Header Ads

khuab_e_janoon novel 69th episode by Umme Hania


 

khuab_e_janoon novel 69th episode  by Umme Hania۔


Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

69th episode
کرن مجھے ایک کپ چائے کا بنا دو میرا جوڑ جوڑ درد کر رہا ہے۔۔۔
تائی سر باندھے لحاف کندھوں تک اوڑھے اپنے بیڈ پر دراز تھیں جبکہ انکی تینوں بیٹیاں اور داماد بھی انہی کے کمرے میں موجود تھے۔۔۔۔
میں بھی آپکے ساتھ ہی جیل میں دو دن گزار کر آئی ہوں میری حالت بھی آپ سےمختلف نہیں ہے۔۔۔ بیڑا غرق ہو آپکی بہو کا ماں۔۔۔ جانے دن بھی چن کر نکالا کے ہفتے کے بعد اتوار کو ضمانت بھی نا ہو سکے۔۔۔۔
صوفے کی ہتھی پر بازو ٹکائے انگلیوں سے ماتھا مسلتی وہ پھٹ پڑی تھی۔۔۔
وہ تو بھلا ہو انکا جو انہوں نے بھاگ ڈور کر کے ضمانت کروا ڈالی ورنہ آج بھی ہمارے وہاں سے نکلنے کے کوئی چانسسز نہیں تھے۔۔۔۔
ثانیہ کراہتی ہوئی سامنے سنگل صوفے پر ضبط سے مٹھیاں میچے سر جھکائے بیٹھے شوہر کو دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔ سب سے بری حالت اسی کی تھی۔۔۔  تھپروں سے چہرا سوجھ چکا تھا جبکہ بنست اسکے باقی کسی پر بھی اتنا تشدد نا کیا گیا تھا۔۔۔
ضمانت کی بات نہیں ہے بات یہ ہے کے۔۔۔ اسکا شوہر ضبط سے سرخ نگاہیں اٹھاتا گویا ہوا۔۔۔۔
پورے خاندان میں بہت تھو تھو ہو گئ ہے۔۔۔ آپ سب کو پولیس موبائل میں دھکیل کر لے کر جانے کی ویڈیو پورے خاندن میں پھیل چکی ہے۔۔۔
میں تو پہلے ہی تمہارے کہنے پر یہاں رہ رہا ہوں کیونکہ تمہاری کبھی اپنے سسرال میں بنی ہی نہیں۔۔۔
اب وہی میرے خاندان والوں نے مجھے تمہارے حوالے سے طعنے دے دے کر اس روز سے دماغ خراب کیا ہوا ہے۔۔۔ سر اٹھا کر بات تک نہیں کر سکتا میں انکے ساتھ۔۔۔ اسکا شوہر پھٹ پڑا تھا جبکہ ثانیہ زندگی میں پہلی مرتبہ اس کے سامنے لاجواب ہوئی تھی۔۔
یہ ہی تو بات ہے ماں کہ ہمیں اتنا ذلیل و خوار کر کے وہ لڑکی ابھی تک یہاں کر کیا رہی ہے۔۔۔۔ تانیہ نے تلملاتے ہوئے پہلو بدلا۔۔۔
لگتا ہے تم نے ایک مرتبہ پھر سے جیل کی ہوا کھانی ہے۔۔۔ تانیہ کا شوہر بڑبڑایا وہ الگ بات کے اسکی بڑبڑاہٹ سبھی باخوبی سن چکے تھے۔۔۔
یہ ہی تو رونا ہے ماں۔۔ ہمارے ہی ہاتھوں اس گھر میں آئی لڑکی ہمارے منہ کو آرہی ہے اور ہم کچھ کر نہیں پارہے اسکے ہاتھ کٹ پتلی بن گئے ہیں۔۔۔ شوہر کی باتوں پر وہ چٹخی۔۔۔
اسکا فیصلہ اب بالاج ہی کرے گا۔۔۔ حد کر دی ہے اب تو اس لڑکی نے۔۔۔ بالاج کا نمبر ملا کر دو مجھے
ماں دکھتا سر دباتی گویا ہوئی۔۔۔
