔۔
ماں زخم تازہ ہوں تو اس پر پھاہے رکھے جاتے ہیں اسے کھرچا نہیں جاتا۔۔۔
وہ کھانا کھاتا سنجیدگی سے گویا ہوا تو ماں نے اسے زی نگاہوں سے دیکھا۔۔۔
تو تمہیں بھی میں ہے غلط لگ رہی ہوں۔۔۔ وہ لڑکی ذات ہے۔۔۔
میں آپکی باتوں سے انکاری نہیں ماں۔۔۔ وہ ماں کی بات کاٹتا ان کی جانب دیکھ کر گویا ہوا۔۔۔
آپکی سبھی باتیں اپنی جگہ بجا ہے۔۔۔ مگر غلط صلہ بھی نہیں۔۔۔ اسکی باتیں بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں۔۔۔
اس لئے فلحال اس موضوع پر آپ خاموشی اختیار کر لیں۔۔۔ کچھ کام انسانوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں جبکہ کچھ کام وقت پر چھوڑ دینے چاہیں۔۔۔ اسے بھی کچھ وقت دیں انشااللہ اللہ کوئی بہتر راہ نکال دے گا۔۔۔ آپ فکر مت کریں۔۔۔ وہ رسان سے ماں کو سمجھاتا گویا ہوا۔۔۔
اور عفرا تم پلیز بچوں کو کچھ کھلا دینا انہوں نے ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا۔۔۔ مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے رات میں میں لیٹ ہو جاوں گا۔۔۔
وہ گم صم سی بیٹھی عفرا سے مخاطب ہوا تو وہ غیر دماغی سے سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
*****
بچیوں کو کھانا کھلا کر عفرا کھانے کی ٹرے تھامے صلہ کے کمرے کی جانب بڑھی کیونکہ اسنے بھئ کھانا برائے نام ہی کھایا تھا۔۔۔
دروازہ دھکیل کر وہ اندر داخل ہوئی تو صلہ صوفے پر نیم دراز چھت کو گھورتی ناجانے سوچوں کی کن وادیوں میں کھوئی تھی۔۔۔
محترمہ سیدھی ہو جاو اور اٹھ کر کھانا کھاو۔۔۔ عفرا کی آواز پر وہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ جلدی سے کھانا ختم کرو اور سٹڈی میں آکر میرے کام میں میری مدد کرواو۔۔ میرا انگلش لینگویج کا کورس مکمل ہونے میں صرف چند چیزیں رہ گئ ہیں پھر میں اسے لانچ کرنے جا رہی ہوں تو ان دنوں مجھے تمہاری بہت ضرورت ہے۔۔ وہ بات کرتی چھوٹے چھوٹے نوالے صلہ کے منہ میں ڈال رہی تھی۔۔۔ اسنے پچھلی کسی بات کا حوالہ نہیں دیا تھا۔۔۔ 
اچھا کورس کو فری لانچ کر رہی ہو۔۔۔
وہ واقعی اسکی باتوں سے بہل رہی تھی۔۔۔ کچھ دیر قبل کی تلخ کلامی کا اثر زائل ہو رہا تھا۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔ پیڈ کورس ہے۔۔۔
فری میں سب کچھ میرے چینل پر موجود ہے جو سیکھنا چاہے سیکھ سکتا ہے اور میرا کورس سب کے لئے نہیں ہے یہ ان سٹودینٹس کے لئے ہیں جو چاہتے ہیں کے انہیں ہاتھ سے پکڑ کر ایک ایک سٹیپ پار کروایا جائے۔۔۔ ان کے ساتھ ان ٹچ رہا جائے۔۔۔ ہر موقع پر انہیں گائڈ کیا جائے یہ کورس ان لوگوں کے لئے ہے۔۔۔۔ وہ باتیں کرتی اسکا کھانا مکمل کروا چکی تھی اور اب اسے لئے سٹڈی روم کی طرف جا رہی تھی۔۔۔
اور ویسے تم اپنا چینل بھی دکھاو مجھے اس میں کیا مسائل ہیں۔۔۔ عفرا کے یاد کروانے پر اسے یاد آیا کے اسکا بھی ایک چینل تھا جس پر وہ کبھی کام کرتی تھی ورنہ کچھ عرصہ پہلے سے تو سب کچھ حالات و واقعات کی نظر ہو گیا تھا۔۔۔
*******

No comments

Powered by Blogger.
4