******
مشل اپنے کمرے میں بیٹھی ان سب کی پلانینگ سن رہی تھی۔۔۔ کچھ دیر پہلے ہی وہ لوگ گھر واپس آ گئے تھے۔۔۔ لیکن مشل ہنوز ریلیکس تھی۔۔۔ اسکے چہرے پر ایک پر اسرار سی مسکراہٹ تھی۔۔۔ اپنے حصے کا کام وہ کر چکی تھی۔۔۔ وہ صلہ نہیں تھی وہ مشل تھی اور بہت جلد وہ سب اسے اچھے سے جاننے والے تھے۔۔ آگے کیا ہونے والا تھا وہ باخوبی جانتی تھی۔۔۔
*****
تائی بیڈ کراوں سے ٹیک لگائے ہاتھ میں موبائل پکڑے فون سکیپر پر رکھے بات کر رہی تھی جبکہ کمرے میں موجود سبھی نفوس کا دھیاں اسی جانب تھا۔۔۔۔
بالاج تم ان سبھی باتوں سے آگاہ ہو جو کچھ بھی تمہاری بیوی نے ہمارے ساتھ کیا۔۔۔
یہ عزت دار لوگوں کا شیوہ نہیں۔۔۔ آج اسکی وجہ سے ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔۔۔ تھانے میں دو دن رہنے والے لوگوں کو دنیا کیا کہتی ہے جانتے ہو نا تم۔۔۔ وہ گلوگیر لیجے میں غصہ سموئے بات کر رہی تھیں۔۔۔
میں کہے دے رہی ہوں بالاج۔۔۔ اس لڑکی کو چھوڑ دو۔۔۔ میں نے ہی تمہاری شادی اس سے کروائی تھی نا اب میں ہی تمہیں کہہ رہی ہوں۔۔ طلاق بھیج اس ناہجار کو میں اسے اپنے گھر میں برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔ ورنہ میں تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی بالاج ابھی کے ابھی اسے طلاق۔۔۔
وہ بات کرتے چہکوں پہکوں رونے لگیں تھیں جب بالاج انکی بات کاٹتا تحمل سے گویا ہوا۔۔۔
ماں میں نے آپکی ساری باتیں سن لیں اب آپ تحمل سے میری باتیں سن لیں۔۔۔
اسکی آواز کا غیر معمولی پن محسوس کر کے وہاں موجود سبھی افراد ٹھٹکے۔۔۔
یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کے اس لڑکی کو میری زندگی میں شامل کس نے کیا یا کس طرح سے کیا۔۔۔
بات یہ اہمیت رکھتی ہے کے آپ لوگوں کی پسند کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے لئے میں نے کھویا کیا ہے۔۔۔ آپ سب کو یہ بات ہرگز ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیے کے آپ سب کی بدولت مجھے اپنی محبت قربان کرنی پڑی۔۔۔ اپنی زندگی سے دسبردار ہو گیا میں۔۔۔ اسکی آواز بھرانے لگی تھی۔۔۔
سب سے اہم بات اب یہ ہے کے اب بھی مجھے سکون کیوں نہیں لینے دے رہی آپ سب۔۔۔ صلہ تو چلو تھی ہی نہیں اس قابل کے آپ سب مہان لوگوں کی بہو بنتی ۔۔۔ ہر اسے تو خود لائی ہیں آپ سارے چاو لاڈ پورے کر کے اسے تو قبول کر لیں۔۔۔
اسکے لہجے میں ہزاروں شکوے تھے۔۔۔۔
اور جو اس ناہجار نے تمہاری ماں بہنوں کے ساتھ کیا۔۔۔ ماں بیٹے کی بے اعتنائی دیکھتی جرح پر اتری۔۔۔
ماں مشل نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔ وہ جذباتی ہو اٹھا تھا ۔۔ جب آپ سب مل کر اسے مارنے جاو گئے تو کیا وہ آگے سے کوئی اختیاطی تدبیر بھی نا کرتی ۔۔۔ مر جاتی کیا آپ سب کے ہاتِھوں۔۔۔ 
وہ بکواس کر رہی ہے۔۔۔ کسی نے اسے کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔ ڈرامے لگا رہی ہے وہ۔۔۔۔ ثانیہ چٹختی ہوئی چیخ کر گویا ہوئی۔۔۔
تم بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ اور میرے معاملے سے دور رہو۔۔۔ خبردار جو اس بار میرے کسی بھی معاملے میں دخل اندازی کرنے کی کوشیش کی تو۔۔۔ مشل تم سب کی سبھی کرتوتیں بتا چکی ہے مجھے۔۔۔ وہ غرا اٹھا تھا۔۔۔ جبکہ اسکی غراہت سن کر ثانیہ کو تو ثانپ سونگھ گیا۔۔۔
تو مطلب صاف تھا۔۔۔ وہ لڑکی اپنے حصے کا کام مکمل کر چکی تھی۔۔۔ پہلے ہی وہ شوہر کے کان بھر چکی تھی۔۔۔ 
اسنے کہا اور تم نے مان لیا۔۔۔ ماں ٹوٹے لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
جی۔۔۔ کیونکہ میں آپ سب کی فطرت سے واقف ہوں۔۔۔ آپ سب نے تو میرے سامنے صلہ پر کئ بار ہاتھ اٹھانے کی کوشیش کی تو میں کیسے یقین نا کروں کے میرے پیچھے سے آپ لوگ اسکے ساتھ ایسا سلوک نہیں کروں گے۔۔۔
ماں نے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔ کئ قطرے سیال مائع کے آنکھوں سے بہتے چلے گئے۔۔۔ انکا بیٹا ان سے بدگمان ہو رہا تھا۔۔۔ فاصلے دیو بن کر انکے رشتے کو کھا رہے تھے۔۔۔ وہ لڑکی انکے بیٹے کے دماغ کو قابو میں کر رہی تھی۔۔۔ انہیں بیٹا ہاتھوں سے نکلتا دکھائی دیا۔۔
اسکے بھائی نے کرن سے رشتے پر انکار کر دیا ہے۔۔۔ انہوں نے کپکپاتے ہاتھوں سے آنسو صاف کئے۔۔۔
تو اس میں مشل کی کیا غلطی ہے۔۔۔ کرن کا جہاں نصیب ہو گا وہاں جڑ جائے گا۔۔۔ کسی اچھی جگہ رشتہ دیکھ کر اسکی شادی کر دیں میں پیسے بھیج دوں گا۔۔۔
لیکن اب اس بات کو اشو بنا کر اسکے ساتھ بدلحاظی سے پیش آنے سے گریز کریں ورنہ میں لحاظ بھول جاوں گا۔۔۔ اجنبیت اسکے لفظ لفظ سے ٹپک رہی تھی۔۔۔
وہ ماں بننے والی ہے۔۔ اس لئے میں توقع کر رہا ہوں کے آپ اسے وہ ماحول نہیں دیں گی جو آپ نے صلہ کو دیا تھا۔۔۔ 
سکون سے رہیں اور مجھے بھی رہنے دیں۔۔۔ اپنی بیٹیوں کو انکے سسرالوں میں بھیجنے کی عادت ڈالیں آپ خود بھی سکون میں رہیں گی اور ہم سب بھی۔۔۔
اپنی بھراس نکال کر وہ کب کا فون بند کر چکا تھا جبکہ تائی ابھی تک ہاتھ میں تھامے فون کو صدمے کی حالت میں دیکھ رہی تھی۔۔۔
*****
رات کی سیاہی چہار سو اپنے پن پھیلا چکی تھی۔۔۔ دوپہر میں ان سب نے کھانا بہت خوشگوار ماحول میں کھایا تھا۔۔۔
بچیاں بھی امان کے ساتھ ہی لگی رہی تھیں۔۔۔ امان ویسے تو گھر پر کم کم ہی ملتا مگر جب بھی وہ گھر ہوتا تو بچیاں پھر کم ہی کسی اور کے پاس ٹکتی تھیں۔۔۔ وہ سٹڈی روم میں ویڈیو شوٹ کر رہا ہوتا تو بچیاں بھی اسکے پاس ہی ہوتیں۔۔۔ وہ انہیں شور سے باز رکھنے کے لئے کلرنگ کاپی اور کلر پنسل دے کر مصروف کر دیتا۔۔۔
وہ کھانا کھا رہا ہوتا تو دونوں کو کھانا اسکے ساتھ ہی کھانا ہوتا۔۔۔ وہ اگر کھیل بھی رہی ہوتی تو امان خود انہیں کھانے کے وقت اپنے پاس بلا لیتا۔۔۔
اور بعض اوقات تو وہ بچیوں کی فرمائش پر خود اپرن پہنے کوکنگ کرتا بھی نظر آتا۔۔۔
اب بھی وہ اپنے کمرے میں بیڈ کراون سے ٹیک لگائے ایلون مسک کی ہسٹری پر مبنی کتاب پڑھ رہا تھا جبکہ دونوں بچیاں اسکے اردگرد کتابیں بکھرائے پڑھ رہی تھیں۔۔۔
یہ بیگ اور کتابیں امان نے کل ہی انہیں لے کر دی تھیں۔۔
بس امان انکل اب میں تھک گئ۔۔۔ باقی کا کل پڑھیں گئے۔۔۔ عینا کی نازک مزاجی سب سے زیادہ تھی ناک چڑھاتی وہ اپنی کتابیں بند کر چکی تھی۔۔۔
اوکے بیٹا اب دونوں اپنے بیگ بند کردو۔۔۔ وہ ان ننھی شہزادیوں کو دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔
اب میں نے گیم کھیلنی ہے۔۔۔
وہ بے تکلفی سے امان کی دوسری جانب سائیڈ ٹیبل پر پڑا اسکا موبائل اٹھا کر موبائل ان لاک کر چکی تھی۔۔۔ جب امان گھر پر ہوتا تو اسکا موبائل اسکے پاس کم ان بچیوں کے پاس زیادہ پایا جاتا تھا۔۔۔
عفرا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی ہاتھوں کی مساج کرتی شیشے سے ان سب کا عکس دیکھتی مسکرا رہی تھی۔۔۔ دفعتا دروازہ کھٹکھٹا کر صلہ اندر داخل ہوئی۔۔۔
اسکی آمد پر وہ دونوں اسکی جانب متوجہ ہوئے جو آہستگی سے سلام کرتی آ کر سامنے صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔
صلہ نے ایک نظر اپنی بیٹیوں کی جانب دیکھا جو بہت حق سے بستر پر دراز امان کے موبائل پر گیمز کھیل رہی تھیں۔
امان بھائی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔۔۔ وہ نظریں جھکائے منمنا کر گویا ہوئی۔۔۔
بچوں آپ دونوں اب نانو کے پاس جا کر کھیلو اب مجھے کچھ کام یے ۔۔ اسنے بچیوں کے چہرے پر پیار کرتے کہا تو وہ دونوں تابعداری سے وہاں سے اٹھتیں باہر بھاگ گئیں۔۔۔
ہاں بولوں ۔۔۔ میں سن رہا ہوں اسنے کتاب الٹی کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور صلہ کی جانب مکمل طور پر متوجہ ہوا۔۔۔
عفرا بھی اپنے سامنے کھلی چیزیں سمیٹ کر اسکے پاس ہی صوفے پر آ کر بیٹھی۔۔۔
وہ دراصل امان بھائی میں امی والا پورشن بیچنا چاہتی ہوں۔۔۔
میں جانتی ہوں کے اس میں میرا اکیلی کا حصہ نہیں ہے وہ میرا اور عفرا ہم دونوں کا ہے۔۔۔ لیکن اسکے باوجود میں چاہتی ہوں کے ہم وہ جگہ سیل کر دیں۔۔۔
میں وہ جگہ مزید ان لوگوں کے تصرف میں نہیں دیکھ سکتی۔۔۔ 
پہلے میں خاموش تھی کیونکہ میں عدت میں تھی لیکن اب میں سب حساب بے باک کرنا چاہتی ہوں آگے میری بھی یتیم بیٹیاں ہیں جنکے بارے میں مجھے سوچنا ہے۔۔۔۔
بچیوں کے نام کے ساتھ یتیم کا لیبل لگاتے اسکی آواز بھرا گئ تھی۔۔۔ جنکے باپ انہیں اپنانے سے انکار کر دیں وہ یتیم ہی ہوتی ہیں نا۔۔۔
امان نے لب بھینچے اسے دیکھا جسے چاہتا ہو کے پہلے وہ اپنی بات مکمل کر لے۔۔۔
اسکے ساتھ ساتھ جو رقم میں نے بالاج کو باہر بھیجنے کے لئے لگائی تھی مجھے اس رقم کے لئے بھی دعوی کرنا ہے۔۔۔۔
سامنے بیٹھی وہ لڑکی اسے کسی طور پرانی صلہ نا لگی تھی۔۔۔ اسکے انداز میں کسی کے لئے بھی زرا سی بھی کوئی لچک نا تھی۔۔۔
گھر بیچ کر کیا کرو گئ صلہ۔۔۔ وہ جیسے اسے اندر تک پڑھںآ چاہتا تھا تبھی سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
ظاہر سی بات ہے بھیا اپنے لئے کوئی ٹھوڑی بہت سر چھپانے کی جگہ لوں گی۔۔۔ اس گھر میں ان ٹاکسک لوگوں کے بیچ میں اپنی بچیوں کو نہیں رکھ سکتی۔۔۔ بلاشبہ اس گھر پر حق ہے میرا اور میں اپنی بچیوں سمیٹ وہاں رہ سکتی ہوں لیکن میں نہیں چاہتی جس ناموافق ماحول نے میری ذات مسخ کر ڈالی میں وہاں اپنی بچیوں کو رکھوں۔۔۔ 
اور ظاہر سی بات ہے اس گھر کو بیچ کر جو میرا حصہ مجھے ملے گا اس سے کہیں اچھی لوکیشن پر مجھے کوئی چھوٹا ہی سہی مگر گھر نہیں مل سکتا۔۔۔ اس لئے مجھے بالاج سے اپنی وہ رقم بھی چاہیے تاکہ کم از کم میرے پاس سر چھپانے کو جگہ تو اپنی ہو۔۔۔
باقی تو ضروریات زندگی کا انتظام تو وقت کے ساتھ ساتھ ہوتا ہی رہتا ہے۔۔۔
 امان کو اپنے سامنے بیٹھی وہ لاابالی سی  لڑکی یکدم ہی اپنی عمر سے کافی بڑئ لگی۔۔۔ سوچ سوچ کر ہر پہلو کو مدنظر رکھتے اپنی زندگی کے فیصلے لیتی ہوئی۔۔۔
مگر تم یہاں۔۔۔
میں جانتی ہوں امان بھائی کے میں آپکی بہن ہوں اور میں آپ پر بوجھ نہیں آپ باآسانی میری ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں۔۔۔
لیکن میری دلی خواہش ہے کہ آپ نے جیسے ابھی تک میرا ساتھ دیا ہے ویسے ہی آگے بھی مجھے سپورٹ کریں۔۔۔
ایک عرصہ میں نے سہاروں کے ساتھ جینے کی کوشیش کی اور آخر میں یہ ہی سیکھا ہے کہ سہارے عارضی ہوتے ہیں۔۔۔ جب وہ ساتھ چھوڑتے ہیں تو انسان منہ کے بل گرتا ہے۔۔۔
اس لئے مجھے بنا سہارے کے سروائیو کرنا سیکھائیں بھائی۔۔۔ کیونکہ میں نے جو ایک بات سیکھی ہے کہ کسی بھوکے کی مدد یہ نہیں کے آپ اسے کھانا کھلانا شروع کر دیں بلکہ اسکی صحیح مدد یہ ہے کہ اسے آپ کوئی ایسا ہنر سیکھا دے کے وہ پوری زندگی کے لئے روٹی کھانے کے قابل ہو جائے۔۔۔اسنے لب بھینچے آنکھوں میں امڈی نمی کو پیچھے دھکیلنا چاہا۔۔۔
امان اسکی باتیں سن کر مسکرا دیا۔۔۔ وہ لڑکی واقعی خود پر کام کر رہی تھی۔۔۔ 
مجھے تمہاری سوچ جان کر خوشی ہوئی ہے صلہ۔۔۔
مگر کیا تمہارے پاس کوئی تحریری ثبوت ہے جس سے واضح ہو سکے کہ تم نے بالاج کو رقم دی تھی۔۔۔
اسکی بات سن کر صلہ کے چہرے پر ایک سایہ آ کر گزرا۔۔۔
ایسا تو کوئی ثبوت نہیں ہے میرے پاس۔۔۔ تو کیا اسکے بنا ہم کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔ وہ پریشان ہو اٹھی تھی۔۔۔
کانونی کاروائیاں تو ثبوتوں کی بنا پر ہی ہوتی ہیں اگر کوئی ثبوت ہی نا ہوا تو۔۔۔ امان خود الجھ گیا تھا۔۔۔ اسکا دماغ تیزی سے کام کرتا چاروں طرف سے کچھ سوچ رہا تھا ۔۔۔
پیمنٹ لی کیسے تھی تم نے امی سے۔۔۔ عفرا کچھ سوچتے ہوئے بولی۔۔۔
امی نے بالاج کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کروائی تھی۔۔۔ صلہ کھوئی کھوئی سی گویا ہوئی۔۔
تو پھر کیا امی کی بینک سٹیٹمنٹ کام نہیں آئے گی۔۔۔ عفرا چونک کر امان سے مستفسر ہوئی۔۔۔
نہیں خالہ کے اکاونٹ سے نہیں۔۔۔ 
چونکہ دکان میرے توسط سے بکی تھی تو خالہ کے کہنے پر اماونٹ ڈائریکٹ میرے اکاونٹ سے بالاج کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کی گئ تھی ۔۔ میں اپنی بینک سٹیٹمٹ نکلواتا ہوں۔۔۔
یاد آنے پر بالاج نے سائیڈ ٹیبل سے لیپ ٹاپ اٹھاتے کچھ چیک کرنا چاہا۔۔۔
اسکے ہاتھ تیزی سے لیپ ٹاپ کی کیز پر چل رہے تھے۔۔۔
ہاں۔۔۔ اس سٹیٹمنٹ کے ذریعے سے ہم لیگل طریقے سے کورٹ سے نوٹس لے کر بالاج کی بینک سٹیٹمنٹ نکلوا سکتے ہیں۔۔۔ یقیناً اگلی باہر جانے کی سبھی پیمنٹ بالاج نے اسی اکاونٹ سے کی ہیں تو کیس بن سکتا ہے۔۔۔۔ وہ کچھ سوچتا ہوا گویا ہوا۔۔۔
فکر مت کرو صلہ۔۔۔ انشااللہ تمہارے دونوں کام ہو جائیں گے۔۔۔ میں صبح ہی وکیل سے بات کرتا ہوں۔۔۔۔ وہ مسکرا کر کہتا لیپ ٹاپ بند کر کے واپس سائڈ ٹیبل پر رکھنے لگا۔۔۔
شکریہ امان بھائی مجھے امید تھی کے آپ میرا یہ کام کر دیں گے۔۔ وہ گہرا سانس خارج کرتی گویا ہوئی۔۔۔
یقیناً زندگی آگے بھی اسکے لئے آسان نہیں ہونے والی تھی ۔۔۔ تائی لوگوں سے گھر کا قبضہ لینا بھی کوئی آسان کام نا تھا اور بالاج سے پیسے حاصل کرنا بھی۔۔۔ لیکن فلحال تو وہ ڈٹ کر کھڑی تھی اپنے حق کے لئے۔۔۔ باقی حالات ناجانے کیا رخ اختیار کرتے۔۔۔
******

No comments

Powered by Blogger.
4